گلزاریعنی نظم گو،گلزاریعنی غزل کا شاعر،گلزاریعنی افسانہ نگار،گلزاریعنی نغمہ نگاراور خودایک نغمہ،گلزاریعنی فلم ساز،ہدایت کار، سکرپٹ رائٹرومکالمہ نویس،گلزاریعنی ایک نستعلیق،مہذب اور مرنجاں مرنج شخصیت،گلزاریعنی دلِ دردمنداور فکرِ ارجمند کا ترجمان، گلزار یعنی دلِ گداختہ کا آئینہ ،گلزاریعنی اردو،اردوکی شاہانہ روایتوں کا امین،گلزاریعنی کتاب،گلزاریعنی غالب(سیریل)،گلزاریعنی ہندوستان، گلزار یعنی پاکستان،گلزار یعنی سرحدوں سے ماوراانسان، گلزاریعنی ایک اسم،ایک طلسم!
گلزارصاحب ایک وہ ہیں،جن کی زنبیل میں آسکر ایوارڈ وننگ گانا’’جے ہو‘‘اورایسے نغمے بھی ہیں،جن کی وجہ سے انھیں دس سے زائدبار فلم فیئرایوارڈسے نوازا گیاہے۔’’چل چھیاں چھیاں‘‘،’’کجرارے کجرارے، تیرے کارے کارے نینا‘‘،’’نینوں کی مت مانیورے ،نیناں ٹھگ لیں گے‘‘،’’ابنِ بطوطہ،بغل میں جوتا‘‘اور’’بیڑی جلَیلے جگرسے پیا‘‘جیسے گانے بھی انہی گلزارصاحب نے لکھے ہیں،جبکہ دوسرے گلزاروہ ہیں،جوحقیقی معنوں میں ایک باکمال شاعرہیں،ان کی شاعری کی ساخت عام انسانی زندگی کے زمینی حقائق سے جڑی ہوئی ہے،ان کے تخیل میں ایک عجیب ندرت،مگر سادگی ہے،ان کی امیجری،ان کی تشبیہ،ان کے کنایے،ان کے استعارے،ان کی تمثیلات واشارات میں ایک دلچسپ قسم کی انفرادیت و جاذبیت ہے،وہ بوجھل تعبیروں کی بجاے سادہ و معصوم تراکیب سے اعلیٰ ترین معانی خلق کرتےہیں،ان کی شاعری میں تخیلات و افکار کی رنگارنگ کائنات بستی ہے،انھوں نے زندگی کے واقعات وحقائق کو جس سہولت اور پرکاری سے بیان کیاہے،وہ انہی کا حصہ ہے،حیات کی بے ثباتی،جذبات کی ناآسودگی،تمناؤں کی بے پناہی،چاہتوں کا اضمحلال،معاشرتی ناہمواریاں،سیاسی سفاکیاں اور محبت کے بکھرتے ،نکھرتے،ٹھہرتے اور گزرتے رنگوں کوجس چابک دستی سے گلزارصاحب نے اشعارکی لڑیوں میں پرویاہے،اس کا ادراک انھیں پڑھتے ہوئے ہر صاحبِ ذوق قاری کوہوسکتا ہے،ان کی غزلوں کی بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں معانی و موضوعات کاٹھہراؤ یا سمٹاؤ نہیں،پھیلاؤ اور توسع ہے،ان کی تشبیہوں میں ایسی جدت و انفرادیت ہے کہ وہ دورسے ہی شناخت کی جاسکتی ہیں،ان کی نظموں کابھی یہی حال ہے،انھیں پڑھتے ہوئے پردۂ ذہن پر باربار یہ خیال ابھرتاہے کہ گلزارکی تخلیق گہرے فکر و تامل کا نتیجہ ہے، پھرجب ہم ان تشبیہوں کے مافیہ میں جھانکتے ہیں،تومحسوس ہوتاہے کہ یہ تو نہایت ہی آسان سی ہے،مگریہ آسانی ایسی ہے،جوبڑی دشواریوں کے بعد حاصل ہوتی ہے،مثلاً ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو: (یہ بھی پڑھیں رومی کی بازیافت یا انٹر نیشنل فراڈ؟ – نایاب حسن )
جن کے سرہوعشق کا چھاؤں
پاؤں کے نیچے جنت ہوگی
یہ ان کے ایک مشہورگانے کاپہلا شعر ہے ،بہ ظاہر بہت سادہ لگتاہے؛لیکن اگراس کے اندرون میں اتریں،عشق کو ایک سایہ داردرخت مانیں،جس کے نیچے عاشق کھڑاہے،توپاؤں کے نیچے کی جنت کا احساس کتنا سرو ربخش ہوجاتاہے!
اوراِس شعرکی معنویت دیکھیے!
زمیں سادوسراکوئی سخی کہاں ہوگا
ذراسابیج اٹھالے،توپیڑدیتی ہے
’’اردو‘‘ان کی ایک مشہورومقبول ترین نظم ہے،جس میں انھوں نے بڑے خوب صورت اور سادہ اسلوب میں اردوزبان کی مٹھاس،شفافیت،دلکشی،شایستگی اور حسن و جمال کی نقشہ گری کی ہے،یہ پوری نظم خوب صورت تشبیہات کا مرقع ہے ،مگرایک جگہ توانھوں نے کمال ہی کردیاہے،کہتے ہیں:
کہیں کچھ دورسے کانوں میں پڑتی ہے اگر اردو
تولگتاہے کہ دن جاڑوں کے ہیں،کھڑکی کھلی ہے،دھوپ اندرآرہی ہے!
یہ الفاظ پڑھنے کے نہیں،اپنے مخصوص مذکورماحول میں محسوس کرنے کے ہیں،وہ احساس جوسخت سردیوں کے زمانوں میں کھڑکی سے چھننے والی کرنوں سے پیداہوتاہے،کتناپرکیف اور دل آگیں ہوتاہے،اسی احساس کانام اردوہے!
ان کی ایک اور بہت مشہورنظم ہے’’کتاب‘‘،اس میں انھوں نے نئے الیکٹرانک ترقیات اور ٹیکنکل فتوحات کے دورمیں مطبوعہ کتابوں کے مطالعے کے معدوم ہوتے چلن پراپنے مخصوص پیرایے میں اظہارِ افسوس کیاہے اوریہ بتایاہے کہ اکیسویں صدی،جوکہ بعض معقول اسباب کی بناپر اطلاعاتی انقلاب اور علم ومعلومات کے دھماکے کی صدی کہلاتی ہے،اس میں کس طرح ایک اچھاخاصا ،ذی علم اور پڑھنے لکھنے سے دلچسپی رکھنے والا انسان بھی الیکٹرانک ڈوائسزکا اسیرہ وکر رہ گیاہے اور روز بہ روزمطبوعہ کتابوں سے دوری بڑھتی جارہی ہے،جو یقیناً فکرمندکرنے والی بات ہے؛کیوں کہ جو کشش اور مطالعے کا جواصل مزاحقیقی کتاب کو پڑھنے میں ہے،وہ کمپیوٹر،موبائل وغیرہ کی سکرین پر پڑھنے میں نہیں،یہ پوری نظم بھی خوب صورت تشبیہات و استعارات کادلکش نمونہ ہے،گلزارنے اپنی اس نظم میں کتاب کوایک محسوس وگویا پیکرعطاکرکے کتاب بینی کے مختلف مظاہر کوبیان کیاہے اورنئے عہدمیں ان کی نایابی کے المیے کوبڑے منفرداور ذہن میں اترجانے والے اندازمیں بیان کیاہے:
بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں
انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
جو قدریں وہ سناتی تھیں
کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے
وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں
جو رشتے وہ سناتی تھیں
وہ سارے اُدھڑے اُدھڑے ہیں
کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے
کئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیں
بنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظ
جن پر اب کوئی معنی نہیں اگتے
بہت سی اصطلاحیں ہیں
جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیں
گلاسوں نے انہیں متروک کر ڈالا
زباں پر ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کا
اب انگلی کلک کرنے سے بس اک
جھپکی گزرتی ہے
بہت کچھ تہہ بہ تہہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر
کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہے!
گلزارکی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں نہایت سادہ و آسان الفاظ و تراکیب ،معانی و افکار کاجہان ملتاہے ،وہ بہت سے معمولی اور پامال الفاظ سے بھی بڑی پرمعنی تخیل آفرینی کاکام لیتے ہیں،ان کے پاس ایسے اشعار کا ایک خزانہ ہے اورانہی نے انھیں ادب و شعر سے دلچسپی رکھنے والے عوام و خواص ہر طبقے میں مقبول و محبوب بنادیا ہے اوراسی وجہ سے ان کے سیکڑوں اشعارضرب المثل بن چکے ہیں،ایسے اشعار کو پڑھتے ہوئے کسی تشریح یا توضیح کی ضرورت نہیں رہتی،ذہن و دماغ کے پردے پرخود بخود اس کے معانی روشن ہوجاتے ہیں،فہم وفکر کی رگیں پھڑک اٹھتیں اورذوقِ ادبی وشعری مست مگن ہوجاتاہے،کچھ نمونے:
سہما سہما ڈراسارہتاہے
جانے کیوں جی بھراسارہتاہے
کائی سی جم گئی ہے آنکھوں میں
سارامنظر ہراسارہتاہے
شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے
وقت رہتانہیں کہیں ٹک کر
عادت اس کی بھی آدمی سی ہے
جب بھی یہ دل اداس ہوتاہے
جانے کون آس پاس ہوتاہے
زخم،کہتے ہیں دل کا گہناہے
درد،دل کا لباس ہوتاہے
خوشبوجیسے لوگ ملے افسانے میں
ایک پرانا خط کھولاانجانے میں
دل پر دستک دینے کون آنکلاہے
کس کی آہٹ سنتاہوں ویرانے میں
زندگی یوں بسر ہوئی تنہا
قافلہ ساتھ اور سفرتنہا
دن گزرتانہیں ہے لوگوں میں
رات ہوتی نہیں بسر تنہا
دل اگر ہے تودردبھی ہوگا
اس کاکوئی نہیں ہے حل شاید
کبھی توچونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف
کسی کی آنکھ میں ہم کوبھی انتظار دکھے
شام سے آج سانس بھاری ہے
بے قراری سی بے قراری ہے
آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے
آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے
منوں کا بوجھ لیے چل رہے ہو
بہت بھاری ہے بوجھا لے کے چلنا
امیدیں کم کرو،لمباسفرہے!
کھلی کتاب کے صفحے پلٹتے رہتے ہیں
ہواچلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیں
یہ روٹیاں ہیں،یہ سکے ہیں اور دائرے ہیں
یہ ایک دوجے کو دن بھر پکڑتے رہتے ہیں
گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں
گلوں کے ہاتھ بہت سی دعائیں بھیجی ہیں
تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں
سزائیں بھیج دو،ہم نے خطائیں بھیجی ہیں
پھولوں کی طرح لب کھول کبھی
خوشبوکی زباں میں بول کبھی
الفاظ پرکھتارہتاہے
آوازہماری تول کبھی
یہ دل بھی دوست زمیں کی طرح
ہوجاتاہے ڈانواڈول کبھی
دردہلکاہے،سانس بھاری ہے
جیے جانے کی رسم جاری ہے
آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے
آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے
گلزارکی پیدایش موجودہ پاکستان کے جہلم میں واقع دینہ نامی قصبے کی ہے،تقسیمِ ہندکے بعدجب ان کا گھرانہ ہجرت کرکے دہلی پہنچا،تب ان کا بچپناشعورسے ہم آغوش ہورہاتھا،ایسے میں اپنے گھر اور طن کوچھوڑنے کا غم ان کی روح میں پیوست ہوگیا،جس کا اثران کی شاعری میں بھی جگہ جگہ جھلکتاہے اور محسوس ہوتاہے کہ اسی بیاسی سال کے بوڑھے گلزارمیں دس بارہ سال کا بچہ اب بھی موجودہے، گلزارنے ایک سے زائد ایسی نظمیں لکھی ہیں،جن میں وطن سے دوری و مہجوری کے کرب کا اظہار کیاہے،دینہ ان کی شاعری میں سانس لیتاہے اوروہ دینہ کی یاد سے کبھی غافل نہیں ہوتے،تقسیمِ ہند،مہاجرت اور ہندپاک تعلقات کے حوالے سے ان کی کئی نظمیں ہیں اوران سب میں گلزارصاحب کی اپنی جنم بھومی سے بے پایاں محبت کے جذبات کارفرماہیں،’’ دستک‘‘، ’’کبڈی‘‘، ’’سنواس بار بھی رمضان کے دن تھے‘‘،’’رفیوجی‘‘جیسی نظموں میں ان کے ایسے جذبات صاف طورپر محسوس کیے جاسکتے ہیں،ان کی ایک نظم ہے’’ہم وطن‘‘جسے انھوں نے معروف شاعر احمدفرازکی نذرکی تھی،اس کے آخری دوشعر کچھ یوں ہیں: (یہ بھی پڑھیں زندگی تیرے لبوں کا دل انگیز رقص ہے /سہراب سپہری – ترجمہ:نایاب حسن )
تمھیں عزیز ہے اپنا وطن میں جانتاہوں
مجھے بھی اس سے محبت ہے تم یقیں کرلو
ذراسافرق ہے گرتم سمجھ سکواس کو
کہ تم وہیں کے ہواور میں وہیں سے ہوں
مظاہرِفطرت کے مختلف رنگ و روپ گلزارکی شاعری کومختلف معنویتوں سے ہم کنار کرتے ہیں، کرنیں، بارش، چھتری، جنگل، دریا، پہاڑ، چاند،رات،آنسو،آنکھ اپنی تمام تر خصوصیات اورتنوعِ احوال کے ساتھ گلزارکی شاعری میں جلوہ گرہیں اور وہ انھیں مختلف موقعوں پر مختلف معانی،تخیلات و افکار کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
بہرکیف اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح گلزاراپنے ظاہری سراپاکے اعتبار سے نہایت نفیس،لطیف،نکھرے ، ستھرے اور اُجلے نظرآتے ہیں،اسی طرح ان کی شاعری میں بھی بلاکی شفافیت ،اجلاپن اور جمال و کشش ہے،پاکستان کے مشہورومعروف اور منفرد شاعرپیرزادہ قاسم نے ان کے بارے میں ایک جگہ لکھاہے’’گلزارکے یہاں شاعری اپنی اصلی شناخت کے ساتھ چہرہ نمائی کرتی ہے،بے ساختہ،معنی آفریں، اثرانگیز،بھرپور اور نادرامیجری،اس میں پڑھنے والے کے جذبات کواظہارِ طلب بنادینے کی حیرت انگیز صلاحیت ہے‘‘۔اورامجداسلام امجداپنے دوست گلزارکے نام ایک نظم میں کہتے ہیں:
جیسے فن کار کو پتھر میں چھپے نقش نظرآتے تھے
تم نے بھی لفظ کے باطن میں نہاں
ایسے امکان چنے
جوبہت دیر سے ایسی ہی کسی آنکھ کے متلاشی تھے
تم نے ان اَن بنے رنگوں میں وہ نظمیں ڈھونڈیں
جن کی خوشبوتمہی پہچانتے ہو!
تم کومعلوم ہے کس حرف کا جوہر کیاہے
کس کوپلکوں پہ بٹھانا،کسے ردکرناہے
تم بھی اک اپناہنر جانتے ہو
ایک منظرکے جلومیں جوکئی منظرتھے
ان کی آوازسنی،ان کواُجالاتم نے!
آج گلزارصاحب کا یومِ پیدایش تھا،اسی تقریب سے کچھ لکھنے بیٹھا،تومطالعہ اورذہن ودل کی ہم نشینی میں یہ سطریں زیرِتحریر آگئیں، ویسے گلزار کی شاعری کی اوربھی جہتیں ہیں،اس کے علاوہ وہ ایک جان دار نثرنگاربھی ہیں،’’پچھلے پنے‘‘نامی کتاب میں انھوں نے ادب وفلم سے وابستہ اپنے مختلف دوستوں سے مربوط یادوں کے جوخاکے کھینچے ہیں،ان میں بلاکی روانی ،سلاست اور شیرینی ہے،ان کے افسانوں پر بھی بہت کچھ لکھاجاسکتاہے اورلکھاجارہاہے،ان کا اردورسم الخط بھی نہایت دلکش و دلنشیں ہے،ان کا ذوقِ مطالعہ،ان کی خلوت گزینی وغیرہ بھی ان کی شخصیت کے اہم پہلوہیں۔
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

