آج سے پانچ چھ سال قبل شور اٹھا کہ اکسیویں صدی اصل میں ناول کی صدی ہے، اس کے ساتھ ہی کئی سوال بھی ذہن کے دریچے پر آکھڑے ہوئے۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایک پوری صدی کو کسی خاص صنف یا رجحان سے منسوب کرتے ہوئے سال کے کتنے چکروں یا کن خصوصیات کو بنیاد بنایا جائے۔ اکیسویں صدی کے گزشتہ پانچ سالوں کو پل بھر کے لیے بھول جائیں تو اس کے حصے میں گنتی کے صرف چودہ پندرہ سال ہی بچیں گے اور چودہ پندرہ سال میں کسی صنف یا رجحان کے بال و پر صحیح ڈھنگ سے نہیں نکلتے تو پھر کس طرح اسے آنکا اورپرکھا جاسکتا ہے۔ ابھی تو نئی صدی کی ہاتھ کی رکھاؤں میں کتنے ہی مہ و سال بچے ہیں، اس درمیان کتنے ہی موسم آئیں گے۔ زمانے کے مدّوجزر کیسے کیسے مناظر تشکیل کریں گے۔ان میں خزاںنشانیاں بھی ہوں گی اور گل اندامیاں بھی۔ ان میں جس کا رنگ جتنا چوکھا ہوگا، اس صدی کو اس سے ہی منسوب کر کے دیکھا جائے گا۔ اس تناظر میں اکیسویں صدی کو ناول کی صدی کہنا میرے نزدیک سوچے سمجھے بغیر کہی ہوئی بات ہے، البتہ ناول لکھنے کی رفتار گزشتہ صدی کے مقابلے میں تیز ضرور ہوئی ہے۔ ادھر کئی ناول ادب کے اُفق پر نمودار ہوئے ہیں، جو اپنے منفرد اسلوب اور موضوعات کے تنوع کی بنا پر پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھے گئے ہیں۔ کئی ناول نگاروں کا نام بھی درخشاں ہوا ہے، ان میں رحمن عباس بھی شامل ہیں۔ ان کے نام سے چار ناول مختص ہیں۔ ان ناولوں میں موضوعات کی نیرنگیاں اور اسلوب کی رنگینیاں ہیں۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں ہوئے فساد، بابری مسجد کی مسماری اور ممبئی بم دھماکوں کے پس منظر میں لکھا گیا ناول "نخلستان کی تلاش” اس وقت کے نوجوانوں کے اندر کی ہلچل اور اس کی سوچ میں برپا طوفان کو اجاگر کرتا ہے۔ "ایک ممنوعہ محبت کی کہانی” میں مراٹھی کلچر اور مہاراشٹر کی زندگی کو وسیع کینوس پر دکھانے کی سعی کی گئی ہے۔ اسی طرح دقیانوسی سماج میں لبرل آدمی کے سائیکلوجیکل سچویشن اور اس کی زندگی کے نازک مراحل کو پیش کرتا ہوا ایک اور ناول "خدا کے سائے میں آنکھ مچولی” بھی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ان ناولوں میں گونا گوں موضوعات کی عکاسی کے دوران "جنس”کی لفظی تصاویر تلذذ کی فضا پیدا کرتی ہیں۔ اردو کے افسانوی ادب میں”جنس” کوئی نیا موضوع نہیں بلکہ سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، محمد حسن عسکری، راجندرسنگھ بیدی، علی مسرور، واجدہ تبسم، علی امام نقوی، شہوارگل کے علاوہ دوسرے فکشن نویسوں کے ساتھ صادقہ نواب سحر نے بھی اسے اپنی تخلیقی اظہار کا وسیلہ بنایا ہے۔ ان میں کئی ایک پر فحاشی اور عریاں نگاری کے الزام بھی عائد ہوئے، لیکن انہوں نے موضوعی تقاضوں کے مطابق فطری انداز میں "جنس” کے مناظر کو فکشن کی روح بنایا، چنانچہ ایسے افسانوی ادب پر جنس نہیں بلکہ موضوع حاوی ہوتا ہے، جبکہ رحمن نے "جنس” یعنی "سیکس” کو ابھارنے کے لیے ایسی کہانی گڑھی ہے کہ موضوع پس منظر میں چلاگیا ہے اور آنکھوں کو جنس کی شہوت انگیزی کے علاوہ اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو کے چند اہم ناولوں کا اساطیری پہلو – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی )
رحمن عباس کا چوتھا ناول "روحزن” 2016 میں آیا تو اسے سابقہ ناولوں کی توسیع کے طور پر دیکھا گیا۔ اس ناول میں میڈل کلاس بلکہ اس سے بھی نچلے طبقے کی تہذیب کو آئینہ کرتے ہوئے ملک اور بیرونِ ملک کی اساطیری اور دیومالائی حکایتوں اور علامتوں کے ذریعے ممبئی کی تاریخی اور جغرافیائی وسعتوں کا ادراک کرایا گیا ہے تاکہ پسِ پردہ "جنس” کی رعنائیوں کو وسیع کینوس پر دکھایا جائے۔ اس ناول کا آغاز سمندر کی طغیانیوں کے ساتھ کئی حقائق کو روشن کرتے ہوئے ساحل سے مُتّصل مچھوارے کی ایک بستی "مابعد مارفو” سے ہوتا ہے۔ سمندر کی طغیانی ایک ایسا استعارہ ہے، جو انسان کی شہوانیت اور اس کے ابعاد کا احاطہ کرتے ہوئے پورے ناول کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ "مابعدمارفو” کا ایک مچھوارا ملک دیشمکھ اپنی کشتی "سمندر کی رانی” میں دوستوں کے ساتھ سوار ہوکر مچھلیاں پکڑنے جاتا ہے، لیکن آفتِ ناگہانی میں ملک دیشمکھ کے ساتھ ایک اور کی جان چلی جاتی ہے۔ ملک اپنے پیچھے بیوی اور بیٹے اسرار کے علاوہ دہکتی ہوئی بھوک چھوڑ جاتا ہے، جس کا بجھنا ضروری ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو زندگی کی نفی ہوجائے گی۔ چنانچہ ملک کی بیوہ سوکھی مچھلیاں بیچ کر اپنا اور بیٹے کا پیٹ پالنے کے لیے جِدّوجَہد کرتی ہے، لیکن ناکامیوں سے تنگ آکر وہ اپنا جسم دیور کے حوالے کردیتی ہے۔ اسرار جو دسویں کلاس میں پڑھتا ہے، وہ نہ صرف اس سے واقف ہے بلکہ چھپ چھپ کر چچا اور ماں کو سیکس کرتے ہوئے دیکھتا بھی ہے۔ دوسری طرف اسکول کی مس جمیلہ اسرار پر مہربان ہے۔ وہ مس کے ساتھ اس کے گھر پر بھی جاتا ہے۔ ایک طوفانی رات میں دونوں بغیر کسی حیلہ و حجت کے ایک دوسرے کے جسم کا سہارا بن جاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں ایسی کئی راتیں آتی ہیں ۔ان راتوں میں جمیلہ مس ماہواری، بارآوری اور بالیدگی کی اصطلاحات کو تفصیل سے سمجھاتی ہے۔ فوطے، بولی تناسلی نلی، منوی کیسہ، غدودِقدامیہ اور عضوِ تناسل جیسے مشکل الفاظ کو آسان زبان میں بیان کرتے ہوئے ان کی افادیت اور اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ بیضہ دان، قاذف نلی، رحم اور اندامِ نہانی پر کتاب میں درج جملوں کی وضاحت کرتی ہے اور درسی کتاب میں اندامِ نہانی اور عضوِ تناسل کے افعال کے بارے میں جو باتیں لکھی ہوئی تھیں، ان کے متعلق سمجھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ باتیں اہمیت تو رکھتیں ہیں، لیکن یہ اعضا جذبۂ عشق کے اظہار کا ذریعہ بھی ہیں۔ یہ وہی مس ہیں، جن کے شوہر ٹیچر ہیں اور ملازمت کے سلسلے میں دوسرے ضلع میں بودوباش کرتے ہیں۔مس کا ایک بیٹا بھی ہے، جو ممبئی میں ہوٹل منیجمنٹ کا کورس کرتا ہے اور جو عمر میں اسرار سے پانچ چھ سال بڑا ضرور ہے۔ مس جمیلہ اور اسرار دونوں کی اپنی اپنی مجبوریاں تھیں، اسرار ماں کو سیکس کرتے ہوئے دیکھتا تو اس کے اندر ہیجان کی کیفیت پیدا ہوجاتی تھی اور مس جمیلہ کا اپنی تنہائی کے سبب جسم کے تقاضے کو قابو میں رکھنا مشکل ہورہا تھا۔ چنانچہ دونوں ایک دوسرے کی جنسی ضرورت کو پورا کرنے لگتے ہیں۔
اسرار دسویں کرنے کے بعد اپنے دوستوں سُلیمان ونو اور قاسم دلوی کے ساتھ ممبئی چلا جاتا ہے اور ایک کھولی میں کچھ دیگر افراد کے ساتھ سکونت اختیار کر لتا ہے۔ اس کھولی میں زیادہ تر طلبا اور نوکری پیشہ لوگ رہتے تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں، جن کے وسیلے سے ناول میں ممبئی کی تاریخ و تہذیب، زندگی کی حقیقت اور اس کی فلسفیانہ اساس نیز عشق اور جنس کو وسیع کینوس پر متحرک دکھایا گیا ہے۔ اس کھولی میں رہنے والے افراد کا رویہ ایک دوسرے کے تئیں مخلصانہ تھا، لیکن اسرار کی دوستی محمد علی سے ہوگئی، جس کی وساطت سے اس نے ایک دکان پر نوکری کرلی اور بے فکری کی زندگی کرنے لگا۔علی کے ساتھ ہی کوٹھے پر گیا اور شانتی سے جنسی تعلقات قائم کیے۔ شانتی اور اسرار کی زندگی میں کئی واقعے ایسے تھے کہ دونوں کے درمیان مماثلت سی پیدا ہوگئی تھی۔ اسرار کی ماں کی طرح شانتی کی ماں کا تعلق دوسرے مرد سے تھا۔ ایک دن دادی اور اس کے والد پڑوس کے گاؤں گئے ہوئے تھے۔ وہ اسکول سے جلد ہی واپس گھر آگئی تو دروازہ بند ملا۔ اس کے بعد کیا ہوا مصنف کی زبان سے سنیے:
” وہ مکان کے عقب میں رکھی ہوئی سیڑھی پر چڑھ گئی۔ ایک چھید سے گھر میں جھانک کر دیکھا تو شیوسینا پرمکھ اور اس کی ماں ناقابلِ بیان حالت میں اسے دکھائی دیے۔” 1
اس بات کا پتہ گھر کے دوسرے لوگوں کے علاوہ دادی کو بھی تھا۔ تبھی تو دادی نے کئی مرتبہ اس کی ماں کو گالیاں دیتے ہوئے کہا تھا: ( یہ بھی پڑھیں حاشیائی ادب میں ’فائر ایریا‘ کا مقام- ڈاکٹر سلمان فیصل )
"پاسل پڑائلا رانات جاتس کی نائی، یعنی جنگل میں ہوس مٹانے جاتی ہو یا نہیں” 2
اس واقعے کے ایک ماہ بعد ہی ایسا زلزلہ آیا کہ گاؤں کا گاؤں تباہ ہوگیا۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ شانتی بچ گئی اور اپنے ماموں کے ساتھ شہر آگئی۔ اس نے ماموں کی باتوں میں آکر نہ صرف اس کے ساتھ سیکس کیا بلکہ شادی کے سپنے بھی دیکھنے لگی کہ ایسا کرنا اس کے گاؤں کے رواج کے مطابق جائز تھا۔ اسرار کے ساتھ بھی جمیلہ مس نے سیکس کیا تھا۔ دونوں میں فرق یہ تھا کہ لڑکی ہونے کی وجہ سے شانتی کوٹھے پر پہنچ گئی اور اسرار نے ممبئی کا سفر طے کیا۔ان کے درمیان کچھ باتیں ایسی مشترک تھیں کہ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ناول کی کہانی ان دونوں یعنی اسرار اور شانتی کے درمیان پروان چڑھے گی، مگر ایسا نہیں ہوتا، شانتی صرف دو ملاقات کے بعد ہی منظرنامے سے غائب ہوجاتی ہے، لیکن اس کے نقوش دیر تک حافظے میں محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے ذریعے ہی ممبئی کا "کوٹھاکلچر” مشاہدے کا حصہ بنتا ہے۔
محمد علی اور اسرار بلکہ سلیم کی آپسی گفتگو کھولی سے شروع ہوکر لیٹرن تک پہنچتی ہے اور وہاں سے ہوتے ہوئے ممبئی کی گلیوں، چوراہوں، جھگی جھونپڑیوں، فٹ پاتھ کی دکانوں، محلے کی بدحال عمارتوں، چمچماتی سڑکوں کے دونوں طرف اونچی اونچی دلفریب بلڈنگوں کا نظارہ کراتی ہیں۔ ایک بلڈنگ پر اسرار کی نگاہ تھم سی جاتی ہے لیکن اسے پتہ نہیں ہوتا کہ اس بلڈنگ کے سینے میں کتنے راز دفن ہیں:
"ابھی اسرار کو یہ پتہ نہیں تھا کہ جس عمارت کو وہ حیرانی سے دیکھ رہا ہے، اس عمارت کے میناروں نے شہر کی کتنی بہاروں اورجنس زدہ راتوں کو ایسی ہی حیرانی اور استعجاب سے دیکھا ہے۔ عظیم الشان جلسے اور جلوس دیکھے ہیں افراتفری اور سیاسی ہنگامہ آرائی دیکھی ہے۔ مسلک اور مذہب کی مسابقت دیکھی ہے۔ ان میناروں نے پولیس کی وردی میں ملبوس ان افراد کو بھی دیکھا ہے، جنہوں نے عمر علی عثمان لنگی کٹ بیکری میں فسادات کے دوران قتلِ عام کیا تھا ، لیکن جن کا جرم کورٹ میں بھی ثابت نہیں ہوسکا۔ مینارہ مسجد کے میناروں نے ممبئی فسادات کے چند ماہ بعد رات کے آخری پہر، بلکہ صبحِ کاذب کے وقت امام مہجور البخاری المعروف ہجر غلمان کو قریب کی ایک سڑک پر اپنے معتقدین کے ذریعے آرڈی ایکس کے بکس رکھواتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ راز کوئی نہیں جان سکا کہ یہ کام امام مہجور البخاری المعروف ہجر غلمان نے کس کے اشارے پر کیا تھا۔” 3
ان کی گفتگو کے ذریعے ممبئی سے جڑے ہوئے کتنے ہی راز مشاہدے کا حصہ بنتے ہیں۔ بیانیہ اسلوب میں اپنا سفر طے کرتا ہوا ناول فلش بیک میں جاکر ماضی کو حال کے آئینے میں روشن کردیتا ہے۔اس میں سریل بم دھماکوں کی داستان، فرقہ وارانہ فسادات کو مختلف زاویے سے دکھانے کی کوشش اور 2008 میں ہوئے دہشت گردی کے واقعے کو بھی تازہ کرنے کا عمل شعوری سطح پر ملتا ہے۔اس کے علاوہ کرداروں سے جڑی ہوئی صداقتیں مشاہدے کا حصہ بنتی ہیں، زیادہ تر صداقتیں جنسی تعلقات سے متعلق ہوتی ہیں۔ ایسے ہی ایک موقع پر سیٹھ کی بیوی کا واقعہ نکل آتا ہے، جس نے سلیم گھارے کو اپنے گھر پر بلایا تھا ، لیکن اپنی شرافت کی وجہ سے وہ صرف ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہ گیا۔ سیٹھ کی بیوی کو شریفانہ باتیں زیادہ پسند نہیں آئیں۔ اس نے چند ہفتوں بعد ایک دوسرے ملازم کو گھر میں صاف صفائی کے لیے بلایا۔ دوسرا ملازم نہ صرف چالاک تھا بلکہ عورتوں کی فطرت اور اقسام کا خاصا تجربہ بھی رکھتا تھا۔ دوسرے دن باقی ماندہ کام پورا کرنے وہ سیٹھ کے گھر گیا اور وہ کام بھی کیا جس کے لیے میڈم کا جی مچل رہا تھا۔محمد علی نے چھیڑتے ہوئے کہا:
"اسلم بھائی، کھانے کھجانے میں اکسپرٹ رہناچ پڑتا ہے، نہیں تو آئٹم لوگ رفوچکر سمجھو۔” 4
اسی تسلسل میں محمد علی اور بھنینی کے معاشقے کا ذکر نکل آتا ہے، جس پر اسلم گھاڑے کا براہِ راست جملہ انہیں قہقہہ لگانے پر مجبور کردیتا ہے:
تو کیا کمتی اکسپرٹ ہے۔ بھیننی کو پھانس رکھا ہے۔ سالے تریا مال تو ایکدم کنولا ہے۔” 5
اس ناول میں رحمن نے کرداروں کی نفسیاتی گرہ کو کھولنے کے لیے کئی واقعے بیان کیے ہیں۔ جن کا اظہار کبھی بیانیہ طور پر تو کبھی فلش بیک تکنیک کے تحت کیا گیا ہے۔ ان میں محمد علی کی ماں اور مدرسہ کے مولوی صاحب کا واقعہ بھی ہے۔ محمد علی کی ماں کا تعلق کسی دوسرے مرد کے ساتھ ہوگیا تھا اور وہ اپنے پانچ بچوں کو بلکتا ہوا چھوڑ کر اس مرد کے ساتھ چلی گئی تھی۔ مدرسہ کے مولوی صاحب کے متعلق ناول میں جو عبارت آرائیاں کی گئی ہیں ، آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
"مدرسہ اہلِ عبث الفرجاء البلادات العربیہ کا ایک معلم مدرسے کے پیچھے کی جھاڑیوں میں ایک سفید رنگ کی بکری کے ساتھ مباشرت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ” 6
یہ معاملہ ایک مدرس کا تھا، جو نسلِ انسانی کی تعلیم و تربیت پر معمور ہوتا ہے۔ اس لیے سرزَنشِ ضروری تھی۔ چنانچہ پنچایت بٹھائی گئی اور مولوی صاحب سے اس حرکت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا:
"بکری میری مرحوم اہلیہ کی ہم صورت ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے، میری بیوی کی روح بکری میں جاں گزیں ہے۔” 7
اس جواب پر محفل گلزار ہوجاتی ہے۔ سرپنچ جو مدرسے کی انتظامیہ کمیٹی کا رکن تھا اور معلم کو پسند بھی کرتا تھا۔ اس نے بیس پچیس منٹ بکریوں کی معاشرتی زندگی کی اہمیت پر تقریر کی، جس سے مجمع کی دلچسپی اصل موضوع سے ہٹ گئی ۔ سرپنچ نے اپنی شاطرانہ چال چلتے ہوئے آخری جملہ ادا کیا:
"میری عورت چار سال پہلے مری ….. میں عورت کی جدائی کا درد سمجھ سکتا ہوں۔” 8
بعد ازاں سرپنچ صاحب نے معلم سے معافی تلافی کرادی۔ معاملہ وہیں دب گیا۔ یہ ایک واقعہ تھا ، جس کا اظہار رحمن نے کیا۔ اس طرح کے اور بھی واقعات آئے دن رونما ہوتے ہیں، لیکن سوچئے کہ اس واقعے کو بیان کرنے کے پیچھے مصنف کی منشا کیا تھی۔ دراصل معاملہ اخلاقی پستی کا ہے۔ انسان اپنی شہوانیت کو آزاد خیالی کا نام دے کر غلاظت کے اس ڈھیڑ پر کھڑا ہوگیا ہے، جہاں ہر چیز سے اٹھتی ہوئی جنسی لذتیت کی شہوت انگیزبو اُسے اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے قوس و قزح کی سیر کراتی ہے۔ چنانچہ اس میں اچھے برے کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ مصنف نے اس واقعے کے بیان سے اپنے اس نظریے کو تقویت دینے کی کوشش کی ہے کہ انسانی جِدّوجَہد کا محور و مرکز جنسیت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، جس کی تسکین کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "روحزن” کا مصنف اپنے کرداروں کو جنسیت کے دائرے میں دیکھنے اور دکھانے کی سعیِ مسلسل میں لگا رہتا ہے۔ فلش بیک میں چلتی ہوئی ان کہانیوں کے ساتھ اسرار اور اس کے ساتھی تاج ہوٹل پہنچ جاتے ہیں۔ اس ہوٹل کی خوبصورتی کو دیکھ کر اجمل قصاب اور دہشت گردی کے حوالے سے زور دار باتیں کرتے ہوئے وہ کالا گھوڑا کی جانب پیدل نکل جاتے ہیں۔ اس سفر کی عکاسی دیکھئے:
"تاج ہوٹل سے کالا گھوڑا تک پیدل سفر کے دوران آنکھوں کو خیرہ کرنے والی چکا چوند نے انہیں بے حد مرعوب کیا تھا۔ ممبئی انہیں ایک ناقابلِ تسخیر شہر لگا۔ یہاں دولت، حسن اور شہوت کا ایک سمندر تھا جسے وہ صرف ساحل پر کھڑے ہوکر دیکھ سکتے تھے۔ محمد علی نے نوواردان کے اصرار پر انہیں چکنی صورت والے لڑکوں کے بارے میں بتایا جو تاج ہوٹل کے پاس قریب آکر کھڑے ہوگئے تھے۔ محمد علی نے بتایا کہ یہ لوگ دھندا کرتے ہیں لیکن بہت سارے پھوکٹ میں بھی دیتے ہیں” 9
یہاں بھی ناول نگار نے ممبئی اور اس کی تفریح گاہوں کو سیکس کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ ناول میں شاید ہی کوئی ایسا منظر آیا ہو جس میں سیکس اور اس کے متعلقات کے شائبے نظر سے اوجھل ہوئے ہوں۔ البتہ اس منظر میں رحمن نے چکنی صورت والے لڑکوں کو موضوع بنایا ہے، جو پیسوں کے لیے مالدار لڑکیوں کی ہوس مٹاتے ہیں۔ اس قسم کے لڑکے صرف ممبئی میں ہی نہیں پائے جاتے بلکہ ان لڑکوں کا گروہ ہندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ہوس پرستی کی آگ کو بجھانے میں لگا ہوا ہے۔ اسرار اور اس کے ساتھی تفریح گاہوں سے گزرتے ہوئے ایک لمبا سفر طے کرتے ہیں۔ اس سفر میں شعور کی رو کے ذریعے مابعدمارفو کا واضح عکس بھی بنتا ہے اور بیانیے کے طور پر اردگرد کی منظر کشی بھی ہوتی ہے۔ ان کی گفتگو کے ذریعے ہی درگاہ حاجی علی اور اس کے چاروں طرف پھیلے ہوئے مناظر نظروں کے سامنے رقص کرنے لگتے ہیں:
"اس راستے پر چلتے جائیے تو حاجی علی کے مزار کی زیارت ہوتی ہے۔ اس چھوٹے سے راستے کے اطراف صوفی صورت فقیر، معذور لفنگے، بابا ٹائپ لوگ، بدہیئت اور بگڑی ہوئی ہیئت میں لیٹے پڑے بدنصیب لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ چھوٹے بچے بچیاں، جوان عورتیں، بوڑھے آوارہ اور جوان باریش لوگ اللہ اور بابا حاجی علی کا نام لے کر بھیک مانگتے ہیں۔ ” 10
یہ وہی درگاہ ہے، جہاں اسرار کی ملاقات برسات کی ایک شام میں حنا سے ہوتی ہے اور دونوں پہلی ہی نظر میں ایک دوسرے کو دل دے بیٹھتے ہیں۔ اس محبت کے آغاز سے انجام تک کئی موڑ آتے ہیں اور کئی کہانی شروع ہوکر بیچ ہی سے غائب ہوجاتی ہے۔ اس میں ایک کہانی حنا کے کنبے کی ہے کہ اس کے والد مذہبی لیکن غیر دقیانوسی شخص تھے۔ ایک دن ان کی ملاقات عربی شخص بو راشد سے ہوئی اور چند ملاقاتوں کے بعد ہی وہ عربی کے دام میں گرفتار ہوگیا۔ بوراشد دراصل "شیطان پرستوں”کا سرغنہ ہے جو اپنے خیالات و نظریات کی تبلیغ میں دن رات ایک کیے رہتا ہے۔ اس کی بیوی ایمل اور بیٹی وردۃ السعادۃ اِس کام میں برابر کی شریکِ ہیں۔ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو یوسف اور اس کے کنبے سے نہ صرف ملاتا ہے بلکہ انہیں ہم خیال بنانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ حنا جو ابھی بچی تھی، اس کی سمجھ میں وردۃ السعادۃ کی باتیں نہیں آئیں لیکن یوسف پوری طرح شیطان پرستوں میں شامل ہوکر بیوی بچوں سے الگ ہوجاتا ہے۔ شیطان پرست مکمل آزادی کے متلاشی تھے۔ یہ آزادی انہیں کسی خاص نظریے بالخصوص مذہب کے حصار میں رہ کر نہیں مل سکتی تھی، اس لیے وہ مذہب بیزار ہوگئے اور ابلیس کی پرستش کرنے لگے۔ جو ان کی نظر میں:
” ……مظلوم ہے۔ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے …… قدیم عبرانی زبان میں ابلیس کو حلیل بن سحر یعنی صبح کا سورج کہا جاتا تھا۔ پادریوں نے جب بائبل کا لاطینی ترجمہ کیا تو انہوں نے اسے لوسیفر کا نام دیا۔ لوسیفرازم کے ماننے والوں کے مطابق ابلیس کو غیر منصفانہ طور پر جنت سے بے دخل کیا گیا تھا۔” 11
مذاہب کے نقطۂ نظر سے قطع نظر اس ناول میں "ابلیس” ایک ایسے استعارے کے طور پر سامنے آتا ہے، جو خطۂ ارض پر ہونے والے غیرفطری عوامل کی سرپرستی کے لیے مختص ہے۔ شیطان پرستوں کے گروہ کا روحانی خدا بھی وہی ہے، جسے وہ معصوم و مظلوم مانتے اور اس کی بے قدری پر رنجیدہ ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی روح کی تسکین کے لیے رات گئے ایسی پارٹیوں کا انعقاد کرتے ہیں، جہاں شیطان پرستی کی تاریخ اور افادیت و اہمیت پر لکچر کا اہتمام کیا جاتا ہے اور لکچر کے دوران نفیس قسم کی شراب سے سامعین کی تواضع کی جاتی ہے، بعد ازاں وہ کپڑوں سے مبرّا ہوکر مستیاں کرتے اور ایک دوسرے سے سیکس کرکے تسکین حاصل کرتے ہیں۔ ایک ایسی ہی رات میں جب بوراشد کے گھر پر شیطان پرستوں کی پارٹی ہونے والی تھی۔ ایمل نے یوسف کو "لکم بکم” )ایک قسم کی شراب( پلا نے کے بعد سوچا کہ ممکن ہے آج بنگلے کے اطراف شیط کی پرستش کرنے والی کچھ روحیں ہوں۔ وہ چاہتی ہوں یوسف اور ایمل کی اس پیاس کو دیکھیں جو عرق روح، پسینے اور تھوک سے مٹتی ہیں۔ منظر ملاحظہ کیجئے:
"غیر شعوری طور پر اس نے اپنے گلابی ہونٹ کی پنکھری سے رسنے والی رال اپنی انگلیوں میں لے کر یوسف کے ہونٹ، گردن اور سینے پر مل دی۔ ایمل کے بدن کی مہک بڑی تیز اور تُرش تھی، جس نے عطر کی دبیز مہک کو زیر کردیا۔ اس مہک نے یوسف کے خون کے بہاؤ کو تیز کیا اور اس کی روح ایک پرکیف ترنگ کے لیے آمادہ ہوئی۔ یوسف دوبارہ حوضِ بہشت میں تھا۔ جہاں روح اتصالِ حقیقی کی تفہیم کے لیے متسکن ہوتی ہے۔” 12
یہ دونوں ایک دوسرے کی پیاس بجھاتے ہوئے دور نکل جاتے ہیں، اتنی دور کہ یوسف گھربار اور بیوی بچوں کو چھوڑکر دوسری جگہ سکونت اختیار کرلیتا ہے۔ اس بدلے ہوئے رویے پردرخشاں کے ذہن میں آیا کہ ایمل نے یوسف پر کوئی جادو ٹونا کردیا ہے۔ اس خیال کے آتے ہی وہ ایک ڈھونگی بابا کے چکر میں پڑ گئی اور اس پر ایسا ایمان لائی کہ اپنی عصمت بھی اس کی جھولی میں ڈال دی۔ یوسف گھر خرچ کے لیے خطیر رقم دیتا تھا، اس لیے ازدواجی زندگی کی گاڑی کا ایک پہیہ ٹوٹ جانے کے باوجود مانگے ہوئے پہیے سے چلتی رہی۔ یوسف نے چھوٹی بیٹی حنا کو اپنا ہم خیال بنانے کی ہرممکن کوشش کی ، میوزیم کا یہ منظر بھی انہیں کوششوں میں شامل ہے:
"میوزیم میں مغلیہ عہد کی مصوری کے نادر نمونے تھے۔ مصوری کے یہ نمونے مغلیہ عہد کی کیفیاتِ محبت و جنسی عمل کو نفاست کے ساتھ پیش کررہے تھے۔ چند پینٹنگز میں شہزادوں اور رئیس زادوں کو مباشرت سے لطف اندوز ہوتے دکھایا گیا تھا۔ حنا نے ایک نظر دیکھا اور دوسری ونگ کی طرف مڑگئی۔ یوسف نے بھانپ لیا کہ وہ ان پینٹنگز سے شرماگئی ہے۔ اس نے حنا کو بلایا اور اس سے کہا ان تصویروں میں کوئی عیب نہیں ہے بلکہ زندگی کا سب سے بڑا سچ ہے۔ اس سے فرار اختیار کرنا زندگی کو بے معنی بنانے کی ابتدا ہوتی ہے۔ تم اپنی زندگی میں معنی پیدا کرو۔” 13
زمینی مخلوق کی جبلّی ضروریات میں سیکس بھی اہمیت رکھتا ہے، لیکن کچھ شرائط و قواعد کی پاسداری کے ساتھ اس کی تکمیل کی جاتی ہے۔ آزاد خیالی یا ایسے دوسرے تصورات جو ہندوستانی سماج کو اپنی گرفت میں لیتے جارہے ہیں، سابقہ شرائط و قواعد کی نفی کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میںwife swapping اور دوسرے کتنے ہی ناموں سے پارٹیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں بغیر بندشوں کے سیکس کا مزہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس دستور کا چلن اچانک نہیں ہوا بلکہ زمانۂ قدیم سے انحراف بھی کر لیا جائے تو بیسویں صدی میں انٹیلکچول (Intellectual) یا بڑے گھرانوں میں آزاد خیالی کے اس رویے کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ افلاس زدہ طبقوں میں بھی آزاد خیالی کی یہی روش ملتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک طبقہ ایسا کرکے اپنی دانائی کا اظہار کرتا ہے تو دوسرا عدم واقفیت کے تحت مرتکب ٹھہرتا ہے۔عبداللہ حسین ہوں یا شوکت صدیقی یا دوسرے ناول نگار اپنی تخلیق میں ان دونوں طبقوں کی جنسی بے راہ روی کی خوبصورت مصوری کی ہے۔ رہ گیا خطِ افلاس سے اوپر زندگی کرنے والے یعنی میڈل طبقہ تو عصمت چغتائی، محمد حسن عسکری، سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی کے ادب پاروں کو پڑھ کر ان کی جنسی کج روی کو سمجھا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ طبقہ آزاد خیال گروہوں کے پھندوں سے بچا تھا، لیکن ان کے ذہن پر بھی شیطان پرستوں کا گروہ حکمرانی کرنے لگا ہے۔ یوسف اسی درمیانی طبقے سے تعلق رکھتا ہے، لیکن شیطان پرستوں نے آزادخیالی کا بیج اس کے ذہن میں ڈال کر ایسی آبیاری کی کہ وہ تناور درخت بن گیا۔ اسی بیج کو یوسف اپنی بیٹی حنا کے دماغ میں ڈالنا چاہتا ہے۔ حنا نے جس دن یوسف کے بیڈ روم میں حسین برہنہ عورت کی دعوتِ شہوت دینے والی پینٹنگ دیکھی تو اس دن سے کئی باتیں اس کے دل میں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھیں۔ میوزیم میں یوسف کے رویے نے دوبارہ ان باتوں کو تازہ کردیا۔ یوسف اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے درخشاں کے منع کرنے کے باوجود مس تھامس کی سرپرستی میں حنا اور وِدی کو پکنک پر بھیجتا ہے۔ یہ وہی مس تھامس ہیں، جن سے ایمل نے ملایا تھا۔ مس تھامس ممبئی میں شیطان پرستوں کی رہنما تھیں اور ان کی شہوانی پیاس بجھانے کے لیے پارٹیوں کا انتظام کرتی تھیں۔ چند ہی ملاقات کے بعد مس تھامس اور یوسف اتنے قریب آگئے کہ پارٹیوں کے علاوہ بھی دونوں ایک دوسرے کی ضرورت بن گئے۔ اس ناول میں "وِدی” ایک نئی کہانی کے ساتھ داخل ہوتی ہے۔اس نے کچی عمر میں ہی داریوس کے ساتھ سیکس کیا تھا۔ اس کے بعد اپنے اسکول کے عاشق، موسیقی کے ٹیچر اور اپنے باپ کے ایک آرٹسٹ دوست کے ساتھ بھی تعلق بنا چکی تھی۔ اس نے اپنی کہانی سنانے کے بعد حنا سے کہا:
"ہر چیز ہوس ہے۔ عشق بھی ہوس کی ایک شکل ہے، جس کا کوئی اعتراف نہیں کرتا۔ ہوس اصل میں ایک خواہش ہے۔ خواہش کو کچلنا غیر فطری ہے۔ غیر فطری کام کے نتائج غیر متوقع ہوتے ہیں۔” 14
حنا کی اس بات پر کہ میں زندگی بھر صرف ایک ہی مرد کے ساتھ سیکس کروں گی، وِدی لوٹ پوٹ ہوکر ہنسی۔ جب ہنسی تھم گئی تو اس نے کہا:
"ایک مرد اور ایک عورت صرف فلموں میں ایک دوسرے کے ہوتے ہیں۔ زندگی میں نہیں، ہاں بیمار لوگوں کو استثنا حاصل ہے۔” 15
ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ حنا شیطان پرستوں کے گروہ میں شامل ہوجائے، وِدی کا کردار اسی کوشش کا نتیجہ ہے۔ اس کردار کے ذریعے رحمن نے بلاوجہ ناول کو طول دیا ہے۔ جس مقصد کے لیے وِدی کا کردار گڑھا گیا ہے، اسے تو وردۃ السعادۃ بخوبی انجام دے رہی تھی۔حنا مذہبی تو تھی ہی، نماز روزے کی پابند بھی تھی۔ اس لیے یوسف، وردۃ السعادۃ اور وِ دی کی باتیں اسے بے معنی لگتی تھیں:
"حنا کے لیے وردۃ السعادۃ کی باتیں بے معنی تھیں۔ اسے چار قل یاد تھے اور اس نے ارادہ کر رکھا تھا کہ شادی سے پہلے وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گی جس پر اس کے مذہب میں پابندی ہے۔ چنانچہ وردۃ السعادۃ کی باتوں پر کان دھرنے کے لیے اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔” 16
ناول نگار اتنے پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ بدحال کمسن لڑکی کا ایک اور کردار گڑھتا ہے۔ اس کردار کے ذریعے ممبئی کے بھیک منگوں سے جڑے حقائق کا پتہ چلتا ہے۔ بھیک مانگنے کے علاوہ ان کا کام ڈرگس کی اسمگلنگ اور امیدواروں کو جسم فروش لڑکیوں سے ملانا تھا۔ بدحال کمسن لڑکی کی کہانی حنا اور وِدی کے لیے اذیت ناک اور استحصال کی تھی، لیکن خطِ افلاس میں زندگی کرنے والے طبقوں میں ایسا کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ لڑکی جب یہ کہتی ہے:
"اس کا باپ جو اکثر افیم کا نشہ کرتا ہے، وہ پچھلے چار سال سے اس کا جنسی استحصال کررہا ہے۔ اس کی ماں بھی ساتھ میں رہتی ہے لیکن ایک دوسرا آدمی اس کی ماں کے ساتھ وہی کام کرتا ہے جو اس کا باپ اس کے ساتھ کرتا ہے ……. فرسٹ ٹائم میرا باپ ڈالا وہ ٹائم میرے کو افیم پلایا تھا۔ میرے کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ الٹا میں سمجھ رہی تھی میرا پریمی پیار کر رہا ہے۔” 17
لڑکی اپنی زندگی کی سنگلاخ حقیقتوں کا اعتراف کررہی تھی۔ حنا اور وِدی کی حالت فالج زدہ آدمی کی سی تھی، لیکن لڑکی کے چہرے پر کسی بھی قسم کا کوئی تاثر نہیں تھا کہ اس کے طبقے میں ایسی باتیں بے معنی ہیں۔ اس جگہ پر پہنچ کر "روحزن” کا مصنف اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ حنا پر پڑی برف پگھلنے لگتی ہے۔ ایسا تو ہونا ہی تھا کہ حنا کی ماں "درخشاں” بھی تو پکی مذہبی تھی، لیکن ڈھونگی بابا کے آگے اس کے عقائد چکناچور ہوگئے۔ اس ناول میں "شیطان پرستوں” کی کہانی پڑھ کر عبدالحلیم شرر کا ناول "فردوسِ بریں” یاد آتا ہے کہ اس ناول میں "فرقۂ باطنیہ” اور اس کے عروج و زوال کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ "فردوسِ بریں” خودساختہ جنت ہے، اس جنت میں طلسماتی فضاؤں کے درمیان خوبصورت برہنہ لڑکیاں نوآورد کے نظریات بدلنے (Brain Washing) کا کام کرتی ہیں۔ یہ لوگ فرقۂ باطنیہ کے مقاصد کی تکمیل کے لیے مہم سر کرتے ہیں۔ آخر میں یرغان خاتون کے ذریعے اس فرقے کو نیست و نابود کیا جاتا ہے۔ ” روحزن” میں "شیطان پرستوں” کی کہانی پر "فردوسِ بریں” کا شائبہ موجود ہے کہ شرر کے ناول میں برین واشنگ کے ذریعے لوگوں کو قتل پر معمور کیاجاتا ہے اور رحمن کے ناول میں انہیں جسمانی لذتوں سے سرشار کرایا جاتا ہے۔ "فردوسِ بریں” ایک تجربہ گاہ ہے لیکن "روحزن” کی پارٹیاں "شیطان پرستوں” کی تعبیر، جہاں ہر قسم کی آسائش اور لذت پرستی کے سامان موجود ہیں۔ فردوسِ بریں ہوکہ روحزن دونوں میں شیطان پرستوں کا گروہ کا سرغنہ کبھی اسلام کا پیروکار اور مقدس زمین سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کے افکار و نظریات میں تبدیلی آگئی اور دونوں اسلام کے مخالف سمت میں چلنے لگے۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا حق پرستوں نے ہی باطل کے لیے زمین ہموار کی یا کسی سازش کا نتیجہ ہے۔ شرر نے فردوسِ بریں کے مسماری کا منظر پینٹ کر کے ناول کو اختتامی ٹچ دیاہے، لیکن رحمن کے ناول میں ایسا نہیں ہوتا کہ قرعۂ ارض پر بغیر کسی مزاحمت کے آزاد خیالوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں غضنفر کا ناول ’’مانجھی‘‘- ڈاکٹر انوار الحق )
اس ناول میں بیچ بیچ سے ضمنی کہانیاں معدوم ہونے لگتی ہیں ۔ ان کہانیوں میں زیادہ تر ایسی ہیں، جن کا کام حنا کو آزاد خیالی کی روش پر چلنے کی ترغیب دلانا اور اسے مباشرت کے لیے تیار کرنا تھا۔ معدوم ہوتی ہوئی ان کہانیوں میں موضوع کے اعتبار سے بعض ایسی ہیں کہ ان پر الگ سے ایک ناول لکھا جاسکتا ہے۔ اپنی تکمیل سے محروم یہ کہانیاں الجھنوں کا باعث ہوتی ہیں کہ ناول بہرحال انسانی زندگی کا وسیع مطالعہ ہے۔ پلاٹ کی ایسی پیچیدگی داستانوں میں دکھائی دیتی ہے، لیکن وہاں بھی تکمیلیت کا احساس تمکنت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے "روحزن” کو داستانی اسلوب کے مماسل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ شوکت صدیقی کے ناول "خدا کی بستی” میں بھی ضمنی کہانیاں عروج پاتی اور انتہا کو پہنچتی ہیں۔ رحمن کے ذہن میں چونکہ جنسی افکار و عوامل کی تشکیل و تعبیر کرنا تھا، اس لیے زاویہ نگاہ ان ہی چیزوں کے اردگرد گھومتا رہا۔ انہوں نے دوسری طرف جھانکنے کی تکلیف بھی گوارہ نہیں کی۔ ایک ذرا سی کوشش سے ان لغزشوں اور خامیوں کو دور کیا جاسکتا تھا۔ انہیں تو لذّتوں کے ساتھ حنا اور اسرار کی محبت کو پروان چڑھانا اور اسے انجام تک پہنچانا تھا۔ اس کے لیے "بیت الارواح” کا خیالی اسٹیج تیار کیا جاتا ہے، جس میں حنا اور اسرار کو ذومعنی خالق پھل کھانے کی ترغیب دلاتا ہے۔یہ ذومعنی خالق وہی شیطانی قوت ہے، جو انسان کے ذہن میں آزاد خیالی کا بیج بو کر اسے تناور درخت بناتا اور اسے بے راہ روی سے ہم کنار کرتا ہے۔ وہ دونوں ذومعنی خالق کی باتوں میں آکر پھل کھالیتے ہیں۔ ان کے جسم کی ہیئت پھل کے ذائقے سے تبدیل ہونے لگتی ہے، جذبۂ اختلاط اور خواہش ان کو ایک عجیب و غریب کیفیت سے آشنا کرتا ہے:
"انہوں نے ایک دوسرے کے جسم کے ہر عضو کو اپنے ہاتھوں سے چھوکر دیکھا۔ پھر اپنے ہونٹوں سے یکساں شدت کے ساتھ پیار کیا۔ انہیں ایک دوسرے کا جسم عزیز تھا بلکہ جسم کے شعور کے بعد انہیں بیت الارواح میں کسی دوسری شٔے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ انہوں نے ایک دوسرے کے جسم کا ذائقہ چکھا اور اس ذائقے نے ان کی یادداشت کو استحکام بخشا۔” 18
یہ سراسر خیالی تجربہ تھا، جس سے منظر کا خالق دل برداشتہ بھی ہوا ۔ پچھلے دس مہینوں میں حنا اور اسرار ستّر مرتبہ مل چکے تھے۔ ان کے درمیان رسمی باتوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوا تھا۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان دونوں کی محبت خالص قسم کی تھی، جس میں شہوانیت کو دخل نہیں۔ یہ بات صرف اور صرف حنا کے حوالے سے کہی جاسکتی ہے۔ اسرار تو حنا کی محبت میں گرفتار ہونے کے بعد بھی مس جمیلہ اور شانتی کے ساتھ مباشرت کرچکا تھا۔ اس نے کئی بار حنا کے ساتھ بھی جنسی عمل کرنے کی کوشش کی مگر حنا خود کو صاف بچا لے گئی۔ایک ملاقات کے دوران جب وِدی نے اسرار سے پوچھا کہ شادی سے پہلے تم دونوں نے کچھ کیا تو نہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے اسرار نے کہا:
"میں نے ایک بار بولا تھا، یہ تیار نہیں ہوئی۔” 19
اس کا عملی ثبوت ملبار کے ایک کیبن میں ملتا ہے، جہاں عاشق جوڑے یا کوئی منچلا کسی طوائف کے ساتھ اپنی جنسی بھوک مٹانے جاتا ہے۔ حنا اور اسرار بھی وہاں گئے۔ کیبن میں اندھیرا ہونے کے باوجود زمین پر بکھرے ہوئے کنڈوم دکھائی دیے۔ اسی کیبن میں اسرار نے پہلی دفعہ حنا کو "آئی لو یو” کہا اور دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں اپنے لیے بے پناہ محبت دیکھنے لگے۔ اس سے مُلحَقہ دوسرے کیبن سے سرشاری میں ڈوبی ہوئی آوازیں سنائی دیں۔ اِسی درمیان اسرار نے حنا کا ہاتھ پکڑکر اٹھایا۔ اتنی قربت انہیں پہلے نصیب نہیں ہوئی تھی۔ ان کے بدن خون کی گردش سے پیدا ہونے والی کششِ مدار میں تھے۔ مرد اور عورت کے درمیان پائی جانے والی کشش ثقل کی نوعیت کیا ہے اور وہ توانائی کہاں سے اور کیوں پیدا ہوتی ہے جو دو جسموں کو یکساں قوت کے ساتھ ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہے۔ اس بابت انہیں معلوم تو نہیں تھا لیکن وہ اس کے حصار میں ضرور تھے:
"ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر انہوں نے دیر تک کس کیا۔ یہ حنا کا پہلا کس، اسرار کی زندگی کا اب تک کا طویل اور کیبن کی تاریخ کا سب سے طویل کس تھا …. اسرار نے جیسے ہی حنا کی گردن سے اپنے ہاتھ الگ کیے وہ بیٹھ گئی۔ گردن جھکائے خاموشی سے بیٹھی رہی۔ وہ شرماگئی تھی۔ اپنی جسارت اور بوس و کنار میں اپنی صدفی صد شمولیت پر حیران تھی۔ ” 20
اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ حنا کی محبت شہوانیت سے پاک تھی، اسرار کے ورغلانے پر بھی اس نے اپنے جذبات پر قابو رکھا۔ ناول نگار بلاوجہ ان دونوں کے جسم کو کبھی تخیل کے سہارے تو کبھی حقیقت میں برہنہ کرکے دکھاتا ہے۔ لذّتیت سے شرابور "روحزن ” کے ارتقائی سفر میں کئی کردار تھوڑی دیر کے لیے نمودار ہوکر اوجھل ہوجاتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں، جس نے ناول کو ایک خاص موڑ دینے کی کوشش کی ہے۔ حنا اگر اپنی پاکیزگی کو بچانے میں کامیاب ہوجاتی تو ناول کی معنویت کچھ اور ہوتی اور اس کی اثرانگیزی میں بیش بہا اضافے کا باعث ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ حنا اور اسرار کی محبت کا جذبہ پروان چڑھتا ہوا ہوس کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سمندر کے کنارے پتھروں کے اوپر بیٹھے یہ دونوں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے لمحۂ اتصال میں ڈوبے ہوئے تھے کہ یہی ان کے نروان کا لمحہ بھی تھا۔ اس لمحے کی خوبصورت منظر کشی کن الفاظ میں مصنف نے کی ہے، ملاحظہ کیجئے:
"وہ لمحۂ اتصال کے خمار میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہ لمحہ ان کے عشق کی معراج تھا۔ وہ دونوں اپنے اندر نہیں بلکہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں زندہ تھے۔ وہ دونوں اپنے اندر نہیں بلکہ ایک دوجے میں مکین تھے۔ ان کی روحیں روشن تھیں، لیکن وہ اطراف کی دنیا سے بیگانہ تھے۔ بارش، سمندر، ساحل، پتھر، برہنگی انہیں کچھ بھی یاد نہیں تھا۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں تھا کہ وہ کون ہیں۔ یہ لمحہ نفس کی گمشدگی کا لمحہ تھا، جسے بعض لوگ نروان بھی کہتے ہیں۔ اس اتصالِ نفس میں ایک مختصر سا لمحہ ایسا بھی آنے والا تھا جب روح کی خواہش کی سحرکاری میں وہ اپنے وجود کی لطافت کی ارتقائی سطح پر پہنچ کر اس مختصر لمحے میں نابینا ہوجانے والے تھے۔ ” 20
اس لمحے میں بارش، سمندر، ساحل اور پتھر کا ذکر استعارے کے طور پر ہواہے، جو انسان کی جنسی مدوجزر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہی طوفان اس لمحے میں بھی آیا ، جو کہ نفس کی گمشدگی کا لمحہ ثابت ہوا۔ اس کے بعد کیا ہوا ، اس اقتباس کو پڑھ کر آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں:
"سمندر کی اس سرکشی اور دہشت سے بے پروا اسرار اور حنا وجود کی لطافت کو محسوس کرکے نفس کے غائب حاضر غائب لمحے میں داخل ہوئے ہی تھے کہ ایک سرکش موج نے طیش میں اپنا سر اس پتھر پر مارا جس پر وہ دونوں ایک دوسرے میں گم ہوچکے تھے۔ جب موج نے اسرار کو کھینچا عین اسی وقت اسرار وجود کی لطافت کی ارتفائی سطح پر پہنچ کر اس مختصر لمحے میں نابینا ہوگیا تھا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ ققنس کی طرح اٹھ کر کھڑا تو ہوگیا لیکن دوسری موج نے زور دار حملہ کیا۔ حنا نے دونوں ہاتھوں سے اس کے پیروں کو پکڑا۔ وہ لڑکھڑاکر گرا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو پکڑا لیکن اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتے شیطانی موج نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ موج پر موج ٹوٹ رہی تھی۔ جس کے سبب اسرار تیرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہورہا تھا۔ دوسری طرف حنا نے دونوں ہاتھ اس کی گردن میں ڈال کر اسے بھینچ کر پکڑلیا تھا۔ ایک دو بار اسرار نے حنا کا ایک ہاتھ گردن سے الگ کرکے اوپر ابھرنے اور تیرنے کی کوشش کی لیکن اس کی اس کوشش کو حنا سمجھ نہ سکی، مستزاد حنا نے طائرِ نیم بسمل کی سی تڑپ کے ساتھ اسرار کی گردن پر گرفت مزید سخت کر دی۔ دوبار سمندر نے انہیں اوپر اچھالا صرف یہ جتلانے کے لیے کہ ساحل کوسوں دور ہے اور حدِ نظر گلابی بارش کی جگہ گہرا کالا رنگ پھیل گیا ہے۔ ان دونوں موقعوں پر ایک لمحے کے لیے انہوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے صرف اور صرف بے پناہ عشق تھا۔” 21
بتانے کی قطعی ضرورت نہیں کہ اس اقتباس میں سمندر کی سرکشی، نفس کے غائب حاضر غائب لمحے، سرکش موج کا سرپٹکنا، موج کا کھینچنا، وجود کی لطافت کا ارتقائی لمحہ ، شیطانی موج کا انہیں گرفت میں لینا، موج پر موج ٹوٹنا، حنا کا گردن میں ہاتھ ڈال کر اسرار کو بھینچنا، حنا کا طائربسمل کی طرح تڑپنا اور گلابی بارش کا گہرا کالا رنگ ذہن کی سطح پر کیسے کیسے مناظر پیش کرتے ہیں۔ دراصل یہی لمحہ ناول کا اختتامیہ ثابت ہوتا ہے،جسے ناول نگار نے حنا اور اسرار کی موت سے تعبیر کیا ہے۔ "روحزن” کے آغاز کا پہلا جملہ ، جس میں کہا گیا تھا:
"اسرار اور حنا کی زندگی کا وہ آخری دن تھا۔”
اس کے بعد صوفی صورت آدمی جس کے پاس "کتاب الحکمت بین الآفاق” تھی، اس کتاب سے بھی ان کی موت کی تصدیق کرائی گئی اور صوفی صورت آدمی اور اس کا بیٹا مولا بخش گواہ بنے۔ بھٹکتی روحیں جو کبوتر بن کر ممبادیوی کے لیے پیغام رسانی کا کام کرتی تھیں،انہوں نے بھی آنکھیں سکوڑ کر ان کی موت کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد ناول میں متعدد جگہوں پر مذکورہ جملے کو دوہرایا گیا ۔ ناول کے آخری حصے میں جہاں حنا اور اسرار نروان حاصل کرتے ہیں، اس سے ذرا پہلے بھی اس جملے کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اس جملے سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حنا اور اسرار ناول میں اپنے اپنے کردار نبھاکر ابدی نیند سوجائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ جو منظر رحمن عباس نے کھینچا ہے وہ حنا اور اسرار کی موت کا نہیں بلکہ دوجسموںکے متصادم ہونے کے سبب جذبات میں ہونے والی ہلچل کا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ کسی کی موت واقع نہیں ہوتی ، موت تو ہوتی ہے، لیکن یہ موت اسرار اور حنا کی نہیں بلکہ حنا کی عصمت و پاکیزگی کی ہے۔ اسرار تو پہلے ہی مس جمیلہ اور شانتی کے ساتھ سیکس کرچکا تھا۔
ناول نگار کے ذریعے متعدد بار دوہرائے جانے والا یہ جملہ ” حنا اور اسرار کی زندگی کا وہ آخری دن تھا” ایک طرزِ خاص کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آج سے بیس پچیس سال قبل زیادہ تر افسانوی ادب اسی طرز پر لکھا جاتا تھا۔ اس طرز کو اختیار کرنے کا مقصد کہانی کے انجام کو ذہن میں نقش کرانا، بعد ازاں اس کے ارتقائی مراحل کو بتانا تھا، یہ ایک منفرد رنگ ہے، جس کے چھینٹے گہرے ہوتے ہوئے قارئین کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں، لیکن یہی اسلوب اِصرار کی حد تک اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرے تو پھر بیزاری کی کیفیت کا اجاگر ہونا لازمی ہے۔ اس ناول میں بھی رہ رہ کر اسرار اور حنا کی موت والا جملہ اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے بیزاری کا احساس ہوتا ہے۔ رحمن کے دوسرے ناولوں کی طرح اس میں بھی "جنس”کی لفظی تصاویر تلذذ کی فضا پیدا کرتی ہیں اور یہی تلذذ بھرے مناظر قارئین کو آخر تک باندھے رہتے ہیں۔افسانوی ادب میں جنسی مناظر کو پینٹ کرنے کا یہ کوئی نیا رویہ نہیں بلکہ ماضی میں عصمت چغتائی نے "ٹیڑھی لکیر” میں، راجندر سنگھ بیدی نے "ایک چادر میلی سی” میں، شوکت صدیقی نے "خدا کی بستی” میں، عبداللہ حسین نے "اداس نسلیں” میں، الیاس احمد گدی نے ” فائر ایریا” میں اور ان کے علاوہ متعدد ناول نگاروں نے دوجسموں کو ملتے ہوئے کہانی کے اٹوٹ حصے کے طور پر دکھایا ہے ۔ ان کے ناولوں میں ایسے مناظر کہانی کے تقاضے کے طور فنکارانہ ہنرمندی کے ساتھ آئے ہیں، چنانچہ ان مناظر سے ناول کو تقویت ملتی ہے نہ کہ صرف لطف اندوزی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس "روحزن” میں ایسے مناظر شہوت انگیزی کو ہوا دیتے اور بسا اوقات پلاٹ کے کساؤ کو مجروح بھی کرتے ہیں۔ اس ناول میں آزاد خیالی کے نام پر عریاں طرز کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔اس حقیقت پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ بوراشد اور اس کے حلقے سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ جتنے بھی کردار ناول کے ارتقائی سفر میں ادراک کا حصہ بنے ہیں، ان میں کوئی بھی آزاد خیال بلکہ اس لفظ کے مفہوم سے بھی واقف نہیں تو پھروہ کون سی قوت ہے جو انہیں ایک ساتھ جنس کی عریاں بھٹی میں جھونک دیتا ہے۔ دراصل اس کے پیچھے وہ اندھی تقلید ہے، جو دبے قدموں آئی اور انسانی ذہنوں پر ایسا قبضہ کیا کہ ان کی تہذیبی و ثقافتی شناخت مسمار ہوگئی۔ اسی اندھی تقلید کے پروردہ انسان آزاد خیالی کے نام پر خود اپنا اور اپنے سماج کا استحصال خوشی خوشی کرا رہے ہیں۔
"روحزن” میں زیادہ تر مناظرفلموں سے متاثر ہیں۔ فلموں میں کسی خاص واقعے کو دکھانے کے لیے خاص طرح کی منظر کشی کی جاتی ہے۔ "روحزن” میں ایسی کوششیں مختلف جگہوں پر تواتر کے ساتھ ہوئی ہیں۔ دوجسموں کے اختلاط سے پہلے فلموں میں بادلوں کی گھن گرج، بجلی کا کڑکنا اور طوفان کے ساتھ زوردار بارش کا ہونا دکھایا جاتا ہے کہ یہ ساری چیزیں جنسی علامتوں کا درجہ بھی رکھتی ہیں۔ "روحزن” میں ایسی منظر کشی خاص طور پر مس جمیلہ اور حنا کے جنسی ربط و اختلاط سے پہلے منتخب لفظوں کے ذریعے ایسی تصاویر تیار کی گئی ہے کہ آنکھیں اس کی عریانی کو دیکھتی اور اس سے لطف اٹھاتی ہیں۔ ذہن پررکاکت و ابتذال کی ملی جلی کیفیت ایسا رنگ چڑھاتی ہے کہ انسان تھوڑی دیر کے لیے حواس باختہ ہوجاتا ہے۔
اسلوب کے بیانیہ اور فلیش بیک تکنیک کی باتیں ہوچکی ہیں۔ان کے علاوہ کئی اور تکنیک کا استعمال ناول کو استحکام بخشتا ہے، ان میں فلسفیانہ طرزِ اسلوب کی اہمیت زیادہ ہے۔ اس تکنیک کے سہارے ناول نگار نے کرداروں کی نفسیاتی گتھیوں اور پیچیدہ مسئلوں کو سلجھانے کا کام لیا ہے۔ اس ناول میں کئی واقعے اور علامتوں کا استعمال جنسی تعلقات کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ہوا ہے، کبھی تو یہ ناول کی روح میں رچ بس جاتے ہیں اور کبھی پیوند کے مانند دور ہی سے نظر آنے لگتے ہیں۔ ان واقعوں اور علامتوں کا تعلق دیسی اور بدیسی اساطیر اور دیو مالاؤں سے ہے۔ مثلاً چینی مائتھولوجی کے مطابق Yin عورت اور Yang مرد کی توانائی کی علامت ہے، اسی طرح گریک مائتھولوجی میں Nyx رات اور Erebus تاریکی کا بیٹا نیند کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ہندوستان کے علاوہ دوسرے ملکوں میں Eye of God کا تصور پایا جاتا ہے، جو کہ Archetype میں تحفظ کا احساس دلاتا ہے اور جنسی بے راہ روی کی تلقین بھی کرتا ہے۔پیگن (Pagan) تہذیب کی حکایت ، زرخیزی اور افزائشِ نسل کی علامتیں نیز ہندو دیوی دیوتاؤں مثلاً کالی ماں، وشنو، سوستیکا، شیو، پاروتی، کارتیکیہ اور اس کی بیویوں کا ذکر جنسی علامتوں کے طور پر کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں مور، ناگ، سانپ، راکشش وغیرہ بھی اپنے خصائص کے ساتھ موجود ہیں۔ "روحزن” میں طبقاتی فرق کے ساتھ کئی کردار سانس لیتے ہیں۔ ان کے درمیان مکالمے بھی ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ مکالمے کردار کی شخصیت، اس کی سماجی اور اقتصادی نیز فکری نہج سے مطابقت رکھتے ہیں، لیکن ناول نگار اپنی رو میں بہکتے ہوئے ایسی زبان اور دقیق خیالات کا بیان کرنے لگتا ہے کہ وہ مذکورہ کردار سے کسی بھی حالت میں میل نہیں کھاتا اور نہ ہی قارئین کی سمجھ میں کچھ آتا ہے۔ اسلوب کی یہ دشواریاں دراصل رحمن کے ذہن پر سوار جنس کی کیفیتوں نے کیا ہے۔
یہ خیال کہ "ناول زندگی کا آئینہ ہے” اگر درست ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ "روحزن” میں جس طرح کہانی اپنے ارتقا کی طرف بڑھتی ہوئی اپنی کوکھ سے چھوٹی چھوٹی کہانیوں کو جنم دیتی ہوئی انجام کو پہنچتی ہے، اس سے زندگی کا ایک ہی رُخ آئینے میں روشن ہوپاتا ہے۔ بیچ بیچ میں جو کہانیاں جنم لیتی ہیں، وہ بھی انجام کو نہیں پہنچتیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کا تعلق محض جنس سے ہے یا اس کے کچھ اور اَبعاد بھی ہیں۔ اگر اس کا تعلق صرف جنس سے ہے تو "روحزن” اپنے آپ میں مکمل اور بھرپور ناول ہے، بصورتِ دیگر ایک سوالیہ نشان تو ضرور کھڑا ہوجاتا ہے۔
حواشی
: 1روحزن، مصنف: رحمن عباس، ص: 95 عرشیہ پبلی کیشنز، نئی دہلی
: 2 ایضاً ایضاً ص: 95 ایضاً
: 3 ایضاً ایضاً ص: 43-44 ایضاً
: 4 ایضاً ایضاً ص: 56 ایضاً
: 5 ایضاً ایضاً ص: 57 ایضاً
: 6 ایضاً ایضاً ص: 111 ایضاً
: 7 ایضاً ایضاً ص: 111 ایضاً
: 8 ایضاً ایضاً ص: 112 ایضاً
: 9 ایضاً ایضاً ص: 59 ایضاً
:10 ایضاً ایضاً ص: 121-122 ایضاً
:11ایضاً ایضاً ص: 172 ایضاً
:12 ایضاً ایضاً ص: 259 ایضاً
:13 ایضاً ایضاً ص: 181 ایضاً
:14 ایضاً ایضاً ص: 222 ایضاً
:15 ایضاً ایضاً ص: 222-223 ایضاً
:16 ایضاً ایضاً ص: 189 ایضاً
:17 ایضاً ایضاً ص: 132 ایضاً
:18 ایضاً ایضاً ص: 302 ایضاً
:19 ایضاً ایضاً ص: 310 ایضاً
:20 ایضاً ایضاً ص: 352-353 ایضاً
:21 ایضاً ایضاً ص: 353-354 ایضاً
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

