Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

کہانی کوئی سناؤ، متاشا :صادقہ نواب سحر کا ایک مونولاگ ناول – ڈاکٹر سلمان فیصل

by adbimiras جنوری 19, 2021
by adbimiras جنوری 19, 2021 0 comment

زمانۂ قدیم سے معاشرے کے اندر طبقاتی کشمکش، ظلم و جور اور استحصال کی جڑیں بہت مضبوط اورگہری ہیں۔ ایک خاص طبقہ ہمیشہ استحصال کا شکار رہا ہے ۔ اِس سماجی نابرابری کے خلاف بھی آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں۔ ادب کے ذریعے بھی اِس سماجی خلیج کو پُر کرنے کی کوشش کی گئی۔ حاشیے پر زندگی گزارنے والوں کی حمایت اور اُن کا استحصال کرنے والوں کے خلاف فنکاروں نے اپنے قلم سے ہمیشہ احتجاج درج کرایاہے۔ اِس مظلوم طبقے میں عورت کوابتدا سے ہی حاشیے پر رکھا گیا اور اُس کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ مرد ذات کے بالمقابل عورت ذات کو کمزور ، ناتواں اور حقیر شے سمجھا گیا۔ ادب میں بھی اس ظلم کے خلاف بازگشت سنائی دینے لگی۔ جدیددور میں نسائی ادب یا تانیثیت کا رجحان پنپنے لگا ۔ بیسویں اور اکیسویں صدی کے سنگم پر اِس رجحان نے باقاعدہ تحریک کی شکل اختیار کرلی، جس کے نتیجے میں ادیبوں نے عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم، سماجی وسیاسی عدم مساوات اور استحصال کی واضح لفظوں میں مخالفت کی۔اِس تانیثیت کی جھلک اور شبیہ ڈاکٹر صادقہ نواب سحر کے ناول ’’کہانی کوئی سناؤ، متاشا‘‘ میں نظر آتی ہے۔

ڈاکٹر صادقہ نواب سحر کا ناول ’’کہانی کوئی سناؤ، متاشا‘‘ ۲۰۰۸ میں منظر عام پر آیا۔ یہ ناول متاشا کی مظلوم داستان پر مبنی ہے۔اِس ناول میں متاشا کو محور و مرکز بناکر ہندوستانی معاشرے میں عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم اور جبر و تشدد اور ظلم کے خلاف عورت کی محاذ آرائی کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ عورتوں کے ساتھ ظلم وتشدد اور جنسی استحصال کو اِس ناول میں جگہ دی گئی ہے۔ ہندوستانی معاشرے کے مشترکہ خاندان میں مرد عورت کے کثیر ربط و ضبط کے نتیجے میں سماج کے ہوس پرست جس طرح سے عورتوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں، اِس ناول میں اِس موضوع کی فنکارانہ پیش کش ہے۔ (آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں ناول’’آنکھ جو سوچتی ہے‘‘ ایک تنقیدی مطالعہ – مہر فاطمہ)

فنی اعتبار سے یہ ناول خودنوشت سوانح کی ہئیت میں بیانیہ وصف میں لکھا گیا ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ ناول کا مرکزی کردار متاشا کا مونولاگ ہے۔ متاشا اپنی زندگی کی مظلوم داستان خود سناتی ہے۔ صادقہ نواب سحر نے متاشا کی زبانی ناول کی پوری کہانی فنکارانہ چابکدستی سے پیش کی ہے۔ متاشا خود ہی ناول کے دیگر کرداروں کے بارے میں بتاتی ہے۔ اِس پورے ناول میں ذیلی عنوانات کے تحت مختلف کہانیاں ضم کرکے پیش کی  گئی ہیں۔ یہ کہانیاں متاشا کے اردگرد چکر لگاتی ہیں اور اُس کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ متاشا کے کردار میں ایسی ہندوستانی عورت کا ہیولیٰ تیار کیا گیا ہے جو سماج کے بے جا رسم و رواج اور ظلم و ستم کے آگے سر نہیں جھکاتی بلکہ خود اعتمادی، عزم اور حوصلے کے ساتھ اس کا مردانہ وار مقابلہ کرتی ہے۔

اِس کہانی میں متاشا نے پہلے اپنے خاندان کا پس منظر پیش کرتے ہوئے گھر کے اندر عورتوں کی حیثیت کو بیان کیا ہے۔ اپنے والدین کے درمیان لڑائی جھگڑے اور کشمکش کو بیان کرکے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ گھر میں عورتوں کا کوئی مقام نہیں ہے، خود اُس کی اپنی پیدائش پر تین مہینے تک باپ کا اپنی بیٹی کو دیکھنے نہ آنا اور بیٹی کی پیدائش پر سسرال میں خصوصاً باپ کے دل میں نفرت پیدا ہونا، سماج کی ایک قدیم برائی ہے۔ متاشا کو پہلی محبت اس کی دادی کی جانب سے ملی جبکہ ماں بھی متاشا پر تشدد کرتی تھی۔ بچپن سے ہی متاشا کو نفرتوں کا سامنا رہا اور نفرت نے متاشا کو جھوٹ بولنا سکھا دیا۔ متاشا کو پڑھائی میں صرف اس لیے دلچسپی تھی کہ اس کی وجہ سے وہ ہاسٹل میں رہ سکتی ہے تاکہ اس کو گھر کی نفرتوں اور ظلم و ستم سے نجات مل سکے ۔ گھر کو وہ ’’پھٹکار گھر‘‘ کہتی ہے۔ ’’چھٹیاں آتیں تو پھر سے اسے ’’پھٹکار گھر‘‘ جانا پڑتا تھا۔ نفرت کے جس ماحول میں اس کی پرورش ہوئی اس سے وہ  باغی بن گئی۔

ہاسٹل میں رہتے ہوئے چودھویں سال میں متاشا کے دل میں پہلی بار کسی مرد ذات یعنی ایک لڑکے کے لیے محبت کا جذبہ ابھرا۔ ابھی تک اسے مرد ذات سے نفرت تھی۔ ایک لڑکے کی جانب سے پریم پتر ملنے پر اُس کے دل و دماغ میں باپ کی نفرت اور اُس لڑکے کی جانب سے اُسے نہارے جانے کی عجیب کشمکش پیدا ہوئی۔ دو متضاد خیال بار بار آپس میں ٹکراتے ہیں اور متاشا کو پریشان کرتے ہیں۔ اِس خط کے پکڑے جانے پر وہ اپنے وارڈن سے جھوٹ بولتی ہے، اور بائبل کی جھوٹی قسم کھاتی ہے۔ زندگی بھر اُس کی تمام مصیبتوں میں باربار بائبل کی اُسی جھوٹی قسم اور خط کا خیال آنااور تمام مصائب کو اُس جھوٹی قسم کا عوض سمجھنا متاشا کے ذہن پر نقش ہوجاتا ہے ۔صادقہ نواب سحر نے عورت کی اِس نفسیاتی خاصیت یعنی کسی برے کام کا اثر زندگی بھر کے حالات پر پڑنا، کی بہترین عکاسی کی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں

اپنے علاقے اور گھر سے دور کالج میں پہلی بار داخلہ لینے کے بعد گھروالوں سے بہت دور رہنے اور پھر اپنے باپ کے دوست موریشور کا کا کے ہوس کا شکار بن جانے کے بعد متاشا کے دل میں مرد ذات کے تئیں شدید نفرت پھر سے پیدا ہوتی ہے اور اس قدر نفرت میں اضافہ ہوتا ہے کہ بقول متاشا:

’’اُن دنوں مردوں سے نفرت کا احساس مجھ میں اتنا بڑھ گیا کہ گھر آکر کوئی صوفے یا کرسی پر بیٹھتا تو میں وہ حصہ جھٹک کر صاف کردیتی، پونچھ دیتی۔ دادی مجھے ایسا کرنے سے منع کرتیں۔‘‘

متاشا نے اپنے اِس نہایت ہی ناخوش گوار واقعے کا ذکر کسی سے بھی نہیں کیا۔ اُس کے اندر ہمت نہ ہوئی اور مستقبل میں موریشور کاکا نے اِس واقعہ کا ذکر ہر اُس شخص سے کرکے متاشا سے دور کرنے کی کوشش کی جس سے بھی متاشا کو ہمدرد ی حاصل ہونی شروع ہوئیں ۔متاشا کی مرد ذات کے خلاف شدید نفرت ایک بار پھر کالج ہاسٹل میں رہتے ہوئے کالج کے پربھاکر سے محبت میں تبدیل ہوتی ہے اور وہ دونوں شادی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں کہ تب ہی موریشور کاکا کو بتوسط متاشا کے والد اور دادی کے، اِس بات کا علم ہوجاتا ہے اور پھر موریشور کاکا پربھاکر سے مل کر متاشا سے اپنی پہلی ملاقات اور گھناونے واقعے کا ذکر کرکے اُس کی پٹائی بھی کرتا ہے اور متاشا کے تئیں اُس کی محبت کو نفرت میں بدل دیتا ہے۔ یہاں موریشور کاکا ایسا صرف اِس لیے کرتا ہے تاکہ اُس کے بھائی سے اس کا رشتہ ہوجائے اور پھر دوبارہ اُس کو متاشا کی عصمت سے کھیلنے کا موقع ملے۔ مگر وہ یہاں بھی ناکام و نامراد ہوتا ہے۔ متاشا کا جنسی استحصال کرنے اور اُس استحصال کو مستقبل میں بھنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔لیکن متاشا اُس ہوس پرست شخص کے ہر وار کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اور موریشور کو مایوسی کا سامناکرنا پڑتا ہے۔

متاشا کا اپنے باپ کا گھر چھوڑ کر اپنی ماں اور دادی کے ساتھ علی گڑھ اپنے چھوٹے کاکا کے پاس جانا، زندگی کی جد و جہد میں ماں بیٹی کا نوکری کرنا، کاکا کی جانب سے متاشا کا جنسی استحصال کرنے کی کوشش، علی گڑھ چھوڑ کر چھوٹے بھائی پرساد کے ساتھ ایئر ہوسٹس بننے کا خواب لیکر ممبئی جانا ،نوکری کے لیے ادھر ادھر ماری ماری پھرنا اور ریلوے اسٹیشن پر راتیں بسر کرنا، اِن تمام حالات کا مقابلہ متاشا بڑی ہمت اور حوصلے سے کرتی ہے لیکن پھر بھی اندر سے اِس قدر ٹوٹ جاتی ہے کہ اپنی عمر سے دو گنی عمر اور پانچ بچوں کے باپ گوتم سے ملاقات کے بعد اُس سے شادی کرکے سکون کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جب وہ علی گڑھ واپس آتی ہے اور اپنے فیصلے سے گھر والوں کو آگاہ کرتی ہے تب اُس کا بھائی گوپی اِس شادی کی مخالفت کرتا ہے۔یہاں ناول نگار نے اِس شادی کے خلاف بھائیوں کی ذہنی کشمکش کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔

’’اُس دن شام کو بھائیوں اور ممی کوبٹھاکر میں نے ساری باتیں بتاد یں۔ ’’تم تو گندی تھرڈ کلاس انسان نکلیں دیدی۔ چار پانچ بچوں کے باپ سے شادی کر رہی ہو! اپنے باپ کے برابر کے آدمی سے! عقل ہے کہ نہیں؟

’’اتنی بے شرم کب سے بن گئی ہے دیدی‘‘۔ چھوٹا پرشانت بھی چپ نہیں رہا۔

’’مٹری جلیبی چاہیے؟‘‘

’’چپ‘‘۔ میں نے پرشانت کو ڈانٹا۔

’’یہاں کتنی گڑبڑ ہے تجھے سمجھ میں آتا ہے؟‘‘

’’ویشیا جیسی بن گئی ہے‘‘۔ گوپی کا پارہ چڑھا ہواتھا۔

’’پانچ بچوں کو سہارا ملے گا۔۔۔۔۔جو ملا اسے قبول کرنا ضرور ہے ۔۔۔۔۔‘‘میں بولی

’’تم گئیں تو مہا پاترو نہیں ہوگی‘‘ پرشانت نے بچپنا ثابت کیا۔

’’ہماری کمی دکھانے آئی ہے‘‘۔ پرشانت کو ڈھکیل کر گوپی پھر بھڑکا اور اچانک کھڑا ہوگیا۔

’’میری شادی کسی کے بس میں نہیں‘‘۔

یہ جان کر بھی کہ گوتم ممی سے دو سال بڑے ہیں، بالکل باپ کی طرح۔ ممی چپ رہیں۔

 

ممی، پاپا سے با رہ سال چھوٹی تھیں اور میں گوتم سے بائیس سال!۔۔۔۔پرساد ایک دم چپ تھا۔ نہ ہاں میں نہ نا میں۔ ممی نے دھیرے سے پرساد سے پوچھا۔

کیسا ہے؟

’’اچھا۔۔۔۔۔ شانت سبھاؤ کا۔‘‘

ماں کی طرف سے چپی اور رضا مندی سے متاشا کو تقویت پہنچتی ہے۔ یہ وہی ماں ہے جو بچپن میں متاشا پر تشدد کرتی تھی لیکن اب حالات کے پیش نظر اس میں تبدیلی آگئی ہے۔ وہ متاشا کے کرب کو سمجھ رہی ہے۔ کردار کا ارتقا جاری ہے۔ گوتم سے انوکھی شادی اور زندگی کا ایک طرز پر گذرنا متاشا کو کچھ پل کے لیے سکون عطا کرتا ہے لیکن متاشا کے اپنے رشتہ داروں کی طرف سے خصوصاً بھائیوں کی طرف سے نظر انداز کیا جانا اور پھر گوتم کے پانچ بچوں کو سنبھالنا متاشا کی زندگی میں پھر سے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آتا ہے اب وہ ایک نئی جدوجہد میں مصروف نظر آتی ہے۔ گوتم کے چار بچے متاشا کو اپنی ماں کا درجہ دیتے ہیں لیکن بڑا بیٹا انکت کے اندر متاشا کے تئیں ایک نیا جذبہ ابھر تا ہے۔ وہ اس پر بری نگاہ ڈالتا، نوجوان لڑکا اپنی جوان سوتیلی ماں کا جنسی استحصال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ متاشا اور انکت کے ما بین یہ کشمکش ناول کے آخر تک جاری رہتی ہے۔ صادقہ نواب سحر نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ عورت کو اِس قسم کے استحصا ل کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ لیکن عورت ذات ہرمصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی اور حالات کواپنے مطابق ساز گارکرنے کی کوشش کرتی ہے اور کبھی کبھی خود حالات سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔

متاشا کو بچپن سے ہی مصائب کا سامنا رہا اور اُس کا خواب بھی پورا نہ ہوا جس کے سبب اُس کے اندر چڑ چڑاپن پیدا ہوجاتا ہے گوتم سے شادی کے بعد بھی اُسے سکون نہ ملا۔

’’کیا سوچا تھا ، کیا ہوا۔پربھاکر سے مل کر ارمان جگے تھے ۔ ایک شوہر ہو ، ڈھیر سارے پیارے پیارے بچے ہوں، شوہر کے رشتہ داروں کو خوش رکھوں، اُن کو اپنا سب کچھ بنالو، سکون۔۔۔۔۔سکون ہی سکون ۔۔۔۔مگر ایسا الٹ پلٹ ۔ دیپو کے بعد چار سوتیلے بچے، دو دیوروں کے بچے، بیمار شوہر، مجھے بات بات پر غصہ آتا۔‘‘

متاشا کی یہ خود کلامی بتاتی ہے کہ وہ بھی ایک ہندوستانی گھر یلو عورت بننا چاہتی ہے۔ گھر گرہستی میں لگی رہے۔ سسرال والوں کو خوش رکھے ۔ بچوں کی دیکھ بھال کرے اور سکون سے زندگی گزارے۔ مگر اُس کا یہ خواب پورا نہ ہوا کہ وہ ایک مکمل ہندوستانی خاتون خا نہ بن سکے۔ یہی کہانی ہندوستانی سماج کی ہر مظلوم عورت کی اپنی داستان معلوم ہوتی ہے۔ (آپ یہ بھی پڑھ سکتے ہیں ’میں تمثال ہوں ‘ کا ایک نفسیاتی جائزہ – شبانہ یوسف )

گوتم کی وفات پر بیوہ متاشا کے ساتھ اُس کے سسرال والوں کا حسن سلوک اور اُس پر متاشا کے اپنے خاندان والوں کی جانب سے چہ می گوئیاں متاشا کو عجیب کشمکش میں مبتلا کرتی ہیں، وہ سمجھ نہیں پاتی کہ کیا کرے۔ جس نے جیسا کہا ویسا کرلیا۔ بیواؤں کے تئیں مختلف سماجی برتاؤ کو یہاں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دو سماجوں کے رسم ورواج کے ٹکراؤ کو پیش کیا گیا۔ ایک وہ سماج جو بیوہ کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کرتا ہے اور دوسرا وہ جو  بیواؤں کے ساتھ ہر طرح کا ظلم روا رکھتا۔ یہاں تک کہ کہیں کہیں اسے ستی ہونے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ گوتم کی وفات کے بعد اُس کے اپنے بھائی بھی منھ پھیر لیتے ہیں۔ جبکہ اِسی بہن نے اپنے بھائیوں کے لیے اپنی جوانی اور زندگی کو داؤں پر لگا کر محنت مزدوری کی اور استحصال سہتی رہی۔بھائیوں کی طرف سے عدم توجہی کے سبب متاشا پر ایک بار پھر مصائب کا پہاڑ ٹوٹتا ہے۔

’’بھابھیوں سے کہتی تو وہ کہتیں: ایڈجسٹ کرلو۔

’’میں جتنی بار بھائیوں کے پاس بھاگ کر جاتی کتے کی طرح ذلیل ہوکر لوٹ آتی۔

دو سال تکلیفوں کے گذر گئے۔ انکت کی دست درازی بھی بڑھنے لگی تھی۔ جب بھی وہ اکیلا ہوتا اور میں دکھائی دیتی وہ گندی سی نظر سے مجھے سرسے پیر تک گھورتا۔ برتن لیتے دیتے وقت ایک گندا ساٹچ میں ہمیشہ محسوس کرتی۔ مجھے گوتم بہت یاد آتے۔‘‘

گوتم کے گذرنے اور دوسال تک ظلم و ستم سہنے کے بعد گوتم کے گھر سے نکل پڑنا، اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرنا، ماہم چرچ میں سات بدھ کا نوویتا کرنا، چرچ میں ذہنی سکون نہ ملنے کی صورت میں تروپتی جانا اور پھر دوبارہ اپنے گوتم کے بسائے گھر میں لوٹنا، یہ بتاتا ہے کہ متاشا زندگی کے جھمیلوں سے آزاد ہونا چاہتی ہے اور عبادات کے سہارے ذہنی سکون حاصل کرنا چاہتی ہے ، لیکن جب اسے وہ سکون نہ ملا تو وہ دوبارہ اپنے گھر لوٹ آتی ہے۔ جہاں اس کے سوتیلے بیٹے انکت کا راج ہے۔ ایک بار پھر انکت کی بری نظر اور اس کا تشدد اُسے گھر سے نکلنے پر مجبور کردیتا ہے اور و ہ اپنے بیٹے دیپو کو لے کر پہلے منالی اور پھر اڑیسہ چلی جاتی ہے۔ ایسی در بدری میں دیپو کی پرورش بھی مناسب نہیں ہو پاتی ۔ وہ اپنی ماں پر ہو رہے ظلم و ستم کو دیکھتے ہوئے جوان ہوتا ہے ۔ وہ پڑھائی چھوڑ کر کام کاج کرکے ماں کا ہاتھ تو بٹانے لگتا ہے لیکن بے راہ روی کاشکار ہو کر غلط راستے پر چل پڑتا ہے۔ نونیتا اور دپیش کی محبت ، شادی سے قبل نونیتا کے ماں بننے کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔

ناول کا آخری حصہ سماج کی ایک بھیانک اور بڑی برائی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں سماج کے کئی طبقے مبتلا ہیں۔یعنی شادی سے قبل حاملہ ہونا اور پھر اسقاط حمل یا ناجائز اولاد ،ایک ایسی برائی ہے جو معاشرے میں جڑ پکڑ چکی ہے۔ عہد حاضر میں Live-in relationship، ناجائز اولاد کی پیدائش اور پرورش یاپھر اسقاط حمل، معاشرے کے ایک مخصوص طبقے میں عام سی بات ہوکر رہ گئی ہے اور یہ قبیح برائی سماج کے اُن طبقوں تک بتدریج سرایت کر رہی ہے جو اِس طرز زندگی سے ابھی تک محفوظ تھے۔ماڈرن دور میں یہ وبا متعدی امراض کی طرح پھیل رہی ہے۔ ناول کے آخری ڈھائی صفحوں میںدیپو اور نونیتا کے اِس رشتے کو بیان کرکے قاری کے دل و دما غ کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی گئی ہے اور اِس نے طرز زندگی کی طرف قاری کو ایک نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ معاشرہ اِس وقت کس سمت کروٹ لے رہا ہے۔ ناول نگار نے یہ بھی بتایا کہ متاشا کو اِس سے بھی کوئی اعتراص نہیں ہے بلکہ جس طرح اس نے اب تک زندگی کی تمام نا ہمواریوں کو برداشت کیا ہے ، یہ درد بھی وہ برداشت کرکے اپنے بیٹے اور نونیتا کو خوش رکھنا چاہتی ہے۔

مجموعی طو رپر یہ ایک کامیاب ناول ہے۔ عورت ذات کو محور بناکر اسے لکھا گیا ہے۔ اسی لیے اِس کا مرکزی کردار ایک عورت ہے جو اپنی زندگی کی بِپتا خود سناتی ہے۔ جگہ جگہ اس کی خود کلامی عورت کی نفسیاتی شبیہ کی عکاسی کرتی ہے۔ متاشا کی مظلومیت ایک علامت کے طور پر سامنے آتی ہے اور تانیثیت کے موضوع پر ایک اہم ناول قرار پاتا ہے۔ یہ ناول خود ایک عورت نے لکھا ہے اس لیے اِس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ عہد حاضر کے ناول نگاروں میںصادقہ نواب سحر نے اِس ناول کے ذریعے اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ نسائی ادب اور حاشیائی ادب دونوں خانوں میں اِسے رکھا جاسکتا ہے۔ یہ ناول اُس طبقے کی کہانی پر مبنی ہے جہاں لوگ غربت و افلاس کے مارے حاشیے پر زندگی بسر کررہے ہیں۔ متاشا اور اُس کے بھائی ایسے افراد کی زندگی کی سچی تصویر کشی کرتے ہیں۔ اِس ناول کا موضوع یوں تو علاقائی معلوم ہوتا ہے ۔لیکن متاشا اور اُس کے رشتہ داروں کی زندگی کے لیے جد و جہد، ظلم اور استحصال کے خلاف احتجاج ، یہ موضوع مقامی نہ ہوکر آفاقی بن جاتا ہے اور پوری دنیا میں حاشیے پر زندگی گزارنے والوں کی ایک لازوال داستان کی شکل میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔چھوٹی چھوٹی کہانیوں سے بُناگیا پلاٹ، کرداروں کا جاری ارتقا، متوسط طبقے کی زندگی کی عکاسی ، اُن کے رہن سہن او ر عادات و اطوار کی ہو بہو تصویر کشی اِس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ناول نگار نے اُس طبقہ کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ مختلف علاقوں کی زبان اور محاورے ، رسم و رواج اور تہذیب و معاشرت کو پیش کرنے اور جزئیات نگاری میں فنکارانہ مہارت سے کام لیا گیا ہے۔ یہ ناول کہانی پن، تجسس اور دلچسپی کے عناصر سے پُر ہے۔ قرأت میں روانی اورسلاست ہے۔ اِس جائزے کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ عہد حاضر کا یہ ایک کامیاب ناول ہے۔

٭٭٭٭٭

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasصادقہ نواب سحرکہانی کوئی سناؤ متاشاناول
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
سنت کبیر اور نظیر: مشترکہ وراثت – پروفیسر کوثر مظہری
اگلی پوسٹ
ڈپٹی نذیر احمد کے مکتب میں سائنس کی تعلیم – ڈاکٹر شاداب تبسّم

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں