نئے تعلیم یافتہ کچھ بھی کہیں لیکن اردو ادب کے عناصر خمسہ یعنی سرسید، محمد حسین آزاد، نذیر احمد ، حالی اور شبلی نے جو علمی و ادبی معرکے سر کیے ہیں وہ کسی اور کا مقدر نہ بن سکے انھوں نے جس کام کا آغاز کیا ، اپنی مخلصانہ کوششوں سے اسے درجۂ کمال تک پہنچا دیا اور یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب حالات اتنے سازگار نہ تھے جتنے آج ہیں۔ نہ انھیں وہ سہولتیں میسر تھیں اور نہ وہ رسائیاں حاصل تھیں جو ہمیں حاصل ہیں۔ نہ وہ آسائشیں اور حوصلہ افزائیاں تھیں ، نہ وہ جدید لائبریریاں اور مطلوبہ مواد کی دستیابی کی آسانیاں اور تحقیق و تنقید کے اصول و ضوابط غرض کچھ بھی نہ تھا اور اگر کچھ تھا بھی تو وہ مدھم اور مبہم سا تھا چنانچہ انھیں ہر کام کا آغاز صفر سے کرنا پڑا مگر ان کے پاس کوئی ایسی داخلی طاقت ضروری تھی جو انھیں بڑے سے بڑے کام پر آمادہ کرلیتی اور اس کے سہارے وہ مشکل ترین راہوں سے گزر کر اپنی منزل کو پالینے میں کامیاب ہوجاتے۔ ان کی یہ داخلی طاقت خلوص، لگن اور جانفشانی کی طاقت تھی ان کی متعین کردہ منزلیں بھی خود ان کی ذات کی تزئین و آرائش اور شہرت و ناموری کے لیے وقف نہیں تھیں۔وہ دوسروں کے لیے راہیں ہموار کرتے اور منزلیں بھی انھیں کے لیے سر کرتے۔ اردو ادب پر ان قابل احترام بزرگوں کے بڑے احسانات ہیں ۔ انھوں نے ہمارے لیے راستے بنائے۔ ان راستوں میں چراغ روشن کیے اور قصر اردو کے باغات کو خون جگر سے سینچ کر تاریخ، تنقید، سوانح، ناول، انشائیہ اور شاعری کے اتنے پھول کھلا دیے کہ ان کی خوشبو سے سارا جہان اردو معطر ہوگیا۔ آج بھی انھیں کے اخلاص کا فیض جاری ہے۔ یہاں تک کہ ان کے ناقدین و معترضین بھی انھیں کی فتوحات علمی کے سہارے آگے بڑھنے اور اوپر اٹھنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ اردوزبان کی خوش نصیبی ہے کہ ان صاحبان علم و دانش نے اس کے نثری ادب کو اپنے عہد زریں میں بیک وقت مالا مال کردیا۔ ان میں کا ہر شخص مینارۂ نور کی حیثیت رکھتا ہے۔ سرسید کو لیجیے تحریک سے قطع نظر ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ ، ’’خطبات احمدی‘‘، ’’آثار الصنادید‘‘، ’’تہذیب الاخلاق‘‘، ’’مضامین‘‘، ’’خطوط‘‘، ’’مسافران لندن‘‘جیسی قیمتی تصانیف دے کر گئے ہیں۔ محمد حسین آزاد کی ’’آب حیات‘‘، ’’نیرنگ خیال‘‘، ’’سخن دان فارس‘‘، ’’دربار اکبری‘‘، ’’مکتوبات آزاد‘‘ اور سفرنامۂ ایران کا جواب کہاں ہے۔ نذیر احمد کے ناول ’’مرأۃ العروس‘‘ ، بنات النعش ، توبۃ النصوح ، رویائے صادقہ اور ابن الوقت کی اہمیت سے کسے انکارہوسکتا ہے۔ یہی اردو میں فکشن کی بنیادیں ہیں۔ مولانا حالی کی ’’مجالس النساء‘‘، ’’حیات سعدی‘‘، ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘، ’’یادگار غالب‘‘، ’’حیات جاوید‘‘ وغیرہ وہ کتابیں ہیں کہ ان پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ بلاشبہ ان مصنفین کی ناقابل فراموش اردو خدمات آب زر سے لکھی جانے کے قابل ہیں۔ اب صرف ایک شبلی باقی رہ جاتے ہیں تو ان کی ادبی اور علمی فتوحات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان پانچوں ادبی ہستیوںمیں بحیثیت مجموعی ان کا پایہ سب سے بلند ہے۔ اس لیے کہ اس بطل جلیل نے اردو ادب کے سرمائے میں جیسا اور جتنا اضافہ کیا ہے وہ بہ اعتبار معیار و مقدار اپنے ہم عصروں سے نہ صرف زیادہ ہے بلکہ اپنی اہمیت اور افادیت کے اعتبار سے بھی قابل لحاظ حد تک افضل و برتر ہے اس اعتراف حقیقت سے دوسروں کی نفی یا تقابل مقصود نہیں کہ سب کا اپنا اپنا میدان اور اپنا اپنا طریقۂ کار ہے۔ البتہ شبلی کے کارناموں کی وسعت دیکھ کر حیرت ضروری ہوتی ہے۔ حیرت یوں ہوتی ہے کہ اتنی قلیل عمر میں ایک شخص اتنے مختلف سیاسی، سماجی، علمی، ادبی، تعلیمی، تدریسی، خانگی، انتظامی تہذیبی، ثقافتی اور تفریحی کام کیوں کر انجام دے سکا اور پھر ان متضاد کاموں کے ساتھ اتنے تحقیقی ، تنقیدی ، تخلیقی اور تصنیفی کاموں کے لیے یکسوئی کہاںسے لایا اور المامون، سیرت النعمان، الجزیہ، سفرنامۂ روم و مصر وشام، الفاروق علم الکلام الکلام ، سوانح مولانا روم، موازنہ انیس و دبیر، اورنگ زیب عالم گیر پر ایک نظر ، شعر العجم اور سیرۃ النبی جیسی غیر معمولی کتابیں کس طرح تصنیف کیں۔ اردو ادب کی یہی وہ تصا یف ہیں جن کی بدولت وہ ایوان نمائندگان ادب میں معززترین رکن کی حیثیت سے متمکن ہیں۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ انھوں نے مذکورہ کارناموں کے ساتھ فارسی شاعری کے لیے بھی وقت نکال لیا اور فارسی میں بہترین شاعری کی البتہ اس بات کا افسوس ضرور ہے کہ انھوں نے اردو شاعری کو لائق اعتنا نہ سمجھا۔ کبھی کبھی تفریح طبع کے طور پر یا کچھ خاص سیاسی اور قومی موضوعات پر چند نظمیں اور پانچ سات غزلیں ضرور کہی ہیں جن کی بدولت ایک دیوان تیار ہوگیا۔ اس دیوان کو دیکھ کر انداز ہوتا ہے کہ اگر انھوں نے سنجیدگی سے اس طرف رخ کیا ہوتا تو وہ اس میدان میں بھی اپنے ہم عصروں سے آگے ہوتے۔ شبلی کا کلیات اردو ان کے شاگرد رشید سید سلیمان ندوی نے مرتب کیا ہے۔ میرے سامنے اس کلیات کا ایڈیشن ۲۰۱۲ ہے۔ جس میں سید سلیمان ندوی کا دیباچہ طبع اول مرقومہ ۱۹۲۵ء اور مقدمہ بعنوان ’’مولانا شبلی اردو شاعری کے لباس میں‘‘ مرقومہ ۶؍اپریل ۱۹۴۰ شامل ہیں۔ مقدمہ خاصا وقیع اور ۲۴ صفحات کو محیط ہے اور اس میں شبلی کی شاعری سے سر سری بحث کی گئی ہے۔ پوری کتاب ۲۱۲ صفحات کی ہے جس میں مختلف اصناف پر شبلی کی چھوٹی بڑی ۹۳ تخلیقات شامل ہیں۔ سب سے بڑی نظم کے اشعار کی تعداد جسے مثنوی کہنا چاہیے ۳۴۰ ہے اور چھوٹی چھوٹی کئی نظمیں بہ شکل قطعات دو دو شعروں کی ہیں۔ پورا کلیات ایک ہزار چار سو اٹھائیس اشعار پر مشتمل ہے جن میں چار چار مصرعوں والے چار قطعات ’’تقسیم عمل‘‘، ’’وضو خانہ‘‘، ’’مسجد کانپور کا واقعہ‘‘، ’’شمشیر برطانیہ‘‘ فارسی زبان میں ہیں۔ ایک ۱۴ مصرعوں کا قطعہ ’’کانپور میونسپلٹی کا خطاب مسجد مچھلی بازار کانپور سے ‘‘ اور ایک نظم ’’مسلم یونیورسٹی مسلمانوں کے خواب کی تعبیر‘‘ بھی بہ زبان فارسی شامل کتاب ہیں۔ فارسی کے چھ اشعار اور ایک عربی کا شعر مثنوی ’’صبح امید‘‘ کی زینت ہے۔ اس کے علاوہ ایک نظم ’’جنگ یورپ اور ہندوستان‘‘ میں غالب کا یہ شعر: (یہ بھی پڑھیں شبلی کی استعمار شناسی (سوانح،سفرنامہ اورمقالات کے حوالے سے) – ڈاکٹر معیدالرحمن )
اس سادگی پہ کون نہ مرجاے اے خدا
کرتے ہیں قتل ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
اور غالب ہی کا ایک مصرع: ’’مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے‘‘ نظم ’’مسلم لیگ‘‘ میں استعمال ہوا ہے۔ ان نظموں کے مطالعہ سے شبلی کی شاعرانہ عظمت ، فن شعر پران کی گرفت اور اعلیٰ درجے کے مذاق سخن کاا ندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے اگرچہ موضوعاتی نظمیں زیادہ کہی ہیں مگر خوب کہی ہیں۔ موضوعاتی نظموں کی ایک خامی یہ ہوتی ہے کہ اپنے موضوعات کی طرح ان کے اثرات بھی وقتی اور عارضی ہوتے ہیں لیکن شبلی کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنے فن کی قوت سے ان نظموں کو بھی زندہ کردکھایا ہے۔ چنانچہ آج بھی انھیں پڑھیے تو تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ شبلی ایک حساس بلکہ زود حس انسان تھے۔ یہ مزاج شاعری کے حق میں مفید ہوتا ہے۔ لیکن شبلی نے اسے دیگر کاموں میں لگادیا جو ان کے نزدیک زیادہ اہم تھے۔ وہ ایک رومانیت پسند خوش عقیدہ مسلمان تھے ، انھیں اپنے شاندار ماضی سے عشق اور عربوں سے گہرا جذباتی لگائو تھا وہ عربوں کی عظمت رفتہ کے واقف کار اور ہیروز آف اسلام کے عاشق زار تھے۔ انھیں اس بات کا شدید احساس تھا کہ دوسری اقوام تو کیا خود مسلمان بھی اپنے بزرگوں کے کمالات علمی اور فتوحات ارضی سے واقف نہیں۔ وہ تمام عالم میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور درماندگی سے غم زدہ رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایک طرف اسلامی تاریخ کے عظیم کرداروں کو اردو میں متعارف کرانے کا بیڑا اٹھایا اور دوسری جانب ہندوستانی مسلمانوں کا دفاع کرنے کے لیے اردو شاعری کا سہار الیا۔ ان کا عمل سرسید کے اصلاحی اور تعلیمی تحریک کو رسد پہنچانے کا ایک بہتر ذریعہ ثابت ہوا۔ وہ جانتے تھے کہ نثرکی بہ نسبت شاعری کا نسخہ زیادہ کار گر اور زود اثر ہوتا ہے چنانچہ انھوں نے اپنی مثنویوں اور طنزیہ نظموں میں قوم کو ماضی کی شاندار روایات یاد دلائیں۔ حال کی زبوں حالی کا چہرہ دکھایا ۔اور پستیٔ عمل کے نتیجے میں تاریک مستقبل سے خبر دار کرنے کی سعی بلیغ کرتے رہے۔ ان کی طبیعت میں خلوص، دل میں جو ش ولولہ اور نظر میں مسلمانوں کی ذلت و رسوائی اور ناطاقتی کے عبرت ناک مناظر وواقعات تھے اس لیے ان کا قلم کبھی طنز کے تیر برساتا، کبھی ڈھارس بندھا تا اور کبھی زخموں پر مرہم رکھ دیتا ۔ ان کے معاصرین میں حالی، اکبر اور اقبال بھی جن کے جذبۂ خلوص کی بدولت مسدس، شکوہ، جواب شکوہ جیسے شاہکار اور بے شمار طنزیہ اشعار وجود میں آئے۔ سب کا مقصد ایک اور انداز جداگانہ تھا۔ سرسید تحریک اپنے انداز میں کام کر رہی تھی کوئی اس کا حامی تھا ، کوئی مخالف اور کوئی اپنی شرائط کے ساتھ حمایت دینا چاہتا تھا۔ کوئی انگریزوں سے سرسید کی حد سے بڑھی ہوئی دوستی اور انگریزی تہذیب کی درآمد سے متفق تھا تو کوئی متفق نہیں تھا۔ شبلی جذباتی ہیں ، رومانی ہیں، ان کی اردو نظمیں مسلمانوں کے ذہنی انتشار ، معاشرتی خلفشار ، سیاسی بے وقعتی اور عالم گیر کسمپری کا تکلیف دہ رد عمل ہیں جو سننے والوں کو تڑپا کر رکھ دیتی ہیں۔ اسی قسم کی پر تاثیر نظموں میں ’’صبح امید‘‘ کے چند اشعار پیش ہیں۔ واضح ہو کہ ’’صبح امید‘‘شبلی کی سب سے طویل اور نمائندہ نظم ہے جو مثنوی کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔ اس مثنوی کا آغاز فارسی کے شعر سے ہوتا ہے ؎
ادراک حال ما زنگہ می تواں نمود
حرفے ز حال خویش بہ سیما نوشتہ ایم
اس کے فوراً بعد ایک شعر میں قوم کے ابتلا کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے ؎
کیا یاد نہیں ہمیں وہ ایام
جب قوم تھی مبتلائے آلام
بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال ہے کہ جیسے کسی نے پوچھا ہو آپ کو قوم کی بھی کچھ خبر ہے؟ اس سوال کو سن کر شاعر کا دریائے جوش ابل پڑتا ہے اور ’’مبتلائے ایام‘‘ قوم کا شاندار ماضی اس کے پردہ ذہن پر متحرک ہونے لگتا ہے جسے وہ کرب اور فخر کے ملے جلے جذبات کے ساتھ صفحہ قرطاس پر منعکس کرتا ہے۔
وہ قوم کی جان تھی جہاں کی
وہ تاج تھی فرق آسماں کی
تھے جس پہ نثار فتح و اقبال
کسریٰ کو بھی کرچکی تھی پامال
گل کردیے تھے چراغ جس نے
قیصر کو دیے تھے داغ جس نے
وہ نیزۂ خون فشاں کہ چل کر
ٹھہرا تھا فرانس کے جگر پر
روما کے دھوئیں اڑا دیے تھے
اٹلی کو کنویں جھکا دیے تھے
پھریہی نہیں کہ فتح و ظفر کے بعد اس قوم نے اور کچھ نہیں کیا، مفتوح علاقوں کی ترقی سے منہ موڑ کر بیٹھ گئی۔ ایسا ہرگز نہ تھا۔ جاں بازیوں اور جہاں داریوں کے ساتھ ساتھ وہ علم وہنر میں بھی ید طولیٰ رکھتی تھی ۔ شبلی کو اس پر بھی احساس تفاخر تھا ۔ لکھتے ہیں ؎
با ایں ہمہ جاہ و شوکت و فر
تعلیم و ہنر بھی تھے مسخر
ہیئت میں بلند پایہ اس کا
تھا فلسفہ زیر سایہ اس کا
منطق میں ہوا جو گرم جولاں
تھامے تھا رکاب مصر و یونان
جو فلسفیان ہندو چیں تھے
خرمن سے اسی کے خوشی چیں تھے
شبلی نے انتہائی جامعیت کے ساتھ ارتقا کے سارے مدارج تمہید کے چند اشعار میں طے کر ڈالے اس کے بعد زوال کی داستان کا آغاز کیا۔ پختہ فن شعرا کا یہی کمال ہے کہ وہ جب چاہیں کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ باتیں کہہ گزرتے ہیں اور موقع و محل کی مناسبت سے ایسے الفاظ و محاورات ، تشبیہات، تلمیحات، اصطلاحات اور استعارات استعمال میں لاتے ہیں کہ کوزے میں دریا بند ہوجاتا ہے۔ ’’دھوئیں اڑانا اور کنویں جھکانا جیسے برمحل محاورے آپ دیکھ چکے ہیں پھر وہ جب چاہتے ہیں اپنے قلم کے زور سے قطرے کو دریا بنادیتے ہیں۔ کسی واقعے کو اس کی تمام ترجزئیات کے ساتھ مفصل بیان کرنا واقعہ نگاری کا بڑا کمال ہے۔ شبلی نے یہ دونوں کام کیے ہیںجہاں اختصار کی ضرورت تھی وہاں اختصار سے کام لیا اور جہاں طوالت مطلوب تھی وہاں منظوم واقعہ نگاری کا حق اس طرح ادا کیاکہ واقعہ نگاری کو مرقع نگاری کے درجہ پر پہنچا دیا۔ اس نظم کی ایک فطری خوبی یہ ہے کہ مسلمانوں کی داستان زوال کو اچانک شروع نہیں کیا بلکہ اولاً عروج کی جھلکیاں دکھائیں پھر زوال کی داستان آغاز کی چنا نچہ اس تضاد سے جو تاثر پیدا کرنا مقصود تھا شبلی اس میں پوری طرح کامیاب ہوئے۔ قاعدہ ہے کہ جب ہم کسی بے کس و محتاج شخص کو دیکھتے ہیں تو انسان ہونے کے ناطے فطرتاً اس سے ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے لیکن اگر اس کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوجائے کہ یہ محتاج کسی وقت صاحب تخت و تاج تھا تو یہ عبرت ناک صورت حال ہلا کر رکھ دے گی۔ مسلمانوں کے حالات و معاملات ایسے ہی عبرت ناک تھے۔ شبلی نے شاندار ماضی یاد دلا کر انھیں احساس کمتری سے نکالنے اور ان میں غیرت و حمیت ، عزم و حوصلہ، خودداری ، خود آگہی اور خود اعتمادی پیداکرنے کی کوشش کی ۔ نظم کی تمہید میں انھوں نے جن الفاظ سے کام لیا ہے ان میں تاج و فرق، فتح و اقبال، قیصر وکسریٰ ، جاہ و حشمت وغیرہ شامل ہیں جو سر بلندی اور اقبال مندی کی علامت ہیں۔ علم و ہنر میںعلم ہیئت ، فلسفہ ، منطق اور مصر و یونان کے فلسفیوں کی جانب اشارہ کر کے یہ بتایا ہے کہ طاقتور ممالک میں فتح و نصرت کے علاوہ ہماری قوم نے ان کے علوم و فنون کو فروغ دینے میں بھی کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ مثنوی میں عروج سے داستان زوال تک لانے کے لیے گریز کافن استعمال کیا۔ گریز قصیدہ کا جز ہے اور اس کی خوبی یہ ہے کہ جس قدر مختصر ہو اتنی ہی بہتر ہے۔ چنانچہ یہاں بھی دو ہی مصرعوں میں قوم کا عروج آمادہ زوال ہوجاتا ہے۔ مثلاً ؎
یہ قوم کہ تاج آسماں تھی
اب کوئی گھڑی کی میہماں تھی
دوسرا مصرع حسرت و یاس کی تصویر بن کر اک آہ کی صورت بے ساختہ ٹپک پڑتا ہے۔ بات آگے بڑھتی تو ماضی پھر سامنے آجاتا ہے ، بار بار یاد آتا ہے اور بار بار تکلیف کی شدت کو ابھار جاتا ہے۔
تھے جان کے پڑ گئے جو لالے
ہر سانس پہ لیتی تھی سنبھالے
جس چشمہ سے اک جہان تھا سیراب
وہ سوکھ کے ہو رہا تھا بے آب
مگر یہ غلطی کس کی ہے۔ کیا ہم نے دوسروں سے شکست کھائی ہے۔ شبلی اس خیال سے متفق نہیں۔ ان کا تاثر یہ ہے کہ ؎
غفلت نے ڈبو دیا تھا ہم کو
تقلید نے کھو دیا تھا ہم کو
مٹنے پہ جو تھا نشاں ہمارا
خواب اور ہوا گراں ہمارا
غفلت کے یہ چل رہے تھے جھونکے
گو صبح ہوئی پہ ہم نے چونکے
کس نیند میں سو گئیں تھیں آنکھیں
بے کار سی ہوگئیں تھیں آنکھیں
یہ ایک درد مند دل رکھنے والے شخص کا قوم کی حالت زار پر بہترین تبصرہ اورتجزیہ ہے۔ پوری نظم پر اگر اسی طرح بات کی گئی تو ایک طویل مضمون بھی ناکافی ہوگا۔ مختصرا یہ کہاجاسکتا ہے کہ دنیا کی ایسی کون سی برائی تھی جو ہمارے اندر نہ ہو اور یہ تمام برائیاں کسی نے ہم پر تھوپی نہیں خود اختیاری ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ’’خود کردہ را علاج نیست‘‘ من حیث القوم ہماری جو سب سے بڑی خامیاں تھیں اور آج بھی ہیں۔ شبلی نے کس دردمندی سے بیان کی ہیں ؎
آپس میں نفاق کا یہ عالم
یہ اس سے خفا وہ اس سے برہم
اللہ رے یہ وفور غفلت
سمجھے تھے رواج کو شریعت
باطل پہ فدا تو حق سے بیزار
تقلید پر کس بلا کا اصرار
دین دار برائے نام تھے ہم
وابستۂ رسم عام تھے ہم
تھے رسم و رواج پر فدا سب
تحقیق سے کچھ غرض نہ مطلب
اقبال بھی اسی کرب میں مبتلا تھے ۔ فرماتے ہیں ؎
آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
شبلی کے مطابق ہمارا یہ احال ہے ؎
سمجھے نہ ذرا کہ وقت کیا ہے؟
کس سمت زمانہ چل رہا ہے؟
اور جو قومیں اس راز سے واقف ہیں وہ بہت آگے نکل چکی ہیں ؎
یاں اور جو قافلے رواں ہیں
سب باد صبا کے ہم عناں ہیں
اب تک ہیں بہ غلفت آمیدہ
محو چمن خزاں رسیدہ
اس کے بعد شبلی نے سرسید کا اتنے خوبصورت انداز میں تعارف کرایا ہے کہ ان کی پوری شخصیت سمٹ کر ان اشعار میں سما گئی ہے۔ لکھتے ہیں:
ماتم تھا یہی کہ آئی ناگاہ
اک سمت سے اک صدائے جاںکاہ
اس شان سے تھی وہ آہ دل گیر
پہلو میں اثر بغل میں تاثیر
دل ہاتھ سے لینے میں بلا تھی
جادو تھی؟ فسوں تھی؟ جانے کیا تھی؟
ڈوبی ہمہ تن جو تھی اثر میں
نشتر سی اتر گئی جگر میں
جس سمت سے آئی تھی وہ آواز
وہ جلوہ نمائے سحر و اعجاز
ٍجنبش جو ہوئی رگ اثر کو
دل تھام کے سب بڑھے ادھر کو
دیکھا تو وہاں بجاہ و تمکیں
آیا نظر اک پیر دیریں
صورت سے عیاں جلال شاہی
چہرے پہ فروغ صبح گاہی
وہ ریش دراز کی سپیدی
چھٹکی ہوئی چاندنی سحر کی
پیری سے کمر میں اک ذرا خم
توقیر کی صورت مجسم
وہ ملک پہ جان دینے والا
وہ قوم کی نائو کھینے والا
اٹھتے ہوئے جوش سے برقّت
ہے مرثیہ خوان قوم و ملت
نالاں ہیں کہ اب سے بھی تو جاگو
اے خواب گراں کے سونے والو
آخر کب تک یہ خواب غفلت
الٹو تو ذرا نقاب غفلت
تا چند رہو گے مست سرشار
اٹھو کہ سحر ہوئی نمودار
سوچو تو ذرا کہ حال کیا ہے
کس خواب میں ہو؟ خیال کیا ہے
پرخلوص شاعر کی اس مؤثر نظم کا اختتام فارسی کے اس شعر پر ہوتا ہے ؎
سرگذشت عہد گل را ہم ز شبلی می شنو
عندلیب آشفتہ تر گفت است ایں افسانہ را
نظم کیا ہے تاثیر کا طلسم ہے مصرعے کیا ہیں جگر کے ٹکرے ہیں جو دہن قلم سے ٹپکے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ شبلی اگر سنجید گی سے فن شعر کی جانب توجہ کی ہوتی تو ہم عصروں سے آگے ہوتے۔
شبلی نے مثنوی کے علاوہ قصائد، مسدس، قطعات اور نظمیں بھی لکھی ہیں۔ مگرا ن کی شاعری کا سب سے بڑا موضوع قوم و ملت اور قومی اور ملکی سیاست ہے ایک آدھ مرثیہ اور دو چار تہنیتی نظمیں بھی ہیں اور لاجواب ہیں تاہم ان کی قومی نظموں اور برادر عزیز کے مرثیۂ اسحاق میں جو جگر کاوی اور جاں سوزی ہے۔ وہ کہیں اور نظر نہیں آتی ’’تماشائے عبرت‘‘ شبلی کا ایک قومی مسدس ہے ۔ جسے انھوںنے سرسید کے قومی تھیٹر علی گڑھ میں اپنے پردرد اور پر سوز لہجے میں خود پڑھ کر سنایا تھا جیسا کہ وہ اکثر سنایا کرتے تھے۔ شبلی کے لیے ایک سہولت یہ تھی کہ انھیں قومی معاملات میں درد و سوز پیدا کرنے کے لیے کسی کو کوشش کی ضرورت نہ تھی یہ چیز انکے رگ و پے میں سمائی ہوئی تھی۔ چنانچہ اس کا یہ اثر ہوتا کہ بات دل سے نکلتی اور دل میں اترتی چلی جاتی ۔ علی گڑھ میں ’’تماشائے عبرت‘‘کے دوران بھی یہی ہوا کہ سننے والے اپنا سردھنتے تھے۔ یہ وہ تھیٹر ہے جس میں سرسید اور ان کے ہم نوائوں نے سوانگ بھرے اور لباس اور حلیہ بدل کر تقریریں کیں اور اسی میں شبلی نے اپنی نظم سنائی ۔ اس نظم میں ایک بند کے چار مصرعے پڑھنے کے بعد اقبال کے شکوے کا ایک شعر یاد آگیا اور معاً خیال آیا کہ قومی معاملات میں ان اسلاف کے سوچنے سمجھنے اور لکھنے کے ڈھنگ میں بھی کس قدر یکسانیت پائی جاتی تھی یہ بزرگ شعوری اور غیرشعوری طور پر ایک دوسرے سے کس قدر قریب تھے۔ مثلاً شبلی کے ایک بند میں چار مصرعوں کے بعد میں نے اقبال کے دو مصرعوں کا پیوند لگایا ہے۔ دیکھیے کیا چسپاں ہوا ہے ؎
کون تھا جس نے کیا فارس و یوناں تاراج
کس کی آمد پہ فدا کردیا جے راج نے راج
کس کو کسریٰ نے دیا تخت و زر و افسر و تاج
کس کے دربار میں تاتار سے آتا تھا خراج
’’کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
منہ کے بل گر کے ھواللہ احد کہتے تھے‘‘
محسن کاکوروی کا نعتیہ قصیدہ اردو شاعری میں کئی لحاظ سے منفرد خیال کیا جاتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہ اپنے موضوع تشبیب اور روانی کے اعتبار سے اردو قصائد کی جان ہے۔ نعتیہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تشبیب میں موسم بہار کا ذکر ہے اور اس کے تمام اشعار حرف لام پر ختم ہوتے ہیں اس لیے یہ قصیدہ اصطلاحاً بہاریہ یا لامیہ بھی ہے۔ عام قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی تخلیق اپنے معیار کی آخری حدوں کو چھو لیتی ہے تو دوسرے لوگ اسے بھاری پتھر سمجھ کر چومتے ہیں اور احترام سے رکھ دیتے ہیں لیکن بعض جیالیے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اس سے پنجہ کشی کی ٹھان لیتے ہیں۔ چنانچہ شبلی نے بھی محسن کی زمین میں قصیدے کہنے کی ٹھان لی اور جسٹس سید محمود فرزند سرسید احمد خاں کی شادی میں تہنیتی قصیدہ نہ صرف اسی زمین میں بلکہ انھیں کے رنگ میں کہہ ڈالا اور حق یہ ہے کہ خوب کہا بعض بعض مصرعے تو ایسے کمال کے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے محسن سے چھوٹ گئے تھے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
پھر ہوا باد بہاری کا جو عالم میں عمل
چھا لیا سبزہ نوخیز نے سب دشت و جبل
سمت قبلہ سے جو اٹھتی ہیں گھٹائیں ہر بار
کہتی ہیں توبۂ زاہد سے کہ اب کہ تو سنبھل
پہلے شعر میں لفظ ’’چھالیا‘‘ خوب بلکہ بہت خوب ہے۔ اس لفظ کا استعمال آسان نہ تھا۔ میر کا شعر ہے ؎
اگر ہنستا ہوا صحن چمن میں اب کے پائوں گا
تو بلبل آشیاں تیرا بھی میں پھولوں سے چھائوں گا
شبلی کے قصیدے میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ دوسرے شعر میں قبلہ کی رعایت سے زاہد اور توبہ کے الفاظ آئے ہیں۔ شبلی نے جگہ جگہ مختلف صنعتوں اور رعایتوں کا استعمال کیا ہے لیکن ان کے موضوعات و مضامین اور فکر و نظر پر زیادہ گفتگو کی جاتی ہے۔ قصیدہ کے چند اشعار دیکھیے ؎
نو عروسان چمن کے ہیں نرالے انداز
کہ صبا گود میں لیتی ہے تو جاتے ہیں مچل
جھومتی چلتی ہے بے خود روشوں پر جو نسیم
غنچے کہتے ہیں چٹک کر کہ سنبھل دیکھ سنبھل
اے صبا باغ میں آنا تو دبے پائوں ذرا
نیند میں سبزۂ خوابیدہ کے آئے نہ خلل
بوئے خوش سے یہ نسیم سحری کہتی ہے
حجرۂ غنچہ میں کیا کرتی ہے آ سیر کو چل
قصیدہ کا موضوع شادی ہے جس میں ایک دلہن بیاہ کر آئی ہے اس صورت حال کو ذہن میں رکھیے پھر تشبیب کے مذکورہ بالا اشعار کو بغور پڑھیے۔ شبلی کی شوخ مزاجی، رومان پروری اور فن شعر پر کامل عبور کا راز آپ پر منکشف ہوجائے گا اور عروس نو ، چمن عروس نو کا نرالا پن ، صبا کی گود، عروس کا مچلنا، نسیم کا جھومنا، بے خود ہونا، غنچہ کا چٹکنا، صبا کا دبے پائوں آنا، سبزۂ خوابیدہ ، نیند میں خلل ، بوئے خوش، نسیم سحری، حجرہ غنچہ، سیر کی دعوت کے استعاراتی راز بھی اپنے تلازمات کے ساتھ آشکار ہوجائیں گے۔ شبلی مضامین تشبیب کو لطیف اور معنی خیز بنانے میں کامیاب ہیں۔ شبلی نے ایک پر لطف قصیدہ سلطان عبدالحمید کی مدح میں لکھا ہے اس کی زمین انشا اللہ خاں انشا کے مشہور قصیدے ؎
بگھیاں پھولوں کی تیار کراے بوئے سخن
کہ ہوا کھانے کو نکلیں گے جوانان چمن
سے مستعار ہے۔ اس قصیدے میں تشبیہات اور استعارات کی بہار دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ چند اشعار کی پر اکتفا کروں گا۔ (یہ بھی پڑھیں خطۂ اعظم گڑھ کی تعلیمی ترقی میں شبلی کا حصہ – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
شعلہ زن پھر چمنستاں میں ہوئی آتش گل
پھر صبا چلتی ہے گلشن میں بچا کر دامن
مسند آرائے تجمل جو ہوا شاہد گل
مرغ گلشن پہ صدا دیتے ہیں الملک لِمَن
کوندتی برق ہے گھنگھور گھٹا چھائی ہے
بوندیاں پڑتی ہیں چلتی ہیں ہوائیں سن سن
آخری مصرعہ میں سَن سَن کی تکرار، وہوا کا انداز ہی نہیں بلکہ اس کی آواز بھی ہے۔ پورا قصیدہ جو صرف ۱۴ اشعار پر مشتمل ہے پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ذوق سلیم اسے بار بار پڑھنے پر اکساتا ہے۔ ایسی غضب کی فن کاری جو سطح پر نظر نہ آے اور جو میر و غالب کاشیوہ ہے مگر غور کیجیے تو تمام اشعار فصاحت وبلاغت سے لبریز ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں جو شاعر ’’موازنہ انیس و دبیر‘‘ میں شبنم و اوس پر اور صحرا و جنگل کی نشست پر نگاہ رکھتا ہو وہ اپنے کلام میں ان باتوں کا لحاظ کیوں نہ رکھے گا۔ انھوں نے رکھا اور پورا لحاظ رکھا ۔ آتش گل کی شعلہ زنی کے خوف سے صبا بھی گلشن میں اپنا دامن بچا کرچل رہی ہے کہ جھلس نہ جائے اور شاہد گل اس غرور اور شان نخوت سے مسند نشیں ہوا ہے کہ گلشن کے پرند بھی گویا احساس مرعوبیت میں اس کی خدائی کا اعلان کرنے لگے ہیں۔ تیسر اشعر تو منظر کشی اور فصاحت کی جان ہے۔ ان اشعار میںرعایت لفظی، لطافت بیان اور نزاکت خیال کے ساتھ ہم مزاج اور ہم آواز لفظوں کے انتخاب نے صوتی ہم آہنگی کی فضا قائم کردی ہے جو بلاغت کی بنیادی شرط ہے۔
شبلی کی مذہبی اور اخلاقی نظمیں بھی انتہائی پر اثر ہیں۔ عموماً اس قبیل کی نظموں میں تاثیر کم ہوتی ہے۔ ان کو پڑھنے میں جی بھی نہیں لگتا ، طبیعت بہت جلداچاٹ ہوجاتی ہے۔ مگر شبلی کے قلم میں قدرت نے وہ تاثیر رکھ دی ہے کہ موضوع کوئی بھی ہو نظم شروع کرنے کے بعد ختم ہونے سے پہلے نہیں چھوڑی جاتی جس طرح نثر میں ان کا طرز تحریر رنگینی و سادگی، متانت و شگفتگی اور لطافت و سنجیدگی کا سنگم ہے۔ یہاں تک کہ تاریخ و تنقید اور تحقیق جیسے خشک موضوعات میں ان کا اسلوب نگارش جذب و کشش کی اپنی فطرتی صلاحیت سے دست بردار نہیں ہوتا۔ اسی طرح نظم کے ہر مضمون میں ان کے طرز ادا کی زیریں لہریں اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ شبلی واقعہ کو اتنی خوبصورتی اور فن کاری سے بنتے ہیں کہ اس کی کڑیاں ایک ددسرے سے جڑتی جلی جاتی ہیں۔ انھیں واقعات کی جزئیات اور واقعے کی مناسبت سے الفاظ کے انتخاب میں کمال حاصل ہے فکر و فن کا یہ اتصال ہی ان کی نظموں کو پڑھے جانے اور متاثر کرنے کے قابل بناتا ہے۔ ہجرت نبویؐ، تعمیر مسجد نبویؐ، ایک خاتون کی آزادنہ گستاخی، اہل بیت رسول ؐ کی زندگی، ایثار کی اعلیٰ ترین نظیر، مساوات اسلام اسی قبیل کی نظم یں ہیں۔ چند اشعار پیش ہیں ۔
ہجرت نبویﷺمیںجبرسولاکرﷺحضرتابوبکرصدیقؓکےہمراہراہکیصعوبیتںبرداشتکرتےہوئےمدینے پہنچتے ہیں تو آپ کا زبردست خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ شبلی لکھتے ہیں ؎
لڑکیاں گانے لگیں جوش میں آکر اشعار
نغمہ ہائے ’’طلع البدر‘‘ سے گونج اٹھے گھر
اس کے بعد:
سب کو تھی فکر کہ دیکھیں یہ شرف کس کو ملے
میہماں ہوتے ہیں کس اوج نشیں کے سرور
اور یہ شعر تو شبلی جیسا بڑا شاعر ہی کہہ سکتا تھا ؎
سینے کہتے تھے کہ فطرت گہِ دل حاضر ہے
آنکھیں کہتی تھیں کہ دو اور بھی تیار ہیںگھر
یہ ہے وہ شاعری کہ اس پر جس قدر ناز کیاجائے کم ہے۔ تعمیر مسجد نبویؐ کے لیے جب آنحضرت ﷺ نے یتیم بچوں سے ان کی زمین خرید لی تو اب تعمیر کی فکر ہوئی۔ تمام انصار و مہاجر مزدور بن گئے مگر صرف انصار و مہاجر ہی مزدور نہیں بنے بلکہ :
اک اور نفس پاک بھی ان سب کا تھا شریک
جو آب و گل کے شغل میں بھی شاد کام تھا
کندھوں پہ اپنے لاد کے لاتا تھا سنگ و خشت
سینہ غبار خاک سے سب گرد فام تھا
سمجھے کچھ آپ؟ کون تھا ان کا شریک حال
یہ خود وجود پاک رسولؐ انام تھا
جو وجہ آفرینش افلاک و عرش تھا
جس کا کہ جبرئیل بھی ادنیٰ غلام تھا
اس مقام پر پہنچ کر اہل ایمان پر رقت طاری ہوجاتی ہے ، آنکھیں فرط عقیدت سے نم ہوجاتی ہیں اور زبان سے درود جاری ہوجاتا ہے۔ صلوا علیہ وآلہ:
’’اہل بیت رسول کی زندگی‘‘ میں سیدہ فاطمہؓ کا ایک واقعہ اس قدر اثرانگیز انداز میں بیان ہوا ہے کہ اس کو پڑھ آنسو نکل پڑتے ہیں۔ اس واقعے میں بنت نبی ﷺایک کنیز کی خواہش کرتی ہیں مگر حضوراکرمﷺ ان سے زیادہ ضرورت مندوں کا حوالہ دیتے ہیں تو وہ خاموش واپس چلی جاتی ہیں۔ اس واقعے کو شبلی نے دلوں کو چھولینے والی سادگی اور خوبی سے بیان کیا ہے۔
ایک اور نظم ’’ایثار کی اعلیٰ ترین نظیر‘‘ میں شبلی انصار کی ایک خاتون کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ جنگ احد کا واقعہ ہے۔ جس میں نعوذ باللہ حضور اکرم ﷺکےتعلق سے ایک افواہ پھیلا دی گئی تھی۔ یہ افواہ سن کر انصار کی ایک خاتون اس قدر پریشان ہوئیں کہ دل برداشتہ ہو کر میدان جنگ کی جانب چل پڑیں۔ وہاں پہنچ کرانھیں یہ اندو ناک خبریں ملیں کہ ان کے والد بھائی اور شوہر سب شہید ہوچکے ہیں مگران خبروں کاان خاتون پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ پھر کیا ہوا شبلی کے اشعار میں سنیے ؎
اس عفیفہ نے یہ سب سن کے کہا تو یہ کہا
یہ تو بتلاؤ کہ کیسے ہیں شہنشاہ امم
سب نے دی اس کو بشارت کہ سلامت ہیں حضور
گرچہ زخمی ہیں سر و سینہ و پہلو و شکم
بڑھ کے اس نے رخ اقدس کو جو دیکھا تو کہا
تو سلامت ہے تو پھر ہیچ ہیں سب رنج و غم
میں بھی اور باپ بھی شوہر بھی برادر بھی فدا
اے شہ دیں ترے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم
شبلی حضرت عمرؓ کے بڑے مداح ہیں انھوں نے حضرت عمرؓ کی سوانح ’’الفاروق‘‘ بھی لکھی ہے اور ان پر کئی نظمیں بھی کہی ہیں۔ حضرت عمرؓ ایسی ہی آن بان اور شان والے خلیفہ تھے۔ ان کے رعب و دبدبے کا اعتراف دشمن بھی کرتے ہیں دوسری طرف عدل و انصاف اور حق و صداقت کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بھی ان کے بے شمار واقعات ہیں۔ کبھی کوئی بد وانھیں بر سر منبر ٹوک دیتا ہے کبھی کوئی ضعیفہ روک دیتی ہیں۔ شبلی نے ان واقعات کو اپنے مخصوص سادہ اور پر اثر انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سادگی میں بڑا ثر ہوتا ہے اور اگر واقعہ سچا اور بیان کنندہ مخلص ہو تو اس کے اثر کا تو پوچھنا ہی کیا ان نظموں کے ساتھ شبلی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
شبلی کی ایک اور نظم ’’عدل جہاں گیری‘‘ ہے۔ یہ ہم نے گیارہویں درجے کی درسی کتاب میں پڑھی تھی ، اس کی روانی اور واقعہ کی تعجب خیزی کی وجہ سے اسی وقت پوری یاد ہوگئی تھی۔ واقعہ یوں ہے کہ ملکہ نور جہاں شاہی محل کے بام پر جلوہ افروز تھی کہ اتفاقاً کوئی راہ گیر ادھر سے گزرتا ہے۔ نورجہاں کو غصہ آجاتا ہے اور وہ طپنچہ سے اس کو ختم کردیتی ہے۔ جہاں گیر کو اس واقعے کی خبر ہوئی تو نور جہاں نے اپنے عمل کی تصدیق کردی مفتی دیں نے قصاص کا فتویٰ صادر فرمادیا۔ نور جہاں گرفتار کرلی گئی مگر مقتول کے ورثا نے خوں بہا لے کر اسے معاف کردیا۔ اس واقعہ میں کسی عشقیہ مثنوی کے قصہ جیسی کشش ہے۔ قصہ چوں کہ کسی رنگین ڈرامے کے المیہ سین جیسا ہے اس لیے اس کی زبان اور اسلوب سادہ و پرکار ہے۔ شبلی نے اس واقعہ کو وہی فطری زبان دی ہے جو اس کا حق تھا۔ شبلی کی یہی خوبی ہے کہ نثرہو یا نظم طرز ادا اور موضوع میں مطابقت اور مماثلت کا پورا خیال رکھتے ہیں اور روانی تو بہرحال ان کا طرۂ امتیاز ہے جو زبان وبیان پر ان کی دسترس کا مظہر ہے۔ اس نظم میں جو ڈرامائی فضا قائم کی گئی ہے اور مکالموں کے جو تیور ہیں ان سب نے مل کر واقعہ کو مرقع بنادیا ہے۔ نظم پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے جیسے سارے کردار ہمارے سامنے ہیں گویا ہم یہ واقعہ پڑھ نہیں رہے بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ نظم اگرچہ قدرے طویل ہے مگر پُر اثر ہے اس کا پڑھنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا اس لیے پوری نظم یہاں نقل کی جاتی ہے ؎
قصرِ شاہی میں ممکن نہیں غیروں کا گزر
ایک دن نور جہاں بام پہ تھی جلوہ فگن
کوئی شامت زدہ رہ گیر ادھر آنکلا
گرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغن
غیرتِ حسن سے بیگم نے طپنچہ مارا
خاک پر ڈھیر تھا اک کشتۂ بے گور و کفن
ساتھ ہی شاہ جہانگیر کو پہنچی جو خبر
غیظ سے آگئی ابروے عدالت پہ شکن
حکم بھیجا کہ کنیزان شبستان شہی
جا کے پوچھ آئیں کہ سچ یا غلط ہے یہ سخن
نخوتِ حسن سے بیگم نے بصد ناز کہا
میری جانب سے کرو عرض بہ آئین حسن
ہاں مجھے واقعۂ قتل سے انکار نہیں
مجھ سے ناموسِ حیا نے یہ کہا تھا کہ بزن
اس کی گستاخ نگاہی نے کیا اس کو ہلاک
کشورِ حسن میں جاری ہے یہی شرعِ کہن
مفتی دیں سے جہانگیر نے فتوی پوچھا
کہ شریعت میں کسی کو نہیں کچھ جائے سخن
مفتی دین نے بے خوف و خطر صاف کہا
شرع کہتی ہے کہ قاتل کہ اڑا دو گردن
لوگ دربار میں اس حکم سے تھرا اٹھّے
پر جہانگیر کے ابرو پہ نہ بل تھا نہ شکن
ترکنوں کو یہ دیا حکم کہ اندر جا کر
پہلے بیگم کو کریں بستۂ زنجیر و رَسَن
پھر اسی طرح اسے کھینچ کے باہر لائیں
اور جلّاد کو دیں حکم کہ ہاں تیغ بزن
یہ وہی نور جہاں ہے کہ حقیقت میں یہی
تھی جہانگیر کے پردے میں شہنشاہِ زمن
اس کی پیشانی نازک پہ جو پڑتی تھی گرہ
جا کے بن جاتی تھی اوراق حکومت پہ شکن
اب نہ وہ نور جہاں ہے نہ وہ اندازِ غرور
نہ وہ غمزے ہیں نہ وہ عربدۂ صبر شکن
اب وہی پائوں ہر اک گام پہ تھرّاتے ہیں
جن کی رفتار سے پامال تھے مرغان چمن
ایک مجرم ہے کہ جس کا کوئی حامی نہ شفیع
ایک بے کس ہے کہ جس کا نہ کوئی گھر نہ وطن
خدمت شاہ میں بیگم نے یہ بھیجا پیغام
خوں بہا بھی تو شریعت میں ہے اک امر حسَن
مفتی شرع سے پھر شاہ نے فتوی پوچھا
بولے جائز ہے رضامند ہوں گر بچّہ وزن
وارثوں کو جو دیے لاکھ درم بیگم نے
سب نے دربار میں کی عرض کہ اے شاہِ زمن
ہم کو مقتول کا لینا نہیں منظور قصاص
قتل کا حکم جو رک جائے تو ہے مستحسن
ہوچکا جب کہ شہنشاہ کو پورا یہ یقیں
کہ نہیں اس میں کوئی شائبہ حیلۂ و فن
اٹھ کے دربار سے آہستہ چلا سوے حرم
تھی جہاں نورجہاں معتکفِ بیتِ حزَن
دفعتہ پاؤں پہ بیگم کے گرا اور یہ کہا
تو اگر کشتہ شدی آہ چہ می کردم من؟
شبلی کی سیاسی نظموں میں ’’شہر آشوب اسلام‘‘ اچھی نظم ہے اسے پڑھنے کے بعد اقبال کا ایک شعریاد آگیا جو اس نظم کا خلاصہ ہے ؎ (یہ بھی پڑھیں شبلی: سرسیّد سے کتنے مختلف؟ – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
غریب و سادہ رنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
’’خیر مقدم ڈاکٹر انصاری‘‘ بھی ایک خوبصورت نظم ہے۔ یہ نظم ہندوستان کے طبی وفد کی جنگ بلقان ترکی سے واپسی پر بطور تہنیت بمبئی میں پڑھی گئی تھی۔ اس نظم کی خوبی یہ ہے کہ اس کا اختتام مایوس کن نہیں ، پر امیداور حوصلہ افزا ہے۔ آخری دو شعر پیش خدمت ہیں ؎
عجب کیا ہے یہ بیڑا غرق ہو کر پھر اچھل آئے
کہ ہم نے انقلاب چرخ گردوں یوں بھی دیکھے ہیں
دعائے کہن سالاں ہے اگر مقبول یزدانی
تو اب دست دعا ہے اور یہ شبلیٔ نعمانی
مسلم لیگ پر شبلی نے کئی نظمیں لکھی ہیں اور تقریباً سب کی سب طنز یہ ہیں۔ شبلی کو مسلم لیگ کی پالیسیوں اور نظریات سے اختلاف تھا وہ اس پارٹی میںخلوص کی کمی اور قول و عمل میں تضاد دیکھتے تھے۔ اس لیے اکبر الہٰ آبادی کے انداز میں انھیں خوب طنز کے تیروں کانشانہ بنایا ہے۔ اس دور پر اکبر کا گہرا اثر تھا۔ شبلی نے ان کے انداز میں کئی قطعات اور کچھ نظمیں کہیں۔ اکبر کے انداز میں اس درجہ بلاغت تھی کہ ان کی راہ پر چلنا ہر ایک کے لیے آسان نہ تھا۔ شبلی نے کامیاب نقل کی ہے۔ چند قطعات دیکھیے مگر ان کا تعلق مسلم لیگ سے نہیں ایک قطعہ کا عنوان ہے ’’افسون حریت‘‘
لاکھ آزادیٔ افکار کو روکا لیکن
یہ وہ افسوں ہے جو ہر شخص پہ چل جاتا ہے
غیر کم بخت تو گستاخ تھے مدت سے مگر
اب تو کچھ آپ کے منہ سے بھی نکل جاتا ہے
ایک قطعہ اور سن لیجیے۔ عنوان ہے ’’رد عمل‘‘۔
اعتدال آنے نہ پایا ہے نہ آئے گا کبھی
آپ کی طرح سے مجھ کو بھی یہی کھٹکا ہے
یہ تو ہونا ہے کہ اچھلے گی اسی زور سے یہ
آپ نے قوم کو جس زور دے پٹکا ہے
شبلی کی مختصر نظموں میں ’’ہم گشتگان معرکۂ کانپور ہیں‘‘ نہایت پر اثر اور مشہور نظم ہے۔ جنگ بلقان کے زمانے میں کانپور کے محلہ مچھلی بازار میں ایک مسجد تھی جس کے وضوخانے کو حکومت وقت نے سڑک نکالنے کے لیے شہید کردیا تھا اس کے رد عمل میں مسلمانوں کو جوش آگیا اور وہ مسجد کی اینٹیں اٹھا کر دیوار بنانے لگے۔ کلکٹر نے حملہ کا حکم دے دیا۔ بہت سے مسلمان جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے شہید ہوگئے۔ اس واقعہ نے سارے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ شبلی کی نظم اسی واقعہ کی یاد تازہ کرتی ہے۔
کل مجھ کو چند لاشۂ بے جاں نظر پڑے
دیکھا قریب جا کے تو زخموں سے چور ہیں
کچھ طفل خورد سال ہیں جو چپ ہیں خود مگر
بچپن یہ کہہ رہا ہے کہ ہم بے قصور ہیں
اور آخری شعر ہے:
پوچھا جو میں نے کون ہو تم آئی یہ صدا
ہم کشگانِ معرکۂ کانپور ہیں
یہ قطعہ نما نظم میر کی زمین میں ہے تاہم ردیف بدلی ہوئی ہے۔ میر کی غزل میں ’’تھا‘‘ ردیف تھی۔ اس کا ایک قطعہ بند بہت مشہور ہے اور اتنا ہی پر اثر بھی ہے اسے یہاں پڑھا جائے تو بے محل نہ ہوگا۔ میرکہتے ہیں ؎
کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسی کا سر پر غرور تھا
میر کی اسی زمین میں شبلی نے ایک اور نظم کہی ہے اور اس میں ردیف بھی تبدیل نہیں کی۔ عنوان ہے ’’خطاب بہ آنریبل سید امیر علی‘‘ یہ ایک طنزیہ نظم ہے جس کا آغاز اس مطلع سے ہوتا ہے:
اغماض چلتے وقت مروت سے دور تھا
اس وقت پاس آپ کا ہونا ضرور تھا
اسی طرح مسلم لیگ پر ایک طنزیہ نظم ہے جس کا عنوان بھی مسلم لیگ ہے۔ اس کا پہلا شعر ہے:
جناب لیگ سے میں نے کہا کہ اے حضرت
کبھی تو جا کے ہمارا بھی ماجرا کہیے
یہ قطعہ غالب کی زمین میں ہے جس کامطلع ہے:
کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
غالب کی اس غزل کا لہجہ بھی طنزیہ ہے جو شبلی کے مطابق تھا اسی لیے انھوں نے نظم کا اختتام غالب ہی کے مصرع پر کیا ہے:
جناب لیگ نے سب کچھ یہ سن کے فرمایا
’’مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے‘‘
یہ پوری نظم اسی مصرعے کے تضمین بن گئی ہے۔ ہر ذہین اور صاحب ذوق قاری کی طرح شبلی بھی غالب سے بہت متاثر ہیں جگہ جگہ ان کی نقل کرتے ہیں اور ان کے اشعار کا شعوری اور غیر شعوری طور پر برمحل استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ایک نظم ’’یونیورسٹی فاؤنڈیشن کمیٹی کا اجلاس لکھنؤ‘‘ کے پانچویں بند کا یہ شعر ؎
یا صبح دم جو دیکھیے آکر تو بزم میں
نے وہ خروش و جوش نہ وہ گیر و دار ہے
غالب کی غزل جس کا مطلع ہے ؎
ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیل سحر، سو خموش ہے
سے ماخوذ ہے ردیف و قافیہ بدل جانے کی وجہ سے مصرع ثانی میں تھوڑی سی تبدیلی آگئی ہے۔ غالب کا شعر یوں ہے ؎
یا صبح دم جو دیکھیے آکر تو بزم میں
نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
ایک اور نظم بعنوان ’’جنگ یورپ اور ہندوستان‘‘ بھی غالب کے ایک شعر کی تضمین ہے۔ نظم ہے:
اک جرمنی نے مجھ سے کہا ازرہ غرور
آساں نہیں ہے فتح تو دشوار بھی نہیں
برطانیہ کی فوج ہے دس لاکھ سے بھی کم
اور اس پہ لطف یہ ہے کہ تیار بھی نہیں
باقی رہا فرانس تو وہ رند لم یزل
آئیں شناس شیوۂ پے کار بھی نہیں
میں نے کہا غلط ہے ترا دعویٔ غرور
دیوانہ تو نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں
ہم لوگ اہل ہند ہیں جرمن سے دس گنے
تجھ کو تمیز اندک و بسیار بھی نہیں
سنتا رہا وہ غور سے میرا کلام اور
پھر وہ کہا جولائق اظہار بھی نہیں
’’اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں‘‘
آخری شعر غالب کا ہے۔ مشہور ہے سب جانتے ہیں البتہ کتاب میں اس پر واوین ہونا چاہیے تھا جو نہیں ہیں۔
آخر میں شبلی کے اس مرثیے کا ذکر ضروری ہے جو انھوں نے اپنے بھائی کی وفات پر لکھا تھا یہ ایک نہایت پر سوز مرثیہ ہے۔ اردو کے شخصی مرثیوں میں اس کا ذکر کم ہوتا ہے حالاں کہ اس کی فکری اور فنی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کلیات شبلی (اردو) مرتبہ سید سلیمان ندوی سے یہاں اس کا پورا متن نقل کیا جارہا ہے مرثیے کے ساتھ مرتب کانوٹ بھی جوں کا توں شامل کرلیا گیا ہے، تاکہ ان کے تاثرات کا بھی اندازہ کیا جاسکے۔
مرثیہ
بربادی خانمان شبلی
’’یہ نوحہ مولانا شبلی مرحوم نے اپنے بھائی مولوی محمد اسحاق صاحب مرحوم بی، اے ، ایل، ایک بی ، وکیل کورٹ الہ آباد کی وفات پر لکھا تھا۔ اس مرثیہ کو پڑھ کر ہر شخص کو مصنف کے درد و غم کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ یہی غم ان کے لیے پیام موت ثابت ہوا، اور اس کے چند مہینوں کے بعد خود انھوں نے بھی وفات پائی۔
وہ برادر کہ مرا یوسفِ کنعانی تھا
وہ کہ مجموعۂ ہر خوبی انسانی تھا
وہ کہ گھر بھر کے لیے رحمت یزدانی تھا
قوتِ دست و دلِ شبلی نعمانی تھا
جوش اسی کا تھا جو میرے سر پُر شور میں تھا
بل اسی کا یہ مرے خامۂ پُرزور میں تھا
ہم سے ناکاروں کی اک قوت عامل تھا وہی
مایۂ عزتِ اجداد کا حامل تھا وہی
مسندِ والدِ مرحوم کے قابل تھا وہی
یوں تو سب اور بھی اعضا ہیں مگر دل تھا وہی
اب وہ مجموعۂ اخلاق کہاں سے لاؤں
ہائے افسوس میں اسحاق کہاں سے لاؤں
جب کیا والدِ مرحوم نے دنیا سے سفر
گھر کا گھر تھا ہدفِ ناوکِ صد گونہ خطر
بن گیا آپ اکیلا وہ ہر آفت میں سپر
تیر جو آے، گیا آپ وہ ان کی زد پر
خود گرفتار رہا تاکہ میں آزاد رہوں
اس نے غم اس لیے کھائے تھے کہ میں شاد رہوں
اس کا صدقہ تھا کہ ہر طرح سے تھا میں بے غم
گھر کے جھگڑوں سے نہ کچھ فکر نہ کچھ رنج و الم
امن و راحت کے جو سامان تھے ہر طرح بہم
میں تھا اور مشغلہ نامہ و قرطاس و قلم
اس کے صدقہ سے تھی میری سخن آرائی بھی
اس کا ممنوں تھا مرا گوشہ تنہائی بھی
تازہ تھا دل پہ مرے مہدی مرحوم کا داغ
کہ مرا قوت بازو تھا مرا چشم و چراغ
اس کو جنت میں جو خالق نے دیا گنجِ فراغ
میں یہ کہتا تھا کہ اب بھی ترو تازہ ہے یہ باغ
یعنی وہ آئینہ خوبی اخلاق تو ہے
اٹھ گیا مہدی مرحوم تو اسحاق تو ہے
آج افسوس کہ وہ نیّر تاباں بھی گیا
میری جمعیّت خاطر کا وہ ساماں بھی گیا
اب وہ شیرازۂ اوراقِ پریشاں بھی گیا
عتبۂ والد مرحوم کا درباں بھی گیا
گلۂ خوبیٔ تقدیر رہا جاتا ہے
تجھ کو اے خاک لحد آج اجل نے سونپی
وہ امانت جو مرے والد مرحوم کی تھی
بس کہ فطرت میں ودیعت تھی نفاست طلبی
ناز پروردۂ نعمت تھا بہ ایں سادہ وَشی
دیکھنا اُڑ کے غبار آئے نہ دامن پہ کہیں
گرد پڑ جائے نہ اُسی عارضِ روشن پہ کہیں
اس کے اخلاق کھٹک جاتے ہیں دل میں ہر بار
وہ شکرریز تبسم، وہ متانت وہ وقار
وہ وفا کیشی احباب وہ مردانہ شعار
وہ دل آویزی خو، وہ نگہِ الفت بار
صحبت رنج بھی اک لطف سے کٹ جاتی تھی
اس کی ابرو پہ شکن آکے پلٹ جاتی تھی
حق نے کی تھی کرم و لطف سے اس کی تخمیر
خوبی خلق و تواضع میں نہ تھا اس کا نظیر
بات جو کہتا تھا ہوتی تھی وہ پتھر کی لکیر
اس کی اک ذات تھی مجموعۂ اوصافِ کثیر
بس کہ خوش طبع تھا وہ صاحب تدبیر بھی تھا
سچ تو یہ ہے کہ وہ نوخیز بھی تھا پیر بھی تھا
اس کو شہرت طلبی سے کبھی کچھ کام نہ تھا
وہ گرفتارِ کمندِ ہوسِ خام نہ تھا
اس کی ہر بات میں اک لطف تھا ابرام نہ تھا
وہ کبھی مدعی رہبری عام نہ تھا
اس کو مطلوب کبھی گرمیٔ بازار نہ تھی
اس کی جو بات تھی کردار تھی گفتار نہ تھی
اس کو معلوم جو تھا وسعتِ تعلیم کا راز
اس نے دیکھے تھے جو منزل کے نشیب اور فراز
اس نے یہ کام نئی طرح کیا تھا آغاز
مگر افسوس کہ تھا راہ میں رخشِ تگ و تاز
کوششوں کے جو نتیجے تھے اسے مل نہ سکے
ہائے وہ پھول کہ پھولے تھے مگر کھل نہ سکے
آہ بھائی ترے مرنے کے تھے یہ بھی کوئی دن
وہ ترا اوجِ شباب اور وہ بچے کمسن
مسندِ حلقۂ احباب ہے سونی تجھ بن
تو ہی تھا اب خلفِ صدر نشینان مُسِن
دن جب آئے کہ تجھے رہبرِ جمہور کہوں
چرخ اب مجھ سے یہ کہتا ہے کہ مغفور کہوں
یہ بھی اے جانِ برادر کوئی جانے کا ہے طور
اپنے بچوں کی نہ کچھ فکر نہ تدبیر نہ غور
ابھی آنے بھی نہ پایا تھا ترے اوج کا دور
کیا ہوا تجھ کو تو ہوگیا کچھ اور سے اور
چھوڑ کر بچوں کو بے صبر و سکوں جاتا ہے
کوئی جاتا ہے جو دنیا سے تو یوں جاتا ہے
آہ اے مرگ کسی شے کی نہیں تجھ کو تمیز
تیری نظروں میں برابر ہے گہر اور پشیز
میں نے مانا ترے نزدیک نہ تھا وہ کوئی چیز
رحم کرنا تھا کہ چھوڑے ہیں کئی اس نے عزیز
لاڈلے ہیں کہ کسی اور کے بس کے بھی نہیں
اس کے بچے ابھی سات آٹھ برس کے بھی نہیں
اے خدا شبلی دل خستہ بایں موے سفید
لے کے آیا ہے تری درگہِ عالی میں امید
مرنے والوں کو نجاتِ ابدی کی ہو نوید
خوش و خرم رہے چھوٹا یہ مرا بھائی جنید
لکھوں قصہ غم تاب رقم بھی تو نہیں
اب مرے خامۂ پرزور میں دم بھی تو نہیں
اس مرثیے کے علاوہ شبلی کے ان قطعات کی بھی بڑی اہمیت ہے جن میں سیرۃ النبی ﷺ کی تصنیف وتالیف اور اس تعلق سے نواب سلطان جہاں بیگم والئیرایاستبھوپال کی اعانت خاص کا ذکر ہے۔ شبلی نے ان قطعات میں خدا کا شکر اور نواب سلطان جہاں بیگم کا شکریہ اس خوبی سے ادا کیا ہے کہ اس میں احسان شناسی اور اظہار تشکر کے جملہ جذبات و احساسات جمع ہوگئے ہیں۔ شبلی کے یہ قطعات بھی ان کے مشہور و مقبول کلام میں شامل ہیں۔
سیرۃالنبی
(۱)
عجم کی مدح(۳) کی عباسیوں(۴) کی داستاں لکھی
مجھے چندے مقیمِ آستانِ غیر ہونا تھا
مگر اب لکھ رہا ہوں سیرۃِ پیغمبر خاتم
خدا کا شکر ہے یوں خاتمہ بالخیر ہونا تھا
(۲)
فرشتوں میں یہ چرچا ہے کہ حالِ سرور عالمؐ
دبیرِ چرخ لکھتا یا کہ خود روح الامیں لکھتے
صدا یہ بارگاہِ عالمِ قدوس سے آئی
کہ یہ ہے اور ہی کچھ چیز لکھتے تو ہمیں لکھتے
سیرۃ النبیؐ
اور
ہز ہائینس سرکار بھوپال
مصارف کی طرف سے مطمئن ہوں میں بہر صورت
کہ ابرِ فیض سلطان جہاں بیگم زر افشاں ہے
رہی تالیف و تنقید روایت ہائے تاریخی
تو اس کے واسطے حاضر مرا دل ہے مری جاں ہے
غرض دو ہاتھ ہیں اس کام کے انجام میں شامل
کہ جن میں اک فقیر بے نوا ہے ایک سلطاں ہے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

