کسی بھی عمدہ اور معیاری ناول کا مطالعہ اپنے قاری کو لطف وانبساط اور حیرت وتجسس سے گزارتے ہوئے ایک نئی سوچ، نئی شخصیت، نئی زندگی اور ایک نئی دنیا کی تعمیر پر آمادہ کرتاہے۔ کہنے کی اجازت دیجیے کہ جولوگ ناول نہیں پڑھتے ہیںوہ انسان، اس کے جذبات واحسات، اس کی نفسیات اور اس کے روحانی تقاضوں کواچھی طرح نہیں سمجھ سکتے۔ نٹشے جیسے فلسفی نے کہا ہے کہ ’انسانی نفسیات کے بارے میں جو کچھ بھی مجھے سیکھنا تھا، وہ مجھے دستوئفسکی سے حاصل ہوا۔‘
ناول نگار کسی بھی فرد، سماج، فرقے، خطے، ملک یا عہد میں ہونے والی اتھل پتھل، وہاں کے حالات وواقعات اوران کی کمزوریوںاور اچھائیوں کوFictionکے فارم میں اُس ایمانداری اور سچائی کے ساتھ بیان کرتا ہے، جس کی ہمتFactکی فارم میں لکھنے والا تاریخ داں سچائی کے تمام تردعووں کے باوجود نبھانے سے بالعموم قاصر رہتاہے۔ کسی بھی زبان کا معیاری اور معقول ناول اپنے سماجی، سیاسی اور تہذیبی زندگی کی تاریخ بھی ہوتا ہے اور اپنے عہدکا ترجمان بھی۔ جیسے چارلس ڈکنس کا ’اے ٹیل آف ٹو سٹیز‘ اور’ڈیو ڈکاپر فیلڈ‘، گورکی کا ناول ’ماں‘ ، ڈپٹی نذیر احمد کا ’ابن الوقت‘ ، مرزا محمد ہادی رسوا کا ’امرائو جان ادا‘، قرۃ العین حیدر کا ’آگ کا دریا‘ اور آخر شب کے ہم سفر‘وشواس پاٹل کا ’جھاڑاجھڑی‘، الیاس احمد گدی کا ’فائر ایریا‘ ، کملیشور کا ’کتنے پاکستان‘یا شمس الرحمان فاروقی کا ’کتنے چاند تھے سرِ آسماں ‘ وغیرہ۔ اور یقین جانیے کہ جتنی چیزیں جس سہل طریقے سے ناول سے حاصل کی جاسکتی ہیں اتنی چیزیں اس آسانی سے کہیںاور یاکسی اکیلے سبجیکٹ سے ممکن نہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ٹولسٹوئے کا ’جنگ اور امن‘(War and Peace)نپولین کے بارے میں ، جنگ کے طریقوں کے بارے میں،تاریخ کے تصور پر اور خود روس کی سماجی زندگی سے متعلق لکھی ہوئی کتابوں کی ایک پوری الماری پر بھاری ہے۔لیکن ناول کے قاری کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشیں رکھنی چاہیے کہ ناول کے بیانیے اور اس کے متن پر مکمل ایقان کے باوجود ناول نگار پر اعتبار لازم نہیں۔
ناول نگارکو غیر مستندیا ناول کے متن سے اسے بری الذمہ اس لیے سمجھنا چاہیے کہ ناول کا بیانیہ اور اس کا پورا بیان ناول نگار کا ’اپنا‘ نہیں بلکہ اس’ راوی‘ کا ہوتا ہے جسے ناول نگار، ناول لکھنے سے پہلے یا اس کے ساتھ ہی خلق توکرتاہے لیکن اسے اپنامطیع یا فرمانبردار بنانے سے قاصر ہوتاہے۔ شاید اسی لیے کارل مارکس نے بالزاک کے بارے میں کہا تھا کہ ’’اس کے شاہ پرستانہ اعلانات کو بھول جائیے اور اس کے ناولوں میں سرمائے کی تباہ کاریوں کا معائنہ کیجیے۔‘‘
ناول کامتن زندگی کا وہ آئینہ ہوتاہے جس میںانفرادی اور اجتماعی نفسیات اور سماجی اور سیاسی صورت حال کے ساتھ ساتھ کسی بھی ملک، عہد اورمعاشرے کی صحیح اور سچی تصویریںبھی نظر آتی ہیں، ان کے بدلتے ہوئے مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں اور مختلف تحریکات و رجحانات اور بعض تصورات ونظریات کے نقوش بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ اردو ناول بھی ہندوستان اور ہندوستان سے باہر رونما ہونے والی سیاسی، سماجی، تہذیبی اور ثقافتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے رجحانات کی نمائندگی کرتا آرہا ہے۔ تکنیکی سطح پر نئے نئے تجربات اورطرح طرح کے موضوعات کا بیان اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو ناول نگار بھی بدلتے ہوئے حالات اور انسانی نفسیات سے کسی فلسفی، مفکر اوردانشور کی طرح ہی با خبررہا ہے۔
بیسویں صدی کے اردو ناول میں رومانیت، حقیقت نگاری، ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے رجحانات اپنے اپنے عہد میں غالب تھے۔ جن کے تحت زندگی سے فرار، موت سے پیار،حقیقت کا اکہرا بیان،سامراج دشمنی ، وطن دوستی، وجودیت، لا یعنیت، قدروں کا زوال، احساس شکست اور بیگانگی کااظہار ناول کے موضوعات تھے۔لیکن اکیسویں صدی کا اردو ناول اس لحاظ سے بالکل الگ ہے کہ آج کے ناول میں سماجی ڈسکورس اور زندگی سے جڑے ہوئے مسائل کو بیان کرنے میں سب سے بڑا فرق یہ آیا ہے کہ آج کا ناول بالکل آزاد ہے۔ آزاداس طرح کہ یہ ناقدوں کے بنائے ہوئے فارمولوں، قاری کے مطالبوں،مذہبی ٹھیکے داروں کے خوف اور کسی بھی آئیڈیالوجی کی پابندی کیے بغیر فطری پن کے ساتھ اپنا اظہار کررہا ہے۔ سو، ہم کہہ سکتے ہیں کہ مابعد جدیدیت، نسائی حسیت، حقیقت کا ہمہ جہت بیان، دلت کے مسائل، قومی اور عالمی سیاستدانوں کی چالبازیوں کا انکشاف، تدریس ومدرسین کی گراوٹ اور رشتوں کی حرمت کا بدلتا تصور اس صدی کے ناول کے اہم موضوعات ہیں۔
اگر چہ گفتگو کا حوالہ اکیسوی صدی کی ناول نگاری ہے، لیکن ان تیرہ برسوں میں لکھے گئے ناول در اصل پچھلے بیس برسوں میں تیزی سے بدلتے عالمی منظرنامے کا نتیجہ ہیں۔ جس میں ایک طرف ترقی یافتہ ملکوں کا ترقی پذیر ملکوں پراجارہ داری کا رجحا ن بڑھا ہے۔ عالمی دہشت گردی کے نام پر کئی ملکوں کو غیر ضروری جنگوں کا حصہ بنایاگیا، معاشی فائدے کے لیے لاکھوں بے گناہوں کا خون بہایا گیا اور دنیا کے دوبلاکوں میں جاری رہنے والی جنگ کو ایک بلاک کے خاتمے کے بعد اسے دو تہذیبوں کی جنگ میں تبدیل کردیا گیا ، جس کے عمل اور رد عمل کے نتیجے میں تہذیبی آئڈینٹٹی پر اصراربڑھااورعوامی اور حکومتی سطح پر ایک نئی طرح کی انتہا پسندی کاآغاز ہوا۔ دوسری طرف ہندوستان میں علاقائی اورملکی سطح پر سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے گنگا جنمی تہذیب کو جس طرح ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں،ذات پات کے نام پر ووٹ بنک بنائے گئے ،دھرم کے نام پرنفرت اور دہشت پھیلائی گئی، یامذہب کے نام پر خون خرابہ کیا گیااس کی بہت ہی سچی اورعمدہ عکاسی ہمارے ناولوں میں کی گئی ہے۔اس کے علاوہ سیاستدانوں کی مکاری، سرکاری محکموں کی رشوت ستانی، دلت کے مسائل، عورت کے تشخص کامسئلہ، روزگار کی تلاش میں دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت، تعلیمی اداروں میں ایجوکیشن مافیائوں کا تسلط اور کمپیوٹر اورانٹر نیٹ اکسس کرنے والی نئی نسل کا جنسی جرائم کی طرف رغبت جیسے موضوعات کو اردو ناول میں شامل کرکے اس صنف کو زمانے کی رفتار اور ہر طرح کی ذہنی اور سماجی تبدیلی سے ہم آہنگ رکھا گیاہے ۔
فیمنزم یا کہیے کہ نسائی حسیت کے حوالے سے بھی اس صدی کے ناول میں کافی کچھ لکھا جا رہا ہے۔ آج کی ہندوستانی عورت شعوری طور پر کافی حد تک بیدار ہوچکی ہے ، وہ مرد ماتحت نظام سے باہر آچکی ہے ، جبرواستحصال کے خلاف پوری طاقت سے لڑ رہی ہے، سماجی اور قومی سطح پر اپنا قائدانہ کردار نبھا رہی ہے اور اپنے وجود کو منوانے کی ہر کوشش میں مصروف ہے۔ آج کے اردو ناول میں جو عورت نظر آتی ہے وہ مردو ںکے اشاروں پر چلنے والی، معشوقہ کا کردار نبھانے والی یا بہت بولڈ ہوئی تومحض سوالات قائم کرنے والی نہیں بلکہ اس سے بہت آگے کی صاحب اختیار اور خود فیصلہ لینے والی عورت ہے جو اپنی اہمیت اور اپنے حقوق سے پوری طرح با خبر ہے۔اس کا خوبصورت اظہار ثروت خان کے ناول ’اندھیراپگ‘ اور شائستہ فاخری کے ناول ’’نادیدہ بہاروں کے نشاں۔۔۔ ‘‘میں ہوتا ہے۔ راجستھان کے مرد اساس معاشرے کے پس منظر میں عورتوں کی زبوں حالی پر لکھا گیا ثروت خان کا ناول در اصل صدیوں سے عورتوں کی جنسی اور ذہنی محکومی سے تانیثی بغاوت کا اعلان نامہ ہے، تو شائستہ فاخری کے ناول کی مرکزی کردار علیزہ تعلیم یافتہ، متمول اور مہذب سماج میں چلے آرہے عورت کے ہمدردانہ استحصال کو ختم کرکے اس کے صاحب فیصلہ اور خود مختار ہونے کا اعلان کرتی ہے۔شائستہ فاخری کا ناول زبان وبیان اور فنی ٹریٹمنٹ کے اعتبار سے عمدہ ہے۔بالعموم اس طرح کے موضوع کے بیانیے میں جو ایک نوع کی انتہا پسندی، جذباتی ابال اور مردوں کے تئیں حقارت کو کلیدی حوالے کے طور پر پیش کیا جاتاہے انھیں شائستہ فاخری نے کمال ہنر مندی کے ساتھ شائستگی ، سنجیدگی اور عورت کے وقار میں تبدیل کردیا ہے۔ ناول کی ہیروئن خود کو نہ تو انتقام اور منفی رد عمل کا شکار ہونے دیتی ہے، نہ خود ترحمی اور غیر متوازن رویے کا۔ اسے ناول اور ناول نگارد ونوں کی خوبی سمجھنا چاہیے۔یہاں 2004میں شائع ہونے والے ترنم ریاض کے ناول ’’مورتی‘‘ اور صادقہ نواب سحر کے 2008میں منظر عام پر آنے والے ناول ’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘ کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ترنم ریاض نے اپنے ناول کو ازدواجی زندگی کا پس منظر فراہم کیا ہے اور خانگی زندگی کے انتشار، اس کی ناکامی اور اس کی شکست وریخت کے اسباب وعلل پر روشنی ڈالی ہے۔’مورتی ‘ کی محدود گھریلو دنیا کے مقابلے میں’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘ کے کینوس پر ایک پورا معاشرہ جلوہ گر ہے جس میں عورت کا کرب، اس کی بے بسی اور اس کااستحصال زخم خوردہ پھولوں کی صورت اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔ ترنم ریاض اور صادقہ نواب سحر اپنے سادہ سے مرکزی کرداروں کوزیادہ خوبصورت، پاور فُل اور پیچیدہ بناسکتی تھیں جن سے کہانیوں کے تاثرات اور ناولوں کے وقار میں مزید اضافے کی گنجائش تھی ۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج کی اس نئی عورت کوہمت اور حوصلہ خواتین ناول نگاردے رہی ہیں اور کافی حدتک ان کے حقوق کی لڑائیاں بھی لڑرہی ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اپنے حقوق سے واقف یہ عورت خواتین ناول نگاروں کے مقابلے میں مرد ناول نگاروں کے یہاں کہیں زیادہ ہمت، حوصلے اور قوت کے ساتھ سامنے آئی ہیں، اس کی سامنے کی مثالیں پیغام آفاقی کے ناول ’مکان‘ کی ’نیرا‘ اور شمس الرحمن فاروقی کے ناول ’کتنے چاند تھے سر آسماں‘ کی وزیر بیگم ہے۔
جدیداردو ناول میں ایک رجحان تعلیمی اداروں میں کرپشن سے متعلق فکر مندی کا بھی ہے۔ جہاں کے صاحب اختیار حضرات باصلاحیت نوجوانوںکا حق نااہلوں اور خوشامد پسندوںکو بیچ دیتے ہیں، یا انھیںان کاحق دینے کی، ان سے بھاری قیمت وصول کرتے ہیں، یا پھر اپنے کوتاہ قدکو قدرے اونچا بنائے رکھنے کے لیے درس گاہوں میں علمی بونوں کا تقرر کرتے ہیں۔ چنانچہ کالجز اور یونیورسٹیز میں بہت سے ایسے اساتذہ نظر آنے لگے ہیں جو استاذکی صفات سے عاری ہیں۔ غضنفر کے ناول ’شوراب‘ میں اردو لیکچرر کے امیدوار سے اکسپرٹ اس نوع کے سوالات پوچھتے ہیں:’میر نے کتنے عشق کیے؟ ’ان کی معشوقائوں کے نام کیا ہیں؟ ’غالب کتنے بھائی بہن تھے؟ ’اقبال ناشتے میں کیا لیتے تھے؟۔ ‘ وغیرہ۔ اور بحال ہوئے ٹیچروں کا حال یہ ہے۔ : ’زیادہ تر سپر وائزروں کی نگاہیں وشیے کے بجائے ریسرچ اسکالر کو ملنے والے وظیفے کی رقم پر ہوتی، یا ریسرچ اسکالر اگر صنف نازک سے تعلق رکھتا ہے تواس کے جسم کے اتار چڑھائو پر کیندرت ہوتی۔‘‘
غضنفر اپنے ناولوں میں دانستہ ہندی کے الفاظ کثرت سے لاتے ہیں۔حالات وواقعات کے مطالبے کے تحت اور کردار کی زبان کی صورت میں ایسا کرنا نہ تو ممنوع ہے نہ معیوب۔ لیکن غیرہندی داں راوی کا اردو متبادل کے ہوتے ہندی الفاظ کے استعمال پر مصر ہو نا اردو لسانیات کے مزاج کے اعتبار سے بھلے ہی ممنوع نہ ہو ادبی بیان کے لحاظ سے اسے معیوب سمجھاجانا چاہیے ۔
اس سلسلے کا ایک اور ناول 2013 میں شائع ہونے والا غیاث الدین کا ’زوال آدم خاکی‘ ہے۔ ناول کا مرکزی کردار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کاتعلیم یافتہ’جاوید‘ ریاست مہاراشٹرا میں مسلم ٹرسٹ کے تحت چلنے والے ایک اقلیتی کالج میں اردو کااستاذ ہے جسے وہاں سترہ سالہ قیام کے دوران متعددبار کرایے کے مکان کے لیے طرح طرح کے لوگوں سے ملنا پڑتا ہے، جن میں کالج کے ’پرفیسر‘ بھی ہیں مسجد کے امام بھی، مذہبی جماعت کے نمائندے بھی ہیں فوج کے کے افسر بھی، کپڑے کے تاجر بھی ہیں بلڈر بھی، انجان آدمی بھی ہے اور دوست بھی ۔ لیکن مدد کرنے والے یہ مختلف طرح کے لوگ معاملات میں ایک جیسے اور ایک ہی اخلاقی سطح پر فائز ہیں، خواہ وہ پروفیسر ہو یا بنیا۔ مرکزی کردار کی زندگی کا دوسرا حوالہ اس کا کالج ہے، جہاں کے اساتذہ پبلشر سے درسی کتابیں لا کر طلبہ کو بیچتے ہیں،شربت روح افزا کی ایجنسی لے کر دور دراز علاقوں میں شربت کی بوتلیں پہنچاتے ہیں، امتحان میں بچوں کو نقل کرواتے ہیں، شاگرکی دکان سے مفت کپڑے خریدتے ہیں، کلرکوں اور پرنسپل کی خوشامدیں کرتے ہیں اور پرنسپل اورٹرسٹی کی تمام جہالتوں اور نالائقیوں کے باوجود انھیں محسن قوم، سرسید ثانی اور خادم ملت جیسے خطابوں سے نواز کر ا ن فرعون صفتوں کے سامنے ان کے قصیدے پڑھتے ہیں۔ علم واخلاق، عدل ومساوات اور جرأت وبے باکی کا درس دینے والے یہ اساتذہ تعصب، عیاری، حسد،خوشامد اور خوف کی جس نچلی سطح پر مطمئن زندگی جی ر ہے ہیں اور اقلیتی اداروں کو جس طرح گُھن کی مانند کھوکھلا کررہے ہیںاسے ’زوال آدم خاکی‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔ ناول کے اخیر کا وہ حصہ ڈرامائیت سے بھرپور ہے جب مرکزی کردارجاوید کا ایک یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر تقرر ہوجاتا ہے توکالج سے ریلیونگ لیٹر دینے کے لیے پرنسپل، نائب پرنسپل اور اساتذہ کی کمیٹی کیسے اسے ذہنی اذیتوں میں مبتلا کرتی اورکس بازارو پن پر اتر آتی ہے۔ زبان وبیان اور فن کے اعتبار سے ناول کو بہت اچھا نہیں کہا جا سکتاہے لیکن واحد غائب کی تکنیک میں لکھا ہوا یہ سوانحی ناول اداروں اور افرادکے ناموں(غالباً بدلے ہوئے ) کے حوالے سے اپنی صداقت پر اصرار کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور ایک مخصوص قومی ادارے اور اس سے متعلق افراد کے ظاہروباطن کوبے نقاب کرکے انھیں غور وفکر کی دعوت دیتا ہے ۔
نائن الیون کے واقعے نے جہاں ایک طرف دنیا کی تاریخ کا ایک نیا بٹوارہ کیاہے وہیں فلم اور فکشن کو ایک نیا موضوع بھی دیاہے اور سنجیدہ لوگوں کو دہشت گردی کے بارے میں دیانتداری سے سوچنے پر مجبور بھی کیاہے۔ چنانچہ عراق اور افغانستان کے حوالے سے اب تک یہ طے نہیں ہو پایا کہ اصل دہشت گرد’انتہائی غیر مہذب‘ کہی جانے والی حکومت اور وہ چند لوگ تھے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ انھوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیااور جن کا جرم آج تک ثابت نہیں کیا جا سکا،یا پھربے حد مہذب ہونے کا دعویٰ کرنے والی وہ حکوتیں اصل دہشت گرد ہیں جنھوں نے غیر ثابت شدہ جرم کی پاداش میںہزاروں معصوموں کو موت کی نیند سلادیا، لاکھوں کو اپاہج، یتیم، بیوہ اور بے سہارا بنایا۔اور یہ کہ اصل ٹیررسٹ وہ تانا شاہ تھا، جس کے بارے میںیہ خبر پھیلائی گئی کہ اس کے پاس دنیا کو نیست ونابودکرنے والے ہتھیار ہیں،یااصل ٹیررسٹ جمہوریت کی علمبردار وہ سیکولر حکومت ہے جس نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ سب جھوٹ ہے ایک پورے ملک کو تہس نہس کردیا۔
نائن الیون نے صرف تاریخ کا ایک نیا باب ہی نہیں لکھا بلکہ دونوں طرف کے لوگوں کی نفسیات بھی بدلی (ان کی بھی جو صاحب بہادر کے شانہ بہ شانہ تھے ؍ہیںاور ان کی بھی جو صاحب بہادر کے نشانے پر ہیں)اور بہت سے ملکوں کے سیاسی اور معاشی حالات بھی بدلے اور وہاں رہنے والوں کے نظریات وتصورات بھی۔ اردو فکشن میںاس کا کئی طرح سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس موضوع پر 2002 میں چھپنے والاشفق کاایک خوبصورت نال ’بادل‘ ہے۔ ناول 11 ستمبر 2001 کوورلڈ ٹریڈ سینٹر پرہونے والے حملے کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔فرد واحد پر غیر ثابت شدہ الزام کی بنیاد پر کس طرح تمام مسلمانوںکو نفسیاتی دبائو اورمجرم ضمیری کے احساس میں مبتلا کرنے کی کوششیں کی گئیں، ہندوستان میں اس کا کیا اثر ہوا اورہندوستانی مسلمانوں کواس حوالے سے کن کن سوالوں سے جوجھنا پڑا،ان کی زندگی اور ان کے رویوں میں کیا تبدیلی آئی اور وہ کس طرح کے خوف اور اندیشوں میں مبتلا ہوئے ، ان تمام چیزوں کا بڑا ہی سلیقے مند ، سچا اور سہما ہوا بیان اس میںہے۔ ناول کی خوبی یہ ہے کہ جنگ، فسادات اور خوف کے ماحول کو عشق اور محبت کی ایک مرکزی کہانی کے حوالے سے دکھایاگیا اور تاریخ کی بے اعتباری سے بچنے کے لیے اسے فکشن کے استناد میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔
اسی موضوع پراور تقریباً انھیں واقعات کے حوالے سے 2003 میں صلاح الدین پرویز نے اپنا ناول ’’وار دی جرنلس‘‘ تحریر کیاتھا۔ اس میں ورلڈٹریڈ سینٹرکے دونوں ٹاوروں کی تباہی کو بنیاد بنا کر افغانستان اور عراق میں پیداکی جانے والی بھیانک صورت حال بالخصوص بچوں کی لاچاری اور مجبوری کو بیان کیا گیا ہے او ر ساتھ ہی گجرات کے انسایت سوز فساد کو بھی ناول کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ناول کا متن کسی حد تک شاعرانہ نثر کا حامل ہے۔
جنگ کس طرح بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے،کیسے ان کے حال اور مستقبل کوکربناک بناتی ہے اور کیسے بے ماں باپ کے یہ بیکس اور معذور بچے نا مساعد حالات سے بنرد آزما ہوتے ہوئے زندگی کرتے ہیں اس کا بڑا ہی پُر حوصلہ، دردناک اور خوبصورت بیان ایرانی فلم Turtle can flyہے، جو ایران عراق جنگ کے ہولناک نتیجے پر مبنی ہے۔ کاش اردو میں اس طرح کا کوئی ناول بھی لکھا جاتا۔
نائن الیون کی طرح گجرات کا فساد بھی ہمارے ملک کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اردو فکشن میں اسے کئی طرح سے پیش کیا گیاہے ۔ 2002 میں احمد صغیر کا ’دروازہ ابھی بندہے‘ کے نام سے ایک ناول شائع ہوا۔ یہ ناول گجرات میں ہونے والے فساد، مسلمانوں کے ساتھ ظلم وزیادتی، ان کی عورتوں کی بے حرمتی، اپنے ہی ملک کی پولس کی جانبداری، ایک خاص نظریہ رکھنے والے لوگوں کی مان سِکتا اور سیاستدانوں کے رویوں کو بیان کرتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ظلم اور بربریت کے اندھیرے میں سوہن داس جیسے انسان کو بھی دکھاتا ہے، جو اپنی فیملی کے ساتھ ایک مسلم لڑکی کی حفاظت کرتا ہے، اپنے گھر میں اسے پناہ دیتا ہے اور آخرکار اسے اس کے لٹے پٹے خاندان سے ملواتا ہے۔ظلم وزیادتی سہنے کی کہانی لکھتے ہوئے ایسا متوازن رویہ اپنانا ناول نگار کی انسان دوستی پر یقین کوعیاں کرتا ہے۔
اردو فکشن میں سیاست کا بیان پہلے بھی ہوتا تھا آج بھی ہورہا ہے۔ پریم چند کے ناول میدان عمل، گئو دان اور گوشۂ عافیت میں اس کی خاصی شمولیت ہے۔ حیات اللہ انصاری کا ناول ’لہو کے پھول‘ سیاسی تاریخ سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن تب مثبت سیاست کا بیان ہوتا تھا،شایدتب ویسی ہی سیاست رہی ہو۔ اب منفی سیاست کا بیان ہو رہاہے، کہ سیاست اب ایسی ہی ہے۔ ایسی سیاست جو ملک کو کمزور کر نے والی ہے اوراسے فاشزم کی طرف لے جارہی ہے۔ جس کے نتیجے مرادآباد، میرٹھ، ملیانہ، ہاشم پورہ، مئوناتھ بھنجن، بھاگلپور، ممبئی، گجرات، آسام اور مظفر نگر کے نفرت انگیز اور انسانیت سوز فسادات کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں۔ یا پھر دھوکہ دھڑی اور دوغلے پن کی وہ سیاست جس کے نتیجے میں بڑے بڑے اسکَیم سامنے آرہے ہیں، ملک کی دولت چوری کرکے باہر چُھپائی جارہی ہے، ذات پات اور مذہب کے نام پر اقتدار حاصل کرنے کی سازش رچی جارہی ہے اور علاقائیت کے بہانے روایتی بھائی چارے کو ختم کرنے اور نفرت کو فروغ دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اردو فکشن منفی سیاست کے اس زہر اور اس سے پیدا ہونے والے مہلک اثرات کو تمام حقیقتوں کے ساتھ پیش کررہی ہے۔ 2003میں چھپنے والا شموئل احمد کا ناول’ مہا ماری‘ اور 2004 میں عبدالصمد کا’دھمک‘ اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔
’دھمک ‘میں سیاست کے گندے کھیل، کرپشن اور سیاستدانوں کی شرمناک حرکتوں کے کئی رنگ دکھائے گئے ہیں۔ ناول کا آغاز گاؤں کی دلت لڑکیوں کے اجتماعی زنابالجبر کابدلہ لینے کی بات سے ہوتا ہے۔ جس کا ماحول ایک انقلابی نوجوان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن بعد میں وہ انقلابی نوجوان سیاستدانوں کے چکر ویوہ میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ اس ناول میں سیاست کے گلیاروں کے اندھیرے اجالے کوبے حد سادہ اور عام فہم زبان میں بیان کیا گیا ہے۔
شموئل احمد کا ناول ’مہاماری‘ در اصل بہار کی اس حکومت کا پوسٹ مارٹم ہی جوMYسمیکرن کے نام پر چلائی جارہی تھی ۔لیکن یہ بیانیہ ہر اس حکومت پر صادق آتا ہے جس کاسماجی، سیاسی اور افسر شاہی سسٹم اپنی سڑاند سے صحت مند معاشرے میں مہاماری پھیلا رہاہے۔ ناول میں ذات پات کے کھیل، رشوت کے لین دین، جنسی استحصال، عہدوں کے لالچ اور چھوٹے بڑے اختیارات کی بربریت کو عمدہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بی جے پی کے دور اقتدار کے گودھرا اور گجرات کے انسانیت سوز سانحے اور تابوت گھوٹالے کے واقعے کو شامل کرکے ناول کو ایک مخصوص عہد کا اعلامیہ بنایا گیا ہے۔ یہ ناول اپنی حقیقت بیانی کے باعث تاریخ سے اس حد تک قریب ہوگیا ہے کہ اس پرکبھی کبھی فکشن کے بجائے فیکٹ کا گمان ہونے لگتا ہے لیکن شموئل احمد نے بڑی فنکاری کے ساتھ ناول کے بیانیے کو تاریخ کا یک رخا باب بننے سے بچا کر اسے فکشن کا تعمق اور اس کی تہہ داری بخشی ہے۔
یہ المیہ ہی ہے کہ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک مسلمان اپنے ہی ملک میں شک کے سائے اور الزامات کے گھیرے میں جیتا آرہا ہے۔ مسلمانوں کو غدار وطن، پاکستانی ایجنٹ، ہیومن بم اور دہشت گرد اتنی بار اور اتنے طریقوں سے کہا گیا کہ اب خود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک بھی’دہشت گرد‘ کے معنی مسلمان ہو کر ہی رہ گیا ہے۔اور وہ ہر دہشت گرد کاروائی کے بعد ایک نفسیاتی خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ 2002میں شائع ہونے والامحمد علیم کا ناول ’’میرے نالوں کی گمشدہ آواز‘‘ تاریخ کے اسی جبر اور مسلسل استحصال کی داستان ہے۔ یہ ناول شہر کے بجائے گائوں کے پس منظر میں لکھا گیا ہے، جس میں وہاں کے کھیت کھلیان، وہاں کی زندگی اور گاؤں کے بدلتے ہوئے حالات کا خوبصورت بیان ہے۔ زبان کسی حد تک گالی آمیز اور لہجہ علاقائی ہے جو ناول کی فضا کو اعتبار بخشتے ہیں اور اسے حقیقت سے قریب کرتے ہیں۔ کس طرح میڈیا کے ذریعے ملک میںمسلمانوں کے خلاف ذہن سازی کی گئی ہے اور کس طرح اس سوچ کو عوامی ذہن کا حصہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، ناول کے بس دو حوالوں سے اندازہ لگائیے :
’’لکھا ہے کہ نیک محمد بھائی آئی ۔ایس ۔آئی کے ایجنٹ ہیں۔نیپال کے مسلم اگروادیوں کے ساتھ مل کر آتنک وادی کاروائیوں میں ملوث رہے۔‘‘
’’اڈونی کا بھی بیان آیا ہے، اُو، کل رہا رتھا کہ نارتھ بہار میں نیپال سیما کے پاس آئی۔ ایس۔ آئی کی گتی ودھی بڑھ گئی ہے۔ ہم کو تو سالا معلوم نہیں کہ یہاں کوئی آئی۔ ایس۔ آئی کا ایجنٹ رہتا ہے ۔ اس کو کیسے معلوم ہوجا تاہے۔‘‘
سیاسی معاشرتی تاریخ کے حوالے سے اس صدی میں لکھے گئے تین ناول بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ 2006میں شائع ہونے والا شمس الرحمن فاروقی کا ’کئی چاند تھے سر آسماں ‘ ، 2011میں آنے والاپیغام آفاقی کا ’ پلیتہ اور ترنم ریاض کا ’برف آشنا پرندے‘جو 2009میں منظر عام پر آیا۔ شمس الرحمن فاروقی کے ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘کی وزیر بیگم مغل اور انگریزوں کے اختلاط سے بننے والی تہذیب سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن ذاتی طور پر وہ اپنے عہد کی مشرقی خواتین کے اطوار وا فکار اور مرد مرکزی نظام سے نہ صرف متنفر بلکہ اس سے باغی بھی ہے ۔ وہ ایک انگریز افسر مارسٹن بلیک کی زوجیت میں ہونے کے باوجود ہندوستانیوں سے انگریزوں کی حقارت کی بنا پر انگریز قوم سے نفرت کرتی ہے۔ وہ حد درجے بے باک، بے خوف اور بلند ہمت ہے، وہ خود اعتمادی کی دولت سے مالا مال اور اپنے نسوانی وجود کی انفرادیت کے احساس سے شرسار ہے۔ یہ کردار اگرچہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے ہندوستان کے تاریخی اور سیاسی پس منظر سے ابھرتا ہے لیکن نمائندگی یہ اکیسویں صدی کے خواتین کی کرتا ہے۔ اگر اسے اردو ناول کاپہلا تانیثی کردار اور femenistتحریک کا اولین نمائندہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔
’پلیتہ‘ کی کہانی خالد سہیل کی پر اسرار موت کی تحقیق سے شروع ہوتی ہے ۔ وہی خالد سہیل جو اس ناول کا مرکزی کردار ہے اور جو اپنے مرحوم دادا امیر علی کی کتابِ زندگی سے ان کی اسیری والا باب پڑھنے انڈمان جاتا ہے، جہاں ہندوستان کے انگریز حاکم وطن کے چاہنے والوں کو کالا پانی کی سزا بھگتنے کے لیے مصائب کے اندھے غار میںچھوڑ آتے تھے۔ خالد سہیل کو وہاں اپنے دادا کے خلاف مقدمے کی جانچ پرکھ کے دوران ایک ایسا مقدمہ ہاتھ لگتا ہے جو اسے ہزارہا افراد کی اندوہناک زندگیوں کی داستان سناتا ہے اور ظلم وجبر کی ایک ان دیکھی دنیا کی دریافت میں مددکرتاہے۔ ناول کا موضوع نیا ہے، اس میں فلسفہ، سیاست اور سازش سبھی کچھ ہے۔ یہ اچھا ناول ہوسکتا تھا، لیکن اس پر غالباً نظرثانی نہیں گئی ، نہ اسے ناول کے منضبط فارم میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔ شروع میں مرکزی کردار کی تقریر کو نئی دریافت کے طور پر بے حد اہم، فکر انگیز اور دنیا میں تہلکہ مچادینے والابتایا گیا ہے، لیکن چند سطروں بعد اس تقریر کا متن بڑا ہی باسی اورمعمولی ہے۔ اس طرح کے تضادات اورغیر منضبط ہیئت نہ صرف ناول نگار کی سہل انگیزی ، عجلت پسندی اور لاپروائی کی غماز ی ہیں بلکہ اس رویے سے اپنے ہی ناول کے ساتھ ناول نگارکے بُرے برتاؤ کا اظہاربھی ہوتا ہے ۔
’برف آشنا پرندے‘ کشمیر کی تہذیبی تاریخ کا افسانوی بیانیہ ہے۔ اس میں کشمیر کی تہذیب، وہاں کی سیاست، کشمیریوں کے مسائل اور ان کے مصائب کا بیا ن سلیقے سے ہواہے۔ناول نگار نے سماج ، معاشرے اور تہذیب وثقافت کو نمایاں کرنے کے لیے منظر کشی، واقعات بیانی اور جزئیات نگاری سے کام لیا ہے اور سیاست کو حاوی موضوع بننے سے روکنے کے لیے اس ضمن میں اجمال بیانی اختیار کی ہے یا پھر اشارے اور کنائے کا استعمال کیا ہے۔ناول میں جتنی خوبصورتی سے کشمیرکے مناظر اوروہاں کے حالات بیان کیے گئے ہیں، اتنی ہی سنجیدگی اور بلاغت سے اس کے ماضی اورموجودہ مسائل کی جانب اشارے بھی کیے گئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ :
’’سن رسیدہ کشمیریوں کو یاد ہے کہ پنڈت جی نے آدھ صدی قبل اس بات کو لال چوک میں دہرایاتھا کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے‘‘۔ (ص، 270)
’’صوبۂ جموں میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو تہہ تیغ کیاگیا ہے۔ اس سے دوگنی تعداد کو جموں وکشمیر سے پاکستانی کنٹرول والے علاقے میں دھکیل دیا گیا ہے۔ … صوبۂ جموں جو ایک مسلم اکثریت والا صوبہ تھا ، اب ایک مسلم اقلیتی صوبے میں تبدیل ہو گیا تھا۔ ‘‘ (ص، 272)
اس حوالے سے 2000میں شائع ہونے والا علی امام نقوی کا ’بساط‘ بھی عمدہ ناول ہے۔ اس میں کشمیر کے مسائل کو ایک الگ تناظر میں پیش کیا گیا ہے ، اوراس کے مسائل کے اسباب وعوامل کو جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ ناول کا حسن یہ ہے کہ ان متنازع اور سلگتے ہوئے مسئلوں کا محاکمہ اور ان کے پس پردہ کار فرما عناصر کا تجزیہ نہ تو سیاسی نقطۂ نظر سے کیا گیاہے، نہ صحافیانہ نقطۂ نگاہ سے، بلکہ انھیں ادبی زاویہ ٔنظر سے دیکھنے اور سمجھنے پر زور دیا گیاہے۔ شاید اسی لیے ناول نگارنے مرکزی کردار کی تخلیق کے لیے ایک ایسے ادیب کا انتخاب کیا ہے جو سماجی آگہی بھی رکھتا ہے اور سیاسی بصیرت بھی۔ کہانی کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ کشمیر کے سیاسی مسائل کو گھریلو مسئلوں کے تناظر میں پیش کرکے اس کی شدت، سنگینی اورسنجیدگی کو ابھار ا گیا ہے۔
مشرف عالم ذوقی نئی سوچ، نئی نسل، انوکھی نفسیات اور نئی تکنیک کے فکشن نگار ہیں۔ یہ نئی فکر، نئے واقعے، نئی تبدیلی اور نئے کردار کو ناول کے سانچے میں بڑی خوبصورتی اورسلیقے سے ڈھالتے ہیں۔ ان کا نیا ناول ’آتش رفتہ کا سراغ‘ ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ،نفرت کی سوداگری،اس کی سازش اور اس سلسلے میں کام کرنے والی ایک پوری ذہنیت کوبڑی جرأت اور بے باکی سے بیان کرتا ہے۔ یہاںان کے دو اور ناولوں کا ذکر کیا جارہاہے۔ ایک 2004میں شائع ہونے والے ’پوکے مان کی دنیاکا‘ اور دوسرے 2011میں چھپنے والے ناول ’لے سانس بھی آہستہ‘کا۔’پوکے مان کی دنیا ‘ پرانی سنسکرتی پر ناز کرنے والے ہندوستان میں ایک بالکل نئی تہذیب کے جنم لینے کی کہانی ہے۔ناول کا پس منظر نئی ٹکنا لوجی کے استعمال اور کنزیومر ورلڈ کی عطا کردہ تنہائی ہے۔ مرکزی حوالہ بلوغت کی جانب ان بڑھتی عمر کے بچوں کو بنایاگیا ہے جن کے ماں باپ کواپنے آفسوں، کاروبار اور دوسری پیشہ ورانہ مصروفیتوں کی وجہ سے ان کی دیکھ بھال کے لیے وقت یاتو بالکل نہیں یا بہت کم مل پاتاہے، اور بچوں کو اکیلے اور آزاد رہنے کازیادہ سے زیادہ موقع فراہم ہوتاہے۔ نتیجتاً تنہائی دور کرنے کے لیے وہ کمپیوٹر اور ویب سائٹس پر ممنوعہ ویڈیوز دیکھتے ہیں اور ان میں کھیلے گئے لذت انگیز جنسی کھیل کو اپنی حقیقی زندگی میں دہرانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ جنسی جرائم کی طرف نہ صرف راغب ہوتے ہیں بلکہ موقع ملتے ہی ان کا ارتکاب بھی کرگزرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ بچوں کے موضوع پر پہلا ناول نہیں ہے اس سے پہلے کرشن چندر ’دادر پُل کے بچے‘ اور علی امام نقوی ’تین بتی کے راما‘لکھ چکے ہیں۔ لیکن ’پوکے مان کی دُنیا‘ ان سے الگ اور نئی طرز کاناول یوں ہے کہ ناول نگارنے سماج میں طویل عرصے سے موجود برائی یا قدیم استحصال کی نقاب کشائی نہیں کی،بلکہ جنم لے رہے ایک بالکل نئے خطرے کی آہٹ کو موضوع بنایا ہے۔ یہ ناول غریب بچوں کی داستان زندگی نہیں بلکہ کھاتے پیتے امیر گھرانوںکے بچوں کی نفسیاتی کہانی ہے۔ دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دہلی کے سولہ دسمبر 2012 والے(نِر بھیا) ریپ کیس کے بعد جو سرویز آئے ہیں وہ یہ کہ پچھلے دس پندرہ سال میں ملک کے بڑے شہروں میں جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں میں سب سے بڑی تعداد ’جوینائل ‘کی ہے ۔ اور مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ان جرائم کی طرف کم عمر لڑکوں کی رغبت کے بیشتر اسباب وہ ہیں جو ’پوکے مان کی دنیا‘ میں بیان کیے گئے ہیں، یہ ناول تب لکھا گیاتھا جب دوسرے سماجی اداروں نے کم از کم اس خطرے کی طرف سنجیدگی سے سوچنا شروع نہیں کیا تھا۔ سو،ناول کے مطالعے سے اس بات پر ایقان مزید مستحکم ہوتا ہے کہ فنکار مستقبل کی آہٹ کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔
’لے سانس بھی آہستہ‘ میں مسلمانوں کی دم توڑتی تہذیب، جدید ٹکنالوجی ، نئے سماجی شعور اور رشتوں کی حرمت کی تشکیل نو کو موضوع بنایا گیا۔ ہمارے معاشرے میں میاں بیوی، طوائف اور اس کے گاہک اور عاشق و معشوق کے علاوہ جنسی یا جسمانی رشتہ کسی اور صورت میں قابل قبول نہیں رہا ہے ۔ نہ حقیقی دنیا میں نہ فکشن کی دنیا میں۔ یہاں تک کہ فلموں میں بھی نہیں۔ انل کپور اور سری دیوی پر فلمائی گئی فلم ’لمحے‘ کو لوگوں نے صرف اس لیے نا پسند کیا تھاکہ اس میں ہیرو اوراس کی مرحوم محبوبہ کی بیٹی کے درمیان عشق کو موضوع بنایا گیاہے۔ سہیل عظیم آبادی اپنی تمام تر ترقی پسندی کے باوجود اپنے افسانے’بے جڑ کے پودے ‘ میں بچپن کے بچھڑے بھائی بہن کی جو، نوجوانی میں ایک دوسرے سے عشق کرنے لگتے ہیںیہ حقیقت معلوم ہونے کے بعد کہ در اصل یہ دونوں بھائی بہن ہیں؛ شادی نہیں کروا سکے ۔ منٹو کو اردو قارئین کا ایک بڑا حلقہ اب تک اس لیے معتوب کرتا ہے کہ ’کھول دو‘ میں مسلسل زنا بالجبر کی شکار سکینہ کو’کھول دو ‘ کے الفاظ سن کر لاشعوری طور پر اپنی شلوار کمر سے نیچے کھسکاتا دیکھ کر اس کا باپ خوشی سے کیسے چلا سکتا ہے کہ ’میری بیٹی زندہ ہے‘۔ ایسی مضبوط روایت کی موجودگی میں مشرف عالم ذوقی کا اپنے ناول ’لے سانس بھی آہستہ‘ میں سگی باپ بیٹی کے درمیان جنسی یا جسمانی تعلقات دکھلانا، بلکہ میاں بیوی کے رشتے میں باند ھنا اورپھر اپنی ہی سگی بیٹی کی بیٹی کا باپ بننے تک کا ایک پوراعرصہ بیان کرنا فکشن کے موضوع میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ ناول میں باپ بیٹی کے درمیان کا یہ جنسی یا جسمانی رشتہ نہ تو کوئی حادثاتی یا نا گہانی واقعہ ہے، نہ کسی غلطی یا ہوس کا نتیجہ، جیسا علی سردار جعفری کے افسانے ’پاپ‘ میں ہوتا ہے ۔ نہ ہی اسے جدت کے شوق اور اسٹنٹ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ اس ناول میں سگی باپ بیٹی کے جسمانی رشتے کا جواز فراہم کیا گیا ہے، واقعات کا منطقی ارتقا دکھایا گیا ہے اور حالات کی ستم ظریفی کو قبول کرنے کا استدلال پیش کیا گیا ہے۔ ناول نگار نے سگی بیٹی کے جوان جسم کی تازگی، تنو مندی اور جنسی طلب کے ساتھ باپ کے روحانی کرب، اس کی بے چارگی اور ذہنی اذیت کو ایک بے حد المناک لیکن قابل جواز حقیقت کے بیانیے میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
2013میں رحمن عباس کے’ تین ناول‘ کے عنوان سے ’خدا کے سائے میں آنکھ مچولی‘، ’ایک ممنوعہ محبت کی کہانی‘ اور ’نخلستان کی تلاش‘ منظر عام پر آئے۔ نوواردوں میں رحمٰن عباس کی حیثیت ایک Reactionaryناول نگار کی ہے ۔ یہ ملک کی سیاست، معاشرے کے بطون ، سماج کی تبدیلیوں اور انسانی نفسیات کا مطالعہ گہرائی اور باریک بینی سے کرتے ہیں اور جراٗت مندی سے انھیں ناول کے بیانیے میں ڈھالتے ہیں۔ ان کے ناولوں کے بیانیے قدرے فلسفیانہ ہوتے ہیں اور اظہارمیں ایک نوع کی بے باکی ہوتی ہے ۔ ’خدا کے سائے میں آنکھ مچولی‘ ایک ایسے معاشرے کا بیان ہے جو دراصل ویسا نہیں ہے جیسا وہ دکھائی دیتا ہے۔ یا یوں کہیے کہ ناول میں ایک مخصوص معاشرے کے اہم اوصاف ایسے لوگوں نے اوڑھ رکھے ہیں جو اِن اوصاف کے اہل یا حقدار ہیں ہی نہیں۔پاکدامنی کا لبادہ ہو، یا علم کا، یا مذہب کا، یافن کا، یاانتظامی امورکا، سب اُن لوگوں نے غصب کر رکھے ہیں جو اِن کی حرمت سے واقف نہیں ہیں۔ چنانچہ معاشرہ اپنی اصل اور معروف شناخت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان غاصبوں اور ریا کاروں کی وجہ سے بدنام ہے۔ یا یوں کہیے کہ در اصل یہ ریاکاروں کا ہی معاشرہ ہے،جس کا بڑا ہی جرأت مندانہ بیان اس ناول میں ہوا ہے۔
کافی دنوں بعد’ ایک ممنوعہ محبت کی کہانی ‘کے روپ میں عشق کے بیانیے کو ناول کے حرم میں داخلے کی اجازت ملی ہے۔یہ ناول ایک خاص علاقے کے بدلتے ہوئے کلچر اور اس کے جبر کا اثر انگیز بیان ہے ۔ آج ہم جس سیاست، دہشت اور ریاکاری کے صحرا میں بھٹک رہے ہیں ایسے میں محبت کی یہ دلکش کہانی پُر سکون ٹھنڈے نخلستان میں جا پہنچنے کا خوشگواراحساس دلاتی ہے۔ناول میں مذہبی شدت پسندی کا جواز تو سمجھ میں آتا ہے ، لیکن مہاراشٹر کے ایک مخصوص علاقے کی تہذیب کو اردو زبان اور اردو تعلیم سے مکدَر ؍متشدِد ہوتے ہوئے دکھایاگیا ہے، جس کا نہ تو ناول میں کوئی جواز ہے ، نہ بیانیے سے اس کا تعلق استوا ر ہوتا ہے۔ رحمٰن عباس کا تیسرا ناو ل (جو تاریخی اعتبار سے پہلا ہے) ’نخلستان کی تلاش‘ ہے۔ ہندوستان کی موجودہ دوغلی سیاست، کھوکھلی جمہوریت، بے ایمان پولس سسٹم، متعصب میڈیا، فرقہ پرست تنظیم اور عقیدے کے تحفظ کے نام پر وجود میں آنے والی جماعت کابہت ہی سچا اور خوبصورت بیانیہ ہے۔ مستقبل کے ملک میں اہم کارنامے انجام دینے والے پڑھے لکھے ذہین اور سوچنے والے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پر پولس والوں کے ذریعے اٹھا لے جانا اور بیشتر صورتوں میں ان کے نام ونشان تک کا پتہ نہ چلنا اب محض ایک خبر نہیں، بلکہ یہ کاروائی ہے ایک پوری قوم کو خوف کی نفسیات اور احساس کمتری میں مبتلا کر کے انھیں علم، دولت اور اقتدار سے محروم کرنے کی۔یہ ناول دراصل انھی حقائق کو بیان کرتا ہے۔ غالباً یہ اس موضوع پر اردو میں پہلا ناول ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسے صحافتی انداز سے بچاکر سلیقے سے افسانوی بیانیے میں ڈھالا گیا ہے اور عصری حقائق سے اسے متصف کرنے کے وسائل بروئے کار لائے گئے ہیں۔
نئی صدی کے ان تیرہ برسوںمیں اور بھی بہت سے ناول منظر عام پرآئے ہیں جن میں رتن سنگھ کا ’سانسوں کا سرگم‘، خالد جاوید کا ناول ’موت کی کتاب‘عبدالصمد کا ’بکھرے اوراق‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ تقریباً نصف درجن ناول اوربھی ہیں، لیکن اس مختصر سی صحبت میں ہرایک کے تعلق سے گفتگو ممکن نہیں ۔ سو، بقیہ ناولوں پر باتیں پھر کبھی۔
یوں مجموعی اعتبار سے اکیسویں صدی کے اِن تیرہ برسوں کو ناول کے لیے نیک شگون کہا جاسکتا ہے۔ اس میں متعدد موضوعات ومسائل کو ناول کے قالب میں ڈھالا گیا۔ اظہار وبیان اور تکنیک کی سطح پر نئے تجربات کیے گئے۔ ناولوں کے ساتھ کئی نئے ناول نگار بھی سامنے آئے، کہنہ مشق فکشن نگاروں نے ناول کی شکل میں کئی عمدہ فن پارے پیش کیے اورعام قارئین اور ناقدوں کی یہ شکایت بھی کافی حد تک دور ہوئی کہ ہمارے یہاں کم ناو ل لکھے جارہے ہیں، یا آجکل اچھے ناول نہیں لکھے جارہے ہیں۔ سو، یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اردو ناول کا مستقبل تابناک ہے، اور ناول نگارو ں سے مزید بہتر ناول لکھنے کی امید کو تقویت ملتی ہے۔البتہ یہاں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ نئی صدی کے اِن تیر ہ برسوں میں زبان ، بیانیے ،تکنیک، کردار اورفنی ٹریٹمنٹ کے لحاظ سے پاکستان میں لکھے گئے ناولوں مثلاً ’غلام باغ‘، ’ صفرسے ایک تک ‘ (مرزا اطہر بیگ )اور بالوں کا گچھا ‘‘ (خالد طور)کے مقابلے کا ہمارے یہاں کوئی ناول نہیں لکھا گیا۔ یوں احساس کمتری سے بچنے کے لیے شمس الرحمن فاروقی کے ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ کا نام لیناشایدبے محل نہ ہو۔
Dr. Abu Bakar Abbad
Department of Urdu
University of Delhi, Delhi
Delhi – 07
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
آمنہ مفتی کے ناول کا کوئ حوالہ نہیں ۔
فسادات اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو مستنصر حسین تارڑ نے خس و خاشاک ناول میں بیت اچھے سے پیش کیا ہے مگر کوئ حوالہ نہیں