زیست کے شبستانوں میں جب تاریکی خیمہ زن ہوتی ہے۔ اُس وقت فصلِ گل کے موسم میں بھی زمانے کے دیئے زخم مہک اُٹھتے ہیںاور درد کے بادل ٹوٹ کر برسنے لگتے ہیں۔یہ جھڑی رات بھر لگی رہتی ہے اور روح کے ٹکڑ ے ریزہ ریزہ ہوتے رہتے ہیں۔جب صبح نمودار ہوتی ہے تو اِن کرچیوں کو سمیٹ کر پھر ایک داخلی زندگی کی تشکیل دینے کی کوشش شروع ہوتی ہے تاکہ زندگی کا سفر جاری رہے۔!!ایسی ہی زندگی گورکن جی رہا ہے۔!
شام رفتہ رفتہ گھنگھور سیاہ سمندر میں ڈوبتی جارہی ہے۔گورکن پانچ قبریں کھود چکا ہے۔چھٹّے قبر کی زمین تلاش کرنے کے بعد وہ قبرستان کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیاکہ کس گھڑی کس کی میّت کے آنے کی خبر آجائے اور خبر آنے سے پہلے قبر کھدا رہے گا تو پریشانی کم ہوگی۔آج دن بھر ایک دانہ پیٹ میں نہیں گیا۔نقاہت بڑھتی جارہی ہے۔گھر میں جو ان بیٹی کی فکر کھائے جارہی ہے۔جس وقت اُسکی بیوی اُس کا ساتھ چھوڑ گئی اُس وقت اُس کی بیٹی کی عمر دوبرس کچھ ماہ تھی۔تب سے وہ اِس کو سینے سے لگائے جیتا رہا۔اُس کو لے کر قبرستان جاتا اور ایک سفید چادر بچھا کر اسکو بیٹھا دیتا ۔جب تک چھوٹی تھی قبرستان میں کھرپی کے ساتھ گورکن کے آگے آگے چلی اور بڑی ہوئی تو کاندھے پر کدال لے کر قبرستان جانے لگی اور واپسی پر چاول دال کی گٹھری سر پر اُٹھائے گھر آتی ۔یہی کرتے کرتے اُس نے شباب کی اونچائی کو جب چھولیا تو ایک دن گورکن نے کہا۔
’’بیٹی اب تم قبرستا ن مت جانا۔!!‘‘اُس نے پوچھا۔
’’ کیوں بابا۔؟گورکن نے کہا۔
’’بیٹی بالغ لڑکیاں اور عورتیں قبرستان مرنے کے بعد ہی جاتی ہیں۔!!‘‘گھر سے آتے وقت بیٹی نے ڈوبتی آواز میںکہا۔
’’بابا رات کا کھانہ پکانے کے لئے ڈبّے میں نہ چاول ہے اور نہ آٹا۔!!‘‘گورکن نے کاندھے پر کدال اُٹھاتے ہوئے کہا۔
’’صبر کروبیٹی آج ایک ساتھ پانچ میّت آنے والی ہے۔کئی دنوں کے لئے چاول دال ملنے کا اِمکان ہے۔!‘‘
’’صبر کرتے کرتے تو دو دن ہوگئے بابا۔؟اب بھوک برداشت نہیں ہورہی ہے۔!!‘‘
’’گھبرائو مت بیٹی۔اللہ پر بھروسہ رکھو وہی رزق دینے والا ہے۔!!‘‘
(یہ بھی پڑھیں پروین شاکر کی شاعری میں اسلامی تاریخ کا منظرنامہ- ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی)
جیسے جیسے شام ڈوب رہی تھی قبرستان خالی ہوتا جارہا تھا۔چرند وپرند اپنے اپنے آشیانے میں جانے کی تیاری کرنے لگے اور کھڑے اشجار سیاہ دھبیّ میں تبدیل ہوتے گئے۔اُس نے لالٹین جلائی اور قبر سے نکلی مٹی کی ڈھیر پر رکھدیا۔ہمت جٹائی اور کدال لیکر چھٹّے قبر کو کھودنے میں مشغول ہوگیا۔ماحول میں اُمس بہت زیادہ تھی۔بغل میں تازہ قبر کے سرہانے مٹی کا مٹکا رکھا ہوا ہے۔وہ اُٹھ کراُس کے قریب گیا۔اُس میں تھوڑا سا پانی ہے۔مٹکے کو ہاتھ میں لے کرمنہ کو اوپر اُٹھایااور اپنی حلق کو تر کیا اور ہاتھ بھگو کر چہرے کو پونچھا پھرتازہ دم ہوکر قبر کھودنے میں مشغول ہوگیا۔تب تک قبر کی گہرائی اپنے ماپ کو پہنچ چکی تھی۔اُس نے قبر میں بیٹھ کر دیکھا تاکہ منکر نکیر کے آنے پر مردہ اُٹھ کر بیٹھ سکے ۔!کیونکہ مرد ے کو دفن کرکے قبر سے چالیس قدم دور ہٹتے ہی قبرمیں منکر نکیر آتے ہیں اور اُس کے دنیاوی اعمال کا حساب و کتاب شروع ہوتا ہے۔! لالٹین کی مدھم روشنی میں وہ کُھرپی سے قبر کی دیوار کوہموار کرنے میں مشغول ہوگیا۔اُسے یہ خوف ستاتا رہا ہے کہ بارش نہ ہونے لگے۔اُس نے من ہی من میں دعا کی۔
’’ اے دنیا کے مالکِ کل جب میّت کو دفنا لیا جائے تو بارش برسانا کہ قبر کوخشک کرنے کے لئے ہم کو ریت کے بورے کو اِس نا تواں کاندھے پر ڈھوکر لانا ہوگا اور میری نقاہت پانچ قبر کھودنے کے بعد کافی بڑھ گئی ہے۔!‘‘
قبرستا ن سے چند گز کے فاصلے پر ایک چرچ ہے۔اُس کے پادری اور گورکن سے روزانہ شام کو چائے کی دُکان پر ملاقات ہوتی ہے۔وہ اپنی اکلوتی بیٹی کو لے کر چائے کی دکان پر چائے پلانے آتاہے۔گفتگو کے دوران وہ اکثر گورکن سے کہتا ہے۔
’’جب میں اپنی بیٹی کی شادی کرونگا توسفید سفیدکپڑے پہنا کر چرچ میں یسوع کے سامنے پاک دامن کنواری کے روپ میں پیش کرونگا ۔اُس کے ہاتھوں میں سفید پھولوں کاتحفہ دیکھ کر مریم مسکرادیں گی اور اپنے داہنے ہاتھ کو اُس کے سر پر رکھ کر ہزاروں دعائیں دے گیں۔پھر میری بیٹی زندگی کے سفر پراپنے جیون ساتھی کے ساتھ روانہ ہوجائے گی۔!!‘‘
اس کوخیال آیا گھر میں جوان بیٹی چاول اور دال کے انتظار میں بیٹھی ہوگی اور ابھی تک ایک بھی میّت نہیںآئی کہ چاول اور دال گھر بھیج سکوں۔رات کے گیارہ بج گئے ہیں۔جنازہ گھر خالی ہے اُس نے بانس اور درمے کے ٹکڑے کو مٹی کی ڈھیر پر لا کر رکھدیا ۔اب اُس مٹکے میں پانی بھی نہیں ہے کہ خشک گلے کو تر کر سکے۔ اُس نے ایک ہاتھ میں لالٹین اور دوسرے میں کدال لے کر قبرستان کی پگڈنڈی سے ہوتے ہوئے لالٹین کی مدھم روشنی میں بوجھل بوجھل قدم اُٹھاتے ہوئے جنازہ گھر کی طرف بڑھنے لگا۔اُسے بیٹی کی یاد اب شدّت سے ستانے لگی۔جنازہ گھر پہنچ کر اُس نے کدال ایک کونے میں رکھدیااور لالٹین کی لو کو تیز کرکے قبرستان کے صدر دروازے پر رکھدیا کہ اہل میّت سمجھ جائیں کہ قبرستان میں کوئی اُن کاانتظار کررہا ہے۔ہاتھ پیر دھوکر ایک اونچے چبوترے پر بیٹھ گیا۔چاروں طرف آسمان پر بادل ابھی بھی گھنیرا بادل ہے۔اُس نے سوچا۔تارے سب اوجھل ہوگئے ہیں۔آج چاند تو سرفلک دکھائی نہیں دے گا کہ یہ اماوس کی رات ہے۔!ایسے میں اُسے دادی کی کہی ہوئی راہو کیتو کی کہانی یاد آئی ۔کہانی جیسے ہی کلائمکس پر پہنچی، ایک نسوانی آواز کی سرد چینخ دور سے آتی سنائی دی ۔اُس کے رونگٹھے کھڑے ہوگئے۔اُس نے من ہی من میں سوچا۔ابھی تھوڑی دیر پہلے جس قبر کے مٹکے سے میں نے اپنی پیاس بجھائی شاید اُس میں دفنا ئی گئی میّت پر عذاب نازل ہورہا ہے ۔بچپن میں اس کے والد اکثر کہا کرتے ۔منکر نکیر قبر میںآتے ہیں اور سوال کرتے ہیں۔ اگر ایک بھی جواب غلط ہوتا ہے تو وہ مردے کو دُرّے مارتے ہیں اور وہ چھ گز نیچے زمین میں دھنس جاتا ہے۔پھر وہ بال پکڑکر کر باہر نکالتے ہیں اور پھر مارتے ہیں۔شاید ایسا ہی اُس میّت کے ساتھ ہورہا ہے۔اُس نے چاروں طرف نظر دوڑایا۔ہر طرف سنّاٹا چینخ رہا ہے۔آدم زاد کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔چند کتّے بیدار ہیں اور بھونک رہے ہیں۔اتنے میں اُس کی نظر سڑک کے کنارے کتّے اور کتیّا کی ایک جوڑی پر پڑی ۔اُس نے دیکھا ۔کتا بار بار اُس کے ساتھ زبردستی کررہا ہے۔رات کی سیاہی میں اُس کی عصمت پر دھاوا بول رہا ہے۔وہ بھاگنا چاہتی ہے پر رات کے اندھیرے میں وہ بھاگنے سے مجبور ہے۔جھپٹا جھپٹی کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے۔تھوڑی دیر بعد کتیا تھک کر سپر ڈال دیتی ہے اور کتا اُس کی پیٹھ پر سوار ہوجاتا ہے۔حرکت شروع ہوتی ہے اور وہ ہونے والی حرکت کو بغور دیکھتا رہتا ہے۔تھوڑی دیر بعد کتیّ کی حرکت رُک جاتی ہے اوردونوں کے سر ایک دوسرے کے مخالف سمت میں ہو جاتے ہیں۔پھر تھوڑی دیرکھنچا تانی کے بعد کتیا کو کتے سے نجات مل جاتی ہے اور لہولہان وہ تیزی کے ساتھ بھاگتی ہے اور کنویں کے پاس آکر ہانپنے لگتی ہے۔! (یہ بھی پڑھیں نینوں کے پگ بھیگ گئے……..!!! – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی )
اُس نے سوچا۔میّت آنے میں ابھی شاید دیر ہے۔رات کے بارہ بج گئے ہیں۔!وہ چبوترے سے اُترااورچوڑی سڑک فرلانگ کر میدان کی پگڈنڈی پر لمبے لمبے ڈیگ بڑھاتے ہوئے اماوس کی اندھیری رات میں اپنے دروازے پر دستک دی۔کوئی جواب نہیں۔!یہ سوچتے ہوئے کہ شاید بھوک کی شدّت سے نڈھال ہوکر بیٹی سوگئی ہے۔اُس نے دروازے کوزور سے دھکا دیا۔دروازہ کھُل گیا۔وہ بد حواس فرش پر سوئی ہوئی ہے۔اُس نے مٹی کا چراغ جلاکرآہستہ سے آوازدی۔
’’بیٹی سوگئی۔۔۔!!ابھی میّت آنے میں دیر ہے۔اِس لئے چاول دال کا بندوبست نہیں ہوسکا ۔!‘‘
پلٹ کر اُس نے چراغ کی روشنی میں دیکھا۔اسکاچہرہ زرد ہوگیا ہے۔اس نے تعجب سے پوچھا۔
’’بیٹی یہ سب کیسے ہوا؟‘‘
اُس نے جواب نہ دے کر کراہتے ہوئے پانی مانگا۔چراغ کووہیں فرش پر رکھ کر وہ آنگن کے گھڑے سے ایک ڈونگا پانی لایا۔ بیٹی نے ڈونگے میں پانی کو دیکھ کر لرزتی آواز میں کہا۔
’’بابا۔۔!پانی بہت گندہ ہے۔!!‘‘بابا نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا ۔
’’پی لو بیٹی جہاں کی مٹّی گندی ہوجاتی ہے وہاں کا پانی بھی گندہ ہوجاتا ہے۔!!‘‘اس نے کراہتے ہوئے کہا۔
’’بابا صبح کب ہوگی۔؟‘‘
’’ اماوس کی رات تھوڑی لمبی ہوتی ہے بیٹی۔!!‘‘
بیٹی کے درد کے بھنور میں گورکن کی سانس پھولنے لگی۔پانی گلے سے نیچے اُترتے ہی اُس کی سانس رک جاتی ہے۔گور کن گھبرا جاتا ہے۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔پھر اپنے حواس کو ٹھیک کرتا ہے۔نبض ٹٹولتا ہے۔کوئی حرکت نہیں۔!رخسار پر اپنے رخسار کو رکھتا ہے۔برف کی طرح ٹھنڈا۔!چراغ کی روشنی میں آنکھ دیکھتا ہے۔آنکھیںپتھراگئیں ہیں۔!سینے پر کان رکھتا ہے۔دھڑکن بند ہے۔!گھبراہٹ سے دونوں پیر کانپنے لگتے ہیں۔گھڑی پر نگا ہ جاتی ہے۔یہ زوال کا وقت ہے۔!ایسا لگا جیسے کوئی کہہ رہا ہے ۔
’’چھّٹی قبر تیار ہے۔جلدی کرو جنازہ آتا ہی ہوگا۔!‘‘
وہ فورا اُٹھتا ہے۔کنویں سے دو بالٹی پانی لاکر اُس کے کومل جسم پر ڈھال دیتا ہے کہ ناپاکی دھُل جائے۔پھر اپنی مرحوم بیوی کا صندوق کھولتا ہے۔صندوق میں لاوارث میّت کے لئے کفن تیار رکھا ہوا ہے۔ایک کفن کو نکالتا ہے۔بیٹی کے جسم کو کفن کے رومال سے خشک کرتا ہے ۔کفنی پہنانے کے بعد کفن کی چادر کو فرش پر پھیلا کر مردہ بیٹی کو لیٹا دیتا ہے۔دونوں دامن کو موڑ کر سر اور پیر کے پاس بندھن باندھ دیتا ہے اور میّت تیار ہوجاتی ہے۔! تھرتھراتے قدموں سے بیٹی کی میّت کو کاندھے پر اُٹھاتا ہے اور اندھیری رات میں دوڑتے ہوئے قبرستان کی طرف بھاگتا ہے۔کہ میّت آتی ہی ہوگی۔!جنازہ گھر میںبچھے چٹائی پر جیسے ہی لیٹا تا ہے کہ میّت آجاتی ہے۔!ایک ایک میّت کو قبر میں دفن کر نے کے بعد وہ بھیڑ سے کہتا ہے۔
’’ایک لاوارث میّت جنازہ گھر میں رکھی ہوئی ہے۔آپ لوگ اُس کو بھی مٹی دیتے جائیے۔!‘‘
بھیڑ جنازہ گھر کا رخ کرتی ہے۔میّت اُٹھائی جاتی ہے اور جیسے ہی قبر میں اُتاری جاتی ہے۔اسکے کانوں میں پادری دوست کی آواز گونجنے لگتی ہے۔! (یہ بھی پڑھیں شہنازرحمن کا افسانہ”شب تاب“ ایک مطالعہ – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی)
’’جب میں اپنی بیٹی کی شادی کرونگا توسفید سفیدکپڑے پہنا کر چرچ میں یسوع کے سامنے پاک دامن کنواری کے روپ میں پیش کرونگا ۔اُس کے ہاتھوں میں سفید پھولوں کاتحفہ دیکھ کر مریم مسکرادیں گی اور اپنے داہنے ہاتھ کو اُس کے سر پر رکھ کر ہزاروں دعائیں دے گیں۔پھر میری بیٹی زندگی کے سفر پراپنے جیون ساتھی کے ساتھ روانہ ہوجائے گی۔!!‘‘
قبر میں لیٹاتے وقت بیٹی کے ہلتے جسم دیکھ کر گورکن کو ایسا لگا جیسے لہولہان کتیاکنویں کے پاس ہانپ رہی ہے۔!!

