’’ہائے!بے چاری کی قسمت ہی پھوٹ گئی …!‘‘
’’کیا سجل روپ ہے!‘‘
’’ارے!سوتیلی ماں تھی نا…کنوئیں میں دھکیل دیا۔‘‘
مہمان خواتین دلہن کے سندر روپ کو سراہتے ہوئے اس کی قسمت کا ماتم کر رہی تھیں۔
اور دلہن بنی حریم کا دل ان کی باتوں سے کڑھ رہا تھا۔ذہن پہلے ہی اپ سیٹ تھا۔اب خواتین کی باتوں نے مزید جلتی پر تیل کا کام کیا۔لمبے گھونگھٹ میں چہرہ چھپائے وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔
حریم کی والدہ اس کے بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھیں۔والد نے دوسری شادی کر لی ۔سوتیلی ماں حقیقتاً سوتیلی ہی ثابت ہوئی، معصوم سی حریم پر کون سا ظلم تھا جو انہوں نے نہیں ڈھایا۔وہ مظالم میں رُل رُل کر جوان ہوئی تو ماں نے ظلم کی انتہا ہی کر دی۔
حطام تین بچوں کے باپ تھے ۔ساحل،شمائل اور شمامہ۔شمامہ کی پیدائش پر رضیہ بیگم کا انتقال ہو گیا ۔لہٰذا اس کی پرورش کے لیے انہوں نے دوسری شادی کا ارادہ کیا اور قسمت کا ستارہ حریم سے جا ملا ۔حریم کی سوتیلی ماں خانم حطام کی رشتہ کی خالہ لگتی تھیں۔
شادی کی پہلی رات جب حطام نے اپنی دوسری دلہن کا گھونگھٹ اٹھایا تو وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹ گئے۔حریم کے سر سے دوپٹہ اتر چکا تھااور وہ حیران نظروں سے حطام کو دیکھ رہی تھی۔
’’کیا میں انہیں پسند نہیں آئی…؟‘‘
پہلا سوال اس کے ذہن میں یہی ابھرا۔
’’یا خدا…!اب تو مجھے کون سے عذاب سفر میں اتارے گا؟‘‘
اس نے بے بسی سے نظریں اٹھا کر حطام کو دیکھا ۔وہ بھی اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’آپ…آپ حریم ہیں…؟‘‘بالآخروہ بول اٹھے۔
’’جی…!‘‘اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’لیکن آپ تو بہت کم عمر ہیں…!جبکہ خالہ نے مجھے بتایا تھا کہ آپ پینتیس سال کی ہیں۔‘‘انہوں نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔
وہ خاموش رہی ،کہتی بھی تو کیا…؟وقت نے قوت گویائی تو پہلے ہی سلب کر لی تھی۔
حطام بے حد شرمندہ تھے۔ان کی خالہ نے ان کے ساتھ دھوکہ کیاتھا۔ پینتیس سال کا بتا کر اس نازک سی لڑکی کو ان سے منسوب کر دیا۔
’’اب کیا ہوگا…؟‘‘وہ یہی سوچ کر پریشان ہو رہے تھے۔
’’یہ تو بہت نازک سی لڑکی ہے …اس کے بھی ڈھیروں ارمان ہوں گے، کچھ خواب ہوں گے…!‘‘
وہ سارے ارمان ٹوٹ گئے…خوابوں کا گھروندا بکھر گیا۔
صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے،بے حد پریشانی کے عالم میں وہ جانے کیا کچھ سوچ رہے تھے!
حریم نے دیکھا ان کے چہرے پر کتنی ملاحت تھی!
وہ بیڈ سے اتر کر ان کے نزدیک چلی آئی۔
’’آپ کیا سوچ رہے ہیں…؟‘‘
’’حریم…!وہ بے ساختہ اسے پکار اٹھے۔
’’خدا کی قسم…!میں تمہیں برباد نہیں کرنا چاہتا۔خالہ نے دھوکے سے ہمیں منسوب کیا ہے۔اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم اتنی کم عمر ہو تو میں کبھی اس شادی پر رضامند نہیں ہوتا۔‘‘وہ بے حد نادم لگ رہے تھے۔
’’میں تمہیں آزاد کر دوں گا…!‘‘
’’نہیں…پلیز…!‘‘حریم تڑپ اٹھی۔
’’میں اس جہنم میں دوبارہ نہیں جانا چاہتی۔‘‘
’’آپ مجھے یہیں رہنے دیں…اپنے گھر میں۔‘‘
’’میں کبھی آپ سے کوئی فرمائش نہیں کروں گی۔‘‘وہ روتے ہوئے التجائیہ لہجہ میں بول رہی تھی۔
حطام دکھی ہو گئے۔
’’حریم!اگر تم اپنی خوشی سے رہنا چاہتی ہو تو ضرور رہو…یہ گھر تمہارا ہی ہے۔تمہیں جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے مانگ سکتی ہو۔‘‘
’’مگر خدا کے لیے اپنی ماں کا بدلہ میرے بچوں سے نہ لینا،وہ بے حد معصوم ہیں،تمہیں کبھی پریشان نہیں کریں گے ۔‘‘
ان کے لہجے کی تڑپ نے حریم کو تڑپا دیا۔
’’نہیں…نہیں…حطام!میں کسی قیمت پر بھی اپنی کہانی نہیں دہرانا چاہوں گی۔میں آپ کے بچوں کو سگی ماں کا پیار دوں گی۔ان کے معصوم ذہنوں پر سوتیلے رشتے کا اثر نہیں پڑنے دوں گی۔‘‘وہ ایک عزم سے بولی۔
’’میں وعدہ کرتی ہوں حطام!آپ سے کبھی اپنے بچے کی فرمائش بھی نہیں کروں گی۔آج سے آپ کے بچے میرے ہیں…!‘‘
حطام اس اعلیٰ ظرف لڑکی کے آگے ہار گئے۔
’’تم بہت عظیم ہو حریم…!‘‘
’’میں بھی تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔‘‘وہ اس کے ہاتھ تھام کر محبت سے بولے۔
…………………
اگلی صبح بہت روشن تھی ۔حریم کی آنکھ کھلی تو حطام کمرے میں نہیں تھے۔وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے لمبے بالوں کو سنوارتی باہر نکل آئی۔
وہ بچی کو لے کر لان میں ٹہل رہے تھے۔حریم نے ان کو گود سے بچی کو لے لیا۔
’’میں اس کی فیڈر بنا کر لاتا ہوں۔‘‘حطام جلدی سے کچن میں پہنچے۔
جب حریم بچی کو فیڈر پلا رہی تھی تبھی ساحل اور شمائل وہاں آگئے۔
’’السلام علیکم ،پپا!‘‘وہ حریم کو نظر انداز کرکے حطام کے دائیں بائیںبیٹھ گئے۔
’’جیتے رہو بیٹا…!‘‘انہوں نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا۔
’’بیٹا…!ان سے ملیں ،یہ آپ کی نئی مما ہیں۔‘‘انہوں نے حریم کا تعارف کرایا
’’سوتیلی مما…!‘‘ساحل نے نفرت سے منھ بنایا۔
’’ساحل…!‘‘حطام نے سرزنش کی ۔
’’رہنے دیں حطام…!ویسے بھی میں ان کی مما نہیں بلکہ آنٹی ہوں۔‘‘
حریم نے مسکرا کر کہا۔
ساحل وہاں سے اٹھ کر چلا گیا،شمائل بھی اس کے پیچھے تھا۔
’’اونہہ…نئی مما…!‘‘ساحل نے اپنے کمرے میں آتے ہی زور سے ہنکارا بھرا۔
’’مما تو بس ایک ہی ہوتی ہے شمی!وہی جو ہمیں جنم دیتی ہے۔یہ تو سوتیلی مما ہیںجو ہمارے پپا کو ہم سے چھیننے آئی ہیں۔‘‘وہ غصہ سے بولا۔
’’بھیا…!یہ نئی مما ہمارے پپا کو ہم سے چھین کر کہاں لے جائیں گی؟‘‘
شمائل نے خوف زدہ لہجے میں پوچھا۔
’’ارے شمی!تم ڈرومت،یہ پپا کو کہیں نہیں لے جا سکتیں،میں ہوں نا…!‘‘ساحل نے چھوٹے بھائی کے دل میں بیٹھے خوف کو دور کرنا چاہا۔
’’حریم!تم نے بچوں کو مما کہنے سے کیوں روک دیا؟‘‘
’’حطام !میں زبردستی ماں کہلایا جانا پسند نہیں کروں گی۔بچوں کا دل کبھی بھی کسی دوسری عورت کو ماں تسلیم نہیں کر سکتا۔میں اس دن کا انتظار کروں گی حطام!جب بچے اپنی مرضی اور خوشی سے مجھے مما کہیں گے۔‘‘
اس کے گمبھیر لہجے نے حطام کو متاثر کر دیا تھا۔
حریم کو روز ہی چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔شمامہ بہت چھوٹی تھی،ہر بات سے بے خبر،وہ حریم کی محبت پاکر اس سے مانوس ہو گئی تھی۔
البتہ ساحل اور شمائل پر اس کی محبت کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ساحل کے سب کام وہ اپنے ہاتھوں سے کرنا چاہتی تو بغیر کسی لحاظ کے وہ حریم کو ڈانٹ دیتا اور وہ خاموشی سے صبر کا گھونٹ پی لیتی۔
شمائل کی بیماری میں وہ اس کے قریب رہی۔اپنی محبت اور توجہ سے اس کی دیکھ بھال کی تو وہ اس سے کچھ مانوس ہو گیا تھا۔ساحل سے چھپ کر وہ حریم سے باتیں بھی کر لیتا تھا۔
مگر ساحل کا رویہ روزبروز خراب ہوتا جا رہا تھا۔حریم کو دیکھتے ہی اس کے شریانوں میں لہو تیزی سے گردش کرنے لگتا۔اول روز سے جو اس کے دل میں حریم کے لیے نفرت کا پودا پھوٹا تھا،وہ رفتہ رفتہ تناور درخت بن گیا۔
عمر کے ماہ وسال گزرنے کے ساتھ ساتھ نفرت وعداوت کی خلیج بڑھتی جا رہی تھی۔
اسکول کی تعلیم پوری کرکے وہ کالج میں آگئے تھے۔نئے سیشن کی شروعات تھی۔نئے نئے اسٹوڈنٹ کالج میں ایڈمیشن لے رہے تھے ۔اپنے دوستوں کے ساتھ ہنستا مسکراتا ساحل بے حد مگن تھا۔اس کے دوست نئے اسٹوڈنٹ کو فول بناتے پھر رہے تھے۔کوئی کسی ڈپارٹمنٹ کے متعلق استفسار کرتا تو وہ لوگ اسے غلط راستہ بتا کر گھنٹوں ہنستے رہتے۔ابھی بھی وہ ایک لڑکے کو فول بنا کر آرہے تھے اور گھاس پر بیٹھے ہنس رہے تھے۔
تبھی خولہ ان کی جانب بڑھی۔
’’ایکسکیوز می…کیا آپ بتا سکتے ہیں یہ سر عرفان کہاں ملیں گے؟‘‘
خوبصورت مجسمہ مدھر آواز کے جلوے بکھیرتا ساحل کے عین سامنے ایستادہ تھا۔
اک پل کے لیے تو اسے سکتہ سا ہو گیا۔
تبھی آذر نے اسے کہنی ماری۔
’’کیوں نا ان محترمہ کو سر افلاطون کا پتہ بتا دیں !‘‘وہ،سر حامد کو جو بے حد چڑ چڑے تھے،ہمیشہ سر افلاطون ہی کہتے تھے۔
’’نہیں…نہیں…!یہ بے چاری کہاں بھٹکتی پھریں گی؟‘‘ساحل کو اس حسین مجسمہ پر بے ساختہ ترس آگیا۔
’’ہماری بلا سے …!‘‘آذر نے شانے اچکائے اور خولہ کو سر عرفان کے بجائے سر حامد کا پتہ بتا دیا۔
وہ ان کا شکریہ ادا کرکے وہاں سے چلی گئی۔
’’میں ابھی آیا۔‘‘ساحل چند لمحے بعد ہی اس کے پیچھے لپکا ۔
’’ہیلو…!‘‘وہ اسے روکتا ہوا بولا۔
’’جی…!‘‘وہ آہستگی سے اس کی جانب مڑی۔
’’سوری!میرے فرینڈز نے آپ کو غلط راستہ بتا دیا ہے۔سر عرفان کا ڈپارٹمنٹ اُدھر ہے۔‘‘اس نے انگلی سے دوسری سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’لیکن کیوں…!‘‘خولہ نے اپنی پُر کشش آنکھوں کو حیرت سے جھپکایا۔‘‘
’’وہ…دراصل آج ہم نے نئے اسٹوڈنٹ کو فول بنانے کا پروگرام بنایا ہے۔‘‘وہ شرمندگی سے اپنا سر کھجاتے ہوئے بولا۔
’’چلیں میں آپ کو سر عرفان کے ڈپارٹمنٹ تک پہنچا دوں۔‘‘
اس کی پیشکش پر خولہ اس کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔
سر عرفان کے کمرے کے آگے جاکر وہ رک گیا۔
’’آپ اندر جائیں ،میں باہر ہی آپ کا ویٹ کروں گا۔‘‘
’’نہیں،آپ بھی میرے ساتھ اندر چلیں ورنہ اگر آپ نے مجھے مزید فول بنایا تو پھر میں کسی سے راستہ بھی نہیں پوچھ سکوں گی۔‘‘
خولہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی۔
’’ارے خولہ بیٹی!تم آگئیں،آجائو میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔‘‘
’’ساحل !تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘خولہ کے بعد وہ اس سے مخاطب ہوئے۔
’’سر…وہ…دراصل میں انہیں یہاں پہنچانے آیا تھا۔‘‘
وہ کچھ گھبرا کر بولا اور خولہ کو ملتجی نظروں سے دیکھا کہ وہ کہیں اس کے دوستوں کا راز فاش نہ کر دے۔
’’اچھا…اچھا…آؤ تم بھی بیٹھ جائو۔خولہ بیٹی!تمہارا ایڈمیشن تو ہو گیا ہے۔اب تمہیں کوئی اور پریشانی ہو تو مجھے بتائو۔‘‘
’’بس انکل!اب تو ایک ہی پرابلم رہ گئی ہے۔میں یونیورسٹی میں نئی ہوں نا اس لیے میرا کوئی دوست نہیں۔‘‘وہ منھ بسور کر بولی تو سرعرفان قہقہہ لگا اٹھے۔
’’لو بھئی!لڑکیوں کے لیے دوستی کرنا کون سا مشکل کام ہے،وہ تو جلد ہی سب سے فری ہو جاتی ہیں۔‘‘
’’مگر میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں انکل!مجھے دوستی کرنے میں ٹائم لگتا ہے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں…!جب تک تمہاری کوئی دوست نہیں بن جاتی تب تک ساحل سے کام چلا سکتی ہو،کافی مخلص ثابت ہو سکتا ہے یہ بھی۔‘‘
’’کیوں ساحل!ٹھیک کہہ رہا ہوں میں…؟‘‘وہ اپنی بات کی تصدیق کے لیے اس سے بولے۔
’’جی سر!بالکل…!‘‘وہ پُر خلوص لہجے میں بولا۔
خولہ نے اس کی سمت دیکھا۔
اس کی روشن اور ذہین آنکھوں میں خلوص بے حد واضح تھا۔
…………………
اگلے دن جب خولہ یونیورسٹی پہنچی تو گیٹ پر ہی ساحل نے اسے خوش آمدید کہا۔
’’خولہ!آپ اس شہر میں رہتے ہوئے مجھے پہلے نظر کیوں نہیں آئیں؟‘‘
’’آپ سے کس نے کہہ دیا کہ میں اس شہر میں رہتی ہوں۔‘‘وہ مسکرا کر بولی۔
’’کیا مطلب…؟‘‘وہ حیران ہوا۔
’’مطلب یہ ساحل صاحب کہ میں کشمیر کی رہنے والی ہوں اور پڑھنے کی غرض سے یہاں آئی ہوں۔میرے ممی پاپا،بھائی اور بہن سب کشمیر میں رہتے ہیں۔‘‘ اس نے تفصیل سے اپنے متعلق معلومات اسے فراہم کیں۔
’’تو آپ یہاں کس کے پاس رہتی ہیں؟‘‘
’’فی الحال تو پاپا کے ایک دوست کے گھر قیام ہے لیکن جلد ہی میں اپنی ایک آنٹی کے گھر شفٹ ہو جائوں گی۔وہ ممی کی کزن ہیں۔کل ہی ان کا فون آیا تھا،مجھے بلا رہی تھیں مگر میں دوچار روز انکل کے گھر ٹھہر کر جاؤں گی۔‘‘ اس نے تفصیل سے آگاہ کیا۔اب آپ بھی اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔‘‘اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’میرا ایک بھائی اور ایک بہن ہے اور گھر میں پپا کے علاوہ سوتیلی مما بھی ہیں۔میری اپنی مما تو میرے بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھیں۔‘‘
ماں کے ذکر پر وہ دکھی ہوگیا۔
’’اوہ…!‘‘
’’کیا آپ کی سوتیلی مما آپ کو پیار نہیں کرتیں…!‘‘
’’پیار…!‘‘وہ تلخی سے ہنس دیا۔
’’سوتیلی ماں پیار کے مفہوم سے واقف نہیں ہوتی خولہ!‘‘
’’اور سب سوتیلی مائیں ایک جیسی بھی نہیں ہوتیں ساحل!‘‘میری آنٹی کے بھی سوتیلے بچے ہیں لیکن انہوں نے کبھی ان کو سوتیلا نہیں سمجھا۔‘‘
’’ہر عورت کا ظرف اعلیٰ نہیں ہوتا خولہ!تمہاری آنٹی کھلے دل کی مالک ہوں گی،تبھی تو وہ سوتیلے بچوں کو اپنا سمجھتی ہیں۔‘‘
اس کے گمبھیر لہجے میں اداسی گھلی ہوئی تھی۔
…………………
’’بھیا…!‘‘شمامہ نے ڈرتے ڈرتے اسے مخاطب کیا۔
’’آج آنٹی کے مہمان آ رہے ہیں آپ شام کو جلدی گھر لوٹ آئیں۔‘‘
بائک اسٹارٹ کرتے ہوئے ساحل کے ہاتھ رک گئے ،اس نے گھور کر بہن کو دیکھا۔
’’تم جانتی ہو مجھے تمہاری آنٹی سے کوئی دلچسپی نہیں تو ان کے مہمان میرے لیے کیا حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘وہ بے حد تلخ لہجے میں کہہ کر چلا گیا۔
شمامہ کا دل بھر آیا۔وہ مڑ کر برآمدے میں آئی تو حریم وہاں موجود تھی۔وہ ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو بھی سن چکی تھی۔
’’مما…!‘‘وہ بے ساختہ اس کے سینے سے لگ گئی۔
’’مما!بھیا ایسا کیوں کرتے ہیں؟‘‘
’’میں اس کی باتوں کا برا نہیں مانتی بیٹی!تو تم کیوں پریشان ہوتی ہو،مجھے یقین ہے وہ دن جلد آئے گا جب ساحل اپنے دل سے ساری نفرتوں اور کدورتوں کو مٹا کر مجھے اپنے دل میں جگہ دے گا۔‘‘
حریم کے پختہ یقین نے شمامہ کو ڈگمگا دیا۔
’’مما کو کتنا یقین ہے جبکہ مجھے یہ انتہائی ناممکن لگتا ہے۔‘‘اس نے دکھ سے سوچا۔
…………………
اس دن ساحل کافی دیر سے گھر لوٹا تھا۔
ڈرائنگ روم کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کے کانوں میں مانوس سی آواز پڑی تو وہ چونکا۔
ذرا سا پردہ سرکا کر اندر دیکھا تو خولہ کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔
’’خولہ اور یہاں…!‘‘
’’خولہ بیٹی!کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔‘‘حریم کی آواز پر وہ چونک اٹھا۔
’’خولہ …اور میرے گھر میں…؟‘‘
’’کیا حریم ہی خولہ کی آنٹی ہیں؟اس کے ،اندر بڑھتے ہوئے قدم ڈگمگا گئے۔
’’ساحل بھیا!کھانا کھا لیں۔‘‘شمامہ نے اسے اندر آتے دیکھ کر کہا۔
شمامہ کے ساتھ ہی وہ بھی بیٹھی تھی۔
’’تو میرا شک ٹھیک ہی نکلا!‘‘
اس نے غصیلی نظروں سے اسے دیکھا تو خولہ نے مسکرا کر اسے ’ہیلو‘کہا۔
مگر وہ تو اسے یکسر نظرانداز کر چکا تھا۔
’’شمامہ!میرا کھانا میرے کمرے میں بھیج دو۔‘‘وہ پیر پٹختا ہوا باہر نکل گیا۔
خولہ ساحل کا یہ روپ دیکھ کر حیران رہ گئی۔
وہ تو اس کی محبتوں کی عادی ہو چکی تھی۔اس کا یہ رویہ تو اس نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔
’’شمامہ!ساحل اتنا غصہ کیوں ہو رہے تھے؟‘‘اس نے ڈونگا اپنی جانب کھسکاتے ہوئے پوچھا۔
’’بس ایسے ہی اکثر بھیا کا موڈ خراب ہو جاتا ہے۔کوئی خاص بات نہیں۔‘‘
کھانا کھا کر خولہ ساحل کے کمرے میں آگئی۔
تیز آواز میں میوزک بج رہا تھااور وہ بیڈ پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔اس نے آگے بڑھ کر میوزک بند کر دیا۔
ساحل نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’تم…!‘‘وہ ایک جھٹکے سے سیدھا ہو گیا۔
’’تم یہاں کیا کرنے آئی ہو…؟‘‘وہ غصہ سے تیز آواز میں بولا تو خولہ حیران رہ گئی۔
’’ساحل!تمہیں کیا ہو گیا ہے؟میں تمہاری دوست ہوں خولہ!‘‘
’’دوست…!‘‘اونہہ،یہ میری غلطی تھی جو تمہیں اب تک ایک دوست سمجھتا رہا۔تم تو میری دشمن کی بھانجی نکلیں۔‘‘
’’دشمن کی بھانجی…؟‘‘وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے حیرانی سے بولی۔
’’ہاں …ہاں دشمن… وہ دشمن جو میری سوتیلی ماں ہے،جس نے میرے پپا کو مجھ سے چھین لیا ہے اور میری زندگی حرام کر رکھی ہے۔‘‘
اس کے لہجے میں گھلی نفرت نے خولہ کو چونکا دیا۔
’’تم…تم آنٹی کے متعلق ایسے خیالات رکھتے ہو ساحل؟‘‘
’’وہ آنٹی جس نے تمہارے لیے اپنی ساری زندگی داؤ پر لگا دی،ہمیشہ تمہارے آرام کا خیال رکھا۔‘‘
’’اگر وہ تمہارے پپا کو تم سے چھین لیتیں تو آج تم اس گھر میں نہ رہ رہے ہوتے…!‘‘
’’اگر تم ان سے اتنی نفرت کرتے ہوساحل تو سن لو کان کھول کر کہ میں بھی کبھی تم سے محبت نہیں کر سکتی۔‘‘
’’تم کو اپنا مخلص ساتھی سمجھا تھا یہ میری ہی بھول تھی۔‘‘
’’آج سے میرا تم سے کوئی تعلق نہیں…!‘‘
آخری الفاظ کہتے ہوئے خولہ کی آواز بھرا گئی اور آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔
اشکوں سے بھری خوبصورت آنکھیں ساحل کے دل میں ہلچل مچا گئی تھیں۔
وہ تو ایک پل میں ہی سارے تعلقات توڑ کر جا چکی تھی…!
مگر ساحل کا سارا صبروقرار چھین لے گئی تھی۔
وہ بے قراری سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔
’’کیا محبت کی ڈور اتنی ہی کچی ہوتی ہے خولہ!کہ اک ذرا سا جھٹکا لگا اور ٹوٹ گئی۔‘‘
’’محبت کا رشتہ تو بہت پائیدار ہوتا ہے…انسان ختم ہو جاتا ہے مگر اس سے وابستہ محبت جاوداں رہتی ہے…!‘‘
’’اور تم تو ایک پل میں ہی سارے رشتے ،ناطے قطع کر چلیں…!‘‘
ساحل نے دکھ سے سوچا۔
دوسرے دن خولہ یونیورسٹی پہنچی تو گیٹ پر خوش آمدید کہنے والا کوئی نہ تھا۔وہ وہیں پر املتاس کے پیڑ سے ٹک کر کھڑی ہو گئی۔
’’اسے میری پروا نہیں رہی تو میں بھی اس سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گی۔‘‘ اس نے غصے سے سوچا۔
تبھی اس کی کلاس فیلو زوبی آگئی۔
’’خولہ !یہاں کیوں کھڑی ہو …؟آؤ نا اندر چلیں۔‘‘
’’آں …ہاں چلو…!‘‘
’’ارے!یہ آج ساتھی کیسے بدل گیا خولہ…؟‘‘
اس کی کلاس فیلو عصمہ نے شوخی سے اسے اور پھر ساحل کو دیکھا ،جو آذر کے ساتھ کھڑا تھا۔
ساحل اور خولہ سدا ساتھ ہی رہتے تھے۔اس لیے آج دونوں کو الگ الگ دیکھ کر سبھی کو حیرت ہو رہی تھی۔
’’ساتھی تو سدا بدلتے رہتے ہیں عصمہ ڈیئر!بالکل دل کے موسموں کی طرح،جس میں پہلے محبت اور بعد میں شدید نفرتوں کا موسم آکر ٹھہر جاتا ہے۔‘‘
اس نے بے حد سرد لہجے میں کہا۔
ساحل سلگ اٹھا…!
’’تو اب آپ ہم سے شدید نفرت کریں گی…؟‘‘وہ عین اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا۔
’’آپ تو نفرت کے بھی قابل نہیں رہے!‘‘اس نے تلخی سے کہا اور آگے بڑھ گئی۔
’’ساحل…!یار یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘
’’پہلے محبت اور اب نفرت…!‘‘آذر حیران تھا۔
’’نفرت کیسی آذر!میں تو اب بھی اس سے محبت کرتا ہوں،شدید محبت!‘‘
’’محبت…!‘‘
ساحل کا لہجہ آذر کی سمجھ سے باہر تھا۔
…………………
’’یہ تم لوگوں نے کیا شور مچا رکھا ہے؟‘‘
وہ دریچے پر جھکا پوچھ رہا تھا۔
’’بیڈ منٹن کھیل رہے ہیں،دکھائی نہیں دے رہا…!‘‘خولہ نے ریکٹ کو گھماتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا۔
’’میں تم سے نہیں شمامہ سے پوچھ رہا ہوں۔‘‘اس نے بدتمیزی کی حد کر دی تھی۔
خولہ کوئی جواب دینے والی تھی کہ شمامہ نے اشارے سے اسے روک دیا ۔
’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ لوگوں کے درمیان محاذ ہمیشہ گرم ہی کیوں رہتا ہے،کبھی سرد کیوں نہیں پڑتا۔‘‘شمائل نے دونوں کی جھڑپ سن کر خولہ سے پوچھا۔
’’یہ بات تم اپنے بھیا سے بھی پوچھ سکتے ہو،ویسے ایک بات بتاؤں،جو لوگ خودی کے زعم میں گرفتار ہوتے ہیں وہ دوسروں کی اہمیت کو اسی طرح نظر انداز کرتے ہیں۔‘‘
…………………
ادھر آذر ان کی روز روز کی جھڑپ سے تنگ آچکا تھا۔
’’ساحل!یار میری سمجھ میں نہیں آتا،تم خولہ سے کیوں چڑنے لگے ہو،جبکہ تم اس سے شدید محبت کا دعویٰ بھی رکھتے ہو۔‘‘
’’مجھے اس سے چڑ اس لیے ہو گئی ہے آذر! کہ وہ میری سوتیلی ماں کی بھانجی ہے۔‘‘اس نے بے حد تلخی کے لہجے میں کہا۔
’’تمہاری سوتیلی ماں میں آخر ایسی کون سی برائی ہے جو تم ان سے اتنی نفرت کرتے ہو؟کیا وہ تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتیں؟‘‘
ساحل سوچ میں پڑ گیا۔
یہاں …وہاں…اسے کوئی بھی برائی حریم میں نظر نہیں آئی۔
دفعتاً اسے بچپن میں پڑھی ہوئی ایک کہانی یاد آگئی۔
بھولی بسری سی اک کہانی…!
سوتیلی ماں جو اپنی اولاد پر بہت ظلم کرتی تھی،انہیں مارتی تھی،ستاتی تھی اور ایک دن وہ ان کے پاپا کو لے کر کہیں دور ،بہت دور چلی گئی…معصوم بچے حالات کو سہنے ،دردر کی ٹھوکریں کھانے کے واسطے تنہا رہ گئے تھے…!
اور تب سے ہی اس کے معصوم ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ سوتیلی ماں بہت بری ہوتی ہے…!
اور جب اس کے اپنے گھر میں سوتیلی ماں نے قدم رکھا تو وہ کانپ اٹھا تھا۔ سوتیلی ماں اس پر ظلم ڈھانے آرہی تھی۔
اور اس نے دل ہی دل میں یہ طے کر لیا تھا کہ سوتیلی ماں کے ظلم پر وہ خاموش نہیں رہے گا۔
کہانی والے بچوں کا بدلہ وہ اپنی سوتیلی ماں سے لے گا۔
اور اس وجہ سے اس نے کبھی بھی حریم کے رویہ پر غور نہیں کیا تھا۔
وہ ہمیشہ ہی اس کو نفرت کی نگاہوں سے دیکھتا۔
طنز کے تیروں سے اسے زخمی کرتا رہتا۔
حریم اسے پیار سے مخاطب کرتی تو وہ غصے سے اسے جھڑک دیتا۔
حریم کی ہر بات کا وہ غلط مطلب اخذ کرتا۔
مگر اس کی ہر بے جا گستاخی کے جواب میں حریم مہر بہ لب رہی۔
کبھی اسے نہیں ٹوکا۔
نہ ہی حطام سے کبھی اس کی شکایت کی۔
اس کی تمام بدتمیزیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا کیونکہ اسے اپنے خدا پر بھروسہ تھا،اسے کامل یقین تھا کہ ایک دن ساحل اسے اپنی ماں تسلیم کر لے گا۔
’’تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا ساحل!‘‘آذر نے اسے خیالات کی وادی سے باہر نکالا۔
وہ چونک گیا…اب کیا جواب دے…؟
حریم میں کوئی بھی برائی اسے نظر نہیں آئی۔
اس کی بدتمیزیوں اور گستاخیوں کے باوجود حریم کا رویہ ہمیشہ مشفقانہ رہا۔وہ اس کا بے حد خیال رکھتی تھی۔ناشتہ،کھانا اسے وقت پر ملتا تھا۔
اس کی ضروریات وقت پر پوری ہوتی تھیں۔
پپا نے بھی کبھی اس سے کوئی باز پرس نہیں کی تھی۔
پھر…پھر کیا بات تھی…!
جو وہ حریم کو ابھی تک اپنی ماں تسلیم نہیں کر سکا تھا…!
اس کے پاس آذر کی بات کا کوئی جواب نہ تھا۔
شام میں خولہ اور شمامہ لان میں بیٹھی تھیں تب اچانک ہی کالی گھٹا نے آسمان کو گھیر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف جل تھل ہو گیا۔
وہ جلدی سے اندر آگئیں۔
’’خولہ آپی! پہلے کپڑے بدل لیں اگر مما نے دیکھ لیا تو ڈانٹ پڑ جائے گی۔‘‘
’’تم بدل آؤ،میرا دل تو ابھی بارش میں بھیگنے کو چاہ رہا ہے۔‘‘
وہ دوبارہ لا ن میں جانے کا ارادہ کر ہی رہی تھی کہ سامنے سے ساحل آگیا۔ شمامہ جلدی سے اپنے کمرے میں گھس گئی۔خولہ بے نیازی سے دوسری طرف دیکھنے لگی۔
ساحل نے ایک نظر اس کے بھیگے وجود پر ڈالی۔
’’حلیہ دیکھا ہے اپنا…!‘‘وہ سخت لہجے میں بولا۔
’’تم سے مطلب…؟‘‘خولہ نے ناگواری سے منھ سکوڑا۔
’’بہت شوق ہے میرے راستے میں کھڑے ہونے کا …!‘‘وہ سلگ کر بولا۔
’’اس خوش فہمی میں مت رہنا ۔جدھر سے تم گزرو میں اس راستے پر دیکھنا بھی پسند نہ کروں ۔‘‘وہ غصہ سے بولی۔
’’خولہ…!‘‘حریم جو ادھر آرہی تھیں اس کے الفاظ سن کر غصے سے تیز آواز میں بولی:’’بڑے بھائی سے بات کرنے کا تمیز نہیں۔‘‘
’’بڑا بھائی…!‘‘وہ طنز سے ہنس دی۔
’’خولہ !اگر تمہیں یہاں رہنا ہے تو تمیز سے رہو ورنہ میں تمہیں ہوسٹل میں داخل کرادوں گی۔‘‘
’’آنٹی…!‘‘خولہ نے حیرت اور دکھ سے اسے دیکھا۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟اس شخص کی خاطر جس کی نظروں میں آپ کی کوئی اہمیت نہیں!‘‘
’’یہ ہمارے نجی معاملات ہیں خولہ! اس میں تمہاری دخل اندازی کی ضرورت نہیں ،اور میں تمہیں اپنی ریاضت پر پانی نہیں پھیرنے دوں گی۔‘‘وہ غصے سے کہتی ہوئی اندر چلی گئیں۔
خولہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
ساحل نے دیکھا وہ رو رہی تھی مگر وہ کچھ کہے بغیر اپنے کمرے میں آگیا۔
…………………
اور پھر خولہ نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا۔
’’میری سمجھ میں نہیں آتا ،آپ پر اچانک جانے کا بھوت کیوں سوار ہو گیا؟‘‘شمامہ نے حیرانی سے پوچھا۔
’’مجھے ایک دن جانا ہی تھا۔‘‘وہ دھیرے سے بولی۔
’’مگر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد،اس سے پہلے تو میں آپ کو جانے نہیں دوں گی۔‘‘
شمامہ کے ساتھ ہی شمائل نے بھی اسے روکنے کی سعی کی۔
’’پلیز تم لوگ مجھے مجبور مت کرو۔‘‘وہ ان کی بحث سے بیزار ہو کر کمرے میں آگئی۔
…………………
’’دیکھ لیا نا بارش میں بھیگنے کا نتیجہ،اب بیمار پڑ گئیں۔‘‘حریم نے اسے پیار سے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
’’چلو تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلوں۔‘‘
’’نہیں آنٹی!پلیز،مجھے نہیں جانا۔‘‘
’’بے وقوفی کی بات مت کرو خولہ!بخار بڑھ جائے گا۔‘‘
’’بڑھ جانے دیں…!‘‘وہ کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔
’’پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے؟شمامہ بیٹی! تم ہی اسے سمجھائو کہ ڈاکٹر کو دکھا آئے۔میری بات نہیں مان رہی اپنی ضد پر اَڑی ہے۔‘‘حریم بہت پریشان تھیں۔
ساحل جو بظاہر کھانا کھانے میں مصروف تھا مگر اس کے کان ادھر ہی لگے تھے۔تھوڑی دیر بعد وہ خولہ کے کمرے میں تھا۔
’’خوشامد کرانے کا بہت شوق ہے۔‘‘وہ اس کے سرہانے تنا کھڑا تھا۔
خولہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
’’اب بھی کیا ضرورت تھی آنے کی…!‘‘اس نے دکھ سے سوچا۔
’’ایک ہی دن میں کتنی کمزور ہو گئی ہے یہ…!‘‘ساحل نے بغور اس کا جائزہ لیا ۔چہرہ زرد ہو رہا تھا۔آنکھوں کے گرد حلقے نمایاں تھے۔
’’سیدھی طرح اٹھ کر ڈاکٹر کے پاس چلو ورنہ اس طرح پڑے پڑے مرجاؤں گی۔‘‘
’’مرجانے دیں مجھے!‘‘وہ آنکھیں کھول کر چلائی۔
سوجی سوجی گلابی آنکھیں دکھ اور تکلیف کے باعث گیلی ہو رہی تھیں۔
’’غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔‘‘وہ مسکرایا۔
خولہ نے اپنے ہونٹ سختی سے بند کر لیے ۔کوئی غلط بات منھ سے نکل گئی تو آنٹی کو دکھ ہوگا۔
تبھی حطام اندر چلے آئے۔
’’ارے بھئی! ہماری بیٹی کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
وہ اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر محبت سے بولے۔
’’ٹھیک ہوں انکل!‘‘وہ زبردستی مسکرائی۔
’’کیا خاک ٹھیک ہو ۔‘‘انہوں نے محبت سے ڈانٹا۔
’’ساحل بیٹا!اسے ڈاکٹر رحمان کو دکھا لاؤ۔‘‘وہ ساحل سے مخاطب ہو کر بولے۔
’’جی پپا!‘‘وہ اسے دیکھ کر شرارت سے مسکرایا۔
’’انکل…!‘‘اس نے کچھ کہنا چاہا۔
’’بیٹی!بڑوں کی بات نہیں ٹالتے۔‘‘
اور وہ خاموشی سے بستر سے اٹھ گئی۔
ساحل کے ساتھ بائک پر بیٹھتے ہوئے اسے بڑا غصہ آرہا تھامگر ضبط کیے بیٹھی رہی۔
بائک رکنے پر اس نے چاروں طرف پھیلے سبزہ زار کو حیرت سے دیکھا۔
’’یہاں کون سا ڈاکٹر ہے؟‘‘وہ حیرت سے بولی۔
’’آپ کا ڈاکٹر یہیں ہے۔‘‘وہ دلکش انداز میں مسکرایا اور اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھ گیا۔
ایک گھنے درخت کی چھاؤں میں جا کر وہ رکا:’’تم یہیں ٹھہرو میں ابھی آیا۔‘‘ وہ اسے حیران وپریشان چھوڑ کر چلا گیا۔
چند منٹ بعد ہی وہ اس کے سامنے تھا۔
ہاتھوں میں پھول لیے!
خوبصورتی سے مسکراتا ہوا!
’’روٹھے دوست کو منانے کے لیے یہ بے زبان پھول بہت کام آتے ہیں۔‘‘گمبھیر لہجے میں کہی گئی بات خولہ کو غصہ دلا گئی۔
’’دوست…!‘‘وہ طنز سے ہنس دی۔
’’آپ بھول رہے ہیں مسٹر…میں آپ کے دشمن کی بھانجی ہوں۔‘‘
’’اوہ نہیں…میری پیاری ممی کی بھانجی…!‘‘وہ مسکرایا۔
’’کیا…!‘‘وہ حیرت سے چلا اٹھی۔
’’سوتیلی مما کی …!‘‘اس نے بے یقینی سے کہا۔
’’کوئی سوتیلا وتیلا نہیں ہوتا…سب رشتے ہمارے بنائے ہوئے ہیں۔‘‘
وہ اب بھی مسکرا رہا تھا۔
اور خولہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔
’’اس طرح مت دیکھو خولہ!میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔آج مجھے احساس ہوا ہے کہ میں ہمیشہ غلط سوچتا رہا۔مما تو بے حد اچھی ہیں،میں نے ان کے پیار کو ٹھکرا کر حماقت کی تھی۔مجھے علم نہیں تھا کہ میں اپنی جنت اپنے ہاتھوں سے گنوا رہا ہوں ۔‘‘
وہ سچ مچ بہت نادم لگ رہا تھا۔
’’پلیز،خولہ!تم مجھے معاف کر دو …میں نے تمہیں بھی تو دکھ دیا ہے نا ‘‘
وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا۔
اور خولہ کو تو اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی ساحل ہے…سرپھرا… اکھڑ سا…!
وہ حیرت اور بے یقینی کے عالم میں اسے تک رہی تھی…!
’’خولہ!پلیز…ساری پچھلی زیادتیاں بھول جاؤ۔‘‘وہ ملتجی لہجے میں بولا۔
’’تم مردوں کی یہی تو سب سے بری عادت ہے کہ پہلے ظلم کرتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ بھول جاؤ،معافی تو تمہیں آنٹی سے مانگنی چاہیے کیونکہ معاف کرنے کا حق صرف انہیں کا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے تو پھر چلتے ہیں۔‘‘
وہ گھر واپس آگئے۔
حریم برآمدے میں ٹہل رہی تھیں۔انہیں دیکھ کر وہ آگے بڑھیں۔
’’دکھا آئیں ڈاکٹر کو …کیا کہا اس نے…دوا کہاں ہے…؟لاؤ میں کھلا دوں!‘‘وہ ایک ہی سانس میں کئی سوال کر گئیں۔
’’دوا…آنٹی! ڈاکٹر نے دوا تو دی نہیں…!‘‘وہ گھبرا کر بولی۔
’’کیا…! کیا ایسے ہی ٹھیک ہو جاؤ گی…؟ہیں…کون سا ڈاکٹر تھا وہ!‘‘
انہوں نے حیرت سے پوچھا۔
خولہ نے مدد طلب نظروں سے ساحل کو دیکھا تو وہ جھجکتے ہوئے آگے بڑھا۔
’’مما…!‘‘اس نے دھیرے سے حریم کو مخاطب کیا۔
انہوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
حریم کو اپنی سماعت پر شبہ ہوا ۔
’’یہ ساحل مما کس کو کہہ رہا ہے…؟‘‘انہوں نے اردگرد دیکھا۔
ان کے علاوہ کوئی بھی تو نہیں تھا وہاں!
’’مما…!‘‘ساحل نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ تھام لیے۔
’’مجھے معاف کر دیں مما!میں نے ہمیشہ ہی آپ کو غلط سمجھا…آپ کو ستایا…آپ کو دکھ دیا…کیا آپ اپنے اس نالائق بیٹے کو معاف نہیں کریں گی!‘‘
وہ ان کے ہاتھ تھامے ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بول رہا تھا۔
’’آپ مجھے جو چاہیں سزا دیں مگر اب میں آپ کی ممتا بھری چھاؤں میں جینا چاہتا ہوں ۔‘‘اس نے حریم کے ہاتھوں پر اپنا سر جھکا دیا۔
اور حریم کو جو اپنے خدا پر کامل یقین تھا…!
اپنی محبت…اپنی ریاضت پر جو بھروسہ تھا،وہ آج سچ ثابت ہو گیا تھا!
جذبے صادق ہوں اور یقین کامل ہو تو ریاضت کا پھل ضرور ملتا ہے۔
اس کی بھی برسوں کی ریاضت آج پوری ہو گئی تھی۔
حریم کی آنکھیں تشکر سے لبریز ہو گئیں…!
اس نے ساحل کو گلے سے لگا لیا۔
’’مجھے یقین تھا بیٹے!تم ایک دن ضرور لوٹ کر میرے پاس آئوگے۔‘‘
اس نے ساحل کی چوڑی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے محبت سے کہا۔
’’مما میں بہت برا ہوں …!‘‘
وہ حریم کی اعلیٰ ظرفی کے آگے بہت شرمندہ تھا۔
’’تم تو میرے سب سے اچھے بیٹے ہو۔‘‘اس نے پیار سے اسے دیکھا۔
’’زیادہ تعریف نہ کریں مما…!ورنہ بھیا مغرور ہو جائیں گے۔‘‘
شمائل نے شوخی سے کہا۔
تبھی حریم کی نظر خولہ پر پڑی۔
اپنی خوشی میں وہ بھول گئی تھیں کہ اس کی طبیعت خراب ہے ۔
’’مما…!ذرا اس سے پوچھیں تو یہ کون سے ڈاکٹر کو دکھا کر آئی ہے؟‘‘
ساحل نے ایک شوخ نظر اس کے چہرے پر ڈالی تو وہ اسے گھور کر رہ گئی۔
’’مجھے پتہ ہے کہ میری بیٹی یا بہو کون سے ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔‘‘
انہوں نے محبت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’بہو…!‘‘شمائل کے منھ سے بے ساختہ نکل گیا۔
’’آپ ابھی چھوٹے ہیں برخوردار!مما میری بات کر رہی ہیں۔‘‘
ساحل نے شرارت سے کہا۔
’’سوتیلی مما…!‘‘خولہ نے منھ بنایا۔
اوہ نہیں…میری مما…میری پیاری مما…!‘‘
وہ محبت سے گنگنایا تو حریم کے دل میں ڈھیروں سکون در آیا!
…………………

