اگر مولانا عامر عثمانی “مسجد سے میخانے تک “کے علاوہ زندگی میں اور کچھ بھی نہیں لکھتے تو بھی وہ ادب میں ہمیشہ زندہ رہتے ۔ملا ابن العرب مکی کے نام سے لکھے گئے یہ کالم یہ ایک شاہکار ہیں اور اس پائے کا طنز شاید ہی کبھی اور لکھا گیا ہو ۔(اس کے محاسن گنوانے کے لئے ایک الگ مضمون درکار ہے )اس طنز کو میں “مومنانہ “طنز سے تعبیر کرونگا ۔طنز سے یقیناً ایک سطح پر سماج کی برائیوں کو اجاگر کرنا مقصود ہوتا ہے لیکن یہ کبھی بھی کسی خاص فلسفہ کے تحت نہیں لکھا جاتا ہے جبکہ “مسجد سے میخانے تک “میں جو طنز ہے،وہ سراسر جماعت اسلامی کے فلسفلہ کی دفاع کی ایک کوشش ہے اور اسی کے پیشِ نظر لکھا گیا ہے ۔یہ کوشش کوئی بھی فرد جو جماعت سے منسلک تھا اور ادبی ذوق رکھتا تھا کر سکتا تھا لیکن عامر عثمانی کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اسکی ادبی حیثیت ذرا بھی مجروح نہیں ہونے دی ۔اچھا طنز لکھنا ویسے بھی دنیا کا مشکل ترین کام ہے چہ جائے کہ وہ کسی خاص نظریے کے تحت لکھا جائے ۔”طنز و مزاح بومرینگboomerang کی طرح ہوتا ہے ۔وار اوچھا پڑھائے تو پلٹ کر خود شکاری کو شکار کر لیتا ہے “یہ جملہ طنز و مزاح کے سرخیل مشتاق احمد یوسفی کا ہے ۔”مسجد سے میخانے تک ” کا طنز اعلی ترین قسم کا طنز ہے ۔عامر عثمانی چونکہ گو ناگوں صلاحیتوں کے حامل تھے ،اس لئے انکی شخصیت کی کئی جہتیں نمایاں نہ ہو سکیں جس میں بطور خاص انکی شاعری کا ذکر کیا جاسکتا ہے ۔وہ اعلی درجے کے شاعر تھے ۔اسلامی ادب کے تحت جو شاعری کی گئی ،اسمیں ماہر القادری ،نعیم صدیقی ،حفیظ میرٹھی ،ابوالمجاہد زاہد جیسے کچھ ناموں کو چھوڑ دیں تو اسے معیاری شاعری نہیں کہاجا سکتا ہے ۔بات تلخ ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس شاعری کے تحت جو کچھ لکھا گیا اس میں “شعریت “کے علاوہ سب کچھ ہے ۔عامر عثمانی کی شاعری کو اگر ہم شاعری کے سب سے اعلی معیار سے بھی ناپیں تو وہ انگریزی محاورے کے مطابق (flying colours)سے پاس ہوتی ہے ۔
مولانا مطلوب الرحمن کے گھر 1920 میں ایک فرزند امیر الرحمن تولد ہوتا ہے جو بعد میں عامر عثمانی کے نام سے مشہور ہوتا ہے ۔دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرتا ہے اور کسبِ معاش کے سلسلہ میں “پرچون فروشی “سے لیکر “پتنگ فروشی “تک کے مراحل سے گزرتا ہے لیکن کامیابی نہیں ملتی ہے۔خداکی مرضی کچھ اور تھی ،سو کامیابی کیسے ملتی ۔ایک دن ہر طرف سے تھک کر “تجلی “نام کا ایک ماہنامہ شروع کرتا ہے اور پھر وہ جو کہتے ہیں نا کہ rest is history تو ایسی کامیابی ملتی ہے کہ دنیا دیکھتی رہ جاتی ہے ۔
ان میں شاعری کی صلاحیت فطرت کی طرف سے ودیعت کی ہوئی تھی اس لئے وہ گوناگوں مصروفیت کے باوجود اس کے لئے وقت نکال لیتے تھے ۔جگر مراد آبادی سے متاثر تھے اس لئے انکے یہاں بھی وہی سرشاری اور جذب و مستی کی کیفیت دکھائی دیتی ہے ۔بہت لوگوں کو یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ وہ گھوم گھوم کر مشاعرے بھی پڑھتے تھے لیکن وہ زاہدِ خشک نہیں تھے ۔بیان کرنے والے تو یہاں تک بیان کرتے ہیں کہ ان کے مشاغل میں ہر شام دیوبند کی ایک سوڈے کی دوکان پر بیٹھ کر سوڈا پینا اور گپ شپ کرنا بھی شامل تھا ۔پتنگ بازی کا بھی شوق رکھتے تھے ۔کبوتر بازوں سے بھی تعلقات تھے اور وہ ان سے گھنٹوں کبوتروں کی مختلف اقسام کے تعلق سے باتیں کرتے تھے ۔محلے کے بچوں کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلتے ہوئے بھی دیکھے جاتے تھے ۔ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ اس طرح کے مشاغل کے بغیر انسان ،انسان نہیں بنتا ہے لیکن شخصیت اکہری ضرور رہ جاتی ہے ۔
انکا مجموعہ کلام “یہ قدم قدم بلائیں” کے نام سے چھپا ہے اور اس کو پڑھ کر جسم میں سرور وانبساط کی لہریں بہنے لگتی ہیں ۔یہ ایک اعلی درجہ کی شاعری ہے اور گوکہ ایک خاص نظریے کے تحت کی گئی ہے لیکن روح شاعری پر ذرہ برابر بھی آنچ نہیں آئی ہے ۔اصلاحی اور اسلامی شاعری میں “شعریت” کو برقرار رکھنا کتنا مشکل ہے ،ہ اسکی عبرتناک مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔خود ترقی پسند تحریک کے زیر اثر جو شاعری کی گئی اور اس کا جو حشر ہوا ،ہم اس سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔عامر عثمانی نے کوشش کی انکی شاعری شاعری ہی رہے ،پروپیگنڈہ نہ بن جائے ۔جب وہ اسلامی فلسفہ کو بھی موضوع بناتے ہیں ،تب بھی اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ “شاعرانہ “ ہی رہے
یہ کم نہیں کہ بجھائی ہے پیاس کانٹوں کی
بلا سے راہ ِ وفا میں لہو لہان ہوئے
اگر ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ اسکا خالق کون ہے تو ہم اسے فیض یا کسی اور بڑے شاعر کا شعر سمجھ کر پڑھیں گے اور سر دُھنیں گے ۔بات وہی راہِ وفا میں قربانی دینے کی کہی جارہی ہے لیکن نظریہ خالصتا اسلامی ہے ۔
یا پھر مجموعہ کی سب سے پہلی غزل دیکھیں جسکے ایک شعر سے اس مجموعہ کا نام ماخوذ ہے ۔
نہ سکت ہے ضبطِ غم کی ،نہ مجالِ اشکباری
یہ عجیب کیفیت ہے ،نہ سکوں نہ بے قراری
ترا ایک ہی ستم ہے ،ترے ہر کرم پہ بھاری
غمِ دو جہاں سے دیدی ،مجھے تونے رستگاری
یہ قدم قدم بلائیں ،یہ سوادِ کوئے جاناں
وہ یہیں سے لوٹ جائے ،جسے زندگی ہو پیاری
مری صبح منتظر ہے ،کسی اور صبحِ نو کی
یہ سحر تجھے مبارک ،جو ہے ظلمتوں کی ماری
وہی پھول چاک دامن ،وہی رنگِ اہلِ گلشن
ابھی صرف یہ ہوا ہے ،کہ بدل گئے شکاری
مری عافیت کے دشمن ،مجھے چین آچلا ہے
کوئی اور زخمِ تازہ ،کوئی اور ضربِ کاری
مجھے لے چلا بہا کر ،غمِ زندگی کا دھارا
غمِ عشق یاوری کر ،ہے مقامِ شرمساری
بندش کی چستی ،خیال آفرینی ،استعاروں کا استعمال ،الفاظ کا حسنِ انتخاب اور خیال کا ابلاغ اور ترسیل ،غرض کہ اچھی شاعری کے لئے جو بھی عوامل درکار ہوتے ہیں ،یہ غزل ان کا ایک حسین مرقع ہے اور یہ کوئی استثناء نہیں ہے بلکہ اگر انکے پورے کلام کا جائزہ لیا جائے تو یہی کہنگی پختگی اور شعریت آپ کو تقریباً ہر مقام پر دکھائی دے گی ۔ذرا یہ اشعار دیکھئے کہ کیسے ان میں انکا کمالِ فن بول رہا ہے
چشمِ باطن کو بروئے کار جب لاتا ہوں میں
وہ کہیں بھی ہوں ،نظر کے سامنے پاتا ہوں میں
فکرِ دنیا ہو ،غمِ عقبی ہو ،دردِ عشق ہو
غم کا ہر نغمہ ربابِ عشق پر گاتا ہوں میں
مرحبا اے کوششِ ضبطِ مسلسل مرحبا
آج ان کو آرزو مندِ فغاں پاتا ہوں میں
یا پھر ان اشعار میں جو بلا کا سوز اسے محسوس کرنے کی کوشش کیجئے
موسمِ گل کو کیا کریں ،دل میں شگفتگی نہیں
فرصتِ زندگی تو ہے ،خواہشِ زندگی نہیں
غم کے سرورِ خاص کا ،جس کا شعور ہی نہیں
عشق کے کاروبار میں ،اس کے لئے خوشی نہیں
تیری نگاہِ ناز کی ،چارہ گری کو کیا کہوں
درد میں کچھ کمی بھی ہے ،اور کوئی کمی نہیں
وہ جگر سے بہت متاثر تھے ۔اس غزل میں اسی جذب اور سر مستی کے دریا کو بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو جگر کی پہچان ہے
یہ قدم قدم اسیری ،یہ حسین قید خانہ
کوئی طاق ہے نہ بیڑی ،کوئی دام ہے نہ دانہ
مرے زخم بھر نہ جائیں ،مجھے چین آنہ جائے
یہ کبھی کبھی توجہ ،ہے ستم کا شاخسانہ
یہ سمجھ کے اس نے بخشی ،کبھی دولتِ سکوں بھی
کہیں راس آنہ جائے ،مجھے گردشِ زمانہ
وہ کہیں جہاں پہ عامر ،مجھے چھوڑ کر گئے تھے
ہے رکی ہوئی ابھی تک ،وہیں گردشِ زمانہ
اچھی شاعری وہی مانی جاتی ہے جہاں بات اشاروں ،کنایوں میں کی جائے ،،پیکر خیال کو استعاروں کا لبادہ پہنایا جائے ،بات کچھ مبہم بھی ہو اور اس کے کئی معنی نکل سکتے ہوں ،انھوں نے ان مروجہ اصولوں سے کئی جگہ انحراف بھی کیا ہے ،انکے یہاں بہت سارے اشعار ایسے بھی ملتے ہیں ،جہاں ان کامطمح نظر ڈھکا چھپا نہیں بلکہ بالکل عیاں ہے لیکن وہاں بھی انھوں نے شاعری کے دامن کو نہیں چھوڑا ہے
ہزاروں طاق سجے ،سیکڑوں چراغ جلے
ہماری رات کے سائے مگر ذرا نہ ڈھلے
تمام عمر گزاری ہوس کے سائے میں
اجل کا وقت جو آیا تو ہم نے ہاتھ ملے
بتوں کے در سے عطا ہو جو عزت و حشمت
ہم ایسی عزت و حشمت سے دور دور چلے
حرم کے حق میں ہیں وہ مارِ آستیں عامر
دل و دماغ جو بچپن سے میکدے میں پلے
یا پھر اس طرح کے اشعار
مجاہدو اس کو یاد رکھنا ،یہ ایک نکتہ ہے عارفانہ
جہادِ حق کارگر نہ ہوگا ،اگر نہیں ہے گریہِ شبانہ
عروج سے بہرہ ور نہ ہوگی،کبھی حیاتِ منافقانہ
زباں پہ اسلام کا وظیفہ ،مگر خیالات کافرانہ
ستیزہ گاہِ عمل سے عامر ،جو کنجِ عزلت میں لا بٹھائے
وہ زہد ہے یاس و بزدلی کو،جواز دینے کا اک بہانہ
یا پھر ایک خاص رنگ کے زہد وتقشف اور مشرکانہ رسوم پر انکا طنز
نغمہ ولے کے متوالوں کو ،صاحبِ وجد وحال تو دیکھا
لیکن ان “خاصانِ خدا” سے ،رزم کے میداں خالی پائے
فضلِ خدا سے رشتہ توڑے ،شرکِ جلی سے ناطہ جوڑے
دیر سے بیٹھا ہے اک صوفی،قبرِ ولی پر آس لگائے
قبروں پر جب میلے دیکھے ،تب یہ بات سمجھ میں آئی
بن جاتے ہیں ناداں انساں ،کتنی آسانی سے چوپائے
انھوں نے غزلوں کے ساتھ نظموں میں بھی طبع آزمائی کی ہے اور وہاں بھی وہ پوری طرح کامیاب ہیں ۔“اے کہ تو “اور “رودادِ الم” میں وہ جس طرح سے سرورِ کائنات صل اللہ سے مخاطب ہیں اور جس طرح سے اپنی اور امت کی تہی دامنی کا نوحہ کرتے ہیں وہ دلوں کی چیر دیتی ہے ۔اس کے علاوہ ان کے ذخیرہ نظم میں “خواب اور تعبیر “ “ہائے یہ گردشِ دوراں “ “پیغام “ “سرخ ستارہ “بغاوت “”سحر ہو بھی چکی “”قافلہ حجاج سے خطاب”جیسی نظمیں ہیں جو ان کے کمالِ فن کی آئینہ دار ہیں ،لیکن ان کی سب سے مشہور نظم “خواب جو بکھر گئے “ہے ۔یہ نظم ویسے بھی ایک شاہکار ہے لیکن اسے اس بات نے اور بھی خاص بنا دیا ہے کہ پونے کے مشاعرے میں یہ نظم سنانے کے دس منٹ کے بعد اسٹیج پر انھیں قلب کا شدید دورہ پڑا اور وہیں انکا انتقال ہو گیا ۔نظم بہت طویل ہے لیکن اس لائق ہے اس کے کچھ بند نقل کر دئے جائیں
جنھیں سحر نگل گئی ،وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی ،شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ہے
برہنگی کے شہر میں لباس کی تلاش ہے
وہ برف باریاں ہوئیں کہ پیاس خود ہی بجھ گئی
میں ساغروں کو کیا کروں کہ پیاس تلاش ہے
گھرا ہوا ہے ابر ماہتاب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنھیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
یہ دھوپ زرد زرد سی ،یہ چاندنی دھواں دھواں
یہ طلعتیں بجھی بجھی ،یہ داغ داغ کہکشاں
یہ سرخ سرخ پھول ہیں کہ زخم ہیں بہار کے
یہ اوس کی پھوار ہیں کہ رو رہا ہے آسماں
دل و نظر کے موتیوں کی آب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنھیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
اور نظم کا یہ آخری بند
بہت دنوں میں راستہ ،حریمِ ناز کا ملا
مگر حریمِ ناز تک پہونچ گئے تو کیا ملا
مرے سفر کے ساتھیو!تمہیں سے پوچھتا ہوں میں
بتاؤ کیا صنم ملے ،بتاؤ کیا خدا ملا
جواب چاہیئے مجھے ،جواب ڈھونڈھتا ہوں میں
جنھیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
افسوس کہ اس آفتاب کو وہ گہن لگا اور اس کے خوابوں کو وہ سحر نگل گئی کہ اردو کے جغادری ادیبوں اور نقاد وں کو چھوڑ دیں کہ وہ “فکراسلامی “سے الرجک ہیں اور اپنے خود ساختہ پیمانوں پر شاعری کے حسن وقبح کو ناپتے ہیں ،رونا اس بات کا ہے کہ اصلاحی اور تعمیری ادب کے علمبردار اور نقیب تک اس البیلے شاعر کی عظمت سے کماحقہ واقف نہیں ہیں (میرے علم کی حدیں بہت محدود ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ انکی بازیافت کی یا انکی عظمت کو اجاگر کرنے کی آج تک کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی ہے )ورنہ یہ شعر کہنا والا شخص
ہمیں آخرت میں عامر ،وہی عمر کام آئی
جسے سب سمجھ رہے تھے ،غمِ عشق میں گنوائی
ہمارے دل و دماغ میں آج بھی زندہ ہوتا ۔
عبداللہ زکریا
zakabdullah1968@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

