Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

شہپر رسول کا نظمیہ متن: قرات اور تعبیر کے درمیان – ڈاکٹر خالد مبشر

by adbimiras اکتوبر 1, 2020
by adbimiras اکتوبر 1, 2020 1 comment

عہدِ رواں میں قرطاسِ غزل پر شہپر رسول کا نام جلی قلم سے مرتسم ہوچکا ہے۔لیکن میری نظر میں شہپر رسول غزل سے زیادہ نظم کے شاعر ہیں۔ لوحِ نظم پہ شہپر رسول کا اسم اس قدر روشن ہے کہ اس کی تابانیوں سے غزل کی ضیا پاشیاں مدھم پڑگئی ہیں۔

مشکل یہ ہے کہ طلسمِ غزل نے نظم کو اپنے حصارِ سحر میں ایسا گرفتار کر لیا کہ غزل زدگاں نے نظم کو جن آنکھوں سے دیکھا ان پہ غزل کی شکل وصورت اور ذائقہ و لمس کے ایسے دبیز پردے پڑے ہوئے تھے کہ گویا جس نے بھی نظم کو دیکھا اس میں دراصل غزل پیکر کے جلوے ہی تلاش کئے۔ اب اس سے بڑھ کر نظم کی تحقیر کیا ہوگی کہ نظم میں بھی غزل کی طرح مصرعوں کے درمیان باہمی تعامل و ارتباط، تناسبات، چستی وبندش، روایتی دلیلِ شعری، مضمون بندی، معنی آفرینی اور خیال بندی کی غزلیہ علمیات کی جستجو کی جائے اور ان عناصرِ غزل کی عدم موجودگی کی صورت میں نظم کو شعری سلطنت سے دیس نکالا دے دیاجائے۔

اب وہ وقت آگیا ہے کہ نظم قرأت کو غزل کے جبر وتسلط سے آزاد کیا جائے اور نظم کی علمیات کے ذریعہ غزل آلودہ مطلع کی تطہیر کی جائے اور یہ نکتہ صاف کردیاجائے کہ وہ عوامل جو غزل کے لئے عیب ہیں، عین نظم کے لئے حسن ہیں اور وہ چیزیں جو غزل میں خوبی سمجھی جاتی ہیں، نظم میں وہی خامی بن جاتی ہیں۔ نامیاتی وحدت کے بغیر نظم کا تصور محال ہے، اس کے باوجود نئی نظم میں خالی جگہیں اور خاموشیاں اپنے قاری سے بھر پور تخلیقی شرکت وشمولیت کا مطالبہ کرتی ہیں۔ ایک باشعور قاری اس خلا کو نظم کی شعریات ،علم تاریخ، فلسفہ و ادب کے رجحانات اور اپنی تعبیری قوتوں سے پُر کرنے کی سعی کرتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں شہپر رسول کی ایک غزل کا تجزیہ – ڈاکٹر صدف پرویز)

شہپر رسول کی نظم اس معنی میں البیلی ہے کہ وہ اپنی تفہیم وترسیل میں قاری سے کسی نوع کی مفاہمت کارشتہ قائم نہیں کرتی، بلکہ اس سے ایک بے نیازی کی روش اختیار کرتی ہے۔ اس کو اپنے قاری کی چنداں پروا نہیں بلکہ وہ اس کی تفہیمی استعداد کا منہ چڑھاتی ہے، اس کو چلینج کرتی ہے، اس کے شعری تصورات سے آنکھ مچولی کرتی ہے اور بالآخر بے چارے قاری کو حیران و پریشان چھوڑ کر مسکراتی ہوئی گذر جاتی ہے۔ شہپر رسول تسلسلِ خیال، ارتقائے خیال اور وحدت خیال جیسے اردو نظم کے روایتی مسلمات کو بھی اپنی تخلیقی ضرب ِکاری  کے ذریعہ شکست وریخت سے دوچار کردیتے ہیں۔

میں نے جس طور پرشہپر رسول کی نظموں کی قرأت کی ہے، اس سلسلے میں میرا طریقۂ کار تعبیری نوعیت کاہے اور ظاہر ہے کہ ہرقاری کی طرح میری تفہیم بھی ذاتی ہے اور اس سے اختلاف کی بھر پور گنجائش موجود ہے۔ یہاں میں نے اپنی معروضات کے ساتھ نظموں کا مکمل متن پیش کرنے کا التزام کیا ہے، تاکہ میرے تناظر کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

––––––––

گریزاں لمحے

صبح ہوئی اور بادل چھائے

رنگ اڑے دامن لہرائے

کچھ خوش کار گریزاں لمحے

پھول بنے اور شاخ پر آئے

یاد نہیں اب کچھ بھی شہپر

کب مہکے اور کب مرجھائے

صبح، بادل، رنگ،دامن، لمحے، پھول، شاخ، مہک، مرجھانا اور یادجیسی کلیدی لفظیات سے تشکیل پذیریہ نظم مکمل طور پر غزل کی ہیئت میں ہے ،جس میں مطلع، مقطع اور قوافی کا اہتمام کیا گیاہے اور تمام مصرعے ہم وزن بھی ہیں۔ لفظیاتی اور اسلوبیاتی سطح پر بھی اس کا آہنگ غزلیہ ہے۔ شہپر رسول کی طبیعت غزل رنگ ہے، ان کی نظموں میں غزل کا لمس ملتاہے۔ گریزاں لمحوں کی رومان انگیز کسک کو پھول بنانے کا عمل کسی بڑی شاعرانہ تخیلی کارگزاری کے بغیر ممکن نہیں۔ رنگ ونور اور خوشبوؤں کی امیجری ان کی سائیکی میں رچی بسی ہے۔ زندگی کے بعض خوش گوار لمحے ایسے ہوتے ہیں جن سے انسان کی بہت سی حسرت آمیز یادیں اور رومانی جذبات وابستہ ہوتے ہیں، لیکن ان لمحوں کی قسمت میں دوام نہیں ہوتا:

کچھ خوش کار گریزاں لمحے

پھول بنے اور شاخ پر آئے

اس نظم کا سارا رنگ اس شعر میں سمٹ آیاہے۔ ’’لمحہ ‘‘اپنے آپ میں وقت کی وہ اکائی ہے جس کو پائیدارای نصیب نہیں۔ متکلم کے چند مخصوص لمحوں کی دو خصوصیات ہیں ۔ایک تو وہ ’’خوش کار‘‘ہیں اور دوسرے ’’گریزاں‘‘۔ ان دونوں مجرد خصوصیات کو شاعر کا تخیل جب وحدانی اور حسی پیکر میں سموتا ہے تو پھول بنا دیتا ہے۔ پھول خوش رنگ، خوشبودار اور فرحت افزا تو ہے، لیکن اسے ثبات نہیں۔

شہپر رسول ماضی پرست تو نہیں لیکن وہ ماضی کو اس طرح جیتے ہیں جیسے وہ ان کا لمحہ ٔحال ہو۔ماضی کے حوالے سے ان کے یہاں ایک عجیب ناسٹیلجیائی کیفیت بھی پائی جاتی ہے، ایک ہلکا حزن، ایک ہلکا دھندلا رومان۔

شہپر رسول کی نظموں میں مناظر کی کار فرمائی بہت ہے، لیکن وہ مناظر محض حسنِ قدرت کے بیان پر مشتمل نہیں بلکہ وہ خارجی مظاہر ان کے باطن کا عکس بن جاتے ہیں۔ فطرت کے سلسلے میں فن کار کے دو رویے ملتے ہیں۔ کچھ فطرت کے تماشائی ہوتے ہیں اور اس کی ہوبہو تصویر لفظوں میں کھینچ دیتے ہیں۔بعض تخلیق کار فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں اور خود ان کی ذات فطرت میں انضمام وادغام کرلیتی ہے۔ شہپر رسول نہ تماشائی ہیںاور نہ فنائی۔ ان کی شاعری میں مناظر ان کے اندرون سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ ان کی ذات کے نہاں خانوں سے غم، درد، سوز، رومان، کیف وسرور اور جدان وغیرہ تخلیقی موڈ کے عین مطابق مظاہر ومناظر کبھی اپنے علامتی او راستعارتی رنگ میں اور کبھی داخلی کیفیت سے ہم آہنگ ہوکر سامنے آتے ہیں۔

––––––––

بہت دور کہیں

زندگی پھول ہے

کھلتی ہے ہنسا کرتی ہے

ماہیِ آبِ جفا کار ہے

ہاتھوں سے پھسل جاتی ہے

سست اور سنگ ہیں

تجربے رنگ ہیں

آنکھوں سے گزر جاتے ہیں

تجربے لمس ہیں

لمحوں سے لپٹ جاتے ہیں

برسوں میں سمٹ جاتے ہیں

انفاس میں بٹ جاتے ہیں

مضطرب روح ہے

شعلوں میں بسر کرتی ہے

صدیوں میں گزر کرتی ہے

ادراک میں در کرتی ہے

سانسوں سے حذر کرتی ہے

لہروں پہ سفر کرتی ہے

دور بس دور

کہیں دور

بہت دور کہیں

نامیاتی وحدت کے بغیر نظم خلق پذیر نہیں ہوسکتی۔ لیکن شہپر رسول کی بعض نظمیں اپنی بنت کے اعتبار سے قاری کو اس وہم میں ڈالتی ہیں کہ بہت سے منتشر خیالات نظم کی سرشت میں جاری ہیں۔ حالانکہ اختتام تک پہنچ کر وہ تمام کثرتیں ایک وحدت میں ضم ہوجاتی ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکاہے کہ میرے خیال میں شہپر رسول غزل سے بڑھ کر نظم کے شاعر ہیں۔ہر چند کہ ان کی نظموں میں لفظ ،تراکیب، ایمائی اور رمزیہ اسلوب غزل سے ہم آہنگ ہے ،لیکن ان کی تمام نظمیں Thematicہیں اور اس میں وحدانی نمو پذیری غضب کی ہے۔ہر بڑے فن کار کی طرح شہپر رسول کا بھی ایک نظریۂ حیات وکائنات ہے۔ لیکن ان کا نظریہ کبھی شعریاتی قالب کو مجروح نہیں کرتا۔ (یہ بھی پڑھیں کلاسیکی رویے اور نئی تخلیقی فکر کا شاعر : شہپر رسول – خان محمد رضوان)

زندگی کے حوالے سے شاعر کا رویہ رومان پرور بھی ہے اور حسرت خیز بھی ۔ وہ یاس ونومیدی اور امید ورجا کے ما بین ایک ہم آمیزی کی کیفیت سے اپنی نظموں کو کاڑھتے اور پروتے ہیں۔ زندگی، پھول، ماہی، سنگ، رنگ، آنکھ، لمس، لمحے، برس، صدی، انفاس، سانس، روح، شعلہ، لہر، سفر اور ادراک جیسے لفظوں سے اس نظم کا ہیولا ابھرتا ہے۔ شہپر رسول مجرد کو مجسم کرنے کے ہنر سے واقف ہیں ۔زندگی ان کے لئے پھول ہے، ماہی ہے،تجربہ رنگ ہے، لمس ہے، روح حددرجہ مضطرب اور متحرک ہے، ان کی شاعری میں فکر وفلسفہ یوں حل پذیر ہوجاتا ہے کہ اس کے وجود کو الگ سے گرفت میں لانا مشکل ہے۔ روح کا سفر جاری ہے۔  اس کا قیام شعلوں میں ہے ۔شعلہ حیات وکائنات کا وجود بھی ہے اور اس وجود کا محرک بھی۔ شعلہ مسائلِ ہستی بھی ہے اور اس کا حل بھی۔ روح کے سفر میں تاریخِ انسانی (صدیوں میں گذر کرتی ہے)، فلسفہ ودانش (ادراک میں در کرتی ہے)، مادی لوازم (سانسوں سے حذر کرتی ہے)اور تحریکات ورجحانات (لہروں پہ سفر کرتی ہے) سنگ ہائے میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن روح اپنے اس سفر میں مستقل سکونت و قیام کہیں بھی اختیار نہیں کرسکتی۔

––––––––

کون ہے اب بے حال

اک دن

ایسا نکلا سورج

دن میں سپنے چمکے

پھول پتنگے تتلی بھونرے

بن کر تارے جھمکے

ہونٹ ہنسی کے وصل سے جیسے اپنا ماضی بھولے

اور۔۔۔۔۔۔

یکایک ۔۔۔۔۔ آہٹ ٹھٹھکی

ماتھا ٹھنکا

رقص میں آئے بگولے

فلک زمیں کو جیسے چھولے

ساری دنیا جھولے

راتوں رات کیا اک غم نے کیوں ہم کو پامال

دنیا ہے جنجال

ایسی آنکھیں جو آنکھوں پر جادو بن کر چھائیں

وحشت کیوں برسائیں

مست خرامی سے لمحوں کی صدیاں بھی شرمائیں

سمتیں سب چھُپ جائیں

سر سر سر سر سائیں سائیں کرتی جائیں ہوائیں

راتوں رات کیا مستقبل نے کیوں ہم کو بے حال

دنیا ہے جنجال

لفظ کے پیالے سے معنی کا امرت چھلکا جائے

کیسے کوئی گائے

دل سے نکلے ہائے

آوازیں ہی ہوتی ہیں آوازوں میں حل

کتنا میٹھا پھل

آج پھر اپنے کام آئی ہے خوابوں کی ٹکسال

کون ہے اب بے حال

دنیا ایک دھمال

شہپر رسول پیچیدہ تخلیقی حسیت کے شاعر ہیں۔ ان کی پیچیدگی شعور کی رو میں مضمر ہے ۔اسی شعور کی رو کے نتیجے میں کہیں نظم کے متن میں خلا اور کہیں خاموشیاں در آتی ہیں۔یہ خلا اور خاموشی نظم کے اندر معنی افزودگی کا سبب بنتی ہیں۔ یہ نظم خارجی بیانِ واقعہ سے گریزاں ہے۔ اسمائے معرفہ کا غیاب اس کو تہہ دار ا ورپُراسرار بنانے کے ساتھ معنیاتی تکثیریت سے بھی مالا مال کرتا ہے۔ شہپر رسول کی نظموں میں منظروں کا وفور ہے، لیکن یہ منظر صرف جمالیاتی ذوق کی تسکین کے لئے نہیں بلکہ اس سے معنی آگینی اور اثر آفرینی کا کام لیا گیاہے۔ ان کے یہاں سورج، تارے ، پھول، پتنگے، تتلی، بھنورے، رات ، دن، سپنے، پھول ، رقص، بگولے، فلک ، زمین، آنکھ، وحشت اور آوازیں وغیرہ سبھی کچھ مل کر صرف ایک منظرہی خلق نہیں کرتے بلکہ استعاراتی فضا بھی قائم کرتے ہیں۔ایک وجود، ایک خیال، ایک خواب یا ایک تخلیقی لمحہ اس نظم کا محوری مضمون ہے۔ یہ لمحہ بے حد کیف افزا، رومان خیز  اورمستقبل نما ہے اور اس لمحے میں تخلیقی وفور کی کیفیت کو شاعر ’’ لفظ کے پیالے سے معنی کے امرت چھلکنے‘‘ سے تعبیر کرتاہے۔اس نظم پر گیت کا آہنگ ، اس کی روانی اور لفظیاتی نظام کی فضا چھائی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ایک ہلکی دھندلی فضا اور معنیاتی ابہام اس نظم کو دلکش بناتی ہے۔

––––––––

نہیں دیکھنا ہے بہتر

اے گداگرانِ جلوہ

ذرا بند کرلو آنکھیں

یہ ادب کا ماجرا ہے

جو سفید ہیں کبوتر

سو ہیں کالی بلیاں بھی

کئی مسندیں ہیں خالی

کئی حوصلے ہیں جعلی

کئی نام ہیں سوالی

کئی حوصلوں کے پیچھے

کئی ہاتھ ہیں مقدس

کئی جام ہیں مثالی

کئی شعر کہنے والے

کئی شعر گانے والے

کئی لفظ لکھنے والے

کئی لفظ ڈھونے والے

چلو چھوڑتے ہیں سب کو

اس ادائے بے ادب کو

کبھی بھول جائیں شاید

نہیں بھول پائیں شاید

اے گداگرانِ جلوہ

ذرا بند کرلو آنکھیں

کہیں دیکھنے سے بہتر

نہیں دیکھنا ہے شہپر

یہ نظم ایک نادر ترکیب’’ گداگران ِجلوہ‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے چشم ِظاہر بہت ناقص دیکھتی ہے۔ جو کچھ چشمِ باطن سے دیکھا جاسکتاہے ، وہ سرکی آنکھوں سے ممکن نہیں۔ اس نظم کی فضا رمزیہ اور علامتی ہے۔ سفید کبوتر امن وسلامتی کی علامت ہے۔ کالی بلیاں بلائیں ہیں۔ اس دنیا میں جتنے عہدے، مناصب، اقتدار، شہرت ، عیش وعشرت اور شعر وادب کے تماشے ہیں –– یہ سب فریبِ نظر ہیں، ان کی اصلیت دیکھنے کے لئے بصیرت وفراست کی آنکھ چاہئے۔ شہپر رسول کی اس نظم میں بصارت اور بصیرت کا تصادم بہت شدت سے ڈرامائی روپ میں سامنے آتاہے۔ وہ بصارت پر بصیرت کو مقدم رکھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں اور اس سے نتیجہ اخذ کرتی ہیں، وہ بہت ناقابلِ اعتبار ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ وہ نہ دیکھیں۔آنکھ خود سب سے بڑا پردہ ہے، جو شئے کی حقیقت کو اوجھل کردیتاہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے۔یہاں اگر ذرا امن اور خوش حالی کی کوئی کرن (سفید کبوتر) نظر آبھی جاتی ہے تو اس کے ساتھ نحوستیں اور آفتیں (کالی بلیاں) بھی موجود ہیں۔ یہاں اقتدار، شہرت ، شعر و ادب––یہ سب ڈھونگ اور مکر کے جلوے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہBinary opposition اس کائنات کی خوبصورتی کا راز ہی نہیں بلکہ اس کے وجود وبقا کی بنیاد بھی ہے۔

––––––––

جواز

مرا میں، مجھ سے کہیں کھوچکا تھا

سب اچھے بروں کو رو چکا تھا

رستوں کے پھیر میں سبھی ہیں

کھوکر بھی کہیں پہنچتے ہی ہیں

کوئی حد ہے ،نہ کوئی ہے قدغن

جیسے ہر ایک سمت ہے روشن

پرواز پروں کو جیسے مل جائے

مرجھاتی ہوئی کلی جیسے کھل جائے

جسم سے جان آملی ہے

لفظوں سے زبان آملی ہے

دور کا وہ لمحہ لیکن قریب آرہا ہے

شہپر کوئی مجھے بلا رہا ہے

وہ رو رہا ہے کہ گا رہا ہے

وقت سہما جارہا ہے

یہ کیسی آواز آرہی ہے

سانس تک بھیگتی جارہی ہے

دل رک رک کے دھڑک رہا ہے

شاید کسی ڈگر پر آلگا ہے

دھیمے سروں کو ساز مل گیا کیا

رونے کا جواز مل گیا کیا

اس نظم کی قرات شہپر رسول کی غزل کا ایک مطلع یاد دلاتی ہے :

یہ میرا میں یہ دیوانہ جو بس میں آگیا ہوتا

زمانے کا زمانہ دسترس میں آگیا ہوتا

زیرِ نظر نظم کا پہلا مصرع’’ مرا میں مجھ سے کہیں کھوچکا تھا‘‘ ہستی ونیستی کی بہت سی بحثوں کو جنم دیتا ہے۔ مرا ’’میں‘‘ کھوجانا کیاہے؟ انا اور خودی سے کہیں سمجھوتہ کرلینا یا اپنی شناخت کھوبیٹھنا یا اپنی ذات کو فراموش کرجانا۔ پھر’’ میں ‘‘ کی تلاش کا سفر شروع ہوتاہے، لیکن اس سفر کی منزل نامعلوم ہے، ایک بے سمت سفر۔ لیکن وہ ’’ لمحہ‘‘ جس میں متکلم کا’’ میں‘‘ کھو گیا تھا، اس سفر کے نتیجے میں قریب آنے لگا، وہ کھویا ہوا لمحہ حد درجہ پُر اسرار اور جذباتی ہے ۔ وہ گھڑی’’ میں‘‘ سے وصال یا ’’ میں ‘‘ کی طرف واپسی کی گھڑی ہے۔ یہاں ’’میں‘‘ دبازتِ معنی سے لبریز ہے۔’’ مرا میں مجھ سے کہیں کھو چکا تھا‘‘ سے مراد متکلم کی انا ، خودی، ضمیر ، ہمزاد اور غیرت کا ختم ہوجانا ہے۔ لیکن ’’میں‘‘ کی یہ گم شدگی عارضی اور وقتی ہے، وہ پھر لوٹ آتاہے اور وہی انسان کا اصل وجود اور اس کی روح ہے۔ جب ’’ میں‘‘ کی واپسی کا یہ عمل ہوتاہے تو انسان کے اندر اس کی انسانیت اوراس کے جذبات واحساسات سبھی کچھ لوٹ آتے ہیں۔اگر انسان جذبہ واحساس سے محروم ہوجائے تو پھر وہ انسان نہیں مشین ہوجاتاہے۔ ’’آنسو‘‘اس کے انسانی وجود کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔اس نظم کی فضاتخلیقی ، معنی خیزاور ایمائیت واشاریت سے لبریز ہے۔اس میں متکلم کو ایک انجانی منزل پکار رہی ہے، ایک آوازِ غیب بلا رہی ہے اور ایک اجنبی دنیا اپنی طرف کھینج رہی ہے۔ اس نظم کا متکلم ہمہ دم اپنے ہمزاد سے برسرِپیکار رہتاہے ، اس کے ظاہر و باطن میں ایک جنگ جاری رہتی ہے۔اس نظم کا محوری تھیم یہ ہے کہ یہ حیات وکائنات غم وآلام کی آماج گاہ ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شہپر رسول کی نظمیہ شاعری – ڈاکٹرامتیاز احمد علیمی )

––––––––

جامِ تخلیق

میں نے اک خیال بویا تھا کبھی

جذبوں کا جمال بویا تھا کبھی

رنگوں کی پچکاری ہے چھوٹنے والی

کونپل ہے اک نئی پھوٹنے والی

وقت خوش توفیق بھی تو ہوتا ہے

لمحۂ تخلیق بھی تو ہوتا ہے

جمال آنکھوں کو مل رہا ہے کیا

خیال خوشبو میں ڈھل رہا ہے کیا

خلق کرنے کی بات کیا کہنا

خالقِ کائنات کہا کہنا

تو نے مجھ سے جو کام لے لیا ہے

میں نے ہاتھوں میں جام لے لیا ہے

ہرباشعور فن کار کی طرح شہپر رسول کے لئے بھی شعر وفن کے تشکیلی وتخلیقی عوامل بذاتِ خود موضوع بحث بن جاتے ہیں۔ تخلیقی عمل ان کے لئے سری اور ماورائی قوتوں کا فیضان ہے۔تخلیق ایک ایسا نمو پذیر اور توانا شجر ہے جس سے معنی کی کونپلیں تاحشر پھوٹتی رہتی ہیں۔تخلیق ایک الہامی اور ربانی صفت ہے۔ اس عمل کی سرشاری اور نشہ ایک ناقابلِ بیان کیفیت ہے۔بقول خلیل الرحمن اعظمی:

دیکھ دنیا تو مجھے اس وقت تنہا چھوڑ دے

ایسے عالم میں کہ جب مجھ پر اترتی ہو کتاب

اس نظم میں تخلیق کے محرکات، کیفیات اور اس کے معجزات کو موضوع بنایا گیاہے۔کوئی خیال یا جذبہ کبھی بے نتیجہ نہیں ہوتا، وہ اپنی ایک دنیا خلق کرتاہے اور تخلیق کار اپنی تخلیق کو دیکھ کر جس سرشاری اور سرخوشی کی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے، یہ نظم اس کا عمدہ اظہاریہ ہے۔شہپر رسول کی نظموں میں نادیدہ غیرلمسی وسمعی پیکر جی اٹھتے ہیں۔ وہ خیال اور جذبے کو بیج بنا کر بو دیتے ہیں۔ ان کے یہاں تخلیقی عمل کی حیرت خیزیاں خود ایک محوری موضوع بن جاتی ہیں۔

––––––––

چلو ان پانیوں کو ۔۔۔۔

چلو! ان پانیوں کو پھر سے یکجا کردیا جائے

یہ مانا مختلف دریاؤں کے اپنے علاقے ہیں

یہ مانا مختلف دریاؤں کی سمتوں میں اور رفتار میں بھی فرق کا امکان وافر ہے

یہ مانا مٹّیوں کا لمس ان کے ذائقے اور رنگ میں بھی فرق کرتا ہے

مگر— اِن پانیوں کے اوّل و آخر پہ بھی کچھ غور کرلیجے

وہی مطلع، وہی مقطع

غزل کے شعروں کے اُس ربطِ بے مربوط کے مانند

بظاہر جو ہے نادیدہ مگر باطن میں رقصاں ہے

اگر اس راز سے پردہ اٹھانا ہے

دماغ و دل کی آنکھوں کو اگر دیدار کے قابل بنانا ہے

تو پھر— رفتار اور سمتوں، اچھوتے ذائقوں، رنگوں کے بے معنی تفاوت کو

گوارا کرلیا جائے

چلو! ان پانیوں کو پھر سے یکجا کردیا جائے

ویدانت، یونانی فلسفہ اور تصوف نے نظریۂ وحدت الوجود کے نتیجے میں وحدتِ حیات وکائنات اور وحدت ِبنی آدم پر جس شدت کے ساتھ زور دیاہے، یہ نظم اس تصور کو بہترین تخلیقی پیکر عطاکرتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردوغزل میں پیکر تراشی – شہپر رسول )

شہپر رسول کا بیانیہ کبھی بھی غیر تخلیقی عناصر ، برہنہ گفتاری یا خارجیت زدگی کا شکار نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ عموماً حیاتیاتی اور کائناتی مسائل کا حل بھی شعر وادب میں ڈھونڈ نکالتے ہیں۔مثلا ًپانیوں کے بظاہررنگ، ذائقہ، رفتار اور سمت کے مختلف ہونے کے باوجود اس کے اندر مشتر ک پہلوؤں کو اس نظم میں غزل کی ساخت سے تشبیہ دی گئی ہے:

مگر— اِن پانیوں کے اوّل و آخر پہ بھی کچھ غور کرلیجے

وہی مطلع، وہی مقطع

غزل کے شعروں کے اُس ربطِ بے مربوط کے مانند

بظاہر جو ہے نادیدہ مگر باطن میں رقصاں ہے

غزل کے اشعار میں معنوی ربط نہ ہونے کے باوجود ان میں ایک ہیئتی ، جمالیاتی اور باطنی ربط قائم ہے۔غزل کی یہی رنگا رنگی اس کا اصل حسن ہے ۔ اسی طرح مختلف دریاؤں کے پانی میں ذائقہ ورنگ اور سمت ورفتار میں فرق کے باوجود ان پانیوں کے درمیان ایک نادیدہ رشتہ قائم ہے۔یہاں پانی جغرافیہ، رنگ، نسل، قوم،مذہب، زبان اور تہذیب وغیرہ کی تفریق کا استعارہ ہے۔’’کثرت میں وحدت‘‘  اور’’وحدت میں کثرت‘‘ کے فلسفہ کو نظم کے قالب میں شعری لوازم کے ساتھ ڈھالا گیاہے۔مختلف پانیوںکے مابین ارتباط وعدم ارتباط کو غزل سے تعبیر کرنا ایک ندرتِ خیال ہے۔

––––––––

ہواچلی تو

ہَوا چلی تو

چراغ کی لو بھڑک گئی ہے

کہ بڑھ گئی ہے کہ گھٹ گئی ہے

جو چاہا ہوگا سو ہوگیا ہے

نہ چاہا ہوگا تو ہوگیا ہے

خمارِ تخلیق جاگ اٹّھا

سو پہلے اک چاک کو گھمایا

پھر اُس پہ کچھ خاک کو گھمایا

ہزار چہرے اُجل گئے ہیں

نظر سے چشمے اُبل گئے ہیں

اُمڈتے پندار ڈھل گئے ہیں

کہ سائے حد سے نکل گئے ہیں

(۲)

چلو ہَوا کا حصار کرلیں

خود اپنے رنگوں سے پیار کرلیں

سبھی ستارے شمار کرلیں

تپش ہے کیسی، بخار کتنا

کہ نرگسیّت کا تیز نشّہ

حواس پر ہے سوار کتنا

خودی کے فولاد گل گئے ہیں

کہ سائے حد سے نکل گئے ہیں

 

(۳)

کہاں کی مٹّی

کہاں کا روڑا

سرور دل میں ہے تھوڑا تھوڑا

ہزار پہلو

ہزار مہہ رو

نگاہ آہو

خیال خوشبو

سو خوشبو لہروں میں ڈھل گئی ہے

کہاں کہاں تک نکل گئی ہے

غزال آزادہوگئے ہیں

ملال آباد ہوگئے ہیں

رفو گراں شاد ہوگئے ہیں

کہ لفظ ناشاد ہوگئے ہیں

دماغ جِس تِس کے چَل گئے ہیں

کہ سائے حد سے نکل گئے ہیں

 

(۴)

یہ فلسفے یہ خیال چھوڑیں

یہ راہ چھوڑیں یہ چال چھوڑیں

مآل سوچیں، مثال چھوڑیں

جواب سوچیں،سوال چھوڑیں

رہِ تماشا سمٹ نہ جائے

سیاہ قدموں میں بٹ نہ جائے

کہ ناگ ذہنوں میں پَل گئے تھے

کہ بیج مٹی میں گل گئے تھے

کچھ ایک شاخوں پہ پھل گئے تھے

کچھ ایک تو بس کچھ ایک ہی ہیں

کچھ ایک سے کیسے کام ہوگا

سلام ہوگا، کلام ہوگا

حلال ہوگا، حرام ہوگا

نہ جانے کس کس کا نام ہوگا

پرانے قصے بھی گوش میں ہیں

اور اب بھی کچھ نقش ہوش میں ہیں

مگر

سنو تو، صدا یہ آئی

نئے پرانے کی بات ہی کیا

ہنوز خدشات ٹل گئے ہیں

کہ سائے کچھ کچھ سنبھل گئے ہیں

اس نظم کے مصرعوں کے مابین ایک تخلیقی خلیج ہے۔ قرأت میں اخذ معنی کا رشتہ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتاہے ۔ یہ خلیج شعور کی روکے سبب پیدا ہوئی ہے اور نظم میں یہ تجربہ میراجی کے یہاں بہت نمایاں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نظم کائنات کی آفرینش، اس کے محرکات، حضرت ِانسان کی تخلیق، پھر ابلیس کے امڈتے پندار کا ڈھلنا، بنی نوع ِبشر کا کبھی نرگسیت زدہ ہونا، کبھی تسخیرِ کائنات کا جنون، کبھی فنونِ لطیفہ، مصوری، موسیقی، سنگ تراشی، رقص اور شاعری کے ذریعہ جمالیاتی جذبہ واحساس کی تسکین، کبھی انسان کا خود کو کلامیاتی اور الٰہیاتی گتھیوں میں پھنسا لینا، گویا یہ نظم دراصل حضرت ِانسان کی ایک تاریخی روئیداد ہے۔ یہ نظم چار شقوں میں منقسم ہے۔ پہلی تین شقوں کا اختتام اس مصرعے پر ہوتاہے ’’کہ سائے حد سے نکل گئے ہیں‘‘ ۔لیکن آخری شق کا اختتام اس مصرعے پر ہوتاہے’’کہ سائے کچھ کچھ سنبھل گئے ہیں‘‘۔ یہاں ’’سایہ ‘‘ایک علامت ہے۔ ’’سایہ‘‘ وجود کا آشوب ہے، جہل ہے، خلاف حقیقت ہے، توہم ہے اور شاعر انسانی وجود کی ارتقائی تاریخ،علوم وفنون کی دریافتوں اور اس کے منفی نتائج کو بھی سائے سے تعبیر کرتا ہے۔ لیکن اخیر میں جب انسان قصۂ جدید وقدیم اور منفی فکر ونظر سے نجات حاصل کرتاہے تو پھر وہ سائے بھی سنبھلنے لگتے ہیں۔

یہ نظم ڈرامائی کیفیت سے لبریز ہے ، اس کے چار الگ الگ حصے اس کو ڈرامے کے چار سین سے قریب تر کرتے ہیں۔پہلے حصہ میں ہوا چلنے سے چراغ کی لو بھڑک گئی ہے۔ تخلیقی جذبہ پیدا ہوا ہے، چاک میں مٹی ڈالی گئی ہے تو کچھ چہرے بن گئے ہیں، دوسرے حصے میں ہوا کی گھیرا بندی کا ارادہ کیا گیاہے۔تاکہ چراغ کی لو نہ بھڑکے اور تخلیقی سرگرمیا ں تیز نہ ہوجائیں بلکہ اس کے بجائے خود اپنی ذات میں مست ومحو رہا جائے۔اس نظم کی تعمیر ہوا، چراغ، چاک، خاک اور چہرے جیسے اساسی الفاظ سے ہوئی ہے۔اگر غور کیا جائے تو یہی عناصر در اصل خلقت کے وجودی لوازم ہیں،بلکہ مراحل بھی۔ اس نظم سے ظہورِ حیات و کائنات کا شعری بیانہ خلق پذیر ہوتاہے۔

––––––––

تیرگی اک فسوں

اس قدر روشنی ہے آنکھوں میں

دور تک کچھ نظر نہیں آتا

لفظ شاید سپید ہوگئے ہیں

دن ہی دن ہے مرے چہار طرف

میں، مری تیرگی میں زندہ تھا

خامۂ خواب جیسے خشک ہوا

رات تو روشنائی تھی اُس کی

مجھ کو میری حدوں میں رہنے دو

کس تگاپو میں کوئی لطف ہے یاں

دیکھنا ہے نہ کچھ دکھانا ہے

مجھ کو رُک رُک کے لڑکھڑانا ہے

دور تک کچھ نظر نہیں آتا

کس قدر روشنی ہے آنکھوں میں

روشنی، سپیدی، دن ، رات اور خواب کے تلازموں سے اس نظم کی معنوی فضا خلق ہوتی ہے۔یہاں روشنی، سپیدی اور دن سے مراد نیا اطلاعاتی انقلاب ہے، جس نے روحانیت کو مجروح کردیاہے۔رات اور خواب––معرفت ، وجدان اور تپسیا کی قدیم روایت سے عبارت ہے۔روشنی یعنی اطلاعاتی انقلاب نے رات اور خواب یعنی عرفانِ ذات پر دبیز پردہ ڈال دیا ہے۔متکلم کے نزدیک خارجی چکا چوند ایک ایسی ظلمت ہے کہ چشمِ باطن کو بے نور کردیتی ہے۔اس کے نتیجے میں چیزوں کی اصلیت نظر نہیں آتی۔’’ لفظ شاید سپید ہوگئے ہیں‘‘ ۔ لفظ کا سپید ہوجانا کتنا بڑا سانحہ ہے۔ لفظ سپید ہوجانے سے وہ نظر نہیں آتا۔ اب رات کا وجودنابود ہوگیاہے، جس کے نتیجے میں خواب کی موت ہوگئی، اب اس سے بڑا دل دوز المیہ کیا ہوگا؟ اس نظم میں بصری ، لونی اور نوری پیکروں سے شاعرنے زیادہ کام لیا ہے۔لیکن لطف یہ ہے کہ شاعر بصارت کو بصیرت کی راہ کا سب سے بڑا روڑا قرار دیتاہے:

خامۂ خواب جیسے خشک ہوا

رات تو روشنائی تھی اس کی

کیسا تخلیقی بیانیہ ہے ، نظم اپنی ابتدا سے ہی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے:

اس قدر روشنی ہے آنکھوں میں

دور تک کچھ نظر نہیں آتا

––––––––

مدافعت

غبار آئے کہیں سے تو دور اس سے رہیں

مگر

جو سر پہ ہی آجائے سنگِ نو رفتار

مدافعت کا نیا  زاویہ کوئی ڈھونڈیں

شرافتوں میں گندھا کرتی تھی گلِ خالص

مگر ۔۔۔۔۔ وہ صبح کی پہلی دھلی دھلی سی ہوا

گلوبیت کے تکدر کی نذر ہوگئی ہے

عجب سی سوچ، عجب فکر بین الاقوامی

معاشرت کی نئی قدر ہوگئی ہے

کہ ۔۔۔۔۔ بے حسی کے قصائد کی شہر آشوبی

ہماری بزمِ تغزل کی صدر ہوگئی ہے

یہ کیسی خاک ہراک سمت اڑ رہی ہے یہاں

کہیں دروغِ صداقت، کہیں ہے پاورشفٹ

کہیں ہے علم کو خانوں میں بانٹنے کا طلسم

اور اس کی رو سے مفادات کی سزاواری

ہمیں تو سیل سے بچنے کا ڈھنگ آجائے

توقعات پہ، خوابوں کے زائچوں پر بھی

وہی ملیح سا،پہلا سا رنگ آجائے

ہمیں تو سیل سے بچنے کا ڈھنگ آجائے

یہ نظم گلوبلائزیشن کے منفی نتائج اور اس سے تحفظ کے تدارکی تدابیر کو محیط ہے۔ گلوبلائزیشن شاعر کے نزدیک ایک ایسا تہذیبی اور اخلاقی سیلِ بلا ہے جس سے بچنے کے لئے اپنی جڑوں کو تھامنا ہوگا۔گلوبلائزیشن کے عواقب اہلِ دانش پہ روشن ہیں۔اس نے اپنی جباری قوتوں کے شکنجے میں سیارۂ زمین کو جکڑ رکھاہے۔دل ونظر ہی نہیں بلکہ روح تک اس کا تسلط قائم ہوچکا ہے۔ شاعر کو اس سے نجات کی راہ صرف اپنی جڑوں کی طرف واپسی میں ہی نظر آتی ہے۔اس نظم کی خصوصیت یہ ہے کہ خارجی اور داخلی دونوں سطح پر اپنی معنوی پرتیں کھولتی ہے۔ بیرونی طور پر یہ نظم دور حاضر کے اہم ترین مسئلہ ’’ماحولیاتی آلودگی ‘‘کا ڈسکورس قائم کرتی ہے۔لیکن درونی خلقیے میں تہذیبی وروحانی کثافت پر بھی اس نظم کا بیانیہ منطبق ہوتا ہے۔ نظم ’’مدافعت ‘‘دراصل خارج کے حملوں سے داخل کو محفوظ رکھنے کا تخلیقی منشورہے۔ تہذیبی اور اخلاقی قدروں کامسئلہ پہلے بھی تھا لیکن پہلے اور اب میں فرق ہے۔ پہلے تہذیبی حملے غبار کی مانند تھے، اس سے بچا جاسکتا تھا لیکن آج وہ ایک ایسا سنگِ نو رفتار ہے جس کی ضرب سے اپنی ہستی کی حفاظت بہت مشکل ہے۔پہلے غبار تھا تو صرف خارجی تن بدن کو میلا کرتا تھا لیکن اب تو انسانی وجودہی خطرے میں ہے۔اب کی آلودگی دراصل ثقافتی، روحانی اور اقداری آلودگی ہے۔اس نظم کی قرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیا عالمی نظام، عالم کاری، نواستعماریت اور مادی جبر وغیرہ پیچیدہ مسائل ایک حساس شاعر کے قلب ونظر کو کس طور پر متاثر کرتے ہیں۔یہ نظم اقدار کی تبدیلی ، حق، حسن اور خیر کی عدم مطلقیت کے فلسفے، عہد ِمابعدِ صداقت کی کرب ناکیاںاو ر تعلیمی اختصاصیت کے بڑھتے رجحان پر ایک شدید تخلیقی تشویش کا اظہار کرتی ہے اور اس آشوب سے تحفظ کے لئے ماضی کی مستحکم روایات سے وابستگی پر زور دیتی ہے۔

––––––––

اک یہی تو رستہ ہے

سب تنزّل آمادہ

کیا تنزّل آمادہ؟

سب زوال آسا ہے

کیا زوال آسا ہے؟

زندگی تماشا ہے

وہ تو سچ، تماشا ہے!

ایک نسل جاتی ہے ایک نسل آتی ہے

کچھ نیا سا ہوتاہے

کیا نیا سا ہوتا ہے؟

آج ادب کے مرنے کی بات پھر سے نکلی ہے

آدھی اک صدی پہلے

جب ادب کے مرنے کے سانحے کی صورت میں

اک سکوت چھایا تھا

حرف کسمسائے تھے

لفظ ٹوٹ بکھرے تھے

پر نیا ہوا تھا کچھ

کیا نیا ہوا تھا کچھ؟

لہجے جاگ اٹّھے تھے

رنگ جھم جھمائے تھے

آدھی اک صدی پہلے

ٹوٹنے بکھرنے سے

رنگوں کے سنورنے تک

چشمِ نخل کھلنے سے

شاخِ گل کے سجنے تک

اور اک خموشی سے اک بگل کے بجنے تک

کیا بہار آئی تھی

لفظ اور قلم میں کیا روشنی سمائی تھی

ہائے کیا ترقی تھی

وائے کیا تنزّل ہے

کیا جدید ہے پیارے اور کیا ہے پارینہ؟

آج پھر وہی رنگت

آج پھر وہی نقشہ

فرق ہے مگر شہپرؔ

آج فکر صارف ہے اور لفظ صرفہ ہے

بیج کیسے بوتے ہیں

پیڑ کیو ں کر اگتے ہیں

پھول کتنے کھلتے ہیں

ہم کو کیا سرورکار اِس پھولنے سے پھلنے سے

کیا ادب خزانہ ہے

آنا اور جانا ہے

حاجتِ زمینی ہے

اور نیا زمانہ ہے

ما و من کی چھلنی میں چھاننا چھنانا ہے

پھر ہوائیں چلنی ہیں

اور امیدیں پلنی ہیں

جلنا ہے دماغوں کو

اور پھر اُجلنا ہے اونگھتے چراغوں کو

اور یہ بھی قصّہ ہے

اپنا اپنا حصّہ ہے

لڑکھڑاتی شمعوں کو کب تلک جلاؤ گے

یہ نئے وئے ہیں سب

اپنے اپنے پرچم کو ہاتھ میں لیے ہیں سب

یہ تو خیر ہیں ہی سب

ہاں! فضا کی وسعت میں

سیل ہے صداؤں کا

شور ہے ہواؤں کا

ہاں نئی صداؤں کو، سرپھری ہواؤں کو

سیڑھیوں پہ چڑھنا ہے

رنگ کو نکھرنا ہے

روشنی کو بڑھنا ہے

کچھ تو وقت گزرے گا

اور پھر سماعت کے بے قرار پردے پر

کچھ نقوش ابھریں گے

پھرو ہی پرانی سی بازگشت آئے گی

سب تنزّل آمادہ

کیا تنزّل آمادہ؟

سب زوال آسا ہے

کیا زوال آسا ہے؟

زندگی تماشا ہے

وہ تو سچ، تماشا ہے!

پھر بھی— آگے بڑھنے کا اک یہی تو رستہ ہے

بیانیہ کا الوہی جلال وجمال ان کی نظموں کو نغمۂ سرمدی سے ہم آہنگ کردیتا ہے۔اس نظم کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک صدی کے ادبی منظر نامہ کو ایک سچا اور کھرا تخلیق کار کس طرح دیکھتا اور دکھاتا ہے ۔ نظم کا آغاز ایک ایسے بیان سے ہوتاہے جو تجسس انگیز ہے۔ ’’سب تنزل آمادہ‘‘ پھر سوال پیدا ہوتا ہے ’’کیا تنزل آمادہ؟‘‘ لیکن جواب کے بجائے پھر ایک بیان ہے کہ ’’ سب زوال آسا ہے‘‘  پھر جستجو ہوتی ہے کہ ’’ کیا زوال آسا ہے؟‘‘ اس شاعرانہ اور ڈرامائی مکالمے کے بعد زندگی اور ادب کی شکست وریخت اور انقلابات پر شاعرانہ تبصرہ شروع ہوجاتاہے۔یہ نظم ادب میں عہد بہ عہد تبدیلی کو فطری قرار دیتی ہے۔ متکلم یہ نکتہ بھی اٹھاتاہے کہ ہر تبدیلی کے عبوری مرحلہ میں لفظ اور لہجے کو ٹوٹ پھوٹ کے کرب سے گذرنا پڑتاہے، پھر لفظوں کے گلشن میں ایک بہار آتی ہے۔ اس نظم میں رومانویت، ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے ادبی سفر کو بے حد شعری اسلوب اور حساس نظر سے دیکھا گیا ہے۔لیکن شاعر کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ عہد بندی ،یہ شعر و ادب کی نظریاتی تحدید اور طبقہ سازی –– سب ایک کاروبار ہے اور یہاں کچھ لوگوں کو محض اپنا اقتدار مقصود ہے۔لیکن قانونِ فطرت یہ ہے کہ ہر آنے والا لمحہ اپنے پرانے لمحوں کو مسترد کرتا جاتاہے اور ایک نئی دنیا بنتی چلی جاتی ہے ۔ فنا پذیری کون ومکاں کا مقدر ہے ۔ع

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

ہستی اس قدر برق رفتار تبدیلیوں سے عبارت ہے کہ ہر روایت کو توڑ کر کچھ نیا کرجانے کی روش اپنے آپ میں ایک روایت بن چلی ہے۔ جب سائنسی چکا چوند بڑھنے لگی تو آرٹ اور شعر وادب کو زیرِ خطر سمجھا جانے لگا۔ لیکن ادب کا خاصہ یہ ہے کہ وقفے وقفے سے اس میں تبدیلی آتی ہے اور وہی تبدیلی اس کے بقا کی ضامن بھی ہے۔ اس نظم میں نظریات ومیلانات کو موضوع بحث بنایا گیاہے اور یہ موقف پیش کیا گیاہے کہ شعر وادب میں کسی ایک رجحان کی حکمرانی دائمی نہیں ہوسکتی ہے۔لیکن اس کے باوجود شعر وادب کی اساس اور بنیادی قدروں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی:

زمانہ ایک، حیات ایک ، کائنات بھی ایک

دلیل کم نظری قصۂ قدیم وجدید

––––––––

سچ

درد کے کچھ اک جگنو

جا نکلتے اُس جانب

تنگ و تار شہروں کی

بے خمار آنکھوں کو

خواہ روشنی کوئی

دیتے یا نہیں دیتے

ہاں!

مگر زمانے کے پردۂ بصارت پر

ایک سچ تو لکھ دیتے

رات اب بھی باقی ہے

شاعر اپنے منصب اور اپنی حدود وقیود سے خوب واقف ہے۔ اس کو دعوی نہیں کی وہ رات کو دن میں تبدیل کردے گا ۔ اس کے برعکس اس کی تمنا ہے کہ کاش درد کے کچھ جگنو تنگ وتاریک شہروں میں صرف یہ اعلان ہی کردیتے کہ ’’رات اب بھی باقی ہے‘‘۔ دراصل معاشرے میں تخلیق کار کا فریضہ بھی یہی ہے کہ وہ رات کو رات کہہ دے۔ ہر سچا اور جینوین فن کار ’’ رات‘‘ کو اپنے سوز، درد اور تخیل کے چراغ سے روشن کرنا چاہتاہے۔لیکن زیرِ نظر نظم میں درد کے جگنو اور رات سے بہت ذرخیز علامتی زمین تیار ہوتی ہے۔ متکلم نے درد کو جگنو سے استعارہ کرکے عجیب خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کاش میرا درد ظلم و ناانصافی اور قتل وخون کی ظلمت زدہ آبادی کو خواہ اس سے نجات نہ دلاتا لیکن کم سے کم اس کے اندر ایک احساس توپیدا کردیتا کہ یہ سب کچھ بہت غلط ہے۔متکلم یہ آرزو رکھتا ہے کہ کاش درد کے کچھ جگنو تنگ و تاریک شہروں کو یہ بتا سکتے کہ رات اب بھی باقی ہے۔درد کا جگنو اور تنگ وتار شہر کیا ہے؟ یہ دنیا اب تاریک ہوگئی ہے۔ یہاں منفی قدروں کا تسلط ہوگیاہے۔ ہرطرف نفرت ، حیوانیت، ظلم ، قتل ، خون اور فساد کا دور دورہ ہے۔ ایسے میں خیر کی قوتیں اس قدر کمزور ہوگئی ہیں کہ اس کی حیثیت ایسے جگنو کی سی ہے جو چاہ کر بھی دنیا کی تاریکیوں کو مٹا نہیں سکتی، لیکن اس دور کا اہم سانحہ یہ ہے کہ ظلمت کے خاتمے کی سعی تو درکنار، اب کوئی یہ حق بات کہنے والا بھی نہیں رہا کہ دنیا میں ظلمت پھیل گئی ہے۔ ایسے میں متکلم کی یہ آرزو کس قدر شاعرانہ ہے کہ کاش یہ درد کے جگنو اعلان کردیتے کہ رات اب بھی باقی ہے۔نظم کا اختتام اس کے ہر لفظ کو اپنی معنوی اور کیفیاتی وحد ت میں جکڑ لیتا ہے۔

شہپر رسول انسانی سروکاروں کے شعری اظہار کا نام ہے ۔ ہر زرخیز کثرت ِمعنی سے لبریز فن پارے کی طرح نظمِ شہپر بھی باز قرأت کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان کی بیش تر نظمیں اپنی تخلیقی دبازت کے سبب قاری پر وقفے، وقفے سے اپنی پرتیں کھولتی ہیں۔ ان کی نظموں میں کہیں ماضی کے دھندلکے میں کھوئے ہوئے گریزاں لمحوں کی حسرت ہے ، کہیں تکوینی مسائل سے شاعرانہ مکالمہ ہے، کہیں لفظ کے پیالے سے معنی کے امرت چھلکنے کا منظر ہے، کہیں گداگرانِ جلوہ کو نظاروں کی پرفریب تجلی سے بے نیازی کی شاہانہ تجویز ہے ، کہیں آفاقی اندوہ کا تخلیقی اظہارہے، کہیں جامِ تخلیق کی سرشاریوںکا بیان ہے ، کہیں تمام کثرتوں میں وحدت کی شاعرانہ جستجو ہے، کہیں کون و مکاں کی تخلیق کا ایک پُراسرار اور داستانوی بیانیہ ہے، کہیں روشنی اورتیرگی کی آویزش ہے، کہیں نو استعماری، جباری قوتوں کے دجل آمیز عواقب پر تخلیقی ضرب کاری ہے، کہیں شعرو ادب کے انقلابات کا محاسبہ ہے اور کہیں رات کو رات کہنے کا خواب۔شہپررسول کی نظمیہ شاعری کا نمایاں ترین وصف’’ شعور کی رو‘‘ہے اور اس حوالے سے ان کا تخلیقی رشتہ سب سے زیادہ میراجی سے استوار ہوتاہے۔لیکن ڈکشن، کرافٹ، اسٹائل،  تخلیقی کینوس اورسائیکی میں شہپر رسول اور میراجی کے درمیان کوئی نقطۂ اتصال قائم نہیں ہوتا۔

٭٭٭

 

مضمون نگار شعبۂ اردو  جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

khalid mubasshirshehpar rasoolادبی میراثخالد مبشرشہپر رسول
1 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
روح تلمیذی اور تلقین استاذی: ایک جائزہ – ام مسفرہ مبشرہ کھوت

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

1 comment

نزاکت حسین قریشی اکتوبر 5, 2020 - 6:52 صبح

نہایت عمدہ انتقادی مضمون۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں