شاعری ادب کی وہ اعلی ترین صنف ہے جو زندگی کے ہر موڑکی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ خوابیدہ یا نیم خوابیدہ دلوں میں احساس جگانا اورسرد لہوکو گرماناشاعری کا ہی خاصّہ ہے؛ بطور خاص غزل اردو اورعربی شاعری کی سب سے اہم، دلکش اور مسحور کن صنف ہے۔
عربی شاعری کی تاریخ ہمیں جب سے ملتی ہے یہ شستہ اور مرتب قصائد کی شکل میں نظر آتی ہے۔ لیکن یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ یہ شر وع سے اسی خوبصورت شکل میں موجود تھی۔ یقینا اس پر ادوار گزرے ہونگے اور دھیرے دھیرے اسلوب میں نکھار آیا ہوگا۔ غالب گمان یہ ہے کہ عرب آ زاد نثر سے مسجّع نثر کی طرف آئے، پھر سجع سے رجز کی طرف، پھر بتدریج قصیدے تک پہنچے۔ سجع شعر کی وہ پہلی شکل ہے جسے کاہنوں نے مناجات، حکمت یا سامعین کو رغبت دلانے کی غرض سے استعمال کیا ہے۔ یہی شعر عبادت خانوں سے سے نکل کر صحراؤں میں پہنچا تو حدی خوانی کی شروعات ہوئی اور رجز کی شکل پیدا ہوئی۔ دن بدن لوگوں کی دلچسپی بڑھنے کے باعث اس کا فروغ ہوا۔ نتیجتاً الحان بڑھ۔ الحان کے ساتھ اوزان بھی بڑھے۔ مثلاً حماسہ کا الگ وزن ہوا، غزل کا الگ۔ اسی طرح ہزج کا الگ۔ یہاں تک کہ خلیل بن احمد (۰۰۱ھ)نے ان اوزان کو پندرہ اوزان میں محدود کرکے ان کا نام بحور رکھا۔ ان کے بعد اخفش نے کچھ کمی محسوس کرتے ہوئے سولہویں بحر، بحرِ متدارک کا اضافہ کیا۔
عربی شاعری کی خصوصیات:
عربی شاعری الگ الگ ادوار میں الگ الگ خصوصیات کے لیے جانی جاتی رہی ہے۔ اسے جاہلی، اسلامی، اموی، عباسی، عثمانی اور عہدِجدید میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
جاہلی شاعری کا بیشتر حصہ برجستہ ہے۔عربوں نے اپنے مشاہدات کو بہت انوکھے انداز میں وصف کیا ہے۔انہوں نے تغزّل اور تشبیب کے نادر اسلوب اختیارکیے ہیں۔ یہ شاعری، آزادیِ فکر اور دیہاتی سادگی کی ایک خوبصورت تصویر ہے۔اس دور کی شاعری میں شاعر صرف اپنے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے اسلوب میں یگانگت اور تکرارِ مضامین بھی ہے۔ یہاں تکلف سرے سے نہیں ہے اور مبالغہ تو برائے نام ہے۔ ان کی فکر خالص دیہاتی ہونے کی وجہ سے ان کے یہاں ِشعر میں تقدیم و تأخیرکے سبب قصیدے میں کوئی نقص نہیں آتا۔ قصائد کی شروعات چونکہ محبوب کے مکانات اورکھنڈرات اور یادوں سے ہوتی ہے، اس لیے متعلقہ اشعارکو غزلیہ شاعری میں شمار کرلیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرإمرؤالقیس کا شعر:
قِفَانَبْکِ مِنْ ذِکریٰ حَبِیْبٍ وَّ مَنزِلِِ
بسِقطِ اللّویٰ بَینَ الدَّخولِ فَحُوملِ ۱؎
(اے دوستو ٹھہرو! تاکہ ہم دخول اور حومل کے درمیان، نم ریت پر، اپنے محبوب اور اس کے مکان کی یاد تازہ کرلیں)۔
إمرؤالقیس، یہ حندج بن حجر الکندی ہے۔ یہ جاہلی دور کا شاعر ہے اور اصحاب المعلقات میں ہے۔ اس نے کم سنی میں شعر کہنا شروع کر دیاتھا۔ خانہ بدوشی کی زندگی گزارتا تھا۔ اس نے شاعری میں نئے اسالیب اور نئے معانی پیدا کیے۔غزلیہ اشعار میں اس نے اپنی محبوبہ عنیزہ کا زبردست وصف کیا ہے۔ اس کی شاعری دیہاتی زندگی کی مکمل تصویر ہے۔ اسے بالاتفاق زعیم الشعراء الجاھلیین کا خطاب ملاہے۔
عہدِاسلامی میں شاعری کسی حد تک تنزل کا شکار رہی۔ غزلیہ شاعری تو برائے نام رہی؛ لیکن عہداموی میں شعرا کا اعزاز و اکرام بڑھا تو شاعری کو بھی فروغ ہوا۔اس میں عمربن أبی ربیعہ کا نام بہت اہم ہے۔ عمرکی پیدائش عہدِاسلامی میں ہوئی۔ وہ صرف خواتین کا وصف کرتا تھا۔ أیام حج میں بھی جاتا اور خواتین کی نقل وحرکت، ان کا آپس میں بات کرنا، سب کچھ بہت انوکھے انداز میں پیش کرتا۔ خواتین بھی اس کا شعر سنتیں، اس کے سامنے آتیں تاکہ وہ ان پر بھی شعر لکھے۔ الفاظ قریب الفہم اور انداز بیان دلکش ہونے کی وجہ سے اس کے اشعار بہت مقبول ہوئے۔ اس نے خالص حسّی شاعری کی ہے۔ اس نے أمرؤالقیس کے برخلاف اپنی غزلوں میں شہری ماحول کی عکاسی کی ہے۔ یہ إباحی غزل(جس میں شاعر مختلف محبوباؤں کی ادائیں اور ان کے میلان کو حسّی انداز میں بیان کرتا ہے) کے رائد کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس نے اپنی غزلوں میں قصے کا اسلوب اپنایا ہے۔دوسرے شعرا کے برخلاف،اس نے،عاشق ثابت کرنے کے بجائے، خود کو معشوق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے کہا:
قالتِ الکُبریٰ:أتَعرفنَ الفَتیٰ قالَتِ الوُسطیٰ: نَعَمْ ہذا عمرُ
قالتِ الصُغریٰ، وقد تیَّمْتُھا: قَد عَرفناہُ، وھَل یَخفِی القمرُ ۲؎
(بڑی نے کہا: کیا تم نوجوان کو پہچانتی ہو؟ منجھلی نے کہا: ہاں،یہ تو عمر ہے
چھوٹی والی نے ،جسے میں نے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا، کہا:یقینا ہم نے اسے پہچان لیا، کیا چاند بھی کہیں چھپتا ہے!)
عمر کا کمال یہ تھا کہ وہ شاعری اپنے شوق کے لیے کرتا تھا۔ حکمراں گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اس نے شاعری کوکبھی بھی ذریعہءِ معاش نہیں بنایا۔ اس کے دور میں غزل بدوی ماحول سے نکل کر شہری ماحول میں رنگ گئی۔
اس عہد میں اور دوسرے اصناف بھی سامنے آئے۔ ان میں نقائض،یعنی شاعروں کے بیچ رسہ کشی یاایک ادبی معرکہ، بہت اہمیت کا حامل ہے۔اس معرکے میں فرزدق، اخطل اور جریر کے نام قابل ذکر ہیں۔
عہدِ عباسی میں شاعری اپنے شباب کو پہنچ گئی؛لیکن غزل میں کسی حدتک آوارگی بھی داخل ہوگئی؛مگر ابو تمّام جیسے بیشتر شعرا نے سادہ غزلوں کو ترجیح دی۔ابوتمام، یہ حبیب بن أوس الطائی ہے۔ یہ عباسی دور کا شاعر ہے۔ اس کی تالیف دیوان الحماسہ اس کے حسنِ ذوق، حسن ِانتخاب اور بالغ نظری کی عمدہ مثال ہے۔ اس عہد میں پاکیزہ غزل کا بہترین نمونہ، اس کا یہ شعر:
نَقّلْ فُؤادکَ حیثُ شِئتَ ََََ مِنَ الھَویٰ مالحبُّ إلّالٍلحبیبٍ الأوّلِِ
کَم مَنزلٍ فِیْ الأرضٍِِ یألفُہُ الفَتیٰ وحَنِیْنُہُ أبَداً لأولِِ مَنزل ِِ ۳؎
(دل کو جتنا بھی چاہو اِدھر، اُدھر لگالو، اصل محبت توپہلی ہی محبت ہے،
ویسے تو نوجوان بہت سارے مکانات سے مانوس ہوتا ہے؛ لیکن اشتیاق اسے ہمیشہ پہلے ہی مکان کا رہتا ہے)۔
اس عہد میں آوارگی بڑھنے کی وجہ سے شراب وغیرہ کا بھی خمریات کے نام سے وصف کیا گیا؛ غزلِ مذکر جیسی صنف بھی وجود میں آئی۔اس میں ابونواس پیش پیش تھا۔ ابونواس عباسی دور کا شاعر ہے۔ اس کا اصل نام حسن بن ھانی بن عبدالأول حکمی ہے۔ أبونواس اس کی کنیت ہے۔قصیدے کی تنقیح کے عمل کے لیے یہ مشہور تھا۔ اس نے غزل کو غزل ِمذکر کا بھی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بہت سارے اشعار خمریات کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔
اس کا یہ شعر جس میں اس نے کسی مذکر کا وصف کیاہے:
أیامَنْ لا یُحسُّ لَہُ نَظِیْرٌ ولاشِِبْہٌ یُقاربُ فی الرُّواءٍ
مَعاذَاللہ لَسْتَ َ بِآدمِی ٍ فَقُلْ لِی ھَلْ نَزَلْتَ َ مِنَ السّماءِ ۴؎
(اے وہ شخص جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، اور چہرے کی خوشنمائی اور آب وتاب میں جس کا کوئی ہم سرہی نہیں ہے،
اللہ کی پناہ! تم آدمی نہیں ہو، ذرا بتاؤ کیا تم آسمان سے اترآئے ہو؟)
لیکن بیشتر شعرا نے غزلِ مذکر جیسی صنف سے کلی طور پراجتناب کیا۔ اس دور کے شعرا میں أبوتمام، بحتری، متنبی، أبونواس اور بشار بن بُرد وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔اسی عہد میں اندلس میں بھی شاعری عروج پررہی۔ان لوگوں نے موشّحات جیسی نئی صنف میں خوب طبع آزمائی کی۔ عہد ِعثمانی ادب کے علاوہ دوسرے علوم و فنون کے اعتبار سے بھی اضمحلال کا شکار رہا، تاہم عہدِ جدید میں عربی شاعری ہر اعتبار سے قابلِ تعریف رہی۔غزلِ مذکر جیسی صنف کا وجود مٹ گیا۔ غریب الفاظ کا استعمال متروک ہوگیا۔ہجو اور فخر جیسی اصناف میں شاعری تقریبا ختم ہوگئی۔ اس دور کے شعرا میں شوقی، حافظ ابراہیم، نزارقبانی اور اسماعیل صبری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
اردو شاعری:
اردو شاعری میں ترقی درجہ بہ درجہ ہوئی ہے۔ عربی کے بالمقابل، اِس کا عہد قریب ہونے کی وجہ سے، اس کے ابتدائی حالات بھی تاریخ میں محفوظ ہیں۔ اردو میں شاعری کی تدوین تو محمد قلی قطب شاہ سے ہوئی؛لیکن اس کے بعد سودا، میرتقی میر، خواجہ میردرد، شیخ ابراہیم ذوق، مؤمن خان مؤمن، مرزا أسداللہ خان غالب اوراقبال جیسے شعرا کی محنت اور جانفشانی کی وجہ سے اردوکی ایک الگ شناخت قائم ہوگئی۔ اردو کے سامنے نمونے کے طور پر عربی اور فارسی شاعری کے اصناف موجود تھے۔ لہذاقصیدہ اور غزل کی صورت اردو میں بھی شاعری کی شروعات ہوئی۔ شروع میں عربی کی طرح اردو شاعری بھی تقلیدی رہی؛لیکن اس کے بعد جدیدیت کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی۔ پہلے مولوی محمد حسین آزاد، حالی اور شبلی وغیرہ،پھر حلقہء اربابِ ذوق اور ترقی پسند تحریک کی وجہ سے اس میں بھی کچھ نئے مضامین اور آزاد نظم کی شروعات ہوئی۔
غور کیاجائے تو اردو اور عربی شاعری میں کچھ چیزیں قدر ے مشترک نظر آتی ہیں؛
۱) عربی کی طرح،اردو شاعری بھی امرا اور رؤسا کی ہی مرہون منت رہی ہے۔
۲) نظام ِعروض اور دوسرے مصطلحات غزل، قصیدۃ، مرثیہ، رباعی، مثنوی وغیرہ دونوں زبانوں میں قدر ے مشترک ہیں۔ یہاں تک کہ افکار و معانی میں بھی کسی حد تک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ حالانکہ دونوں کا آغازوارتقااور زمان ومکان مختلف ہیں۔
ئ جب ہم عربی اور اردو ادبیات کے تقابلی مطالعے کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم میں اکثر کی نگاہیں دونوں زبانوں کے ادبی ذخائر کا احاطہ کرنے سے قاصرہیں۔ عربی کے قدیم شعرا، خاص کر اصحاب المعلقات إمرؤالقیس، طرفہ بن العبد، زھیربن أبی سُلمیٰ، لبیدبن ربیعہ، عمر وبن کلثوم، عنترہ بن شدّاد، اعشی،حارث بن حلزہ اور ان کے علاوہ اہم اسلامی، اموی، عباسی اور دورِجدید کے شعرا، اسی طرح اردو کے نامور شعرا مثلا ًسودا، میرتقی میر، خواجہ میردرد، شیخ ابراہیم ذوق، مؤمن خان مؤمن، مرزا أسداللہ خان غالب اوراقبال وغیرہ کے کلام کا ہم مطالعہ نہیں کرپاتے؛ تاہم قلبی اشتیاق ضرور رہتا ہے۔ وہ بھی شاید اس وجہ سے کہ وہ ذخائر ہماری دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو ہمیں آسانی سے میسر نہ ہوسکے، خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔ جون ایلیانے کہا تھا:
”ہم نے جانا، تو ہم نے یہ جانا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے،، ۵؎
عربی شاعر جمیل بن معمر نے بھی اسی فکر کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی ہے۔ جمیل کی پیدائش اسلامی دور کی ہے۔ اس نے عذری غزل(جس میں شاعرپاکیزہ محبت کا ذکر کرتا ہے اور آخر دم تک ایک ہی کی محبت میں تڑپنا چاہتا ہے)میں اپنی شناخت قائم کی ہے۔ اسلوب خا لص غنائی ہے۔شاعری کا اکثر حصہ اس کی معشوق بثینہ کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کا شعر:
یَمُوتُ الہَویٰ مِنّی إذَا مَا لَقیْتُہا
ویَحیٰ، إ ذا فَارَقْتُہا، فیَعُودُ،،۶؎
(جب وہ میرے ساتھ ہوتی ہے تو محبت بے جان سی محسوس ہوتی ہے؛ مگر جوں ہی وہ جد ا ہوتی ہے محبت زندہ ہوجاتی ہے اور لوٹ آتی ہے)۔
کسی بھی خوبصورت چیز کو دیکھ کر قلب میں اشتیاق پیدا ہوتا ہے۔ اور یہی قلبی اشتیاق ہمارے دلوں میں محبت کا باعث ہوتا ہے۔ اسی لئے جب تک محبوب یا کوئی بھی محبوب شے ہمارے پاس ہوتی ہے، ہمیں اس کی خوبصورتی یا اس سے والہانہ محبت کا اندازہ قطعاًنہیں ہوتا؛لیکن جوں ہی وہ شے آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے اس کی محبت اور خوبصورتی ہماری نظروں میں ازحد بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً ہم اس کی محبت اور خوبصورتی کو ایک بارپھر محسوس کرنے لگتے ہیں، ٹھیک اسی طرح، جس طر ح ایک شکست خوردہ اور پسپاسپاہی فتح کی شیرینی کو محسوس کرتا ہے جب کہ فتح اس سے بہت دور ہوتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں ٹیگور اور اقبال- پروفیسر کوثر مظہری)
محبوب سے محبت کا سوال ہر کوئی اپنے انداز میں کرتا ہے۔ کوئی کام یابی سے ہم کنار ہوتا ہے تو کوئی تشنہ کا م لوٹتا ہے۔ مشہور شاعر أبونواس کا، اس کے محبوب سے، محبت کے متعلق سوال نہایت ہی دلچسپ اور اچھوتا ہے۔
اس نے اپنے اشعار میں بہت ہی حسیّ اندازمیں، عمر بن أبی ربیعہ کی طرح، معشوق سے محبت کا سوال اور پھر اس کے جواب کو بھی نظم کے خوبصورت سانچے میں ڈھال دیاہے۔ اس نے واقعے کی منظرکشی کچھ اس طرح کی ہے کہ ہزاروں سال پرانا منظر اپنے تمام اطراف و جوانب کے ساتھ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ کلام ملاحظہ ہو:
”أیْنَ الجوابُ وأیْنَ رَدُ ّرَسَاءِلِی قَالَتْ سَتَنْظُرْرَدَّہَا مِنْ قَابِل ِ
فَمَدَدْتُ کَفّیْ ثُمَّ قُلْتُ تَصَدَّقُوا قَالَتْ نَعمْ، بِحِجَارَۃٍ وَ جَنادِل
إن کُنْتََ مِسْکِیناًفَجَاوِزْبَابَنَا وَارْجِعْ فَمَالَکَ عِنْدَنَا مِنْ نَاءِل
یََا نَا ہِرَالمِسْکِینِ عِندَ سُؤالِہِ اللّٰہُ عاتِب فِی انْتِہَارِ السَّاءِلِ“۷؎
وہ میرے خطوط کا جواب کہاں ہے؟ معشوق نے کہا: اس کا جواب تمہیں ابھی مل جائے گا۔
میں نے ہاتھ پھیلا دیا۔ پھر میں نے کہا: صدقہ کرو۔ اس نے کہا:ضرور! لیکن پتھروں اورسنگ ریزوں سے۔
اگر تم مسکین ہو تو ہمارے دروازے سے آگے بڑھ جاؤ اور لوٹ جاؤ،یہاں تمہیں کچھ ہاتھ آنے والانہیں!
(شاعر نے کہا: اے مسکین کو جھڑکنے والے، اللہ کسی سائل کو جھڑکنے والے پر ناراض ہوتا ہے)۔
أبونواس نے اپنی ذہانت سے قرآن کی آیت: وأمّا السائلَ فلاتنہَر کے مفہوم کا بہت خوبصورتی سے فائدہ اٹھایاہے۔اس نے آیت کو اپنے حقیقی معنی،مال وزر کے متعلق سوال کے بجائے،مجازی معنی، یعنی محبت کے سوال پر محمول کردیا ہے۔
محبت کا یہی سوال جون ایلیا کے بھی اشعار میں ملتا ہے۔ شعر ملاحظہ ہو:
”ایک صدا ہونٹوں پہ لے کے، تیری گلی میں شام ہوئے سے آ نکلا ہے دل بے چارہ، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
پلکوں کی جھولی پھیلی ہے، پڑ جائیں اس میں کچھ کرنیں تو ہے دل آکاش کا تارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا“۸
جون ایلیا کادل محبت کی کچھ کرنوں کاسوالی ہے؛ مگران کاسوال صرف سوال ہی ہے۔ سوال کے ساتھ معشوق کا جواب، جو عربی شعرا کا خاصّہ ہے، ان کے کلام میں نہیں ہے۔ اس کے بالمقابل أبو نواس نے معشوق کی ادا، اس کے ناز ونخرے، بے نیازی اور بولنے کا انداز،ہر چیز نقل کرنے کی کوشش کی ہے۔
اردو اور عربی کے بعض اشعارجن میں معشوق کی قاتل نگاہوں کو تیر سے تشبیہ دی گئی ہے، فکری طور پرایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ ایک سے زائد شعرا نے اس موضوع پر طبع آزمائی کی ہے۔ان میں إمرؤالقیس بھی ہے۔ قاتل نگاہوں کے متعلق اس نے کہا تھا:
”وما ذَرفَتْ عیناکِ إلا لِتَضْربیْ بِسَہمَیْکِ فیْ أعشارِ قلبٍ مقتّل ِ“۹
(تمہاری آنکھوں کا آنسو اسی لیے گر رہا ہے تاکہ تو اپنے ان دو تیروں سے، میرے دلِ مقتول کے دسوں ٹکڑوں کو نشانہ بنالے)
بعینہ اسی معنے کی عکاسی کرتاہوا اردو کے ممتازشاعر غالب کا بھی شعر ہے:
”کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو یہ خلش کہاں سے ہوتی جوجگر کے پار ہوتا،، ۰۱
دونوں شاعروں کی متعلق جو چیز قابلِ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ دونوں الگ الگ ماحول کے پروردہ ہیں۔إمرؤالقیس خالص دیہاتی ماحول میں پروان چڑھا ہے جب کہ غالب خالص شہری۔ مزیدبرآں دونوں کے زمانے میں بھی کافی بعد ہے، پھربھی دونوں کا انداز بہت مختلف نہیں ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ إمرؤالقیس آغازِعشق کا قصہ بیان کرناچاہتاہے جب کہ غالب انجام ِعشق کا۔اس طرح غالب نے دل کے بجائے جگر کا لفظ استعمال کیا ہے، جس میں تیر کا پیوست ہونا اور پیوست ہوکر اٹک جانا، کرب کی انتہا کی طرف اشارہ ہے۔
اسی مفہوم کو جمیل بن معمرنے ذرا الگ انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا شعر:
”رمَتنیْ بِسَھْمٍٍ ریشُہ الکُحلُ لَمْ یضُر ظَواھرَ جَلدِیٍٍ، فَھُوَ فی القَلْبِِ جارِحُ“
(مشعوق نے مجھے ایسے تیر سے نشانہ بنایا جس کا پھل سرمہ تھا،جو ظاہری اعضا کے لیے تو مہلک نہیں تھا لیکن دل کے لیے قاتل تھا)
اس میں شاعر نے سرمگیں آنکھ کی طرف اشارہ کیا ہے جواپنا ہدف پانے میں نسبتًا زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ جس کا اثر جسم پر تو نہیں ظاہر ہوتا؛لیکن اندر کا سارا عالم اس طرح مجروح ہوتا ہے کہ انسان بے جان ہوجاتا ہے۔
یہ سارے اشعار کم وبیش ایک ہی معنی پر دلالت کررہے ہیں تاہم، یہ کہنے کی جرأت نہیں کی جاسکتی کہ یہ سرقے کی ایک قسم ہے،جس میں بعد کے شعرا نے پرانے شعرا کے مفہوم کو صفائی کے ساتھ اپنے الفاظ کے سانچے میں ڈھال دیا ہے؛ کیوں کہ جاہلی شاعر عنترہ بن شداد، جو اصحاب المعلقات میں ہے اور جو اپنے مشہور قصیدے ”مذھبہ“ کے لیے جانا جاتاہے، نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ: ”ھل غَادرَ الشُعراءُ من مُتَردّم؟“ (کیا پچھلے شعرا نے پُر کرنے کے لیے کوئی خلا چھوڑا ہے؟)
جب سارے مضامین پہلے ہی نظم کیے جاچکے ہیں تو یقینا ہمار ے سامنے،خاص کر اس موضوع پر، سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ ہم اسے انسجامِ افکار سے موسوم کردیں۔ اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔
اسی قبیل سے ایک دوسرے عربی شاعر کا بھی شعر ہے۔ اس نے معشوق کی سرمگیں آنکھوں کا ذکر کرنے کے بجائے اس کی کنکھیوں کا ذکر کیا ہے۔ اس کے مطابق معشوق کی نیم باز آنکھیں اپنا ہدف پانے میں تیر بہدف ہی نہیں؛ بل کہ اس سے کہیں بڑھکر ہیں۔ اس کا شعر:
”وتنالُ إذا نظَرَتْ إلیکَ بطَرْفِھا مالایَنالُ بحَدِّہ النَصل ِ“
(جب وہ نیم باز آنکھوں سے تمہیں دیکھتی ہے، تو، وہ وہاں بھی پہنچ جاتی ہیں جہاں تیر کی رسائی نہیں ہوتی)
اسی معنے میں اردو کا بھی شعر ہے:
ترچھی نظروں سے نہ دیکھو عاشق دل گیر کو کیسے تیر انداز ہو!سیدھا تو کرلو تیر کو
دونوں شاعروں نے ایک ہی معنے کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے میں کرب وخوف ہے اور دوسرے میں طنز۔پہلے میں شاعر معشوق کی غائبانہ تعریف کررہا ہے جب کہ دوسرے شعر میں،شاعربہت ہی سلیس انداز میں اسے براہِ راست مخاطب کررہاہے۔ گویا کہ شاعرکی نظر میں یہ ایک چیلنج ہے اور وہ اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
صنفِ نازک تو حقیقتاً سراپا نزاکت ہے؛ لیکن یہ اپنی اسی نزاکت سے لمحوں لمحوں میں جانے کتنے شیروں کا شکار کر لیتی ہے۔ اس کی نزاکت کو ہر کسی نے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ خاص کر شعرا نے اس کی کمزوری کے پیچھے اس مخفی طاقت کابھی اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے، جو آن کی آن میں سب پر غالب آجاتی ہے اور اپنے چنگل میں اس طرح دبوچ لیتی ہے کہ سامنے والے کو تڑپنے کا احساس تو ضرور رہتا ہے؛ لیکن اس میں خود کو باہر نکالنے کی طاقت نہیں رہتی۔ جریر بن عطیہ التمیمی جیسے منجھے ہوئے عربی شاعر نے بھی اسے محسوس کیا تھا۔جریر کی پیدائش اسلامی دورمیں ۳۳ ھ میں ہوئی۔اس کا اندازِبیان بہت خوبصورت ہے۔ اس نے غزل،مرثیہ، ہجو سب میں طبع آزمائی کی اور سب میں کمال کو پہنچ گیا۔ہجو پر اسے خاص قدرت حاصل تھی۔اس کی غزل میں کافی مٹھاس ہے؛لیکن تقلیدی ہے۔ اس کا شعر:
”إنّ العیونَ الذیْ فیْ طَرفِھا حورُ قَتتَلّنَنا، ثمّ لَمْ یُحیِینَ قَتلَانا
یَصْرَعنَ ذاللُبِ حتّی لاحِراکَ بِِہ وھُنّ أضعفُ خَلقِِ اللہِ أرْکانا“ ۱۱
(وہ خوبصورت آنکھیں، جن کی سفیدی اور سیاہی دونوں حدِکمال کو پہونچی ہوئی ہیں،ہمیں مار ڈالا، اور پھرہمارے مقتولین کو زندہ بھی نہیں کیا۔ اچھے بھلے عقل مند کو اس طرح پچھاڑتی ہیں کہ وہ بے حس وحرکت رہ جاتا ہے، جب کہ یہ اللہ کی مخلوق میں سب سے کمزور صنف ہیں)۔
مجاز لکھنوی کی فکر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ان کا شعر:
کس طرف جاے، کہاں جاے، بتادو کوئی زلفِ پرخم کا گرفتار، نگاہوں کا قتیل.
تیرِنظر کی بونچھار نے شعرا کی وہ حالت کررکھی ہے کہ انہیں اپنے سامنے سارے راستے مسدود نظر آرہے ہیں۔نوبت واویلا تک کی آگئی ہے۔ مجاز نے جریر کے برخلاف، اپنے شعر میں، ایک کے بجائے عشق کے دومراحل کا ذکر کیا ہے۔ پہلامرحلہ ابتداء عشق کاہے جب عاشق گرفتار ِمحبت یا اسیرِزلف ہوتا ہے اور دوسرا مرحلہ انتہاء ِعشق کا ہے، جب نظروں کا تیردل تک پہنچ جاتا ہے۔یہیں پر عاشق کی اپنی زندگی ختم ہوجاتی ہے اوروہ ایک زندہ لاش کی مانند ہوجاتا ہے۔
عشق و محبت، ہجر و وصال یہ ایسی سچائیاں ہیں جن کا سامنا ہم میں اکثر لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ حسّاس ترین مخلوق ہونے کی وجہ سے شاعروں نے انہیں سب سے زیادہ محسوس کیا ہے اور اپنے اپنے الفاظ میں اپنے اپنے تاثرات کا بھی اظہار کیا ہے۔ یہ تاثرات بھی کہیں نہ کہیں دونوں زبانوں میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر أبونواس کا شعر:
”خلیلِی إنّ الحبَ مُرٌ و إنما شرارتُہ فِیْ القلبِِِ بؤسٌ مِنَ الہِِجرِِِ“12
(میرے دوست محبت کڑوی ہوتی ہے، اور یقینا دل میں اس کی چنگاری ہجر کی تنگی ہے)۔
جگر مرادآبای کا شعراس خیال کی بہترین ترجمانی ہے:
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
جگر صاحب نے عشق کواس کی دشواریوں کی وجہ سے آگ کے دریا سے تشبیہ دے دیا، جب کہ أبونواس نے عشق ومحبت کی چنگاری پر ہجر کی تنگی کا اطلاق کیا۔یہ تنگی،عاشق کے سمٹے ہوئے دل سے کنایہ ہے ۔ اسی تنگی کو جگر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
اک لفظ محبت کا،ادنیٰ یہ فسانہ ہے سمٹے تو دلِ عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے
شاعر کے مطابق لفظِ محبت اپنے اندر مختلف پہلو سمیٹے ہوئے ہے۔ کبھی یہ اس دلِ عاشق کی طرح ہوجاتا ہے جو عشق میں ناکامی کے بعد بہت تنگ ہوجاتا ہے، کبھی یہ پھیلتا ہے تو اس کا پھیلاؤزمانے جیسا ہوتا ہے۔اس کے طول وعرض کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ اس صورت میں یہ معانی کا بحرِ ذخاربن جاتا ہے اورزمانے کی طرح ہر چیز کو محیط ہوجاتاہے۔
ہجر کی اس تنگی اورتلخی کا ذکر عمر بن أبی ربیعہ القرشی نے بھی کیا ہے۔ یہ ایک جگہ ہجر کی تلخی کااظہار محبوبہ کے پاس خط ارسال کر کے کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے:
”کتبتُ إلَیِکِ من بَلدِی کتاب مولّہٍ کمدِ
کَئیبٍٍ واکفِ العینینِ بالحسراتِ منفردِ
یؤرقہُ لہیبُ الشو قِ بَیْن السَحَرِ والکبِدِ
فیُمْسِکُ قلبَہ بِیَدٍ ویمسحُ عینَہ بیَد“13
(میں نے اپنے شہر سے تمہیں خط ارسال کیا: وہ خط محبت میں دیوانہ ہوجانے والے شخص نے ارسال کیا ہے،
جو غمگین ہے اور اس کی آنکھوں سے غم کے باعث اشک جاری ہیں۔ مزید برآں وہ تنہا ہے اور اس کے پھیپھڑے اور جگر کے درمیان رہنے والی آتشِ شوق اسے ہمیشہ بیدار رکھتی ہے، ( ٹیگور کی شاعری میں ماحولیات (اُردو تراجم ’’کلامِ ٹیگور‘‘ اور ’’باغبان‘‘ کے حوالے سے)- ڈاکٹر جاوید حسن )
وہ ایک ہاتھ سے اپنا دل تھامے ہوئے ہے اور دوسرے سے اپنی آنکھ پوچھ رہا ہے)۔
اسی ہجر اور فراق کو احمد فراز نے اپنے انداز میں پیش کیا ہے، گوانہوں نے خط ارسال کرنے کے بجاے بلاواسطہ طور پر اپنا پیغام بھیجنے کی کوشش کی ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ان کی قنوطیت حد درجہ بڑھ گئی ہے۔ شاید وہ ناسازگارحالات ہیں جو انہیں ایسا سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ بہار کے دن اب دوبارہ واپس نہیں آسکتے۔ وہ کہتے ہیں:
”رنجش ہی سہی دل کو دکھانے کے لیے آ آپھر سے،مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ…
اک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ“14
اشعار میں جذبے کی شدّت بدرجہء اتم موجود ہے۔ دونوں شاعروں نے اپنی رودادِ غم کچھ اس طرح بیان کی ہے کہ شدت ِجذبات کی وجہ سے قاری بھی تنگی ِ ہجر میں ان کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے۔شاید یہ محبت کا آخری مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان ہمیشہ بیدار رہتا ہے۔اپنی زبان میں ہم اسے جنون سے تعبیر کرتے ہیں؛ لیکن احمدفراز اس مقام پر بھی چین و سکون سے نہیں رہنا چاہتے، وہ محبوب سے التجا کرکے چراغ ِمحبت کی لو کو اور بڑھا نا چاہتے ہیں۔
أبونواس نے اپنے فراق کی کیفیت کو ایک جگہ پر کچھ یوں بیان کیا ہے:
”بَکَیت مِن الفراقِِ لما ألاقِی ورَاجَعت الصَبابۃَ والغَراما
رَجعت إلی العِراق بِرَغمِ أنفی وفارَقت الجزیرۃَ والشآما“15
(فراق کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات نے مجھے اتنا آب دیدہ کیا کہ میں نے پھر سے اسی محبت اور سوزشِ عشق کو اپنا لیا،
ناچاہتے ہوئے بھی جزیرہ اور شام کو خیرآباد کرکے مجھے عراق واپس آنا پڑا)۔
شاعر کو معلوم ہے محبت میں دکھ ہے، درد ہے۔ اسی وجہ سے یہ اسے خیرآباد کردیتا ہے؛ لیکن جب اس کا سامنا فراق کی تلخی سے ہوتا ہے تو اسے محبت سے پیدا ہونے والے درد میں شامل مٹھاس کا اندازہوتاہے۔ بالآخر وہ مجبور ہوکر محبت کی پناہ میں واپس آجاتا ہے۔ یہی محبت اس کی کائنات اور متاع زندگی بن جاتی ہے۔
چاہے وصال کی سرمستی ہو یا ہجرکی تلخی، ان کا ذکر کرنا شعرا کا شیوہ بن جاتا ہے۔ کچھ تو وہ ہوتے ہیں جو یہ کہہ کر کہ: ع ”دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن“ ماضی کی یادوں سے خود کو وابستہ رکھنا چاہتے ہیں؛ لیکن کچھ لوگوں کی زندگیوں میں دھیرے دھیرے وہ موڑ بھی آجاتا ہے جب وہ روز روز کی اس گریہ و زاری سے خود کو بیزار پانے لگتے ہیں۔ نتیجتاً وہ رونا دھونا بند کردیتے ہیں۔یہاں تک کہ کھنڈرات، محلات اورمحبوب کی دوسری نشانیوں کو سوچ یا دیکھ کربھی آب دیدہ نہیں ہوتے۔ مجازکا یہ شعر:
کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا، اے سورش ِدوراں بھول گئے وہ زلفِ پریشاں بھول گیے، وہ دیدۂ گریاں بھول گئے۔
أبونواس نے بھی اپنے شعر میں صاف لفظوں میں اقرار کیا ہے کہ وہ اب گریہ وزاری کی دنیا سے بہت دور ہے۔ اس کا شعر:
”تَرَکْتُ الرَبعَ لاأبکیہ والأطلالَ والرّسما ولاأبکِیْ علی لیلیٰ ولاسعدیٰ ولاسلمیٰ“
(میں نے منزلوں، ٹیلوں اور نشانات کو دیکھ کر رونا دھونا چھوڑ دیا ہے۔ نہ تو میں اب لیلا پر روتا ہوں، نہ ہی کسی سعدیٰ یا سلمیٰ پر)۔
عمرکے ساتھ انسان کے جذبات میں بھی اتار چڑھاؤآتا رہتا ہے۔ اس اتار چڑھا ؤ کا اثر اس کی زندگی کے ہر گوشے میں نظر آتا ہے اور یہ اسی کا اثر ہے کہ زندگی کی زلفوں میں الجھنے کے بعد انسان زلف ِجانا، یادِجانا اور درِجانا کو بھولنے لگتا ہے۔ مجاز اسی سچائی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ جذبا ت کے اتار چڑھاؤکی یہی حقیقت أبونواس نے بھی بیان کی ہے۔ فراق،وصال، پھر وصال، غرضیکہ مختلف مراحل ِمحبت سے گزرنے کے بعد آخر میں اسے زندگی کی سچائی کا سامنا کرنا ہی پڑا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سینے میں امڈتے جذبات کی لو مدھم پڑگئی اوراسے دردِالفت اورگریہ وزاری کو ایک بار پھرسے خیرآباد کہنا پڑا۔
حوالہ جات:
1 الزوزنی، شرح المعلقات السبع، ص: 17، دارالمعرفہ، بیروت، لبنان، طبعہء ثانیۃ،2004
2 حنافاخوری، الجامع فی التأریخ العربی القدیم، ص:450، دارالجیل، بیروت، لبنان،1986
3 دیوان أبی تمام، ص: 457، مکتبہ، المعارف العمومیۃ، نومرو
4 أبونواس، دیوان أبی نواس،ص:403،مکتبہ عمومیۃ مصر،1898
5 جون ایلیا،شاید، ص:204، ابن حسن پرنٹنگ پریس، کراچی،1990
6 أبوالفرج الأصفہانی، الأغانی، جلد اول، ص:750
7 دیوان أبی نواس،ص:390،مکتبہ عمومیۃ مصر،1898
8 جون ایلیا،شاید،ص:138۔
9 حسن زیات، تاریخ الأدب العربی،ص:48، دارالنہضہ، قاہرۃ،مصر.
10 دیوان غالب،ص: 41، اصیلا آفسٹ پرنٹرس، نئی دہلی،2004
11 حسن زیات، تاریخ الأدب العربی، ص:170.
12 دیوان أبونواس، ص:380.
13 حسن زیات، تاریخ الأدب العربی، ص:161
14 کلام احمد فراز، ص: 295،خان پبلشرز، جامع مسجد دہلی،2005.
15 دیوان أبی نواس، ص: 392.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ماشاء اللہ
عمدہ مضامین