Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ

عشاء – سید کامی شاہ،

by adbimiras اپریل 13, 2021
by adbimiras اپریل 13, 2021 0 comment

سونے کے ٹھیکروں سے کھیلتے لڑکوں سے لڑائی کے بعد میں بھاگا تھا اور کسی سنگِ راہ سے ٹھوکر کھا کر منہ کے بل زمین پر گرا تھا۔
دھیان سے مُنا۔۔۔۔،، کسی شفیق ہاتھ کا لمس میرے سر سے ہوتا ہوا چہرے اور شانے تک آیا تھا اور میں سسک کر رو پڑا تھا۔
سونے کے ٹھیکروں سے کھیلنے والے لڑکوں سے پٹتے ہوئے مجھے رونا نہیں آیا تھا، غصہ آیا تھا۔ اوروہاں سے بھاگنے کی وجہ خوف نہیں تھا بلکہ وقت کے زیاں کا احساس تھا، وقت کم تھا اس وقت میرے پاس۔ کوئی بہت قریب سے بار بار کان میں کہتا تھا نکلو یہاں سے۔۔۔ تم یہاں کے نہیں ہو۔۔۔
بہت دور کہیں، بڑے سے منقش تخت پر بیٹھا لمبے بالوں والا شاعر نہ جانے کس سے کہہ رہا تھا
تُو جتنا ہوسکے جلدی چلا جا
نہیں جی چاہتا پھر بھی چلا جا،،
کہاں چلا جاؤں۔؟ میں سوچتا تھا اور وہ کہتی تھی۔۔ تم بہت سوچتے ہو، اور وہ صرف کہتی نہیں تھی بلکہ ٹوکنے کے انداز میں کہتی تھی اور مجھے لگتا میں کوئی بہت برا کام کرتا ہوں
تو سوچنا ایک برا کام ہے۔۔؟ سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے میں نے اسی لمبے بالوں والے سے پوچھا تھا جو زمین کو ماں کہتا تھا اور پانی کو باپ۔
آھو! وہ مسکراتا تھا اور مسکراتا ہی رہتا تھا۔۔ اسے کوئی بات نہ حیران کرتی تھی اور نا وہ کسی لمحے کے گزرجانے پر پچھتاوا کرتا تھا۔۔
وہ کہتا تھا۔۔۔۔
سب گریزاں ہے، ہم سب گزر رہے ہیں، ایک دوسرے کے قریب سے، ایک دوسرے کے اندر سے، ایک دوسرے کی کیفیات پر بیت رہے ہیں، اور یہ سب ایسا ہی ہے، دائرہ وار، قوسین در قوسین۔۔۔ سب کچھ ایک دوسرے میں شامل ہے اور اپنی جگہ مکمل ہے، سب اپنی جگہ مکمل ہیں مگر کوئی مکمل نہیں ہے، سب کے ہونے کی حالتیں مختلف ہیں، ہر کسی نے کسی دوسرے کے ساتھ مل کر مکمل ہونا ہے۔۔۔ سفر آگے کا ہے اور یہاں پڑاؤ کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔،،
وہ بولتا جاتا تھا اور مسکراتا جاتا تھا۔۔۔
دھیان سے مُنا۔۔۔ لگی تو نہیں۔؟
وہ کہتا تھا اور مسکراتا تھا۔۔ جیسے اسے یقین ہو کہ کہیں کوئی چوٹ نہیں لگی ہوگی۔
فوکس، بیلنس اور مینیج۔۔۔۔ دھیان کرو مُنا۔۔۔ فوکس کرو گے تو خود کو بیلنس کرسکو گے خود کو بیلنس کر لو گے تو اردگرد کی چیزوں کو مینیج کرنے کے قابل ہو جاؤ گے۔
جی بابا۔۔۔ سب سے ضروری کیا ہے۔؟
فوکس، دھیان، اپنے رستے کا، اپنی منزل کا، اپنے اطراف کا، دھیان سب سے زیادہ ضروری ہے۔ وہ دور کہیں دیکھتے ہوئے بولتا تھا جو بالکل میرے جیسا تھا، اور میری ہی طرح بولتا تھا۔۔۔ اس کے کپڑے بھی میرے جیسے تھے۔
میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کے شانے کو چھوا۔ اور وہ فضا میں تحلیل ہوگیا۔۔۔ دھویں کی طرح، دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ میرا ہاتھ ہوا میں جھول کر میری برہنہ گود میں آگرا۔۔۔
میرا بدن لباس سے محروم تھا۔۔۔ اور اطراف میں رات کی نیلگوں سیاہی پھیلی تھی۔ درختوں کے سانس لینے کی آواز چاروں طرف پھیلی تھی اور میں طویل قامت درختوں کے درمیان بچھی گھاس کے تختے پر برہنہ بیٹھا تھا۔ وہ بھی بے لباس تھی مگر اس کا بدن لباس کی زحمت سے ماورا تھا، وہ بظاہر ویسی ہی تھی جن سے میں بے لباسی کی حالتوں میں ملتا رہا تھا مگر اپنے ہونے میں مختلف تھی۔ وہ کسی طرح بھی ان کے جیسی نہیں تھی۔ جو بولتی تھی اور مسکراتی تھی۔ درختوں کے سانس لینے سے اس کے سنہری بال ہوا میں لہراتے تھے اور میں اس کے بدن میں اٹھتی قوسوں پر دھیان کرتا تھا۔
میں عشاء ہوں۔۔۔ وہ درختوں کے سانسوں کے درمیان خوبصورتی سے گونجتی تھی اور اس کی آواز پر کسی رقص کرتے جھرنے کا گماں ہوتا تھا۔ وہ گھاس کے نرم تختے پر چلتی تو لگتا زمین سے دو انچ اوپر چل رہی ہے، نشے کی لہر کی طرح لہراتی ہوئی اس کی آواز میرے پورے جسم میں سنسنی پھیلا رہی تھی۔
تم سوتے ہوئے بہت اچھے لگ رہے تھے، مجھے اچھا نہیں لگا کہ تمہیں جگائوں۔

اچھا۔۔۔ میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ گود میں رکھ لیے۔
وہ ایک رنگین لہر کی طرح میرے قریب پھیلی گھاس پر بچھ گئی۔
مجھ سے کچھ مت چھپائو، میں تم سے بہت اچھی طرح واقف ہوں۔
اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا اور میں اس کی نظر کی تاب نہیں لاسکا تھا، میں نے چہرہ نیچے کرلیا اور گھاس کے تنکے توڑنے لگا۔
یاد کسی لہر دار تصویر کی طرح میرے سامنے آتی تھی۔ بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گرا تھا تو اس نے سنبھالا تھا جو میرے جیسا تھا اور میرے جیسے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ وہ بولتا بھی میری طرح تھا اور اس کے ہاتھ بھی میرے جیسے تھے۔
دھیان، مُنا دھیان۔۔۔

میرا سارا دھیان اس ایک لفظ پر اٹک گیا تھا اور باقی سارے الفاظ کہیں کھوگئے تھے۔ سسکیاں تھیں کہ بڑھتی چلی جاتی تھیں۔
روتے روتے اُس کی گود میں سویا تو وہ اس وقت بھی میرے کپڑے پہنے ہوئے تھا مگر میں اس وقت برہنہ نہیں تھا۔ جب آنکھ کھلی تو اس باغ میں تھا جس کے درختوں میں روشنی کے پھول کھِلے تھے اور گھاس کے دبیز تختے بچھے تھے۔ وہاں سنہری انگوروں کی بیلوں کے نیچے اور کوئی نہیں تھا مگر ایک سکون تھا، چمکیلی گھاس کے دبیز تختوں سے بھی زیادہ دبیز سکون۔۔۔ جو شاید مجھ سے پہلے سے وہاں موجود تھا، اس نے میری موجودگی کا برا نہیں مانا تھا۔
یہاں اس وقت برہنگی کی حالت میں ہونا میری خواہش اور تمنا کے باعث نہیں تھا بلکہ یہ کوئی اور معاملہ تھا، اس سے پہلے ہوچکے بیشتر معاملات کی طرح یہ بھی کوئی اور راستہ تھا جو خودبخود میرے قدموں سے آلپٹا تھا۔
ہم پانچ بہنیں ہیں، بڑی والی سب سے بڑی ہے اور چھوٹی والی سب سے چھوٹی، وہ شوخی سے مسکرئی تھی۔
اور تم۔۔۔ تم کتنی بڑی ہو اور کتنی چھوٹی ہو؟ میں بھی مسکرایا تھا۔
میں نہ بڑی ہوں نہ چھوٹی ہوں، میں بس ہوں۔۔ جیسے تم ہو۔ یہ درخت، پھول اور گھاس ہیں۔ یہ ہونا ہے اور ہونا ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ دور کہیں دیکھتے ہوئے بولتی جاتی تھی۔
تو وہ کون تھا جو سونے کے ٹھیکروں سے کھیلتے لڑکوں سے ڈر کے بھاگا تھا؟
نہیں، وہ ڈر کے نہیں بھاگا تھا۔ اسے اپنے ہونے کی طرف جانا تھا، اس وقت اسے وہاں نہیں ہونا تھا اس لیے اسے وہاں سے بھگا دیا گیا۔۔
کس نے بھگایا تھا، کون تھا وہ۔؟
تُم ہی تھے اور تُم ہی ہو، سب تمہارا ہونا ہے۔  وہ کہتی تھی۔
تو پھر تمہارا ہونا کیا ہے۔؟ میں نے پوچھا
یہ بھی تمہارا ہی ہونا ہے، تم ہو اس لیے میں ہوں۔
مگر میں یہاں کیسے آیا۔؟
کہاں۔؟
یہ، یہاں اس جگہ۔؟
کون سی جگہ ہے یہ۔؟
وہ میری حیرت کا مزہ لے رہی تھی۔
مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔۔ میں نے سر جھکالیا۔
یہ میرا باغ ہے اور تم یہاں ہو۔۔۔۔ عشاء کا باغ۔۔۔۔۔،،

وہ کھلکھلاتی تھی جیسے نیلمیں ہرے درختوں کی ٹہنیوں پر لگے پھول چمکتے تھے، اس کی ہنیس کے ننھے ننھے کوندے سارے میں لپکتے تھے اور وہ میری آنکھ کے احاطے میں نہیں سماتی تھی۔
ہم سب بہنوں کے اپنے اپنے باغات ہیں اور ہم سب کا اپنا اپنا ہونا ہے۔ ہم سب کے اپنے دائرے ہیں جسے تم وقت کہتے ہو۔
مگر میں تو کہیں ٹھو کر کھا کر گرا تھا،،
میں نے کہنا چاہا۔۔۔۔۔۔
گرے کب تھے۔؟ اس نے مجھے ٹوکا۔
تم نے گرنے نہیں دیا تھا خود کو۔،،
میں نے ۔؟
ہاں تم نے۔۔۔۔۔
تو وہ جو میرے جیسے کپڑے پہنتا تھا اور میری طرح بولتا تھا وہ میں ہی تھا۔؟
ہاں وہ تم ہی ہو۔،،
مگر وہ تو میرے بیٹے جیسا ہے۔،،
وہ بھی تو تم ہی ہو۔۔۔ تمہارے وجود سے پیدا ہونے والے تمہارے بیٹے میں بھی تو تم ہی ہو۔
اور تم۔؟
مٰیں نے آنکھیں اٹھا کر اس کے چہرے پر رکھ دیں۔
میں بھی تم ہی ہوں۔۔،، اس کی گنگناتی ہنسی سارے میں سرسراتی تھی اور مجھے اپنے رگ  و ریشے میں سنسناتی محسوس ہوتی تھی۔
ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔؟
ہوسکتا ہے، سب ہوسکتا ہے، اس عالمِ امکان میں سب ممکن ہے، اگر یقین نہیں ہے تو مجھے چھو کر دیکھ لو۔۔۔،،

وہ میرے قریب ہوئی اور میں یکدم پیچھے ہٹ گیا۔۔۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں یہ بھی اُس کی طرح تحلیل نہ ہوجائے۔
نہیں۔۔۔۔ میں جسے چھوتا ہوں وہ دھواں بن کر تحلیل ہوجاتا ہے، مجھ سے دور رہو۔۔۔،،
میں نے گھبرا کر کہا اور مزید پیچھے ہو کر بیٹھ گیا۔
ہوسکتا ہے اس بار ایسا نہ ہو۔،، اس نے آگے بڑھنے کی کوشش کیے بغیر کہا۔
وقت کتنا بھی ناقابلِ اعتبار سہی، اس کے کسی نہ کسی لمحے پر تو اعتبار کرنا پڑتا ہے۔۔۔،،
اُس نے کہا۔
ہاں ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو،، میں نے سرجھکالیا اور گھاس کے تنکے توڑنے لگا۔
ناں منا بری بات، گھاس کے تنکے نہیں توڑتے۔،،
اُس نے میرا سر سہلاتے ہوئے کہا تھا جو میرے جیسا تھا اور میری طرح کے کپڑے پہنتا تھا اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک شفیق سی مسکراہٹ رہاکرتی وہ نہ کسی بات پر حیران ہوتا تھا اور نہ اُسے کسی لمحے کے گزرجانے پر پچھتاوا ہوتا تھا، وہ کہتا تھا۔۔۔۔
سب گریزاں ہے اور سب گزرجائے گا، ہم سب گریز کی حالتوں میں ہیں ہمارا ہونا ہمارے ہونے کی اصل حالت کی طرف ایک سفر ہے اور ایک دن یہ سفر تمام ہوجائے گا اور ہم اپنی اصل حالتوں میں لوٹ آئیں گے۔،،
ہم۔۔۔۔ ہم سب۔؟ میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتا اور وہ پیار سے میرا سر سہلاتا۔
ہاں ہم سب۔۔۔،،
یہ گھاس بھی۔؟ میں نے میدان میں پھیلی گھاس کی طرف اشارہ کیا۔
ہاں یہ گھاس بھی۔۔۔،، اس نے کہا۔
اسی لیے منع کیا کہ گھاس کے تنکے نہیں توڑتے اس سے انسان کے ذہن میں منتشر خیالی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے دھیان سے ہٹنے لگتا ہے۔ دھیان میں رہنا بہت ضروری ہے۔،،
وہ گھاس کا میدان کوئی اور تھا مگر بات ایک ہی تھی۔
اُس نے بھی محبت سے ایک بات سمجھائی تھی اور اس نے بھی۔
تمہیں پتہ ہے ان لڑکوں نے تمہیں کیوں مارا۔؟
اُس نے پوچھا۔
نہیں۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔،، میں نے اسی طرح جھکے ہوئے سر کے ساتھ کہا۔
کیونکہ تم نے اس میدان میں پھیلی ان تمام بلاؤں کو دیکھ لیا تھا جسے وہ سونے کے ٹھیکروں سے کھیلنےوالے لڑکے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ حسد، لالچ، انتقام، تمسخر، انارکی، انانیت، تکبر اور تشدد کی وہ بلائیں ان کے دھیان پر حاوی تھیں اور وہ لڑکے ان بلاؤں کے معمول بنے ہوئے تھے۔ بڑے میدان میں ایک دوسرے کا ٹھٹھہ کرتے اور تمسخر اڑاتے وہ تمام لڑکے ان بلاؤں کے اسیر تھے اور اپنے اصل سے واقف نہیں تھے۔ تم نے انہیں دیکھ لیا تھا۔
مگر۔۔۔۔ مجھے تو ایسا کچھ بھی یاد نہیں۔؟
میں نے کہا۔
بس مجھے وہ اچھے نہیں لگے تھے اور وہ کھیل بھی بہت فضول سا تھا، سونے کے ٹھیکروں کا ڈھیر لگانا اور پھر اسے بکھرا دینا اور ایک دوسرے پر ٹھٹھے کرنا۔۔ بہت فضول سا لگا تھا مجھے ان کا کھیل، تو میں نے ان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا، جس پر ان سب نے مل کر مجھے مارنا شروع کردیا۔ پھر پتہ نہیں کیسے میں وہاں سے بھاگا اور پتہ نہیں کہاں جا کے گرا تھا مجھے ٹھیک سے سب کچھ یاد نہیں۔۔۔،،
میں انگلیوں سے اپنا ماتھا سہلانے لگا۔ میرے حلق میں نمک کا ذائقہ گھُل رہا تھا اور آنکھوں میں دھند تیرتی تھی۔
مجھے سب یاد ہے۔،، وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی اور درختوں سے بہت سارے سفید اور بنفشئی پرندے ایک ساتھ اڑے تھے اور باغ میں کئی رنگین لہریں پھیل گئی تھیں۔
مجھے شدید سردی محسوس ہونے لگی، میں اپنے بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹ کر مزید اپنے اندر سمٹ گیا۔
سردی لگ رہی ہے۔؟
اس نے پوچھا اور میرے بالکل سامنے آکر بیٹھ گئی بالکل میری طرح۔
لو، اب نہیں لگے گی۔،،
میں نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
اس کے وجود کے گرد ایک سفید ہالہ بنا ہوا تھا جس نے ہم دونوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ سردی کا احساس یکدم ختم ہوگیا اور اس کی جگہ ایک راحت بخش حرارت نے لے لی۔
اب تو نہیں لگ رہی سردی۔،، اس نے کہا اور کھلکھلا کر ہنسی، وہی معنی خیز اور آشنا ہنسی، جسے لگتا تھا کہ میں صدیوں سے جانتا ہوں۔
درختوں سے مزید سسفید اور بنفشئی پرندے اڑے اور باغ میں کئی رنگین لہریں کوند گئیں۔
میں یہاں کیسے آیا۔؟ میں نے اس سے پوچھا۔
مجھے کیا پتہ۔،،
اس نے کندھے اچکا کر کہا اور پھر وہی آبشاروں کی سی ہنسی۔۔ پرندے اڑانے اور رنگین لہریئے پھیلانے والی انوکھی ہنسی۔۔۔ جیسے اکسارہی ہو، اپنے طرف کھینچ رہی ہو، ایک عجیب فسوں ساز سی ہنسی میرے وجود میں سرسراتی تھی اور اس کے چہرے سے نکلتی شعائٰیں سارے میں ایک عجیب سا ہالہ بنارہی تھیں، میں خود کو اس کی طرف زیادہ دیر تک دیکھتے رہنے سے قاصر پاتا تھا۔ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے بار بار اپنی طرف دیکھنے کا خیال آتا تھا اور اپنی برہنگی کا احساس شدت سے ہوتا تھا۔

اُس کے جیسی بہت ساری جو مختلف وقتوں اور حالتوں میں ملی تھیں، ہنستی بھی تھیں، روتی بھی تھیں اور رلاتی بھی تھیں مگر ان میں سے کسی کی ہنسی ایسی نہیں تھی پرندے اڑانے اور رنگین لہریئے بنانے والی انوکھی ہنسی، اور ایسے کسی باغ میں بھی نہیں ملی تھیں جس کے درختوں کی چوٹیاں نظر نہیں آتی تھیں اور نہ گھاس ایسی رنگین تھی اور نہ پھول اور نہ انگور ایسے سنہری، شہدیلے گچھوں والے جو بیلوں سے لٹکے جھول رہے تھے اورلگتا تھا کہ کسی بھی لمحہ ان میں سے شہد ٹپکنے لگے گا۔۔۔۔۔
تم کون ہو اور یہ کون سی جگہ ہے۔؟
میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
وہ پھر ہنسی اور پھر ویسے ہی بہت سے سفید، کاسنی اور بنفشئی پرندے درختوں کے جھنڈ سے نکل کر آسمان کی طرف پرواز کرتے دکھائی دیئے۔ اور کاسنی، بنفشی، زعفرانی رنگین لہریے جو فضامیں بل کھاتے اور ہمارے اطراف گھاس کے تختوں پہ گر کر تحلیل ہوتے دکھائی دیتے تھے۔
بتایا تو ہے میں عشاء ہوں اور یہ میرا باغ ہے۔ اور اب یہ باغ بس تھوڑی ہی دیر ہے پھر نہ یہاں میں ہونگی اور نہ یہ باغ۔،،
اور میں۔؟ میں نےجلدی سے پوچھا۔
ہاں، تم بھی،، اس نے کہا۔
تم کہاں جائوگی۔؟ میں نے پوچھا۔
جہاں مجھے ہونا چاہیے۔،، اس نے کہا۔
کہاں ہونا چاہیے تمہیں۔؟ میں نے پوچھا۔
یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے، میں بس ابھی ہوں یہاں اور تھوڑی دیر بعد نہیں ہوئونگی، تم چاہو تو مجھے چھو کے دیکھ سکتے ہو۔،، اس نے کہا۔
نہیں، میں نے قطعیت سے کہا اور گھٹنوں پر دھرے اپنے ہاتھ مزید مضبوط کرلیے۔
وہ بغیر کچھ کہے میری طرف دیکھتی رہی۔
مجھے لگا کہ میں کچھ مضحکہ خیز سا نظر آرہا ہوں، میں نے اپنی پشت کو ذرا سا ڈھیلا کیا اور آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر، گھٹنوں کے گرد لپٹے اپنے ہاتھ کھول کر میں نے گود میں رکھ لیے۔
میں جسے بھی چھوتا ہوں وہ دھویں کی طرح فضا میں تحلیل ہوجاتا ہے،، میں نے اس کی طرف دیکھا اور پھر چہرہ نیچے کرلیا۔ آنکھوں میں پھر وہی سرمئی دھند تیرنے لگی تھی۔
میں نے تو پہلے بھی کہا کہ اگر یقین نہیں ہے تو چھو کے دیکھ لو، اس نے ہوا میں اپنا ہاتھ لہرایا اور فضا میں سنہری افشاں پھیل گئی۔۔۔
پھر وہی ہنسی، اکسانے والی، اپنی طرف بلانے والی، عجیب گنگناتی اور گدگداتی ہوئی ہنسی۔
میں نے رُکتے، جھجھکتے، ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ بڑھ کر اسے چھونے کی کوشش کی اور اس کے ہاتھ سے ٹکراتے ہی وہ مسکراتی ہوئی شبیہ دھواں بن کر فضا میں تحلیل ہونے لگی۔۔۔

میرا ہاتھ ہوا میں جھول کر رہ گیا۔
تمام شُد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افسانہ نگار: سید کامی شاہ، کراچی

سید کامی شاہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مارا گیا – ثروت فروغ
اگلی پوسٹ
اِسٹوری میں دم نہیں ہے – ڈاکٹر ذاکر فیضی

یہ بھی پڑھیں

زندگی کے درمیاں – وصی الحق وصیؔ

اکتوبر 11, 2025

بُت اگر بولتے – قیُوّم خالد

جنوری 20, 2025

بھیگے ہوئے لوگ – اسلم سلازار 

جنوری 6, 2025

شیشے کے اُس پار – ڈاکٹر عافیہ حمید

ستمبر 18, 2024

دو دوست /موپاساں – مترجم: محمد ریحان

ستمبر 9, 2024

غریبِ شہر- ڈاکٹر فیصل نذیر

ستمبر 8, 2024

راج دھرم – ڈاکٹر ابرار احمد

اگست 7, 2024

پہلی نظر – تسنیم مزمل شیخ

جون 18, 2024

کائی – قیُوّم خالد

جون 2, 2024

یہاں کوئی کسی کا نہیں – ڈاکٹر ابرار...

مئی 28, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں