Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

جامعہ اسٹور:داستانِ ماضی – عبداللہ زکریا

by adbimiras اکتوبر 1, 2021
by adbimiras اکتوبر 1, 2021 0 comment

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کو 102 سال ہوچکے ہیں ۔ایک صدی سے زیادہ کا یہ سفر اپنے جلو میں کامیابوں اور کامرانیوں کی داستان لئے نئی منزلوں اور نئی اونچائیوں کی طرف گامزن ہے ۔ سنہ 1920 میں فخرِ ملت ڈاکٹر ذاکر حسین اور انکے ساتھیوں نے قرول باغ میں جو پودا لگایا تھا وہ آج چھتنار درخت بن چکا ہے ۔علم وفن کے اس بحر ذخار سے فیض یاب ہونے والے آج ملک اور بیرون ملک زندگی کے مختلف شعبوں میں نہ صرف یہ کہ اپنی ایک شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ ان کی کامیابی دوسروں کے لئے قابلِ تقلید بھی بن چکی ہے ۔جامعہ نے جو بے نظیر ترقی کی ہے اس کی مثال  ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتی ہے ۔آج جامعہ ،گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ رینکنگ میں ہندوستان کی پہلے نمبر کی یونیورسٹی ہے اور اس مقام تک پہونچنے میں جہاں ہمارے بزرگوں کا وژن ،انکی قربانیاں ،حوصلہ نہ ہارنے والی طبیعت ،عزم اور جنون اور مقصد کے حصول کے لئے سب کچھ تج دینے کا جذبہ کارفرما رہا ہے ،وہیں ان کے وارثین کی انتھک کوششوں کو بھی دخل حاصل ہے ۔ہر یونیورسٹی اور ہر ادارے کا اپنا ایک دل ہوتاہے اور اسٹور کو بجا طور پر جامعہ کا دل ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔جب جامعہ قرول باغ سے او کھلا منتقل ہوئی تو ذاکر صاحب اور ان کے اصحاب نے روزمرہ کی ضرورتوں کے پیشِ نظر ایک چھوٹے سے کو آپریٹیو کی بنیاد ڈالی ہے ۔ابتدا میں محض چند دوکانیں تھیں ،بعد جیسے جیسے جامعہ کی توسیع ہوتی گئی اور مقامی برادری بڑھتی گئی ،دوکانوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی اور اس جگہ کی رونق بھی روزافزوں ہوتی گئی ۔یہی جگہ بعد میں اسٹور کہلائی ۔ (یہ بھی پڑھیں تخلیقی نثر کے فروغ میں جامعہ کا حصّہ – حقانی القاسمی )

ہم سنہ 1988میں جامعہ پہونچے۔ساتھ میں ہمارے دوست شمس نوید اور فیاض بھائی مرحوم ۔فیاض بھائی جن کو مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منھ کو آتا ہے انتہائی شریف انسان تھے اور ہم لوگ پوری کوشش کرتے تھے کہ ہماری “ایکٹویز “کی بھنک ان تک نہ پہونچے ورنہ ایک لمبا چوڑا لکچر سننا پڑتا تھا ۔نوید البتہ ہمارے ہم دم ،ہم ساز اور ہم راز تھے ۔اتفاق سے ہم لوگوں کو پہلے ہی سال ہاسٹل بھی مل گیا اور بھی ایس آر کے ۔اس زمانہ میں ہاسٹل ملنا جوئے شیر لانے سے بھی زیادہ مشکل تھا ۔کوئی نئے وارڈن صاحب آئے تھے اور انھوں نے نئے الاٹمنٹ سابقہ نمبر کی بنیاد پر کر دئے اور ہم دو نوں کو ایک ہی کمرہ میں الاٹمنٹ مل گیا ۔گراؤنڈ فلور پر گھستے ہی بائیں بازو ہمارا کمرہ تھا ۔کمرے میں موجود مکین انتہائی شریف نکلے کہ سینیر ہونے کے باوجود انھوں نے کمرہ چھوڑدیا۔نہیں تو ایسی مثالیں تھیں کہ سینیر کمرہ نہیں چھوڑتے تھے ۔خیر ہاسٹل کیا ملا ہمیں لگا کہ ہم نے دنیا ہی فتح کر لیا ۔

اس کے پہلے دو تین مہینہ ذاکر نگر میں اپنے ایک رشتہ دار کے یہاں تھے جنھوں نے کرایہ کی غرض سے کچھ کمرے بنا رکھے تھے۔اسٹور سے اصل وابستگی ہاسٹل ملنے کے بعد ہوئی ۔اب صبح ،دوپہر ،شام اور رات وہیں بسر ہوتی تھی ۔مولانا کی کینٹین ہمیں کبھی پسند نہیں آئی اور پانی جیسی چائے تو بالکل نہیں ۔مولانا کو کوئی پیسہ نہیں دیتا تھا ۔اور اگر کسی نے دے دیا تو باقی بچے پیسہ مولانا کبھی دیتے نہیں تھے ۔یہ ان کا حساب برابر کرنا کا طریقہ تھا ۔ویسے بہت کائیاں تھے ۔اگر ساتھ میں لڑکی ہو تو فورا پرانا حساب یاد دلاتے ۔عزت بچانے کے لئے بندے کو جیب خالی کرنی پڑتی ۔ایک بہت دلچسپ رسم تھی جس کا تذکرہ بے حد ضروری ہے ۔مولانا کی سالگرہ کے موقع لڑکے ان کو نہلا دھلا کر ،نئے کپڑے پہنا کر ,گلے میں پھولوں کا ہار اور ہاتھ میں تلوار دیکر ان کا ایک شاندار جلوس نکالتے ۔پہلے جیپ میں اور بعد میں کندھوں پر سوار مولانا تلوار بھانجتے اور لڑکے تب تک ان کندھے سے نہیں اتارتے جب تک وہ اعلان نہیں کر دیتے کہ انھوں نے سارا پرانا قرضہ معاف نہیں کر دیا ۔مولانا کی وجہ تسمیہ معلوم نہیں کہ انھیں نماز روزے سے کوئی شغف نہیں تھا بلکہ “انگور کی بیٹی “کے عاشق تھے ۔

اسٹور پر ویسے تو دلبتسگی کے کئی چیزیں تھیں اور ہر کوئی اپنا اپنا مطلوب ومقصود حاصل کرنے جاتا تھا ،ہمارے لئے شاکر کا ہوٹل ہی سب کچھ تھا ۔سنا ہے پہلے صابر بھائی (شاکر کے والد )چلایا کرتے تھے لیکن جب ہم پہونچے تو ساری ذمہ داری شاکر نے اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھا لی تھی ۔صابر بھائی کبھی کبھی درشن دے دیا کر تے تھے ۔شاکر کو سب سے پہلے فیاض صاحب (ہم انھیں احترام میں فیاض صاحب ہی کہا کرتے تھے ۔کیسے کیسے لوگ اس دل کو داغ لگا گئے ہیں )نے رام کیا ۔ان کے پاس تسخیر قلوب کا کوئی نسخہ تھا کہ ہر کوئی بے دام بک جاتا تھا ۔بعد میں تویہ حالت ہو گئی تھی کہ ہاسٹل سے اسٹور پہونچنے میں آدھے گھنٹے لگ جاتے تھے ۔یہ راستہ بمشکل پانچ منٹ کا تھا لیکن قدم قدم پر ان کے عشاق یوں بازو پھیلائے کھڑے رہتے کہ “ڈاج “دینا مشکل ہوجاتا تھا ۔ہمیں تو لگتا تھا کہ کسی دن کوئی پیڑ بھی اپنی بانہیں پھیلا کر راستہ روک لے گا کہ مجھ سے بھی تو بغل گیر ہوتے جاؤ(ویسے درختوں کی بھی ایک زبان ہوتی ہے ۔پچھلے بار جب ہم دلی گئے اور اس راستہ سے گزرے تو ہر پیڑ نے نہ صرف ہماری خیریت پوچھی بلکہ پتہ پتہ بوٹا بوٹا یوں نثار ہو رہا تھا کہ جی چاہا کہ وہیں جان جانِ آفریں کے سپرد کر کے ہمیشہ کے لئے اس دنیاوی آلائش سے نجات پا جائیں )پھر فیاض صاحب کے سہارے ہم نے بھی شناسائی اور دوستی کے مراحل طے کئے ۔اب اسے “ٹرک آف ٹریڈ “ تو نہیں کہہ سکتے ہیں لیکن شاکر کا رویہ سب کے ساتھ ایسا ہوتا تھاکہ لگتا کہ وہی سب سے زیادہ “اسپیشل “ہے ۔عابد اور عثمان نام کے دو بچے، جو اس کے ہوٹل میں کام کرتے کر تے جوانی کی دہلیز پر پہونچ رہے تھے ،ان کی ٹریننگ بھی ایسی کر رکھی تھی کہ وہ بھی “اسپیشل “ہونے کا احساس دلاتے رہتے ۔چھولا تو خیر کمال کا ہوتا ہی تھا ،چائے کا بھی اپنا ایک ذائقہ تھا ۔یہ ہماری بدگمانی ہی سہی لیکن طلحہ بھائی کے ،جو بعد میں ہمارے رشتہ دار بھی ہوئے، دلی نہ چھوڑنے کا سبب یہ چھولے ہی تھے ۔ یہ چھولے غیبت سے بھی زیادہ مزیدار اور زود ہضم ہیں ۔ایک بار جو ان کے ذائقہ میں پھنسا،زندگی بھر گرفتار رہا ۔کچھ لوگ “بدھ رام “کے یہاں سے بھی چھولے لیکر آتے اور شاکر کے یہاں بنواتے لیکن ہم نے ایسی” بد مذاقی “کبھی نہیں کی ۔بغل میں نصیر بھائی کا ہوٹل  بھی ہمارے “قدم میمنت لزوم “سے محروم رہا کہ ہم غالب کے طرفدار ہی نہیں وفادار بھی تھے ۔دراصل پوری جامعہ برادری بٹی  ہوئی تھی ۔جو نصیر کا قتیل تھا وہ نصیر کے ہوٹل میں جاتا اور جو شاکر کا گرویدہ تھا وہ شاکر کے یہاں پیٹ کی آگ بجھاتا الا یہ کہ کوئی بڑی مجبوری آن پڑی ہو ۔گراہکوں کی یہ تفریق اتنی واضح تھی کہ اسٹور پر سگریٹ اور پان کی دوکان والے تک خلط ملط نہیں کرتے ۔اگر کسی نے اپنا پان لینے کے لئے کسی اور بھیج دیا اور وہ غلط دوکان پرپہونچ گیا تو نام سنتے ہی وہ کہتا کہ بھائی آپ اس دوسری دوکان سے لے لیجئے ۔یہ وہ لوگ تھے کہ جن کی کئی پشتوں کا مسکن اور ملجا  وماوی اسٹور ہی رہا۔ان کے نقش آج بھی ذرے ذرے پر ثبت ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں جامعہ کے شعبۂ اردو کی شعری کائنات – پروفیسر کوثر مظہری )

یہیں ہم نے پہلی بار ایم سی آر سی کی لڑکیوں کو دیکھا (یہ اس زمانہ کی بات ہے جب ایم سی آرسی کا کراؤڈ جامعہ کی “جنرل کراؤڈ  “ سے بالکل الگ دکھائی دیتاتھا۔ یہ لوگ “ایکٹ “بھی ایسے کرتے جیسے کہ جامعہ کا حصہ نہیں ہیں )ان کا بے محابہ حسن ،اندازِ گفتگو اور صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والی آرائش و زیبائش ،ہماری دید اور شوقِ نظارگی  کو دوآتشہ کرتی رہی اور فشارِ خون  میں اضافہ کا سب بنتی رہی (آنکھیں تو اوروں نے بھی سینکی ہیں ۔ہماری طرح اعتراف البتہ نہیں کریں گے )۔جنت سے نکالا ہوا آدم کیسے کیسے کنویں جھانکتا ہے ۔ویسے ہمیں اپنی “اوقات”اچھی طرح معلوم تھی اس لئے اس جنتِ ارضی کے صرف خواب دیکھے جا سکتے تھے ۔یہ عموماً عصر کے بعد گروپ کی شکل میں شاکر کے ہوٹل میں آتے ۔لڑکوں کی داڑھیاں اور بال بے تماشا بڑھے ہوئے ۔بعد میں جب تقدیر نے یاوری کی اور ہم بھی اس ریوڑ کا حصہ بنے تو علم ہوا کہ یہ ایک curated look تھی اور اس سے creativity کا اظہار مقصود تھا۔لمبے بال ،انگلیوں میں سلگتا ہوا سگریٹ،بے تحاشا بڑھی داڑھی اور ہونٹوں پر ستیہ جیت رے ،کروساوا اور تارکووسکی جیسے مشاہیر کے نام ایم سی آرسی کی پہچان تھے ۔ چونکہ ان کا سینٹر بھی ایک طرح سے الگ تھلگ تھا ،اندر ایک چھوٹی سی کینٹین تھی ،جہاں جامعہ کے دوسرے طالبعلم نہیں جاتے تھے ،میل ملاپ کے مواقع شاذ ونادر ہی آتے تھے ،اس لئے یہ لوگ دوسری دنیا کے باسی لگتے تھے ۔پوری جامعہ سے الگ ،اپنے رہن سہن اور طرزِ معاشرت میں بالکل جدا ۔

دھیرے دھیرے شاکر کے گھر آنا جانا شروع ہوگیا ۔ابنِ صفی قدرِ مشترک ۔دونوں اسی کے قتیل ۔شاکر کے پاس پورا سیٹ تھا اور ہم اپنی آتشِ شوق بجھانے اس کے گھر پہونچ جاتے ۔کئی بار شاکر کی اسکوٹر پر فلم دیکھنے بھی گئے ۔آج بھی شاکر کے گھر  ہم بے روک ٹوک چلے جاتے ہیں ۔بیگم ہم سے پردہ نہیں کرتی ہیں ۔محبتوں کا یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے ۔آمین

شاکر کا ہوٹل چھوٹا ضرور تھا لیکن اس کا دل بہت وسیع تھا ۔طالب علمی کے زمانہ میں ویسے بھی لوگوں کے ہاتھ تنگ رہتے ہیں ۔اگر کبھی پیسے نہیں دئے تو شاکر نے کوئی سوال نہیں کیا ۔مہینہ کا آخری ہفتہ سب سے مشکل سے گزرتا  کہ تب تک سب کے ہاتھ خالی ہوچکے ہوتے تھے ۔شاکر طرح دیتا ۔لوگ باگ بعد میں پیسے دے دیتے ۔کچھ نہیں بھی دیتے ۔شاکر کی مانیں تو آج بھی شاہ رخ خان اس کا مقروض ہے ۔

مغرب بعد شاکر کا ہوٹل بند ہوجاتا ۔پھر ایک ملا جی سہارا بنتے۔آدھی رات کے بعد بھی چائے ملنے کا پورا چانس رہتا۔ہاسٹل میں ویسے بھی دو بجے سے پہلے کون سوتا ہے ۔کبھی کبھی مول چند میں پراٹھے کھانے کا پلان بنتا۔ہمارے ایک مشترکہ دوست شکیل کی ذمہ داری تھی کہ  سارے دوستوں کو پراٹھے کھلائے(بھائی نے کبھی مایوس نہیں کیا ۔اس کے والد کا کپڑوں کا کارخانہ تھا جس میں وہ بہت تندہی اور لگن سے کام کرتا تھا ۔ہاتھ میں ہیسے بھی رہتے اور دل بھی کشادہ تھا ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ شکیل کے ہوتے ہوئے کسی اورنے پیسہ دئے ہوں ۔اللہ بھی کشادہ دلوں کو پسند کرتا ہے ۔آج بھائی دولت میں کھیل رہا ہے)  ۔کیا بے فکری کے دن تھے ۔بعد میں زندگی نے بہت کچھ دیا لیکن وہ فراغت اور بے فکری پھر کبھی نصیب نہیں ہوئی۔

نگینہ اسٹور کے بارے میں مختصراً یہ بتا دیں  کہ ہاسٹل میں رہنے والے کسی بھی طالبعلم کا گزارہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا ۔اسٹور کے مالکان انتہائی شریف لیکن ان کی اصل عظمت کچھ سال پہلے بمبئی میں جامعہ الومنائی کے ایک فنکشن میں ہم پر ظاہر ہوئی۔پرانے دوستوں نے قصہ بیان کرنا شروع کیا کہ کس طرح ہاسٹل کے بچے ان کے اسٹور سے چیزیں پار کر کے لاتے تھے(طالبعلمی کے زمانہ میں اس طرح کی حرکتیں بہت عام ہیں اور اس سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے)۔اسٹور پر دو بھائی بیٹھتے تھے ۔بڑے اور چھوٹے کی نسبت سے ان کے دو عرف تھے جو زیرِ تحریر نہیں لائے جا سکتے ہیں ۔بچے آپس میں دریافت کرتے کہ اس وقت اسٹور پر بڑا ۔۔۔ ہے کہ چھوٹا اور پھر حکمتِ عملی تیار ہوتی کہ آج کیا چیز پار کی جائے ۔یہ سلسلہ چلتارہا ۔تعلیم ختم ہوگئی ۔جس دوست نے یہ قصہ سنایا اس نے بتایاکہ ابھی ان سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے بر جستہ کہا کہ تم لوگ اپنی طالبعلمی  کے زمانہ میں ہمارے اسٹور سے چیزیں پار کر لیتے تھے اور اس بات سے بہت خوش ہوتے تھے کہ ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا  ۔دراصل تم لوگ ہمارے بچوں جیسے تھے اور ہم جان بوجھ کر اسے نظر انداز کر دیتے تھے ۔اب ایسی شرافت اور تہذیب کے نمونے کہاں پائے جاتے ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں مکتبہ جامعہ شاہد علی خاں لمٹیڈ – پروفیسر خالد محمود )

اسٹور پر دلن بھائی  کا بھٹیار خانہ تھا ،ان کے یہاں ہم لوگ کبھی کبھی کباب اور مٹر پلاؤ کھانے جاتے ۔ہم میں سے کسی کی رگِ شرارت پھڑک اٹھتی اور وہ کہتا کہ ایسا مٹر پلاؤ ہم نے زندگی میں کبھی نہیں کھایا تو ان کا سینہ اور پھول جاتا اور فخر یہ کہتے کہ میرا مٹر پلاؤ تاج ہوٹل تک جاتاہے ۔علامہ اقبال سہیل کے پوتے فواد خان جو ایم سی آر سی میں ہم سے ایک سال پیچھے تھے اور اب ہمارے دوستوں کے حلقہ میں شامل ہو چکے تھے ،کہتے یار مٹر پلاؤ تو ٹھیک ہے لیکن اس کی پکوڑا جیسی ناک دیکھ کر کھانے کا دل نہیں ہوتا ہے (فواد اس زمانہ میں برکھا دت کے بوائے فرینڈ تھے ۔برکھا نے اپنی سوانح عمری میں ان کا ذکر کیا ہے ۔یہ لذیذ قصہ جاننے کے لئے برکھاکی سوانح حیات پڑھئے ۔نام نہیں لکھا ہے لیکن ہم چونکہ اس واقعہ سے واقف ہیں اس لئے ہم نے فواد کا نام لکھ دیا ہے  )۔

(جامعہ اسٹورکی تصویر)

اسٹور کا تاج محل  مکتبہ جامعہ تھا ۔شاہد علی خان اور مکتبہ جامعہ ایک لیجنڈ ہیں ۔شاہد علی خان صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور گو کہ ان سے ہماری کوئی ذاتی شناسائی نہیں ،ان کے تعلق سے علم دوستوں ،ادیبوں اور پرانے لوگوں سے اتنا کچھ سنا ہے کہ لگتاہے کہ ذاتی طور پر جانتے ہیں ۔ان کے اوپراتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ ہمیں مزیدخامہ فرسائی کرنے کی ضرور ت نہیں ہے ،بس ان کے تعلق سے اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ

پیدا کہاں اب ایسے پراگندہ طبع لوگ ۔

جامعہ چونکہ اس طرح سے بنی ہے کہ آس پاس کی مقامی آبادی ہمیشہ خلط ملط رہی اس لئے یہ لوگ کئی بارجامعہ کے معاملات میں دخیل بھی رہے ہیں ۔کیمپس کی حد بندی کاغذ کی حد تک تھی لیکن عملا سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ جامعہ ختم کہاں ہوتی ہے اور مقامی آبادی شروع کہاں سے ہوتی ہے (آج ایک واضح حدفا صل کھینچ دی گئی ہے ) ہاسٹل ناکافی ہونے کی وجہ سے باہر سے آئے ہوئے طالبعلم اپنے اپنے طور پر “کمرے “لیکر آس پاس کے علاقوں میں رہتے تھے ،اس لئے اسٹور پر کئی بار صرف طالب علم ہی نہیں غیر طالبعلم بھی حاضر باشی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ۔یہ عموماً پرانے اسٹوڈنٹ ہوا کرتے تھے اور کئی بار جامعہ کی موجودہ سیاست میں حصہ دار بھی ۔مقامی لوگو ں کے اپنے مفاد بھی جامعہ سے  وابستہ تھے ۔جامعہ  میں جتنی بھی سیاست ہوئی اور جتنے بھی موومنٹ چلے ہیں  ،ان سب کا مرکز ایس آرکے ہاسٹل اوراسٹور ہی تھے ۔اب وہ چاہے جامعہ کا اقلیتی کردار بحال کرنے کی مہم ہو ، بشیر الدین احمد صاحب  کے زمانہ میں ہوئی اسٹرائیک ہو یامشیر صاحب کے واپس آنے پر ہونے والا ہنگامہ ،سب کا نقطہ آغاز یہی دونوں جگہیں تھیں ۔یہں سے تحریکوں کو دماغ بھی ملتاتھا اور افراد بھی ۔بادی النظر میں یہ ایک  منفی چیز لگتی ہے اور اس سے کئی بار جامعہ کو نقصان بھی ہوا لیکن جس طرح سے ایک پنپتی ہوئی جمہوریت کے لئے ایک مضبوط حزبِ اختلاف ضروری ہے  ،ایک ادارہ کی ترقی میں بھی اختلافِ رائے اور مثبت تنقید کا رول بھی بہت اہم ہوتا ہے ۔یہیں سے عملی زندگی میں ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کی تربیت ملتی ہے ۔شخصیتیں بنتی ہیں ،قائد ملتے ہیں اور قوم کو نیا خون فراہم ہوتا ہے۔کچھ منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں جسے ہم “کولیٹرل ڈیمیج” کے زمرے میں رکھ سکتے  ہیں ۔

اسٹور پر دن بھر تو گہما گہمی رہتی ہی تھی شام کے اوقات میں اس کی رونق اور بھی بڑھ جاتی تھی ۔کسی سے ملاقات کے لئے اس سےبہتر کوئی اور جگہ ہی نہیں تھی ۔جس کے متلاشی ہیں وہ اسٹور پر کسی نہ کسی وقت ضرور مل جائے گا۔شام  ڈھلے حاضر باشوں کا ٹولہ اپنی اپنی محفل جمائے ،سیاست سے لیکر ادب تک ہر چیز یہاں موضوع ِ گفتگو ۔اس طرح کی گفتگو ذہن کے نئے گوشے کھولتی ہے ۔زندگی میں کامیابی کی کلید صرف کتابوں میں نہیں ملتی ہے ۔اسے کتابوں کے باہر بھی ڈھونڈھنا پڑتا ہے ۔آج آپ کسی بھی کامیاب جامعی سے پوچھیں گے تو وہ اسٹور پر گزارا ہوا وقت اور وہاں ملی ہوئی تربیت کو سب سے اوپر رکھے گا۔

اسٹور پر اسٹاف کے لئے ایک کلب بھی تھا ۔راویان کی مانیں تو یہ خیال ذاکر صاحب کے زرخیز ذہن میں آیا تھا ۔ہمارے زمانے میں کلب اپنی پوری آب وتاب سے چل رہا تھا ۔دن بھر کی مشقت اور تھکان کے بعد یہ اسٹاف کے لئے ریلیکس کرنے کا ایک موقع بھی تھا اور اسی بہانے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کا موقع بھی مل جاتا تھا ۔اس طرح کی تفریح ذہنی توازن بر قرار رکھنے کے لئے بہت ضروری ہے ۔نہیں تو انسان ،انسان نہیں رہے گا ایک مشین بن جائے گا۔ (یہ بھی پڑھیں جامعہ ملیہ اسلامیہ،رِیل اورپرانے کیمرے کی کہانی – محمد علم اللہ )

جامعہ اور اسٹور کی ہی بدولت ہماری زندگی میں کچھ ایسے لوگ آئے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو ہم بالکل اکہرے ہوتے ۔مرشدی مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں آدمی کہ کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ صحیح وقت پر اسے بری صحبت نصیب ہو جائے ۔کامیابی کا تو پتہ نہیں لیکن زندگی میں جو بھی رنگ آیا وہ ایسے ہی دوستوں کا فیضان ہے اور اس میں سرِ فہرست نام کمال پرویز عرف پوزی بھائی کا ہے ۔وہ عمر میں بڑے ہیں ۔احترام بھی ہے لیکن دوستی بھی ہے ۔جب امتیاز بھائی خیرآبادی  کے منھ سے پہلی بار یہ نام سنا تو سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ نام ہے یا صفت ؟پھر اجنبیت کی دیواریں گریں تب معلوم ہوا کہ یہ ایک شخص کا نام نہیں بلکہ ایک انجمن کا نام ہے ۔چشمہ کے پیچھے سے جھانکتی شریر آنکھیں کہ جن میں ذہانت کا کوندا لپکتا ہے ۔گفتگو ایسی نستعلیق کہ وہ بولیں اور سنا کرے کوئی ۔شعری ذوق انتہائی ستھرا (وہ شمسی مینائی کے صاحبزادے ہیں لیکن کبھی اس کو سائن بورڈ کی طرح سے استعمال نہیں کرتے ہیں )۔جس زمانہ میں ہماری ملاقات ہوئی آل انڈیا ریڈیو میں خبریں پڑھتے تھے ،دوردرشن میں انجم عثمانی کے ساتھ کچھ پروگرام ترتیب دینے کی ذمہ داری بھی  اٹھا رکھی تھی ۔باقی فارغ اوقات میں یا تو ہاسٹل میں یا پھر شاکر کے ہوٹل پر گپ شپ کرتے دکھائی دیتے۔یوسفی سے ہمارا تعارف انھیں نے کرایا ۔انھوں نے ہماری فلم میں “ایکٹ “بھی کیا ہے ۔جملہ بازی کوئی پوزی بھائی سے سیکھے ۔ہر اچھی کتاب انھوں نے پڑھ رکھی ہے ۔بے شمار اشعار یاد ہیں اور موقع محل دیکھ کر ایسا استعمال کرتے ہیں کہ کاٹا پانی بھی نہ مانگے ۔بعد میں فارن سروس جوائن کی ۔پوری دنیا گھومی۔کوہِ قاف کی پریاں بھی دیکھیں ۔آج کل ریٹائر ہوکر دلی واپس آگئے ہیں ۔دلی کو اس کا دل واپس مل گیا ہے ۔صرف کمال نام کاحصہ نہیں ہے واقعی صاحبِ کمال ہیں ۔ان کی شرارت اور ساری جملہ بازی ادب کی چاشنی میں ڈوبی ہوئی ۔”نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا “ایک بار انھوں نے ایک حاملہ سے ایسا چپکایا کہ خود غالب بھی سنتے توداد دئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے ۔سب ان کے معترف ،سب ان کے گرویدہ ۔اللہ صحت و عافیت کے ساتھ رکھے ۔آمین  (یہ بھی پڑھیں جامعہ ملیہ  اسلامیہ:دیار شوق میرا- قرۃ العین )

دو اصحاب ایسے ہیں جن کی کامیابی قابلِ رشک ہے ۔ویسے ہر انسان کا کامیابی کا اپنا الگ پیمانہ ہے ۔ایک دانا کا قول ہے کہ ہر اس آدمی کو کامیاب تسلیم کیا جانا چاہیے جسے اپنا کام کرنے میں لطف آتا ہو ۔یہ لطف آج کل رائج “Joy after work”سے مختلف ہے ۔ان دونوں صاحبان کی کامیابی میں بھی جامعہ اور اسٹور کا کلیدی رول ہے ۔محنت اپنی جگہ لیکن اگر سازگار ماحول میسر نہ ہو تو افزائش رک جاتی ہے ۔صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے ۔ان میں سے ایک تو حفظ الرحمان بھائی ہیں جو ابھی ابھی شام سے لوٹے ہیں جہاں وہ ہندوستان کے سفیر کبیر  کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے ۔وہ ہم سے سینیر تھے اور کئی بار ان کے نوٹس وغیرہ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس سے ان کی صلاحیتوں کا علم تو تھا لیکن وہ اتنی کامیابی حاصل کریں گے یہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔ان کی کامیابی داستان گھر گھر دہرائے جانے کے قابل ہے کہ وہ مہمیز کا کام کرے  ۔بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ باصلاحیت افراد اپنا ہدف بہت چھوٹا مقرر کر لیتے ہیں اور اپنے  potential کا صحیح استعمال نہیں کرتے ہیں سو ان کی کامیابی سب کے لئے مشعلِ راہ ہے ۔دوسری اہم بات یہ کہ ان کے پیر ابھی بھی زمین پر جمے ہوئے ہیں ۔کامیابی کا سرور تبھی دیر پا ہوتا ہے کہ جب اس کی حفاظت کی جائے اور اسے  سر نہ چڑھا لیا جائے ۔آج بھی ان سے بات کر کے احساس ہوتا کہ یہ وہی پرانے والے حفظ الرحمان بھائی ہیں ۔وہ جنھیں ہم پہچانتے ہیں ۔

دوسرے حبیبِ لبیب پروفیسر مجیب الرحمان ،جو پروفیسر ہونے کے باوجود دانائی کی باتیں کرتے ہیں ،نہیں تو بقول یوسفی کہ اگر ایک بار آدمی پروفیسر بن جائے تو ہمیشہ پروفیسر ہی رہتا ہے چاہے بعد میں عقل مندی کی باتیں کرنے لگے ۔وہ نہ ملتے تو ہماری زندگی میں ایک بہت بڑا خلا رہتا ۔وہ ہمارے ہم مشرب ہیں اور اپنی تمام تر نیک طینتی کے باوجود زاہدِ خشک نہیں ہیں ۔صاف دل ،جو زبان پر وہی دل میں ۔کامیابی حاصل کرنا مشکل نہیں ہے اس کو سنبھالنا مشکل ہے اور پروفیسر کو یہ آرٹ بہت اچھی طرح آتا ہے ۔اسٹور پر گزارا ہوا وقت زندگی میں بہت کام آیا ہے کیونکہ وہ الگ طرح کی تر بیت تھی ۔تضییعِ اوقات اور عرف عام میں جسے “بری صحبت “کہا جاتا ہے ،اس کے بہت سارے فائدے ہیں جو عملی زندگی میں سمجھ میں آتے ہیں ۔زندگی یک رخی نہیں ہے بلکہ یہ محبوبہِ عشوہِ ہزار ہے اور اس کے قتیل کو ہزار نخرے برداشت کرنے پڑے ہیں تب یہ اپنے بھید کھولتی ہے ۔پروفیسر اس رمز کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔وہ ایک عربی اخبار میں ایک ہفتہ واری کالم لکھتے ہیں اور ایک دن ہم نے ان سے مذاق میں کہا ان کی ایک لفظ کی جو قیمت ہے ،اس حساب سے وہ اس وقت ہندوستان کے مہنگے ترین کالم نگار ہیں ۔وہ ہنس کر ٹال گئے ۔ان کی انھیں اداؤں کی تو دنیا قتیل ہے ۔

ان اصحاب کا ذکر اس لئے آگیا کہ انھیں کی صحبتوں کے لطف نے آلامِ روزگار کو آسان بنایا ۔اسٹور پر بھی اور ہاسٹل میں بھی گھنٹوں جہاں بھر کی گفتگو ،کچھ بد معاشیاں (حفظ الرحمان بہت سنجیدہ رہتے تھے اور سینیر ہونے کی وجہ سے ہم بہت احترام کرتے تھے البتہ ان کے روم پارٹنر جاوید ہمارے کلاس میٹ تھے سو آنا جانا لگا رہتا تھا ۔جاوید جیسا مجلسی آدمی میں نے نہیں دیکھا ۔جتنا عیش انھوں نے جامعہ کیا اتنی ہی محنت بمبئی میں اپنا کاروبار جمانے میں کی ۔ہم انھیں جاوید سپاری کہنے لگے ہیں اور مذاقا انھیں کینسر کا بیوپاری کہتے ہیں ۔دوستوں کے بیچ اس طرح کا مذاق دوستی بنائے رکھنے کے لئے ضروری ہے نہیں تو دوستی میں بھی زنگ لگ جاتا ہے ) (یہ بھی پڑھیں  جامعہ میں بچوں کی شاعری – ڈاکٹرعادل حیات )

کچھ اور دوستوں کے چہرے لوحّ ذہن پر ابھر رہے ہیں جو ہماری خوشیوں میں شریک رہے ہیں اور جن کے دم سے اس بزم میں رونق تھی ۔ریحان جنھیں ہم “سر “کہتے ہیں ۔سر کے پیچھے کیا داستان ہے ،یہ صرف قریبی دوست جانتے ہیں ۔ظفر جو خوامخواہ اپنے اوپر کہولت اور بڑھاپے کی چادر تانے رہتے ہیں لیکن دل اندر سے بہت جوان ہے اور خاص موقعوں پر جب محفل رنگ پر آتی ہے تو اس کی جلوہ نمائی ہو جاتی ہے ۔جمال جو واقعی صاحبِ جمال ہیں اور ہر کوئی ان سے “موہت”ہو جاتا ہے ۔ہمارا روم پارٹنر اور لنگوٹیا یار امتیاز جس کو ہم نے بہت پریشان  کیا ۔ہم اور ہمارے دیگر ساتھی روم پر ایساقبضہ کئے رہتے کہ لگتا کہ کمرے میں اس کا کوئی حصہ نہیں ۔صبیح “میٹھا بدمعاش “تھا اور پوزی بھائی کا سب سے قریبی ۔قربت کے پیچھے ایک راز ہے اور دوستوں کے راز راز رکھے جاتے ہیں ۔شمیموا( شمیم )جو بچپن سے ساتھ میں ہے اور شخصیت ایسی کہ  اگر آپ اس کے ساتھ رہیں  تو کبھی تفکرات پاس نہ پھٹکیں ۔ایسی باغ و بہار شخصیت کبھی کبھی پیدا ہوتی ہے ۔آصف اسرار جنھیں ہم پارٹنر کہتے ہیں ۔کرکٹ کا جنون قدرِ مشترک ۔پارٹنر کی خاصیت یہ کہ ان کی پسندیدہ ٹیم کی پوری تاریخ انھیں یاد ہے ،کب کون سا میچ تھا ،کس کھلاڑی نے کتنے رن بنائے یا کس نے کتنے وکٹ لئے لیکن ہماری ایک پوری رات کالی ہوگئی اور انھیں “موصوف اور صفت “سمجھ میں نہیں آیا ۔ہمیشہ شاکی رہتے کہ یار تم “روتارا” لوگوں میں یہ بہت اچھا ہے کہ کماؤ نہ کماؤ شادی ہو جاتی ہے ۔ہم سیدوں میں جب تک آپ کمانے نہ لگ جاؤ شادی نہیں ہوتی ہے ۔ان کے دو بھائی بہت ہی لائق اور فائق تھے اور امریکہ میں بہت پر تعیش زندگی گزار رہے تھے ۔کندھوں پر یہ بوجھ الگ تھا ۔کبھی کبھی بھائیوں کی کامیابی بہت تکلیف دیتی ہے ۔سادہ لوح اتنے کہ جس دن ناشتہ میں بجٹ گڑبڑا جاتا یعنی اوور بجٹ ہوجاتا تو کہتے آج دوپہر کا کھانا نہیں کھاؤں گا ۔راغب وہ ہمارا یارِ با صفا جو بیچ  میں ہی راستہ بدل گیا ۔پہلے اس کی جدائی کا بہت افسوس ہوتا پھر ایک دن عقدہ کھلا کہ وہ تو ہمارے ساتھ ہی جی رہا ہے ۔وہ ہمارے وجود کا حصہ بن گیا ہے اور ہم اب اس کی آنکھ سے دنیا دیکھ رہے ہیں ۔کیسے کیسے ہیرے تھے اپنی زنبیل میں بھی۔

دوستوں کا ذکر طویل کہ انھیں کے دم سے یہ دنیا آباد ہے لیکن اس بار جب ہم دلی گئے تو دل پر آرے چل گئے ۔وہ ہمارا محبوب اسٹور کہیں دکھائی نہیں دیا ۔جامعہ کے اربابِ حل وعقد نے یونیورسٹی کو چار چاند لگا دیا لیکن اس کی تہذیب کی سب سے بڑی علامت کو مٹا بھی دیاہے ۔یونیورسٹی اس بار ہمیں بہت “امپرسنل”لگی ۔اپنائیت کا احساس تک نہیں ہوا ۔نہیں تو یہی در ودیوار باتیں کرتے تھے۔ہر یونیورسٹی کا ایک کیریکٹر ہوتا ہے اور وہ محض سنگ وخشت سے نہیں بنتی ہے ۔اورنگ زیب عالمگیر کو جب معلوم ہوا کہ کشمیر کی تاریخی شاہی  جامع مسجد میں آگ لگ گئی تو اس نے ایک بڑا تاریخی جملہ کہا ۔کہا کہ مسجدیں تو میں ہزار بنا دوں گا لیکن صحنِ مسجد میں کھڑے ایک بھی چنار کے درخت کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تو ہزار اورنگ زیب بھی ایک چنار کا درخت پیدا نہیں کر سکتے ہیں “اسٹور کی بھی یہی حیثیت جامعہ کے پورے کردار میں تھی ۔وہ ایک تہذیب کی علامت اور ہزار ہا خوابوں کا مسکن تھا ۔اس کی فضاؤں میں کئی عشروں کی پسینہ کی مہکار چہکار ہی نہیں بلکہ آرزؤں اور ارمانوں کی خوشبو بھی بسی ہوئی تھی ۔یہیں سے دیوانوں اور فرزانوں نے آدابِ زندگی سیکھے تھے ۔دیارِ شوق تو موجود ہے لیکن شہرِ آرزو نہیں رہا ۔اب دیوانے آکر کہاں خیمہ زن ہونگے ،ہوش کو جنوں کا پیراہن کون پہنائے گا ،دل کے داغ کو روشن رکھنے کی ترکیب کیا ہوگی ،شوق کی بے ربطیوں کو اب کون ربط عطا کرے گا اور کون میکشوں کو یہ سمجھائے گا کہ تشنگی ہی اصل میں میکشی کا حاصل ہے ؟کیونکہ قبلہ ایمان کوتو ڈھا دیا گیا ہے ۔اسٹور ایک طرح سے طلبہ کے لئے کعبہ تھا ۔افسوس کہ ڈھانے والوں نے مٹی اورگارے سے بنی عمارت نہیں ڈھائی ہے بلکہ ایک پوری تہذیب کو ڈھا دیا ہے ۔وااسفاہ ۔

 

عبداللہ زکریا

zakabdullah1968@gmail.com

 


(
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

abdullah zakariyajamia millia islamiajamia storeجامعہ اسٹورجامعہ کی تاریخجامعہ ملیہ اسلامیہعبد اللہ زکریا
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
علامہ اقبال کا تصورِ تہذیب ۔ پروفیسر کوثر مظہری
اگلی پوسٹ
سر سید ایوارڈ کمیٹی نے کیا سر سید انٹر نیشنل اورنیشنل ایوارڈ2020 کا اعلان

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں