اکیسویں صدی کی خواتین فکشن نگاروں میں ڈاکٹر صادقہ نواب سحر کا نام محتاج تعارف نہیں۔ وہ شاعری کے ساتھ فکشن کے کئی اصناف مثلاً ناول، ڈرامے اور افسانوں میں اپنی صلاحیت کا لوہا منواچکی ہیں۔ صادقہ نواب سحر اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں طور پر مہارت رکھتی ہیں۔ ان کے دو افسانوی مجموعے ’’خلش بے نام سی‘‘ (2013) اور ’’پیج ندی کا مچھیرا ‘‘(2018) منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کے افسانوں میں زندگی کی حقیقی جھلک نظر آتی ہے۔ جس میں مسائل نسواں کو بطور خاص موضوع بنایا گیا ہے۔ چونکہ موصوفہ خود تعلیم یافتہ خاتون ہیں، وہ عورتوں کے جذبات و احساسات کو بخوبی سمجھتی ہیں اور اپنے مشاہدات و تجربات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ افسانوں کے قالب یں ڈھال دیتی ہیں۔ تاہم ان کے افسانوں میں انسانیت کا درس بھی ملتا ہے۔ چونکہ سماج میں اچھائیاں اور برائیاں مشترکہ طور پر اپنی اہمیت کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ ایسے میں ایک حِساس قلم کار جب اپنے سماج سے اپنی تخلیقات کا تانا بانا تیار کرتا ہے تو وہ اس کے مختلف پہلوؤں کو بیان کردیتا ہے۔ ڈاکٹر صادقہ نواب سحر ایسی ہی حِساس قلمکار ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں سماج کے مختلف مسائل کو بڑی بے باکی سے پیش کیا ہے۔
صادقہ نواب سحر کا پہلا افسانوی مجموعی ’’خلش بے نام سی‘‘ میں کل سولہ (16) افسانے (شریاں والی، میٹر گرتا ہے! ، شرراہ، خلش بے نام سی، سلگتی راکھ، اُدھرا ہوا فراک، منّت، ٹی شرٹ، نوٹس، چاہے ان چاہے، ہزاروں خواہشیں ایسی، خدا کی دنیا بہت وسیع ہے، پہلی بیوی، ایس ایم ایس، ابارشن، باڈی: ایک مزدور کی موت) شامل ہیں۔ افسانے کے عنوانات سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ موصوفہ کی عصری مسائل پر گہری نظر ہے۔ اس افسانوی مجموعہ کو اس قدر مقبولیت ملی کہ 2013 میں شائع ہونے کے بعد اس کا دوسرا ایڈیشن دو سال کے بعد ہی یعنی 2015 میں منظر عام پر آگیا۔
ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’پیج ندی کا مچھیراُ‘‘ (2018) میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس سے شائع ہوا۔ اس افسانوی مجموعہ میں کل تیرہ (13) افسانے بعنوان (سہمے کیوں ہو انکُش! ، وہیل چیئر پر بیٹھا شخص، راکھ سے بنی انگلیاں، ٹمٹماتے ہوئے دیے، شیشے کا دروازہ، پہاڑوں کے بادل، دیوار گیر پینٹنگ، اکنامکس، پیج ندی کا مچھیرا، الّو کا پٹھا، ہوٹل کے کاؤنٹر پر اور ٹوٹی شاخ کا پتہ) شامل ہیں۔
صادقہ نواب سحر کے افسانوں میں موضوعات کا تنوع ہے۔ ان کے افسانوں کے کردار خیالی دنیا کے نہیں بلکہ گوشت پوست کے زندہ انسان ہیں جن سے شب و روز ہمارا واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ وہ اپنے افسانوں کا تانا بانا اپنے اردو گرد کے ماحول سے تیار کرتی ہیں۔
ایک عورت اپنی پوری زندگی کسی نہ کسی مرد کی ماتحتی میں گزار دیتی ہے۔ کبھی وہ والد، بھائی، شوہر اور پھر بیٹے کی شکل میں مرد پر مشتمل نظام کی پروردہ بنی رہتی ہے۔ اس سے ہمیشہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ شرم و حیا اور وفا کی دیوی بنی رہے۔ ان سارے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے وہ عورت اپنی کتنی خواہشات اور آرزوؤں کو اندر ہی اندر دبا کر ختم کردیتی ہے جس کا اندازہ شاید اسے بھی نہیں ہوتا۔ وہ مختلف احساسات و جذبات میں گھری رہتی ہے۔ صادقہ نواب سحر کے افسانوں میں عورتوں کے ان احساسات و جذبات کی مختلف پرتیں کھلتی نظر آتی ہیں۔ افسانہ ’’ہزاروں خواہشیں ایسی…‘‘ میں بھی ایسی ہی عورت کے نفسیاتی پہلوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس افسانہ میں ’’شمع‘‘ کا کردار ہمیں صنف نازک کی مظلومیت کا احساس دلاتی ہے، جہاں اپنی تمام تر خواہشات کو دل میں دباکر ایک لڑکی کبھی بھی اپنے والدین کے دباؤ میں آکر کسی بھی شخص کے پلے بندھنے کیلئے مجبور کی جاتی ہے ۔یعنی شادی جیسے اہم فیصلے میں بھی اس کا کوئی عمل دخل ہیں۔ شمع کی ماں اس کی شادی ایک بدصورت شخص سے صرف اس لئے کروانا چاہتی ہے کہ وہ امیر ہے۔ اس لڑکے کے کلب اور پارٹیوں میں جانے کے شوق کو ماڈرن سماج کا نام دیتی ہے۔ وہیں جب اپنی بیٹی کی بات آتی ہے تو اس کے خیالات روایتی اور دقیانوسی نظر آتے ہیں۔ جہاں عورت کا فرض صرف شوہر کی خدمت ہے ۔ اس دوہرے معیار کو ظاہر کرتا افسانہ کا اقتباس دیکھے:
’’زید بڑا شوقین لڑکا ہے۔ کلبوں پارٹیوں میں جانے کا بھی شوق ہو تو عجب نہیں۔ آج کل دنیا ایسے ہی لوگوں کو ماڈرن کہتی ہے۔ شادی کے بعد اس کا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرنا۔ خدمت اور محبت سے ہی دل جیتا جاسکتا ہے۔ اس کے کپڑے ہمیشہ تیار رہیں۔ چیزیں سلیقے سے اپنی جگہ پر رہیں۔ جوتے ہمیشہ ایک روز پہلے پالش کرکے رکھ دیا کرو۔ ‘‘…
’’ اور ہاں شادی کے بعد شوہر ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اس کی بات پر اپنا سب کچھ قربان کرنا۔ کوئی شکایت نہ سنوں وہ جیسا کہے ویسا ہی کرنا، ناچنے کہے ناچنا، گانے کہے گانا۔‘‘
(’’ہزاروںخواہشیں ایسی۔۔۔‘‘ص:90-91)
گو کہ ہم آج ترقی یافتہ ماحول میں جیتے ہیں۔ اکیسویں صدی سائنس اور ٹکنالوجی کی صدی ہے۔ تاہم درج بالا دقیانوسی خیالات آج بھی ہمارے سماج میں رائج ہے ۔جس سے گمان ہوتا ہے کہ عورت کوئی انسان نہیں بلکہ ایک روبوٹ ہے۔ جسے جیسے چاہے نچایا جاسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں صادقہ نواب سحر کی افسانہ نگاری : ایک مطالعہ- اُنزِلا فاروقی )
موجودہ وقت میں ہم جتنا بھی دعویٰ کرلیں کہ خواتین کو ان کا جائز مقام مل چکاہے۔مگر کہیں نہ کہیں یہ دعوے کھوکھلے نظر آتے ہیں۔عورت کی ایک بڑی جماعت گھر ،آفس،کالج یہاں تک کے راہ چلتے استحصال کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔وہ اپنے گھر کو سنبھالے رکھنے کے لئے شوہر کے مار کو بھی برداشت کرتی ہے۔لیکن جہاں عورت میں لکشمی اور فاطمہ کی سی خصوصیات پنہاں ہوتی ہے،وہیں وہ درگا اورلکشمی بائی کی اوتار بھی ہے۔جب اس کے انا کو ٹھیس پہنچتی ہے تو وہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔صادقہ نواب سحر نے عورت کے ان تمام روپ کو بڑی بے باکی سے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔افسانہ ’’وہیل چیر پر بیٹھاشخص‘‘ میں کم عمر غریب لڑکیوں کا عمردرازعرب شیخ سے شادی اور ان کے ذریعہ ظلم وتشدد کاشکار ہونے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اقرائ نوجوان خوبصورت لڑکی ہے ۔جس کی شادی عربی شیخ سے کردی جاتی ہے۔وہ اسے مارتا پیٹتا ،گھر میں قید رکھتاہے۔اقرائ کئی بار گھر سے فرار ہوتی ہے،مگر پھر اپنے شوہر کی باتوں میں آکر اس کے پاس واپس بھی آجاتی ہے۔آخر میں وہ اس کے چنگل سے آزاد ہوکر اپنی قسمت خود لکھتی ہے۔اس کی زندگی میں کافی بدلاؤ آجاتا ہے۔وہ ایک کامیاب ایر ہوسٹیج بن جاتی ہے۔ اقرا نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ اگر عزم مضبوط ہو تو کوئی بھی منزل ناممکن نہیں۔اقرا کے حوصلوں کی اڑان کو ظاہر کرتا افسانہ کا ایک اقتباس دیکھے:
’’بس ہمت کرکے اپنے گھر کے دروازے سے ایک د ن بھاگ نکلی تھی۔میرا شوہر اس وقت باتھ روم میں تھا۔نکلا ،دیکھا،پیچھا کیا مگر میں امیّ کے گھر نہیںگئی،سہیلی کے گھر چلی گئی تھی۔امّی پر کتنے دن بوجھ رہتی ۔بھائی مجھے ہرگز کام کرنے نہیں دیتے ۔اخبار میںواک ان انٹرویو دیکھااور اب یہاں ہوں۔‘‘
(’’ویل چیر پر بیٹھا شخص‘‘مجموعہ’’پیج ندی کا مچھیرا‘‘،ص:30)
اس افسانہ میں موصوفہ نے اقرا کے ذریعہ سماج کی ایک تلخ حقیقت کو پیش کیا ہے کہ ایک عورت شادی کے بعد بھی کتنے مسائل سے دوچار ہوتی ہے۔تاہم اگر وہ حوصلے سے کام لے تو ہر مشکل کا حل نکا ل سکتی ہے۔ہمارے ملک میں عورت کو جہاں دیوی کی طور پر پوجا جاتا ہے ،وہیں اس کا استحصال بھی عام بات ہے۔صادقہ نواب سحراس حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں۔ان کے زیادہ تر افسانے حقیقت پر مبنی ہے ۔جن میں ہندوستان کی سماجی ومعاشی ثقافت کو بروئے کار لایا گیا ہے۔صادقہ نواب سحر کے افسانوں کے متعلق مشہور شاعر وادیب عبدالرحیم نشتررقمطراز ہیںکہ:
’’ان کی کہانیوں میں ہندوستان کی روح تڑپتی ہوئی دیکھی جاسکتی ہے اور اسی میں ان کا خلوص ،وارفتگی،اظہارکی بے ساختگی اور حقیقت نگاری کا راز پنہاں ہے۔‘‘
(بحوالہ’’صادقہ نواب سحر:شخصیت اور فن‘‘مرتبین،پروفیسر میر تراب علی یدالٰہی /محمد اسلم،ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی،2017،ص:616)
صادقہ نواب سحر کے زیادہ تر افسانوں میں عورت کی نفسیات، جذبات و احساسات، دکھ دردد اور اس کے مختلف لوازماتِ زندگی کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ہم بنت حوّاکی زندگی کے جامع نقوش ان میں دیکھ سکتے ہیں۔ نسوانی مسائل کی عکاسی کرتے افسانوں میں ’’ابارمشن، شر راہ، شریاں والی، خدا کی دنیا بہت وسیع ہے، خلش بے نام سی، وہیل چیئر پر بیٹھا شخص ، دیوار گیر پینٹنگ، اور ٹوٹی شاخ کا پتہ‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان افسانوں میں عورتوں کے مختلف روپ کو پیش کیا گیا ہے۔ جہاں وہ مظلوم ہے تو باحوصلہ بھی، وہ اپنے حق کیلئے آواز اٹھانا بھی جانتی ہے، ان میں تانیث کا پہلوؤں بھی ہے جو اپنے وجود کیلئے سماج سے ٹکڑانے کا حوصلہ رکھتی ہیں، وہیں اس کے اندر حسد کا مادہ بھی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں کہانی کوئی سناؤ، متاشا :صادقہ نواب سحر کا ایک مونولاگ ناول – ڈاکٹر سلمان فیصل )
افسانہ ’’منّت‘‘ میں مکتا کا کردار تانیثی پہلو لئے ہوئے ہے۔ وہ ببن کے پیار کو اپنے دل میں دبائے رکھتی ہے۔ وہ اپنے جذبات کو خاموشی کا لبادہ اوڑھا دیتی ہے۔ ببن سے جدائی اور تمام زندگی بغیر شادی کے گزار دینے کے کرب کو وہ کبھی آشکارا نہیں ہے۔ مگر جب اسے پتہ چلتا ہے کہ ببن پچیس سال بعد امریکہ سے اپنی بیوی کے ساتھ واپس آرہا ہے تو وہ خاموشی سے اس دنیا کو الوداع کہہ دیتی ہے۔
عورت کو ممتا کی مورت کہا جاتا ہے کیونکہ نفسیاتی طور پر عورت کے اندر محبت و ہمدردی کا جذبہ پنہاں رہتا ہے۔ وہ گاہے بگاہے اپنے ان جذبات کا اظہار کرتی رہتی ہے۔ خواہ وہ کسی رشتے سے بیزار بھی ہو مگر جب اسے ان رشتوں کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے تو وہ اپنی محبت کو اس پر نچھاور کردیتی ہے۔ دنیا میں اس طرح محبت کا نازک رشتہ میاں اور بیوی کا ہے۔ افسانہ ’’شرراہ‘‘ کی رعنا کا جاوید کیلئے اور ’’شریاں والی‘‘ میں رقیہ کا اپنے پہلے شوہر کیلئے محبت، عورت کے احساس و جذبات کی انفرادی پہلو کو عیاں کرتی ہے۔صادقہ نواب سحر نے نسوانی جذبات کو جس خوبصورتی سے پیش کیا ہے وہ انہیں کا خاصا ہے۔یوں بھی عورت کے احساس و جذبات کی ترجمانی مرد کے مقابلے ایک خاتون قلم کار بہتر ڈھنگ سے کر پاتی ہے۔ اس سلسلے میں حسن ضیا لکھتے ہیں:
’’خواتین کی تخلیقات کو خواتین کے مخصوص جذبات،احساسات اور تاثرات کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا اور یہ محسوس کیا گیا کہ عورت کے جذبات کی عکاسی کا حق عورت بہتر طور پر ادا کر سکتی ہے ‘‘
(اداریہ تانیثی ادب ،حسن ضیائ،ماہنامہ آجکل ،مارچ2014,نئی دہلی)
صادقہ نواب سحر عورت کی ذہنی کیفیات اس کے پوشیدہ جزبات کو بڑی کامیابی کے ساتھ اپنے افسانوں میں پیش کردیتی ہیں۔ چونکہ ایک خاتون دوسری خاتون کے جذبات کو اس کے ذہنی کیفیات کو بہتر طریقے سے سمجھ پاتی ہے۔ لہٰذا صادقہ نواب سحر کے افسانوں میں ہمیں عورت اپنے مسائل، خوشی، غم، نفرت، محبت غرض پوری طرح سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔
عورت میںحسد کا مادہ بھی پوشیدہ طور پر موجود ہوتا ہے، جس سے اس میں رقابت کا جذبہ پروان چڑھ جاتا ہے۔ ایک عورت دوسرے کو خود سے بہتر سے دیکھ کر برداشت نہیں کرسکتی یا اگر اسے دوسرے کے مقابلے کم توجہ ملیں تو اس کے انا کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ پھر یہ نفسیاتی کیفیت رقابت کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ دو دوستوں میں ، ساس بہو، نند بھابی، سو تن وغیرہ میں یہ انا کی جنگ زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ افسانہ ’’خلش بے نام سی‘‘ اور ’’خدا کی دنیا بہت وسیع ہے‘‘ میں ان ہی کیفیات کا ذکر ملتا ہے۔ افسانہ ’’خلش بے نام سی‘‘ میں روبی اور صبیحہ اچھی سہیلی تھی مگر روبی صبیحہ سے صرف اس لئے خلش رکھ لیتی ہے کیونکہ اس کے بھائی کا جھکاؤ صبیحہ کی طرف ہوگیا۔ وہ اپنے بھائی کی محبت کا بٹوارہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی، جس نے اس کے دل میں حسد کی آگ بھڑکا دی۔ افسانہ ’’خلش بے نام سی‘‘ کا یہ اقتباس دیکھے:
’’آؤ روبی!‘‘ صبیحہ نے اس کا بازو تھاما تو اس نے اسے بے تحاشہ جھڑک دیا۔ اس کی نظریں صاف کہہ رہی تھی ، میرے چہیتے بھائی کی محبت مجھ سے چھین لینے والی ڈائن تو ہی تو ہے۔‘‘
(’’خلش بے نام سی‘‘ ، ص: 38)
عورت سماج کی ایک اہم رکن ہے۔ مگر وہ گھر سے لیکر باہر تک مشکلات سے دو چار ہوتی رہتی ہے۔ اس کے مسائل پر قلم تو اٹھایا جاتا ہے مگر اس کا حل آج تک نہیں نکلا۔ عورت کے مسائل کے متعلق صالحہ صدیقی لکھتی ہیں :
’’عورت ایک ایسا موضوع ہے جو حد درجہ اہمیت کا حامل ہے۔ عورت کو ہمیشہ محرومی کا شکار ہونا پڑا۔ گھر کی چہار دیواری سے لے کر باہر کی کھلی فضا تک عورت مشکلات سے دو چار ہوتی رہی ہے۔ گھر اور سماج کا ایک اہم رکن ہوتے ہوئے بھی عورت کو مظلومی، محکومی، ظلم و تشدد کا شکار ہوکر ساری زندگی مصائب میں ہی گزارنی پڑی یہ صرف ایک ملک یا کسی ایک خطے کی بات نہیں ہے، بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ پوری دنیا میں عورت کو اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس کی مصیبتوں کی بھی ایک طویل داستان رہی ہے، جس پر آوازیں تو بہت اٹھیں لیکن آج تک کوئی ایسا حل نہیں نکلا کہ جس سے عورت کے صدیوں پرانے زخم پر مرہم لگ سکے۔‘‘
(بحوالہ ’’اردو ادب میں تانیثت کی مختلف جہتیں‘‘ ، از صالحہ صدیقی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، ص:107)
صادقہ نواب سحر نے اپنے افسانوں میںعورتوں کے درج بالا مسائل پر نہ صرف قلم اٹھایا ہے بلکہ ان سماجی برائیوں کی نشاند ہی کرکے اصلاح کا کام بھی کیا ہے۔تاکہ ان مسائل کو دور کرکے عورت کے زخموں پر مرہم لگا یا جاسکے۔
صادقہ نواب سحر کے افسانوں میں نسوانی مسائل کے علاوہ سماجی، اقتصادی، سیاسی اور جنسی مسائل کا عکس بھی نظر آتا ہے۔ انہوں نے زندگی کو صرف ایک زاویہ سے نہیں دیکھا۔ زندگی میں رونما ہونے والاہر چھوٹا بڑا واقعہ انہیں متاثر کرتا ہے۔ وہ ایک پروفیسر ہونے کے ساتھ دانشور، شاعرہ اور ادیبہ بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مشاہدے میں گہرائی و گیرائی ہے۔ وہ سماج میں رونما ہونے والے تمام واقعات پر گہری نظر رکھتی ہیں، اور ان تمام واقعات کو افسانہ کے قالب میں ڈھال کر صفحۂ قرطاس پر اتارنے کا ہنر بھی خوب جانتی ہیں۔
صادقہ نواب سحر کے افسانوں میں عورتوں اور لڑکیوں کے نفیسات کے علاوہ بچوں کے نفسیات کا بر محل اظہار ہمیں ان کی وسعت مشاہدہ کا پتہ دیتی ہے۔ بچے اتنے معصوم ہوتے ہیں کہ ان کو فرشتے سے مشابہ کیا جاتا ہے۔ مگر جب ان بچوں کے معصوم ذہن پر کوئی دھچکا لگتا ہے تو اس کا منفی اثر اس کی شخصیت پر ہوتا ہے۔ موجودہ وقت میں بچوں کا استحصال ہمارے سماج کا سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ بچوں کا اسکول میں ، باہر یا گھر کے کسی فرد کے ہاتھوں abuse ہونے کی خبریں آئے دن سرخیاں بنتی رہتی ہیں۔ یہ استحصال زدہ بچے تا عمر ذہنی طور پر ہراساں رہتے ہیں۔ صادقہ نواب سحر نے بچے کی اسی نفسیاتی کشمکش کو افسانہ ’’سہمے کیوں ہو انکُش‘‘ میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ افسانہ میں انکُش کی شرارتوں پر انکُش لگانے کا کام اور ٹیچر کے ذریعہ دو بچوں کے درمیان کے جھگڑے کو آسانی سے سلجھانے کے عمل کو پیش کیا گیا ہے۔ مگر انکُش کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا جاتا ہے وہ اس کے ذہن پر چوٹ پہنچا دیتا ہے۔ وہ چاہ کر بھی اس زیادتی کو بھول نہیں پاتا۔ ایسے بچے ڈپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔ صادقہ نواب سحر نے انکُش کے نفسیابی الجھن کو کس سادگی سے پیش کیا ہے دیکھے:
’’… بہت بڑا غلط کام ہوا ہے نا تجھ سے !‘‘ ممی نے آنکھیں پھاڑیں
’’ہاں بہت غلط کام ہوا مجھ سے … مگر ممی انہوں نے مجھے ننگا کرکے کیوں مارا؟‘‘ انکُش نے اپنا چہرہ دوبارہ ماں کے آنچل میں چھپا لیا ۔
’’وہ تو تمہاری ڈرائنگ پر چاک پھینک رہے تھے نا! … تمہیں تو چھوا بھی نہیں نا بیٹا!‘‘
’’نائیں ممی انہوں نے مجھے مارا … انہوں نے مجھے بہت مارا…‘‘
مسز پائل نے محسوس کیا، وہ سر سے پاؤں تک لرز رہا تھا۔
(’’سہمے کیوں ہو انکُش ‘‘، مجموعہ’’ پیچ ندی کا مچھیرا ‘ـ‘،ص:19)
گو کہ انکُش کے ننگے ڈرائنگ پر چاک پھینکا گیا مگر اس نے خود کے وجود کو ہی ننگا محسوس کرلیا۔ وہ اس کرب کو اپنے ذہن سے نکال نہیں پا رہا تھا۔
بچوں کے نفسیات اور اس کے بالیدہ ذہن کو پیش کرتا افسانہ ’’ہزاروں خواہشیں ایسی‘‘ بھی اہم ہے۔ اس میں چھوٹی سی منی شمع کو اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے کا حوصلہ دیتی ہے۔ حقیقت ہے کہ آج کے بچے ذہنی طور پر کافی حِساس ہوگئے ہیں۔ وہ اپنے آس پاس کے حالات کو جلدی جذب کرلیتے ہیں۔ صادقہ نواب سحر استانی ہونے کے ساتھ ایک ماں بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ بچوں کے نفسیات کو اس خوبصورت سے پیش کرجاتی ہیں۔ بچوں کے نفسیات کے علاوہ ان کے مختلف النوع موضوعات کے افسانوں میں نفسیاتی کشمکش کی جھلک صاف طور پر دکھائی دیتی ہے ۔ اس قبیل کے افسانوں میں ’’سہمے کیوں ہو انکُش ،ہزاروں خواہشیں ایسی ، منت ، راکھ سے بنی انگلیاں، شیشے کا دروازہ، پیچ ندی کا مچھیرا ، ٹوٹی شاخ کا پتہ اور بوڑھی پڑوسن کا موبائل‘‘ اہم ہیں۔
صادقہ نواب سحر مغربی نظریات کی غلام نہیں ۔ان کے افسانوں میں خالص مشرقی موضوعات کی کارفرمائی ہیں۔ ان کے افسانوں میں ہندستانی معاشرہ سانس لیتا نظر آتا ہے۔ وہ اپنے افسانوں میںنہ فلسفہ بگھارتی ہیں، نہ ہی علامت اور استعاروں کی بھول بھلیوں میں قاری کو الجھاتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں جذبات و احساسات کی شدت ہے۔ ہمارے سماج میں رشوت خوری عام ہوتی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ ادب کے معزز شعبے میں بھی اس کی گرفت مضبوط ہورہی ہے۔ صادقہ نواب سحر نے افسانہ ’’تحفوں کی تھیلی‘‘ میں اس عیب کو نشانہ بنایا ہے۔ ملیحہ راوی کو تحفوں کی تھیلی اس لئے دیتی ہے تاکہ نیشنل کمیٹی اس کی کتابیں خرید لے۔ دوسری طرف اس افسانہ میں پرائیوٹ اسپتال کی لوٹ کھسوٹ کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ کیسے یہ پرائیوٹ اسپتال بل بڑھانے کیلئے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ وہیں سرکاری اسپتال میں یہ دھاندلی نہ کے برابر ہے ۔لیکن یہاں بھی چپراسی کو کام نکالنے کیلئے سو پچاس کی رشوت دینی پڑتی ہے۔ مختصراً انہوں نے پورے Corrupt معاشرے کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ موصوفہ کارواں بیانیہ انداز قاری کو آخر تک باندھے رکھتا ہے۔ افسانہ ’’تحفوں کی تھیلی‘‘ کے دو اقتباس دیکھے جن میں کتنی سادگی کے ساتھ سماج کے اہم مسئلہ کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ’’راجدیو کی امرائی ‘‘ میں صادقہ کی سحر کاری – ڈاکٹر قسیم اختر )
’’لیکن ہم جیسے نوکری پیشہ لوگوں کو کتنا مشکل ہے ! میری اپنی بیٹی کی ڈیلیوری ہے ، میں کیا کروں گا!‘‘ ڈاکٹر نے گھر پہنچ کر مجھ سے کہا ، ’’سرکاری اسپتال لے جائیں بیٹی کو ؟
’’سرکاری؟‘‘ مجھے تعجب ہوا۔
ہاں سرکاری اسپتال بہتر ہیں۔ وہاں صحیح بیماری کا پتہ چل جاتا ہے۔ اس طرح کی دھاندلی تو بالکل نہیں ہوتی۔ ‘‘
’’لیکن وہاں لمبی قطاریں ہوتی ہیں۔ بہت وقت لگتا ہے۔‘‘ میں ان کی بات سے مایوس تھی۔
’’ وہاں مریض تھوڑی بے ایمانی کرلیتا ہے۔ واچ مین اور چپراسی کو سو پچاس روپئے تھما دئے۔ وہی اسے لئے لئے پھرتا ہے۔ تھوڑا مصلحت سے کام تو لینا ہی پڑتا ہے نا!‘‘
وہیں دوسری جگہ دیکھیں :
’’اس نے گھڑی دیکھی، مسکراتے ہوئے تپائی پر رکھی تحفوں کی تھیلی میرے ہاتھوں میں دھیرے سے رکھ دی اور اٹھ کھڑی ہوئی … وہ دو قدم آگے بڑھ گئی۔ پھر پلٹ کر بولی، باجی! اگر نیشنل کمیٹی ڈیڑھ سو کتابیں خرید لے تو اچھا رہے گا۔‘‘
(افسانہ’’ تحفوں کی تھیلی‘‘ )
درج بالا افسانہ ان کے دونوں افسانوی مجموعی کے بعد تخلیق ہوا ہے۔ جس میں صادقہ نواب سحر نے سماج کی تلخ حقیقت کو بنا لاگ لپیٹ کے پیش کردیا ہے۔ اسی قبیل کا انکا دوسرا افسانہ ’’بوڑھی پڑوسن کا موبائل‘‘ ہے جس میں نہ اہل اولاد کی قلعی کھولی گئی ہے۔ جو اپنی بوڑھی ماں کو موبائل کے نام پر ایک خراب موبائل تھما دیتے ہیں۔ لیکن وہ اس دھوکے کو سمجھ نہیں پاتی اور بچوں کے کال کا اس پر انتظار کرتی ہے۔ آخر میں اس بوڑھی عورت کے موت کے بعد اس موبائل کا راز کھلتا ہے۔ اختتام چونکانے والا ہے مگر حقیقت سے قریب تر ہے۔
صادقہ نواب سحر کے افسانوں میں تخیل کی دنیا نہیں بلکہ انسان کی حقیقی زندگی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ان کا اپنا اسلوب ہے۔ زبان میں اردو ہندی کی مشترکہ چاشنی ہے۔ جو کرداروں کے عین مطابق ہے۔ وہ موضوع کے اعتبار سے اسلوب کا انتخاب کرتی ہیں اور کرداروں کے ذریعہ ان کے نفسیات کی گہرائی میں اتر کر حقیقت کی کئی تہہ دار پہلوؤں سے قاری کو روشناس کردیتی ہیں۔ صادقہ نواب سحر کے متعلق شہاب ظفر اعظمی رقمطراز ہیں :
’’فکشن کی شعریات میں اس کے فنی لوازم، زبان و بیان، تکنیک اور کردار نگاری کے مباحث کو نئے سیاق و سباق میں استعمال کی طرف جو توجہ دی جارہی ہے ، صادقہ نواب سحر ان مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ اپنے افسانوں کو تہہ دار اور کرداروں کو ہمہ جہت بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ موضوع کی نوعیت کے اعتبار سے اپنے اسلوب کا انتخاب کرتی ہیں اور کرداروں کی نفسیات میں بھی گہرائی تک اتر کر ہمیں نئے حقائق سے آشنا کراتی ہیں۔‘‘
(’’صادقہ نواب سحر کی افسانوی سحر کاری‘‘ از، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، 30 ستمبر 2016، urdufiction.com)
صادقہ نواب سحر کے افسانوں میں جزئیات نگاری کمال کی ہے۔ وہ سادہ بیانیہ انداز میں حالات و واقعات کو اس طرح پیش کرتی ہے کہ قاری اس کی سحر انگیزی میں کھو کر خود کو اس مقام پر محسوس کرتا ہے۔ ان کے افسانوں میں ہندستان کے مختلف معاشرے کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ان میں زیادہ تر مہاراشٹر اور ممبئی کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ مہاراشٹر سے تعلق کی وجہ سے وہ قلبی لگاؤں ان کے افسانوں میں بھی کارفرما ہوجاتا ہے ۔لیکن یہ کوئی عیب نہیں۔ تخلیق کار اپنی جانی پہچانی فضا کو زیادہ تر اپنی تخلیقات میں پیش کرتے ہیں۔ پریم چند نے دیہات، کرشن چندر نے کشمیر اور راجندر سنگھ بیدی نے پنجاب کے علاقوں کو اپنے افسانوں میں زندہ رکھا ہے۔ ایسا ہی کچھ علاقائی اثر صادقہ نواب سحر کے افسانوں میں بھی ہے۔
افسانہ میں کردار کی اہمیت ہمیشہ مسلم رہی ہیں۔ جدیدیت کے دور میں اس سے انحراف کیا گیا۔ مگر اس سے پوری طرح انکا ر ممکن نہیں۔ جدیدیت کے بعد جب افسانوں میں کہانی پن کی واپسی ہوئی تو کردار نگاری پر پھر سے خاصہ زور صرف کیا گیا۔ صادقہ نواب سحر کے افسانوں میں کردار نگاری کمال کی ہے۔ان کے کردار قاری کے ذہنوں پر چھا جاتے ہیں۔موصوفہ اپنے افسانوں میں بعض جگہ خود موجود نظر آتی ہیں ۔کبھی کبھی ان افسانوں کو پڑھ کر آپ بیتی کا گمان ہوتا ہے، اور یہ صادقہ نواب سحر کی بڑی کامیابی ہے کہ وہ آپ بیتی میں بھی فسوں کی کیفیت پیدا کر دیتی ہیں۔ موصوفہ افسانہ کے فنی رموز و نکات سے پوری طرح واقف ہے۔ ان کے افسانے زیادہ تر بیانیہ انداز کے ہے۔ جس میں ڈرامائی خاصیت پائی جاتی ہے۔ وہ سادہ سلیس زبان میں اختصار سے اپنی بات کہہ دیتی ہے۔
صادقہ نواب سحر کے افسانے عہد حاضر کی آئینہ دار ہے جس میں عصری مسائل کی جیتی جاگتی تصویر نظر آتی ہے۔ فنی نقطہ نظر سے انکے افسانے پوری طرح کامیاب ہیں۔ اکیسویں صدی کے نسائی ادب میں صادقہ نواب سحر اپنی سحر انگیزی کی بدولت مقبول عام ہوچکی ہیں۔ اردو فکشن کی تاریخ میں خواتین قلمکاروں میں صادقہ نواب سحر نے اپنا الگ مقام متعین کرلیا ہے۔ جن کے ذکر کے بغیر یہ تاریخ نامکمل ہوگی۔
٭٭٭٭٭
DR FATMA KHATOON
B-40/8,IRON GATE,GARDEN REACH
KOLKATA-700024(WEST BENGAL)
EMAIL ID: fatmakhatoon2809@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

