Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

اپنوں کی غربت و فرقت کا قصہ سناتی ’عمارت‘ – پروفیسر صالحہ رشید

by adbimiras اگست 9, 2021
by adbimiras اگست 9, 2021 0 comment

’عمارت ‘محترمہ نگار عظیم کا ایک پر اثر افسانہ ہے جس کے ذریعہ انھوں نے معاشرے میں در آئے ایک سنگین مسئلہ کی بخوبی عکاسی کی ہے اور اس کے لئے انھوں نے سیدھا سادہ بیانیہ اختیار کیا ہے۔ کرنل قیصر بیگ اس افسانے کا مرکزی کردار ہیں۔ ان کے افراد خانہ میں ان کی اہلیہ فردوس جہان ،ان کے پرانے خانساماں کا بیٹا خان بہادر اور اس کی بیوی زرینہ شامل ہیں ۔ ساتھ ہی افسانہ نگار خود واحد متکلم کی صورت پورے افسانے میںبکلی موجود ہے۔ پورا افسانہ اس واحد متکلم کے ذریعہ ایک نشست میں کچھ اس طرح بیان کیا گیاہے   ؎

راوی کو علاقے کی مردم شماری کا کام سونپا گیا ہے اور وہ مختلف گھروں سے ہوتے ہوئے کرنل قیصر بیگ کی کوٹھی C-11پر پہونچتی ہے۔ ایک  پچاس پچپن سال کا شخص اسے کوٹھی کے اندر لے جاتا ہے اور بتاتا ہے کہ کرنل صاحب بس تھوڑی دیر میں تشریف لے آئیں گے۔ اسی اثنا راوی اس لان پر نگاہ ڈالتی ہے جو اس کوٹھی کے مکینوں کے با سلیقہ اور با ذوق ہونے کا پتہ دے رہا تھا ۔ لان میں مختلف قسم کے موسمی پھولوں اور پودوں کے ساتھ کیاریاں بھی سلیقے سے آراستہ تھیں اور ایک مالی پودوں پر گیلی مٹی چڑھا رہا تھا۔دوسری جانب دیوار پر ایک جال نصب تھا۔

نگار عظیم کے افسانوں کے عنوان، موضوع اور ان کے برتنے کا ایک مخصوص انداز ہے۔مثلاً زیر غور افسانے کے عنوان ’عمارت ‘پر نگاہ پڑتے ہی قاری کے ذہن میں ایک خیال جا گزین ہو گیا کہ کسی عمارت کے درونی و بیرونی حالات کو افسانے کا موضوع بنایا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی وہ پورے تجسس کے ساتھ ان کی فکر کے ہمرکاب ہو جاتا ہے۔افسانے کی ابتدا میں وہ کوٹھی نمبرC-11کی تصویر کشی کچھ اس طرح کرتی ہیں   ؎

’’کوٹھی پرانے طرز کی تھی۔خاص دروازے کے دونوں طرف نقشین قمقمے نصب تھے ۔ باؤنڈری کی دیوار پہ یکساں فاصلے سے تقریباً تین فٹ اونچی محرابیں بنی تھیں اور ان کے سرے پر قندیلیں نصب تھیں۔میں سوچنے لگی سب ایک ساتھ جلتی ہوں گی تو کتنا چراغاں ہوتا ہوگا۔‘‘

یہاں کوٹھی کی بیرونی ساخت اس طرح بیان کی گئی کہ اس کے رعب و جلال کے ساتھ روشن قمقمے قاری کی نگاہوں میں جھل مل کرنے لگے مگر پھر’سب ایک ساتھ‘ کہہ کر راوی نے اس افسانے کے موضوع کو قاری کی فکر کا محور بنا دیا۔گویا عنوان کے ساتھ موضوع  اس طرح منسلک ہو گیاکہ قاری کو اس کے لئے ذہن پر بار نہیں ڈالنا پڑا۔یہ عمل بالکل فطری طور پر سادہ اور رواں بیانیہ کے توسط سے انجام دیا گیا۔’سب ایک ساتھ ‘ یعنی ایک خاندان کے تمام افراد کا ایک ساتھ بڑی سی کوٹھی میں زندگی گذارنا، اپنوں کی قربت میں پلنا بڑھنا، زندگی کے نشیب و فراز کا ایک ساتھ سامنا کرنا، ایک ساتھ خوشیاں منانا اور غم کے سمندر کو ایک ساتھ مل کر پار کر لینا، کوٹھی کے در ودیوار کو زندگی کی رمق سے آباد اور اپنے قہقہوں سے گلزار رکھنا اس طرح کہ سارے قمقمے ساری قندیلیں ایک ساتھ جلیں اور چراغاں ہو جائے۔ (یہ بھی پڑھیں عورتوں کواستحصال نماآزادی ہی ملی ہے:نگارعظیم- حقانی القاسمی)

کوٹھی کے داخلی دروازے پر راوی کا استقبال پچاس پچپن سال کا ایک دبلا پتلا درمیانے قد کا شخص کرتا ہے جس کے بالوں میں سفیدی در آئی تھی۔اس نے سوچا ’یہی کرنل صاحب نہ ہوں‘۔راوی کے ذہن میں اٹھنے والے اس خیال نے ماضی کی شاندار روایت کے نا جانے کتنے در وا کر دئے۔شان و شوکت میں گذارے گئے دن، دولت و ثروت، عیش و عشرت کی فراوانی، حزن و ملال کا خیال جہاں شاذ و نادر ہی آتا ہو ، کیا پتہ ظالم زمانہ ایسی چال چل گیا ہو کہ کرنل صاحب اس حال کو پہنچ گئے ہوں۔زمانے کے تغیرات ہیں ،کچھ بھی ممکن ہے۔راوی نے اب تک بیس بائیس گھر  جا کر سنسس کا فارم بھروایا تھامگر ’یہ پہلا گھر ایسا ملا تھا جہاں کوئی اتنی شائستہ گفتگو کر رہا تھا۔حالانکہ یہ علاقہ پڑھے لکھے مہذب لوگوں کا ہی تھا۔‘محترمہ نگار عظیم تو یہ جملہ ادا کر آگے بڑھ گئیں مگر قاری کو سوچ کے سمندر میں غلطاں و پیچاں چھوڑ گئیں۔اسے اپنی اخلاقی قدروں کی پامالی پر غور و فکر کی دعوت دے گئیں۔در اصل مہذب ہونا ، مشرف بہ تعلیم ہونا ، ہمیں نیکی کی تلقین کرتا ہے اور نیکی کا دارو مدار حسن اخلاق پر ہے۔کیا پوری بستی کی بستی اخلاقی درس فراموش کر بیٹھی؟ہماری تنزلی و بدحالی کے کئی اسباب اس ایک جملے میں نہاں ہیں۔چونکہ کرنل صاحب موجود نہیں تھے اور تھوڑی دیر میں ان کی آمد متوقع تھی لہٰذا راوی نے انتظار کا وہ وقفہ اس کوٹھی کے خوبصورت لان میں چہل قدمی کرتے ہوئے گذاراجس کی منظر کشی وہ اس طرح کرتی ہے   ؎

’’اچانک میری نظر دیوار میں لگے ایک جال پر ٹک گئی جو دیوار کے سہارے لٹکا تھا یا پھر نصب تھا۔ قریب جا کر میں نے دیکھا رنگ برنگی دیسی بدیسی کئی قسم کی چڑیاں  اور طوطے ادھر سے ادھر اس سنہرے جال میں پھدک رہے تھے۔ کئی مختلف سائز کی ہانڈیوں میں ان کے گھونسلے بھی بنے تھے۔ نہانے کے لئے پانی سے بھری ناند بھی رکھی تھی۔ جال کچھ اس طرح سے فٹ کیا گیا تھا یا ہو گیا تھا کہ پیڑوں کی کئی شاخیں جال کے اندر سے ہو کر گزر رہی تھیں ۔ جال کی لمبائی چوڑائی تقریباً چار فٹ بائی چھ فٹ رہی ہوگی ۔ اتنے لمبے چوڑے جال میں اپنے عیش وآرام کی مکمل رہائشی سہولیات سے شاید ان پرندوں کو اپنے قید ہونے کا احساس مٹ چکا تھا۔ وہ اپنی دنیا میں مست تھے۔ ‘‘

راوی بڑی دلچسپی سے اس جال کا مشاہدہ کر رہی ہوتی ہے کہ تبھی کرنل قیصر بیگ کی آمد ہوتی ہے جو انتہائی پر وقار شخصیت کے مالک ہیں ۔ وہ اسے اپنے ایر کنڈیشنڈ ڈرائنگ روم میں لے جاتے ہیں۔ یہاں ان کے خاندان کے فوٹوگراف اور دیگر قیمتی اشیا سجی ہوتی ہیں ۔ کرنل صاحب فوٹو گراف کے ذریعہ اپنی فیملی کا تعارف کراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے والد فوج میں کیپٹین تھے اور تایا لفٹیننٹ اور وہ خود کرنل ہیں ساتھ ہی انھوں نے اپنی فوجی زندگی کے مختلف واقعات سنا ڈالے۔ اس پر راوی کہتی ہے ’ ’ما شا اللہ بہت با رعب خاندان ہے آپ کا ۔کیا کوئی آپ کی اولاد میں سے بھی ؟؟‘‘

’’نہیں بس میرے بعد ۔۔۔یہ سلسلہ ختم‘‘

’یہ سلسلہ ختم ‘ اسے پڑھ کر قاری خود کوکسی گہری دلدل میں دھنستا محسوس کرتا ہے۔در اصل یہ رد عمل اس سانحہ فاجعہ کی یاد دہانی کرا رہا ہے جس نے معاشرے کے تار و پود کو نوچ کر پھینک دیا۔بے فکری کے سامان نہ رہے۔شاہانہ تاج کی جگہ شاہزادوں کے سر ہی قلم ہو گئے ۔اس کے بعد عوام کے دار ورسن کے قصے عام ہوئے،در بدری کی داستان لکھی گئی جس نے آج یہ شکل اختیار کر لی ہے۔زندگی کے اسباب مہیا کرنے کی غرض سے باہر نکالا گیا قدم گھر کی دہلیز پر واپس نہیں لوٹ رہا۔اس نسل کے والدین بڑی شش و پنج کی زندگی گذار رہے ہیں۔انھیں اپنی اولاد کی خوشحالی کی خاطر اپنے جگر پاروں کی غربت بھی منظور ہے جب کہ ان کی عمر کا سورج خود ڈھلان کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔انھوں نے اپنے سینے پر پتھر رکھ لیا ہے۔گو کہ انھیں بھی ہے انتظار پھاٹک پر کسی اپنے کی دستک کا ، گرم جوشی سے سینے سے لپٹنے کا ، دوا کی خوراک ان کے ہاتھوں پینے کااور ان کے کاندھوں پہ آخری سفر کرنے کا۔ (یہ بھی پڑھیں ” کہانی ، تصور حقیقت، علامتی افسانہ ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )

راوی کی مزید تفتیش پر کرنل صاحب نے دوسرے فوٹوگراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ۔۔

’’ہاں یہ میرا بڑا بیٹا ہے ۔ یہ چھوٹا ۔ یہ امریکہ میں سٹلڈ ہے۔ میڈیسن کمپنی میں ملازم ہے۔ بڑا بیٹا ہالینڈ میں ہے ۔ بیٹی آسٹریلیا میں ہے۔ یہ ان کے بچوں کی تصویریں ہیں ۔ اب تو یہ بھی بڑے ہو گئے ہوں گے۔‘‘

راوی کرنل صاحب کی پہلودار شخصیت سے بہت متائثر ہوتی ہے اور اپنا مردم شماری کا کام پورا کر کاغذ سمیٹ لیتی ہے۔

اس طرح یہ ایک ایسی عمارت کی داستان ہے جس میں دل شکستہ والدین مکین ہیں۔ انھوں نے مدت دراز سے اپنے بچوں اور ان کی اولاد کو دیکھا نہیں ہے۔ راوی نے کوٹھی کا نقشہ بہت عمدگی سے کھینچا ہے ۔ لان کا ذکر گرمی کے موسم کے اعتبار سے اس طرح پیش کیا کہ نظروں کے سامنے تپتی گرمی میں لان کا طمانیت بخش منظر ہو بہو کھنچ جاتا ہے۔ اسی منظر کشی کے دوران پرندوں کے جال کا ذکر کہانی کی معنویت میں اضافہ کرتا ہے ۔ سنہری جال جس میں پرندے قید ہیں لیکن انھیں اس کا احساس ہی نہیں ، وہ تو بس اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ یہ مغربی ممالک میں جا بسے لوگوں کا عمدہ تمثیلی بیان ہے ۔ ان چند جملوں میں افسانہ نگار کا فنی کمال پوری شدت سے الفاظ میں اتر آیا ہے۔ کرنل قیصر بیگ کے تینوں بچے بیرون ملک جا بسے ہیں ۔ اس سنہری جال میں وہ اس طرح محبوس ہوئے کہ بھول ہی گئے کہ جن والدین نے انھیں اس دنیا سے روشناس کرایا  وہ ہندوستان کے کسی گوشے میں آج بھی سانس لے رہے ہیں ۔ وہ کس حال میں ہیں یہ جاننے کی ان تینوں کو قطعی ضرورت نہیں ۔ کرنل صاحب کی عمر ۷۰برس ہے ۔ ان کی بیوی زرینہ بیگم فالج زدہ اور صاحب فراش ہیں ۔ ان کا پرسان حال اگر کوئی ہے تو وہ پرائے خانساماں کا بیٹا اور بہو۔ وہ والدین جن کے اپنے تین بچے ہیں ، ایسی صورت میں ان کا ہونا یا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کوٹھی میں چند آوازیں ابھرتی ہیں تو پچاس پچپن برس کے ملازم کی ۔ بیٹے، بہو، بیٹی ، داماد، پوتی، پوتے، ناتی ، نواسے، یہ تمام رشتے تو اس سنہری جال میں مقید ہو کر رہ گئے جہاں حقیقی رشتوں کی تپش محسوس ہی نہیں ہو رہی۔ کتنا بے مروت ہے یہ جال ۔ یہاں لفظ ’ جال ‘ بہت معنی خیز ہے۔ یہ نگار عظیم کی عصری حسیت اور وسیع تفکر کا بھی مظہر ہے۔ یہاں وہ نئی نسل کے وطن سے ہجرت کرنے،عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے پر صرف اپنی ذات تک محدود ہو جانے ،والدین سے روگردانی کرنے پر فکر مند نظر آتی ہیں۔ اس افسانے میں ایک طرف جہاں انھیں پرانی نسل سے ہمدردی ہے وہیں وہ پرانی اقدار کی پاسبان بھی بن کر ابھری ہیں۔ ان چند جملوں نے قاری کویہ باور کرا دیا ہے کہ انھیں اپنی اقدار اور سماج کے مثبت رویوں سے بے انتہا لگاؤ ہے۔

کرنل صاحب اپنے بچوں کی تصویر دکھاتے ہوئے کہتے ہیں ۔۔’’یہ ان کے بچوں کی تصویریں ہیں ۔ اب تو یہ بھی بڑے ہوگئے ہوںگے۔ ‘‘

’’ہو گئے ہوں گے۔۔۔مطلب۔۔۔آپ نے انھیں کب سے نہیں دیکھا؟

کئی برس ہو گئے۔ سب کی اپنی اپنی مصروفیات ہیں ۔ وقت بدلتا جا رہا ہے۔۔۔اب معمولات پہلے جیسے کہاں ہیں۔ سب اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں اور یہ ٹھیک بھی ہے۔ ‘‘

یہاں والدین کی بے بسی پوری شدت کے ساتھ ابھر آئی ہے۔ کرنل صاحب کا جملہ اس بات کا شاہد ہے کہ انھوں نے اس بے بسی کے باوجود صورت حال کو کسی طرح قبول کر لیا ہے۔ فقط ایک جملے میں ’’اب تو وہ بھی بڑے ہو گئے ہوں گے ‘‘ سارے جہاں کا درد سمٹ آیا ہے اور آج کی نسل پر بہت گہرا طنز ہے۔ یہاں راوی کے ساتھ ساتھ قاری خود کو انھیں حالات میں موجود اور ان سے جوجھتا پاتا ہے  ۔ اس طرح یہ کہانی اب صرف کرنل قیصر بیگ کی نہ ہو کر ، ایک فرد کی نہ ہوکرپورے معاشرے کی داستان بن جاتی ہے اور کہانی کا کینوس بہت وسیع ہو جاتا ہے۔

دیوار پر آویزاں تصویروں کو دکھانے کے بعد کرنل صاحب ڈرائنگ روم میں سجی دیگر قیمتی اشیا کو دکھانے لگے جن میں سے ہر چیز  چالیس پچاس برس پرانی تھی اور ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی یاد وابستہ تھی۔ انھوں نے اپنے خاندانی انمول ذخیرے کو تاریخی بنا دیا تھا۔

’’میں سوچنے لگی یہ کمرہ تو ایک بہت بڑا عجائب گھر ہے اور کرنل صاحب اس عجائب گھر کی ایک بے چین آتما۔‘‘

ظاہر ہے کرنل صاحب زندہ ضرور تھے لیکن زندہ رہنے کا کوئی مقصد نہ تھا ۔ اس گھر  میں ادھر ادھر بھٹکتی ایک آتما ہی تو تھے وہ اور اس ڈرائنگ روم کے سامان کسی جیتے جاگتے شخص کے استعمال کے نہیں تھے بلکہ اب تاریخ بن چکے تھے ۔ جن کا وجود اپنی قدامت کی چغلی کھا رہا تھا ۔ ایک کرنل صاحب کا وجود تھا جو ان کے گرد بے چین ہو کر گھومتا تھا ۔ ان کا وجود ۔۔۔ایک بے چین آتما، کچھ تلاشتی ہوئی ، کسی اپنے کی صورت کو دیکھ لینے کو ترستی ہوئی، کسی فالج زدہ کے صحتیاب ہونے کے خواب دیکھتی ہوئی۔

اس کے بعد راوی نے مردم شماری کے کاغذات پر کئے۔ انھیں سمیٹا  اور رخصت ہوتے ہوئے کرنل صاحب سے کہا ۔

’’کرنل صاحب بہت اچھا لگا آپ سے ملاقات کر کے ۔ واقعی طبیعت خوش ہوئی۔ آپ کا گھر بھی بہت اچھا ہے۔ بہت خوبصورتی سے سجایا ہے آپ نے  ۔ بہت ،بہت خوبصورت ہے آپ کا گھر ۔ آپ تشریف رکھیں میں چلتی ہوں۔ یکایک ان کے جملے نے میرے قدم  جامد کر دئے۔ ۔۔

’’گھر۔۔۔؟؟گھر کہاں۔۔۔یہ تو بس ایک عمارت ہے۔ ‘‘

ابھی تک قاری تو کوٹھی کے ہی چکر لگا رہا تھا ۔ وہاں بسنے والے چار افراداور تصویروں میں سجے لوگوں سے متعارف ہوا۔ راوی کی غرض وغایت یعنی مردم شماری کے کام سے واقف ہوا ۔ وہ تو کہانی کا ایک کردار بن کر ماں باپ کی تنہائی اور دکھوں کا ہمسفر بن چکا تھا کہ کہانی کے اختتام نے اس کے کرب میں مزید اضافہ کر دیا۔ ’’گھر۔۔۔؟؟گھر کہاں ۔۔۔یہ تو بس ایک عمارت ہے۔‘‘

کہانی کا عنوان ’عمارت ‘ہے ۔ جو پوری کہانی کے دوران ایک سوالیہ نشان بنا رہا ۔ کہانی شروع ہوئی تو کوٹھی کالفظ استعمال کیا گیا۔ کہیں بھی قاری کا سابقہ عمارت سے نہیں پڑا ۔ اس کے دل میں عنوان کو لے کر آخر تک تجسس برقرار رہتا ہے کہ دفعتاً کہانی کے اختتام پر  کہانی کا عنوان اپنی پوری معنویت کے ساتھ آ موجود ہوا۔ قاری عمارت سے پہلی مرتبہ روبرو ہوا اور آخری مرتبہ بھی۔ ایک جھٹکے میں وہ گھر اور عمارت کے فرق سے روشناس ہو گیا ۔ گھر! گھر تو وہ ٹھکانا ہے جہاں گھر کا مکین لوٹ لوٹ کر آتا ہے ، سکون پاتا ہے ، چین کی سانس لیتا ہے ۔ گھر کے افراد اس کے اپنے ہوتے ہیں۔ گھر کا سامان اس کی آسائش کا ذریعہ ہوتے ہیں عجائب خانے کے نوادرات نہیں۔ گھر میں جیتے جاگتے انسان سانس لیتے ہیں بے چین آتمائیں نہیں۔ مردم شماری میں اپنے گھر کے افراد کی تفصیلات درج کرائی جاتی ہیں غیروں کی نہیں۔ (یہ بھی پڑھیں عصمت کے افسانوں میں بیانیہ کے مسائل – ڈاکٹر شہناز رحمٰن )

راوی جب واپسی کے لئے کوٹھی کے گیٹ پر آتی ہے تو دیکھتی ہے کہ مالی جو ابھی کچھ دیر پہلے گلاب کے پودوں کی اچھی طرح پرداخت کر رہا تھا ، انھیں گلابوں کی پنکھڑیاں پانی کی زیادتی سے جھڑ کر گر گئی تھیں اور ان پر گیلی مٹی چڑھ چکی تھی۔ یعنی مالی کے ہاتھوں ایک دن عمارت کے مالکین کا بھی کم و بیش یہی حشر ہونا ہے۔ اسی کے ہاتھوں ان کی مرقد پر گیلی مٹی چڑھادی جائے گی۔صورت حال یہ ہے کہ اپنے پرائے قریبی نزدیکی سب کا رول اب وفادار مالی اور خانساماں جیسے خدمت گاروں کے مرہون منت ہے۔

منجملہ یہ افسانہ قاری کو پوری طرح دعوت غورو فکر دیتا ہے ۔ وہ اس کے عنوان ’عمارت ‘ کا پوری کہانی سے ربط قائم کرتا ہے اور اس کی  روح کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ محترمہ نگار عظیم نے شروع سے آخر تک حساس زبان اور دھیمے لہجے کا استعمال کیا ہے ۔ سیدھے سادے جملے اور خوشگوار منظر نگاری کے ساتھ قاری افسانے کے کرداروں میں اپنی خوشیاں اور اپنے غم تلاشنے لگتا ہے۔ یہی وصف اس افسانے کی کامیابی کا ضامن ہے۔

 

 

پروفیسر صالحہ رشید

صدر شعبہ عربی و فارسی

الہ آباد یونیورسٹی

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

Home Page

 

 

صالحہ رشیدنگار عظیم
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
رباعیات – نسیم اشک

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں