یوسفی نے ایک عام آدمی کی نشانی یہ بتائی ہے کہ وہ صرف تین موقعوں پر لوگوں کی نگاہوں مرکز ہوتا ہے ۰ایک جب وہ پیدا ہوتا ہے۰دوسرا جب اسکی شادی ہوتی ہے اور تیسرا جب وہ دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔اس مضمون کا مرکزی کردار بھی ایک عام آدمی ہے اس لئے بہت خاص ہے۰یوسفی کے ذکر پر آپ بہت مسکرائیں گے لیکن کیا کریں یوسفی کے تذکرے کے بغیر ہمیں ہر تذکرہ ادھورا اور خالی خالی محسوس ہوتا ہے۰اب اسے ہماری شیفتگی کہیں ،عشق کہیں،وارفتگی کہیں یا دماغ کا خلل ،یوسفی ہمارے لئے سب کچھ ہیں ،مرشد،پیشوا،رہنما،رہبر،متبع۰ہم یوسفی کو اس دور کا سب سے بڑا مزاح نگار نہیں بلکہ سب سے بڑا نثر نگار مانتے ہیں ۰ہمارے ایک شناسا محمود فاروقی نے یوسفی کے انتقال پر ایک مضمون لکھا تھا جسمیں انہیں اردو زبان کا سبسے بڑا wordsmith کہا تھا یعنی وہ شخص جسنے نئے نئے الفاظ اور نئی نئی ترکیبیں گڑھیں۔ اپنے مارواڑی اور اہل زبان نہ ہونے کا تذکرہ انہوں نے بارہا کیا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ جیسی نثر وہ لکھ گئے کسی اور کے بس کی بات نہیں۰ہمُ تو جوش عقیدت میں یہاں تک کہتے تھے کہ آب گم کے بعد اردو میں اب اور کوئی کتاب ہی نہیں شائع ہونی چاہئے ۰افسوس خود یوسفی نے ہماری بات نہیں مانی اور مرنے سے تھوڑے دن پہلے نہ جانے کسکے کہنے پر اپنی آخری کتاب شامُِ شعرِ یاراں چھپوا دی ۰یہ زیادہ تر انکے ان مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے وقتاُفوقتا فرمائش اور محفلوں میں پڑھنے کیلئے لکھے تھے ۰کہیں کہیں یوسفی اپنے رنگ میں دکھتے ہیں لیکن زیادہ تر مضامین انکے معیار سے بہت کمتر ہیں۰افسوس صد افسوس۰
بیچن دادا کو جسوقت ہم نے دیکھا وہ عمر کی اس منزل پر تھے جہاں قوُی پوری طرح مضمحل تو نہیں ہوئے تھے لیکن ڈھلتی عمر نے اپنا خراج وصول کرنا شروع کر دیا تھا۰بیچن دادا کا اصلی نام کیا تھا ہمیں معلوم نہیں ۰سبکو انکو بیچن کے نام سے ہی پکارتے سنا۰وجہِ تسمیہ شاید یہ رہی ہو کہ اس زمانے میں ایک رواج تھا کہ وہ لوگ جنکی اولاد نہیں بچتی تھی تو وہ آخر میں مجبور ہوکر آخری پیدا ہونے والے بچے کو کلو دو کلو میں بیچ دیتے تھے ۰عقیدہ یہ تھا کہ ایسا کرنے سے بچے زندہ رہیں گے۰خدا کی قدرت دیکھئے ایسا ہو بھی جاتا تھا۰یہی لوگ بعد میں بیچن ،گرہو وغیرہ ناموں سے پکارے جاتے تھے۰جو دھندھلے دھندھلے نقوش یاد ہیں ان سے بیچن دادا کی جو تصویر بنتی ہے وہ کچھ اس طرح ہے۰کوتاہ قد ،دبلے پتلے لیکن نحیف و نزار نہیں کہے جا سکتے تھے ۔ پان کے کثرتُِ استعمال سے لال لال ہونٹ۰یہ وہ زمانہ تھا جب پان کھانا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۰جہیز میں بھی پاندان اور اگالدان کا اہتمام رہتا تھا۰ہم نے اپنے بچپن میں ہر گھر میں چوکی پر پسری سروتے سے چھالیا کترتی ایک بزرگ خاتون ضرور دیکھی ہے۔پان یوپی کے کلچر کا ایک اٹوٹ حصہ تھا۔نئی تہذیب کی روشنی اسے بھی کھا گئی۰
بیچن دادا اشرافوں میں سے نہیں تھے۔ ذات کے نداف(دھنیا) تھے۰لیکن ہم نے سب لوگوں کو انکے ساتھ ادب و احترام سے ہی بات کرتے دیکھا۔ ہمارے چھوٹے دادا ،جنھوں نے زمینداری کا زمانہ دیکھا تھا اور زمین دارانہ خو بو انکے مزاج کا حصہ تھی عموماً سب کا نام بگاڑ کر پکارا کرتے تھے وہ بھی بیچن دادا کو ہمیشہ بیچن ہی کہ کر پکارا کرتے تھے۰
بر صغیر میں اسلام کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ رہی اس نے سومناتھ کا بت تو توڑ دیا لیکن رسوم و رواج کا بت نہیں توڑ پایا منوسمرتی کے حساب سے اگر کوئی شودر کے گھر میں پیدا ہوا ہے تو وہ چاہے کتنا بڑا عالم ہو جائے شودر ہی رہے گا۰بر صغیر کے مسلمانوں میں بھی محمود و ایاز کا فرق صرف نماز میں مٹتا ہے۰نماز ختم ہونے کے بعد پھر سے وہی ذات پات کا قصہ شروع ہو جاتا ہے۰اپنے اطراف میں رہنے والے ایک ایسے خاندان سے میں واقف ہوں جو بدقسمتی سے قریشی ہے۔اپنی شرافت،رکھ رکھاؤ ،مجلسی آداب اور سب سے بڑھ کر علم کے معاملے میں گاؤں کے اشرافوں سے بہت بہتر لیکن جب شادی بیاہ کا معاملہ آتا ہے تو ان پڑھ قریشیوں میں ہی شادی کرنی پڑتی ہے۔ہمارے پڑوس میں جامعتہ الفلاح نام کا ایک عظیم الشان ادارہ ہے جس سے مساوات کی صدا تو بلند ہوتی ہے لیکن عملآ اسکا نفاذ نہیں ہوتا ہے۔یہ بت آج بھی کسی محمود کا منتظر ہے۰منبر و محراب سے مساوات،برابری اور اسلامی اخوت پر وعظ دینا اور بات ہے اور اسکو عملی زندگی میں نافذ کرنا اور بات ہے۰ۂمیں معلوم ہے کہ فقہ کی کتابوں میں کفو کی شرط لگائی گئی ہے۰حضرت زینبُ اور حضرت زید رضی اللہ تعالی عنھما کے واقعہ کا بھی علم ہے لیکن فقہ کی کتابیں بہت بعد میں لکھی گئی ہیں اور ایک واقعہ کو نظیر نہیں بنایا جا سکتا ہے۰
بیچن دادا اپنے آبائی پیشہ سے وابستہ نہیں تھے بلکہ یکہ چلایا کرتے تھے اور یہی ان سے ہماری واقفیت کا سبب بنا۔واقعہ یوں ہے کہ ہماری والدہ جو انتہائی شفیق خاتون ہیں تربیت کے معاملے میں انتہائی سخت گیر تھیں۔۰آج ہم جس مقام پر بھی ہیں اسکا سارا کریڈٹ والدہ صاحبہ کو جاتا ہے۰والد صاحب ملازمت کے سلسلہ میں بمبئی میں مقیم تھے اور تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ کے کاندھوں پر تھی۰شام ہوتے ہی ہماری بہنیں ہمیں ڈونڈھنے نکل پڑتیں۰غروبِ آفتاب کے بعد گھر سے نکلنے کی ہمیں آزادی نہیں تھی۰اگر اعظم گڑھ شہر جانے کی ضرورت پیش آ جاتی جو کہ ہمارے گاوُں سے تقریباً ۱۴ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے تو رسولن دادی جو ہمارے گھر آیا جایا کرتی تھیں اور جن پر ہماری والدہ کو حد سے زیادہ بھروسہ تھا ،ہمیں انکی معیت میں اس شاہی سواری پر بھیج دیا جاتا تھا۰یہی ہماری بگھی تھی اور یہی ہماری فٹن پر لطف باتوں پر محیط یہ سفر کئی گھنٹوں میں طے ہوتا۰بیچن دادا گو کہ کتابی علم سے بے بہرہ تھے لیکن مدرسہِ زندگی کے فارغین میں سے تھے۰ان پڑھ لیکن پڑھے لکھوں سے بہتر۔۰جو سبق ہمیں زندگی سکھا جاتی ہے کتابوں سے اسکا اکتساب ممکن نہیں۰زندگی گزارنے کے کئی گر ہم نے یہیں سے سیکھے۔بیچن دادا کے لہجے میں ایک عجیب طرح کا لوچ اور باتوں میں اک سادگی تھی جو سیدھی دل میں اتر جاتی تھی۰اثر الفاظ میں نہیں بلکہ لہجہ میں ہوتا ہے۔بعض بعض الفاظ اتنے نازک مزاج ہوتے ہیں کہ لہجہ کی کرختگی سے مرجھا جاتے ہیں۰بیچن دادا اس رمز کو جانتے تھے۰مٹھار مٹھار کر باتیں کرنے کا انکا انداز بہتوں کو بناوٹی لگتا لیکن ہمارے لئے اسمیں بہت کشش تھی۔بقرعید کے دن وہ ہمارا بکرا کاٹنے آتے اور جب تک حیات رہے بکرا انہیں کے ہاتھوں قربان ہوتا رہا۰انکا ایک جملہ آج بھی کانوں میں گونج رہا ہے۰کھال اتارنے اور بوٹیاں کرنے میں دوپہر ہو جاتی تھی۰انکی رفتار بہت سست تھی۔بھوک سے سبکا برا حال ہو جاتا تو وہ شکایت جو اب تک دل میں تھی زبان پر آ جاتی۔جواباً وہ۔ کہتے کہ بھئی جو روز قلم چلاتا ہے اور جو سال میں ایک دن قلم چلاتا ہے اسمیں کچھ تو فرق ھوگا۔۰اس برھانِ قاطع کے بعد کسی کے پاس کچھ کہنے کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں تھا۔ (یہ بھی پڑھیں جامعہ اسٹور:داستانِ ماضی – عبداللہ زکریا )
اتنا سب لکھنے کے بعد خیال آیا کہ پڑھنے والے کہیں گے کہ اسمیں کیا خاص بات ہے۰یہ ایک عام آدمی کی عام سی زندگی ہے۔ اسکے لئے اتنا طومار باندھنے کی کیا ضرورت تھی۔ صاحبو خاص بات ہے اور بات یہ ہیکہ بیچن دادا سے زیادہ خرسند ،خوش و خرم اور اپنی زندگی سے مطمئن آدمی میں نے نہیں دیکھا۰وہ کہا کرتے تھے کہ جب طاہر کی اماں (طاہر انکے بیٹے کا نام ہے)کھیتوں میں گھاس چننے جاتی ہیں اور میں باغ میں دور بیٹھے انکو دیکھتا ہوں تو آنکھوں میں اپنے آپ ٹھنڈک اتر آتی ہے اور جب انکا کام پورا ہو جاتا ہے اور ہم دونوں پیڑ تلے پوٹلی نکال کر کھانا کھاتے ہیں تو میں سب کچھ بھول جاتا ہوں،نہ کوئی تکان،نہ کوئی غم اور نہ ہی اپنی کم مائیگی کا کوئی احساس۰کم سے کم مجھے تو وہ یہ سکھا گئے ہیں دنیا میں خوش رہنے کیلئے دولت نہیں بلکہ محبت کی ضرورت ہوتی ہےکیا تھا انکے پاس؟ایک یکہ اور اس سے ہونے والی کمائی جس سے انکا گھر بھی بمشکل چلتاتھا۔ہم خوشی کی تلاش میں کہاں کہاں بھٹکتے رہتے ہیں۰کبھی گاوُں کی سوندھی مٹی سے اپنا رشتہ توڑ کر شہر کی نامانوس تار کول سڑک پراپناپسینہ بہاتے ہیں۔ فیکڑیوں میں ہڈیوں تک کو گلا دینے والی مشینوں پر اپنی جوانی کا سونا لٹا دیتے ہیں اور کبھی دیارِغیر میں اپنی عزتِ نفس تک کا سودا کر لیتے ہیں۔ پیچھے برہ کی ماری کوئی زبانِ حال سے کہتی رہتی ہے
سونا لاون پی گئے سونا کر گئے دیس
سونا ملا نہ پی ملے رپاہو گئے کیس
اور پھر جب اچانک ہوش آتا ہے اور صدائے رحیل سنائی دیتی ہے
چل خسرو گھر آپنے سانجھ بھئی چوندیس
تب پتہ چلتا ہیکہ منزل وہیں تھی جہاں سے سفر شروع کیا تھا(اگر یہاں یوسفی یاد آ جائیں تو کوئی غلط نہیں کہ اشعار بھی انہی کی کتابوں سے نقل کئے ہیں اور کئی جملے بھئ انہیں سے مستعار لئے ہیں۔ہم یوسفی پر اپنا اتنا حق سمجھتے ہیں)دولت سب کچھ خرید سکتی ہے سوائے ایک خوشی کے۰گاؤں کا ایک ان پڑھ بیچن کتنا ہوشیار تھا۔بات یوسفی کے ایک جملے سے شروع ہوئی تھی ختم بھی انہیں پر کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں “میں نے زندگی کو ایسے ہی لوگوں کے حوالے سے دیکھا،پرکھا اور چاہا ہے۔اسے اپنی بدنصیبی ہی کہنا چاھئے کہ جن بڑے اور کامیاب لوگوں کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا انہیں بحیثیتِ انسان بلکل ادھورا،گرہدار اوریک رخا پایا،کسی دانا کا قول ہیکہ جس کثیر تعداد میں قادرِمطلق نے عام آدمی بنائے ہیں اس سے تویہی ظاہر ہوتاہے کہ انہیں بنانے میں اسے خاص لطف آتا ہے وگرنہ اتنے سارے کیوں بناتا اور قرن ہا قرن سے کیوں بناتا”
یقین جانئے جس دن عام آدمی آپکو اچھا لگنے لگے گا آپکو اپنی معرفت بھی نصیب ہو جائے گی ،رب بھی مل جائے گا اور زیست بھی معتبر ہو جائے گی۰
عبداللہ زکریا
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

