Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگنظم فہمی

دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔ حصّہ پنجم) – ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras جون 15, 2021
by adbimiras جون 15, 2021 0 comment

نظم نگاری۔۱

اردو نظم کی طویل تاریخ اس صنف کے فکری اور دانش ورانہ تقاضوں کی طرف ہماری توجّہ مبذول کراتی ہے ۔ نظیر اکبر آبادی، حالی، اقبال اور جوش سب کی نظمیں کسی مرکزی فکر یا کسی مخصوص خیال کے دائرے میں محفوظ نظر آتی ہیں۔ ہر چند حلقۂ اربابِ ذوق کے شعرا نے بالعموم اور بعض ترقی پسند شعرا نے بالخصوص پُرانی نظموں سے علاحدہ راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔تب بھی نظم نگاری کے بڑے حصّے میں دانش ورانہ توجّہ اور فکر و فلسفہ کی افتاد ہمیشہ شامل رہی ہے۔اس لیے فکر وخیال پر ارتکاز اور منطقی انجام کے طوٗلِ بیان کو نظم گوئی کا شناخت نامہ سمجھا گیا۔ اس کے باوجود اختر الایمان نے کسی مختصر خیال یا کسی ایک لمحے کی کیفیت کو پیشِ نظر رکھ کر مختصر نظموں کی گنجایشیں پیدا کیں مگر اُن کا حقیقی شاعرانہ زور اُن کی کم مختصر یا طویل نظموں میں سامنے آیا۔ اکثر نظم گو شعر اکسی بات کے فطری خاتمے کی پیش کش تک بہت سارے مصرعے خرچ کر چکے ہوتے ہیں۔ اس لیے بڑے نظم نگار مختصر اور مختصر تر نظموں کو زیادہ آزماتے ہوئے نظرنہیں آتے ۔اقبال کے آخری دَور کی نظمیں بھی ان کے شاعرانہ اوصاف کے مقابلے تبلیغی عناصر کے سبب پہچانی گئیں۔ (یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کا تفصیلی مطالعہ۔ حصّہ اوّل ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

اردو کے جدید شعرا میں شہریار اور منیر نیازی کی رفتہ رفتہ یہ پہچان قایم ہوئی کہ وہ اپنی بات محض چند مصرعوں میں مکمّل طَور پر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شہریار نے یوں بھی ابتدائی دَور سے ہی بہت سارے شعرا کی طرح خود کو مفکّر اور فلسفی بنانے کی کوشش نہیں کی۔ یوں بھی جدید شعرا ترقی پسندوں کے بعد وارد ہوئے تھے اور ان کے آزمائے ہوئے راستوں سے الگ ہونا چاہتے تھے؛ اس لیے کسی مرکزی فکر کے تابع ہو کر وہ کیوں کر سرگرمِ تخلیق ہوتے؟ شہریار تو اپنی نصف صدی سے زیادہ عرصے تک پھیلی شاعری میں کبھی کسی فکر و فلسفہ کا دعوا کرتے نہیں پائے گئے۔ اپنے بارے میں لکھتے ہوئے اور اپنے تصوّرات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ ہمیشہ گریز کا راستہ چُنتے ہیں۔ بہ درجۂ مجبوری کبھی اپنے مجموعے پر لکھنے کا انھیں موقع بھی ملا تو کبھی دو صفحات سے زیادہ کا غذ کا زیاں نہیں کیا۔ اس بیان میں بھی اظہارِ تشکّر اور تکلّفات کا عمل دخل زیادہ رہتا تھا۔ اس سے یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ شاعر اپنے قارئین کو غیرضروری طَور پر اپنے خیالات کے دباو میں نہیں رکھنا چاہتا اور انھیں آزادانہ طور پر اپنی راے قایم کرنے کے لیے مواقع دیتا ہے۔ شہریار بھلے جاگیر دارانہ قبیلے سے آتے تھے مگر انھیں جو زندگی ملی، وہ جمہوری تقاضوں سے لیس ملی تھی۔ انھوں نے اپنے آپ کو جمہوری آئینے میں تیّار کیا اور اسی وجہ سے ہمیشہ ایسی کوشش کی کہ اپنی شاعری کے موضوعات و مفاہیم کے بارے میں خود زیادہ گفتگو نہ کریں۔ کسی نظم نگار میں اگر ایسی بات ہوگی تو وہ کیسے اپنے افکار و نظریات کی تبلیغ کرنا پسند کرے گا۔ (یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔ حصّہ دوم ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

شہریار کی نظمیں نوّے فی صدی مختصر ترین ہیں اور ان میں سے اکثر و بیش تر پانچ ،چھے اور سات آٹھ مصرعوں پر مشتمل ہیں۔ہر نظم میں اگرچہ کوئی نہ کوئی خیال ضرور پیشِ نظر ہے مگر یہ کہنا واقعتا مشکل ہے کہ شاعر کسی سلسلۂ خیال کو آگے بڑھانے کے مقصد سے ان نظموں کو پیش کر رہا ہے۔ اس طرح سے موضوعاتی اعتبار سے شہریار کی نظمیں اس صنف کی آزمائی ہوئی زمین سے بالکل مختلف ہیں۔ شاعر کے ذہن میں کوئی انوکھا سا خیال یا کوئی ایک کیفیت مچلتی ہے اور چند چھوٹے بڑے مصرعے وجود میں آ جاتے ہیں۔ شہریار نے نظمِ معرّا، آزاد نظم اور مٹّھی بھر نثری نظمیں شایع کی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نظمِ معرّا اور آزاد نظموں میں شاعر کو زیادہ سہولت حاصل ہے۔ اُسے اپنے خیال یا کیفیت کی پیش کش کے لیے یہی دونوں ہیئتیں زیادہ پسندیدہ ہیں اور دَورِ اوّل سے لے کر آخری زمانے تک شہریار کی نظم گوئی کا سلسلہ انھی دونوں ہیئتوں میں قایم رہتاہے۔

شہریار کی نظموں میں آہنگ کے اعتبار سے بعض نظمیں نہایت ہی نغمہ ریز اور ترنّم سے بھر پور ہیں۔ یہ صرف نظمِ معرّا کے لیے ہی مخصوص نہیں بلکہ ان کی آزاد نظمیں بھی خوب خوب رواں دواں ہیں۔ اس کے برعکس شہریار کے غزلیہ سرمایے میں موسیقیت کے لیے کبھی کوئی اضافی کوشش یا توجّہ دیکھنے کو نہیں ملتی۔ عین ممکن ہے کہ شہریار یہ بات سمجھتے ہوں کہ نظم میں شاعرانہ آہنگ نہ ہو تب خیال کاسلسلہ قایم رکھنے میں دشواریاں پیداہو سکتی ہیں۔ یہ مسئلہ غزل کی آزاد فضا میں کبھی مشکلات کا باعث نہیں ہوتا کیوں کہ وہاں اکثر شعر اپناآزادانہ وجود ثابت کرتے ہیں اور ہر شعر اپنی الگ کیفیت کے سبب ہماری توجّہ مبذول کراتا ہے۔شہریار کی معرّا نظموں میں تو اتنی رواں دواں کیفیت ملتی ہے جیسے محسوس ہوکہ یہ شاعر اپنے ترقی پسند سابقین یا بالخصوص فیض کی توسیع ہے مگر خیال کی سطح پر شہریار کی چند نظمیں بھی ایسی نہیں پیش کی جا سکتی ہیں جنھیں خالص ترقی پسندانہ ذہن کا زائیدہ قرار دیا جاسکے۔ ابتدائی دور میں شہریار کے یہاں مختصر تر نظموں کے ساتھ ذرا طویل نظمیں بھی نظر آتی تھیں مگر جیسے جیسے شعر گوئی کا سلسلہ آگے بڑھا، مختصر تر نظموں پر شہریار کااعتماد بھی بڑھا جس کے نتیجے میں یہ بات دیکھی جا سکتی ہے کہ رفتہ رفتہ وہ نہایت مختصر نظموں کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اشارے کی زبان قایم کر رہا ہے۔ وہ جب چاہے، چند لفظوں سے اپنی بات اپنے قارئین تک پہنچا سکتا ہے۔ جب بیان میں ایسی قدرت آ جائے تو کسی بھی شاعر کو لفظوں کا بے جا اسراف کیوں کر کرنا چاہیے۔ اس لیے شہریار نے نہایت مختصر نظموں پر اپنی تخلیقی قوّت کا ارتکاز قایم کیا۔ اس سے اردو کی نئی شاعری میںان کا ایک خاص کردار اُبھر کر سامنے آیا۔ (یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔ حصّہ سوم ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

شہریار کی نظم گوئی کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ ان کے کچھ کلیدی الفاظ ان کے اظہار کی سَمت متعیّن کرتے ہیں ۔ کئی نقّادوں نے ان کے سرمایۂ الفاظ پر بحث کرتے ہوئے اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ رات، خواب، آنکھ، نیند،سفر، شام، سایہ، پرچھائیں، سمندر، کشتی، تنہائی، دھواں، جسم، دھوپ جیسے الفاظ کے اِردگِرد شہریار کی تخلیقات لفظوں کے پیرہن حاصل کر تی ہیں۔ بہ یک نظر غور کریں تو جدید شاعری کے یہ پسندیدہ الفاظ ہیں۔ شہریار نے یوں بھی اپنی پوری شاعری میں لفظ و بیان کا کوئی گورکھ دھندا نہیں کیا۔ ایک محدود اور نہایت سادہ سرمایۂ الفاظ سے نصف صدی سے زیادہ زمانے تک وہ کام چلاتے رہے۔ ان کے اکثر و بیش تر ہم عصر ماسواے محمّد علوی فارسی تراکیب اور روشن لفظیاتی نظام کی طرف اپنا جھکاو  رکھتے تھے۔ شہریار نے اپنے لیے یہ انوکھا نشانہ رکھا کہ وہ مُٹھّی بھر لفظوں اور بیس پچیس کلیدی الفاظ کے سہارے اپنے اظہار کی ساری دنیاپیش کر دیں گے۔ یہ ایک حیرت انگیز اعتماد تھا۔ بھلے اس کی ابتدائی تربیت خلیل الرّحمان اعظمی کے زیرِ سایہ ہوئی ہو مگر شہریار نے اُس اسلوب کو اور بھی سادہ اور عرفِ عام میں بے نمک بنایا۔ یہ بے ارادہ نہیں تھا۔ اُنھیں خیالات کی ترسیل اور مخصوص شعری کیفیت سے سروکار تھا۔ اگر کسی شاعر کو سادہ زبان اور بہ ظاہر اکہرے بیان میں اثرآفرینی کی دنیا میسّر آ جائے تو اُسے کیوں دوسرا  راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

شہریار کی ابتدائی نظموں میں ’موت‘ اور ’آدرش‘ کا مطالعہ کیجیے تو اس بات پر یقین کرنے کو جی ہی نہیں چاہتا کہ کسی شاعر کی یہ بالکل ہی ابتدائی نظمیں ہیں۔ دونوں نظمیں بیان ، پیش کش اور معنوی نظام کی وجہ سے اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ شہریار اگرچہ فلسفیانہ تصوّر کے اعلانیہ طَور پر قائل نہیں مگر یہ نظمیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ شاعر زندگی اور کاینات کی حقیقت پر غور کرتا ہے اور اُسے انوکھے خیال اپنی قید میں لیتے رہتے ہیں۔ ’موت‘ کا آخری مصرع :’ ابھی نہیں، ابھی کم بخت دِل دھڑکتاہے‘  پڑھتے ہوئے’ کارِ جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر‘  جیسا آہنگ قایم ہوتاہے۔ اسی طرح ’آدرش‘ نظم کے انجام پر شاعر یوں گویا ہوتا ہے:’بوجھو تو پاگل کا سپنا، سمجھو تو سنسار‘۔’اسمِ اعظم‘ میں چار مصرعوں کی ایک نظم ’آشوبِ آگہی‘ موجود ہے۔ کہنے کو چار مصرعوں کا وجود ہی کیا اور وہ بھی بیس پچیس برس کے کسی نوجوان نے جب اسے قلم بند کیا ہو مگر نپا تُلا اظہار، بیان پر قدرت، جذبوں کی ڈور کو سنبھالے رکھنا اور زندگی کے کھیل تماشے یا ہار جیت میں اُلجھ جانا؛ یہ سارا بیان ’آشوبِ آگہی‘ میں سمٹ آیا ہے۔ اس نظم کے عنوان نے اس کی معنوی دنیا کووسیع کر دیا ہے ۔ ہمیں یہاںکبھی اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ کسی مبتدی کا کلام ہے: (یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔ حصّہ چہارم ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

اک گھنیرے شجر کے سائے میں

دو گھڑی بیٹھ کر یہ بھول گئے

قرض ہاے جنوں چکانے ہیں

ہم کو سورج کے ناز اٹھانے ہیں

[آشوبِ آگہی]

’ساتواں در‘ مجموعے میں شہریار کی چند ایسی نظمیں شامل ہوئی ہیں جنھیں جدیدیت کے عہدِ شباب کا نمایندہ کلام کہا جا سکتاہے۔’زوال کی حد‘ ، ’عہدِ حاضر کی دل رُبا مخلوق‘ اور ’خطرے کا سائرن‘ نظموں کو جدید شاعری کا نمایندہ اسلوب قرار دیا جا سکتاہے۔شہریار کی یہ تینوں نظمیں نظمِ معرّا کی صورت میں ہی سامنے آتی ہیں۔ پہلی دو نظمیں ذرا طویل ہیں۔ ’خطرے کا سائرن‘ کو بھی مختصر تر نظموں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ذہنی بکھراو، غیریقینی صورتِ حال اور تیزی سے بدل رہی زندگی کے اقدار میں اندر اور باہر سے کس طرح کی ٹوٹ پھوٗٹ ہے؛ اسے شہریار کی نظموں کے اسلوبِ بیان نے اور بھی واضح کردیا ہے۔ ان نظموں سے چند مصرعے ملاحظہ کریں:

لایعنی ہیں مرگ و زیست

بے معنی ہیں سب الفاظ

بے حِس ہے مخلوقِ خدا

ہر انساں اک سایہ ہے

شادی غم، اک دھوکا ہے

دل، آنکھیں، لب، ہاتھ، دماغ

ایک وبا کی زد میں ہیں

اپنے زوال کی حد میں ہیں

[زوال کی حد]

زرد بلبوں کے بازوئوں میں اسیر

سخت، بے جان، لمبی کالی سڑک

اپنی بے نور دھندلی آنکھوں سے

پڑھ رہی ہے نوشتۂ تقدیر

[عہدِ حاضر کی دل رُبا مخلوق]

 

تمام شہر آگ کی لپیٹ میں ہے، بھاگیے

حضور کب سے میٹھی نیند سو رہے ہیں، جاگیے

سماں ہے روزِ حشر کا، نگاہ تو اٹھائیے

لگی ہوئی ہے آنکھ پر جو دوربیں، ہٹائیے

تمام اہلِ شہر، شہر چھوڑ کر چلے گئے

جھکے ہوئے ہیں سر عظیم بلڈنگوں کے دیکھیے

اب اور کچھ نہ دیکھیے، اب اور کچھ نہ سوچیے

تمام شہر آگ کی لپیٹ میں ہے، بھاگیے

[خطرے کا سائرن]

جدیدیت نے جس سماجی بحران سے ہمیں آگاہ کیا تھا اور اس صورتِ حال کے لیے جو سب سے موزوں اسلوب ہو سکتا تھا، شہریار نے اپنی مذکورہ نظموں میں اتنی پختگی اور تکمیلیت کے ساتھ پیش کر دیا ہے جیسے انھیں غیب سے کچھ اشارے مل رہے ہوں اور اس کی روشنی میں اپنے زمانے کاوہ تجزیہ کر رہے ہوں۔شہریار اگر موضوع اور اسلوب کی سطح پر جدید ادب کے تقاضوں سے خود کو پورے طور پر ہم آہنگ نہ کر پاتے تو ایسی نظمیں  یا تو بہت سَر سَری انداز میں پیش ہوتیں یا مبلّغانہ رُخ اختیار کر لیتیں۔ حالاں کہ اس وقت وہ ایک نئے شاعر تھے اور بہ مشکل دس برس کی مشقِ سخن تھی مگر انھوں نے جدیدیت کے اس اسلوب کو پورے طور پر انگیز کر لیا تھا۔ آج یہ بات کہنا مشکل نہیں کہ جدید شاعری کا جو نظمیہ سرمایہ سامنے آیا اور اس میں جو سب سے نمایندہ اور اپنے عہد کے مزاج و اسلوب سے مطابقت رکھنے والی نظمیں تخلیق ہوئیں، ان میں ’زوال کی حد‘ اور ’عہدِ حاضر کی دل رُبا مخلوق‘ یا ’خطرے کاسائرن‘ جیسی نظموں کو تاریخی حیثیت حاصل ہے۔

[نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا، نئی دہلی کی جانب سے شائع شدہ شہریار کے انتخابِ کلام کا مقدّمہ]

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

پرویز شہریارصفدر امام قادری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مجمع السلوک شرح رسالہ مکیہ :ایک تعارف – ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی
اگلی پوسٹ
ایک ممنوعہ محبت کی کہانی – شموئل احمد

یہ بھی پڑھیں

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں