ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
ہولڈنگ نمبر1-A،بی ایل نمبر 23،کیلا بگان ،جگتدل ،
نارتھ 24 پرگنہ(مغربی بنگال)،پن کوڈ: ۷۴۳۱۲۵
mob:9339327323 ای میل:mail.com ahashmi3012@g
مہمان جب چلاجاتاہے تو گھر اُداس ہوجاتاہے۔اس کرب کوجویا کئی دنوںسے جھیل رہی تھی۔اس پر ستم یہ کہ اس افسانے کو پڑھ کر وہ مزیدڈپریشن کا شکار ہوگئی۔!
جویانے اپنے پرکھوں کی حوصلہ مندی کا یہ نظارہ دیکھاتھاکہ اس پرآشوب دورمیں جب سب کے پائوں اپنی مٹی سے اُکھڑرہے تھے یہ اس کی قدم بوسی کی فکر میں کوشاں ہی نہیں بلکہ تابناک مستقبل کے خواب بھی دیکھ رہے تھے اور تعلیم کے فروغ کے لیے منصوبے تیار کرکے تعلیم گاہوں کا سنگ بنیاد رکھ رہے تھے۔اس کی پرورش میں اس کے والدین نے سنت سے زیادہ فرض کو دھیان میں رکھاجس کے سبب آج وہ وکٹوریہ کالج میںہسٹری کی پروفیسرتھی۔کم وبیش پچاس برسوں تک شوہر کی ناآگہانی موت کے بعد شام ڈھلے یادوں کے گلستان میں روحانی ملاقات کی تجدید ہوتی رہی اورصبح سویرے اس کی روح سرہانے یادوں کا صندل چھوڑجاتی جس سے یہ دن بھرمثل ناگن لپٹی رہتی ۔اس طرح پچاس سال نیم تنہائی میں کٹے۔ ایسے ستم ظریف لمحوں میں صبراورہمت کا فریرا لہراتارہا ،ایسا اس لیے کہ زندگی جب غم کا فسانہ بنجاتی ہے اس وقت آنکھوں میں انتظار کی دنیا بستی ہے۔انتظار کی اس دنیا میںاس کی آخری نشانی مراد ہی اس کے لیے سب کچھ تھا۔سوتے جاگتے اُٹھتے بیٹھتے مراد کی تابناک مستقبل ہی پروردگار کی بارگاہ میں اس کی آخری مراد تھی ۔اس کو بہتر سے بہتر تعلیم دلا کر سماج میں کھڑاکرنا اس کا مشن تھا۔اس میں اسے کامیابی بھی ملی۔مراد تعلیم حاصل کرکے برمنگھم میں گرین کارڈ ہولڈرتھا۔
جویا کی زندگی شبنم کی طرح خاموش،بجلی کی طرح سبک ،چاند نی کی طرح نرم اورندی کی تیز دھا راکی طرح اپنی روانی میں بہے جارہی تھی کہ مرادبرمنگھم سے ایک ماہ کی چھٹی پرگھر آیا ۔آبائی گاؤں جانے کا فیصلہ ہوا۔ مدتوں بعدوہ مراد کے ساتھ گائوں آ ئی جہاں اب آم ،جامن،دیودار،شیشم کی جگہ پختہ عمارتیں اُگ آئی ہیں۔پگڈنڈیاں چوڑی چوڑی سڑک میں تبدیل ہوچکی ہیں لیکن گردوغبار اب بھی جسموں کا طواف کررہے ہیں۔نکڑکا ٹیپ آج بھی بند ہے۔اب وہاںپیلی مٹی سے دپ دپ کرتے آنگن رہے نہ آنگن میں مولیسری اورمہواکے پیڑ کا تصور۔نہ پیلے پیلے سرسوں کے کھیت۔نہ وہ آم کا باغیچہ۔نہ کوئل کی کوک۔نہ موجر کی میٹھی میٹھی خوشبو۔نہ رہٹ کی آواز ۔نہ لوگوں کے من کے اندر کامدھوشالہ ۔تاڑ کے ہاتھ پنکھے کی جگہ کولر نے لے رکھاہے۔آنگن میں کورے مٹی کاگھڑا،مہواکی شاخ سے لٹکتی لالٹین کی یادیں ذہن میں باقیات کے طورپر محفوظ رہ گئی ہیں۔ سولربلب کی روشنی میں چاندکی چاندنی کہیں کھوگئی ہے ۔رات کی سیاہی میںاب ستاروں کا کارواں کوئی نہیں دیکھتاہے۔بس باقی رہ گئی ہیں تو صرف ان کی یادیں۔ بجلی دن بھر آنکھ مچولی کھیلتی ہے۔گردآلودپنگھٹ اورزرد پتے سے اٹابغل کا قبرستان جس میں اس کے پرکھوں کی سوکھی ہڈیاں اب بھی محفوظ ہیں۔ درجہ حرات نکتہ راس پرجہاں پرندوں کے پرجل رہے ہیں۔ شام کے دھندلکے میں جیسے ہی تانگہ برسوں سے بندمکان کے سامنے رکا۔رام داس نے ملگجھی اُجالے میں ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’بھگوان رام بھی بارہ برس ون واس کاٹ کر واپس آگئے تھے، تم لوگ ان سے بھی آگے بڑھ گئے۔شہر میں کیا بسے کہ بھاگوان نہیں بھگوان ہوگئے۔بھگوان ۔۔۔۔!
دن بھرعزیزواقارب کی بھیڑمیں دو چار کی زبان سے تو گلاب کی خوشبو آتی رہی لیکن اکثریت کی گفتگو سن کر ذہن و دل کچوکے لگاتے رہے کہ کیسے یقین کیاجائے کہ ان کے اجداد کا خمیر اس مٹی سے اُٹھاہے جس میں گلابوں کی کھیتی ہوتی ہے۔بوجھل ماحول کے حصار سے باہر نکل کر آکاش دیپ سنیماہال کے قریب داتانہال شاہ کے آستانے کی قدم بوسی کرتے ہوئے اس نے کہا۔
’’داتا۔!برسوں کے نسب وفراز کے بعدیہ کنیز آپ کے آستانے کی قدم بوسی کے لیے حاضرہے۔!‘‘آستانے کے اندرسے مدھم آواز آئی ۔
’’شام ہوگئی چراغ جلائو۔!‘‘
چراغ جلانے والے شاہ صاحب نے عاجزی سے کہا۔
’’ محترمہ اگردس روپئے عنایت ہوںتو درگاہ میں آپ کے نام کا بھی چراغ جلادوں۔!‘‘
اس نے پلٹ کر سبز عمامہ والے شاہ صاحب کو اوپر نیچے دیکھا اور یہ کہتے ہوئے درگاہ کے اندر چلی گئی۔
’’شاہ صاحب۔! پرکھوں کے اس گائوں میں ہمارا شمارنام کا چراغ جلوانے والوں میں نہیں جلانے والوں میں ہوتاہے۔!‘‘
شاہ صاحب نے نظر اوپر اُٹھاکر دیکھا۔
کاشنی رنگ کی پاڑھ دارسفید ساڑی اوربلاوز میں ملبوس براق کی طرح سفیدوہ داتاکے پائتانے کھڑی ہے ۔ساڑی سے زیادہ سفیدسرکے بال چوڑی پیشانی پر مچل رہے ہیں اور دونوں آنکھیں بندہیںجن میں کبھی مانندسیپ سنہری موتیوں جیسے خواب پلتے تھے، آنسوئوں سے لبریز ہیں۔اگربتی اوردھونے سے معطر فضامیںوہ سوچ رہی ہے۔
’’ ساری عمر سایہ دار شجر بن کر بیٹے کو چھائوں دی لیکن اب دھوپ کی تمازت سہنا پڑرہا ہے کہ بیٹا جو ان ہوتے ہی اس کے گھونسلے سے اُڑکر زندگی کی دوسری شاخ پر اپنا گھونسلہ بنانے پر بضدہے ۔ بیٹے کو کیسے سمجھاؤں ایک صالح اولاد اپنے پرکھوں کی چوکھٹ نہیں بدلتاہے کہ یہ آستانے کا مرتبہ رکھتی ہے۔بنیاد میں پرکھوں کی اینٹ رکھی جاتی ہے کہ اس میں احترام کا جذبہ ہوتاہے۔پوری زندگی حنظل کی طرح میرے وجود سے لپٹا رہا۔زندگی کے تپتے ریگ زار میں خود کو سایہ دار شجربنائے اس کی آبیاری کی۔اب عمر کے اس پڑاؤ میں اس کے رو یئے کو دیکھتے ہوئے ذہن میں یہ سوال سر اُٹھاتا ہے کہ یہ میری تربیت کا قصور ہے یا جینریشن گیپ کی سوچ کا؟‘‘
‘‘ اُس کے ذہن کے پردے پر گذشتہ دنوں کا ایپی سوڈچل رہا ہے۔
’’یہ صدیوں کا شجرہ لے کر کب تک چلو گی ماں؟پس نقاب چہرہ کب تک چھپا رہے گا؟یہ گھونگھٹ اور چنری ہٹائو ۔زمانہ مریخ پر کمندیں ڈال رہاہے اور تم ہوکہ ابھی تک وہی راگ الاپ رہی ہو۔۔۔کون بجائے بانسریا۔یاد رکھو
Everything is Temporary…thoughts, emotion, people and scenery.
ہم رشتے کی لاش کو ڈھونے کے متحمل نہیں ہیں۔سارا جیون رشتوں کی لاش کاندھے پر اُٹھائے پھرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟‘‘
’’لیکن یہ رجحان تو جنگلی جانوروں کاہے بیٹا۔!‘‘
’’مم سا ئنس کے مطابق تو ہم سب جانور ہیں۔ڈارون کے مطابق وہ ہمارے پرکھے ہیں۔ارتقائی کڑی میں ہم ان سے اوپر ہیں بس اس سے زیادہ کچھ نہیں۔!!‘‘
’’بیٹے۔! تمہارا سائنس اورارتقا کی تھیوری چاہے کچھ بھی کہے ،ہم صرف اتناجانتے ہیں کہ ہماراشماراشرف المخلوقات میں ہوتاہے۔‘‘
’’ماںہم نے اس خوش فہمی میں کئی صدیاں گذاری ہیں لیکن افسوس اپنی خواہشوں کی خودمختاری،نفس کی آزادی کے لیے جنگیں کبھی نہیں لڑی ۔اب ہم اس آزادی کے لیے جنگ لڑنے پر آمادہ ہیں۔‘‘
اس کی باتوں کو سن کر ایسا لگا جیسے اُٹھان پر چلتے چلتے اچانک پیر پھسل گئے ہوں۔
وہ بولتاجارہا تھا۔ ہم نے قدرتی خواہشوں اورتمنائوں کو دبائے رکھا۔یہ داغ داغ اُجالے ہمیں پسند نہیں ہیں۔ہمیں اپنے نیچرل انوارونمنٹ میں زندہ رہنے کا حق چاہئے۔ورنہ ہم تمہارے بوشیدہ سماج اوراس کے رسم ورواج کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
اس کے تیور دیکھ کرپہلی بار احساس ہوا کہ رشتے خون سے نہیں دل سے بنتے ہیں۔
’’مراد اتنا یاد رکھو،اپنے پرکھوں کی میراث سے جن کی جڑیں اُکھڑ جاتی ہیں وہ بنجار ہ بن جاتاہے بنجارہ۔!میں جانتی ہوں تم اب اپنی روح کے بوجھ کو ڈھونہیں پارہے ہولیکن اتنا یاد رکھو میں اس کو ہلکا کرنے کا موقعہ فراہم نہیں کروں گی۔جارہے ہوجاؤ لیکن اتنا یاد رکھو کہ شام کو پرندے کہاں واپس آ تے ہیں؟‘‘
’’ماں۔!واپسی تک نہ شاخ رہے گی نہ گھونسلہ۔!‘‘
’’تم چاہتے کیا ہو؟‘‘
ہم انفرادی نفس کی آزادی اور خودمختاری چاہتے ہیں۔اب ہم اپنے ماڈرن کلچر دوستوں سے طعنے سنے کے روادار نہیں ہیں کہ تم رشتہ ڈھونے والے غلام ہو۔!تم کو تمہارے اقدار عزیر ہیں تمہیں یہ مبارک ۔!میں برمنگھم کی جس سوسائٹی میں جی رہا ہوں اس کے ویلو مجھے عزیزہیں۔ صدیوں کے اس بوشیدہ معاشرے کو اب ہم برداشت نہیں کریں گے۔بہت دن ہوگئے تمہارے فرسودہ نظریے کی غلامی کرتے ہوئے ۔اب ہمیں آزادی چاہئے اورڈھلتی شام کے دھندلکے میںپرکھوں کی حویلی کے سائبان میں بیٹھ کراس نے پانچ برسوں کے لیے اپنے گرل فرینڈکے ساتھ Live togetherکی فائل پرجب دستخط کردیا اس وقت ذہن کے سائبان میں نیلم بشیر کے افسانے کا اقتباس بہت دیر تک گونجتارہا۔
’’مام !یہ اس ملک کا کلچر ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔میں امریکن ہوں۔یہاں کا رہنے والاہوں۔آپ کو اندازہ بھی ہے کہ ہم ایشین بچوں پر اس سوسائٹی میں کتنے پریشر ز ہوتے ہیں۔ جوان ہونے کے بعد ہم اپنے ساتھیوں سے الگ تھلگ کیسے ہوجائیں؟اگر ہم کسی کے ساتھ ڈیٹینگ نہ کریں تو ہمیں ابنارمل یا ’گے ‘سمجھ لیا جاتا ہے۔اور اگر اپنے فرینڈ ز کی طرح امریکن لائف گذاریں تو آپ لوگوں کی ویلوز خطرے میں پڑجاتی ہیں۔ہم لوگ اس سوسائٹی میں رہ کر مس فٹ ہونا نہیں چاہتے ہیں۔یہ ہمارے سروائیول کا مسلہ ہے۔آپ لوگ سمجھنے کی کوشش کریں۔ہمیں یہاں رہنا ہے ہمیشہ اور مستقیلاً۔ہمیں مت روکیں۔‘‘
شام گہری ہوتی جارہی تھی اور بونداباندی بھی شروع ہوگئی تھی۔ و ہ چپ چاپ یادوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سرجھکائے آستانے سے باہر نکل آئی۔چوکھٹ پر سبز عمامہ والے شاہ صاحب کو دیکھ کرایک لمحے کے لیے رکی لیکن پھر تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی۔اتنے میںایک صداکی دوری پر واقع آکاش دیپ سنیما ہال کی ٹکٹ کائونٹرسے آواز آئی ۔
’’ہاف ٹائم پکچر ابھی باقی ہے۔!!‘‘
٭٭٭
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

