’’ تخم خوں ‘‘ اردو کے قالب میں آنے سے قبل ہندی ادب میں ’’اشیش‘‘ کے نام سے شائع ہو ا تھا بعد ازاں حذف و اضافہ کے ساتھ ’’تخم خوں‘‘ کے نام سے اردو ادب میں متعارف ہوا۔ یہ ناول اپنے منفرد لب ولہجہ ، زبان و بیان کا محل استعمال ، حاشیہ پہ کھڑے ایک سماجی طبقہ کی کشمکش ،اس کے رہن سہن اور رنج و غم دکھائے جانے کے سبب کافی مشہور ہوا۔دکھانے کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ صغیر رحمانی نے کہانی کا بیانیہ اور کرداروں کے مابین پیدا شدہ حالات کو بیان کرنے کی بجائے اپنے قلم کی جولانیوںسے پردہ سمیں پردکھا یا ہے۔ ناول نگارنے نہ کسی کردار کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیا ہے اور نہ ہی سماجی جبر کو قاری پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ حالات و واقعات کے نشیب و فراز کا فیصلہ قاری کے سپرد کر دیا ہے۔سماجی،سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی کشمکش کا صغیر رحمانی نے ’’ تخم خوں ‘‘ میں کس طرح احاطہ کیا ہے اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ناول کی کہانی کا مختصراََجائزہ لیا جائے۔
کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ عمر کے آخری پڑاو پہ امیشور دت پاٹھک کو اولاد کی خوشی نصیب ہوتی ہے۔امیشور دت کا تعلق اعلیٰ طبقے سے ہے ۔اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی ، کمی تھی تو بس ایک اولاد کی ،جو آج پوری ہو گئی تھی ۔ خوشی کے اس موقع پر گاؤں کے ہر طبقے کے لوگ شامل ہورہے تھے۔ ٹینگر رام گھر کے باہر تھالی بجا رہا ہے۔بلایتی جو ناول میں مرکزی کردار کی حیثیت رکھتی ہے وہ اس نومولود میں اپنی اولاد کی خوشی تلاش کر رہی ہے۔ بلایتی چمئین کی بیٹی ہے اور زچگی کا کام اسے ورثے میں ملا ہے۔ اس کام میں بلایتی کی ماں کی شہرت دور دراز علاقوں میں تھی ۔ماں کے ساتھ رہ کر بلایتی بھی اس کام میں ماہر ہو گئی تھی بلکہ وہ ماں سے بھی دو قدم آگے نکل گئی تھی۔ وہ اپنے تجربات کی بنیاد پر یہاں تک بتا دیا کرتی ہے کہ پیٹ میں پل رہا بچہ بیٹا ہے یا بیٹی۔ امیشور دت کے یہاں ایک اور کردار، پنڈت کانا تیواری سے ہماری ملاقات ہوتی ہے جو پوری کہانی میں متحرک رہتا ہے۔ پنڈت کانا تیواری کا شمار گاوں کے متحرک اور فعال شخصیت لوگوں میں ہوتا ہے۔ کانا تیواری جہاں ایک طرف پوجا پاٹ اور جنم پتری کا کام کرتا ہے تو دوسری جانب سیاست اور کاشتکاری میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔اس کے ساتھ ہی بدلتے ہوئے حالات پر اس کی گہری نظررہتی ہے ۔
ببھن گاوا ں کی فضا بدل رہی تھی ،اعلیٰ طبقے کی گرفت کمزور ہو رہی تھی ۔ نچلے طبقے کے لوگ آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے ۔ اس جدوجہد میں کئی جانیں بھی قربان ہوئی تھیں باوجود اس کے کچھ سادہ لوح انسان بھی اس گاوں میں سانس لے رہے تھے جنھیں ان تمام محرکات سے چنداں دلچسپی نہیں تھی۔ ٹینگر رام کا شمار بھی انھیں لوگوں میں ہے جسے نہ تو کسی محرکات سے دلچسپی تھی اور نہ ہی وہ سیاست کا شدبد رکھتا ہے ۔اس کی تو بس یہ خواہش تھی کہ وہ بلایتی کے ساتھ خوشحال زندگی گزار سکے ۔ ضروریات زندگی کے لیے تانگے چلاتااور اپنی چھوٹی سی دنیا میں سپنوں کا محل سجاتا رہتا ہے ۔بلایتی ہمیشہ اس بات سے افسردہ رہتی کہ وہ ٹینگر رام کو اولاد کی خوشی نہ دے سکی ۔محرومی اولاد سے نجات پانے کے لیے وہ اوجھا کے پاس جاتی ہے جہاں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کھیت ہی خراب ہے جس کی شدھی کسی برہمن کے توسط سے ہو سکتی ہے۔ بلایتی پنڈت کانا تیواری کے یہاں کام کرتی ہے اس لیے وہ اپنے مالک سے ہی شدھ ہونا چاہتی ہے لیکن سماجی بندھن اور اونچ نیچ کی دیواریں یہاں بھی حائل ہوتی ہیں ۔چنانچہ پنڈت کانا تیواری اپنی ذات اور سماج کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے شدھ کرنے سے منع کردیتاہے
پنڈت کانا تیواری ہوا کا رخ د یکھ کر سمت متعین کرنا بخوبی جانتا ہے۔ دھارمک کام کاج میں جس طرح اسے اولیت حاصل تھی اسی طرح سماجی اور سیاسی کاموں میں بھی سر فہرست رہنے کی خواہش تھی۔سماج کے طبقاتی نظام نے کانا تیواری کو اعلی عہدے پر فائز کر دیا تھا مگر وہ ان تمام امور کو بخوبی انجام نہیں دے سکتاتھا جو اسے ورثے میں ملا تھا۔سرکاری فرمان نے پنڈت کانا تیواری کا جیسے ہاتھ جکڑ رکھا تھا۔ وہ اب یہ توقع نہیں کر سکتا تھا کہ نیچ ذات والے اپنا راستہ تبدیل کرے ۔ اس کے سامنے کوئی چپل نہ پہنے ۔ کانا تیواری اب کسی کے کانوں میں شیشہ پگھلانے کا حق نہیں رکھتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ پنڈت کانا تیواری اپنے کام کاج سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ نچلے طبقے سے کھیتی باڑی کے ساتھ گھر کا کام کاج بھی کراتاہے اور اپنی برتری کا احساس بھی دلاتا رہتا ہے۔وہ مذہبی فرمان کے ذریعہ لوگوں کو احساس دلانے میں ہمیشہ کامیاب رہتا ہے کہ برہمن کو خدا نے حاکم بناکر بھیجا ہے اور دوسری ذات کو اس کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں ارضی حقیقت اور ثقافت کا ناول: تخم خوں – پروفیسر علی احمد فاطمی )
سرکاری فرمان کے مطابق ہڈیوں کی خریدو فروخت کے لیے سرکاری اجازت ضروری ہے۔ جس کے پاس سرکاری فرمان ہوگا علاقے کی تمام ہڈیاں اس کے پاس جمع ہوں گی جس کا مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔ منافع کی اس تجارت سے کانا تیواری دست بردار ہونا نہیں چاہتا تھا۔ ہڈیوںکا کاروبار پنڈت کانا تیواری کے شایان شان نہیں تھا اگر یہ کام اعلانیہ طورپر کرتا تو سماج میں اس کی عزت کا بٹا لگنا طے تھا ۔اس لیے کانا تیواری عقل کا گھوڑا دوڑاکر ہڈیوں کالائسنس ٹینگر رام کے نام کرادیا اورخودپردے کے پیچھے رہ کر کاروبار کا حساب کتاب رکھنے لگا ۔ جہاں ایک طرف ٹینگر رام اس بات سے خوش تھا کہ وہ اب مالک بن گیا ہے وہیں دوسری جانب کانا تیواری کو بھی اچھا خاصا منافع ہونے لگا تھا۔اسی دوران پورے علاقے میں جانور بیمار پڑنے لگے۔ یہ ایسی بیماری تھی جس کا فوری علاج ممکن نہ تھا جس کی وجہ سے جانور تیزی سے مرنے لگے ۔ ایسے حالات میں ٹینگررام کا کام چل نکلا ۔ٹینگرر ام اس بات سے خوش ہو رہا تھا کہ اس کا کاروبار دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے لیکن جب بیماری کے زد میں ٹینگر رام کا گھوڑا آیا تو وہ اس کام سے متنفر ہو گیا ۔
پنڈت کانا تیواری کو خبر ملتی ہے کہ بیماری کا ٹیکامقامی بلاک میں موجود ہے لیکن اس کی مقدار اتنی نہیں ہے کہ پورے علاقے کے جانوروں کو بچایا جا سکے۔ پنڈت کانا تیواری اپنے رسوخ اور شاطرانہ چال سے تمام ٹیکے غائب کرا دیتا ہے۔ چونکہ جانوروں کی موت سے بظاہر سب سے زیادہ فائدہ ٹینگررام کو ہو رہا تھا اس لیے پولیس شک کی بنیاد پر ٹینگررام کو جیل میں بند کر دیتی ہے۔قید و بند کا یہ معاملہ ٹینگر رام کو پوری طرح بدل کر رکھ دیتا ہے۔ رہا ئی کے بعد وہ ہمیشہ خاموش رہتا اور خلاؤں میں اپنی غلطیوں کو تلاش کرتا رہتا ۔ کچھ دنوں بعد ٹینگر رام اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ دوائیوں کی چوری پنڈت کانا تیواری کے شہ پر ہوئی تھی اور اسے دانستہ ملزم بنایا گیا تھا۔اس حادثے سے ٹینگررام پوری طرح ٹوٹ جاتا ہے ۔ جس شخص کو وہ اپنا مسیحا سمجھتا تھا وہی بربادی کی وجہ بن گیا تھا۔ سماج کے بدلتے ہوئے حالات اور پنڈت کانا تیواری کا یہ عمل ٹینگر رام کو نکسلائٹ گروہ میں شامل ہونے پر مجبور کردیتا ہے۔
ببھن گاواں دو حصوں میں منقسم تھا۔ ایک حصے میں وہ لوگ تھے جس کے پاس زمینیں تھیں۔زمین کے زیادہ تر حصے آباو اجداد کی وراثت تھی ،کچھ زمینیں ایسی بھی تھیں جو سرکار کی تھی لیکن اس پہ قبضہ بڑے طبقوں کا تھا۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جس کے پاس زمین کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا ۔ یہ لوگ سرکاری زمینوں پہ آشیانہ بنائے ہوئے تھے ۔ سرکاری اعلان کے مطابق قبضہ والی زمینوں کوان لوگوں میں تقسیم کرنا تھا جس کے پاس زمین نہیں ہے ۔سرکار کے اس اقدام سے گاؤں کا دلت سماج کافی خوش تھا ۔اس اعلان سے ایک طرف خوشیاں تھی تو دوسری جانب غم و غصہ کا اظہار ہونا لازمی تھا۔ باپ داداؤں نے جس زمین کو اپنی وراثت کا حصہ سمجھا تھا ایک سرکاری فرمان سے اس میں سیندھ لگ گئی تھی۔زمین کی کھینچا تانی میں گاؤں کی خوشحالی دھیرے دھرے معدوم ہوتی چلی گئی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں طبقوں میں کشیدگی کی چادر اس طرح پھیلی کہ ہر طرف تاریکی چھا گئی ۔ زمین کا مسئلہ اب انا کا مسئلہ بن گیا تھا۔ گاؤں کے نچلے طبقے کے لوگ زمین کی حصولیابی کے لیے پارٹی کا دامن تھام لیے تھے ۔دوسری جانب وہ تمام لوگ ایک ساتھ ہو گئے تھے جنھیں زمینیں چھن جانے کا ڈر ستا رہا تھا۔جبرواستحصال کے اس ماحول میں دونوں طرف سے جانیں بھی جاتی ہیں لیکن مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلتا ہے بلکہ کشیدگی اور بڑھ جاتی ہے۔
دشمنی کی آگ اس وقت مزید بھڑک جاتی ہے جب پنڈت کانا تیواری کا اپاہج بیٹا بلایتی کی عصمت دری کرتا ہے۔ بلایتی کی بنجر زمین میں پانی کی کچھ بوندیں تو پڑ جاتی ہیں لیکن اس اچانک حادثے کو قبول نہیں کرتی ہے۔عصمت دری کی خبرذات کے دیگر لوگوں کے کانوں میں پڑتی ہے تو انصاف کے لیے پنچایت بلائی جاتی ہے ۔پنچایت میں کانا تیواری اپنی دلیلوں سے ثابت کرتا ہے کہ اس کا بیٹا بے گناہ ہے اور بلایتی محض بدنام کرنے کے لیے الزام تراشی کر رہی ہے۔ پنچایت کا فیصلہ کاناتیواری کے حق میں جاتاہے۔ بلایتی اور اس کے حمایتی اس فیصلہ سے باغی ہو جاتے ہیں ۔اس طرح رشتوں میں کشیدگی کی گانٹھیں اور مضبوط ہوتی چلی جاتی ہیں۔
اسی دوران مکھیا کے انتخاب کی تاریخ کا اعلان ہوتا ہے۔ پنڈت کانا تیواری اس تاریخ کا پہلے سے منتظر تھا۔اب وہ سیاسی بساط بچھانے میں مصروف ہو گیا تھا۔ دوسری جانب پارٹی نے بھی انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا۔ پارٹی ان تمام کشیدگیوں سے فائدہ اٹھا یا اور یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئی کہ حق کے لیے سیاسی طور پر مضبوط ہونا لازمی ہے۔ متفقہ طور پر بلایتی کی امیدواری مان لی جاتی ہے۔ انتخابی گہماگہمی میں بلایتی کا بلاتکار اور نا انصافی اہم موضوع بنتا ہے۔ پنڈت کاناتیواری مختلف داؤ چل کر انتخاب جیت لیتا ہے۔ نتائج کے بعد کانا تیواری کے پاس سرکاری تحفظات اور بہت ساری طاقتیں میسر ہو گئی تھیں مگر دل میں ایک کسک باقی تھی کہ اس کا تخم بلایتی کی بنجر زمین میں پھل پھول رہا ہے۔ کانا تیواری اس بیج کے خاتمے کے لیے حتی الامکان کوشش کرتا ہے مگر وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہتا ہے ۔ گاؤں کے رشتوں میں کشیدگی پہلے ہی پھیل چکی تھی ۔ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے۔ پنڈت کانا تیواری ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے ۔ وہ رات کی خاموشی میں بلایتی کے خاتمے کا عملی جامہ پہناتا ہے لیکن و ہ اس مہم میں کامیاب نہیں ہوپاتا ہے۔ کچھ دنوں بعدایک رات قتل و غارت کالامتناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں بچے بوڑھے اور عورتوں کوموت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں۔ اسی خونی رات میں پنڈت کانا تیواری دوبارہ بلایتی پر حملہ کرتا ہے لیکن ٹینگررام اپنے سوجھ بوجھ اور ہمت سے اسے بچالیتا ہے۔ صبح ہوتی ہے تو کئی زندگیاں زمیں بوس ہو چکی ہوتی ہیں۔ لیکن اسی صبح میں بلایتی کے یہاں ایک نئی داستان لکھ دی جاتی ہے۔ بلایتی کی کوکھ سے خوبصورت سا بیٹا جنم لیتا ہے جسے دیکھ کر ٹینگررام گانا بجانا شروع کرتا ہے۔ ٹینگررام کی خوشیوں بھری زندگی کے آغاز پر ناول کا اختتام ہوتا ہے۔
اردو ادب میں دلت اور نچلے طبقے کی نمائندگی کی ہے لیکن اس کی مقدار آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ فکشن نے حاشیہ پہ کھڑے لوگوں کی نمائندگی تو کی ہے لیکن باضابطہ طور پر اسے موضوع بحث نہیں بنایا ہے۔ دلت سماج کی کشمکش افسانوں میں نظر آتی ہے لیکن اردو کے ناولوں میں کمی کا احساس ہوتا ہے ۔صغیر رحمانی نے اس احساس کو کم کرنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی ہے۔ سماج کے کسی ایک طبقے کے سیاسی، سماجی معاشرتی اور ثقافتی پہلووٗں کو دکھانے کے لیے تخیل کی اڑان پر تکیہ نہیں کر سکتے بلکہ واقعات و کردار کے ساتھ جینا پڑتا ہے حقیقت سے قریب رہ کر واقعات کو تجربات و مشاہدات کی بھٹی میں تپانا پڑتا ہے ۔ بعد ازاں ’’ تخم خوں ‘‘ جیسا ناول منظر عام پرآتا ہے ۔ صغیر رحمانی نے دلت سماج کے درد کونہ صرف محسوس کیا ہے بلکہ اس کے اندرون میں جھانک کر کرداروں کی نفسیات کا بغور مطالعہ بھی کیا ہے۔ ناول میں بیان کردہ واقعات، اور ان واقعات میں جی رہے کردار جدید سماج کا آئینہ ہیں۔منووادی نظریات کے حامل سائنس اور ٹکنالوجی کے اس عہد میں بھی وہی نظام لانے کے درپے ہیں جو صدیوں پہلے بنائے گئے تھے۔ اس لیے ناول تخم خوں کو منووادی نظام اور دلت سماج کے کشمکش کی تاریخ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ناول میں جہاں ایک طرف منووادی نظریات پر روشنی پڑتی ہے وہیں دلت سماج کے پیچ و خم بھی دکھائی دیتے ہیں ۔ناول میں جہاں ایک طرف سرکاری تحفظات ہیں وہیں دوسری جانب بی ڈی او صاحب بھی ہیں جو اپنے وقار کو مجروح کرتے ہوئے استحصالی گروہ کا حصہ بنتے ہیں۔ اس میں پنڈت کانا تیواری جیسا زیرک، دوراندیش ،مذہبی رہنما اور سیاست گر ہے ،وقت اور حالات کے مطابق فیصلہ لینے والی بلایتی بھی ہے۔اس کے ساتھ ہی بدلتے ہوئے حالات سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہوا نکسلی موومنٹ بھی ہے۔
ناول کے آغاز و اختتام میں امید کی کرن نظر آتی ہے۔ناول کا آغاز ٹینگر رام کے تھالی بجاکر خوشیوں کا اظہار کرنے سے ہوتا ہے اور اس کا خاتمہ بھی ٹینگر رام کے تھالی بجاکر مسرت و شادمانی کے نغمے سے ہوتا ہے۔ سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے اس سفر میں خون کی ہولی کھیلی گئی باوجود اس کے صغیر رحمانی پر امید نظر آتے ہیں۔ وہ آنے والے کل سے پر امید ہیں۔ ناول کا اختتام خوشی و مسرت پر کرنا ناول نگار کی فنی مہارت کا ثبوت ہے۔ وہ چاہتے تو دلت سماج کے قتل و غارت پربھی کہانی کے اختتام کا اعلان کر سکتے تھے ۔ مگر ایسا کرنا ایک عبرتناک مرحلہ ہوتااور اسے ایک سماج کی شکست تسلیم کی جاتی ۔
’’ ٹینگر رام پیتل کی تھالی بجا رہا تھا۔
تھالی کے شور سے پورے ببھن گاواں گاؤں کو علم ہو گیا کے امیشوردت پاٹھک کے گھر میں دیوتا کا جنم ہوا ہے۔ ‘ا۔۔۔۔‘
ٹینگر رام پیتل کی تھالی بجا رہا تھا اور اس کی آواز ببھن گاواں کے کانوں تک پہنچ رہی تھی ۔ چھن۔۔چھن۔۔چھنا چھن۔۔چھن ۔۔ چھن۔۔۔چھنا چھن ‘‘
ناول کایہ اختتام نئی زندگی کا آغاز ہے۔خون سے لت پت سرخ راتوں سے سرخ و سفید جیسے بچے کا جنم گویا ایک نئی تاریخ کا جنم ہے۔ناول نگار نے جس نکتہ پہ اپنی بات مکمل کی ہے اسی نکتہ کے بین السطور میں ایک نئی دنیا آباد ہے۔ جہاں ناول ختم ہوتا ہے وہاں سے ایک نئی داستان کی شروعات ہوتی ہے۔ یہ داستان اپنے اندر کتنی کہانیاں سمیٹے گی یہ قاری کے فہم و فراست پر چھوڑ دیا ہے۔
ناول کا امیجری بیانیہ اسے دوسرے ناولوں سے منفرد کرتا ہے۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ صغیر رحمانی نے واقعات کو بیان کرنے کی بجائے اسے دکھایا ہے۔ ناول کے آغاز سے انجام تک ایک کیمرہ مین کی طرح تمام واقعات کو پیش کرتے چلے جاتے ہیں ۔ کہانی کے اختتام کے ساتھ ہی ہمارے ذہن میں ببھن گاواں کی پوری تصویر عکس ہو جاتی ہے اور قاری کوحالات و واقعات کے نشیب و فراز سے واقف ہونے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ہے ۔عکس ہوتی ان تصویروں میں منووادی نظام کو مکمل طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ناول کا یہ امیجری بیانیہ قاری کے حواس خمسہ کو بھی متحرک کرتا ہے۔ ان تصویروں کے ذریعہ ببھن گاواں کے حالات و واقعات پر ہماری پوری نظر رہتی ہے۔ اس کے رسم و رواج کو ہم دیکھ سکتے ہیں۔اس کے دکھ ، درد اور تکلیفوں کو محسوس کر سکتے ہیں۔ امیشور دت پاٹھک کے زچہ خانے کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ وہ گھر ہمارے آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ۔
’’ زچہ خانے کے دروازے پر لکڑیا ںجل رہی تھیں۔پاٹھک جی دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ سامنے مالکن لیٹی ہوئی تھیں۔ان کے بغل میں پرانی ساڑھی کے تہہ کیے پھلیا میں لپٹا ہوا ہاڑمانس کا ایک زندہ ٹکڑا کلبلا رہا تھا۔ پاٹھک جی نے بھیگی آنکھوں سے پہلے مالکن کو دیکھا اور ہاتھوں کو ذرا اوپر اٹھاکر کچھ کہنے کی کوشش کی، گویا پوچھ رہے ہوں ، تم ٹھیک ہو نانرملا؟ ۔‘‘
ناول کی کامیابی اورناکامی میں کرداروں کا اہم حصہ رہتا ہے۔ واقعات کا محور کردار ہوتاہے۔ کردار کے حرکات و سکنات واقعات کو آگے بڑھانے میں مدد کرتی ہیں۔سماجی تبدیلیوں کے دوران گردش ایام سے گھبراکر کنارہ کشی اختیار کر نے کی بجائے حالات کے مطابق خود کو تبدیل کرنا مضبوط کردار کی علامت ہے۔ ’’ تخم خوں ‘‘ کے اہم کرداروں میں بلایتی، پنڈت کانا تیواری اور ٹینگر رام ہیں۔اس کے علاوہ امیشور دت پاٹھک، من جی بابا، بسگتیا، رم رجوا، مانجھی، رام کشن ، اگھورن، جھنگرو، بھیکنا اور جمنا رام جیسے ضمنی کردار بھی شامل ہیں جن کے اعمال و افعال سے کہانی کا تانا بانا بنا گیاہے ۔
تخم خوں کی پوری کہانیمیںدو کردار سب سے اہم نظر آتے ہیں۔ دلت سماجی کی نمائندگی بلایتی کرتی ہے جب کہ بورژوا طبقے کی نمائندگی پنڈت کانا تیواری کرتا ہے۔ ناول میں بلایتی کی موجودگی کا احساس ہر جگہ ہوتا ہے ۔ بدلتے ہوئے حالات کے ہر موڑ پر بلایتی سے ہماری ملاقات ہوتی ہے۔ پوری کہانی کی بساط اسی کے ارد گرد بچھائی گئی ہے ، باوجود اس کے بلایتی کے کردار کو مضبوط کردار نہیں کہہ سکتے ہیں۔ بلایتی کے اندر وہ جذبہ موجود ہے جو منووادی نظام سے ٹکر لے سکتی ہے لیکن مستحکم طریقے سے کھڑے رہنے کا حوصلہ دکھائی نہیں دیتا۔ ناول نگار نے بلایتی کی شکل میں ایک اہم کردار تو خلق کیا لیکن اس کے اندر ہمت و استقلال کی قوت ڈالنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ بلایتی کے حوصلوں اور اس کے عملی کارناموں میں تضاد کا عنصر غالب ہے۔ یہی تضاد اس کی شخصیت پرکئی سوال کھڑے کرتے ہیں۔ بلایتی کے کردار کو سمجھنے کے لیے کچھ نکات پرغور کرنا ضروری ہے۔ بلایتی کی شادی ٹینگر رام سے ہوتی ہے ۔اولاد کی خواہش بلایتی کو پنڈت کانا تیواری کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور کرتی ہے۔بلایتی خود کو شدھ کرانے کے لیے رات کی تنہائی میں پنڈت کانا تیواری کے یہاں تین مرتبہ جاتی ہے لیکن ہر بار پنڈت کانا تیواری اسے مایوس بھیجتا ہے۔ تینوں مرتبہ بلایتی کی آرزو پوری نہیں ہو تی ہے۔کچھ عرصے کے بعد پنڈت کانا تیواری کا بیٹا منجی جو جسمانی طور پر معذور ہے ،بلایتی کو اپنے ہوس کا شکار بنا تاہے۔ اس حادثے کی خبر جب دلت سماج کے دوسرے لوگو ںتک پہنچتی ہے تو انصاف کے لیے پنچایت بلائی جاتی ہے ۔ پنچایت کا فیصلہ پنڈت کانا تیواری کے حق میں جاتا ہے۔ بلایتی کو انصاف نہ ملنے کی وجہ سے دونوں طبقوں میں کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بلایتی نے ایسا قدم کیوں اٹھایا۔ من جی کی اس حرکت سے بلایتی کی دیرینہ خواہش پوری ہو رہی تھی،اس کا کھیت شدھ ہو گیا تھا۔ ممکن ہے اس کا جوازبلایتی کی رضامندی پر منحصر ہو ۔ تو پھر سوال یہ ہوتا ہے کہ بلایتی نے اس وقت مزاحمت کیوں نہیں کی جب من جی بابا جبر سے کام لے رہے تھے، ایک نظر اس منظر کی طرف کرتے ہیں۔
’’ اور بلایتی ، اس کے اندر کی قوت کو نہ جانے کیا ہو گیا ۔ ذہن میں خلا بھر گیا اور اس میں سائیں سائیں ہوا چلنے لگی۔ہاتھ پیر گویا مفلوج ہو گئے۔
اس منظر کا آخر جملہ غور طلب ہے۔
’’ اس میں سیرابی کا احساس تھا ۔ مکمل ہونے کا اشارہ تھا ۔ آخری دن ہی سہی ، سیواتی برسا جو تھا‘‘
سماج کا تعلق خواہ کسی بھی طبقے سے ہو ایک بات سبھی میں مشترک ہے کہ اس سماج کی بہو بیٹیاں اس کی شان ہوتی ہیں۔ عورتوں کا بیش قیمتی سرمایہ ان کی آبروہوتی ہے۔ خواہ وہ کسی ذات دھرم یا طبقے سے تعلق رکھتی ہوں۔ ایسے میں جب ایک عورت کی عزت تار تار ہو رہی ہے اور وہ پوری قوت سے احتجاج نہ کرے یہ بات غیر فطری معلوم ہوتی ہے۔ممکن ہے اس اچانک حملے سے بلایتی حواس باختہ ہوگئی ہولیکن جب سرجو اور مہنگو ں اس کے قریب آئے تو اسے تمام واقعات سے باخبر کرنا چاہیے تھا ۔ اس کے بعد راوی کا یہ کہنا کہ وہ آج مکمل ہو گئی تھی اسے سیرابی کا احساس ہو رہا تھا۔ اس کا یہی مطلب نکلتاہے کہ بلایتی اس عمل سے خوش تھی۔ پھر یہ ہنگامہ کیوں برپا کیاگیا ۔؟ محض اس لیے کہ آگے چل کر سیاست کی بساط بچھائی جائے گی۔ ؟
دوسرا اہم کردار پنڈت کانا تیواری کاہے۔ یہ وہ کردار ہے جس کی وجہ سے پوری کہانی آگے بڑھتی ہے۔ پنڈت کانا تیواری ایک مضبوط اور تغیر پذیر کردار کے طور پر پوری کہانی میں متحرک ہے۔ پنڈت کانا تیواری اپنی شاخ بچانے کے لیے ہر عمل سے گزرنے کے لیے تیار ہے۔وہ مذہبی امور کے معاملے میں خالص برہمن ہے۔ کاروبار کے میدان میں ایک تجربہ کار کاروباری ہے۔ جب سیاست کے اکھاڑے میں قدم رکھتا ہے تو منجھا ہوا سیاستداں بھی دکھائی دیتا ہے۔
تیسرا کردار ٹینگررام کاہے۔جو نہایت ہی کمزور کردار ہے۔ ٹینگر رام پوری کہانی میں موجود تورہتا ہے لیکن اس کی موجودگی کا اثر کہانی کے پلاٹ پر نظر نہیں آتا ہے۔ ٹینگر رام بلایتی کا شوہرہونے کے ساتھ ساتھ دلت سماج کے لوگوں میں احترام کے ساتھ جینے والا شخص ہے۔لیکن اس میں وہ جذبہ و جنون مفقود ہے جو ایک سماج کو نئی منزل کی طرف جوش و جذبہ کے ساتھ گامزن کرسکے۔ٹینگر رام کے اندر نہ تو احتجاج کی قوت نظر آتی ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز کو اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں پرکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ غلاموں کی مانند ہر بات میں سر تسلیم خم کرتا ہے۔
ناول کے آغاز میں قاری کی ملاقات امیشور دت پاٹھک سے ہوتی ہے۔ امیشور دت پاٹھک کا تعلق زمیندار گھرانے سے ہے مدتوں بعد اولاد کی کمی پوری ہو ئی تھی۔ناول میں امیشور دت کی خوشیوں کا بیان اور وہاں ہونے والے مختلف تقریبات کا تفصیلی جائزہ لیاگیا ہے ۔ لیکن کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے امیشوردت پاٹھک کہانی سے غائب ہو جاتا ہے۔ کہانی میں کئی اہم موڑ آتے ہیں سماج دو حصوں میں منقسم ہوجاتا ہے ،دونوں میںتکرار ہوتی ہے، اس تکرار میں جانیں بھی جاتی ہیں۔مگراس دوران امیشوردت پاٹھک کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ اگر یہ کردار اتنا اہم نہیں تھا تو اس کے بیان میں کئی صفحات کیوں سیاہ کیے گئے ؟۔ گاؤں کے پر وقار شخص جس کے یہاں مبارک باد د کے لیے تانتے لگ رہے ہوں اور وہ سماج کی تبدیلیوں میں کوئی کردار ادا نہ کرے ، یہ بات حقیقت سے کوسوں دور ہے ۔
’’ تخم خوں ‘‘ سماج کو مختلف طریقے سے دیکھنے کی تحریک پیدا کرتا ہے۔ ناول کو کسی ایک نکتہ پر موقوف کرنا اس کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ تخم خوں جہاں ایک طرف بورژوا اور پرولتاری طبقے کے مابین سماجی ،سیاسی اور معاشی کشمکش سے روبرو کراتا ہے،وہیں دوسری جانب منووادی نظریات و اعمال سے ہونے والی تبدیلوں سے بھی روشناس کراتا ہے۔ظلم و جبر کی اس داستان میں نکسلی موومنٹ کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ ظلم جب انتہا کو پہنچتا ہے اور مظلوم کے سامنے نجات کا راستہ دکھائی نہیں دیتا ہے تو ،وہ یا تو خود کو اس سماج سے جدا کر لیتا ہے یااپنے حق کے لیے آوازیں بلند کرتا ہے۔ظالم و مظلوم کی داستان کی ایک کہانی نکسلی موومنٹ ہے۔ یہ دیہی علاقوں میں اپنے جارحانہ رویوں کو مظلوم سماج کا نجات دہندہ قرار دیتا ہے۔ظالم قوتوں سے لڑنا اور سماج میں برابری کے حقوق کے لیے کوشاں رہنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس میں شدت پسندی کے عناصربھی شامل ہوتے چلے گئے۔جس وجہ سے اس موومنٹ کو باغی قرار دیا گیا۔ صغیر رحمانی نے اس کے اسباب و علل کو بخوبی پیش کیا ہے۔ انھوں نے ان حالات کی طرف نشاندی کی ہے جس کی وجہ سے سماج کا ایک طبقہ باغی ہونے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ صغیر رحمانی نے کرداروں کے نہ صرف باغیانہ تیور دکھایا ہے بلکہ اس سے پیدا شدہ حالات اور مسائل کا بھی تجزیہ پیش کیا ہے۔ ناول میں ان تمام مسائل و واقعات کی طرف روشنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے ایک شخص باغی ہونے پر مجبور ہوتاہے اور جب وہ باغی ہوتا ہے تو اس کے سامنے کتنے مسائل کھڑے ہوتے ہیں ،وہ اپنے ہی سماج سے کس طرح الگ ہوجاتا ہے ،ان تمام نکتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ باوجود اس کے صغیر رحمانی کی وہ باریک بینی یہاں دکھائی نہیں دیتی ہے جو پورے سماج کی عکاسی میں دکھائی دیتی ہے۔آیئے ! اس واقعہ پر غور کرتے ہیں جب سرکار کی طرف سے زمینیں دی جاتی ہیں اور دلت سماج مالکانہ حق کے لیے جدو جہد کر تے ہیں۔ دلت سماج کے پاس پارٹی کی طاقت مل چکی تھی اس لیے وہ اپنی زمینوں پر لال جھنڈہ لگا دیتا ہے ۔ کھیتوں کی فصلیں کاٹے جانے کی خبر جب دوسرے طبقے تک پہنچتی ہے تو احتجاج میں گولیاں چلتی ہیں جس میں رام کشن اور جھگرو کی موت ہو جاتی ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو۔
’’ جنک موار کا چھوٹالڑکا بھاگتا ہانپتا پہنچا۔
آپ لوگ یہاں بیٹھ کر موج کیجیے۔۔۔ اور ادھر وہ سب کھیت میں جھنڈا گاڑ دیا ہے۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے ناچ کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا ۔ ایودھیا رائے ، جنک مووار، لال موہن رائے ، سب کے سب دوڑے کھیتوں کی طرف۔ جنک مووار کے بیٹوں نے رائفل سنبھالی ۔ دوسرے لوگ بھی اپنے اپنے گھروں سے ہتھیار نکال لائے۔ ٹارچ کی روشنی چک مک، چک مک کرنے لگی۔ دورسے ہی نظر آیا، کھیتوں میں لال جھنڈے گڑے ہوئے تھے ۔جنک مووار کے کھیت میں لوکی کی لتر نوچ کر تہس نہس کردی گئی تھی۔ کھیتوں میں کئی مبہم سائے رینگ رہے تھے۔ جنک مووار کے بیٹوں نے دیکھا ، ان کے کھیت میں کچھ سائے بانس بلوں کے گاڑنے میں مصروف تھے جیسے ان پر جنون سوار ہو۔ جنون ان کے سر پر بھی سوار ہو چکا تھا ۔ انھوں نے رائفل کی نال سیدھی کی اور فائر کر دیا۔ ایک فائر ہوا تو دوسرے لوگوں نے بھی تڑاتڑ فائر کرنا شروع کر دیا۔ گہرا سکوت اچانک گولیوں کی آواز سے درہم برہم ہو گیا ۔ کچھ پل افراتفری مچی رہی پھر سب کچھ شانت ہو گیا۔ اتنا شانت ہو گیا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔صبح جنک مووار کے کھیت میں رام کشن کی اور ایودھیا رائے کے کھیت میں جھگرو کی لاش پڑی تھی۔‘‘
ناول کا یہ بیانیہ غیر فطری اور حقیقت سے دور ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ناول نگار کے دماغ میں پلاٹ کا اختتامیہ پہلے سے موجود ہے اور اختتامیہ کے زیر اثر ہی واقعہ کو سنسنی خیز بنا یا جا رہا ہے۔ آیئے واقعات کے چند نکات پر غور کرتے ہیں ۔ بیان کردہ واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ پارٹی کے کارکنا ن بغیر ہتھیار کے تھے ۔ ٹارچ کی روشنی میں لال جھنڈا دکھائی دینے لگا تھا پھر بھی پارٹی والے فصل کاٹنے میں مگن تھے ۔ کھیتوں میں جانے سے پہلے خطرات کاانھیں کوئی اندازہ نہیں تھا شاید اسی وجہ سے اتنا بے خبر تھے کے بغیر حفاظتی انتظام کے قبضہ کرنے نکل گئے۔
حقیقت تویہ ہے کہ راتوں میں پارٹی کے کارکنان بغیر اسلحہ کے نہیں چلتے ہیں۔متنازعہ مسائل پہ بے حد چاک چوبند رہنا ان کی فطرت ہے۔اس لیے بغیر کسی اسلحہ کے متنازعہ زمین پر قبضے کے لیے جانا غیر فطری عمل ہے۔ ٹارچ کی روشنی میں جھنڈے کا دکھائی دینا اس بات کی علامت ہے کہ گاؤں کے لوگ کافی قریب آگئے تھے ۔ایسے میں اگر گولیاں دونوں طرف سے چلتی تو لا شیں دونوں طرف سے گرنی چاہیے تھی لیکن یہاں ماحول کی کشیدگی کو ہوا دینا تھا اس لیے لاشیں صرف دلت سماج کی گری۔ ناول کا خاتمہ بھی فلمی انداز میں ہوتا ہے ۔ پوری رات قتل و غارت ہوتی ہے اور اس کی خبر پارٹی ممبر تک نہ پہنچے یہ ممکن ہی نہیں۔ نکسلی حملہ کوئی بچوں کا حملہ نہیں ہوتا ہے کہ دوچار گولیاں چلی خوشیاں منائیں اور اپنے اپنے گھر چلے گئے بلکہ وہ حملہ کرنے سے پہلے مخبروں کو تعنیات کر دیتے ہیں تاکہ خطرات کا اندازہ قبل از وقت ہو جائے ۔
ناول میں یہ چند نکات ہیں جس پر ناول نگارگہرائی و گیرائی سے کام لیتے تو سماج کا دوسرا پہلو بھی بہتر طریقے سے سامنے آتا ۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ناول اپنے موضوع اور ٹرٹمنٹ کے لحاظ بے حد کامیاب ہے ۔
محمد اعظم ایوبی
کے ایس ایس کالج لکھی سرائے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
Mashaallah