اردو افسانہ آغاز سے لےکر اب تک نت نئے تجربات کی منزلیں طے کرتا ہوا، ترقی کی راہ پر گامزن ہے_ اردو میں افسانوی ادب ابتداء سے لے کر ترقی پسند تحریک تک، تقسیم کے دردناک واقعات سے لے کر جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مختلف تجربوں کے ساتھ دور حاضر میں اپنی وسعت کو پہنچا ہے_
افسانہ وہ مخصوص صنف ہے جس نے اپنے وسیع کینوس کی وجہ سے ہر دور میں قاری کو متوجہ کیا ہے، بلکہ عصر حاضر کے افسانہ نگار موضوعاتی طور پر ہمیں نئی دنیا اور نئے تجربات سے روشناس کراتے ہیں_ آج بھی ہمارا افسانوی ادب درخشندہ ستارے کی مانند تابناک نظر آتا ہے_
اردو افسانہ ابتدا ہی سے تکنیک کے زاویہ سے کسی حتمی تکنیک کا محتاج نہیں رہا ہے_ اس نے وقت کے ساتھ اپنی سمت و رفتار کو قایم رکھا ہے_
میڈیا کے نئے ذرائع اور علوم کی وسعت سے موجودہ دور میں اردو افسانہ ایک نئی سمت و رفتار سے بڑھ رہا ہے_آج ٹیکنولوجی کے زمانے میں دنیا کے سارے فنون ایک نئے وژن میں ڈھل رہے ہیں، اس لئے دور حاضر کے با شعور افسانہ نگار بھی نئے زاویوں اور امکانات کو اپنے افسانوں کا موضوع بنا رہے ہیں_
اردو افسانے کی ترویج میں خواتین کا اپنا خاص مقام ہے ابتداء سے لے کر دور حاضر تک اردو میں خواتین قلم کار اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں_ عصر حاضر کی خواتین افسانہ نگاروں میں صادقہ نواب سحر اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہیں_صادقہ نواب سحر کی شخصیت ادب میں محتاج تعارف نہیں_ آپ بیک وقت ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور بہترین شاعرہ بھی ہیں_ صادقہ نواب سحر تجربات کا بہترین سرمایہ رکھتی ہیں اور گہرا تخلیقی شعور بھی_ یہ تخلیقی شعور آپ کے افسانوں میں بخوبی دیکھنے کو ملتا ہے_آپ آج کے دور کے مسائل اور تجربات کو اپنی افسانوں میں بخوبی برتنے کا ہنر جانتی ہیں_ صادقہ نواب سحر کے افسانوں کا مطالعہ کریں تو قاری ان کے تخلیق شعور سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا_آپ جس طرح الفاظ کا تانا بانا بنتی ہیں اور کم الفاظ میں بڑی گہری بات کہہ جاتی ہیں، نہایت قابل ستائش ہے_ آپ کے الفاظ ذہن و دل پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں_ افسانے ‘ سہمے کیوں ہو انکُش’ میں یہ صورتحال بخوبی دیکھنے کو ملتی ہے_اقتباس ملاحظہ ہو۔۔۔۔۔
” بہت بڑا غلط کام ہوا ہے نہ تجھ سے !…….” ممی نے آنکھیں پھاڑیں_
” ہاں بہت غلط کام ہوا مجھ سے…… مگر ممی انھوں نے مجھے ننگا کرکے کیوں مارا ؟”
” وہ تو تمہاری ڈراینگ پر چاک پھینک رہے تھے نا!….. تمہیں تو چھوا بھی نہیں بیٹا!”
” نائیں ممی انھوں نے مجھے مارا*…. انہوں نے مجھے بہت مارا…..”
مسز پاٹل نے محسوس کیا، وہ سر سے پاؤں تک لرز رہا تھا_………..!
(سہمے کیوں ہو انکُش)
نام ہے ۔۔۔ انکُوش لیکن اس پر کوئی بندھن عائد نہیں، شریر چلبلا سا ایک معصوم ذہن بچہ جو اپنے ہم جماعتوں سے تنگ آکر بدلہ لینے کے لئے بنا سوچے سمجھے ایک بری حرکت کر جاتا ہے لیکن اس حرکت اور اسکی سزا سے، اس کے معصوم دل پر جو چوٹ لگتی ہے وہ اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے_ شریر رہنے والے انکش کی شرارتوں کے ساتھ ہی اس کا معصوم دل بھی بندھن میں قید ہوا جاتا ہے_ (یہ بھی پڑھیں بلراج مین را کا افسانہ پورٹریٹ ان بلیک اینڈ بلڈ – پروفیسر غضنفر )
چند صفحات میں کسی کرادار کو ایسے نمایاں کرنا کہ وہ ہمارے ذہن میں اس طرح پیوست ہو جائے کہ ہم اسے بھلا نہ سکیں، تسلسل کے ساتھ مناظر کو ایسے باندھنا کہ قاری کہانی میں خود کو مہو کر لے اور افسانے کی دنیا میں کھو جاۓ، صادقہ نواب سحر کا بہترین کارنامہ ہے _ منظر نگاری ان کی افسانہ نگاری کی اہم خوبی ہے جو ان کے افسانوں میں بخوبی دیکھنے کو ملتی ہے_ آپکے افسانوں کا مطالعہ کرتے وقت سارے مناظر آنکھوں کے سامنے گھومتے ہیں افسانہ ‘پہلی بیوی’ میں جو تصویر کشی کی گئی ہے وہ کسی بھی شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیگی_ ایسا لگتا ہے مانوں یہ سب ہمارے سامنے ہی تو ہو رہا ہے_
غریبی اور مجبوری کا مارا ایک باپ صرف پیسے کی کمی کی بدولت اپنے سات ماہ کے بچے کو انکیوبیٹر میں نہیں رکھ پاتا ہے_ اس کی زبان سے نکلے یہ الفاظ کسی بھی پتھر دل انسان کو پگھلا سکتے ہیں_
"ڈاکٹرنی بولتی ہے تیس ہزار روپیہ جمع کرا دو_پندرہ دنوں میں بالکل اچھا بچہ ہاتھ میں دونگی”
"رکھا کیوں نہیں؟”
"پیسہ کدھر ہے؟”
…..کیا کرتے ہو؟”
"پہلے بھنگار اٹھاتا تھا”
"اب کیا کرتے ہو؟”
"اب ردّی خریدتا ہوں”
"یہ کیا کرتی ہے”(میں نے عورت کی جانب اشارہ کیا)_
"پہلے یہ کچرا چنتی تھی ……اب بھیک مانگتی ہے”………!!!
(پہلی بیوی)
صادقہ نواب سحر اپنے کرداروں سے اس طرح مکالمے ادا کراتی ہیں، جو قاری کے ذہن و دل پر گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں_ کسی بھی موضوع پر چار پانچ صفحات میں گہری بات کہ جانا ، باتوں ہی باتوں میں کہانی کا اصل مقصد بیان کر جانا، آپ کے قلم کی اہم خصوصیت ہے_
"کون ہو تم؟؟…… کون ہو؟؟”، صائمہ نے کچھ ہمت ہمت کر لی اور بالکنی کا سلائیڈنگ ڈور ذرا سا سرکا کر بالکنی میں دیکھا اور اپنے سوال مکمل کیا …. "اور یہاں کیسے آئی ہو ؟”
"آپ کے پڑوس میں رہتی ہوں اور اپنی بالکنی کی دیوار پھاند کر آئی ہوں_” سامنے سے بڑی سادگی کے ساتھ جواب ملا_
"پلیز آپ مجھے اپنے گھر میں سے ہو کر جانے دیجیے”_ اس نے گڑگڑاتے ہوئے کہا_
"میرے گھر سے ؟؟…….تم اپنے گھر کے دروازے سے باہر کیوں نہیں نکلیں؟”
"میرا شوہر بڑا ظالم ہے_ بہت مارتا ہے مجھے_ دن بھر مجھے گھر میں بند رکھتا ہے_ کسی سے ملنے نہیں دیتا_ تالا لگا کر باہر جاتا ہے_ آج بھی دروازے پر باہر سے تالا لگا کر ہی کام پر گیا ہے……”
"اب پلیز مجھے اندر لے لیجئے”
"میں آپ کو بتاتی ہوں نا! چور نہیں ہوں میں!……… اقراء نام ہے میرا”_
(وہیل چیئر پر بیٹھا شخص)
صادقہ نواب سحر ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جن کا قلم بچوں ، بڑوں، بزرگوں، نوجوانوں سب پر بڑی چابکدستی سے چلتا ہے_ عورتوں کے مسائل ہوں یا بچوں کی معصوم پرابلمز ، نوجوانوں کے فکری مسعلے ہوں یا پھر بزرگوں کے پریشان حالات، گھریلو خاتون کی کشمکش ہو یا کالج میں پڑھنے والے طلبہ کے کردار کو پیش کرنا ہو_ حتیٰ کہ ہر دور،ہر طبقے کے افراد آپ کی تخلیقات کا موضوع ہیں_ (یہ بھی پڑھیں منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ : سکھ تشخص کا اشاریہ – خالد محمود سامٹیہ )
عورت کا مقام پہلے زمانے سے ہی ہمارے سماج میں کچھ ٹھیک نہیں رہا ہے_ کہیں نہ کہیں ہر عورت کو کو اس کے عورت ہونے کی سزاء مل ہی جاتی ہے_ زندگی میں ایسی کئی دور آتے ہیں جو ایک لڑکی کو اسکی عورت ہونے کا احساس دلاتے ہیں_ ہزاروں خواہشیں ایسی’ صادقہ نواب سحر کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں یہ درد محسوس کیا جا سکتا ہے_
"اخبار،رسالے، ٹی وی، کمپیوٹر، اسکول، کالج بکواس کرتے رہتے ہیں….. گھر کی چہار دیواری میں پہنچ کر ہم صرف عورت ہیں نا…….اور کچھ نہیں نا…….. محکوم، مظلوم……..!”
” کیا کہہ رہی ہو منی خبر بھی ہے……! ” شمع ابھی سے اپنے ذہن میں پلنے والی خرافات منی کے ذہن میں پنپتا نہیں دیکھنا چاہتی تھی، لیکن منی نے اپنی بات پوری کہہ گزرنے کی ٹھان لی_
” اور آزادی کا لیبل پیشانی پر لگا کر پنجرے میں رہنا کتنا مشکل ہے نا باجی !!”
شمع چپ چاپ اس کا چہرہ دیکھنے لگی_ یہ اس کی اپنی سوچ اور تجربہ ننھی سی منی کے ذہن میں چھ سات سال پہلے ہی کیسے پنپنے لگ گیا_ ! اور پھر اتنی پختگی کے ساتھ!!! شمع نے سوچا_
(ہزاروں خواہشیں ایسی)
"ہزاروں خواہشیں ایسی”اور منّت” ایسے ہی افسانے ہیں، جن میں عورتوں کے مسائل،زندگی کی بے رحم تلخ سچائی دیکھنے کو ملتی ہے_
"ایک طرف منّت کی مکتا ہے جو دلہن بننے کا خواب آنکھوں میں لئے ،بے ارمانی مر جاتی ہے_……… اور دوسری طرف شمع جو اپنے خوابوں کے لئے دلہن نہیں بننا چاہتی، اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتی ہے پڑھنا چاہتی ہے،زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہے”
وہیل چیئر پر بیٹھا شخص افسانے میں آپ نے جو تصویر کشی کی ہے نہایت قابل ذکر ہے_ اپنے شوہر کے ظلم و جبر سے تنگ آکر ایک نوجوان خوبصورت لڑکی کیسے اپنی قسمت لکھتی ہے اور اس کے چنگل سے آزاد ہو جاتی ہے_صادقہ نواب سحر نے ہر عمر کے کرداروں خاص طور سے بچوں، عورتوں اور لڑکیوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے_ کردار نگاری میں آپکو مہارت حاصل ہے، ان کے افسانوں کا مطالعہ کریں تو ہر کردار ہمیں اپنے آس پاس کا ہی نظر آتا ہے، جیسے سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے_ کردار نگاری کی یہ خصوصیات بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں ، لیکن صادقہ نواب یہ ہنر بھی بخوبی جانتی ہیں اُنھوں نے اپنے ہر کردار کا رول کہانی میں بڑی فنکاری سے ادا کیا ہے_
صادقہ نواب سحر کی زبان و بیان سادہ سلیس اور دلفریب ہے، جس میں ہندی اور انگریزی الفاظ چاشنی کا کام کرتے ہیں_ صادقہ نواب سحر ایک متحرک ادیبہ ہیں_ آپ کا اسلوب بیان، فکر و نظر، تخیل و تجربات منفرد ہے_ موضوعات کی آپ کے یہاں بھرمار ہے_ وہ نہ صرف روایتوں اور سماج کی عکاس ہیں بلکہ تعلیم، آج کے دور کی مصروفیات بلکہ موجودہ دور کے مسائل آپ کی تخلیقات کا وسیلہ اظہار ہیں_ مختصر یہ کہ صادقہ نواب سحر موجودہ دور کی متحرک و منفرد شخصیت، عظیم و کامیاب پروفیسر، ناول نگار، ناقد، ڈرامہ نویس، بہترین شاعرہ اور افسانہ نگار کی حیثیت سے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہیں_
اُنزِلا فاروقی
(مرادآباد یو پی)
244402۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

