الہ آباد کے سنگم میں مسافروں کو سیر کرانے والا مانجھی زندگی کے نشیب و فراز کو کس زاویے سے دیکھتا ہے اور مختلف قسم کے لوگوں کو سیر کراتے ہوئے اسے کیا محسوس ہوتا ہے یہ وہ کسی سے کہے نہ کہے مگر اس کے سینے میں وہ تمام واقعات دفن ہوتے ہیں اور جیسے ہی اسے موقع ملتا ہے یا پھر وی این رائے کے جیسا کوئی مسافر ملتا ہے جو الہ آباد کے سنگم پر متھ اور راز کا پتہ لگانے کے لیے پہنچتا ہے جس کے اندر انسانی ہمدردی ہی نہیں ماحول، زمین چرندوں اور پرندوں سے بھی ہمدردی ہے، تو مانجھی اپنے ذہن کے دریچے کھولتا ہے اور اس میں محفوظ واقعاتِ زمانی کے کبوتروں کو ایک ایک کر کہ باہر نکالتا ہے اور وہ مسافر مبہوط ہو کر سنتا رہتا ہے۔
ایک ناول میں تہذیب کی کتنی کارفرمائی ہوتی ہے اس کا اندازہ آپ کو مانجھی پڑھ کر بہ خوبی ہو سکتا ہے۔ پہلا سوال تو میرے ذہن میں یہ اٹھا کہ مانجھی الہ آباد کے سنگم ہی میں کیوں یہ کشمیر کی کسی خوبصورت جھیل میں بھی تو ہو سکتا تھا جہاں بہت سے ملکی غیر ملکی لوگ سیاحت کرنے آتے ہیں۔ یا پھر کسی ناول نگار کو سوئٹزر لینڈ یا سڈنی کے خوبصورت نظاروں کا ذکر کرنے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت تو ہے نہیں تو پھر یہ الہ آباد ہی کیوں؟ غضنفر کا مانجھی کہیں اور کیوں نہیں؟
چونکہ وی این رائے کو متھ کی تلاش ہے۔ متھ کا گہرا تعلق تہذیب سے ہوتا ہے۔ الہ آباد ایک ایسی جگہ ہے جو ہندوستانی تہذیب کا گہوارہ ہے۔ الہ آباد کا مطلب زبانِ پہلوی میں وہ جگہ ہے جس کو خدا نے آباد کیا ہو ۔ اس جگہ کے تعلق سے جو مشہور ہندو متھ ہے وہ یہ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں بھگوان برہما نے اس دنیا کی تخلیق کرنے کے بعد یہیں پر پہلی قربانی دی۔ اس جگہ کا پرانا نام پریاگ تھا جو قدیم ہندوستانی زبان سنسکرت کا لفظ ہے۔پریاگ کا مطلب ہے قربان گاہ۔ یہ جگہ ہندو مذہب کے چار بڑے مذہبی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں تین ندیاں ملتی ہیں ، گنگا، جمنا اور سرسوتی اسی نسبت سے اس کو تریوینی بھی کہتے ہیں۔ چونکہ وی این رائے کو تہذیب کا مشاہدہ کرنا تھا اور غضنفر کو ہندوستانی تہذیب دکھانا مقصود تھا اس لیے انہوں نے پریاگ یعنی الہ آباد کے سنگم کو اپنے ’مانجھی‘ کے لیے مناسب جانا۔
تریوینی ایک طرف تو ایک نہایت ہی مقدس مقام ہے ہندوئوں کے لیے اور دوسری طرف وی این رائے کے لیے یہ محض ایک ایسی جگہ جہاں تہذیب کا کوئی راز چھپا ہے یا پھر محض ایک متھ جس کے راز جاننے کے تجسس نے اسے یہاں آنے پر مجبور کر دیا اور وہ یہاں آیا بھی۔
کسی بھی ناول کا مقام متعین کرنے کے لیے جو اہم بنیادیں ہوتی ہیں وہ کوئی طے شدہ نہیں ہوتیں ۔ اس کا انحصار ناقد کے نظریہ نقد پر ہوتا ہے اور ناول کس نوعیت کا ہے یہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ’مانجھی ‘ پر اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس میں ایک منفرد تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے جس کے ذریعہ ایک سے زیادہ پلاٹ کو ایک بڑے پلاٹ میں ضم کر دیا گیا ہے۔ یعنی مختلف چھوٹی چھوٹی کہانیوں کے اختلاط سے ایک ناول کا تانا بانا بنا گیا ہے۔اس تکنیک کو ناول کی خوبصورتی تسلیم کیا جائے یا قبح اس سلسلے میں ناقدینِ ادب کی آرا میں اختلافِ رائے کی گنجائش ہے ۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ناول کے حسن یا قبح کا انحصار اس کی اجزائے ترکیبی پر ہو ا کرتی ہے۔یعنی پلاٹ اور کردار دو ایسے اجزا ہیں جو ناول کی بنیاد ہوا کرتی ہیں۔یعنی اگر کردار اور پلاٹ مضبوط ہوں تو ناول ایک اچھا ناول ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے عناصر ہیں جو ایک ناول کو اچھے ناول کے خانے میں لا کھڑا کرتی ہیں مثلاََ ناول قاری کو کس حد تک پڑھنے پر مجبور کرتا ہے اور اس میں سماج کی عکاسی کس حد تک کی گئی ہے۔ ناول جس عہد میں تخلیق پاتا ہے اس عہد کی کس قدر ترجمانی اس ناول میں کی گئی ہے وغیرہ۔ بیسویں صدی کے ایک مشہور ناول نگار ارنسٹ ہیمنگوے کے مطابق ایک اچھے ناول کی خصوصیت اس کے کردار کا ایک زندہ کردار ہونا ہے وہ کہتا ہے
’’ ایک ناول لکھتے وقت تخلیق کار کو چاہیے کہ وہ زندہ لوگوں کی تخلیق کرے نہ کہ محض کرداروں کی تخلیق۔ ایک کردار تو بس ایک کارٹون ہوتا ہے۔‘‘
When writing a novel a writer should create living people; people not characters. A character is a caricatu
اس کسوٹی پر اگر مانجھی کو رکھا جائے تو یہ بالکل کھرا اترتا ہے یعنی اس ناول میں جو بھی کردار ہیں وہ لوگ ہیں آج کے چلتے پھرتے بولتے انسان جن کے وجود میں ان کی اپنی تہذیب ہے ۔ دنیا کو دیکھنے کا ان کا اپنا ایک انداز ہے ان کی اپنی ایک سوچ ہے۔ سماج میں پھیلی برائیوں اور اچھائیوں کو سمجھنے اور پرکھنے کا ان کا اپنا نظریہ ہے۔ کرداروں کی تخلیق کرتے وقت اس ناول میں اس امر کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ کردار جب بولتا ہے تو اس کی اپنی لفظیات ہیں اس کا اپنا ڈکشن ہے جو ایک دوسرے سے منفرد ہے۔ مانجھی کے مکالموں میں ہندی الفاظ زیادہ ہیں اور اس کے بر عکس بیانیہ میں سلیس اردو کا استعمال کیا گیا ہے جو بوجھل بالکل نہیں ۔ویسے بھی ناول کی صنف معرب اور مفرس زبان کی حامل کم از کم آج کے زمانے میں تو بالکل بھی نہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں ’لے سانس بھی آہستہ۔۔۔‘ ایک تجزیہ- ڈاکٹر انوار الحق)
اب سوال یہ ہے کہ مانجھی ہندی ہی کا استعمال کیوں کرتا ہے؟ ایسا کیوں نہیں کہ مانجھی سلیس اردو بولے اور بیانیہ ہندی میں ہو۔ چونکہ یہ ناول اردو میں تخلیق کیا جا رہا اس لحاظ سے بیانیہ کا اردو ہی میں ہونا مناسب ہے اور رہا سوال مانجھی کا تو اس کی زبان تو ویسی ہی ہوگی جیسے ماحول میں اس کی پرورش ہوئی ہے۔مانجھی اس ناول میں اپنا تعارف کچھ اس طرح سے کراتا ہے کہ اس کی پرورش جس معاشرے میں ہوئی ہے اس کا پورا نقشہ کھنچ جاتا ہے اوراس کا تہذیبی پس منظر قاری پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے مانجھی اور وی این رائے کے درمیان ہوئے یہ مکالمے:
’’میرا نام ویاس ہے، ویاس مانجھی‘‘
ــ’’ویاس ! ‘‘ویاینرائےچونکپڑے۔
’’جی ویاس مانجھی۔‘‘
’’تم جانتے ہو یہ نام کس کا تھا؟‘‘
’’جی جانتا ہوں ، اس منی کا ، جس نے مہا کاویہ مہابھارت رچا تھا‘‘۔
’’تم نے مہا بھارت پڑھی ہے؟‘‘
’’پڑھی ہے‘‘۔
’’کہاں، کیسے؟ کب؟‘‘ وی ۔این۔رائے کے منہ سے یک لخت تین سوال اچھل پڑے۔
’’صاحب میں ! میں نائو کھیتا ہوں اس کایہ مطلب نہیں کہ میں بالکل ان پڑھ گنوار ہوں‘‘۔ (مانجھی، صفحہ ۲۹)
اور پھر اسی مکالمہ میں آگے چل کر وہ اپنی تعلیم ادھوری رہ جانے کی وجہ اور اس کا کرب کچھ اس طرح بیان کرتا ہے؛
’’گھر کی حالت اچھی نہیں تھی ۔ باپو کی ملاّح گیری سے گھر کا خرچ نہیں چل پاتا تھا، کمانے والادوسرا کوئی اور تھا نہیں۔ اس لیے مجھے بھی انہوں نے ایک نائو کاپتوار تھما دیا اور قلم میرے ہاتھ سے نکل گئی۔‘‘
’’اوہ!‘‘
’’پرنتو میرے پڑھنے کا شوق ختم نہیں ہوا صاحب! میں ادھر اُدھر سے کتابیں حاصل کر کے جب کبھی موقع ملا پڑھتا رہا۔‘‘
’’کس طرح کی کتابیں پڑھتے تھے؟‘‘
’’ہر طرح کی‘‘۔ (مانجھی، صفحہ ۳۰)
مندرجہ بالا اقتباس میں اس ناول کے اہم کردار مانجھی کا پورا تعارف پیش کر دیا گیا ہے۔ اس تعارف میں ویاس مانجھی کا تہذیبی پس منظر اس زاویے سے پیش کیا گیا ہے کہ جس کے جاننے کے بعد مانجھی سے ہونے والے ہر مکالمہ کو پڑھتے وقت قاری کے ذہن میں مانجھی ویاس کے کردار کی پرورش اور اس کا تہذیبی پس منظر محفوظ رہتا ہے۔ا س ناول میں جن سماجی موضوعات کو موضوع بحث بنایا گیا ہے وہ بھی بے حد اہم ہیں ۔ عورت کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حل آج تک نہیں نکل پایا۔ اس مسئلہ پر مانجھی میں خاطر خواہ توجہ دی گئی ہے۔پرانی روایت کے مطابق راجا رانی کی کہانی کا لطف بھی اس ناول کو پڑھتے وقت خوب خوب ملتا ہے اور اس طرح ناول نگار نے عورت کے مسئلہ کو زمانہ قدیم کے مقابلہ دورِ جدید میں عورتوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی اس کا بھی کھلا ثبوت بڑی خوبصورتی سے پیش کر دیا ہے۔ اس ناول میں عورتوں کے مختلف مسائل کو مختلف طریقوں سے اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عورت کو سماج میں جو مقام ملنا چاہیے وہ آج تک نہیں مل پایا ہمیشہ اس کو دوسرے درجہ کے حیوان ناطق ہونے کا درجہ دیا جاتا رہا ہے۔ سماج میںعورتوں کے بہت سے مسائل ایسے ہیں جن پر لوگ بات بھی کرنا پسند نہیں کرتے۔اس کی وجہ آخر کیا ہے ۔ کیا اس کی وجہ خود عورتیں ہیں یا پھر مردوں کی وہ دنیا جو مردوں نے اپنے مفاد کے لیے بنائی ہے اور عورتوں کے مفاد کا خیال نہیں رکھا۔ سماج میں عورتوں کی حیثیت پر تبصرہ کرتے ہوئے مانجھی میں بیانیہ کا یہ دلچسپ انداز ملاحظہ فرمائیے۔
’’ماں درگا بھی تو عورت ہیں ، سرو شکتی مان ہیں تو عورت پر یہ اپنا کرپا کیوں نہیں کرتیں؟ اسے طاقت ور کیوں نہیں بناتیں؟ اسے کمزور کیوں رکھتی ہیں؟ جب کہ فطرت اور نفسیات کا تقاضایہ ہے کہ اپنی ذات برادری سے تعلق رکھنے والا زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے۔ اور جو زیادہ قریب ہوتا ہے اس کا خیال بھی زیادہ رکھا جاتا ہے۔ اس کی چنتا بھی زیادہ کی جاتی ہے۔ یہاں تو معاملہ بالکل بر عکس ہے۔ درگا کی اپنی ذات ہی سب سے زیادہ دربل ہے۔
عورت صرف دربل ہی نہیں ہے۔ اس کی معاشی حالت بھی بدتر ہے۔ اس کے پاس دھن دولت کی بھی کمی ہے جب کہ دولت کی دیوی لکشمی بھی اسی کے گوتر سے ہیں۔درگا کی طرح وہ بھی عورت ہیں۔
کسی نے ان کی درگا والی سوچ میں لکشمی کا بھی اضافہ کر دیا۔آخر یہ دونوں دیویاں اپنی ذات کے ساتھ ایسا کیوں کرتی ہیں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ دونوں جانب داری کے الزام سے بچنا چاہتی ہیں؟ تو کیا یہ اتنی سی بات کے لیے اتنا بڑا ظلم عورت پر صدیوں سے کرتی چلی آرہی ہیں ؟ یا کوئی اور وجہ ہے؟ کوئی اور نفسیات ہے؟
اگر جانب داری کا اتنا ہی ڈر ہے تو ٹھیک ہے یہ عورت پہ مہربانی نہ کریں مگر انصاف تو کر سکتی ہیں لیکن یہ تو انصاف بھی نہیں کرتیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اس شکتی سے ڈرتی ہیں جس نے ان دونوں کو جنم دیا ہے اور وہ مرد ذات سے تعلق رکھتا ہے؟
یا کہیں یہ بات تو نہیں کہ عورت خود نہیں چاہتی کہ اس میں کوئی تبدیلی واقع ہو۔ اگر یہ تبدیلی چاہتی ہے تو جتن کیوں نہیں کرتی؟ (مانجھی، صفحہ ۴۸)
یہ ایک بہت بڈا سوال ناول نگار نے قارئین کے لیے چھوڑ دیا ہے جو ان کے دلوں کو جھکجھور کر رکھ دینے کے لیے کافی ہے۔اقتباسِ بالا یہ اندازہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ ناول نگار عورت کے مسئلہ کو دیومالا یعنی متھ سے جوڑ کر دیکھتا ہے اور اس نے ہندو مایتھولوجی کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ جو سوالات قائم کیے گئے ہیں اور جس انداز سے قائم کیے گئے ہیں ان کی مثال جدید اردو ناولوں میں کم کم ملتی ہیں۔دوسری قابلِ غور اہم بات مندرجہ بالا اقتباس میں اس کا اسلوب ہے۔ اس میں مختلف تکنیک اپنائی گئی ہے۔عام طور سے مانجھی کا اسلوب سادہ اور سپاٹ ہے۔ مگر اقتباسِ بالا میں شعور کی رو کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

