چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تِریاقی
علم انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ تعلیم دونوں ضروری ہے عصری ہو یا دینی۔ لیکن آج کی مسلم آبادی دینی تعلیم کو بتدریج فراموش کر تی جارہی ہے۔اب دینی تعلیم کا حصول اکثر لوگوں کو معیوب معلوم ہوتا ہے۔جو لوگ غریب طبقے کے ہیں وہ دینی تعلیم کے لئے اپنے بچوں کو مجبوری کے تحت بھیجتے ہیںمیں یہ نہیں کہتا کہ صرف دینی تعلیم کو ہی ترجیح دی جائے۔ بلکہ عصری علوم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کرنی چاہئے۔میرا خیال یہ ہے کہ اپنی اولاد کوکم از کم ۵/۷؍سال تک خالص دینی تعلیم سے آراستہ کرنا لازمی ہے۔تاکہ ان میں اپنے ایمان و عقیدے کی پختگی پیدا ہوجائے۔
تعلیم کی اہمیت ہر دور ہر زمانے میں رہی ہے اوررہے گی۔ جس شخص کے پاس علم جیسی عظیم نعمت نہیں اگرچہ اس کے پاس دنیا کی ساری نعمتیں اور سہولتیں میسّر ہوں پھر بھی وہ ایک اہلِ علم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ لیکن آج کا المیہ یہ ہے کہ عصری تعلیم نام پر عریانیت اور بے حجابی بہت ہی زور و شور کے ساتھ فروغ پارہی ہے۔جیسے آج کل ٹیلیویژن چینلوں پر ایک غلیظ چیز کا پرچار عام طور سے ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ عورتوں کو مخصوص ایام میں کیا استعمال کرنا چاہئے اس کے پرچار کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ ان کو اپنی سہیلیوں اور ساتھیوں سے معلوم ہوجاتا ہے۔ اس کے پرچارسے بلا شبہ نئی نسل کی لڑکیوں میں کُرید اور تجسس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جو اس کچی عمر کے لئے ہرگزمناسب نہیں۔آج ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ہوگا۔ لیکن ہمارے دل و دماغ سے غیرت کا جنازہ نکل چکاہے۔اس لئے ان مسائل کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی۔تعلیم دینا بالکل ضروری ہے بلکہ فرض ہے لیکن تعلیم کی آڑ میں جو کچھ آج ہو رہا ہے اُس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ (یہ بھی پڑھیں احسن امام احسنؔ کی غزل گوئی (سمندر شناس کے حوالے سے) – امام الدین امامؔ )
مخلوط تعلیم اس دور کا بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے ۔ کچھ لوگ مخلوط تعلیم کوغلط اور سماج کے لئے ایک ناسورسمجھ کر اس کی مذمت کرتے ہیں تو بہت سارے لوگ اس کی حمایت میں بھی آواز بلند کرتے ہیں۔ مگر ان منفی اور مثبت انداز نظر سے قطع نظر بحیثیت مجموعی یہ بہرحال نقصان دہ ہے۔
مخلوط تعلیم سے ہمارے معاشرے پر کیابُرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔آج ہم اپنے اسکولوں کا جائزہ لیں ۔تو اس کی زہر ناکی کا صحیح اندازہ ہوگا جہاں ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے زیر تعلیم ہیں ان کا یونیفارم دیکھیں تو یہی معلوم ہو گا کہ لڑکو ں کے لئے پوری آستین کا شرٹ اور فُل پینٹ اور لڑکیوں کیلئے ہاف شرٹ اور اسکرٹ ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔اور ہم اس کو جدید طرز ِ رہائش کے نام پر برداشت کر ہرے ہیں۔یہ صورتحال اس لئے ہے کہ ہماری آبادی سے غیرت کا جنازہ نکل چکا ہے۔آج ہم اگر اپنے شہر مظفرپور کے حوالے سے ہی بات کریں تو مخلوط تعلیم کے برے نتائج ہمیں جھنجھوڑتے نظر آئیں گے اس میں کوئی شک نہیں۔کچھ غیرت مند والدین ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو اسی قسم کے تعلیمی اِدارے میں بھیجتے تو ضرور ہیںمگر ا س احتیاط کے ساتھ کہ اپنی بچیوں کے لئے الگ سے شلوار قمیص اسکول سے اجازت لے کر پہناتے ہیں لیکن روشن خیال حضرات اپنی اولادوں کی عریاں یونیفارم کا کوئی نوٹس نہیں لیتے۔ اس لئے کہ ان پر روشن خیالی اور ترقی پسند ہونے کی دُھن سوار ہے۔
لندن کا مشہور اخبار’’The Sunday Times‘‘ہے۔ اس میں ۲۰۰۵ء میں ایک خبر آئی تھی کہ لندن میں ۲۶؍فیصد باشندوں کا یہ ماننا ہے کہ عورتوں کے کم کپڑے پہننے کی وجہ سے بدکاری کو دعوت ملتی ہے۔اسی اخبار’’دی سنڈے ٹائم‘‘کے مارچ ۲۰۰۹ء کے مطابق ہر سات میں سے ایک Britishers کا یہ کہنا ہے کہ اگر عورت ،لڑکیاں کم کپڑے پہنیں تو اسے مارو۔یہ اس ملک کے لوگ کہہ رہے ہیں جس کو آج ہم اپنا Ideal مانتے ہیں۔
اس سے بھی بُرا حال اعلیٰ تعلیم کاہے جہاں ۱۷؍مارچ ۱۹۸۰ کے ایک سِروے کے مطابق صورتحا ل بہت ہی ہولناک ہے اس لئے کہ کالج اور یونیور سیٹی کے پروفیسرس اور لکچررس اپنی رفیق کارعورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے لئے انہیں فورس(زبردستی) کرتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں جنگ آزادیٔ ہند میں علمائے اہلحدیث کا کردار – امام الدین امامؔ)
والدین کی ذمے داریاں : مخلوط تعلیم کے بُرے اثرات سے بچانے کے لئے والدین یا گارجین کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنی ہوگی۔بچے یا بچیاں وقت پر گھر نہیں لوٹتے تو انہیں اپنے بچوں سے پوچھنا چاہئے کہ ابھی تک کہاں تھے؟ فلاں چیز تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ مثلاًاتنی دیر تک موبائل تم کیوں استعمال کر رہے تھے؟ کس سے hating Cکر رہے تھے؟ کس سے بات کر رہے تھے؟ میرے سامنے بات کیوں نہیں کرتے؟ وغیرہ یہی نہیں ہم اپنے بچوں کا فون استعمال کریں کبھی کبھی اپنے پاس رکھیں وہ کس کس سے بات کرتے ہیں اس کو چیک کریں Whatsapp وغیرہ لیکن اب ہماری موجودہ نسل اس سے بھی آگے نکل چکی ہے خود ڈیلیٹ کر دیتی ہے کہ معلوم ہی نہ چلے ،کہ ہم کون سا گُل کھلا رہے ہیں ۔اس کے علاوہ اپنے گھر میں آنے والے لوگوں پر کڑی نظر رکھیںاور کئی بار تو دیوث ٹیچر ہی اگر کوئی لڑکی خوبصورت اس سے پڑھنے آتی ہے یا وہ اس کے گھر پڑھانے جاتاہے تو اس کے ساتھ غلط حرکتیں کرتا ہے اور کئی بار بھاگ کربھی شادی کر لیتا ہے اور بعد میں لڑکی کو چھوڑ دیتا ہے بیچاری کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ ابھی کچھ دِنون پہلے مشہور ہندی’’ہندوستان‘‘ اخبار میں ایک نیوز آئی تھی کہ ایک ٹیچر کسی کے گھر بچوں کو پڑھانے جاتا تھا اس نے بچے کو پڑھاتے پڑھاتے بچے کی ماں کو ہی پڑھا دیا اور اس کے ساتھ شادی بھی کر لی ۔جب شوہر واپس آیا تو زمین و گھر ساری چیزوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اس لئے کہ گھر بھی بیوی کے نام پہ تھا۔ ابھی اسی اخبار ہندوستان میں نومبر ۲۰۱۹ میں مظفر پور کی خبر ہے کہ محلہ رام دیالو(R.D.S. Collegeکے قرب میں واقع محلہ) کے آس پاس ایک ٹیچر کامرس کا ٹیوشن کرتا تھا ایک لڑکی پڑھنے جاتی تھی ایک دن وہ پہلے پہنچ گئی اس نے اس کے ساتھ غلط سلط حرکتیں کیں اور لڑکی نے اس کے بارے میں اپنے اہلِ خانہ کو بتایا تو بہت بڑاوبال کھڑا ہو گیا۔راجیا سبھا میں ’’AAP‘‘کے نمائندہ سنجئے سنگھ نے ایک رپورٹ کی مدد سے یہ بات کہی تھی کہ ۲۰۱۸ء میں ہندوستان کو عورتوں کے لئے سب سے خطرناک ملک بتایا گیا ہے۔
آج کے اس گئے گزرے دور میں باپ بھائی سے بھی جی ہاں !دل تھامیئے، باپ بھائی کو بھی اپنی عزت و آبرو کامحافظ سمجھنا یقین نہیں ہو رہا ہے۔ اور ہندوستان کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ جو غیر فطری عمل ہوتا ہے اس میں اس کے قریبی رشتے دار بھائی ،باپ،دادایا پھر کوئی قریبی اس میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ابھی مظفرپور کی بات ہے کہ ایک سگے بھائی بہن نے آپسی رضا مندی سے شادی کر لی جب اس سے اس کے دوستوں نے پوچھا کہ یار تم نے یہ غلط کیا تو اس نے کہا کہ ہم دونوں (بھائی بہن)شروع سے ایک ساتھ سوتے تھے، جو کہ ہر گھر میں ہوتا ہے لیکن بعد بلوغت بھی ہم لوگ ساتھ سوتے رہے ایک دن ہم اپنے جذبات پہ قابو نہ پا سکے اور ساری حدود کو توڑ دالی پھر تو ہم نے یہ فیصلہ کر لیا کہ آپس میں شادی ہی کر لیں ۔ا گر یہاں پہ اسلام کی تعلیمات پر عمل ہوتا تو شاید یہ معاملہ در پیش نہ آتا کہ کس طرح سے بچوں کے بستر کا معاملہ ہے اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں ۔میں اپنی بات کو طول دینا نہیں چاہتا۔اسلام نے تو دو مردوں کو بھی ایک چادر میں سونے کی اجازت نہیں دی ہے ۔توبُرائی کے سارے دروازے تو ہم خود کھول رہے ہیں۔اپنے بچوں سے کوئی تعلق ہی نہیں رہا دنیا کمانے کے چکر میں۔
1999 میں U.K. کی ایک رپورٹ کے مطابق 90% لڑکیاں ۱۹؍ سال سے پہلے زنا کرالیتی ہیں اسی کے چند سال بعد کی ایک اور رپورٹ ہے کہ U.S.A. میں 95% لڑکیاں کالج سے فراغت کے پہلے زِنا جیسے قبیح فعل کی مرتکب پائی جاتی ہیں۔یہی حال ہندوستان کا ہے ۔ممبئی میں ایک میڈیکل کانفرنس کے دوران یہ بات کہی گئی کہ 70% لڑکیاں کالج سے فراغت کے پہلے زِنا میں ملوث پائی جاتی ہیں۔اور یہ سارے رِپورٹ پرانی ہیں تازہ ترین صورت حال تو اور بھی ہولناک ہوگی۔اسی سے جڑی دہلی پولیس کی ایک رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ ملاحظہ ہو :
According to Delhi Police analysis, 43 percent of the accused in rape cases were either friends of family friends, 16.25 percent were neighbours, 12.04 percent were relatives, 2.89 percent were co-workers, 22.86 percent were other known persons.
جب کے دنیا کے اندر جتنے بھی مذاہب و دھرم ہیں ہر دھرم کے اندر لڑکیوں کو پردے کا حکم ہے۔ ان کے لئے مخصوص لباس ہے۔ اور مردوں کے لئے بھی، عورتیں جو پردے میں رہنے کے لئے ہیںلیکن آپ اس کو بالکل برہنہ پھرا رہے ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آج کل جو تعلیم اسکولوں میں دی جا رہی ہے وہ ہر اسکول کے بچے کو خواہ وہ کسی مذہب کا ہو اس کو اپنے مذہب اور دین سے میلوں دور کر رہی ہے۔ اس کے سب سے بڑے ذمے دار بچوں کے والدین یا بھائی ہیں۔U.K. میں ہوئے ایک سروے کے مطابق جس اسکول میں لڑکے اور لڑکیوں کو مخلوط تعلیم دی جاتی ہے۔ وہاں کی بہ نسبت جس اسکول میں صرف لڑکے یاصرف لڑکیاں ہوں وہاں کے رِزلٹس بہتر ہوتے ہیں اُسی سروے میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ ہر کوئی Co-Education کے طلبہ یا طالبات اپنے مخالف جنس کو متاثر کرنے پر زیادہ زور دیتے ہیں۔اس لئے ان کے رِزلٹ بہتر نہیں ہوتے ۔
اگر ہم اپنے بچوں کو اس سے نہ بچائے تو وہی ہوگا کہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں بھی شادی سے پہلے غلط حرکات کا اِرتکاب کر بیٹھیں گی۔اور یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے سب جانتے ہیں آئے دن اخبارات میں خبریں چھپتی ہیں اورزیادہ پردے میں ہی رہ جاتی ہے۔ اور ہمارے مُلک ہندوستان میں تو کئی ایسی تنظیمیں ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو ہندو بنانے کا دعویٰ کر چکی ہیں۔اور ان کا کام رواں دواں ہے اور وہ اپنے مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
یہاں ابھی حال ہی میں پارلیامنٹ کا عام انتخاب ہواہے اس میں مغربی بنگال کے بشیر ہاٹ سے جو اُمید وار کامیاب ہوئی اس کا نام ’’نصرت جہاں‘‘ہے جو ٹی۔ ایم ۔سی کی ٹکٹ پر پہلی ہی مرتبہ میں کامیاب ہوگئی ۔ ان کا ایک انٹرویوں میں انڈیا ٹی۔ وی ۔ پر دیکھ رہا تھا ۔ اس میں اس سے یہ سوال ہوتا ہے کہ آپ نے ایک غیر مسلم لڑکے سے شادی کر لی ہے آپ پارلیامنٹ حلف لینے گئیں تو مانگ میں سیندور تھا۔ تو انہوں نے یہ کہا کہ آج جو لوگ میرے اوپر اعتراض کرتے ہیں وہ جب میں چھوٹی تھی اسکول(Convent) میں پڑھنے جاتی تھی کہاں تھے؟ ہم نے تو اپنے پڑھائی کے زمانے میں جو (Prayer) ترانہ ہوتا ہے اس میں ہم حضرت عیسیٰ کے بارے میںیہ کہاکرتے تھے(In the name of father God and son) بول کر جب اپنی اُنگلی کو پیشانی اور پھر سینے جس طریقے سے کیا جاتا ہے اس وقت تو کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا تو آج کیوں؟واقعی اس کاکہنا بالکل درست ہے ۔اس لئے کہ یہ تعلیم تو اس کو بچپنے سی ہی دی جا رہی ہے۔اوراپنے مذہب سے دوری کی تعلیم اور رب کے علاوہ اوروں کو شرکت کی طرف رغبت تو شروع سے ہی دلائی جا رہی تھی تو اس نے آج کون سی نئی بات کہ دی؟ ہاں یہ بات بھی سچ ہے کہ وہ بنگلہ فِلم کی ہیروئین تھی۔ لیکن اس طرف جانے کے لئے اس کو تو اس اسکول سے ہی سبق مِلا ۔ آگے’ ’نصرت جہاں‘ ‘ نے یہ کہا کہ میں نے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا ہے ۔ میں بڑے ادب کے ساتھ اُن یہ عرض کرتا ہوں کہ میری بہن! آپ نے قرآن نہیں پڑھا ہے اور نہ تو حدیث کے ’ح‘ سے آپ کی واقفیت ہے۔ میرا یہ مشورہ ہے کہ آپ پھر سے ایک بارغورسے پڑھیں پھر آپ کو حقیقت معلوم ہوگی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام لوگ مسلکی جھگڑے اور دیگراختلافات میں پھنسے نہ رہ کر اپنی آنے والی نسلوں کے تابناک مستقبل کے بارے میں بھی سوچیں اور غور و فکر کریں اور ان کے لئے الگ سے ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں جہاں صرف لڑکوں کو تعلیم دی جائے اس کے ساتھ ہی ایک ایسا ادارہ بھی ہونا چاہئے جس میں دنیاوی اور دینی دونوں تعلیم صرف لڑکیوں کو دی جائے تبھی ہم اپنی لڑکیوں کی حفاظت کرپائیں گے وگرنہ ابھی جو ہمارے یہاں کا ماحول ہے کہ بچہ اسکول میں داخلہ لیتا ہے اور اپنی مخالف جنس کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے کہ خود اس کے استاد یہی کچھ کرتے ہیں ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎
چوہمیں مکتب وہمیں ملّا
کارِ طفلاں تمام خواہد شد
Imamuddin Imam
(Student JNU, New Delhi)
Muzaffarpur
Bihar (India)
Mob.- +91 62061 43783
مضمون نگار جے این یو دہلی میں ایم اے کے طالب علم ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

