تصوف ایک نظام حیا ت ہے جو انسانی قلوب واذہان کو دنیاوی آلائشوں سے پاک کر کے اخوت و محبت ،تحمل و رواداری اور بقائے باہم کو جنم دیتاہے۔نفس انسانی کو اخلاقی رذائل سے پاک کر کے اشرف المخلوقات کا درجہ عطاکرتا ہے۔تصوف تزکیہ نفس اور باطنی تطہیر کا نام ہے۔ یوں تو ہر انسان کے شعور وجدان میں نیک وبد خیالات و جذبات پنہاں ہوتے ہیں تاہم حصول زر و زن اور ھل من مزیدکے احساسات ان کو لاشعور کی تہہ میں دفن کردیتے ہیں۔مگر وہی انسان جب انفعالی کیفیتوں سے دوچار اور اپنے کیے پر شرمسار ہوتا ہے تو اس کے نیک جذبات لاشعور کے دبیز پردوں کو چاک کر کے اس کا سہارا بنتے ہیں۔
تصوف کا بنیا دی مقصدچوں کہ تزکیہ نفس اور قرب خداوندی ہے چناں چہ یہ ہر زمانے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہاہے۔تصوف کو کسی نے نوافلاطونیت سے ماخوذ بتایا تو کسی نے بدھ مت سے ۔کسی نے یونانی فلسفہ کو اس کی بنیاد قرار دیا توکسی نے اسے رہبانیت کا پیش خیمہ بتایااور کسی نے اسلام کو اس کا سرچشمہ قراردیا۔اس بحث سے قطع نظر دنیا کے تمام مذاہب نے تصوف کو اپنے اپنے طور پراپنایا۔انسان کو اخوت و محبت ،تحمل و رواداری اور بقائے باہم کا درس دیا اور قلب ونظر کی آلودگی سے پاک کرکے بندے کوخداسے ملایا ۔یہی وجہ ہے کہ دربار صوفیا ہردور میں مرجع خلائق رہا ہے ۔
روایت
صوفیا سے جہاں نہاں خانہ دل اور ذہن وفکر روشن ہوئے وہیں زبان وادب اور تہذیب وثقافت نے بھی خوب استفادہ کیا۔شعرو ادب میں تصوف کا ایک وافر ذخیرہ موجود ہے نیزاس کی روایت بھی بہت قدیم ہے۔’’رابعہ بصری سے صوفیا کے اس سلسلے کا آغاز ہوتا ہے جس نے جمال خداوندی کو اپنا مقصود و مشہود،محبوب و مسجود جانا،اور عشق کی نسبت پر زور دیا ،در اصل اسی گروہ سے اس متصوفانہ شعر و ادب کا آغازہوتاہے جو آگے چل کر عربی ،فارسی اور اردو پر اثر انداز ہوا۔‘‘(1 )یہیں سے شعروادب کو تصوف کا سہارا ملا اور رفتہ رفتہ ایک مضبوط روایت قائم ہوگئی۔ تصور عشق نے فنا و بقا ،تسلیم ورضا،صبر و شکر،ہجر و وصال کو معنویت بخشی۔لیکن جب عربی شاعری زوال پذیر ہوئی تو یہ روایت فارسی میں منتقل ہو گئی۔فارسی شعرا نے تصوف کو موضوع سخن بنایا۔فارسی کے پہلے صوفی شاعر سعید ابو الخیرسے لے کرسنائی،اوحدی،عطار،رومی ،سعدی اور حافظ جیسے عظیم المرتبت شعرا نے ایک صحت مند روایت کی بنیا د ڈالی۔ فارسی شاعری نے مئے تصوف کو دو آتشہ بنا دیا ،جس سے ایک طرف سلوک و معرفت کے سوتے پھوٹے،تودوسری طرف عشق مجازی اور انسان دوستی کی شدت نے کفرو ایمان کے نزاع کو مذہبی تنگ نظری قرار دیا۔
اردو زبان کی نشو و نما انہیں روایات کے زیر اثر ہوئی ۔شعرو ادب نے ان کی پاس داری بھی کی اور ہندوستان کی تہذیبی اقدار سے ہم آہنگ کرکے انہیں وسیع بنیادوں پر استوار بھی کیا ۔اردو کا خمیر مشترکہ تہذیب و اقدار سے تیار ہوا ،صوفیا نے اس میں روح پھونکی، زندگی کی توانائیاں بخشی اورمحبت ورواداری کا عنصر شامل کیا ،جس سے اردو زبان کو استحکام ملا اور وہ قابل اعتنا بن گئی۔
ہندوستان میں اسلام اورصوفیا کی آمد نے یہاں کی زبان اور تہذیب و ثقافت کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ حضرت داتا گنج بخش ہجویری اولین بزرگ ہیں جو ہندوستان تشریف لائے ۔ ان ہی کے دم قدم سے باقاعدہ تصوف کی داغ بیل پڑی اور مشترکہ تہذیب کو فروغ ملا۔تاہم خواجہ معین الدین چشتی پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے ہندوستانی زبان میں بھی دعوت و تبلیغ کے فرائض انجام دیے۔ بعدمیں ان کے خلفانے اسی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا ۔مولوی عبدالحق نے بابا فرید سے منسوب ایک غزل نقل کی ہے:
وقت سحر وقت مناجات ہے
خیز دراں وقت کہ برکات ہے
با تن تنہا کہ روی زیر خاک
نیک عمل کن کہ وہی سات ہے
چوں کہ صوفیاکا منشا خیر کی دعوت اور شرسے گریز تھااس لیے انہوں نے عوامی زبان کو وسیلہ اظہار بنایا۔لہذاانہیں کے توسل سے اس زبان میں مسائل تصوف در آئے۔اردو شاعری میں تصوف کا نقطہ آغاز یہی ہے ۔
اردو شاعری میں تصوف کی روایت پر نظر ڈالنے سے کئی طرح کے شاعر سامنے آتے ہیں۔ایک صوفیا ،جن کا اصل مقصد دعوت و تبلیغ ہے۔ شعرکو انہوں نے محض پیغام رسانی یا قلبی واردات کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ جیسے میراں جی شمس العشاق،برہان الدین جانم،امین الدین اعلی،شاہ نیاز بریلوی،شاہ تراب علی قلندر،مرزا مظہر جان جاناں،خواجہ میر درد وغیرہ۔دوسرے وہ شاعرجومکمل صوفی تو نہیں تھے تاہم ان کے مزاج میں متصوفانہ خیالات تھے جو شعری قالب میں ڈھلتے گئے۔ جیسے ولی ،میر،غالب اور اقبال وغیرہ نیزاردو کے تقریبا تمام شاعروں نے ’’تصوف برائے شعر گفتن خوب است‘‘کومد نظر رکھتے ہوئے تصوف کو موضوع سخن بنایا ۔اول الذکر (صوفیا)میں خوجہ بندہ نواز گیسو دراز ، شیخ حمیدالدین ناگوری،شیخ شرف الدین احمد یحی منیری، بابا فریدالدین گنج شکر اور بو علی قلند ر پانی پتی وغیرہ کے اشعار ملتے ہیں،جو اردوزبان کی ابتدائی شکل ہے۔ تاہم آج بھی وہ اشعار شکوک و شبہات کے دائرے میں ہیں کہ آیا وہ ان کی اپنی تخلیق ہیں یا پھر ان کے نام سے منسوب۔
اردو شاعری کے اولین نقوش امیر خسرو کے یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔خسرو ،ہند ایرانی تہذیب کے نمائندہ ہیں۔فارسی کے علاوہ انہوں نے ہندوستانی زبانوں میں بھی شاعری کی ہے ،جن میں مختلف علاقوں کی بولیاں شامل ہیں۔البتہ ان کے یہاں کھڑی بولی کا غلبہ ہے جو اردو زبان کی پیش رو ہے۔ذیل کے اشعار ملاحظہ ہوں:
زحال مسکیں مکن تغافل دو رائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں نہ دارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلش چوں عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
خسرو نے ہندوستانی موسیقی کے بھی تانے بانے بنے اورشاعری میں ایک نئی طرح ڈالی ،جسے بعد کے صوفیا اور شعرا نے پروان چڑھایا۔اسی زمانے میں تصوف خالص ہندوستانی تہذیب واقدار میں ڈھل کر بھگتی تحریک کی شکل میں نمودار ہوا۔رام بھکتی اور کرشن بھکتی کے زیر اثر نام دیو،کبیرداس،تلسی داس،میرابائی،سورداس،ملک محمد جائسی وغیرہ نے صوفیانہ خیالات کو شعری پیرائے میں بیان کیا۔کبیرداس کہتے ہیں:
میرا مجھ میں کچھ نہیں،جو کچھ ہے سو تیرا
تیرا تجھ کو سونپتے کہا لاگے میرا
ان صوفیوں اور سنتوں کی زبان آگے چل کر ہندوی زبان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔چناںچہ ڈاکٹر وحید اختر رقم طراز ہیں:
”صوفیا کے اس طرز عمل کی وجہ سے ہی اردو کی تشکیل ہوئی چناں چہ اردو کے تشکیلی دور کو ادب کا جائزہ بتاتا ہے کہ ابتدائی ادبی کا وشیں،خواہ وہ شاعری میں ہوںیا نثر میں،اکثر صوفیا ہی کی مرہون منت ہے۔” (2)
اردو شاعری کے اولین نقوش گجرات اور دکن میں کثرت سے ملتے ہیں۔گجرات میں شیخ بہاء الدین باجن،شاہ علی جیو گام دھنی،قاضی محمود دریائی اور خوب محمد چشتی خاص طور سے قابل ذکر اور لائق احترام ہیں۔یہ تمام صاحب حال بزرگ تھے ۔موسیقی سے انہیں گہرا لگاؤ تھا ۔متعدد راگ راگنیا ں ان کی مرہون منت ہیں۔
اردو شعر و اد ب کے حوالے سے دکن کو نظم و نثر دونوں میں اولیت کا شرف حاصل ہے۔بہمنی سلطنت کے زوال کے بعد ،جن ریاستوں نے اردو شعر و ادب کو استحکام بخشا ان میں بیجا پور اور گولکنڈہ بہت اہم ہیں۔بیجا پور کے صوفیا میں تین خانوادوں نے وہاں کی تہذیبی و لسانی زندگی کوبہت زیادہ متا ثر کیا اور عوامی زندگی پر گہرے نقوش ثبت کیے۔’ایک شیخ عین الدین گنج العلم کے مریدوں کا سلسلہ ہے،دوسرا خواجہ گیسو دراز کے خلفا کا سلسلہ اور تیسرا میراں جی شمس العشاق کا سلسہ‘۔(3) ان بزرگوں نے متصوفانہ خیالات اور راہ سلوک کے باریک نکات اردو زبان (قدیم دکنی) میں نظم کیے ہیں۔اس عہد میں تصوف کا اثر اتنا گہر اتھا کہ عام شعرا بھی تصوف کا رنگ اپنانے پر مجبور تھے،جن کا تصوف سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔
میراں جی شمس العشاق کا دکنی کلا م دستیاب ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے سلوک و معرفت کے اسرار و رموز بیان کرنے ہی کے لیے شاعری کی ہے۔انھوں نے فارسی زبان کو ہندوستانی میں اس طرح مدغم کردیا کہ وہ خالص ہندوی بن گئی ،نیز ہندی اوزان وبحور کے علاوہ ہندی روایت کو بھی بطور استعارہ و تشبیہ استعمال کیا ۔ان کے صاحبزادے برہان الدین جانم نے اسی روایت کی توسیع کی اور امین الدین اعلی نے اس میں مزید نکھار پیدا کیااور زبان وبیان کی سطح پر بھی قدرے بہتری آئی۔
گولکنڈہ میں بھی اردو شاعری کو خوب فروغ ملا ۔قلی قطب شاہ پہلا صاحب دیوان شاعر تسلیم کیا گیا۔وجہی،غواصی اور نشاطی وغیرہ نے بھی شاعری کی ،جن میں روایتی اورمجازی عشق تو نمایاں ہے۔ تاہم تصوف کی بو باس بھی ان میں خوب موجود ہے۔اب تک جن شعرا کا ذکر ہو ا ان میں بیش تر خود صاحب حال بزرگ تھے اور باقی ماندہ انہیں کے پیروکار ۔لہذا ان کی شاعری میں رنگ تصوف غالب ہے۔
شمالی ہند میں اردو شاعری اب تک نا قابل اعتناتھی۔کلام ولی نے یہاں کے شعرا کو بے حد متاثر کیا ،چناں چہ وہ اردو شاعری کی طرف مائل ہو گئے۔ولی کے سامنے اردو شاعری کی ایک صحت مند روایت تھی ،جو صوفیا وامراکے توسل سے ان تک پہنچی تھی اور زبان بھی بہت حد تک صاف ہو چکی تھی اس کا فائدہ ولی نے اٹھایا اور وہ اردو شاعری کے ’بابا آدم ‘بن گئے۔ولی کی شاعری کا غالب رجحان تصوف نہ سہی مگر ایک اہم رجحان ضرور ہے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں تصوف کی وہ تمام روایتیں موجود ہیں جن کے ڈانڈے فارسی کے متصوفانہ اشعار سے جا ملتے ہیں:
اے ولی جب نظر میں وہ آیا
نقش سب ماسوا کے ہوگئے حک
……………….
ہر ذرہ عالم میں ہے خورشید حقیقی
یوں بوجھ کہ بلبل ہوں ہر ایک غنچہ وہاں کا
……………….
مشق کر اے دل صدا تجرید کی
عاشقی ہے ابتدا توحید کی
ولی عشق مجازی کو عشق حقیقی کا اول زینہ قرار دیتے ہیں:
در وادی حقیقت جن نے قدم رکھا ہے
اول قدم ہے اس کا عشق مجاز کرنا
……………….
شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
تصوف کا زیادہ گہرا رنگ ولی کے ہم عصر سراج اورنگ آبادی کے یہاں نظر آتا ہے۔سراج کے نہاں خانہ دل میں جو ہنگامہ برپاتھاوہی عشق و سرمستی کا بے قرار نغمہ بن کر ان کی شاعری میں ظاہر ہو ا۔جذب و سر مستی کے عالم میں جو راگ الاپا وہ نغمہ سرمدی بن گیا:
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے وہ لباس برہنگی
نہ جنوں کی پردہ دری رہی نہ خرد کی بخیہ گری رہی
چلی سمت غیب سے اک ہوا کہ چمن سرور کا جل گیا
مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہیں سو ہری رہی
وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نسخہ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق پر جو دھری تھی سو وہ دھری رہی
شمالی ہند کے شعرا میں مرزا مظہر جان جاناں وہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے اردو شاعری میں مضامین عشق کو صوفیانہ رنگ دیا۔مرزامظہر صوفی مشرب اور درویش صفت تھے ۔پیری مریدی کا سلسلہ بھی ان سے قائم تھا۔تصوف سے وابستگی ان کے کلا م میں گہرائی اورمعنویت پیداکردیتی ہے:
تجلی گر تیری پست و بلنداں کو نہ دکھلاتی
فلک یوں چرخ کیوں کھاتا زمیں کیوں فرش ہوجاتی
……………….
سحر اس حسن کے خورشید کو جاکر جگا دیکھا
ظہور حق کوں دیکھا خوب دیکھا با ضیا دیکھا
خواجہ میر دردمتصوفانہ شاعری کی اس روایت کے امین ہیں جو فارسی شاعرعطار ،رومی اور جامی کے ذریعہ اردو میں منتقل ہوئی۔شاعری درد کے نزدیک ذریعہ معاش تھی اور نہ ہی باعث عزت ۔بلکہ دلی جذبات و کیفیات کا برملا اظہار شاعری کا سبب بنا ’’درد نے جس طرح مضامین معرفت و سلوک و تصوف کو شاعری میں سمویا ہے اس کی مثال اردو شاعری میں تو کم سے کم نہیں مل سکتی۔‘‘(4) یہ قول مبالغہ آمیز ضرور ہے تاہم مکمل دروغ نہیں۔کیوں کہ درد نے سادہ لفظوں میں جتنی بڑی بات کہہ دی ہے اس کی مثال شاید مشکل ہے۔
ارض و سماں کہاں تیری وسعت کو پاسکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
……………….
جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
……………….
ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
میر صوفی شاعر تونہیں ہیں مگر ان کی شاعری میں متصوفانہ خیالات بہ کثرت ملتے ہیں۔میر کی شاعری دردو غم رنج و الم اور عشق و محبت کا ذخیرہ ہے۔ ان کو عشق کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا:
عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو
سارے عالم میں بھر گیا ہے عشق
میرکی شاعری کے حوالے سے ڈاکٹر عبادت بریلوی لکھتے ہیں:
”میر کے احساس کی شدت اور اس کے ساتھ گہرے انسانی شعور نے ان میں ایک آفاقی اور کائناتی رنگ پیدا کردیا ہے،اسی لیے ان کا اثر ہمہ گیر و لازوال ہے،عشق وعاشقی کی مختلف کیفیات اور جذبات واحساسات کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ میر کی غزل میں تصوف اور اس کے مسائل کی ترجمانی بھی کم نہیں ہے۔”(5)
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
……………….
اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور
شمع حرم ہو یا ہو دیا سومناتھ کا
……………….
میر کے دین و مذہب کو پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
خواجہ حیدر علی آتش نے لکھنو کی رنگین فضامیں رہ کر بھی صوفیانہ زندگی بسر کی ہے۔آتش کو تصوف سے قلبی لگاؤ تھا اور صاحب حال صوفی تھے۔
ما سوا تیرے نہیں رہنے کو کچھ یاں باقی
جو ہے فانی ہے، تیری ذات ہے الا باقی
……………….
کون عالم میں ہے ایسا جو نہیں سر بسجود
کس کی گردن کو جھکاتا نہیں احساس تیرا
غالب کے یہاں مسائل تصوف کو جس قدر فلسفیانہ رنگ میں پیش کیا گیا ہے اس کی مثال اردو شاعری میں نا یا ب ہے۔غالب کی بادہ خواری نے انہیں ولی بننے سے باز رکھا۔خود غالب کہتے ہیں:
یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
غالب نے مسائل تصوف کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
……………….
طاعت میں تا،رہے نہ مئے انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
……………….
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
……………….
کثرت آرائی وحدت ہے پرستاری وہم
کردیا کافر، ان اصنام خیالی نے مجھے
……………….
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
بلاشبہ کلام غالب میں جو معنویت اور تہہ داری ہے وہ کسی اور کے یہاں نہیں۔غالب کے کلام میں متصوفانہ مباحث کو دیکھتے ہوئے بعض نے انہیں صوفی بھی کہاہے۔ ’’غالب کے صوفیانہ اشعار فی الحقیقت گنجینہ معنی کا طلسم ہیں۔‘‘(6)
اقبال کا مرد مومن خودی کو بلند کرنے کا پیغام دے رہا ہے،چناں چہ انہوں نے خودی کا فلسفہ پیش کیا یعنی عرفان ذات ہی میں کامیابی کا رازپنہاں ہے۔اگرانسان خودی کو دریافت کر لے تو مکاں سے لامکاں تک اس کے سارے حجابات اٹھ جائیں گے اور اس کی مرضی خدا کی مرضی بن جائے گی ۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدابندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
……………….
خودی کا سرّ نہاں لاالہ الااللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الااللہ
……………….
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
عشق اقبال کی شاعری کا منبع و سر چشمہ ہے ،انہوں نے عشق کو عقل پر ترجیح دی ہے اور ساتھ میں یہ مشورہ بھی:
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑیے
اقبال کی پور ی شاعری عرفان ذات ،حرکت و عمل ،تلاش و جستجو،گلہ شکوہ کے محور پر گردش کر رہی ہے کہ شاید انسان شاہین صفت اور مرد مومن بن جائے تاکہ خدابندے سے خود اس کی رضا دریافت کرے۔اقبال کی شاعری متصوفانہ خیالات سے مملو ہیں تاہم انہوں نے ان صوفیوں کو بھی طنز کا نشانہ بنایا ہے جو لوگوں میں مایوسی پیدا کرکے انہیں حرکت و عمل سے بیزار اور انفعالی کیفیتوں سے دوچار کر دیتے ہیں ۔
اصغر گونڈوی کی شاعری میں ’’تصوف یا فلسفہ ہر صفحے پر روشن ہے ‘‘۔(7) انہوں نے تصوف کے اسرار و رموز کوشعری پیرایے میں بہ خوبی پیش کیاہے۔چوں کہ اصغر خود صوفی مشرب تھے اس لیے ان کے کلام میں تصوف کا گہرا رنگ پایاجاتاہے۔
جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے
پردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہے
لو شمع حقیقت کی اپنی ہی جگہ پر ہے
فانوس کی گردش سے کیا کیا نظر آتا ہے
……………….
بس اک سکوت ہے طاری حرم نشینوں پر
صنم کدے میں تجلی ہے اور پیہم ہے
……………….
تیرا جمال ہے، تیرا خیال ہے، تو ہے
مجھے یہ فرصت کاوش کہاں کہ کیا ہوں میں
غرض کہ کلاسیکی شعرا سے لے کر ،ترقی پسند ،جدید اور مابعد جدیدکے تقریباتمام شعرا کے یہاں تصوف کے اشعار ملتے ہیں۔جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردومیں متصوفانہ شاعری کی ایک قدیم، توانا اور صحت مند روایت قایم ہے جس کا سلسلہ ہنوزجاری ہے۔
مسائل ومباحث
بعض مفکر و مورخ تصوف کو فلسفہ سرّیت اور ویدانت سے بھی ماخوذ مانتے ہیں جوکہ سراسر غلط فہمی کا نتیجہ ہے ۔البتہ اس میں سرّیت اور ویدانت کے بعض عناصر پائے جاتے ہیں تاہم تصوف کا اصل منبع و سر چشمہ قرآن و حدیث ہی ہیں۔آگے چل کر اس میں فلسفیانہ مباحث بھی داخل ہوگئے اور وجود باری کو لے کر صوفیا دو گروہ میں بٹ گئے ۔ایک وجودی کہلائے اوردوسرے شہودی ۔
اسلام کے ابتدائی دور میں صرف توحید کا تصور تھا ،جو آٹھویں صدی عیسویں تک قائم رہا ۔مگر جب اس میں فلسفہ داخل ہو گیا تو وحدۃالوجود اور وحد ۃالشہود کا مسئلہ درپیش آیا ۔نظریہ وحدۃ الوجود کی بنیاد توحید پر ہے تاہم اس پر سرّیت کا تصور بھی اثر انداز ہو ا۔ جیسا کہ ڈاکٹر سلام سندیلوی رقم طراز ہیں:
”حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا فلسفے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مگر جب اسلام پر یونانی فلسفے کا اثر پڑا تو اس میں بہت سے نئے خیالا ت داخل ہوگئے۔چناں چہ مسئلہ وحدۃ الوجود کا تعلق کسی نہ کسی حد تک فلاطینوس کی سرّیت سے ہے اگرچہ بنیادی طور پریہ فلسفہ اسلامی توحید ہی سے ماخوذ ہے۔” (8)
وجود باری،حسن وعشق،فقر وغنا،تسلیم ورضا،خیر وشر اور جبر وقدرتصوف کے بنیادی مسائل ہیں۔تاہم ان میں وجود باری کو سب سے زیاد ہ اہمیت حاصل ہے۔چوں کہ زیر نظر مقالہ میں تصوف کے ان تمام مسائل کو پیش کرپانانہایت مشکل امرہے چناں چہ وجود باری پر ہی گفتگو کی جائے گی ۔وجود باری کو لے کر صوفیا دو گروہ میں بٹ گئے۔ایک تصور وحد ۃالوجود کے قائل ہوئے اور دوسرے تصور وحد ۃ الشہود کے ۔ حالاں کہ دونوں کا مقصود ایک ہی ہے ،بس نظریہ جدا ہے ۔وجودی تمام اشیا کو خدا کا عین تصور کرتے ہیں۔جب کہ شہودی انہیں غیر مانتے ہیں۔
تصور وحدۃ الوجود
وحدۃ الوجود کے ابتدائی نقوش ذوالنون مصری ،بایزید بسطامی اور جنید بغدادی کے یہاں ملتے ہیں۔ تاہم شیخ محی الدین ابن عربی وہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے نظریہ وحدۃ الوجود کوبا قاعدہ طور پر عقلی و نقلی دلائل وبراہین سے ثابت کیا اور اس نظریہ کو تقویت بخشی۔در اصل صوفیا کو عالم وجد میں ہر شے میں خدا ہی کا جلوہ نظر آتا ہے اسی بنیاد پر اس نظریہ کا جنم ہو ا۔
اردو شاعری میں تصور وحدۃ الوجود فارسی کے راستے سے داخل ہو ااور رفتہ رفتہ ہندوستانی مزاج میں ڈھل گیا ۔چوں کہ اردو شاعری کے ابتدائی نقوش دکن میں ملتے ہیں چناں چہ اس نظریے کے اولین نمونے بھی وہیں پائے جاتے ہیں۔میراں جی کا یہ شعر دیکھیں:
تجھتے ہی قدرت کوں زور، تجھتے نور نورانا
تجھتے سب کا سبھی پنا، تج بن سب ہیں بیگانہ
ان کے بعد جانم نے توحید وجودی کے فروغ میں قابل قدر کارنامہ انجام دیا۔’’توحید وجودی کا ماحصل یہ ہے کہ خدا ئے لم یزل ہر شے میں جاری وساری اور ہر شے پر حاوی ہے وہ ذرہ ذرہ میں جلوہ نما ہے ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی۔رنگ ،بواور نور کی شکل میں وہی اورصرف وہی ہے۔اس کا ظہور مکان میں بھی ہے اور لامکان میں بھی۔‘‘ (9)
جانم کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
سب میں تو وہ دستا ہے
سب تھے الپت بستا ہے
……………….
ہر اک شئے میں دیکھ بچار
محیط دسے ٹھارے ٹھار
چوں کہ وحدۃ الوجود کا نظریہ اس زمانے کاایک عمومی اور صوفی شعرا کے نزدیک مقبول ترین نظریہ تھا اس لیے تمام شعرا نے اسے موضوع سخن بنایا۔شیخ غلام محمد داول ،امین الدین اعلی،بحری اور بعد کے ادوار میں ولی نے اسے خوب صورتی سے پیش کیا ۔ یہ اشعار دیکھیں:
کہے ایک دریا ہے موجاں ہزار
ابلتے ہیں موجاں کے فوجاں ہزار
(بحری)
عیاں ہے ہر طرف عالم میں حسن بے حجاب اس کا
بغیر از دید ۂ حیراں نہیں جگ میں نقاب اس کا
……………….
ہر ذرہ عالم میں ہے خورشید حقیقی
یوں بوجھ کے بلبل ہوں ہر اک غچہ وہاں کا
(ولی)
سراج کے سوزش عشق نے خیال من و تو کو خاکستر کردیااو ر’’ تو ہی تو‘‘ کانعرہ بلند کیا۔ ان کی پوری شاعری متصوفانہ خیالات سے مملوہیں۔
تیرے جوش حیرت حسن کا اثر اس قدر سیں یہاں ہوا
کہ نہ آئینے میں جلا رہی نہ پری کوں جلوہ گری رہی
……………….
الہی پردۂ کثرت اٹھا دے
شراب ساغر وحدت پلادے
(سراج)
اردو شا عری میں تصوف ’’برائے شعر گفتن خوب است ‘‘کے طور پر زیادہ تر شعرا نے ا سے موضو ع سخن بنا یا ۔ سیاسی انتشار اور عدم تحفظ کا جواحساس تھا اسے تصوف کا سہارا ملا ۔جمیل جالبی رقم طراز ہیں:
”تصوف نے برباد معاشرے کو پناہ دے کر اسے خود آگاہی اور عرفان ذات کا راستہ دکھایا تھا ۔اسی طرح اس دور میں تصوف نے زخمی روح کو امید کی روشنی دکھائی ۔اس دور میں تصوف بے عملی کا فلسفہ حیات نہیں تھا بلکہ با معنی اور با مقصد طور پر زندہ رہنے کا نیا حوصلہ دینے کا وسیلہ تھا۔ یہی سبب ہے کہ غم و ا لم کے ساتھ بے ثباتی دہر ،فنا ،تسلیم و رضا اور تصوف کے دوسرے نکات بھی شاعری کے عام موضوعات بن گئے جنہیں میر اور درد نے اس طرح پیش کیا کہ ان کی آواز میں سب کی آواز شامل ہوگئی”(10)
میر تقی میر ،میر اثر ،سودا،میر سوز وغیرہ نے بے جان معاشرے میں تصوف کی بصیرت افروزی پر زور دیا ۔ میرنے بھی تصوف کو وسیلہ اظہار بنایااور وحدۃالوجودکے گیت گائے۔ان کی شاعری میں اس کی مثالیں بھری پڑی ہیں ۔یہ اشعار دیکھیں:
اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور
شمع حرم ہو یا ہو دیا سومناتھ کا
……………….
ظاہر کہ باطن اول کہ آخر
اللہ اللہ اللہ اللہ
درد کی شاعری میں عشق حقیقی کا درد پوشیدہ ہے ۔یہی وجہ کہ انہوں نے تصوف کے مسائل پر کھل کر بحث کی ہے اور انہیں اپنی شاعری میں پرویاہے ۔درد کا یہ دعوی کہ ان کا سارا کلام نظم و نثر القائے ربانی ہے ،بالکل درست ہے :
جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
توہی آیا نظر آیا جدھر دیکھا
حجاب رخ یار تھے آپ ہم
کھلی آنکھ جب کوئی پردہ نہ دیکھا
……………….
ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
……………….
اگر نہاں ہے تو ہے وگر عیاں ہے تو ہے
غرض کہ دیکھ لیا میں جہاں تہاں تو ہے
غالب وحدۃ الوجودی عقیدہ رکھتے تھے۔انھوں نے فلسفہ تصوف کو فکری سطح پر بلند آہنگی عطاکی اور نظریہ ’’ہمہ اوست ‘‘کو تقویت بخشی۔چناں چہ ان کے یہاں بھی اس کی با ز گشت سنائی دیتی ہے تاہم ان کو منصور کی تقلید منظور نہیں:
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں
……………….
اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
……………….
دل ہر قطرہ ہے ساز اناالبحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
……………….
ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود
قبلہ کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں
اقبال کی پوری شاعری میں پیغام ہے یا فلسفہ۔ ابتدا میں اقبال نظریہ وحدۃ الوجود کے خلاف تھے اور انہوں نے ابن عربی کو اس کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔مگر بعد میں وہ اس کے قائل ہوگئے:
خرد ہوئی ہے زمان ومکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں لاالہ الااللہ
محرم نہیں ہے توہی نواہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
اصغر کی شاعری کا نمایاں عنصر تصوف ہے۔ان کی شاعری میں تصوف کے تمام پہلو ملتے ہیں۔ان کے یہاں بھی اس کائنات میں صرف خدا کے جلوے نظر آتے ہیں اور کائنات کے سارے نقوش محض وہم و فریب ہیں۔اصغرنے اس خیال کو شاعرانہ نزاکت کے ساتھ بہت خوب صورتی سے پیش کیاہے:
جو نقش ہے ہستی کا دھوکہ نظر آتا ہے
پردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہے
لو شمع حقیقت کی اپنی ہے جگہ پر ہے
فانوس کی گردش سے کیا کیا نظر آتا ہے
مذکورہ شعرا کے علاوہ نظیر اکبرآبادی،شاہ نیاز بریلوی،غلام ہمدانی مصحفی اور فانی بدایونی وغیرہ کے یہاں بھی مسائل تصوف کا بیان ہو ا ہے اور نظریہ ہمہ اوست کی خو ب صورت عکاسی ہوئی ہے:
تعینات کے نقطوں سے ہے کثیر احد
وہی ہے ایک یہ دس سو ہزاری لکھ کروڑ
……………….
معمور ہو رہا ہے عالم میں نور تیرا
از ماہ تا بہ ماہی سب ہے ظہر تیرا
(شاہ نیاز بریلوی)
اے مصحفی شانیں ہیں مری جلوہ گری میں
ہر رنگ میں میں مظہر آثار خدا ہوں
(مصحفی)
کس کو کہیے ماسوا جب تو نہیں تو کچھ نہیں
تو نظر آیا تو ایک عالم نظر آیا مجھے
(فانی بدایونی)
کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
جس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیا
(جگر)
وہ ہی وہ ہیں مگر ظہور نہیں
اس طرح دور ہیں کہ دور نہیں
(فانی)
سچ ہے کسی کی شان یہ اے نازنیں نہیں
تو ہر جگہ ہے جلوہ گر اور پھر کہیں نہیں
(اکبر)
تصور وحدۃ الشہود
اس نظریے کا ماحصل یہ ہے کہ اشیائے کائنات خداکا غیر اور قائم بالذات ہیں۔حالاں کہ ان دونوں کا مقصود ایک ہی ہے محض نظریات میں اختلاف ہے۔ جیسا کہ میردرد ان دونوں نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طرازہیں:
”اگر اس نزاع پر انصاف کی نظر سے غور کیا جائے اورتعصب کو راہ نہ دی جائے تحقیق کی نظر نیک ہواور کسی فریق کے ساتھ جانب داری نہ برتی جائے تومعلوم ہوگاکہ دونوں فریقین کا مآل ایک ہی ہے۔نزاع صرف لفظی ہے اور دونسبت والوں کی کیفیت حال میں اختلاف نہیں۔سب کا حاصل قلب کو گرفتاری ماسواسے آزاد کرنا ہے اور حق تعالی سے توکل اختیار کرنااس لیے کہ توحید وجودی اور اس کا مآل یہی ہے کہ شہود میں غیر نظر نہ آئے اور توحید شہودی جلوہ فرما ہو……وحدت شہود کا حاصل یہی ہے کہ وجود ہمہ موجودات کوایک وجود مطلق کے نور میں گم کر دیاجائے اور کثرت اعتباریہ شہود میں مخل نہ ہواور ان کا وجود نظر میں نہ آئے۔”(11)
جب وحد ۃالوجود کے نام پر لوگ گمراہی میں مبتلا ہونے لگے تو ابن قیم اور شیخ سر ہندی نے وحدۃالشہود کو تقویت بخشی اور اس کے ذریعے ان کا جواب دیا۔ جہاں تک اردو شاعری کا سوال ہے تو چوں کہ بیش تر اساتذہ سخن نے شعوری یا لا شعوری طور پر تصور وحدۃالوجود سے اتفاق کیا ہے اس لیے اس موضوع کو بہت کم برتا گیا ہے۔بعض اشعار ایسے بھی ملتے ہیں جن میں وجودی اور شہودی دونوں پہلو موجود ہیں۔امیر خسروکا یہ شعر دیکھیں
سب سکھین کا پیا پیارا
سب میں ہے اور سب سوں نیارا
یعنی وہ سب میں موجود بھی ہے اور سب سے منفرد بھی
سودا کہتے ہیں:
سودا نگاہ دیدہ تحقیق کے حضور
جلوہ ہر ایک ذرہ میں ہے آفتاب کا
ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
موسی نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا
……………….
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تا
(میر)
مذکورہ اشعار کی تشریح دونوں حوالوں سے کی جاسکتی ہے۔اگر خدا کا وجود بالذات مان لیں تو یہ وحدۃ الوجود کے زمرے میں چلاجائے گااوراگر خدائی نور کا ظہور فرض کرلیں تو یہ وحدۃ الشہود کہلائے گا۔
میر انیس ان دونوں کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو
آنکھیں جسے ڈھونڈتی ہیں وہ نور ہے تو
نزدیک رگ جاں سے اور اس پر یہ بعد
اللہ اللہ ! کس قدر دور ہے تو
اس لفظی نزاع کو دیکھتے ہوئے کبر الہ آبادی کا یہ شعر یاد آتا ہے:
بس جان گیا میں تیری پہچان یہی ہے
تودل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا
حاصل کلام
مذکورہ مباحث سے ا اندازہ ہوتاہے کہ اردو شاعری میں تصوف کی روایت نہایت قدیم ہے ۔بلکہ جب سے اردو شاعری کا وجود ہے تب ہی سے اس میں مسائل تصوف کاورود ہے ۔در اصل تصوف ایک کل ہے اور وجود باری،حسن وعشق،فقروغنا،فنا و بقا،تسلیم ورضا، صبر وشکر، خیر وشراورجبر وقدراس کے اجزا ہیں۔قرب خداوندی اور انسان دوستی اس کا منشور ہے۔اردو شاعری میں تصوف فارسی کے توسل سے وارد ہوااوراردو کے بیش تر شعرا نے ان مسائل کو موضوع سخن بنایا۔ واضح رہے کہ تصوف میں جب فلسفیانہ مباحث داخل ہوئے توتصور وحدۃ الوجود اورتصور وحدۃ الشہود سامنے آیا ۔ چوں کہ زیادہ تر شعرا توحیدوجودی کے قائل رہے ہیں اس لیے اس نظریہ کابیان کثرت سے ہوا ہے۔نیزبعض اشعار ایسے بھی ہیں جن میں دونوں نظریے پائے جاتے ہیں ،بس تشریح وتوضیح کا فرق ہے ۔ اس کے علاوہ جوتصوف کے مسائل ہیں مثلا فقر وغنا،تسلیم ورضا،بے ثباتی دہراور فنا وبقاوغیرہ ان پر تقریبا تمام شعرا نے طبع آزمائی کی ہے۔
ابتدا ہی سے اردو شاعری کے دواہم موضوعات رہے ہیں ۔ایک حسن و عشق اور دوسرا تصوف۔ عشق تمام شعرا کا موضوع سخن بنا اورتصوف صوفیا کاخاص میدان رہا۔دیگر شعرا نے ’تصوف برائے شعر گفتن خوب است ‘کے طورپر اس موضوع کو استعمال کیا۔ صوفیا نے ان دونوں موضوعات کو بخوبی برتا۔تاہم بعض کے یہاں سوزش عشق ناپید رہی اوروہ عشق مجازی کی وادیوں میں بھٹکتے رہے،جب کہ بعض شعرا ان وادیوں سے گزر کر عشق حقیقی کی سرحدوں میں داخل ہوگئے۔
حوالہ جات
ڈاکٹر وحید اختر،خواجہ میر درد تصوف اور شاعری،انجمن ترقی اردو ہند علی گڈھ ص229
2۔ایضا ص 287
3۔ایضا ص296
4۔ایضا ص311
5۔ڈاکٹر عبادت بریلوی،غزل اور مطالعہ غزل،ص273
6۔سید محمد مصطفی صابری،غالب اور تصوف،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی،ص12
7۔بحوالہ ڈاکٹر سلام سندیلوی،تصوف اور اصغر گونڈوی،نسیم بک ڈپو لکھنو ،ص4
8۔ڈاکٹر سلام سندیلوی ،تصوف اور اصغر گونڈوی،نسیم بک ڈپو لکھنو,ص47
9۔ ڈاکٹر وحید اختر ،خواجہ میر درد تصوف اور شاعری،انجم ترقی اردو ہند علی گڈھ ص311
10۔ جمیل جالبی،تاریخ ادب اردو ۔جلد دوم ،ص 45
11۔ ڈاکٹر وحید اختر،خواجہ میر درد تصوف اور شاعری،انجمن ترقی اردو ہند علی گڈھ ص 131
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

