روشنی کی وہ کرن جو علی گڑھ میں پھوٹی تھی اس کا کچھ کچھ ادراک صاحبان نظر کو وہیں ہوگیا تھالیکن بعد کے دنوں میں جن لوگوں نے اس روشنی کو معیار و اعتبار عطا کیا اس میں ایک ممتازنام ڈاکٹر سید عابد حسین کا تھا ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ان کی تقریباً نصف صدی کی زندگی ایک عرصہ دانش قرار پائی ،جہاں سے علم و نور کے بے شمار اور بے بہا چشمے جاری ہوئے ۔سید عابد حسین کے علمی ،عملی اور ادبی کاموں کے پیش نظر یہ کہنا بجا ہے کہ کثیر الجہات شخصیت کا لفظ انھیں پر پھبتا تھا۔
اگرچہ عابد صاحب کی عام شہرت ایک فلسفی اور مترجم کی ہے مگران کے ادبی کارناموں اور تہذیبی و ثقافتی بصرتوں کو بآسانی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔پروفیسر انور صدیقی کا خیال تھا کہ سیدعابد حسین کا شمار ہندستانی تہذیب کے بہترین مفسروں میں بھی کیا جانا چاہیے۔ان کے بقول ’’زندگی اور زمانے کے سارے جلوہ صد رنگ کو انھوں نے کھلی آنکھ اور اس سے زیادہ کھلے ذہن سے دیکھا‘‘۔
سید عابد حسین اپنے دیگرعلمی کاموں کے ساتھ ساتھ اعلی صحافتی شعور کے بھی مالک تھے ۔ان کی خدمات کا ایک نمایاں پہلو ان کی صحافت بھی ہے ۔اگرچہ اس کی مدت زیادہ نہیں ہے مگر انھوں نے جن مسائل اور موضوعات پر قلم اٹھایا اس سے عابد حسین کی صحافتی خدمات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ آج کے زمانے کی صحافت کا تو معاملہ ہی جدا ہے ۔ایک وطن دوست کی حیثیت سے انھوں نے مسائل کو دیکھا اور اس پر اپنی نپی تلی رائے دی ۔ان کی آرا سے اختلاف ممکن ہے مگر اس کے پس پردہ غور و فکر کی جو سنجیدہ کوشش ہے وہی دراصل صحافت اورصحافتی شعور دونوں کی غماز ہے ۔ اسی سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ان کے یہاں نہ وقتی شہرت طلبی کا گزر تھا اور نہ سطحی جذباتیت کو کوئی دخل ۔نہ کسی کی پگڑی اچھالنی مقصود ہے اور نہ کسی کو راتوں رات شہرت کی بلندی پر پہنچانا ہے ۔صحافت کی اصولی اور بنیادی تعریف میں لوگوں کو باخبر کرنا ،حقیقت حال سے واقف کرانا اور امید و یقین کی دولت سے سرشار کرنا ہے ۔
عابدصاحب نے ’’نئی روشنی ‘‘کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار کا اجرا کیا جس کا پہلا شمارہ 16جون 1948کو منظر عام پر آیا۔یہ تاریخ کا انتہائی نازک دور تھا ۔شکست و ریخت ،مایوسی و بے اطمینانی اور بے یقینی کی ایک ایسی فضا تھی جو پورے ملک پر چھائی ہوئی تھی جس کا سب سے زیادہ شکارمسلمان تھے۔مایوسی اور بے یقینی کی اسی فضا کو ختم کرنے کے لیے عابد صاحب نے ’’نئی روشنی ‘‘کو جاری کیا ۔روشنی کی یہ کرن بہت دنوں تک تو جاری نہ رہ سکی مگر اسم بامسمی ضرور ثابت ہوئی ۔آج اس کا ذکر تاریخ کے واقعے کے طور پر بھلے ہی کیا جائے مگر جن لوگوں نے اس پرآشوب دور میں براہ راست اس سے استفادہ کیا ان کا نہ صرف باطن روشن ہوا بلکہ فی الحقیقت انھیں ایک نئی روشنی ملی جو آج بھی بوسیدہ اوراق میں اپنی کرنوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔24جون 1950کو نئی روشنی کا آخری شمارہ شائع ہوا ۔
عابد صاحب علم و دانش کی اس روایت کے امین تھے جس کا ایک سرا لوگوں سے متعلق تھا ۔ڈرائنگ روم کی دانش وری اور منصوبہ بندی کے بجائے وہ براہ راست سماج اور لوگوں سے نہ صرف ربط و تعلق رکھنا چاہتے تھے بلکہ ایک ایسی سماجی زندگی کے مبلغ تھے جو ماضی کی عظیم مذہبی اور تہذیبی روایت کی امین اور ملک و قوم کے لیے ماضی کی طرح اپنی خدمات پیش کرسکے ۔ان کے عام مخاطب تو مسلمان تھے اور اس پرآشوب دور میں جبکہ ہر طرف تقسیم وطن کے خونی مناظر تھے عابد صاحب نے جمود و تعطل کو ختم کرنے اور تہذیبی ومذہبی روایت کے حوالے سے مسلمانوں کو آگے بڑھنے اور خدمت انسانی کے عالمگیر فلسفے سے مربوط کرنے کی بھر پور کوشش کی ۔اس کوشش کانہایت واضح اور ابھرا ہوا رنگ ہمیں ان کی صحافت میں نظر آتا ہے ۔پہلے شمارے میں ’’نئی روشنی کا پس منظر‘‘کے عنوان سے افتتاحی اداریہ لکھا ۔ ا س میں انھوں نے تقسیم وطن کے نتیجے میں ہونے والے خوں چکاں حالات کا نہایت درد مندی سے تجزیہ کیا ۔انھوں نے لکھا:
مذہبی تعصب ہمارے ملک میں ہمیشہ سے تھا لیکن اس حد تک نہ تھا کہ قتل و غارت کا محرک بن جائے ۔عہد وسطی میں جب عیسائیت اور اسلام میں صلیبی جنگیں چھڑی ہوئی تھیں ،عہد جدید کے شروع میں جب کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کی باہمی جنگ نے یورپ کو تباہ کردیا تھا ہندستان خالص مذہبی لڑائیوں سے محفوظ رہا ۔پھر کیا وجہ ہے کہ اس آزاد خیالی کے ز مانے میں ہندستان میں مذہب کے نام پر خانہ جنگی برپا ہوئی ۔(16جون 1948)
عابد صاحب نے واضح لفظوں میں لکھا:
ذرا غور کیجیے تو یہ معمہ حل ہوجائے گا یہ دراصل فرقہ وارانہ لڑائی کی تہہ میں تہذیب کی دو تحریکوں ،تاریخ کے دو ز مانوں ،عہد وسطی اور عہد جدید کی ٹکر ہے ۔سید عابد حسین کے الفاظ میں
انگریزوں نے ہماری تحریک قومیت کی کمر توڑنے کے لیے فرقہ وارانہ نمائندگی اور جداگانہ انتخاب کا جھگڑا کھڑا کردیا جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ سیاست کے میدان میں وہی لوگ کامیاب ہونے لگے جو اپنے فرقے کے مذہبی تعصب کو زیادہ سے زیادہ ابھار سکتے تھے …اقلیتوں کی حفاظت کے نام سے جداگانہ انتخاب اور فرقہ واری نمائندگی کا اصول تسلیم کرکے (انگریزوں نے )ہماری روحوں میں فرقہ پرستی کا زہر بھردیا۔اس طرح ہمارے ذہن اپنے زمانے سے اپنے ماحول سے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے ڈانواڈول ہوکر رہ گئے ۔(16جون 1948)
عابد صاحب نے آخر میں قدامت پسندی اور رجعت پسندی کے جراثیم کو اپنی قوم کے خون سے دور کرنے پر زور دیا اور کہا کہ نئی روشنی کا اجرا اس بڑے مقصد کو حاصل کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے ۔
پہلے شمارے کے بعد عابد صاحب نے’’ نئی روشنی کے مقاصد‘‘کے تحت مسلسل سات شماروں میں اظہار خیال کیا ۔نئی روشنی کے مقاصد میںجن موضوعات کااحاطہ کیاگیا ان میں جمہوری اشتراکیت،ہندستانی قومیت،علمی نظر،زندہ ادب،معقول معاشرت،اور جاگتی تعلیم نہایت اہم ہیں ۔ان موضوعات کے تحت عابد صاحب نے زندگی ،سماج اور ثقافت کی بھر پور تعبیر وتشریح کی ۔چناچہ جمہوری اشتراکیت کے تحت اداریے میں لکھتے ہیں :
جمہوری اشتراکیت صرف دولت کی پیداوار اور تقسیم کے معاملے میں عوام کی منتخب کی ہوئی حکومت کو آمرانہ اختیار ات دینا چاہتی ہے تاکہ ملک میں معاشی انصاف قائم ہوسکے ۔باقی مذہب،معاشرت اور فکر وعمل کے دوسرے شعبوں میں ہر شخص کو پوری آزادی دیتی ۔صرف اتنی پابندی عائد کرتی ہے کہ وہ دوسروں کی آزادی میں خلل انداز نہ ہو(24جون 1948)
سید عابد حسین کے خیال میں ہندستان کے لوگوں کے لیے مذہب جن کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے جمہوری اشتراکیت ہی سب سے زیادہ موزوں ہے ۔نئی روشنی کے ذریعے عابد صاحب جس ہندستانی قومیت کو فروغ دینا چاہتے تھے وہ ان کے الفاظ میں :
’’قومیت کامطالبہ یہ ہے کہ سیاسی فرقہ بندی مذہب کی بنیاد پر نہ ہو ہر مذہب کے لوگ اپنے وطن سے محبت رکھیں۔اپنی ریاست کے جمہوری آئین کی،جو سب نے مل کربنایاہے اور جو سب کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے ،دل و جان سے عزت کریں اس آئین کے اور اس حکومت کے جوآئین کے مطابق بنی ہے ۔اور آئین پر عمل کرتی ہے،وفادار رہے ‘‘(یکم جولائی 1948)
عابد حسین نے علمی نظر کو صرف علوم و فنون کی تحقیق کے لیے ہی نہیں بلکہ معمولی فکرو عمل کے لیے بھی ناگزیر قرار دیا کیونکہ ان کے بقول روز مرہ کی زندگی کے مسائل اس قدر پیچیدہ ہوگئے ہیں کہ کافی غور و فکر کے بغیر حل نہیں کیے جاسکتے۔حقیقت کو چھپانے اور دروغ مصلحت آمیز کو فروغ دینے کا فن جو پروپیگنڈا کہلاتاہے اس قدر ترقی کرگیا ہے کہ بغیر درایت کے ہم کسی روایت کی اصلیت کا پتہ نہیں چلاسکتے۔‘‘
’’زندہ ادب ‘‘کے حوالے سے جہاں انھوں نے ترقی پسند ادیبوں کے بعض افکارو خیالات کو سراہا وہیں یہ بھی لکھا :
نئے ادب کا اعتراض پرانے ادب پر صحیح نہیں ہے کہ وہ زندگی کی مصوری یاتعبیر یاتنقید نہیں کرتااس میں اگر کچھ اصلیت ہوسکتی ہے تو صرف یہ کہ پرانے ادب میں زندگی کی ترجمانی یاتنقید کھلی ہوئی نہیں بلکہ فن کے پردے میں چھپی ہوئی ہے اور یہ عیب نہیں بلکہ بہت بڑی خوبی ہے جس کی نئے ادب کو تقلید کرنی چاہیے۔ادیب یا شاعر کا ڈھول پیٹ کر اعلان کرنا کہ یہ جو ہم کہہ رہے ہیں زندگی کی تصویر یا تفسیر ہے نہ صرف ادب و شعرکے لطف کو بلکہ ا سکے اخلاقی اثر کو بھی کھودیتاہے ۔ (24جولائی1948 )
’’معقول معاشرت‘‘ کے تحت انھوں نے ایک ایسے سماج کا نقشہ پیش کیا جو کسی ایک طبقے کے لیے خاص نہ ہو ،خدمت انسانی کا جذبہ بلاتفریق مذہب وملت ہو ،ساتھ ہی عابد صاحب ہندستانی معاشرے کو اوہام و رسوم کے تسلط سے آزاد دیکھنے کے متمنی تھے۔انھوں نے لکھاکہ:’’گاندھی جی کے علاوہ ہمارے بیشتر سماجی مصلحین کے پاس قوت عمل کاکوئی بڑ خزانہ نہیں تھا کہ وہ دیگر سرگرمیوں کے ساتھ سماجی اصلاح کی مہم جاری رکھ سکیں ۔مسلمانوں کے بارے میں عابد صاحب نے لکھا ۔
’’اب رہے مسلمان تو ایک مدت تک وہ خلافت اور سوراج کے متوالے رہے اور اس کے بعد اُن کے بہت سے لیڈر پاکستان کے نشے میں مست ہوگئے اس لیے اب اصلاح معاشرت پر کیا موقوف ہے ۔پچھلے تیس سال میں مسلمانوں نے سوائے جامعہ ملیہ کے قائم کرنے کے کوئی بھی قابل ذکر تعمیری کا م نہیں کیا ہے ۔‘‘(یکم اگست 1948)
نئی روشنی کا آخری مقصد جاگتی تعلیم تھا،عابد صاحب نے لکھا :
’’ہمارے مدرسوں میں جو تعلیم ہوتی ہے وہ اس مقصد کو کہاںپورا کرتی ہے کہ طالب علم کو تہذیب کے سب شعبوں کامحرم اور عملی زندگی کا اہل بنادے۔‘‘
جاگتی تعلیم کا یہ کلیدی نکتہ ہے مگر اس کے آگے عابد صاحب نے مزید لکھا :
’’پرانے طرز کے دینی مدرسوں کا ذکر ہی کیا ہے نئے طرز کے دنیوی مدرسے بھی صرف اسی پر اکتفاکرتے ہیں کہ چند علوم و فنون کی نظری تعلیم دے کر طالب علم کے دماغ میں معلومات کا ایک ذخیرہ اکٹھاکردیں ۔ذہنی قوتوں میں فہم و ادراک اور کسی حد تک اظہار خیال کی قوت کی مشق کرائی جاتی ہے ۔خواہشات ،جذبات اور عقیدے کو خس و خاشاک کی طرح آب و ہوائے دہر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ بے ترتیبی اور بے اعتدالی سے بڑھتے رہیں یا سوکھ کر جھلس کر رہ جائیں ۔‘‘(24اگست (1948)
نئی روشنی کے ان مقاصد کے مطالعہ سے انداز ہ ہوتا ہے کہ عابد صاحب نے اپنے زمانے کے حالات ،مسائل اور معاملات کا نہایت دردمندی کے ساتھ تجزیہ کیا ،انھوں نے سماجی زندگی کے ہر رخ کا اخاطہ کیا اور اس کی تعمیر نو کا جو نقشہ پیش کیا وہ اُس وقت کے حالات کے لحاظ سے نہیں بلکہ آج کی زندگی میں بھی نہایت قابل قدر اور قابل عمل ہے ۔اردو صحافت کی تاریخ میں غالباً یہ واحد مثال ہوگی کہ اخبار کے مقاصد اور اس کی پالیسی کو اس قدر شرح و بسط کے ساتھ پیش کیاگیا ہو اور وہ نکات آیندہ کے لیے بھی مشعل راہ بن جائیں ۔ان مقاصد کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ صرف مستقبل کی تعمیر کا نقشہ ہی نہیں پیش کرتے بلکہ حالات اور مسائل پر از سر نو غور وفکر کاجواز بھی فراہم کرتے ہیں اور اس ز مانے کی عام سوچ کے برخلاف ایک نئی سمت کا پتہ بھی دیتے ہیں ۔
اردو صحافت کی عام تاریخ جذباتیت اور جوش و ولولے کی نمایندہ رہی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اردو صحافت کی تاریخ کو بالعموم ایسے ہی حالات کا سامنارہا جو نہایت پرآشوب اور ہنگامہ خیز تھے۔میدان صحافت کے ہمارے بیشتر اکابرین جوش و جذبے کے ہی مبلغ رہے ہیں ۔حالات اور مسائل کا ادراک رکھنے کے باوجود غالباً جذباتی ابال ان کی مجبوری بن گئی تھی ۔ایسے میں نئی روشنی کا اجرا اردو صحافت کی تاریخ میں ایک ایسا موڑ ہے جہاں صحافت کے عام رویے سرنگوں ہوجاتے ہیں ۔پرجوش اور ولولہ انگیز تحریروں کے بر خلاف عابد صاحب نے صحافت کو ٹھوس مواد سے آراستہ کیا لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ ایک خشک اخبار تھا بلکہ ادارتی صفحے کے علاوہ ملکی و غیر ملکی حالات پر تبصرہ ،مضامین ،نظمیں اور دیگر دلچسپیوں کے موضوعات بھی شامل اشاعت ہواکرتے تھے ۔ملکی وغیر ملکی واقعات پر تبصروں میں اقتصادی ،سماجی اور آئینی مسائل کا بھی انتخاب کیا جاتا اس کے علاوہ بعض ضمنی اور علاقائی مسائل بھی نذر قائین کیے جاتے تھے ۔سنجیدگی اور متانت جو عابد صاحب کی شخصیت کا ایک اہم جو ہر تھی نئی روشنی کے صفحات اس کی بھی گواہی دیتے ہیں ۔۷۴۹۱ء کے ہنگاموں کے بعد بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا گئے لیکن اس پر آشوب دور میں عابد صاحب نے نئی روشنی کے ذریعہ صحافت کے توسط سے بصیرت و دانش کی ایک ایسی روایت کو پیش کیا جس کی ابتداء و انتہا خودانھیں کی شخصیت تھی ۔ہندو پاک کے مسائل ہوں یا مسئلہ فلسطین،اردو زبان کامسئلہ ہویا کشمیرکی عارضی صلح ہر مسئلہ پر عابدصاحب کاقلم نہ صرف رواں دواں رہا بلکہ پورے معاملے کو نہایت سلیقے سے پیش بھی کیا ۔نئی روشنی میں عابد صاحب کے اداریوں سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ وہ معاملہ کی تہہ اور نزاکت دونوں کوسمجھتے تھے ۔یہ مسئلہ آیندہ کیا رخ اختیار کرے گا اشاروں اشاروں میں یہ بھی بتا دیتے ۔16،اپریل 1949کے اداریے کاعنوان تھا ’’فلسطین کاسبق ‘‘جس کی چند سطریں ملاحظہ کریں :
’’یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ یہودی اس چھوٹی سی ریاست کے اندر چین سے بیٹھنے پر قناعت نہ کریں گے ان کے یہاں یورپ سے مہاجرین کے آنے کاسلسلہ جاری ہے وہ ایک عرصہ تک انکو اپنے حدود کے اندر کھپاتے رہیں گے اس کے بعد پاؤں پھیلائیں گے کہ ہمیں سانس لینے کے لیے اور جگہ چاہیے۔عرب ان کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کریں گے ۔اور فلسطین کا مسئلہ پھرنئے سرے سے کھڑا ہوجائے گا ۔‘‘
فلسطین کے موجودہ حالات 1949کی اس تحریر کو حرف بہ حرف درست ثابت کررہے ہیں ۔مسئلہ فلسطین پر نئی روشنی کا اداریہ دراصل آج بھی تروتازہ اور معنویت سے پر ہے ۔
سید عابد حسین کا شمار روشن خیال مسلمانوں میں کیا جاتا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو سرکاری مسلمانو ں کا ادارہ سمجھا گیا لیکن نئی روشنی کے صفحات پر عابد صاحب نے اپنے افکار و خیالات کے جو نقوش ثبت کیے ہیں وہ کسی اور حقیقت کی غمازی کرتے ہیں ۔مارچ 1949ء میں ہندستانی مسلمان کے نام سے انھوں نے لگاتا تین اداریے لکھے ۔مسلمانوں کی معیشت ،سیاست ،مقصد حیات اور دیگر مسائل پر لکھنے کے بعد انھوں نے لکھا :
غرض مسلمانوں کی زندگی کا مقصد جو ان کے مخصوص فلسفہ حیات کانتیجہ ہے ایک ایسی سوسائٹی ،ایک ایسی ریاست کی تعمیر ہے جس میں انھیں اپنے عقیدے کے مطابق تزکیہ نفس اور تہذیب اخلاق کا موقع ملے جس میں قومی وحدت بین الاقوامی وحدت کی بلندی پر پہنچنے کے لیے زینے کاکام دے ۔اس مقصد کوسامنے رکھ کر آپ ہندستان کے دستور اساسی کاخصوصاً بنیادی مقاصد کی دفعات کا جائزہ لیجیے تو آپ کو یہ نظر آئے گا کہ اس دستور میں مطلوبہ ریاست کا خاکہ موجود ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ محض ایک تصوری خاکہ ہے جس میں حقیقت کا رنگ بھرنا ہے ۔محض ایک پیکر خیال ہے جسے حقیقت کا جامہ پہنانا ہے ۔ہندستان میں مسلمانوں کا جماعت کی حیثیت سے اگر کوئی مقصد زندگی ہوسکتا ہے تو یہی ہوسکتا ہے کہ اس غیر مذہبی جمہوری اشتراکی ریاست کے خاکے میں حقیقت کارنگ بھرنے کی،اس خیالی ہیئت اجتماعی کو وجود میں لانے کی دل و جان سے سعی کریں ۔یہ ایک عظیم الشان نصب العین ہے جس کی راہ میں زبردست رکاوٹیں ہیں ان رکاوٹوں کو دور کرنا بڑی ہمت اور جرآت ،بڑے صبرو استقلال کا کام ہے ۔یہ کام ہندستانی مسلمانوں کو خداکانام لے کر شروع کرناہے اور اس وقت تک جاری رکھنا ہے جب تک کہ پورا نہ ہوجائے ۔‘‘
ان سطور سے عابد صاحب کے ذہن و فکر کا انداز لگایا جاسکتاہے ظاہر ہے یہ مشورہ کسی مذہبی عالم کانہیں ہے بلکہ یورپ کی جدید دانش گاہ کافارغ ایک روشن خیال مسلمان دے رہا ہے جس کے جذبات پر کسی قسم کی ملمع کاری نہیں ہے بلکہ یہ تلخ سچائی ہے جس سے ہم بالعموم آنکھیں چرالیتے ہیں یہ سخت کوشی کی دعوت ہے جس کی بدولت ہم نے ماضی میں عظیم سلطنتوں کو سرنگوں کردیاتھا مگر ایک عرصے سے ہم اپنے اس وصف خاص سے محروم ہوچکے ہیں ۔عابد صاحب انھیں مذہبی اور تہذیبی حوالوں کی روشنی میں ہمیں فکر و عمل کی دعوت دے رہے ہیں ۔
ہندستان میں مسلمانوں نے تہذیبی اور معاشرتی سطح پر جس نئے منہج کا تجربہ کرنا چاہا وہ دراصل ان کا سیاستی تجربہ تھا جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے ۔مگرمذہبی اور سماجی سطح پر صوفیائے کے مضبوط اشتراک و تعاون سے مسلمانوں نے جس تجربے کو فروغ دیا وہ ہنوز اپنی مطلوبہ منزل سے دور رہے ۔اس ضمن میں عابد صاحب کے نظریات کو بھی تجربے کے ایک قدم کے طور پر سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ہندستان کی تاریخ میں مذہبی،معاشرتی اور تہذیبی سطح پر اگر مسلمانوں کے تجرباتی مراحل کا تجزیہ کیا جائے تو بہ حیثیت مجموعی نقانات کا ایک ایسا طویل سلسلہ سامنے آئے گا جس کی تلافی مافات کی کوئی صورت نظرنہیں آتی ۔اس تجربے نے مسلمانوں کی شناخت اور ان کے امتیازی تشخص کے تار پود بکھیر کر رکھ دیے ہیں ۔
عابد صاحب نے ہفت روزہ’’ نئی روشنی‘‘ کے ذریعہ قوم و ملت کی جس ذہنی اور معاشرتی بے داری کا چراغ روشن کیاتھا س کی ایک عملی معنویت یہ ہے کہ تقریبا پچاس سال بعد بھی اس کے انعکاس سے ہمارے دانش ور حضرات اور مصلحین ملت روشنی کا سفر جاری رکھ سکتے ہیں ۔ہندستان کی تہذیبی اور ثقافتی سطح پر عابد صاحب کا جو تجرباتی ذہن تھا اس کی روشنی اب بھی ماند نہیں پڑی ہے ۔ہمیں اس علم کو لے کر آگے بڑھنا چاہیے۔اور اسے مطلوبہ منزل تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
عابد صاحب اور ان جیسے دوسرے بے دار مغز رہ نماوں کی کوششوں سے ہمیں جو سبق ملتا ہے یا انتہائی اصرار کے ساتھ اپنے جہد و عمل سے انھوں نے جو پیغام دینے کی کوشش کی ہے وہ یہ ہے کہ بار بار تجربہ کرنا ،اسے ترک کردینے سے بہتر ہے ۔ہمیں اسی پیغام کو آگے بڑھانا چاہیے اور اس کی معنویت کا اندازہ کرکے جہدو عمل کے لیے اپنی کمر کس لینی چاہیے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

