شہر دودھیا روشنی میں نہا رہا تھا ہر طرف بجلی کے قمقمے تاروں کو مات دینے کی کوشش میں تھے اور بازار ہاں! وہی بازار جہاں آج لوگوں کا اژدھام امڑ پڑا تھا لوگ کل کی خریداری کر رہے تھے۔ کل عید ہونی تھی اور آج چاند رات ۔ بچپن سے ہی ہم عید سے زیادہ چاند رات کا انتظار کرتے تھے کیونکہ ساری رات نہیں تو آدھی رات ہم کبھی گھر کو سجاتے کبھی محلے کو اس کام میں محلے کے چند عمر رسیدہ لوگ بھی شامل رہتے جو یہاں کارخانوں میں کام کرنے کے لیے مقیم تھے اور جنہوں نے آج تک کچھ عیدیں ہی اپنے گھر کے افراد کے ساتھ منائی ہوں گی کیونکہ جب وہ ہوش سنبھالے تو فیکٹری میں ملازم ہو گیۓ اور مشینوں سے ایسی قربت ہوئی کہ تمام تہواروں کو،رشتوں کو،خواہ وہ چاہتے ہو یا نہیں انہیں الوداع کہنا پڑا کبھی کبھی ان کے چہروں پر عید کی تمتماہٹ تو دکھتی مگر بس کچھ پل کے لیے جب وہ ہمارے ساتھ شامل ہوتے تو ان کا دل بھی بچہ کا ہوجاتا وہ رنگین کاغذوں کے جھالر بناتے جو ہم سب پورے محلے میں لگاتے اور صبح کو بار بار ان جھالروں کے پاس جاتے اس کو چھوتے اور اپنی محنت کی سراہنا اپنی نظروں سے کرتے۔ہمارے جماعت میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہوتے جو اس بات سے انجان ہوتے کہ عید کیا ہوتی ہے؟ عید کی کیا اہمیت ہےاور ہمارے لۓ عیدکیا لاتی ہے؟ وہ ان جھالروں کو دیکھ کر سمجھ جاتے کہ کل عید ہے جی بھر کے خوشی منانے کا دن اور آج چاند رات۔ ہاں تو ذکر چاند رات کا ہو رہا تھا ۔ بزار کے داخلے دروازے کے قریب ایک میٹا ڈور کھڑا تھا جس میں کچھ لوگ بیٹھےتھے معلوم نہیں وہ کون لوگ تھے۔کچھ عورتیں، کچھ مرد، کچھ بوڑھے اور کچھ بچے تھےعورتوں کے بدن پر جو ساڑی تھی یقیناً کبھی انکا کوئی رنگ رہا ہوگا مگر اب وہ بے رنگ تھے یا اتنے زیادہ گندے تھے کہ رنگ کی پہچان ممکن نہ تھی پھر بھی سروں کو ڈھکے نیچے نظر کۓ ہوۓ بیٹھی تھیں۔ایک بوڑھا جو سامنے بیٹھا تھا وہ ٹخنوں سے اوپر ننگی پہنے تھا اور پرانی گنجی زیب تن کئے ہوئے تھا ٹینس بال کی طرح آنکھیں جن میں وحشت کا سماں تھا مونچھ اور داڑھی کے بیچ لب دکھائی ہی نہیں دیتا تھا غالباً اس لئے دکھائی نہیں دے رہے تھے کیونکہ وہ بہت پہلے ہی سل چکے تھے ۔ میں آفس سے آتے وقت بازار میں کھڑا اپنے دوست کا انتظار کر رہا تھا تبھی اس گاڑی سے ایک بچہ بڑی تیزی سے اترا بوڑھا اس کی بانہوں کو پکڑ کر کھینچتا رہا مگر وہ کامیاب نہ ہوا بچہ سامنے ایک فاسٹ فوڈ سینٹر کے پاس کھڑا ہوگیا اور چپ چاپ دوکان کو دیکھے جا رہا تھا ذرا بھی حرکت نہ کرتا تھا میری آنکھوں نے اس بچے میں ایک تیاگی فقیر کو دیکھا وہ مسلسل دکان والےکو ،کھانے والےلوگوں کو دیکھے جا رہا تھا تھا اور کھانے والے اس بچے کی موجودگی سے بے خبر تھے بچے کی نگاہوں کی تیزی بڑھتی جا رہی تھی اس نے اپنی نگاہ دکان پر گاڑ رکھی تھی اور نہ معلوم کس انہونی کا انتظار کر رہا تھا اسی وقت ایک نوجوان جوڑے نے بچا ہوا کچھ کھانا پھینک دیا جو غالبا لڑکی کو ناپسند تھا وہاں بیٹھا ایک کتا لپک گیا پھر کیا آسمان کا تارا ٹوٹ گیا،صبر کی ڈالی ٹوٹ گئی،کسی نے خون رستے زخم بر نمک مل دی مگر اب بھی وہ بچہ چپ کھڑا تھا ایسی آس لگایا تھا کہ مانو دکاندار اسے کچھ دے دے یاوہ جو اسے دیکھ رہا تھا اور بھوک کے اس عالم میں اس کا امتحان لے رہا تھا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا بوڑھا نیچے اترا اور اس بار اسے زبردستی گاڑی میں بٹھا دیا۔بوڑھے نے اس سے کہا کہ آج سیٹھ جی انہیں کپڑے دینے والے ہیں اور اچھی اچھی کھانے پینے کی چیزیں بھی بچہ رنگ برنگے کپڑوں کے تصور میں کھو گیا تو اس نے پوچھا دادا کل عید ہے سارے لوگ خوشی مناتے ہیں دیکھو نا دا دا سب بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ بزار آۓ ہیں۔ دا دا میرے بابا کب آئیں گے؟ میری ماں نانی کے گھر سے کب آئے گی؟ اور نہیں آتی تو مجھے بھی نانی کے گھر پہنچا دو۔ اس میٹا ڈور میں جو عورتیں بیٹھی تھی وہ بچے کی باتوں کو سن رہی تھیں مگر ایک عجیب لاتعلقی کا اظہار کر رہی تھیں میں نے یہی محسوس کیا کہ اس میں ماں تھیں بہن بھی تھیں بیٹی اور بیوی بھی تھیں مگر ان تمام کو اپنے رشتے کا احساس بہت پہلے ختم ہوچکا تھا کوئی بیٹے کو روتے روتے اندھی ہو گئی تھیں کچھ بھائی باپ اور شوہر کو رو چکی تھیں اور اب ان کے سینے میں دل تو تھا دھڑکتا بھی تھا کچھ کہنا بھی چاہتا تھامگر یہ معلوم نہیں کہ اسے کیا کہنا ہے اور کس سے کہنا ہے ؟وقت کے تیز طوفان نے ان سےوہ سب کچھ چھین لیا تھا جو رشے کا احساس دلاتے ہیں اب ان کی زندگی محض ڈھونے کی چیز تھی۔ سارے احساسات مٹ چکے تھے زیست کے قاعدے کو منہ میں کب تک جمع کۓ رہتے تھوک دی پان کی پیک کی طرح۔ اب روز زندگی سے دو دو ہاتھ کرنے پڑتے کبھی زندگی جیت جاتی اور کبھی کبھار شکست زدہ جیت ان کی جھولی میں بھی آجاتی اور مینڈک کی طرح اچھل کر باہر بھی نکل جاتی۔بوڑھا اس بچے کا منہ ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کوئی بے قصور وقت کے ظالم منصف سے رحم کی بھیک مانگتا ہو۔ اسکی طاقت گویائی ختم ہوتی دکھائی دے رہی تھی تبھی بچہ دوبارہ گاڑی سے اترنے کی کوشش کرنے لگا اس بوڑھے نے اپنا ہاتھ تیزی سے بڑھایا ٹھیک ویسے ہی جیسے اس نے اس خوفناک رات کو بڑھایا تھا بچہ اس کی پکڑ میں تو آگیا لیکن وہ کربناک رات اسکی پکڑ سے نکل گئی تھی۔ہاں اس رات جب انسانی شکل والوں نے وحشیوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا اس رات جب پلک جھپکتے آگ کے قد آور شعلے جھونپڑیوں کو نگل رہے تھے۔وہ آگ کے شعلے تھے یاکوئی عذاب جس نے ان غریبوں سے انکا سب کچھ چھین لیا تھا، کتنی بھوکی تھی وہ آگ کہ جھونپڑی کے مکینوں کو بھی نگل گئی۔وہ بوڑھا بھی اس آگ کی خوراک بننا چاہتا تھا جب اسکی آنکھوں کے سامنے اسکا بیٹا اور بہو دونوں جل کر راکھ ہوگۓ کوئی مدد کو نہ آیا اور جب مددگاروں کی ایک جماعت پہنچی تب تک بچانے کو کچھ بچا ہی نہ تھا مگر ایسا نہ ہو سکا۔دیکھتے دیکھتے سب کچھ خاک ہو گیا۔کل اسکے پاس ایک گھر تھا ایک نام تھا ایک آدمی کی حیثیت سے جانا جاتا تھا مگر آج اے، او بن کر رہ گیا کوئی باقی نہ رہا اب تو کوئی یہ بھی نہ پوچھتا کہ اس نے آج کھایا بھی یا نہیں۔اسکی پہچان کیا تھی نہ وہ جانتا تھا اور نہ اسے کوئی بتانے کی کوشش کرتا مگر اسکی آدمیت آج بھی زندہ تھی اس میں ایک انسان آج بھی جی رہا تھا ۔ ہاں مگر بس جی رہا تھا۔میں نے جتنی ہمت اور حوصلے کی کہانیاں پڑھی تھی وہ سب کی سب وہاں سر جھکائے کھڑی تھیں اور میں خود ان کہانیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے گھبراتا تھا۔ مجھے زندگی کا کوئی فلسفہ یاد نہ رہا میں نے تو بس ایک تکرار دیکھی جو ایک بچے اور اس وسیع آسمان کے بیچ ہو رہی تھی اس خاموش تکرار نے میرا قرار چھین لیا اور میں اس چاندنی رات میں خود کو ڈھونڈ رہا تھا اور مجھ میں میرا "میں” نہیں مل رہا تھا میں نے بڑھ کر اسے کچھ کھانے کی چیز دینی چاہیے مگر اس بوڑھے نے مجھے یہ کہتے ہوۓ روک دیا بابو جی اور بھی بچے ہیں اور اپنے ہاتھوں کے اشاروں سے دکھایا دو تین بچے اور بھی تھے وہ صرف اپنے بچے کے لۓ کیسے لے سکتا تھا؟ اسکی پہچان مر چکی تھی مگر انسانیت کے سبق اب بھی اسے یاد تھے۔ بوڑھا اس وقت اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا اور اسکا کلیجہ منہ کو آگیا جب اس بچے نے اسکے بہتے آنسوؤں کو یہ کہتے ہوۓ پوچھنےلگا ” دادا مجھے بھوک نہیں لگی ہے "نہ معلوم کیوں؟مجھے پہلی بار چاند بہت بھدا دکھائی دےرہا تھا اور کسی بھی طرح کی کشش سے محروم رات کی تاریکی میں آسمان کی پہرہ داری کررہا تھا۔
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔93399663

