ان دنوں کچھ بھی لکھنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ایک سطر لکھتا ہوں، تو نہ جانے کون کون میرے قلم پر سوار ہو جاتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ اس تحریر میں میرا ذکر کہاں پر ہے؟ تم نے اس کا اس کا نام لکھا ہے، میرا کیوں نہیں لکھا؟ میرا بھی نام لکھو، اگر نہیں لکھا، تو پھر دیکھ لینا بہت مہنگا پڑے گا۔
یہ سب تماشا دیکھ کر میں حیران ہو جاتا ہوں اور میرا قلم رک جاتا ہے۔ میں یہ سوچنے لگتا ہوں کہ یہ لکھنا بھی کیا لکھنا ہے کہ لکھنے سے پہلے ہی دوست و احباب دھمکی دینے لگیں اور یہ طئے کرنے لگیں کہ مجھے کیا لکھنا ہے؟ تعجب کی بات یہ ہے کہ میں نہ کسی سے کہتا ہوں کہ کیا لکھ رہا ہوں، نہ کسی کو سناتا ہوں کہ کیا لکھا ہے، نہ فیس بک پر ہوں اور نہ واٹسپ پر اپنی سرگرمیوں کے متعلق کسی کو کچھ بتانے کا میں عادی ہوں۔
پھر بھی میرے دوستوں کو نہ جانے کہاں سے یہ خبر ہاتھ لگ گئی کہ میں کہانی پر ایک کتاب لکھ رہا ہوں۔ جب سے یہ خبر باہر نکلی ہے، تب سے میں پریشان ہوں۔ مجھے ہر روز فون آتے ہیں اور ہر دن کوئی نہ کوئی تخلیق کار میرے قلم پر سوار ہو کر دھمکی دے رہا ہے کہ اگر میں نے اس کا نام نہیں لکھا تو وہ مجھے دیکھ لے گا۔ ایک دو دھمکیاں ہوتیں، تو ان سے نپٹ بھی لیتا، لیکن اس طرح کے "دھمکی وادی” لا محدود ہیں، جو کہتے رہتے ہیں کہ تمہاری کتاب میں میرا نام نہیں آیا تو یہ اچھا نہیں ہوگا۔ مجھے تو ان دنوں ہندی (اردو) کے تخلیق کار ‘تخلیق کار’ کم جاسوس اور ‘مائنڈ ریڈر’ زیادہ نظر آتے ہیں، جو کسی کے بھی دماغ میں گھس کر معلوم کر لیتے ہیں کہ کس کا قلم آج کل کیا لکھ رہا ہے؟ اس میں وہ کہاں ہے؟ اور جب وہ اپنا نام نہیں دیکھتا ہے تو بڑی بےشرمی شکایت کرنے لگتا ہے کہ میرا نام کیوں نہیں ہے؟ میں کیا تمہارا دشمن ہوں؟ میں نے اتنا لکھا ہے، اتنے سارے انعام بٹورے ہیں، پھر بھی تمہارے نزدیک میری کوئی حیثیت نہیں؟ (یہ بھی پڑھیں مشرف عالم ذوقی سے ایک ملاقات : یادیں جو یاد رہ جاتی ہیں – محمد ریحان )
لگتا ہے ہندی (اردو) میں تخلیق کار کی جگہ ‘ شرلاک ہومز’ پیدا ہونے لگے ہیں، جو پلک جھپکتے یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ کون کیا لکھ رہا ہے اور جو لکھا جا رہا ہے اس میں اس کی جگہ ہے کہ نہیں۔ اگر کسی تحریر میں اس کی جگہ نہیں بن پاتی ہے تو وہ اپنا نام درج کروانے کی طبقاتی جدو جہد کرنے لگتا ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے، جہاں نہ پہنچے روی، وہاں پہنچے کوئی۔
میرے ذہن میں تو صرف ایک خیال آیا تھا اور دیکھئے، جاسوسوں کے نزدیک میرے دماغ میں بند پوری کتاب کھل گئی۔ آپ بتائیں، ایسی دھمکیوں کے بعد کوئی کیا لکھے اور کیسے لکھے؟ قلم پر تو پہلے ہی لاکھ پہرے لگے ہیں، حکومت کا پہرہ ہے، قانون کا پہرہ ہے، مختلف سماجی تنظیموں کا پہرہ ہے، بھیڑ کا پہرہ ہے، گلی کے گنڈوں کا پہرہ اور اب تخلق کاروں کا بھی پہرہ۔ اور ادھر، آپ کیا لکھیں اور نہ لکھیں اس کا فیصلہ آپ نہیں دوسرے تخلیق کار کرتے ہیں۔
مجھے تو آج کل حکومت سے کم اور تخلیق کاروں سے زیادہ ڈر لگنے لگا ہے۔ اس لیے میں نے اپنا طریقہ ہی بدل دیا ہے۔ اب میں نہ کسی سے ناراض ہوتا ہوں، نہ کسی کو ناراض کرتا ہوں۔ لکھنے سے پہلے میں تخلیق کاروں کے ناموں کی فہرست بنا لیتا ہوں اور سوچنے لگتا ہوں کہ کس کس کا نام کہاں کہاں ڈالنا ہے؟ کس کس کے نام کے ساتھ کون کون سے اوصاف لگانے ہیں ؟ کتنی دفعہ کسے عظیم اور کسے نایاب کہنا ہے؟ کتنی بار کسے بے نظیر اور کسے ٹرینڈ سیٹر کہنا ہے؟
میں نے تو ایسے اوصاف کی ایک لمبی لسٹ بنا رکھی ہے اور سب کے نام کے آگے چپکاتا رہتا ہوں، تاکہ ہر تخلیق کار خوش رہے، اس کے گھر والے خوش رہیں اور میں بھی خوش رہوں۔ اس طرح تخلیق کار خوش تو ادب خوش اور اگلی پیڑھی بھی خوش۔ تخلیق کاروں کی خوشی میں ہی اپنی خوشی ہے۔ میں ان کو خوش رکھوں گا تو وہ مجھے خوش رکھیں گے۔ خوشی ہی تو لکھنے کا اصل مقصد ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ناول "میرے نالوں کی گمشدہ آواز” کا تعارفی جائزہ – محمد ریحان)
مترجم: محمد ریحان،
ریسرچ اسکالر ، شعبۂ اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


3 comments
[…] تراجم […]
[…] تراجم […]
[…] تراجم […]