Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

لِسانی اور فنی ہُنر مندی کاباکمال نمونہ:فیاض رفعت کا ناول ’’بنارس والی گلی‘‘-پروفیسر شہزاد انجم

by adbimiras ستمبر 15, 2020
by adbimiras ستمبر 15, 2020 0 comment

اردو کے علمی و ادبی حلقے میں فیاض رفعت کا نام خاصا جانا پہچانا ہے۔ اُن کے افسانوں کے تین مجموعے ’’نئے عہد کی سوغات ‘‘ ، ’’میرے حصّے کا زہر ‘‘ اور ’’جہانِ دگر ‘‘ شائع ہوکر منظر عام پر آ چکے ہیں ۔ وہ ایک افسانہ نگار کے طور پر منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

ناول ’’بنارس والی گلی‘‘  فیاض رفعت کی تخلیقی جَودت کا بے مثال نمونہ ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں اُردو میں کئی اہم ناول شایع ہوئے ، اُن میں لِسانی اور فنّی ہنر مندی کی سطح پرفیاض رفعت کا ناول ’’بنارس والی گلی ‘‘ بھی نمایاں ہے۔

تخلیقی فن پارہ ’’ بنارس والی گلی ‘‘ کے مطالعے کے بعد کئی سوالات ذہن میں کوندتے ہیں ۔ کیا یہ محض ایک طوائف کی داستان ہے؟ کیا یہ ایک سوانحی ناول ہے، جس کا مرکزی کردار بادشاہ خاں خود ناول نگار ہے ؟ کیا یہ ناول اپنے فلسفیانہ روّیوں کی وجہ سے منفرد ہے ؟ کیا یہ ناول اپنی فطری نثر اور پُر قوت اظہار کی وجہ سے جانا اور پہچانا جائے گا ؟ کیا اس ناول کے متعدد کردار ایسے گہرے نقش قائم کرتے ہیں جن کی مثالیں اب ذرا کم کم ملتی ہیں ؟ کیا ناول نگار کے ذہن میں طوائف کی زندگی ،اخلاقی ابتری اور رقص و موسیقی کو پیش کرنا بنیادی نکتہ تھا ؟ یا پھر مصنف کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ اپنی زبان کی طاقت اور انداز بیان سے اِس ناول کو عروج بخشتا ہے۔ آپ یقین کیجئے اس ناول نے مجھے ابتدا سے آخر تک بہت پریشان کیا ہے ۔ جب میں نے اس ناول کو پڑھنا شروع کیا تو پہلے ہی صفحے پر میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی جب میں نے یہ پیراگراف پڑھا:

’’اُس دن براڈ کاسٹنگ ہاؤس کی چھ منزلہ عمارت کے پہلے مالے پر اُسے اپنے روبرو دیکھ کر حیرت سے میں بت بنارہ گیا۔ چہرہ جانا پہچانا تھا۔ برسوں کی دُھند نے شناخت کو اِک ذرا مشکل بنادیا تھا۔ سانولی سلونی رنگت والی مضبوط بدن کی عورت خاصی پرکشش تھی۔ گوجسم فربہی کی طرف مائل تھا، مگر قوسوں کے نمایاں ہوجانے کی بنا پر وہ کمان پر چڑھا ہوا ایسا تیر تھی جو بڑے بڑوں کی ریاضت کو آج بھی خاک میں ملا سکتی تھی۔ میز پر سجے گلدان کے باسی پھولوں میں خوشبو باقی تھی۔ اپنی دُھواں دُھواں آنکھوں سے وہ مجھے حیرت سے تکاکی۔ ماضی کی راکھ کے الاؤ میں دبی چنگاریاں جگنوؤں کی طرح روشن ہوگئیں اور ایک پوری دنیا….پوری کائنات میری آنکھوں کی محرابوں پر انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی ۔ بیتے وقت کا ایک ایک لمحہ اپنی تمام ترسرشاریوں کے ساتھ میرے تھکے ہوئے وجود کو سہلانے اور گد گدانے لگا کہ زندگی کی اس ہزار شیوہ داستان کا شہریار بھی میں ہوں اور شہر زاد بھی!‘‘                                                              (بنارس والی گلی––صفحہ نمبر  ۱ )

ایسی منظر کشی ، جزئیات نگاری ، انداز بیان ،فنّی ہنر مندی کے کمالات کہ میں اس کی نثر کے سحرمیں کھو گیا ۔ یہ سطریں پہلی ہی نظر میں قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہیں مگر اس کے اگلے ہی پیرا گراف میں ناول ایک خاص تکنیک کے تحت ماضی کی طرف چلا جاتا ہے جب ہم یہ پڑھتے ہیں کہ :

’’اس سے پہلے کہ ہم بنارس والی گلی تک آئیں ،کہانی کا پس منظر بیان کرنا ضروری ہے کہ اس کے بغیر یہ الف لیلوی داستان ادھوری ہی رہ جائے گی ۔

بیس برس بیتے …میں علی گڑھ یونیورسٹی میں پارٹ ون کا طالب علم تھا …

(بنارس والی گلی صفحہ ۱،۲)

ناول کا آغاز علی گڑھ سے ہوتا ہے۔مرکزی کردار اور راوی یعنی بادشاہ قصّہ کا آغاز کرتا ہے۔ والد انگریزوں کے زمانے کے تھانیدار ،گھر میں ہر طرح کی فراغت ،موج مستی ،غیر نصابی مشاغل میں زیادہ دلچسپی ،ہیکڑی اور دادا گیری ،بے نکیل اونٹ اور جنگلی جانوروں کی طرح اِدھر اُدھر منہ مارتے پھرنا ، ماں کی بے پایاں محبت اور ممتا کے سائے میں پرورِش و پرداخت ۔ یہ تھے بادشاہ خاں جنھیں کالج کے زمانے میں ہی طوائف خانے کی طرف جانے کا چسکا لگ گیا ، ایک دو گھونٹ پینے بھی لگے ۔ طوائفوں میں جانا ،رات رات بھر گانا سننا اُن کا معمول ہو گیا ۔ کبھی اِس طوائف کے یہاں تو کبھی  اُس طوائف کے یہاں جا دھمکے ۔ کمال یہ ہے کہ ناول نگار نے اِن بیانات میں طوائفوں کی نفسیات، ان کے رسوم ، رکھ رکھاؤ ، ادب و آداب کا ایسا نقشہ کھینچا ہے، ایسی جزئیات نگاری اور منظر کشی کا جلوہ بکھیرا ہے کہ بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ درمیا ن میں مختلف کردار بھی در آتے ہیں جو اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیں ۔ ان ہی محفلوں میں بادشاہ خاں کی ملاقات نسرین اختر سے ہوتی ہے جو بادشاہ خاں کے دل و دماغ پر چھا جاتی ہے۔ در اصل یہ ناول نسرین کی زندگی کا المیہ ہے۔ نسرین اختر اور بادشاہ خاں ناول کے مرکزی کردار ہیں ۔ بادشاہ خاں کی زندگی کے مکمل کوائف کو ناول میں پیش کیا گیا ہے ۔ مگر ناول کی تہہ میں نسرین اختر کی حکمرانی ہے۔ بادشاہ خاں علی گڑھ سے دہلی ، دہلی سے بمبئی اور پھر کلکتہ او رجھارکھنڈ بھی جاتا ہے۔ ناول نگار نے ان شہروں کی تہذیب و ثقافت ، کرداروں کی نفسیات ، شہروں کے تیزی سے بدلتے ہوئے رنگ ، مٹتی قدریں ، نو دولتیوں کی ذہنی کیفیت ، سیاست، معاشرت، شخصیات اور کرداروں کے مرقعے بے حد چابکدستی ، فنی مہارت اور بصیرت و بصارت سے پیش کیا ہے۔ ناول کو پڑھنے کے دوران ہر جا ناول نگار کی بصیرت ، علمی و ادبی ذوق، فلسفیانہ واقفیت ، تہذیب و ثقافت کے سچّے ادراک اور وژن کا بھی اندازہ ہوتا ہے، مگر ناول کی بڑی خوبی فیاض رفعت کی زبان اور انداز بیان ہے ۔ ہر موضوع اور جزئیات کی پیش کش میں بلا کا حُسن ہے۔ نسرین اختر کے یہاں جب بادشاہ خاں پہنچتے ہیں تو اُس طوائف خانے کا منظر ملاحظہ کیجیے :

’’کمرہ کافی طویل و عریض تھا ۔ سفید براق چاندنی بچھی ہوئی تھی ۔ سلیقے کے ساتھ گاؤ تکیے لگے ہوئے تھے۔ موتیا ، بیلا کے پھولوں کی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی ، سارنگی پر ایک بزرگ صورت آدمی بیٹھا سُر ملا رہا تھا۔ ہارمونیم طبلے پر دو مِراثی بیٹھے ہوئے کوئی فلمی دُھن نکال رہے تھے ۔ اُن کی آگے ایک شہابی رنگت والی عورت کَسی بنی بیٹھی تھی۔ اُس کے چہرے پر ایک خاص طرح کی معصومیت تھی۔گو وہ مسکرا رہی تھی مگر اُس کی مسکراہٹ میں مونا لیزا کا حزن و ملال چھپا ہوا تھا۔ اُس کے پہلو سے لگی نو خیز ،شوخ و شنگ، سنولائی رنگت کی لڑکی بیٹھی ہوئی بات بات پر ہنس رہی تھی ۔ دو تین تماش بین بیٹھے ہوئے تھے۔ اُن میں سے ایک کو میں جانتا تھا۔ ذات کا کنجڑا تھا اور پھلوں کی منڈی میں اُس کا بڑا کار و بار تھا ۔ اس کے علاوہ دو ادھیڑ عمر کے بنیے گاؤ تکیہ کا سہارا لیے آرام سے فروکش تھے ۔بعد میں پتہ چلا اُن میں ایک کا نام تارا چند ہے جو تالوں کی ایجنٹی کرتا ہے اور دوسرے مہاشے کیلاش جی ہیں جو رائل تھیٹر کے مالک ہیں اور رنڈیوں کے پرانے سر پرست بھی ۔ صبح سے شام او ر شام سے رات تک رنڈیوں کے بالا خانوں میں ڈیرا جمائے رہتے ہیں ۔‘‘

(بنارس  والی گلی ، ص، ۱۵)

یہی فنکار کا حُسن ہے کہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے اور کردار حرکت و عمل میں آ جاتے ہیں۔ الفاظ کے انتخاب میں بھی تخلیق کار کو ملکہ حاصل ہے ۔ چند الفاظ میں حُسن دو بالا ہو جاتا ہے یا پھر کرداروں کی کارکردگی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

بادشاہ خاں ،نسرین اختر کی پہلی ہی نظر سے گھائل ہو جاتا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نسرین اختر نے کوئی جادو ٹونا کر دیا ہو ۔ ، مگر نسرین اختر کا باپ بڑا ہی چلت پھرت والا انسان تھا ۔ اُس نے بادشاہ خاں سے جو کہا وہ بھی ملاحظہ کیجیے :

’’دیکھو بابو! تم ہمارے یہاں آتے ہو، خوش آمدید! سر آنکھوں پر۔ بس ایک بات کا خیال رکھنا ، گانا بجانا ہمار ا  پیشہ ہے۔ گھوڑا گھاس سے یاری کرے گا تو کھائے گا کیا۔ ہم تو رنڈی بھڑوے ہیں۔ ہمارا ایمان پیسہ ہے۔ ہم پیسے کے لیے خوار ہوتے ہیں۔ بازار میں لڑکیوں کو لیے بیٹھے ہیں۔ یہ تو نیلام گاہ ہے جہاں بولی لگتی ہے۔ جس کی بولی سب سے بڑی ہوتی ہے، گوہر مقصود اُسی کے ہاتھ آتا ہے۔ اب تم کس طرح سوچتے ہو تم جانو۔ چھوٹی اختر کی نتھ اترائی کی رسم ادا ہونی ہے۔ کلکتہ اور آگرہ کے چمڑے کے بیوپاری اچھی بولی لگارہے ہیں۔ ایک طرح سے ہمارا بھی چمڑے کا….کاروبار ہے۔ اگر تمھاری چھوٹی پر نظر ہے تو بسم اللہ ۔ انٹی گرم کردو ، اختر تمھاری ہو جائے گی۔ ایک رات کی قیمت تمھارے لیے پانچ ہزار ہوگی۔ ورنہ خیال چھوڑ دو، یہ رنڈی کا کوٹھا ہے۔ یہاں عشق محبت کی داستانیں زیادہ دنوں تک نہیں پھلتی پھولتیں۔‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۲۲)

نسرین اختر کے باپ مشتاق نے صاف طور پر بادشاہ خاں کو جتا دیا کہ یہ نیلام گاہ ہے جہاں بولی لگتی ہے، رنڈیاں عشق کے کوچے میں محبت کے راگ الاپیں تو بات نہیں بنے گی ۔ گرم جیب والوں کی جیبیں خالی کرانا اُن کا مذہب اور ایمان ہے ، مگر بادشاہ خاں اور نسرین اختر تو عشق کے بخار میں تپ رہے تھے ۔ انھیں اِن باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔ یہاں تو دونوں طرف برابر کی آگ لگی ہوئی تھی ۔ مگر حالات نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ۔ نسرین بیگم کو اچانک خاموشی سے خفیہ مقام پر پہنچا دیا گیا۔ وہ کہاں گئی ، بقیہ زندگی کیسے بسر ہوئی ، کن کن لوگو ں سے واسطہ پڑا ، زندگی کے سرد و گرم کو اس نے کیسے جھیلا ، ان سب کا بیان کتاب کے آخری صفحات میں درج ہے ۔ مگر بادشاہ خاں تو غضب کا انسان ہے ، مزاج میں سیمابیت ہے، عشق کا دلدادہ ہے۔ ذہانت و ذکاوت، ہمت و جواں مردی میں کوئی اس کا ثانی نہیں ۔ ناول نگار نے بادشاہ خاں کے کردار کو نہایت محنت ،خوبصورتی اور فنکاری سے گڑھا ہے۔ ہر مقام پر وہ نمایاں اور سر خرو رہتا ہے۔ چھچھلا پن اس کا شیوہ نہیں۔ بادشاہ خاں کا گزر جن مقامات سے ہوتا ہے ، جہاں جہاں اُس کا قیام رہتا ہے ، جن اشخاص سے اُس کی ملاقاتیں ہوئی ہیں ، جس جس ماحول میں وہ بستا ہے، قریب سے دیکھتا ہے ، جھیلتا ہے ، سرد و گرم ہواؤں سے متاثر ہوتا ہے ،اُن سب کا بیان ناول نگار نے نہایت موثر انداز میں ناول میں کیا ہے۔  اِس ناول میں کردار نگاری ، واقعہ نگاری، منظر نگاری ، جزئیات نگاری ، تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا بیان غضب کا ہے۔ ناول کے ہر صفحے پر نظر ٹھہر جاتی ہے۔ محاورات ، ضرب الامثال ، روز مرّہ ، بولی ٹھولی کا ایسا برجستہ و بیساختہ استعمال ناول کی نثر میں ہے کہ ناول کی دلکشی ، دلآویزی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ زبان و اسلوب کی توانائی ، نثر کا حُسن پورے ناول میں جلوہ گر ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔

بادشاہ خاں کی زندگی کے ابتدائی ایّام جس ماحول میں گزرتے ہیں ،اُس کے مزاج میں کالج کے زمانے سے ہی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے ، وہ مزاج کا حصّہ بن جاتی ہے۔ ماں کی نصیحت کا خاصا اثر بھی ہوتا ہے ، وہ نسرین اختر کے عشق کی آگ میں جلتا رہتا ہے اور جب زیبُن آپا اُس سے یہ کہتی ہیں :

’’بادشاہ بیٹے ! تمھارے دل میں عشق کے جلتے ہوئے الاؤ کو روشن دیکھ رہی ہوں۔ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے ، مگر مقدر کے امکانات کی دنیا ئیں محدود ہیں۔ یاد رکھو! خواہش کی سبیلیں دوسروں کو شاداب کرسکتی ہیں مگر خود تشنگی ان کا نصیب ٹھہرتی ہے۔ اس راہ دشوار میں زہریلے ناگ بچھے ہوئے ہیں۔ تم ان کی یلغار کو کہاں تک جھیلوگے۔ یہ عشق کمبخت وہ زہر ہے جس کا نشہ دھیرے دھیرے حواس پر چڑھتا اور پھر انسان کو عضو معطل بنا کر چھوڑ دیتا ہے ۔ تم ہوسکے تو خود کو اس حلقۂ زنجیر سے آزاد کرلو۔ تمھاری ماں کی عبادت گزار آنکھوں سے پھوٹتی ہوئی روشنی تمہاری ڈھال بنی ہوئی ہے۔ اختر چند ن کا درخت ہے جس کی شاخوں سے سانپ لپٹے ہوئے ہیں اگر وہ اسے آزاد چھوڑسکتے ہیں، اگر وہ ان سے نجات حاصل کرسکتی ہے تو میری طرف سے اجازت ہے۔جاؤ ابھی جاؤ تمہارا خدا والی!‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۵۹)

مگر زرد آندھی کا زور تھمنے نہیں پایا ۔ شہر علی گڑھ میں فرقہ وارانہ فساد ہو گیا ۔ پورا شہر فساد کی زَد میں آ گیا ۔ بادشاہ خاں کی محبت کو بھی نظر لگ گئی ۔ نسرین اختر کی محبت بھی خاموش وادی میں گُم ہو گئی۔ فساد سے پُورا شہر متاثر ہوا ۔ حالات کے بدلتے رُخ کو دیکھ کر تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اور مستقبل روشن کرنے کے لیے بادشاہ خاں نے دہلی کا رُخ کیا ،لیکن اِس باب کے اختتام سے قبل ناول نگار علی گڑھ کی علمی و تہذیبی زندگی کا نقشہ پیش کرنا نہیں بھولتا ہے ۔ تالے کا کارو بار ، ہو ٹل اسکائی لارک، عثمانیہ ریسٹورنٹ ، پروفیسر عبد الحفیظ ، لو دھی صاحب، اختر انصاری ، فوق کریمی ، عبد المجید خواجہ ، نازش انصاری ، عشرت امیر ، قاضی عبد الستار ، خلیل الرحمن اعظمی ،بلقیس آپا ، وغیرہ کے ذکر سے علی گڑھ کی جیتی جاگتی تصویر کا اندازہ ہوتا ہے۔ علی گڑھ ابتدا سے ہی علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے مگر شہری زندگی مختلف رہی ہے جس کابین ثبوت ناول کا یہ باب ہے۔

دہلی میں بادشاہ کواپنے پہلے پیار نسرین اختر کی یاد ستاتی ہے ، رِضّو باجی ، رئیسہ اور مُنّی کی یادیں بھی اُسے بے چین کرتی ہیں ساتھ ہی دہلی کی ہنگامی زندگی ، بڑے شہر کے مسائل و مشکلات ، تعلیم حاصل کرنے کی خواہش و کاوش اور نئے دوستوں کے درمیان نئی زندگی کی شروعات ہوتی ہے۔ دہلی کی زندگی کا جو نقشہ فیاض رفعت نے پیش کیا ہے وہ حد درجہ اثر انگیز  اور مختلف ہے ۔ مثلاً ناول کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے :

’’جامع مسجد کی سیڑھیوں پر آباد چائے خانوں میں داستان گوئی کی روایت چراغ کی صورت ضوفشاں تھی۔ ہاکی کے کوچ اور کرخندار گور بخش سنگھ مشتاق یوسفی کے ’آب گم ‘ کی تلاش میں عرق عرق ہو رہے تھے ۔ جوتے والے بھائی تقی شمع معموں کی کلید ڈھونڈ رہے تھے ۔ حاجی ہو ٹل آباد تھا ۔ جہاں رات کے آخری پہر تک دلّی کے سفید پوشوں کی بزم آراستہ ہوتی تھی ۔ اُردو بازار کی رونقیں ادیبوں اور شاعروں کے دم قدم سے زندہ تھیں ۔ مچھلی بازار کے عین سامنے آزاد ہند ہو ٹل کی سیڑھیوں سے لپٹی ہوئی فراق ، جوش اور بسمل کے قدموں کی دھول شعر و سخن کی  نا تمام بزم آرائیوں کے احساس کو جگا رہی تھی ۔ عضو یاتی شاعری کے نمائندے افضل پشاوری اپنی سات عدد بیویوں کے ساتھ حسب روایت گوشت کھانے اور گو شت لڑانے کے فن کو فروغ دے رہے تھے۔ اُردو ہندی اور انگریزی کی کتابوں کے جعلی ایڈیشن شائع کرنے والے بابو بنارسی داس نے پردہ کر لیا تھا ۔ ان کی فلک بوس عمارت ویرانی کا مسکن تھی اور جہاں کبوتروں کی چھتری تھی ، وہاں کبوتروں کے غول کے غول اُترتے او رصبح و شام ان کے نہ ہونے کا ماتم کرتے اورپھر اُداسیوں کے گہرے بادلوں میں کھو جاتے ۔ ‘‘

( بنارس والی گلی، ص ، ۷۶)

ناول میں دہلی کی سیاسی و تہذیبی زندگی ، جلال و جمال ، علمی و ادبی سرگرمیاں ، رونق و زبوں حالی کو فنکارانہ انداز میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ اُس عہد کی دلّی کی تصویر آنکھوں کے سامنے تیرجاتی ہے۔ ہرے بھرے شاہ کے مزار کی رونق ہو یا کریم نان بائی کا ٹھیہہ ، کتب خانہ عزیزیہ ہو یا پھر دلّی کالج ، مجنوں کا ٹیلہ یا جامع مسجد یا پھر تیمار پور یا پھر وہاں کے مکین ، ان تمام عناصر کو ناول نگار نے فنکارانہ مہارت کے ساتھ اپنے مخصوص بیانیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ اِس ناول میں یوں تو بے شمار کردار ہیں اور کئی کرداروں کے شخصی مرقعے اتنے خوبصورت اور یادوں سے اَٹے پڑے ہیں جن کا ذکر لازمی ہے۔ بالخصوص سندھیا ، جاوید ایّوبی ، بڑی بی بی ، سلیم ، سیٹھ کشن لال وغیرہ کے کردار ناقابل فراموش ہیں اور ان کرداروں کے تعلق سے جو واقعات پیش کیے گئے ہیں ، انسانی زندگی کے مختلف رنگ و روپ ،تاریخی و تہذیبی اعتبار سے تیزی سے بدلتی ہوئی زندگی اور بدلتا ہوا شہر ،انسانی نفسیات ، نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے جنسی معاملات ، محبت، عداوت، نفرت ، پرانی وضعداری ، نئی دنیا داری ، سماجی خدمت گار، بیورو کریٹس ، صنعت کار ،مولوی ، پنڈت، ادبا و شعرا ،  اِن سب کی تصویر کشی اس باب میں کی گئی ہے۔ اسی زمانے میں پاکستان کا وجود بھی عمل میں آیا ۔جب بادشاہ خاں اپنی والدہ سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان کیا ہوتا ہے ؟ تو وہ خلامیں گھورنے لگتی ہیں اور کوئی جواب نہیں دیتیں ، اُس پاکستان نے اُنھیں بلک بلک کر رونے پر مجبور کر دیاتھا ۔ بادشاہ کے والد پاکستان جانا چاہتے تھے لیکن اُن کی والدہ اپنی زمین، اپنا گھر، اپنا دیس چھوڑ کر پرائی دھرتی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں ۔ وہ اپنی جڑوں کو چھوڑ کر کیسے جاتیں؟ اُنھیں اپنے پُرکھوں کی ہڈّیوں کو تن تنہا چھوڑ کر پاکستان چلے جانا ہر گز منظور نہیں تھا اور اُنھوں نے اپنی ساری زندگی اُسی زمین پر گزارنا پسند کیا جہاں اُن کے آباواجداد دفن تھے ۔ ایک بڑے المیے کو چند جملوں میں سمیٹ کر اور پورے پاکستان کی عبرتناک صورتحال کو پیش کرکے ناول نگار نے آئینہ دکھایا ہے۔ لیاقت علی خاں کا قتل، مہاجروں کا قتل عام، بھٹّو کا پھانسی پر لٹکایا جانا ، جنرل نیازی کو اپنے چھیانوے ہزار سپاہیوں کے ساتھ جنرل اَروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالنا ،پاکستا ن کی خونریزی اور بد صورتی کو ناول نگار نے پیش کرکے اپنی بصیرت و بصارت کا ثبوت پیش کیا ہے۔

بادشاہ خاں کو وطن کی یاد آتی ہے اور وہ علی گڑھ آتا ہے ۔یہاں سب کچھ بدل جاتا ہے۔ مناکشی، رویندر جین ، رئیسہ کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں ۔ وہاں کی زندگی میں چند معجزے بھی ہوتے ہیں۔ ناول نگار سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے لیکن خیالات کے تلاطم میں وہ خود کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور پھر رقم کرتاہے :

’’ہر انسان خوشی کے زرنگار خوابوں سے اپنے ذہن کو سجاتا ہے۔ یہ جانے بغیر یہ سوچے بغیر کہ خواب ٹوٹنے بکھرنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم خواب دیکھنا چھوڑ دیں؟ بھلے سے ناکامی اور ذہنی اذیت ہمارا مقدر ٹھہرے، لاکھ ہمارے خواب ملال کی بدلی میں کھوجائیں ، ہم خوابوں کی رو پہلی دنیا سے دست کش نہیں ہوسکتے۔ اسرار کے پردے میں چھپی ہوئی زندگی کی عقدہ کشائی کے لیے ہم طوفانوں سے گزرتے ہیں، آندھیوں میں چراغ جلاتے ہیں، صحراؤں کی خاک چھانتے ہیں ، سمندر پر کمندیں ڈالتے ہیں۔ ہر چند اس میں جان کا زیاں ہوتا ہے، پتوار ہاتھ سے چھوٹ جاتے ہیں ،بادبان باد مخالف کی کشاکش سے چھلنی چھلنی ہوجاتے ہیں مگر فطرت کے ساتھ تصادم کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا کہ یہی زندگی ہے اور یہی زندگی کا نشان امتیاز کہ ہم اپنے ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۱۱۴۔۱۱۵)

ناول کی قرأت کے وقت مجھے یہ بھی احسا س ہوا کہ ناول نگار نثر میں شاعری کر رہا ہے۔ ایسی دلکشی اور دلآویزی کم تحریروں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ کبھی ایسا محسوس بھی ہوا کہ ناول نگار ، سماج کی کریہہ صورتوں کو بڑی سفّاکی کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ لیکن اِس موقع پر بھی اُس کا اسلوب اُس کے ساتھ ہوتا ہے۔ کبھی یوں لگا کہ ناول نگار نے طوائفوں اور رقّاصاؤں کی زندگیوں کو بے حد قریب سے دیکھا ہے ، اُس کا خاصا سابقہ اُن سے رہا ہے اور وہ جس مفصّل اندازمیں تمام تر جزئیات کے ساتھ اُسے پیش کرتا ہے یہ اُس کا خاص ملکہ ہے۔ وہ عشق کی وادی کا ایک دیوتا ہے جو سبھی دیو داسیوں کو قریب سے دیکھتا ہے اور اُن کی تصویر اپنے قلم سے بناتاہے۔ کبھی مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ناول نگار وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی زندگیوں کا مصور ہے ،وہ ذہن و دل میں تمام تصویریں بساتا ہے ،اُسے غصہ بھی آتا ہے ، نفرت بھی ہوتی ہے، محبت بھی ہوتی ہے اور عشق کی وادی میں وہ کھو بھی جاتا ہے۔ وہ اوّل و آخر ایک بے چین عاشق ہے جو اپنی پہلی محبت کو فراموش نہیں کرتا ہے مگر وقت کے دھارے میں بہتا رہتا ہے۔ ناول پڑھتے وقت مجھے بیشتر مقامات پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ناول نگار ایک فلسفی ہے، وہ انسانی نفسیات ، تہذیب و ثقافت کا نہ صرف رمز شناس ہے بلکہ انسانی زندگی کے مختلف تصورات اُس کے ذہن میں کوندتے رہتے ہیں ۔ جب بھی کسی حادثے ، واقعے ، خوشی و غم سے کردار کا گزر ہوتا ہے اُس کا قلم رواں ہو جاتا ہے۔ نمونے کے طور پرچند اقتباسات ملاحظہ ہوں :

’’ کسی گمشدہ شئے کی تلاش میں ہم زندگی بھر سفر میں رہتے ہیں، چلتے چلتے ہمارے پاؤں میں چھالے پڑجاتے ہیں، اور گھنی چھاؤں کی تلاش میں ہم صحرا صحرا، پربت پربت ، بھٹکتے ہیں، مگرثبات و قرار کی وہ گھڑی کبھی نہیں آتی ، جس کی تلاش و جستجو میں ہم زندگی کا زیاں کرتے رہتے ہیں۔ تجربات و حوادث کا قطرہ قطرہ زہر ہمارے وجود کو پگھلاتا رہتا ہے، جب تک کہ وجود عدم میں تبدیل ہوکر بسیط فضاؤں میں تحلیل نہ ہو جائے۔‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۱۵۰۔۱۵۱)

’’حیرت زار زندگی کی بوالا لعجمی سے پردہ اٹھانا انسان کے بس کی بات نہیں۔ اس کی ہزار رنگ ادائیں غم ونشاط کا ایسا آمیزہ ہیں کہ ہم فرطۂ حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔ لمحہ بہ لمحہ بدلتی کائنات کی بوقلمونی کبھی مسرتوں کے پھول کھلاتی ہے اور کبھی ہمیں دکھوں کے کانٹوں سے ہلکان کردیتی ہے۔ دکھ اور سکھ کے بیچ کوئی حد فاصل قائم نہیں کی جاسکتی ۔ یہ وقت کی زنجیر کی ایسی کڑیاں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔ ‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۱۶۵)

’’سچ ہے ہم تنہا پیڑ کے آخری پتّے کی طرح بے اعتبار زندگی کی شاخ سے لپٹے ہوئے ہیں ۔ جسے تیز ہوا کا جھونکا کبھی بھی موت کی وادیوں میں اڑالے جائے گا اور آخری پتّے کے شاخ سے جدا ہوتے ہی ہم وجد میں آکر جشن خزاں میں کھوجاتے ہیں کہ یہی زندگی اور کاروبارِ زندگی کی رسم کہنہ ہے جس کے ہم سبھی پابند ہیں۔ ‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۱۸۵۔۱۸۶)

’’ہم جس نخلستان کی تلاش میں آنکھوں کے آنسودریا کرلیتے ہیں وہ ہمیں برماتار جھاتاسراب بن کر آب رواں تک لے جاتا ہے۔ جہاں ریت کا لا محدود سمندر ہمارے یکا و تنہا جود کو اپنے دام میں اسیر کرلیتا ہے کہ یہی ہمارا مقسوم ٹھہرا۔ ہم سب کے ہیں ہمارا کوئی نہیں۔‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۱۹۸)

دَر اصل بادشاہ کی پوری زندگی اُس سیمابیت کا شکار رہے جوطوائف خانوں ، غنڈوں ، موالیوں ، بھڑؤوں ، علما ،شرفا، غریبوں ، امیروں ،جھگی جھونپڑیوں ، فائیو اسٹار ہوٹلوں وغیرہ سبھوں کے ساتھ گزری ۔ وہ اُن کا چشم دید گواہ ہے اور اُن واقعات و حالات کو ناول نگار لفظ لفظ یوں رقم کرتا ہے گویا یہ محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے بے حد قریب سے اُن کے ساتھ وقت گزارا ہے۔

ناول کا خاصا حصہ گزر جانے کے بعد نسرین اختر کا کردار پھر طلوع ہوتا ہے، بقول ناول نگار ، ’’پھرمجھے دیدۂ تر یاد آیا‘‘ بادشاہ کی ملاقات بے نظیر سے ہوتی ہے جو اسے بتاتی ہے کہ کس طرح رات کے اندھیرے میں نسرین اختر کے باپ نے کلکتے کے سیٹھ سے نسرین اختر کا سودا کر لیا تھا اور بلبیر کی مدد سے اُسے پہلے سہسوان لے جا یا گیاجہاں طوائفو ں کے سو سے زیادہ گھر آباد تھے ، اور پھر وہاں سے کیا ہوا بے نظیر کو اس کی کوئی خبر نہیں ۔ بادشاہ سوچتا رہتا ہے دلّی میں زندگی گزرتی ہے ، نِت نئے لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، اخبار میں کام کرتا ہے ، سفارت خانوں کے چکر لگاتاہے، ادبا و شعرا کی صحبتیں رہتی ہیں، انتشار اور ابتذال کا سامنا بھی ہوتا ہے ۔ جاوید ایّوبی کی شاندار زندگی اور سلیم سے اُس کا سابقہ بھی پڑتا ہے۔

دہلی کے بعد بادشاہ بمبئی کی طرف رُخ کرتا ہے جہاں وہ بطور پروگرام آفیسر آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوتا ہے۔ ناول نگار نے بمبئی کی پوری زندگی اُن کی محبتیں ، رفاقتیں ، قربتیں ، عصبیت، محنت و مشقت ، تجارت کا ذکر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ریڈیو کی زندگی میں جن آر ٹسٹوں سے اس کا واسطہ پڑتا ہے ،وسیم بھائی جیسے انسان اور ریشما ،ممتاز مونا علوی ، میناکشی سے ملاقاتیں ہوتی ہیں ، وہیں رِضّو باجی کا فون آتا ہے ، بادشاہ پونہ جاتا ہے ، گجگامنی سے ملاقات ہوتی ہے اورپھر عجیب و غریب اسرار بھرے واقعے کا سامنا ہوتا ہے کہ کس طرح گجگامنی سرکنڈوں کی جھاڑی میں گُم ہو جاتی ہے ۔ گامنی اور سپیرے کے ہیولے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ چبوترے کی کھوہ سے پھن کاڑھے سیاہ ناگ باہر نکلتے ہیں او رعالم اضطراب میں ایک دوسرے کے ہم آغوش ہوجاتے ہیں۔ پلک جھپکتے اُن کی جُون بدل جاتی ہے۔ بادشاہ کو یہ التباس ہوتا ہے کہ سپیرا اور گامنی ایک دوسرے کے وجود میں پیوست ہوتے جا رہے ہیں ۔ بادشاہ پونے سے بمبئی آ جاتا ہے اور پھر اُس کی زندگی گزرتی رہتی ہے۔ پھر اس کی ملاقات شکّو بائی ،محمود ایّوبی ، اسحٰق جمخانہ والا ، ریحانہ سلطانہ سے ہوتی ہے ۔ اسی دوران رِضّو باجی کے شوہر کے انتقال کی خبر ملتی ہے تو وہ بے چین ہو اٹھتا ہے۔ ریحانہ سلطانہ ہر طرح سے اس کی دلجوئی کرتی ہے اور پھر ایک دن اچانک نسرین اختر سے اُس کی ملاقات ہو تی ہے ، جس کا نقشہ ناول نگار نے یوں کھینچا ہے :

’’گاڑی وارڈن روڈ کی ایک کشادہ سات منزلہ عمارت کے سامنے جا کر ٹھہرگئی۔ سیکیوریٹی گارڈ نے ادب سے جھک کر نسرین کو سلام کیا ۔ پورٹیکو سے لفٹ تک اُس نے ہماری رہنمائی کی ۔ساتویں منزل پر چار بیڈ روم کا کشادہ فلیٹ تھا، جو نیلے رنگ کی روشنی میں ڈوبا ہوا تھا۔ مرطوب ہواؤں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور گھٹتے بڑھتے چاند کی آدھی ادھوری روشنی سے جاملیں ۔ سمندر کی مضطرب لہریں ساحل کی تلاش میں سر پٹختی ہوئی چٹانوں سے ٹکرارہی تھیں اور پسپا ہوکر پھر اپنے مدار کی طرف لوٹ جاتیں۔

ڈرائنگ روم میں دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔ اطالوی صوفوں پرمخملیں کشن آسودہ تھے۔ دیوار وں پر شش جہات آئینے آویزاں تھے۔ سمندر کے رخ پر ماہر سنگ تراشوں کی تراشیدہ مورتیاں ایستادہ تھیں ۔ وینس اور کیوپڈ کے آبنوسی مجسمے حسن جہاں سوز اور تجسس عشق کی حیرت زاکہانیوں کی مجسم تصویر بنے ہوئے تھے۔ پتھروں کی شبیہ میں ہجرووصال کی نمناک کہانیاں نقش تھیں ۔ آدی باسی عورتوں کی نیم برہنہ پینٹگر تھیں…..غالبؔ، اقبالؔ اور فیضؔ کے اشعار تھے۔ جنہیں مقبول فدا حسین نے مصور کیا تھا۔ ایک حریری پردے کے پیچھے تانپورہ ، ستاراور پکھاوج کی جوڑی بڑے تزک و احتشام کے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔ تام چینی کے ظروف میں سپیاں ، گھونگے سرخ ، نارنجی اور قرمزی پتھر سلیقے سے سجائے گئے تھے۔ عجائبات ونوادرات کا طلسم خانہ تھا۔ جو آنکھوں کو حیرت آشنا کررہا تھا۔ ‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۱۹۰)

درج بالا اقتباس میں جزئیات نگاری غضب کی ہے۔ ناول نگار کا یہ کار نامہ ناول کے پورے حصّے میں ثبت ہے۔ نسرین اختر سے ملاقات ہوتے ہی وہ اساطیر کی دنیا میں کھو جاتا ہے۔ اُسے اُوما ، پاروتی ، دُرگا او رکالی کی یاد آتی ہے۔ عالم دیوانگی اور بے اختیاری میں نسرین اختر بادشاہ کو چومنے لگتی ہے۔ اُس کی آنکھوں سے ساون برسنے لگتے ہیں۔ دامن تر ہو جاتا ہے اور جب غم کی بدلیاں چھٹتی ہیں تو نسرین ورق ورق مرگ و زیست کی کہانی کے اسرار کھولتی ہے کہ کس طرح اماوَس کی کالی رات میں ننھی فاختہ کو علی گڑھ سے سہسوان لے جایا گیا جہاں اُس کی ملاقات چودھرائن شہناز اختری سے ہوئی ۔ سہسوان میں طوائفوں کا ایک محلہ آباد تھا ۔ نوابوں ،جاگیر داروں اور زمینداروں کے عیّاش لڑکے ،اُس کے عاشق تھے اور ایک دِن نسرین کا بلاوا چمڑے والے سیٹھ کے یہاں سے آ گیا ۔ شہناز چودھری نے سوگوار نسرین کو دلّی تک ٹیکسی میں چھوڑا او رپھر دلّی سے وہ کلکتے پہنچ گئی ۔ سراج الدولہ ، لارڈ کلائیو ، وارین ہیسٹنگس اور واجد علی شاہ کے شہر میں جو ثروت مند ماڑواریوں کا شہر تھا جو غریبوں ، انقلابیوں ، لالہ لاجپت رائے ، اربندو گھوش ، وویکا نند، نذرالاسلام ، ٹیگور اور مدر ٹریسا کا شہر تھا ، جہاں سوامی تیرتھ رام نے فرد فلسفہ کے چرا غ روشن کیے تھے، جہاں سے غالب کا گزر ہوا تھا ، جہاں جسموں کی سب سے بڑی منڈی سونا گاچھی تھی ، جہاں گوہر بائی او رجَدّن بائی ٹھمری ، غزل اور دادرے کی ،،،جہاں دیو داس اور آخری سوال کے خالق شرت چند بہو بازار کی گلیوں میں خاک چھانتے رہے تھے ان سب کا بیان ناول نگار نے مفصّل کیا ہے اور پھر جس جا نسرین کو کلکتے میں اُتارا گیا اُس کا بیان یوں ہے :

’’نسرین کو بہو بازار کے ایک شاندار کشادہ مکان میں اُتارا گیا۔ جس سے ملحق سبز باغ میں عشق پیچاں کی بیلیں اپنی بہادر کھلا رہی تھیں…بنفشے کے سرخ پھول انگڑائی لے کر جاگ رہے تھے اور تنہا شاخ پر کھلے نیلے گلاب کی کسمساتی کلیوں کا منہ چوم رہے تھے ۔ یوکپلٹس کی ڈالیوں پر نیل کنگھ کی شوخ چہچہاٹیں فضا کو نغمہ بار کررہی تھیں ۔ سبزہ زار اوس میں نہا کر اُجلی دُھوپ سے ہم آغوش ہونے کے لیے مچل رہا تھا ۔ نیلے آسمان پر چھائی ہوئی اودی بدلیاں نم آلود ہواؤں سے اٹکھیلیاں کررہی تھیں۔ دھوپ اور سائے کی آنکھ فطرت کی حیرت زائیوں کا طلسم جگا رہی تھی۔‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۲۰۴)

سیٹھ نے نسرین کا حد درجہ خیال کیا ۔ یہاں سے ناول ایک نیا رُخ لیتا ہے اور اُس برص زدہ چمڑے کے سیٹھ کی پوری زندگی کا بیان ہے کہ اللہ رکھا سیٹھ کو اپنے ماں باپ کا پتہ نہیں تھا ۔ کوئی شخص سیٹھ کو نومولودی میں پادری ماں مریم کی قدموں میں رکھ کر چلا گیاتھا جسے ایک مسلمان جوڑا آکر لے گیا ، اُس کی پرورش ہوئی مگر وہ نمبری بد معاش ہو چکا تھا ۔ بعد میں کھالوں کا  دھندہ کرنے والے ایک سیٹھ نے اُسے اپنے کارو بار میں شامل کر لیا اور خود کوئلے کی فراہمی کے سلسلے میں چھوٹا ناگپور کا رُخ کیا ۔ اس حصّے میں ناول نگار نے ایک آدی باسی سدھو کونڈا کے کردار کا بیان کیا ہے کہ وہ کس طرح کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرتا تھا ۔ بعد میں مزدوروں کی یو نین کا صدر بن گیا ، ایم ایل اے بنا اور اب اس کی نظر چیف منسٹر کے عہدے پر تھی۔ ناول نگار نے چھوٹا ناگپور کے آدی باسیوں کی پوری زندگی ، رہن سہن، اُن کے عقیدے کا موثر بیان کیا ہے۔سیٹھ اللہ رکھا ،نسرین اختر کا حد درجہ خیال رکھتا ہے۔نسرین اختر کا اگلا پڑاؤ چھوٹا ناگپور ہے جہاں وہ جنگلوں ، آبشاروں ، سبزہ زاروں ، ندی نالوں اور خوبصورت قدرتی مناظر کا نظارہ کرتی ہے۔ یہاں سدھو کونڈا کی حکومت قائم ہے ۔ اُس نے یہاں قلعہ بنا رکھا ہے۔ یہ پورا حصّہ چھوٹا ناگپور کی ثقافت سے لبریز ہے۔ یہاں نسرین کی دوشیزگی کا پیرہن تار تار ہو چکا تھا ۔ اُس کے بدن کی حرمتوں کو بے رحمی کے ساتھ پامال کیا جاچکا تھا ۔ سدھو کونڈا نے زہریلے سانپ کی طرح اُس کے بدن کو جراحتوں کے داغ دیے تھے ،نسرین اپنے دکھڑے کا ماتم کرنا چاہتی تھی مگر خاموش رہی اور پھر سدھو کونڈا کا بُرا انجام گلابو کے ہاتھوں ہوا ۔

نسرین چھوٹا ناگپور سے کاشی نگری کا کس طرح سفر کرتی ہے یہ َاسرار آمیز معمہ ہے ۔ وہ کاشی جو موکش نروان اور نجات کی کرشمائی دھرتی ہے ۔ دیوتاؤں کی نگری کاشی میں بھٹکتی ہوئی وہ دیو داسیوں کی بستی میں جا پہنچی ۔ وہاں سے کاشی میں اُس کی ملاقات نوجوان شیوا سے ہوتی ہے۔ شیوا کی بیوی وَندنا امیر مارواڑی باپ کی بیٹی ہے جس کو جنون کے دورے پڑتے تھے ۔ شیوا نے اپنی پتنی کے علاج کے لیے حکیم ،ڈاکٹر اور ویدوں کی قطار لگا دی مگر دوروں کا منحوس سلسلہ جاری رہا ۔ شیوا نے نسرین کو شادی کی پیشکش کی اور نسرین کے دھرم پریورتن کرکے گوری کے مندر میں سات پھیروں کی رسم ادا کی اور نسرین سے  کویتا بن کر شیوا کی زندگی میں پوری طرح شامل ہو گئی ۔ وَندنا خوش تھی کہ اُس کا شوہر خوش ہے ۔ اُس پر ہیجان خیز دورے پڑنا بند ہو گئے۔ نسرین کے یہاں ایک بچی کی پیدائش ہوئی لیکن کچھ دنوں کے بعد شیوا نمونیے کا شکار ہو گیا۔ اُس کی بیماری بڑھتی گئی ، بڑے علاج معالجے ہوئے او رپھر اُسے بھوانی سینیٹوریم میں داخل کر دیا گیا ۔ شیوا کے گھر والے اُس کی مسلسل خیریت لیتے مگر ایک دن ڈاکٹروں کی تمام تر کو ششوں کے با وجود وہ جاں بحق ہو گیا ۔ رات کے غمناک اندھیرے میں شیوا کے جسدِ خاکی کو بنارس لے آیا گیا اور پھر اُس کی اَرتھی اُٹھی ۔ شیوا کی پتنی وَندنا نے اپنی ہری کانچ کی چوڑیاں ٹھنڈی کیں اور چیخیں مار کر رونے لگی۔نسرین کا کلیجہ شق ہوا جا رہا تھا ۔ در اصل شیوا نے شراب کی آدھی سے زیادہ بوتل پی لی تھی اور سگریٹ سلگائی تو غلطی سے نشے کے جھونک میں ماچس کی جلتی ہوئی تیلی شراب کی بوتل میں ڈال دی ۔ بھک سے ایک شعلہ بھڑکا اور شیوا سے لپٹ گیا۔ اُس کے جسم کا زیادہ حصہ جل گیا تھا اور اُس کی موت کا یہ راز نسرین ہی جانتی تھی ۔ اَب نسرین نے گھر کی چوکھٹ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا ،وہ اندھیری رات میں شمشان گھاٹ پہنچتی ہے ، اُس جگہ کا طواف کرتی ہے جہاں شیوا کے جسدِخاکی کو اَگنی نے اپنی آغوش میں لے لیا تھا ۔ اَب وہ ایک راہبہ بن جاتی ہے اور اُس کے قدم غیر ارادی طور پرآگرے کی طرف اُٹھ جاتے ہیں جہاں اس کی ملاقات نواب بانو سے ہوتی ہے اور وہ فلمی دنیا میں شامل ہونے کے لیے بمبئی چلی آتی ہے۔ ناول نگار نے آخری حصے میں لکھا ہے :

نسرین مکمل طورپر راہبہ بن چکی تھی۔ اس نے اچھی طرح پہچان لیا تھا کہ انسان کے دُکھ درد کی حقیقت کیا ہے۔ اس کا حل کیا ہے اور یہ کائنات کیا ہے۔ اب وہ حیات و موت کی دُنیا سے نکل کر صداقتوں اور مسرتوں کی دُنیا میں جلوہ افروز ہوچکی تھی۔جہاں نہ خوشیاں ہیں نہ غم ہیں، نہ نیکی ہے نہ بدی ہے۔ اس ماورائی علم کے حاصل ہوتے ہی اب اس کے دل میں یہ احساس بھی ابھرنے لگا کہ وہ مطلقاً آزاد ہوچکی ہے اور اس کی آزاد ی نے بالآ خر اسے نجات دنیا پر روح کی آخری فتح عطا کردی ہے ترک دنیا اور عائق کی یہ آخری منزل ہے ۔‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۲۵۶)

ناول نگار نے اسی ناول میں لکھا ہے :

’’زندگی کسی کے لیے ٹھہرتی نہیں ۔ ایک رواں دواں دریا کے مانند آگے بڑھتی رہتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ماضی کو گرد فراموشی میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ یہ ایک بچھو کی طرح ہمیں ڈنک مارتا ہے۔ کبھی اذیتوں کے انبار لگاتا ہے اور کبھی مسرتوں کی کلیاں چٹکاتا ہے۔ مگر بہر طور ہمیں اپنے شکستہ وجود کو برقرار رکھنے کے لیے ماضی کی تلخیوں سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘

(بنارس والی گلی––صفحہ نمبر۲۳۴)

ناول ’’بنارس والی گلی ‘‘ بلا شبہ فیاض رفعت کا ایک شاہکار ہے۔ اسے سوانحی ناول کہا جا سکتاہے، مگر اِس ناول میں  ایک بڑے اور اچھے ناول کے وہ تمام عناصر مو جود ہیں جو کسی بھی ناول کو بڑا بناتے ہیں۔ فیاض رفعت وسیع المطالعہ ، کشادہ ذہن ،تہذیب و ثقافت پر گہری نظر رکھنے والے فنکار ہیں۔ انگریزی ادبیات اور تاریخ و تہذیب پر بھی اُن کی نظر اچھی ہے۔ جزئیات نگاری کے تو وہ بادشاہ ہیں۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار ہیں جس کا احساس ہمیں ناول کے ہر حصے کو پڑھتے ہوئے ہوتا ہے۔ فساد ، تقسیم ہند ، عشق و محبت ، طوائفوں کی زندگیوں ، بڑے شہروں کے ہنگامی حالات اور کریہہ چہرے ، چھوٹا ناگپور میں کوئلے کی کانیں اور وہاں کی غنڈہ گردی پر ناول یقینا ملتے ہیں مگر اِن تمام موضوعات کو اِس ناول میں خوبصورتی سے سجایا اور سنوارا گیا ہے۔

 

(یہ بھی پڑھیں اماوس میں خواب : معاصر ہندستان کا استعارہ- ڈاکٹر شہاب اعظمی)

اِس ناول کا بنیادی کردار بھلے ہی بادشاہ خاں ہو، مگر نسرین اختر کی پوری زندگی ایک طلسم ہے۔ اُس کی طلسماتی زندگی میں خوشیاں بھی ہیں اور غم بھی ، رونق بھی ہے اور نوحہ بھی ۔ وہ اپنے طور پر زندگی بسر نہیں کر نے پر مجبور ہے ، اُسے کبھی  علی گڑھ سے اُس کی مرضی کے خلاف سہسوان لے جایا جاتا ہے تو کبھی دلّی ، کبھی کلکتہ تو کبھی چھوٹا ناگپور اور پھر وہ آگرہ او راُس کے بعد بمبئی چلی جاتی ہے۔  وہ بادشاہ خاں کو پسند کرتی ہے لیکن اسے کبھی سہسوان کے عیاش نوجوانوں کے سامنے رقص و موسیقی کی محفلیں جمانی پڑتی ہیں تو کبھی برص زدہ چمڑے والے سیٹھ کی تحویل میں آجاتی ہے۔ کبھی سدھو کو نڈا ُسے اپنی ہوس کا شکار بناتا ہے تو کبھی وہ دھرم پریورتن کرکے شیوا کی بیوی نسرین سے کویتا بن جاتی ہے۔ مگر یہاں بھی اُسے چین نہیں ، شیوا کی موت ہو جاتی ہے اور وہ خود کو اس کا ذمہ دار مانتی ہے۔ اُس کی بسی بسائی دُنیا اُجڑ جاتی ہے۔ زندگی سخت امتحان لیتی ہے مگر وہ پھر اپنی زندگی میں رنگ بھرنے کی کو شش کرتی ہے اور آخری میں اُس کا سامنا بادشاہ خاں سے ہوتا ہے ۔ دراصل یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جسے کبھی چین حاصل نہیں ۔ اس کہانی کو ناول کی شکل عطا کرنے کے لیے میں فیاض رفعت کو مبارکباد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ ناول یقینا علمی و ادبی حلقوں میں ذوق و شوق سے پڑھا جائے گا ۔

 

٭٭٭

 

نوٹ: مضمون نگار شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے صدر ہیں۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

ادبی میراثبنارس والی گلیفیاض رفعت
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
راحت اندوری: ایک تاثر- فریحہ خانم
اگلی پوسٹ
مسعود حسین خاں کے چند بکھرے ہوئے مضامین- ڈاکٹر نوشاد منظر

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں