Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
انشائیہ

عقل بڑی کہ بھینس – پروفیسر عبدُ البرکات

by adbimiras فروری 26, 2025
by adbimiras فروری 26, 2025 0 comment

پروفیسر عبدُ البرکات

شعبۂ اردو, بی۔آر۔امبیڈکر بہار یونی ورسیٹی،

مظفرپور(بہار)

Mob. : 8210281400

 

علمیت کی دنیا میں اس کہاوت’’عقل بڑی کہ بھینس‘‘کی قدر نہیں کی جاتی بلکہ کسی کی ذہانت کا اندازہ لگانے کے لیے بطورِ تضحیک، یہ سوال کردیا جاتاہے۔حالاںکہ ماہرینِ اغذیہ کا دعویٰ ہے کہ دودھ سے انسانی عقل میں اضافہ ہوتا ہے اور قُویٰ مضبوط ہوتے ہیں۔اگر کسی نے سرے سے دودھ ہی نہیں پیا ہو!! اس کے تعلق سے سوچ سکتے ہیں۔دودھ انسان کا ہو یا گائے، بھینس اور بکری کا، چاہے بھیڑ یا اونٹنی کا؛ اس کو امرت سے تعبیر کیاجاتاہے۔ہاں! بھینس کے دودھ کی دبیز ملائی اور اس کی چھاچھ کا پہلوان ہی نہیں، سبھی دیوانے ہیں اور اس کے گاڑھے دودھ کی مٹھائیوں کا ذائقہ لاجواب ہوتاہے۔واقعتاً جغرافیائی اور موسمی افتراق کے اثرات سے کوئی مبرا نہیں ہوسکتا۔جانوروں کی جسمانی ساخت پر بھی اس کے واضح اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں تو دودھ کی تاثیر میں فرق آنا لازمی ہے۔ اس لیے بعض جانوروں کے دودھ کی افادیت کے پیشِ نظر دوا کمپنیاں اس کے حصول کے لیے موٹی رقم ادا کرتی ہیں۔

صاحبو! بھینس ہماری؛ جس کی ہے بات نرالی، اس نے تو دورِ رواں میں اپنی اہمیت، افادیت اور کچھ حد تک جسامت کے اعتبار سے خشکی کے سب سے بڑے جانور کو مات دے کر سلی بریٹی( celebrity) ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔بلکہ اس کے اولادِ نرینہ’ارنا بھینسا‘ نے تو اکبر کے لکنہ ہاتھی پر بھی سبقت حاصل کرلی ہے۔آل انڈیا کسان فیسٹیول نومبر ۲۰۲۴ء میں بھینسوں کی نمائش ہوئی، جس میں ایک ’انمول‘ نام کی بھینس جس کی قیمت ۲۳؍کروڑ لگائی گئی، پھر بھی اس کے مالک نے فروخت کرنے سے انکار کردیاکہ صحت مندی کی دوڑ میں اس کا کردار انمول ہے۔اس نام اور دام کے ایک بھینسا کی بھی نمائش ہوئی۔نیز’شہنشاہ‘،’یوراج‘، ’سلطان‘ وغیرہ کے نام سے وقیع جسامت،رعب دار وضع قطع اور شاندار و دمدار بھینسا؛ تیلوں کی مالش سے اس قدر چمچماتے ہوئے ریمپ سے گزرتے کہ ان کے سامنے تراشیدہ، سیاہ ڈائمنڈ بھی ماند پڑجائے۔ان کی سج دھج کی وجہ سے دور کا جلوہ ہی میں سامعین؛ عافیت محسوس کرتے اور دیگر مشاہیر کی طرح ان کے قریب جاکر چھونے سے پرہیز کرتے۔ارنا بھینسوں کو دیکھ کر ناظرین کو سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ ان کے مالک اور خادم نے عمدہ چارہ، کثیر میوہ جات اور صبح و شام کی مالش سے ان کو اپنا گرویدہ بنالیاہے،ورنہ اس کوی ہیکل جانور کے گلے میں رسّہ لگاکر دونوں طرف سے ایک ایک خادم (مہاوت تو کہا نہیں جاسکتا) ان کو ریمپ کرارہے تھے اور جھیل کی طرح شانت مزاج ایک ایک بھینسا، بے نیازی سے اپنا جلوہ بکھیرے جارہے تھے، نہیں توکیا مجال جو کوئی بغل سے گزر جائے۔اب تو جنگلوںکی خبریں بھی سنیدہ نہیں دیدہ ہوگئی ہیں کہ شیر کی بادشاہت کو کس طرح جنگل کے بھینسوںنے چیلنج کیاہے۔کسی کمزور و لاغر بھینس کو دیکھ کر کوئی شیر اس کو دبوچ لیتاہے تو ارنا بھینسا کی نظر پڑتے ہی وہ فرار کی راہ اختیار کرلیتاہے،بصورتِ دیگر بھینسا اپنے سینگ سے اٹھاکر نچانچاکر دور اس طرح پھینکتا ہے کہ دوبارہ وہ شیر کسی بھینس کی طرف نظراٹھاکر نہیں دیکھتا۔شیروں اور بھینسوں کا جھنڈ کے آمنا سامنا ہونے پر شیروںکو ہی بھاگنا پڑتاہے۔ان بھینسوں کی موجودگی میں کسی دوسرے جانور کی طرف بھی شیر؛نظراٹھاکر نہیں دیکھتے، بھینسے ان کے محافظ بن جاتے ہیں۔

حضرات! ان تمام خوبیوں نے اب اہلِ ثروت کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی ہے اور بھینس کے سلی بریٹی بنتے ہی ان کی ہوش و خرد کو جِلا ملی ہے کہ ہاتھی پالنے کا شوق عصری پس منظر میں سہج نہیں رہ گیا ہے۔ ہاتھی کی رہائش کے لیے جتنی جگہ زمین کی ضرورت پڑتی ہے، اتنی میں ہزاروں لوگوںکے لیے شاندار عمارت(complex)تیار ہوجاتی ہے۔ پھر کھانے کے لیے ایکڑ کی ایکڑ زمین میں گنّے لگائے جاتے ہیں، پھر بھی ان کی خوراک پوری نہیں ہوتی تو فیل بان گھما پھراکر لوگوں کے پیڑپودے کھلاتے ہیں اور جھگڑے کے بیج بودیتے ہیں جو دورِ جمہور میں بارآورہوجاتے ہیں۔ہاتھیوں نے تو کتنے فیل بان کو پٹخ کر مار ڈالاہے اور سنک جانے پر جدھر سے گزرے اُدھر کہرام مچادیا۔اس لیے جنگل میں ان کو آزاد رہنے کا ارادہ کرکے اہلِ ثروت حضرات نے بھینسوں کے لیے اپنے گھر کے دروازے کھول دیا ہے کہ اس بے ضرر جانور کو پالنے میں ہر طرح سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔بھینس پالو اور گھر میں دودھ دہی کا دریا بہاؤ، اگرمن اُتاؤلا ہوا تو اس دریا کا رخ صارفین کی طرف موڑدو؛ مال و زر بے حساب آئے گا۔ بھینس کے بچّے جس کو کٹرا اور کٹری کہتے ہیں، ان کی معصومیت اور نہایت سیدھاپن کی وجہ سے ہمارے علاقہ میں پاڑا اور پاڑی سے منسوب کیا جاتاہے۔ ہم لوگوں کے بچپن کے دنوں میں جو کُند ذہن ہوتا اس کو ’پاڑا‘ کے خطاب سے نواز دیاجاتا۔بہرکیف! اچھی نسلوں کی بھینسوں کے بچوں کی کیا بات ہے!!بھینس نے اگر کٹری کو جنم دیا تو اس کی خاطر مدارات بڑھ گئی کہ وہ ماں کی قائم مقام ہوگئی اور اگر اس نے کٹرے کو جنم دیا تو پھر کیا کہنا۔اچھا چارہ، دانہ، میوہ جات اور بسلری پانی پلاکر اور مساج کرکے ’ارنا بھینسا‘ بنادیا جس کو دیکھنے اور مادۂ منویہ حاصل کرنے(جس سے ہر روز لاکھوں کی آمدنی بتائی جاتی ہے)کے لیے کھٹال(بتھان) پر مجمع لگا رہتا ہے کیوںکہ اس سے جنمے بچے بہت دودھارو ہوتے ہیں۔گویا بھینس پالو، فائدہ ہی فائدہ اٹھاؤ اور ہاتھی پالو تو صرف نام بناؤ اور خسارہ اُٹھاؤ۔خود بھی مصیبت مول لو اور دوسرے کی جان بھی ہلکان میں ڈال دو۔لہٰذا جو لوگ بھی ’’عقل بڑی کہ بھینس‘‘ کی کہاوت سے دوسرے کو احمق بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کواب عقل کے ناخن لینا پڑے گا۔

اس پس منظر میں درس و تدریس سے وابستہ حضرات اور طلبہ کے ذہن میں سوال اٹھنا لازمی ہے کہ جو جانور انسانوں کے لیے ہمہ جہت مفید ہے اور تما جھگڑے رگڑے سے بے نیاز کھاپی کر اس کو سکون سے جگالی کرتے دیکھ کر لوگ پھبتی کستے ہیں’’بھینس کے آگے بین بجائے بھینس کھڑی پگرائے‘‘ ان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی شانِ بے نیازی سے پیغام دیتی ہے کہ دنیاوی نعمت سے مستفیض ہوجائیں تو خود امن چین کی بانسری بجائیں اور دوسروں کو بھی سلامتی اور سکھ چین سے جینے دیں۔جب آسودہ حال بھینس چارہ گاہ کی سیر سپاٹے کے بعد اپنے سویمنگ پُل (تالاب) میں ہیر(بیٹھ کر جگالی)جاتی ہے تو باہر سے کوئی لاکھ لاٹھی ڈنڈے دِکھائے یا ہری ہری گھاس؛وہ کسی بھی ڈر، خوف یا لالچ سے بالاتر اپنی قناعت پسندی کا مظاہرہ کرتی ہے۔بھوک کی شدت ہی اس کو باہر کھینچ لاتی ہے جو واجب ہے۔ہاں! ابھی وہ سوال برقرار ہے کہ بھینس کو فن کاروں اور قلم کاروں نے کیوں نظرانداز کیا۔ گائے کے گن گان تو زمانۂ قدیم سے جاری و ساری ہے اور اس پر اسکول کے دنوں سے ہی مضمون لکھنے کا مشق کرایاجاتاہے۔ پھر اس کی عظمت و برتری پر کتابیں بھی دستیاب ہیں۔جن دنوںہم لوگ اسکول میں پڑھاکرتے تھے، منشی پریم چند کی کہانی ’’دو بیلوں کی جوڑی ہیرا اور موتی‘‘ نصاب میں شامل تھی جس پر گاؤں کے معاشی حالات و معاملات کے گہری چھاپ ہے۔کیوںکہ بیلوں کی جوڑی سے کہانی، آپسی میل جول اور اتحاد کا پیغام دیتی ہے کہ ہیرا اور موتی نے اپنی ایکتا اور تال میل سے ایک سنکی سانڈ پر تابڑ توڑ دونوں جانب سے حملہ کرکے مار بھگایا۔ پھر بیلوں کو ہیرا موتی کی طرح جوڑی لگانے کی روایت اتنی مقبول ہوئی کہ آج بھی کسان میلہ درمیلہ گھوم کر اپنے بیل کی جوڑی لگاتے ہیں۔ آج مشینوں نے بھلے ہل جوتنے اور مال ڈھونے والے جانوروں خصوصاً بیل اور بھینسا کی مشکلیں آسان کردی ہے لیکن سماجی زندگی کی ابتدا کے آدمی ان کے احسان تلے دباتھا۔اسی طرح معاشرتی نظام کے ابتدائی دور میں آدمی کے معاون کے طور پر کتے کام کرتے اور شکار میں مددگار ہوتے جس کی وجہ سے کتے کو وفاداری کا تمغہ عطا کردیاگیا جو آج تک اس کے سرپر جگمگا رہا ہے، لیکن اس سے ڈرو خوف کا یہ عالم ہے کہ ’’کتّے‘‘ جیسے معیاری، عمدہ اور زوردار مزاحیہ مضمون لکھنے والے پطرس بخاری کی گھگھی بھی رات کے اندھیرے میں کھڑی بکری کے سایہ کو دیکھ کر بندھ گئی کہ یہ کہیں کتا نہ ہو!!۔غالبؔ تو کتا سے اس قدر خائف تھے کہ یہاں تک بول اٹھے:

پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔ

ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں

قلم کاروں اور فن کاروں نے بہت سے جانور اور چرند و پرند کو اپنی تخلیقات کا موضوع بناکر شہرتِ دوام عطا کیاہے۔ اردو زبان و ادب کے ابتدائی دور سے ہی جانوروں اور پرندوںکی صفات اور افادیت پر نظمیں اور تحریریں ملتی ہیں۔نظیر اکبرآبادی نے متعدد چھوٹے چھوٹے جانوروں پر نظمیں لکھ کر ان کو متعارف کرایاہے جب کہ مکالماتی نظم’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ میں گلہری کے اوصاف اور نظم’’جگنو‘‘ میں جگنو کی صفات کو جس طرح علامہ اقبالؔ نے نمایاںکیاہے، اس کے بچے ہی نہیں بزرگ بھی شیدائی ہیں۔ نیز اردو شاعری کے افق پر علامہ اقبالؔ کا ’’شاہین‘‘ اس شان و کر و فر کے ساتھ اپنی پرواز کا مظاہرہ کرتا ہے کہ پرندوں میں ’خلائی شہنشاہ‘ قرار دیاجاتاہے۔ نظم’شاہین‘ نے برسوں قارئینِ شاعری کے ہمراہ ناقدین و دانشوروں کو غور و فکر میں غلطاں وپیچاں رکھا۔ اس طرح اس نظم کا ایک ایک شعر لوگوں کے حافظہ کا حصہ بن گیا۔خواجہ حسن نظامی صوفی تھے۔ وہ اپنے انشائیہ ’’جھینگر کا جنازہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’اس جھینگر کی داستان ہرگز نہ کہتا، اگر دل سے عہد نہ کیا ہوتا کہ جتنے حقیر و ذلیل مشہور ہیں، ان کو چاند لگاکر چمکاؤں گا۔‘‘

اور ان کا یہ ارادہ صحیح ثابت ہوا کہ یہ انشائیہ شوق و ذوق سے پڑھا جاتاہے اور ہمیشہ سے نصاب کا حصہ رہاہے۔اسی طرح کرشن چندر کا ’’ایک گدھا نیفا میں‘‘پہنچ جاتاہے اور ’’گدھے کی واپسی‘‘ کے بعد کرشن چندر کا شاہکار ظریفانہ (فنتاسی) ناول ’’ایک گدھے کی سرگزشت ‘‘منظرِ عام پر آیا جس کو پڑھ کر نامور حضرات کے بھی منھ سے رال ٹپکنے لگی کہ کاش میری سرگزشت بھی کوئی اس طرح تحریرکرتا۔

صاحبان! غور فرمائیں کہ اس قوی ہیکل جانور جو آج سلی بریٹی بن گئی ہے اور جس کی طرف جنگل میں لاچار وکمزور جانور اپنے تحفظ کے لیے حسرت بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ ان کی مداخلت ؛ جان کی ضمانت بن جاتی ہے، اس کو نظرانداز کیوں کر کیا جاسکتا ہے۔اس جانور کی شانِ بے نیازی اور قناعت کو حماقت پر کیوں محمول کیاجاتاہے! گاؤں میں اکثر دیکھنے کو آیا کہ کسی سنسان چوَر میں کوئی تنہا آدی اپنی فصل کی نگہبانی پر ہے، اس کا سامنا کسی بھینسے سے ہوگیا جو اس کو مارنے کے لیے دوڑایا؛وہ آدمی کسی پیڑ کی آڑ لے لیتا تو بھینسا اغل بغل دیکھے بغیر سامنے سے دو تین ڈھائی پیڑ پر لگاکر لوٹ جاتا۔دوسرے جانوروںکی طرح کھوج کر مارنا؛بھینسا اپنی شان کے خلاف سمجھتاہے۔بھینس تو ایسے بھی منکسر المزاج ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات سے صرف فائدہ ہی فائدہ پہنچانا جانتی ہے۔ دوسرے جانوروںکی طرح کھانے پینے میں نکھورائی (کم خوری) نہیں کرتی۔اس کی ناند میں جو چارہ، دانہ گھاس پانی ڈال دیا گیا،آنکھ تک منھ ڈُباڈُباکر کھالیتی ہے۔ بھرپیٹ کھاکر بے نیازی سے جگالی کرنے لگتی ہے۔کوئی ہرہرپٹ پٹ نہیںکرتی۔ ہاں! وہ اپنے کھونٹے سے کھلتی ہے تو بادشاہوں کی طرح سیر و شکار(چارہ گاہ) میں نکلتی ہے اور سیدھی راہ لیتی ہے۔ وہ سامنے والے کی پرواہ نہیں کرتی کہ کون کچل گیا اس لیے اس کی گزرگاہ میں باادب باملاحظہ ہوشیار رہنا چاہیے۔ اس کی سواری بھی ہاتھی سے آسودہ ہوتی ہے۔اس کی پیٹھ چارپائی کی طرح چوڑی ہوتی ہے، ہاتھی کی طرح پہاڑ کی چوٹی نہیں ہوتی کہ ہودج کے بغیر بیٹھنے والا جھولا کی طرح جھولتا رہے اور ہر لمحہ گرنے کا خوف ستائے۔ پھر ہاتھی راستے میں سنک جائے تو مہاوت کو بھی نہیں بخشتی،پاؤں سے کچل کر مار دیتی ہے۔راہ گیروں کو بھی اپنے سونڈ میں لپیٹ کر دور پھینک دیتی ہے اور مکان دُکان تک کو توڑپھوڑ کر برباد کردیتی ہے۔ اس کے باوجود لوگ شوق سے ہاتھی کی سواری کرتے ہیں اور سواری کرنے پر فخر کرتے ہیں۔ راقم کو اس کا افسوس نہیں کہ اس نے ہاتھی کی سواری نہیں کی کہ بچپن میں جی بھرکر بھینس کی سواری کی ہے۔

٭٭٭

 

Prof. Abdul Barkat

Deptt. of Urdu, B.R.A.B.U.

Muzaffarpur

 

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
جے این یو خواب کی تعبیر پیش کرتا ہے: ڈاکٹر محبوب حسن
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

دَمِ تحریر کی گواہی – پروفیسر عبدُ البرکات

جنوری 10, 2026

جائیں تو جائیں کہاں – پروفیسر عبدُ البرکات

دسمبر 27, 2024

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ...

اگست 10, 2022

آخری افطار – پروفیسر خالد محمود

مئی 1, 2022

مسجد، مولانا اور مقتدی – سید صفوان غنی

فروری 3, 2022

ایک ادیب کے پُر ملول روز وشب –...

جنوری 5, 2022

لاک ڈاؤن کے دوران مرزا غالب سے ایک...

جنوری 3, 2022

غالب تنقید۔ اکیسویں صدی میں – ڈاکٹر جاوید...

اکتوبر 12, 2021

ادھار اور گالی – ایس معشوق احمد

ستمبر 8, 2021

بلاعنوان (انشائیہ) – کامران غنی صبا

اگست 12, 2021

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں