Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

شموئل احمدکے تین ناول:تجزیاتی مطالعہ -محمد غالب نشتر

by adbimiras دسمبر 19, 2020
by adbimiras دسمبر 19, 2020 0 comment

ہم عصر اردو فکشن میں شموئل احمد کا نام اہمیت کا حامل ہے۔فکشن کے حوالے سے اردو افسانے کی بات کریں یا ناول نگاری کا جائزہ لیں تو ایسی صورت میں شموئل احمد کا شمار اہم ترین فن کاروں میں ہوتا ہے۔اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً:شموئل احمد نے ناول اور افسانہ ،دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی ہے،شموئل احمد کا اسلوب ،انہیں دوسرے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے،شموئل احمدنے سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر قارئین کے سامنے اس طرح سے بیان کیا ہے گویا وہ شخص کا ذاتی مسئلہ بن گیا ہو،شموئل احمد نے موضوع کے انتخاب میں محتاط رویّہ اختیار کیا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ شموئل احمد نے اکثر اپنی تحریروں میں موضوع کی مناسبت سے جنس کی ہلکی چھینٹیں ماری ہیں جو اُن کی اصل شناخت ہے۔جنس کو بروئے کار لانے کے لیے ہوسکتا ہے وہ ایسے ہی موضوعات کا انتخاب کرتے ہوں یا ایسے سماجی، سیاسی و معاشرتی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوں جن میں جنس کا ذکر ناگزیر ہوجائے ۔ یہ فن کار کا اپنا رویّہ ہوتا ہے، اپنی آزادی ہوتی ہے۔ایسے معاملات میں وہ ناقدین حضرات کی آرا نہ سنیں تو بہتر ہے۔

تمام اصناف میں بالعموم اور فکشن میں بالخصوص جنس کا ذکر پُل صراط عبور کرنے کے مترادف ہے۔فن کار کی ذرا سی چٗوک اُس کے فن پارے کو ردّی کی ٹوکری میں ڈال سکتی ہے اور محتاط رویّہ بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔اگر فکشن رائٹر، فکشن کی فنی باریکیوں سے ناآشنا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ پل صراط پر قدم نہ رکھے ورنہ ساری محنت خاک میں مل جائے گی۔اردو افسانے میں چند ہی فن کار ایسے ہیں جنہوں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ،اس مضمون کو پوری کام یابی کے ساتھ برتا اور پل صراط پر ڈگمگائے بغیر اس منزل کو عبور کیا ہے بہر کیف یہ بات بلا تامّل کہی جاسکتی ہے کہ شموئل احمد نے اس معرکے کو نہ صرف بہ آسانی سر کیا ہے بل کہ داد تحسین بھی وصول کی ہے۔

منٹو کے بعد کوئی بھی فن کار اگر جنس کے موضوع پر خامہ فرسائی کرتا ہے تو اُس پر بلا چوں و چرا منٹو کی نقالی کا الزام لگ جاتا ہے اور جب ایک بار غلط تاثٔر افسانہ نگار کے تیئںقاری کے ذہن میں قائم ہوگیا تو ہمیشہ اس کے فن اور شخصیت سے وہ تأثرچمٹا رہتا ہے۔یہ غلطی اکثرناقدین حضرات سے سرزد ہو جاتی ہے ۔ہمارے ادب کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ فن پارے کی باگ ڈور ناقدین کے ہاتھ میں ہے۔جن فن کاروں کو اپنے فن پارے سے تسلی نہیں ہوتی، وہ ناقدین کا سہارا لے کر سستی شہرت کی جانب مائل ہوجاتے ہیں۔سردست ایک بات صاف طور پر کہی جاسکتی ہے کہ ناقد،فن کار کی تمام تحریروں کو بالاستیعاب نہیں پڑھ سکتاجب کہ فن کار کی تخلیقات کی کئی منزلیں آتی ہیں اور اُن کے فن میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے خواہ زبان و بیان کے اعتبار سے ہو یا موضوع وہیئت کے حوالے سے۔ہم عصر فن کاروں کی طرح شموئل احمد بھی جنسیت اور منٹو کی نقالی کے الزام سے نہ بچ سکے لیکن ان کے افسانوں اور ناولوں کا بالا ستیعاب مطالعہ کیا جائے تو قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ دونوں کے موضوعات الگ ہیں ۔یوں بھی اردو زبان میں لفظ ’’جنس‘‘ کا استعمال محدود معنوں میں ہوتا رہاہے۔شموئل احمد نے ایک عام انسان کی جنسی جبلت کو موضوع خاص بنایا ہے جہاں پورا سماج اس رنگ میں رنگا ہوا نظر آتا ہے ۔ان کے خیال میں جنس ایسی انسانی جبلت ہے جس سے نظریں چرانا یا صَرف نظر کر نا انسان کے بس کی بات نہیں ۔ایک فن کار تو اس سے صرف نظر کر ہی نہیں سکتا ۔( یہ بھی پڑھیں خری سواریاں:ایک مطالعہ – ڈاکٹر شہناز رحمن)

شموئل احمد کے تا ہنوز چار افسانوی مجموعے،ایک خود نوشت سوانح اور تین ناول منظر عام پر آچکے ہیں۔اس مضمون میں ان کے ناولوں سے بحث کی گئی ہے۔ان کے تینوں ناولوں کا بیانیہ مربوط ہے،موضوعات الگ ہیں ،ساتھ ہی ناول کی اجزائے ترکیبی میں پوری طرح پیوست ہیں ۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تینوں ناولوں پر سیر حاصل گفت گو کی جائے تاکہ تفہیم کی راہیں ممکن ہوسکیں ۔اس ضمن میں پہلے ناول ’’ندی‘‘کو خاص اہمیت حاصل ہے جسے انہوں نے 1993میں لکھا اورداد تحسین وصول کی۔اس ناول کو شموئل احمد نے چار اَبواب میں تقسیم کیا ہے۔پہلے باب میں اردو کے اکثر ناولوں اور افسانوں کی طرح کہانی کو فلیش بیک کے طور پر پیش کیاگیا ہے۔یہ تکنیک اردو اور دوسری زبانوں میں اس لیے بھی زیادہ مروّج ہے کہ اس تکنیک کے ذریعہ پلاٹ کو بہ آسانی تیار کیا جا سکتا ہے ۔اس تکنیک میں فکشن رائٹر کسی بھی واقعے سے اپنی کہانی کی ابتدا کرتا ہے اور رفتہ رفتہ ماضی کی یادوں میں گم ہوکر کہانی بیان کرتا ہے اور اخیر میں اسی نکتہ پر کہانی کو ختم کردیتا ہے۔بہ ہر حال شموئل احمد کے ناول ’’ندی ‘‘ کے ابتدائی سطور حالیہ بیانات سے متعلق ہیں جو کردار کو ماضی کی یادوں میں لے جاتے ہیں۔ملا حظہ ہو:

’’وہ حسب معمول پیٹھ گھما کر لیٹ گیا تھا اور وہ اُسی طرح چت لیٹی چھت کو گھورنے لگی تھی۔۔۔۔دفعتاً اس کو اپنا اس طرح چت لیٹے رہنا انتہائی ذلت آمیز لگا ۔۔۔۔کسی شکست خوردہ آدمی کی طرح چاروں خانے چت لیٹ جانا جیسے اُس کا مقدر ہے۔ اور خود وہ کسی فاتح کی طرح۔۔۔۔۔

ناول کے ابتدائی جملے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرا رہے ہیں کہ شوہر،اپنی بیوی سے عدم توجہی کا شکار ہے جس کا شکوہ عورت کرکے پریشان ہے اور ماضی کی یادوں میں گم ہو جاتی ہے ۔شوہر کے اندر جس جمالیاتی حسّ کا فقدان ہے ،یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بل کہ پہلی دوسری ملاقات ہی میںہی اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا جب اُن دونوں کی غیر رسمی ملاقات کسی شادی کی تقریب میں ہوئی تھی تب میزبان یعنی اس لڑکے نے ارادتاً یا غیر ارادی طور پر لڑکی کی ٹیبل کی جانب بڑھا تھا اور مزید کھانے کے لیے اصرا ر کر رہا تھا ۔تبھی لڑکی کے پاپا نے اس کا تعارف یہ کہہ کر کرایا تھا کہ میری بیٹی یوجی سی اسکالر ہے۔لڑکے نے مسکراتے ہوئے آہستہ سے سر کو خم کیا تھا تو وہ بھی جواباً مسکرائی تھی ۔اس دوران وہ اُس کو اچھی طرح دیکھ لینے میں کام یاب بھی ہوگئی تھی۔آنکھیں گول گول اور چھوٹی تھیں ،رنگ سرخی مائل تھا،بھنویں گھنی اور لمبی تھیں،چہرے کے بانکپن میں ہلکا سا روکھا پن بھی شامل تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ گیمنس انڈیا میں انسپکشن انجنٔر تھا۔تقریب سے رخصت ہونے سے قبل اُس نے اپنا پتا بھی بتا دیا تھا کہ وہ فریزر روڈکے گرینڈ اپارٹمنٹ میں رہتا ہے۔وہ گھر پہنچ کر خوش گوا رموڈ میں تھی اور رات کی تنہائی میں دن کی باتوں کو سوچ سوچ کر فرحت و انبساط کی کیفیت سے گذر رہی تھی۔دوسری صبح بھی وہ فرحت و انبساط کی کیفیت سے سرشار تھی۔اس نے یونی ورسٹی سے لوٹتے ہوئے برٹش کاؤنسل لائبریری سے کچھ کتابیں لیں اور کچھ رسائل خریدنے کے لیے چوک تک آئی تھی تو اُس کے قدم خود بہ خود فریزر روڈ کی جانب بڑھ گئے ،شاید وہ غیر ارادی طور پر اپارٹمنٹ دیکھنا چاہتی تھی کہ رو بہ رو اُسے دیکھ کر ٹھٹھک گئی ۔باتیں ہوا کیں اور اس طرح باتوں کا سلسلہ اور گھر آنے جانے کا سلسلہ چل پڑا ۔تنہائی کے لمحات میں یوجی سی اسکالر نے محسوس کیا کہ وہ لاشعوری طور پر اس کی منتظر رہتی ہے خصوصاً اس وقت جب وہ لان میں تنہا ہوتی ہے۔ایک دن اچانک وہ لان پہ آدھمکتا ہے جب کہ پا پا گھر پر موجود نہیں ہوتے ہیں ۔تب دونوں لان کا چکر لگا کر انواع واقسام کے پھول دیکھتے ہیں جس سے لڑکے کی صحت پہ کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ لڑکی گلاب کی قسمیں یوں بیان کرتی ہے:

’’گلاب کی قسمیں تو آپ نے دیکھی ہی نہیں ۔۔۔۔یہ دیکھیے کرشچن ڈائر،ورگو پیس فرسٹ پرائز،پیرا ڈائز،ایفل ٹاور،سینچوری ٹو،لیڈی ایکس،ڈبل ڈی لائٹ۔۔۔۔یہ رہا مسٹر لنکن‘‘۔

اس کے جواب میں وہ فقط ’’بھئی کمال ہے!‘‘ پر ہی اکتفا کرنا ضروری سمجھتا ہے۔کچھ دن گذر جانے کے بعد پا پا کی ملاقات ،اس شخص سے اسی چوراہے پر ہوتی ہے تو وہ گھر پر لنچ پر دعوت دیتا ہے۔جب پاپا بیٹی جاتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ گھر قرینے سے سجا ہوا ہے گویا تمام اشیا اپنے صحیح جگہ پر ہونے کی گواہی پیش کر رہی ہوں۔وہاں سے گھر واپسی پر وہ کچھ پریشانی محسوس کرتی ہے اور اُسے ایسا لگتاہے اس کے پا پا نے اسی گاودی شخص کے ساتھ اُس کے ہاتھ پیلے کرنے کا عزم مصصم کرہی لیا ہے تو وہ پا پا کی تنہائی اور اُن کی پریشانی سے ڈر سی جاتی ہے لیکن خوف و دہشت کااب کوئی فائدہ نہیں ۔جدائی کا تو ایک دن معین ہے۔

ناول کے دوسرے باب میں شموئل احمد نے نکاح ،شب زفاف اور ہنی مون کا ذکر تفصیلی طور پر کیا ہے ۔یہ ناول کا اصل حصہ تو نہیں البتہ دوسرے ابواب کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس باب کا ذکر غیر ضروری نہیں معلوم ہوتا۔اس باب کے تحت ناول نگار نے ہنی مون کا ذکر تفصیلی طور پر کرتے ہوئے نیپال میں پھیلے قدرتی مناظر اور ہندو دیو مالا ئی عناصر کو بیان کر کے وسیع مطالعے کا ثبوت پیش کیا ہے اور یہ بھی کہ ناول نگار نے اس سرزمین کو بہت قریب سے دیکھا اور اُن کی تہذیب و ثقافت کے بنیادی عناصر کو محسوس کیا ہے۔ان تمام باتوں سے قبل ناول نگار نے شب زفاف کا ذکر اختصار سے کیا ہے تاکہ تمام واقعات ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں۔شب زفاف کے مو قع پر بیوی یہ سوچ کر حیرت زدہ رہ جاتی ہے کہ اس کا شوہر کس قدر جلد باز ہے اور ساری رات بات کرنے کے بہ جائے فوراً دست درازی پر اتر آتاہے۔یہ بات اس کے مزاج کے خلاف ہے۔اسی ادھیڑ بن میں ایک دو دن گذر جاتے ہیں کہ لڑکی کے پاپا نے ہنی مون کے موقع پر کٹھمنڈو کے لیے دو ٹکٹ بُک کرا دیے ہیں ۔کٹھمنڈو کے خیال سے وہ پھڑک اٹھتی ہے کیوں کہ بچپن میں وہ وہا ں جا چکی ہے۔وہاں کے سر سبز وادیوں کی یادیں اس کے ذہن میں اب تک محفوظ ہیں ۔ہنی مون کے دورانِ قیام وہ سمجھتی ہے کہ اس کا شوہر اُس سے بے اعتنائی برت رہا ہے اور حد درجہ خود غرض بھی ہے اور اس رویّے نے اُسے جھنجھلا کر رکھ دیا ہے ۔وہ ایسا محسوس کرتی ہے کہ وہ ہنی مون کے لیے نہیں آئی ہے بلکہ ذہنی اذیت سے جھوجھ رہی ہے اور قید بامشقت کی زندگی گزار رہی ہے۔یہیں سے اُن دونوں کی مخالفت شروع ہوتی ہے۔ان دونوں کے مزاج میں کافی فرق ہے۔ ایک مناظر فطرت کی دلدادہ ہے تو دوسرے کو ان چیزوں سے کوئی دل چسپی نہیں۔ایک میں فنون لطیفہ کی ساری خوبیاں بھری پڑی ہیں تو دوسرا ان سب چیزوں سے ماورا۔

ناول کے تیسرے باب تک آتے آتے دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی متضاد شخصیت کو صاف طور پر محسوس کر تے ہیں۔ساتھ ہی قاری بھی اس الجھن میں ہے کہ آئندہ وہ کون سے اقدام اٹھائے جائیں گے جن سے دونوں کی زندگی میں اعتدال کی صورت پیدا ہو سکے گویا اب ناول اس مقام پر آپہنچا ہے کہ تجسس کی کیفیت پیدا ہو۔کٹھمنڈو سے گھر پہنچ کر بیوی کا موڈ یوں تو آف رہتا ہی ہے لیکن پاپا کا فون آتے ہی اس کے اندر خوش گواری کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔پاپا نے فون کرکے لنچ پہ دعوت دی ہے ۔شادی کے بعد پا پا سے پہلی ہی ملاقات میں اسے احساس ہوتا ہے کہ پاپا کی صحت خراب رہنے لگی ہے ۔اسے اپنا کمرہ اور اس کی تمام اشیا اداسی اور دھند میں ڈوبی نظر آتی ہے۔لنچ کے بعد بیوی کی اصرار پر وہ ریستوراں میں بے دلی سے جاتا ہے جہاں شوہر اور بیوی نے صاف طور پر محسوس کیا کہ دونوں کے مابین کائی زدہ دیوار حائل ہوگئی ہے۔وہ کبھی یہ سوچتی کہ جان بوجھ کر شادی کر کے اس نے یہ غلط قدم اٹھایا ہے جب کہ شادی سے قبل ہی اُسے معلوم تھاکہ وہ ایک گاودی شخص ہے،زندگی جینے کاحسن اس کے اندر نہیں کے برابر ہے۔اس کے بعد بھی وہ شادی کے لیے راضی ہوگئی۔آخر کیوں؟شاید اس لیے کہ اس نے ایک بار مردوں کی طرح جست لگا کر اُسے حادثے سے بچایا تھا اور اسی تحفظ کے احساس نے اسے شادی کے لیے راضی بھی کر لیا تھا لیکن شادی کے بعد یہ راز کھلتا ہے کہ کہ وہ ایک انسان نہیں بل کہ روبوٹ ہے جسے عورت کی پاسداری کا ذرا بھی خیال نہیں۔اسی لیے دونوں کے مابین بحث و تکرار کی صورت حال پیدا ہوتی رہتی ہے گویا یہ ان کی زندگی کی معمولات میں شامل ہو۔شوہر فقط اصول و قوانین کی باتیں کرتا ہے اور انہی اصولوں پر چل کر سکون محسوس کرتا ہے جب کہ بیوی ان اصولوں کی مخالفت کرتی ہے۔اس کے بہ قول:

’’اصول۔۔۔۔اصول کا مطلب ایک محدود دائرے میں جینا ہے جب کہ زندگی اپنے دامن میں ایک وسیع کائنات رکھتی ہے ۔اصول کی عینک سے ہم زندگی کا حسن نہیں دیکھ سکتے ۔اصول کی عینک سے ہم صرف اپنے عقائد کا حسن دیکھتے ہیں ۔۔۔۔اصول اور روایت میں ہم اپنے کو محفوظ سمجھتے ہیں ۔۔۔تحفظ کا یہ احساس دراصل ہمارے عدم تحفظ کا ہی احساس ہے جس سے لا شعوری طور پر گزرتے رہتے ہیں‘‘۔

ایک کو موسیقی ،مصوری ،مناظر فطرت اور سیر وتفریح سے حد درجہ دل چسپی ہے اور اپنی زندگی سے کوئی Compromise نہیں کرنا چاہتی تو دوسرا اصول کا پابند ہے اور اپنے بنائے ہوئے حصار سے باہر نکلنا ہتک ومعیوب سمجھتا ہے ۔دونوں کو ایک دوسرے کے اصول سے حد درجہ چڑ ہے ۔کبھی کبھی دونوں ایک دوسرے کا دل رکھنے کے لیے ایک دوسرے کے کام تو آجاتے ہیں لیکن بے دلی کی دیوار ہمیشہ اُن کے ما بین حائل رہتی ہے۔

ناول کے آخری حصے میںیوجی سی اسکالر اپنے ماحول کے ارد گرد گھٹن محسوس کر تی ہے اور اب اس کے لیے جینا اس لیے بھی مشکل ہو گیا ہے کہ اس کا شوہر اور ساتھ ہی اس کے معمولات زندگی ،اس کی زندگی سے چمٹ گئی ہے ۔اب وہ تنہائی میں رہنا زیادہ پسند کرتی ہے ۔اس کے خیال میں احتجاج کی یہی ایک صورت ہے ۔جب وہ غصے میں چور ہوتی ہے تب بھی اس کے شوہر کو توفیق نہیں ہوتی کہ اس کی خیریت دریافت کرے کیوں کہ اس کے پاس جذبات اور جمالیاتی حسّ کا فقدان ہے ۔اب اسے یہ بھی محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ اس سے فاصلہ چاہتی ہے اور یہ راحت اُسے تب محسوس ہوتی ہے جب اُس کا شوہر آفس سے گھر پر لنچ پر نہیں آتا۔ایسی صورت میں ایک لمبے وقفے کے لیے تما م طرح کی جھنجھٹوں سے آزاد ہوتی ہے،کھل کر جیتی ہے ،حتیٰ کہ اُسے سانس لینے میں بھی کسی طرح کی دشواری نہیں ہوتی ۔کبھی اسے یہ بھی لگتا کہ وہ اڈجسٹ کر رہی ہے اور وہ سوچتی کہ اس کا شوہر بھی اڈجسٹ کرے تو جینے کا لطف دو بالا ہوجائے۔کبھی سوچتی:

’’یہ اڈجسٹمنٹ نہیں ہے۔۔۔۔یہ موت کا عمل ہے۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ مر رہی ہے۔۔۔۔وہ اپنی داخلیت میں مر رہی ہے ۔۔۔۔اس کے اندر پڑی ہوئی کوئی چیز مرجھانے لگی ہے۔۔۔۔آہستہ آہستہ اس کی آزادی سلب ہو رہی ہے ۔۔۔۔وہ اب حصار میں جی رہی ہے‘‘۔

اس کا شوہر اصولوں کے خول میں مقید ہے اور کولہو کے بیل کی طرح عقیدے کی رسّی میں بندھا ایک محدود دائرے میں چکر کاٹ رہا ہے حتیٰ کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ہر عورت اپنے جسم میں الگ مرکز رکھتی ہے اور مرد کے سینے سے لگ کر سونے کی دیرینہ خواہش عورت کی جبلت میں ہے۔آتشیں لمحوں میں عورت کی آنکھیں اندھیرے میں بھی بند رہتی ہیں کیوں کہ وہ ارد گرد کے ماحول سے بالکل بے تعلق ہو جانا چاہتی ہے۔یہ سب ہوتے ہوئے اس کے شوہر کو ان تمام چیزوں کا مطلق علم نہیں ۔اسے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ ،اسے استعمال کر رہا ہے اور اس کام کے لیے سنیچر کی رات کا انتخاب کیا ہے جب کہ عورت کے مزاج کے خلاف یہ بات ہے کہ وہ استعمال ہو۔وہ استعمال ہونا نہیں چاہتی اور مرد فقط اسے استعمال ہونے کی چیز سمجھتا ہے۔یہی سب سوچ کر اُسے لگتا ہے کہ ریسرچ کا کام کرنے سے ہی اس کا ذہن دوسرے کاموں میں بٹا رہے گا اِسی لیے وہ تمام کتابیں سوٹ کیس میں پیک کرکے پاپا کے پاس جانے کا حتمی فیصلہ کرتی ہے اور عملی جامہ بھی پہناتی ہے۔

شموئل احمد کا یہ ناول انسانی رشتوں کی پاسداری،شادی کے بعد عورتوں کی زندگی کا دوسرا پہلو اور مَردوں کی جانب سے ہونے والی بے اعتنائی کے خلاف احتجاج ہے۔یہاں عورت کھلے طور پر مزاحمت تو نہیں کرتی البتہ اس کے اندر مزاحمتی رویّہ ضرور ہے لیکن شوہر پرستی کا خیال کرتے ہوئے جھجھک محسوس کرتی ہے گویا وہ ایک مکمل مشرقی عورت ہے جس کے لیے معاشرے نے ایک حد مقرر کیا ہوا ہے۔مزاحمت کی ایک صورت تو یہ ہے کہ عورت سب کچھ سہہ کرخاموش رہنا اور اپنے شوہر سے دور دور رہنا زیادہ پسند کرتی ہے اور دوسری یہ کہ وہ گھر کا تالا بند کرکے،چابی پڑوسی کے حوالے کر کے ،اپنے شوہر کو بنا کچھ بتائے اپنے پا پا کے پاس چلی جاتی ہے۔ناول نگار نے عورت کے متلی ہونے کے ساتھ کہانی کو اختتام تک پہنچایا ہے کہ عورت کو اپنا ماضی اور حال سوچ کر متلی آتی ہے اوروہ باتھ روم کی طرف بھاگتی ہے،ساتھ ہی وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کا شوہر جگ چکا ہے جو کہ خلاف قیا س ہے۔شوہر کے بارہا پوچھنے پر وہ کچھ بھی جواب دینا گوارا نہیں کرتی ہے۔قے آنا یا متلی آنا اس بات کی بھی علا مت ہے کہ اس کے پیٹ میں بچہ پرورش پا ر ہا ہے اور وہ حاملہ ہے۔عورت یہ سوچ کر بھی پریشان ہے کہ کیا آنے والے بچے کو اپنے قالب میں ڈھال پائے گی یا وہ بھی باپ کی طرح مشینی زندگی گذارے گا اور اپنی ماں کی قدروں کا احترام نہیں کرے گا اور اگر ایسا ہوا تو عورت کی حیثیت کیا رہ جائے گی۔یہاں ناول نگار نے ایک سوالیہ نشان قائم کیا ہے ۔ناول نگار کا یوں ناول کو اختتام تک پہنچا نا ابسن کے ڈرامے ’’دی ڈالس ہاؤس‘‘ کی یاد دلاتا ہے جہاں نُورا بھی مزاحمت کرتی ہے اور شوہر سے علاحدگی اختیار کرتے ہوئے گھر کا دروازہ زور سے بند کرتی ہے۔

شموئل احمد کا دوسرا ناول ’’مہاماری ‘‘ کے عنوان سے 2003میں شائع ہوا جس کا موضوع پہلے ناول سے بالکل مختلف ہے۔اس ناول کو انہوں نے آٹھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔یہاں بھی کہانی حال سے ماضی کی طرف سفر کرتی ہے ۔فہیم الدین شیروانی ناول کا ہیرو واٹر ریسورسیز ڈپارٹمنٹ میں ایکز کیٹیو انجنٔر ہے ۔ابتدائی دنوں میں انہیں اپنے محکمے کے نظام پر رونا آتا ہے کہ افسران کس طرح سے اپنے ماتحت کا استحصال کرتے ہیں۔ناول کے ابتدائی جملے ملاحظہ ہوں:

’’فہیم الدین شیروانی کو اکثر محسوس ہوتا کہ جس عہد میں وہ جی رہے ہیں وہ پٹّے اور زنجیر کا عہد ہے جہاں ہر آدمی کے گلے میں پٹہ ہے اور زنجیر سامنے والے آدمی کے ہاتھوں میں ہے ۔یہ احساس اس وقت بڑھ جاتا جب وہ محکمہ کی اس میٹننگ میں حصہ لیتے جس میں اعلا حکّام کے علاوہ سیاسی رہنما بھی شریک ہوتے۔سبھی زنجیر کستے۔۔۔۔ایم ایل اے۔۔۔۔ایم پی۔۔۔۔ مکھیا ۔۔۔۔ سرپنچ۔۔۔۔کمل ناتھ منڈل کچھ زیادہ ہی کستا‘‘۔

مستزاد یہ کہ شیروانی کاتبادلہ ایسے ضلع میں ہوگیاہے جہاں مسلم افسران، دال میں نمک کے برابرہیں تب اُسے محسوس ہوتاہے کہ اس کے تبادلے کے تئیں کچھ لوگوں کے دل میں شدیدنفرت ہے البتہ چھوٹی ذات کے افسران میں یہ شائبہ دور دور تک نہیں ۔ اس منظرکوبیان کرکے ناول نگارنے شیروانی کے بچپن کاذکر، اس کے خاندان اورحسب نسب کاذکرکیاہے تاکہ مذکورہ اقتباس کے پٹّے کی وضاحت صحیح طور پر ہوسکے ۔ کیوں کہ پٹّے اورزنجیرسے فہیم الدین شیروانی کارشتہ عہدطفلی سے ہے ۔ جب سون پورکے میلے میں جھبریلے پرنظرپڑی تھی تووہ ماں کی گود میں مچل گیاتھا اور ماںنے دوہزار میں ’’ٹفی‘‘ کو خریداتھاجوپامیرین ذات کاتھا۔ جس کی گردن میں زنجیرڈال دی گئی تھی پھربھی گھرکے ویلن کواس سے شدیدنفرت تھی ۔ اسی باعث انھوں نے ’’ٹفی‘‘کو جنگل میں چھوڑنے کافیصلہ کیاتھا۔’’ٹفی‘‘کے علاوہ ویلن کو ایک اورشخص سے نفرت تھی مگر اسے وہ گھرسے نکالنے سے قاصرتھے اوروہ تھاان کابڑا لڑکا’’ڈھان چو‘‘۔یہ نام دادانے رکھاتھاجسے جسیم الدین یعنی ویلن بدل نہیں سکے تھے ۔ وجہ یہ تھی کہ شادی کے چار سال کے بعدبھی جب بہوکی گودہری نہیں ہوئی تو انھوں نے ڈھان پیرکے مزار پر چلّہ کھینچا۔ پیرکے فیض سے امید برآئی تودادانے پیرکے نام پربچے کانام رکھ دیا۔ جسیم الدین کو بیٹے کے نام ، شکل وشباہت اور عادات واطوارسے حددرجہ چڑتھی ۔ ایک روایت ہے کہ جو بچے پیرکے فیض سے پیداہوتے ہیں ان میں پیرکی شکل وشباہت آہی جاتی ہے اسی سبب ڈھان چوکی شکل ایسی تھی ۔ ڈھان چومیں ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ جوبھی خواب دیکھتا،عملی زندگی میں اس خواب کی تعبیر واضح ہوجاتی۔ساتھ ہی وہ دوراندیش بھی تھا۔

ناول کے دوسرے حصے تک آتے آتے کہانی اصل بہائومیں آجاتی ہے ۔ اس کے آغازمیں ناول نگارنے یہ بات کی ہے کہ محبوبہ جو بیوی نہیں بن پاتی اکثرداشتہ بن جاتی ہے اورایم ایل اے جومنسٹرنہیں ہوپاتے ،سمیتی کے ممبربنادیے جاتے ہیں ۔ وہی ممبر اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے ایک دوسرے کے ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اورلوٹ کھسوٹ کے حیلے بہانے ان کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں ، جسے رنگ داری ٹیکس بھی کہہ سکتے ہیں ۔اگرکسی گاؤں میں کوئی سمیتی کاممبرہے توگاؤں کے تمام افراداُس کے پی اے کہلائیں گے اورجہاں تک ممکن ہوسکے گا، لوگوں کااستحصال کریں گے ۔ شیروانی کی ملاقات رام چرترپاسبان سے ہوتی ہے جوکبھی جوتا، کبھی کپڑے اورکبھی جیب خرچ لے کراپنی راہ لیتاہے ساتھ ہی شیروانی کے کام بھی کراتارہتاہے جس سے شیروانی اورپاسبان دونوں خوش ہیں۔

تیسرے باب میں ناول نگارنے مسزکمدچگانی کاذکرکرکے ناول میں جان پیداکردی ہے ۔ سیاست کے باب میں ایک لیڈی کا مردوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ چلنا خطرے سے خالی اوریہی مسزچگانی کے ساتھ ہواہے ۔ ان کی زندگی میں سیاست اور سیکس آپس میں گڈمڈ ہوگئے ہیں ۔ وہ سیاست کے دلدل میں پھنس کرخود کوایک سیاست داں سے کم نہیں سمجھتی ہے اورچمن لال چنچل اسے لالچ دے کراستعمال کررہاہے ۔ چمن لال سے اس کے تعلقات سیاسی معاہدے پرہوتی ہے اورچوں کہ مسزچگانی اقتدارکی سیڑھیاں چڑھنا چاہتی ہے جس کے لیے کہیں نہ کہیں گٹھ بندھن ضروری ہے اوراس گٹھ بندھن کے لیے چمن لال چنچل سے بہترکوئی دوسراہوہی نہیں سکتاہے ۔ کیوں کہ چنچل لوک سمیتی کاچیرمین بھی ہے اوراعلاکمان کامشیربھی ۔ کمدٹرکی اورچمن لال چنچل کی ذاتی ملاقاتوں کا نقشا ناول نگارنے خوب صورت اندازمیں کھینچا ہے :

’’کمدجی !آپ ہماری پارٹی میں آجائیے ۔آپ کوٹکٹ مل جائے گا۔ آپ چنائو جیت جائیں گی‘‘۔اس کے ہاتھ ان کی کمرکے گرد بڑھ گئے ۔اس نے آہستہ سے ان کواپنی طرف کھینچا۔ مسزچگانی اس کے سینے سے لگ گئیں اوران کواپنی آنکھیں اچانک نمناک محسوس ہوئیں ۔ چمن لال چنچل سچاغم گسار معلوم ہوا۔ اس نے اپنے بازئوں کی گرفت تھوڑی سخت کی ۔کمدچگانی نے اس کی گرم سانسوں کو اپنے رخساروں پرمحسوس کیا۔ وہ اس کی بانہوں میں جیسے پگھلنے لگیں ۔ ان کی سانسیں غیر ہموارہونے لگیں ۔ بدن پر چیونٹیوں کاجال کسنے لگا۔ چمن لال کے رینگتے ہوئے ہاتھ ان کی چھاتیوں کی طرف بڑھ گئے ۔ دوسرے ہی لمحے وہ کپڑوں سے بے نیاز تھیں‘‘۔

پاسبان سے ملاقات کے بعدفہیم الدین شیروانی کواچانک خیال آتا ہے کہ اُسے مسزچگانی کے گھرچاپا نل کی مرمت کی غرض سے بھی جاناہے توسب سے پہلے اس نے مناسب سمجھاکہ وہ یہی کام نپٹالے ۔ اُس نے تخمینہ لگایاکہ خرچ کتنا آئے گا۔ وہاں پہنچ کراس نے دیکھاکہ کچھ سیاسی لیڈران بھی مسزچگانی کے گھرتشریف فرماہیں ۔ شیروانی نے جھجھک محسوس کی اورکسی طرح اُس نے چھٹکارا پایا۔ وہ دن بھراسی طرح کے کاموں سے تنگ آچکاتھا۔طرہ یہ کہ گھرپہ بھی کوئی نہیں تھاجو اُس کی خدمت کرے ۔ وہاں بھی سناٹابولتاتھا۔کل ملاجلاکرایک ڈھان چوہی تھاجواس کی طبیعت کوبھانپ لیتاکیوں کہ وہ صوفی منش تھااور موقع کی نزاکت کواچھی طرح سمجھتاتھا۔ شیروانی کورزینہ کی یاداس طرح آئی کہ وہ دل مسوس کررہ گیا۔ اس نے ابّاہی کواس بات کا قصور وار ٹھہرایاکہ انہی کی بہ دولت دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ زندگی گذار رہے ہیں ۔ حاجی برکت اللہ اورجسیم الدین کے مابین پیسوں کامعاملہ ہی توان کی زندگی تباہ کیے ہوئے ہے ۔ کیوں کہ پیسے ہی کے چکّرمیں برکت اللہ (زرینہ کے ابّا)نے اینٹی ڈاوری ایکٹ کے تحت جسیم الدین پرمقدمہ ڈائرکردیاتھا۔

چوتھے باب میں ناول نگارنے سرکاری ڈپارٹمنٹ کی زبوں حالی اورکرپشن کی طرف اشارہ کیاہے کہ ہرشخص اپنے مفاد کے لیے کام کررہاہے جہاں صرف پیسہ بولتاہے اورشیروانی کولگتاہے کہ وہ بھی کالک کی کوٹھری میں قیدہے جہاں سے بے داغ نکلنا تقریباً ناممکن ہے ۔اگر اسے یہاں رہناہے تواسے بھی اسی طرح کے کام کرنے ہوں گے ۔

ناول کے پانچویں باب میں سیاسی افسران کی ریلی کامنظرنامہ اس طرح سے بیان ہواہے گویاسیاست سے پوری انسانیت مجروح ہورہی ہے اوریہی سیاست غریبوں کواُن کی غریبی ریکھاکے نیچے رکھنے پرمجبورکررہی ہے ۔ ایک طرف ریلی کی تیاریاں زور و شورسے چل رہی ہیں وہیں دوسری طرف غریب اوراَن پڑھ طبقے کے لوگ بڑی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے نیتا اُن کی امداد فرمائیں گے ۔ ریلی کی وجہ سے پورے شہرکودلہن کی طرح سجادیاگیاہے اورگاندھی میدان کا علاقے کاتوجواب نہیں :

’’شہردلہن کی طرح سجاہے …خوب صورت ہری جھنڈیاں ۔دل آویز بلند دروازے…ہورڈنگ اور بڑے بڑے کٹ آوٹ …ہورڈنگ کا سلسلہ ایرپورٹ سے ہی شروع ہوگیاہے ۔ گاندھی میدان میں منچ کی بھی رنگائی ہوئی ہے ۔ بانس اوربلّے بھی رنگے گئے ہیں ۔ دورتک لائوڈ سپیکرکاجال بچھاہے ۔سبز اورسفیدکپڑوں سے بنا ہوا گاندھی میدان کااونچا پنڈال …اونچے بلوں پر لگے ہوئے ٹیوب لائٹ…‘‘۔

لیکن دوسری طرف شہرکایہ عالم ہے کہ صبح سے تمام دکانیں بندہیں ۔کاروباری زندگی ٹھپ ہے ۔تمام گاڑیاں ریلی کے واسطے پکڑی گئی ہیں لہٰذاسفرکی دقتیں بڑھی ہوئی ہیں ۔جگہ جگہ پرجام لگے پڑے ہیں اورحدتویہ ہے کہ دوسرے اضلاع اوردوردرازکے علاقوں سے لوگوں کی بھیڑاُمڈپڑی ہے ۔ شیروانی ،اپنے لوگوں سے چھپ چھپاکرراجدھانی میں گھوم رہے ہیں ۔گھومتے گھومتے ان کا گزر گاندھی میدان سے ہوتاہے جہاں بی جے پی کاجلسہ چل رہاہے اورلاؤڈ سپیکرسے چنگاریاں نکل رہی ہیں، وہ بھی مسلمانوں کے خلاف ۔مقرر کاکہناہے کہ’’ مسلمان ہندوستان میں کرائے دارکی طرح آئے اورمکان مالک بن بیٹھے ۔ محمود غزنوی نے سومناتھ کامندرلوٹا اور فرقہ پرستی کی بنیادڈالی ۔ وغیرہ وغیرہ‘‘۔شیروانی نے بہ غورمقرر صاحبہ کو دیکھاتوانگشت بہ دنداں رہ گئے کیوں کہ شعلے اگلتی عورت کوئی اورنہیں ان کی منہ بولی بہن تھی ۔ …مایاساہنی…۔

اگلے دن شیروانی ،اپنی منہ بولی بہن کے گھرپہنچ کراُسے حیران کردیتے ہیں اور اس بات کابھی ذکرکرتے ہیں کہ انھوں نے اس کی تقریرسنی ہے اوراس بات پرتشویش کا اظہار کیاہے کہ بیک ورڈ لیڈی بی جے پی میں کیوں آگئی ہے ۔ وہ اس خدشے کابھی اظہار کرتے ہیں کہ وہ لوگ تمہارااستعمال کررہے ہیں ۔کہیں تمہارا انجام درد ناک نہ ہو۔بہتریہ ہے کہ تم منووادی کے چکّرمیں نہ پڑو۔ شیروانی ،مایاسے برجستہ کہتے ہیں:

’’منووادی اگرمسلمانوں کے خلاف زہراگلتے ہیں تواس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے ۔ان کوہرمسلمان میں محمودغزنوی نظر آتا ہے  لیکن تمہاری جنگ مسلمانوں سے نہیں ہے ۔ تمہاری جنگ تو منووادیوں سے ہے کہ انھوں نے شدرکومذہبی اورسماجی حقائق سے محروم رکھا اوران کے لیے غیرانسانی قانون نافذکیے ‘‘۔

شیروانی نے لمبی چوڑی تقریرکے بعداس سے معذرت چاہی کہ اب چلناچاہیے۔ ساتھ ہی یہ کہ بہن ہونے کے ناطے اتنا سب کچھ کہنے کی جرأت ہوسکی ورنہ دوسروں کے سامنے اس شکایت کا سوال ہی نہیں تھا۔

ناول کے چھٹے باب تک آتے آتے شیروانی کوبھی زنجیرکھینچنے کی عادت ہوگئی اورسرورکی کیفیت طاری ہونے لگی ہے۔ اپنے ماتحتوں سے ملنے والے رقم بھی اسے جائز نظر آنے لگے ہیں ۔ شیروانی نے جلدہی محسوس کرلیاکہ اگراس ڈپارٹمنٹ میں باعزت رہناہے تو ماتحتوں کی رقم سے فائدہ اٹھاناہی پڑے گا۔ اسی اثناشیروانی کوسی ایم کے آنے کی خبرملی تووہ پمپ مستری کے ساتھ ریسٹ ہائوس میں پانی کے انتظام میں جٹ گئے لیکن پانی کاخاطرخواہ انتظام نہ ہوسکا اور شیروانی کی پیشی سی ایم تک ہوئی ۔ حسن اتفاق کہ سی ایم کاجلال،جمال میں بدل گیااورشیروانی نے ان کادل جیت لیا۔ انہی دنوں عام انتخابات کی تاریخوں کااعلان ہوا۔ ایک خبرآگ کی طرح پھیلی کہ مایا ساہنی نے بی جے پی سے استعفیٰ دیا، کمل ناتھ منڈل نے دلت مورچہ سے استعفیٰ دیااورسمتاپارٹی میں شامل ہوئے اورمسز کمدچگانی بی جے پی کی ممبرہوگئیں۔ مایاساہنی کی ملاقات شیروانی سے نہ ہوتی تواُن کوحقیقت تک رسائی نہ ہوتی ۔ انھوں نے یہ بات بھی ثابت کی کہ براہمن نے ہمیشہ اپنی برتری ثابت کی ہے اوردوسروں کوحقارت کی نگاہ سے دیکھاہے ۔ یہ سب سن کرمایاششدررہ گئیں اوربی جے پی سے استعفیٰ دے کرآزادانہ طور پر الیکشن لڑنے کافیصلہ کیا۔

ساتویں باب میں الیکشن کی گرماگرمی اورمختلف پارٹیوں کی ریلیوں کاذکرہے ۔ نیتاحضرات پرچے بھررہے ہیں ، کچھ نیتاؤں نے جیل سے ہی پرچہ بھراہے کیوں کہ اٹل جی کہہ چکے ہیں کہ ہرسادھو کا ایک ماضی ہوتاہے اورہرمجرم کاایک مستقبل …!کانگریس، بی جے پی اوردوسری آزادپارٹیوں کے نیتااپنی تقریریں کرکے دوسری جماعت کی برائیاں کرتے ہیں ، کیچڑاچھالتے ہیں اورسبّ وشتم سے بھی ضرورت پڑنے پرکام لیتے ہیں ۔مایاساہنی بھی آزاداُمیدوارکی حیثیت سے پابہ رکاب ہیں ۔بی جے پی کی کبھی فائربرانڈلیڈراب خود منووادیوں کے خلاف شمشیرزن ہے ۔ وہ اپنی تقریرمیں دلت، اقلیت اورمنووادی جیسی اصطلاحات کی کھل کروضاحت کرتی ہے اورپوری فضامیں تالیوں کی گڑگڑاہٹ گونج اٹھتی ہے ۔اچانک ایک دھماکہ ہوتاہے اور مایا ساہنی کی چیخ سنائی دیتی ہے ۔ اسپتال تک جاتے جاتے مایاساہنی دنیائے فانی سے کوچ کرجاتی ہے ۔ قاری کواس انجام کا پتااسی وقت چل چکاتھاجب مایاکئی سالوں بعدڈھان چوسے ملی تھی اوراس نے بی جے پی چھوڑکرآزادپارٹی بنانے کا فیصلہ سنایاتھا۔ خیرانہی حالات میں الیکشن بڑے زوروشورسے ہوتے ہیں ۔الیکشن کایہ جال بری طرح معاشرے میں پھیلاہواہے ،فاشزم مہاماری کی طرح پھیل رہی ہے ۔

ناول کے آخری باب میں الیکشن کے نتائج آجاتے ہیں ۔ملی جلی سرکارکی حکومت بنتی ہے اوربی جے پی سب سے بڑی پارٹی کے طور پرسرخ رو ہوتی ہے ۔ اسٹیٹ میں مسیحاکی حکومت ہے ،کمل ناتھ منڈل چناؤ ہارچکاہے ، کمدچگانی جیت گئی ہیں،کملیش درپن نے اپنی سیٹ بچالی ہے اورچمن لال چنچل نے شاندارکام یابی حاصل کی ہے ۔سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ فہیم الدین شیروانی کاؤنسل کے ممبر نامزد ہوئے ہیں ،انھیں دھیان آکرشن سمیتی کاچیرمین بھی بنادیاگیاہے ۔ اس سے زیادہ چونکانے والی خبریہ ہے کہ مسزچگانی بی جے پی میں مقبول ہوگئی ہیں ۔سرکارنے انھیں پٹرولیم منسٹرکے عہدے پرفائزکردیاہے ۔ شیروانی ،ان سے ملنے جاتے ہیں تووہ باربارگردن گھماکرسینے کی طرف دیکھتی اورپلّو سنبھالتی ہیں ۔ بالآخرخودہی شیروانی سے اپنی چھاتی کے متعلق پوچھتی ہیں اورخودہی اس کاجواب بھی دیتی ہیں کہ ان کی چھاتی میں پیٹرول اترآیاہے اوران کایہ وہم بڑھتاہی جارہاہے ۔ادھرڈھان چوجب سے ایم ایل سی فلیٹ میں آیاہے ، بہت خوش ہے ۔گھرسے باہراس کی مٹرگشتی بڑھ گئی ہے ۔ گاندھی میدان میں بیٹھ کراورمجمع اکٹھاکرکے وہ اکثرنظمیں سناتارہتاہے ۔آہستہ آہستہ اس کاایک حلقہ بننے لگاہے ۔کچھ لوگ اس کو سننے کے لیے گاندھی میدان تک آتے ہیں ۔ایک بار بھرے مجمع میں گاندھی جی کی مورتی کے سامنے ڈھان چو زورسے چلّاکرکہتاہے :

’’سابرمتی کاپانی لال ہوا…گاندھی تیراایک قتل اورہوا…!‘‘

دوسرے ہی گودھرا کاواقعہ رونماہوتاہے اورڈھان چوانٹرنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکیا جاتاہے ۔ پولیس کے اہلکاراس سے عجیب وغریب سوالات کرکے پریشان کرتے ہیں ۔وہ رنگوں سے متعلق سوالات کرتے ہیں کہ کون سارنگ پسندہے ۔ ملاحظہ ہوں چندسوالات جو اَفسر،ڈھان چو سے کرتا ہے:

’’اپنی پسند نا پسند کے بارے ہیں بتاؤ۔۔۔۔!‘‘

’’کون سا رنگ پسند ہے؟‘‘

’’رنگ؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

ڈھان چو سوچنے لگا۔

’’گلابی۔۔۔۔۔پنڈت نہرو گلاب کا پھول پسند کرتے تھے‘‘۔

’’یہ تو نہرو جی کی پسند ہوئی۔۔۔۔۔!‘‘

’’مجھے بھی گلابی پسند ہے‘‘۔

’’کوئی اور رنگ؟‘‘

’’پیلارنگ بھی پسند ہے‘‘۔

’’اور؟‘‘

’’ہرا رنگ بھی پسند ہے۔‘‘

’’ہرا رنگ۔۔۔۔۔؟ سالا پاکستانی ایجنٹ۔۔۔۔؟ہرا رنگ پسند کرتا ہے۔۔۔۔بہن چود۔۔۔۔۱ی ایس پی نے ڈھان چو کے پیٹ پر کس کر ایک لات جمایا۔۔۔۔دھاپ!اور پھر لاتوں اور گالیوں کی بارش شروع ہوگئی۔سالا ۔۔۔۔ دھاپ ۔ ۔ ۔ ۔ دھاپ۔۔۔۔پاکستانی ٹیررسٹ۔۔۔۔دھاپ۔۔۔۔آتنگ پھیلائے گا۔۔۔۔سالا۔۔۔۔پارلیامنٹ پر حملہ۔۔۔لال قلعہ پر جھنڈا ۔۔۔۔ ۔ دھاپ۔۔۔ ۔ دھاپ۔۔۔ دھاپ۔۔۔۔ ہرا رنگ ۔۔۔۔بہن چود۔۔۔۔آتنگ وادی۔۔۔۔۔‘‘۔

ڈھان چونے لاتوں اورجوتوں کی بارش سے دم توڑدیاہے۔ڈھان چو سے اس بات کا اقبال جرم کرایا جاتا ہے جو اس نے کیا ہی نہیں ہے گویا جمہوری ممالک میں اقلیت کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جانا جائز اور مناسب ہے۔یہاں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ’’ڈھان چو‘‘اقلیتوں کے نوجوان طبقے کا نمائندہ ہے جسے حکومت یا اس طرح کی پالیسیوں سے کوئی دل چسپی نہیں پھر بھی حکومت ایسے لوگوں کے لیے پریشان ہے۔ شیروانی کا یہ عالم ہے کہ وہ اب زیادہ پریشان رہنے لگے ہیں ۔انھیں اپنی زرینہ کی یاداَب کچھ زیادہ ہی آنے لگی ہے اورانھوںنے رمیش یادوکوبلاکرگھرکی سیاست سمجھائی ہے اورنوٹوں سے بھراسوٹ کیس دیاہے جسے جسیم الدین تک پہنچاناہے کہ حاجی برکت اللہ نے آپ کے پیسے لوٹادیے ہیں اورشیروانی نے اپنی گاڑی کارخ حاجی برکت اللہ کے گھر کی جانب موڑدیاہے جہاں اس کی بیوی زرینہ نہ جانے کب سے اس کی منتظر ہے۔میاں بیوی کے تعلقات خراب کرنے کا سہرا حاجی برکت اللہ کو جاتا ہے جو فقط پیسوں کہ خاطر اپنی بیٹی کی زندگی داؤں پر لگا دیتا ہے۔برکت اللہ سماج میں حاجی کہلائے جاتے ہیں گویا وہ دین کے ارکان پر سختی سے عمل پیرا ہیں وہیں دوسری جانب وہ بے ایمانی،خود غرضی اور ریا کاری جیسے عیوب دل میں چھپائے بیٹھے ہیں۔یہ معاشرے کی زبوں حالی کا نوحہ ہے اور حاجی برکت اللہ اس طبقے کا نمائندہ ہیں۔

شموئل احمد کا تیسرا ناول ’’گرداب‘‘کے عنوان سے ۲۰۱۵ء میں راوی پبلی کیشنز،جمشید پور سے شائع ہوا۔اسی سال شائع ہونے والے اُن کی عمر گذشتہ کی کتاب ’’اے دلِ آوارہ‘‘کو بعض حضرات نے خود نوشت کا نام دیا تو بعضوں نے اسے سوانحی ناول قراد دیا۔اگر ناول ’’گرداب‘‘کو بھی سوانحی ناول کے ضمن میں رکھا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ جن جن مقامات کا ذکر ناول میں آیا ہے وہاں دورانِ ملازمت ناول نگار کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔اس بات کو قولِ فیصل نہ تسلیم کیا جائے کیوں کہ فکشن کی دنیا میں سب گنجائش ہے۔کہانی شروع ہوتی ہے لال گنج کے تبادلے سے جہاں ایک سرکاری ملازم کو ایک کرائے کے مکان کی سخت ضرورت ہے۔کرائے کا گھر وہ دیکھتے ہیں اور گھر پسند بھی آجاتا ہے لیکن وہ پیسے کے مول تول کے لیے گھر کی برائی کرنے سے باز نہیں آتا۔گھر دیکھنے کے دوران کرائے دار کی ناک میں عورت کی بو محسوس ہوتی ہے اور وہ گھر میں شفٹ کرنے کی جلدی کرتا ہے۔اُن کے ساتھ ایک نوکر بھی ہوتا ہے جو نصیب کے گاؤں کا ہوتا ہے اور کبھی کبھی مخبری کا کام بھی انجام دیتا ہے۔کرائے دار کی بیوی اور بچے سیفی کیفی پٹنہ میں رہتے ہیں اور اُن کے مالک لال گنج میں ملازمت کے سلسلے میں رہتے ہیں۔لال گنج کے کرائے کے مکان میں نیا کرائے دار جس فلیٹ میں ریتا ہے،اسی میں ایک روشن دان ہے جس سے اوپر کی جانب جاتے شخص کو بہ آسانی دیکھا جاسکتا ہے اور یہیں سے کہانی پھوٹتی ہے۔نیا کرائے دار محسوس کرتا ہے کہ کوئی انہیں واچ کر رہا ہے ۔کرائے دار میں یہ خاص بات ہے کہ وہ عورت ذات کو دور ہی سے سونگھ لیتے ہیں۔ آپ اُسے عیب سے تعبیر کریں یا اُن کی قوتِ شامہ کی داد دیں،کرائے دار پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔مکان مالک ’’درجات‘‘کو کسی ذریعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نیا کرائے دار جوتشی ہے لہٰذا وہ اپنی بیوی کا زائچہ دکھانے آدھمکتاہے۔کنڈی دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ’’ساجی یعنی درجات کی بیوی برج سرطان میں پیدا ہوئی تھی۔زہرہ اور راہو اُس کے ساتویں خانے میں تھے جب کہ زحل دوسرے خانے میں مشتری کے ساتھ بیٹھا تھا۔اس کی ہنسی میں کھنک سے اندازہ ہوتاتھا کہ وہ زہرہ والی عورت تھی کیوں کہ زہرہ والی عورتوں میں ہنسی کی کھنک اسی طرح کی ہوتی ہے۔‘‘کرائے دار نے ساجی کی کنڈلی تو دیکھ کی لیکن شوہر کے ساتھ ساجی کا آنا کچھ عجیب سا لگتا ہے اور اُسے حاجات سے الرجی سی ہونے لگتی ہے جیسا کہ عام مردوں کی نفسیات ہو تی ہے کہ کوئی عورت اس سے ہنس بول لے تو وہ اُس پر مالکانہ حق تصور کرنے لگتا ہے لہٰذا کرائے دار ایک بہانہ بناتا ہے کہ وہ اُس کا زائچہ بعد میں کبھی فرصت سے بنائے گا کیوں کہ یہ کنڈلی نا مکمل ہے۔کرائے دار کے اندر ایک عیب یہ بھی ہے کہ وہ اُن لوگوں سے جن کا آئی کیو کم ہوتا ہے،خواہ مخواہ الرجی محسوس کرنے لگتا ہے۔وہ درجات میں بھی یہی محسوس کرتا ہے کہ ’’وہ آئی کیو سے عاری ہے،سادہ لوح انسان ہے اورآنکھیں مند مند سی ہیں۔آنکھیں تو روح کی آئینہ دار ہوتی ہیںاوردرجات کی آنکھوں میں نہ روح کا اضطراب ہے اور نہ ہی انبساط کی کوئی لہر بلکہ اس کی آنکھیں تو تالاب کے ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہیں اور اُن میں مکروہ قسم کی آسودگی ہے۔

پہلی ملاقات کے بعد جب کرایہ دار پٹنہ چلا جا تا ہے اور اپنی فیملی سے ملنے کے بعد جب واپس آتا ہے تو ساجی بالکنی میں کھڑی ہوتی ہے اور کرائے دار کو دیکھتے ہی اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے۔یہ اُس کا پروجیکشن ہے جو اس بات کی طرف دلالت کر رہا ہے کہ وہ اُس سے ناراض ہے فقط اس بنا پر کہ اس کے خوابوں کا شہزادہ بتائے بنا ہی اُس سے دور کیوں چلا گیا تھا۔اس دورانیے میں دونوں میں اچھی خاصی باتیں ہونے لگتی ہیں اور دونوں گھل مل جاتے ہیں اور نصیب یعنی ساجی کے شوہر پر اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ دونوں کے تعلقات استوار ہونے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔کرائے دار کو مفت میں عیاشی کے لیے ایک عدد عورت بہ طور ہدیہ مل گئی ہے اور ساجی کو خوابوں کا شہزادہ ’’مسٹرکمار‘‘کافی دنوں کے بعد ہاتھ لگا ہے۔ساجی کی اداؤں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شادی کے بعد ہی سے ایسے مرد کی تلاش میں ہے جو اُس کی نظر میں ’’کمار ‘‘کی حیثیت رکھے اور بہت تپسیا کے بعد یہ کرائے دار ہاتھ لگا ہے۔

کرائے دار یعنی مسٹر کمار کے بچوں کے اسکول کے بند ہونے کے بعد نصیب اپنے دونوں بچوں سیفی اور کیفی کو لے کر کچھ دنوں کے لیے لال گنج آجاتی ہے ۔اب ساجی اور مسٹر کمار دونوں کے مابین کشمکش کی ابتدا ہوتی ہے۔ساجی ایسے موقعے پر نصیب سے قریب ہونا چاہتی ہے لیکن نصیب کو ساجی کے بات کرنے کا انداز کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ساجی کی یہ خامی ہے کہ وہ بات کرتے وقت اپنے شوہر کی بے جا تعریف کرنے لگتی ہے جیسے وہ اُس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی ہو،اس کے لیے ورت رکھتی ہے،بہت پیار کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔جب کہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے اور یہی بات نصیب کو پسند نہیں ہے۔وہ نصیب سے گھلنے ملنے کی کوشش کرتی ہے لیکن دونوں کے مزاج میں تضاد ہے۔’’نصیب برج قوس کی ہے۔قوسین عورتیں جلدی گھاس نہیں ڈالتیں۔ساجی سرطان ہے،قوس آتشی ہے اور سرطان آب،پانی اور آگ میں ہم آہنگ نہیں ہو سکتی۔پانی آگ کو بجھا دے گا یا آگ پانی کو بھاپ بنا کر اڑا ڈالے گی۔‘‘یہی وجہ ہے کہ نصیب اُس سے دوری بنائے رکھنے پر مصر ہے۔ساجی کچھ نہ کچھ تحفے تحائف اور کھانے کی چیزیں بھجواتی رہتی ہے اور کبھی دعوت بھی دیتی رہتی ہے۔ایک بار تو حد ہی ہوجاتی ہے۔ساجی ،نصیب کو چوڑیوں،کپڑوں اور سونے کے لاکٹ کا نذرانہ پیش کرتی ہے۔ساتھ ہی سیفی کیفی کو بھی کپڑے دیتی ہے۔یہ بات نصیب کو عجیب لگتی ہے اور بہت ہی صبر کے بعد نصیب سے ایک سوال پوچھ ہی ڈالتی ہے تو ساجی شرمندہ سی ہوجاتی ہے۔اپنے فلیٹ میں آکر شوہر سے کہتی ہے کہ یہ دو ٹکے کی عورت آخر چاہتی کیا ہے۔کیا وہ میری جگہ خود کو دیکھ رہی ہے؟گھر میں کھانے کو لالے پڑے ہیںاور مجھے بیس ہزار کا لاکٹ گفٹ کر رہی ہے۔

کہانی کی ابتدا ہی میں ساجی،کرائے دار کو دیکھ کر دیوانی سی ہوجاتی ہے اور ایسی حرکتیں کرنے لگتی ہے جس سے ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اُس کے خوابوں کا شہزادہ یعنی ’’کمار‘‘اُسے مل گیا ہے۔اس کے بعد جنون کی حد تک ساجی کی دیوانگی پھیلتی جاتی ہے۔آخرکار وہ دن بھی آہی جاتا ہے جب ساجی کو کمار کی قربت نصیب ہوتی ہے۔پہلے تو وہ دوستی شرط رکھتی ہے تو ’’مسٹر کمار‘‘معنی خیز نظروں سے فلسفیانہ انداز میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ دوستی میں جسم کے راستے روح تک پہنچنا کوئی معیوب بات نہیں۔شرط یہ ہے کہ خلوصِ دل سے اس کام کو انجام دیا جائے۔ساجی بہ ظاہر اس جملے پر اعتراض کرتی ہے لیکن دل ہی دل میں وہ مستقبل کے تابناک پہلو کو سوچ کر خوش بھی ہوتی رہتی ہے۔جسمانی و روحانی طمانیت کے لیے وہ کرائے دار کے سامنے ایک پروپوزل رکھتی ہے کہ وہ اُسے سیندور لگا کر صدق دل سے قبول کرلے تاکہ ساجی کے دل میں گناہ کے ارتکاب کا خیال نہ آسکے اور وہ اپنے آپ کو دروپدی تصور کر لے ۔ ساجی سیندور لگا کر احساسِ گناہ سے آزاد ہوجانا چاہتی ہے جب کہ اُسے پتا ہے کہ ہندو عقیدے کے مطابق ایک عورت دو شادیاں نہیں کرسکتی۔ساجی نے جس عمل کے لیے سیندور بھروائے ہیں،آخرکار وہ رات آجاتی ہے جس کا اُسے شدت سے انتظار رہتا ہے۔۔۔۔۔شب وصل کی پہلی رات۔۔۔۔۔ ۔یوں تو دونوں شادی شدہ ہیں اور دونوں کو اس رات کا تجربہ بھی ہے لیکن اس رات کی بات ہی کچھ ا ور ہے۔شب وصل میں مرد کے اندر شیطانی وسوسہ سر اٹھانے لگتا ہے اور وہ ساجی کو کپڑوں سے مکمل طور پر بے نیاز کرنا چاہتا ہے۔وہ منع کرتی ہے اور یہ جواز پیش کرتی ہے کہ اگر اُس نے ایسا کیا تو وہ اس عمل سے بالکل سرد ہو جائے گی۔کپڑوں سے مکمل طور پر بے نیاز کرنے کے بعد مرد کو شرمندگی سی محسوس ہوتی ہے کہ عورتوں کو ہر کسی نے کسی نہ کسی طور پر عریاں ضرور کیا ہے اور ساتھ ہی استحصال بھی۔اس عمل سے وہ کئی دنوں تک مضمحل سا رہتا ہے۔ساجی نے کمار میں اس لیے بھی دل چسپی لینی شروع کی تھی کیوں کہ وہ ایک پڑھا لکھا اور مہذب شخص تھا اور پڑھنے لکھنے سے ساجی کو ایک زمانے میں دل چسپی رہی تھی۔جب اس کی شادی ہوئی تھی تو دوسرے لوگوں نے یہی کہا تھا کہ وہ لوگ پڑھے لکھے لوگ ہیں اور درجات نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس کے پاس کتابوں سے بھری الماری بھی ہے لیکن شادی کے بعد انکشاف ہوا کہ گھر کے سبھی لوگ مڈل فیل ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں رُوحزن : ایک مطالعہ – ڈاکٹر عادل حیات)

مسٹر کمار کے عشق کے دام میں گرفتار ہوکر ایک دفعہ ساجی نے اپنے شوہر یعنی درجات سے بک جھک کی اور پٹنہ شفٹ ہونے کی ٹھان لی اور یہ بہاناکیا کہ پٹنے میں پڑھنے لکھنے کا اچھا انتظام ہے اور منصوبہ کی پڑھائی اچھی طرح سے ہو سکے  گی۔ساجی کے منہہ پھلانے کی وجہ سے درجات راضی ہو جاتا ہے اور ایک دن کرائے دار پوچھ ہی لیتاہے کہ آخر تم نے پٹنہ جانے کی کیوں ٹھان لی ہے؟تو ساجی نے برجستہ کہتی ہے کہ فقط تمہارے لیے۔تمہارا ٹرانسفر کبھی بھی یہاں سے ہو سکتا ہے،پھر تم یہاں آؤگے تو نہیں لیکن تم کہیں بھی رہو،پٹنہ تو آتے تو رہوگے۔وہاں میں رہوں گی تو تمہارا دیدار تو کرسکوں گی۔ ساجی کی باتوں سے مسٹر کمار سمجھ لیتا ہے کہ منصوبہ کی پڑھائی تو ایک بہانا ہے۔

ساجی کے پٹنہ شفٹ ہوجانے کے بعد مسٹر کمار کے لیے یہ مصیبت کھڑی ہوجاتی ہے کہ وہ نصیب اور ساجی ،دونوں کو الگ الگ وقت دینا پڑے گا۔اسے یہ بھی لگتا ہے کہ ایسے میں درجات کی حیثیت صفر ہو جائے گی۔اس کے متعلق ساجی کے الفاظ ملاحظہ ہوں:’’ایک مرد کسی عورت کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اُس کی تمام چیزوں سے پیار کرتا ہے،اس کی برائیاں بھی اُسے عزیز ہوتی ہیں،اس کی تمام بد عنوانیوں کو وہ برداشت کرتا ہے اور یہ شخص مجھے دیوانہ وار چاہتا ہے۔میرے لیے اُسے سب کچھ گوارا ہے۔‘‘اسی محبت کا نتیجہ ہے کہ ساجی ،مسٹر کمار کی ہر ادا کو پسند کرتی ہے گویا یہ محبت کی تثلیث ہوئی جہاں ایک عورت اپنے شوہر کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی غیر مرد کے ساتھ آنکھیں لڑا رہی ہے اور اس کے پیا رمیں دیونی ہوئی جا رہی ہے۔ایسے میں مسٹر کمار کو احساس ہوجاتا ہے کہ بیوی تھوپی ہوئی عورت ہوتی ہے اور ساجی اُس پر تھوپی ہوئی نہیں ہے بلکہ داشتہ ہے۔کرائے دار کی کرشمہ ساز شخصیت اُسے کھینچ کر قدموں میں گرادیتی ہے۔پٹنہ میں ساجی کے جلوے کچھ زیادہ ہی ظاہر ہوتے ہیں۔ایک رات ساجی اور اس کے خوابوں کے شہزادے کے درمیان بات چیت ملاحظہ ہوں:

’’وہ پھر اندر گئی اور موم بتّی لے کر آئی ۔ موم بتّی کی مدھم روشنی میں کمرے کی فضا پر اسرار ہو گئی ۔ اس نے میرے لیے پیگ بنایا ۔میری طرف گلاس بڑھاتے ہوئے بہت ادا سے مسکرا تی ہوئی بولی ۔

’’ دیکھنا چاہتے ہو ۔۔۔۔؟‘‘

’’ کیا۔۔۔۔؟ ‘‘ میں نے ایک گھونٹ بھرتے ہوئے پو چھا ۔

اس نے بلوز اُتا را ۔برا ڈھیلی کی اور رخسار کو ہتھیلی پر ٹکا کر کہنی کے بل لیٹ گئی اور میری طرف مسحور کن نگاہوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔

’’ دیکھو ! ‘‘

موم بتّی کی مدھم روشنی میں اس کا ڈھلتا ہوا جسم پراسرار لگ رہا تھا۔چھا تیاں پر کشش نظر آ رہی تھیں ۔پیٹ کے ابھار اور کولہے کے کٹاؤ میں دلکشی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اُس نے دعوت نظارہ کیوں دیا۔۔۔۔؟ یہ اس کی نرگسیت تھی اور اس کو اس بات کا یقیناً احساس تھا کہ اس کا ڈھلتا ہوا جسم ابھی بھی کشش رکھتا ہے ۔ وہ ایسی دلفریب اداؤں سے مجھ میں اپنی کشش بنائے رکھنا چاہتی تھی ۔آہستہ سے اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔

اس سرشاری میں کمار کو لگتا ہے کہ وہ اُس سے روحانی محبت کرتی ہے۔وہ اس کے جسم سے کھیلتا ہے اور سگریٹ جلا کر دائیں گال پر سٹا تا ہے اور وہ یہ سب برداشت کرتے ہوئے کوئی شکوہ نہیں کرتی ہے۔وہ اسے دل و جان سے چاہتی ہے اور اس سے ملاقات نہ ہونے پر بیمار پڑ جاتی ہے ،طبیعت میں خرابی آجاتی ہے۔ساجی کو اب یہ تکلیف ستاتی ہے کہ مسٹر کمار چند لمحوں کے لیے آتا ہے اور بقیہ اوقات اپنی بیوی کے پاس چلاجاتا ہے اور یہی باتیں ساجی کے لیے تکلیف کا باعث ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پٹنہ آنے کے بعد ساجی اور کرایہ دار کے مابین سرد جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ساجی کا دل چاہتا کہ وہ اسی کے پاس رہے۔وہ اس بات کی بھی شکایت کرتی کہ رات کی تنہائی کاٹے نہیں کٹتی ہے لیکن کمار کی بھی اپنی مجبوری ہے۔اس کی بیوی نصیب پٹنہ میں ہی اپنے بیٹوں سیفی اور کیفی کے ساتھ رہتی ہے آخربچوں کا بھی تو حق ہوتا ہے ،پھر بھی کمار اچھا خاصا وقت صرف کرتا ہے۔ساجی اور اس کی بیٹیوں کو سیر وتفریح کے لیے باہر لے جاتا ہے۔ان حرکات سے اس کا دل کرتا کہ وہ اتنی بیہودہ زندگی کیوں جی رہا ہے،وہ سینڈوچ کی طرح ہو گیا ہے،اس کی آزادی سلب ہوگئی ہے،کبھی وہ اپنے آپ کو سوؤر سے تشبیہہ دیتا ہے تو کبھی اپنے آپ ہی سے گھن کھاتا ہے،اسے ایسا لگتا کہ وہ گرداب میں پھنس گیا ہے،اس کی طاقت سلب ہوگئی ہے،وہ کٹے ہوئے پرندے کی مانند ہوگیا ہے۔

وہ جب لال گنج جاتا ہے تو اس کی طبیعت نہیں لگتی ہے۔اسی دورانیے میں اُس کا تبادلہ پٹنہ ہو جاتا ہے۔اس تبادلے کی خوشی گھر کے تمام افراد کو ہوتی ہے ۔اسی بیچ وہ ٹیرو کارڈ میں پیشین گوئی دیکھتا ہے کہ ساجی کی موت پانی میں ڈوب کر ساجی کی موت ہونے والی ہے لیکن وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اُسے ساجی کی موت کا یقین کیوں ہے؟

لال گنج سے واپسی پر جب وہ ساجی کے فلیٹ میں ملنے جاتا ہے تو اس کا بھائی بھی گاؤں سے آیا ہوا ہوتا ہے۔اسی کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بیٹی کی شادی ہے اور اُنہیں شادی میں شرکت کرنی ہے۔نصیب بھی گاؤں والی شادی کے لیے راضی ہو جاتی ہے۔گاؤں پہنچ کر وہ سیر و تفریح کے لیے نکلتے ہیں ،ساتھ میں ساجی اور درجات بھی ہوتے ہیں۔پہاڑکے حسین منظر کا لطف لیتے ہیں۔پہاڑی کی دوسری جانب کھائی ہے جہاں کوئی شخص غلطی سے گر جائے تو اُس کا بچنا محال ہے۔اسی وقت ساجی گروپ فوٹو کی تجویز رکھتی ہے۔کیمرے کے سامنے نصیب،کمار اور سیفی کیفی ہیں۔ساجی کے ہاتھ میں کیمرہ ہے۔وہ جانتی ہے کہ اُس کے پیچھے کھائی ہے،اگر ذرا بھی چوک ہوئی تو وہ کھائی میں گر سکتی ہے لیکن وہ اپنے سپنوں کے راجکمار کو ہاتھوں سے اشارے کرتے ہوئے خدا حافظ کہتی ہے اور اپنی جان دے دیتی ہے۔کمار کو بھی اس کی اداؤں سے لگتاہے کہ ’’اگر تم مرنے کا کہوگے تو میں مر کر اپنی جان دے دوں گی‘‘ اور ایسا ہی ہوتا ہے۔پورے ماحول میں کشید گی بڑھ جاتی ہے۔لوگ پٹنہ سے آئے مہمانوں کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں ۔خوف و دہشت کے ماحول میں نصیب اور اس کے بچے پٹنہ واپس آجاتے ہیں۔نصیب کا اصرار ہے کہ ساجی نے خود کشی کی ہے اور وہ یہ بھی جانتی ہے کہ ساجی ،اسی کے شوہر کو دل و جان سے چاہتی تھی اور شوہر نہ ملنے کی صورت میں اُس نے جان دے دی ہے۔وہ اپنے شوہر سے بات کرتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ ’’وہ اُسے اپنے ساتھ رکھ سکتی تھی،اُسے جان دینے کی کیا ضرورت تھی۔ایک طرف کمار کی زندگی میں خلا کا احساس ہونے لگا ہے۔وہ سوچتا ہے کہ ’’ساجی نے مجھ میں صرف حسن دیکھا،میں نے اس میں صرف عیب دیکھا۔وہ مجھ سے عشق کرتی تھی اور میں اس پر شک کرتا رہا۔اس کی نگاہوں میں حسن تھا ،میری نگاہوں میں تعصب تھا۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔کمار اپنی بیوی سے اعتراف بھی کرتا ہے کہ ساجی اُس سے محبت کرتی تھی مگر اُس نے ساجی کی قدر نہ کی۔درجات بھی اس بات کو سمجھتا تھااور کوگ اس بات کو سمجھتے بھی تھے لیکن لوگوں کو بس اسی بات کا اعتراض تھا کہ اُسے جان دینے کی کیا ضرورت تھی۔

شموئل احمدکے تینوں ناولوں کے سرسری مطالعے کے بعدقاری اس نتیجے پرپہنچتا ہے کہ تمام ناولوں کے موضوعات الگ ہیں، بیانیہ مختلف ہے اورزبان وبیان کے اعتبارسے بھی تینوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔’’ ندی‘‘ کوپڑھتے وقت کسی طرح کی لکنت کا احساس نہیں ہوتا البتہ’’ مہاماری‘‘ میں ہندی الفاظ کے استعمال سے یہ دقّت پیش آتی ہے ۔ساتھ ہی’’ مہاماری‘‘ میں ایک خاص علاقے کی زبان بھی کہیں کہیں استعمال کی گئی ہے جن کی معنویت اپنی جگہ بہرحال قائم ہے ۔گرداب میں جہاں تہواروں کا ذکر ہے،اُن اقتباسات کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ شموئل احمد کو ہندو میتھا لوجی سے کافی دل چسپی ہے اور گرفت مضبوط ہے۔ تینوں ناولوں کے بیانیے پرنظرڈالیں تو’’ندی ‘‘کابیانیہ زیادہ تہہ دار اور تخلیقی ہے اوردوکرداروں پرمشتمل اس کی کہانی ہے البتہ ’’مہاماری‘‘ کاپلاٹ پے چیدہ ہے اورکرداربھی زیادہ ہیں ۔ ایسے ناولوں میں ہرکردارکے ساتھ یکساں رویّہ رکھنااورمناسب جگہ ہرکردارکوپیش کرنامشکل ترین کام ہے اورایسے ہی کرداری ناولوں میں فن کارکی آزمائش ہوتی ہے ۔شموئل احمدکی بات کریں توانھوں نے یہ معرکہ بھی بہ آسانی سرکرلیا ہے ۔گرداب کی بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ساجی کے اندر ذہنی و جنسی کسک ہمیشہ سے موجود رہی ہے جس کا اظہار اُس نے کبھی نہیں کیا البتہ مسٹر کمار سے ملاقات کے بعد اُسے کچھ جنسی تسکین حاصل ہوتی ہے مگر اس کی مدت کم ہوتی ہے بالآخر وہ خود کشی کرلیتی ہے۔

جیساکہ مذکورہواکہ شموئل احمدنے تینوں ناولوں میں الگ الگ موضوعات کاانتخاب کیاہے ۔ ایک کا بنیادی حوالہ ازدواجی رشتے سے ہے تودوسرا بالکل سیاسی نوعیت کا ہے اور تیسرا ناول شادی کے بعد جنسی ناآسودگی سے ہے۔ اس ضمن میں پہلا ناول ندی ہے جو دراصل ایک مشینی زندگی کے تحت مرداورعورت کے ختم ہوتے رشتے کا استعارہ ہے ۔دومتضاد کیفیت کا باہمی تصادم اوراس کے ذریعے ختم ہوتی ،بکھرتی اورٹوٹتی ازدواجی زندگی کاالمیہ ہے ۔ مردجو مشینی زندگی کی علامت ہے ،وہ اسی خوش فہمی میں مبتلاہے کہ یہ رویّہ اس کی زندگی میں شادمانی وکامرانی عطاکرے گاجب کہ عورت اس کرب کوبری طرح جھیل رہی ہے ۔دیویندر اسر نے اس حوالے سے نہایت موزوں بات کہی ہے ۔ ان کے بہ قول:’’ندی ایک مرداورایک عورت کے انٹی میٹ رشتے کی داستان ہے جوجنسی کشش سے شروع ہوتی ہے اورروحانی کرب میں ختم ہوتی ہے ۔‘‘

لڑکی کوشادی سے قبل ہی اس بات کااحساس ہوچکاتھاکہ اس کے ہونے والے شوہر کے بانکپن میں کہیں ہلکاساروکھاپن بھی شامل ہے اورپے درپے ملاقاتوں کے بعدپورے طورپراس طرح کا تأثر ابھرا تھاکہ وہ ایک دم گاودی قسم کاآدمی ہے ۔اسی لیے وہ بات بات پر گھڑی کوتکتارہتاہے اوراپنی مشغولیت کاپتابتاکررعب جماناچاہتاہے ۔چوبیس گھنٹے میں صرف ایک بارچائے پیتا ہے اوروقت کی پابندی کاہمیشہ تذکرہ کرتاہے جب کہ لڑکی بارباریہی کہتی ہے کہ پابندی حسّ کوختم کردیتی ہے ،آدمی آہستہ آہستہ کنڈیشنڈ ہونے لگتاہے اورپابندی آدمی کوکھل کرجینے نہیں دیتی ۔وہ ہمیشہ یہی محسوس کرتی ہے کہ وہ شخص عجیب گاودی قسم کاہے ۔باربارگھڑی دیکھتارہتاہے ۔ گھر آنے سے قبل فیصلہ کرلیتاہے کہ کتنی دیربیٹھے گا۔ بات کرنے کااس کے پاس کوئی موضوع نہیں ہے۔ موسم کالطف اٹھانے سے بھی قاصرہے ۔ اسی طرح مہاماری کامنظرنامہ بالکل سیاسی ہے ۔ سیاستی ہتھ کنڈے ،سیاست دانوں کی پالیسیاں اوربی جے پی کی اقلیتوں کے تئیں شدت پسندی کواس ناول میں موضوع بنایاہے ۔ ساتھ ہی ایسے شخص کے لیے جس کاماضی بالکل سپاٹ ہے جواس میدان میں کود پڑنے کے بعدبے داغ نہیں نکل سکتاہے ۔ اس کی واضح مثال فہیم الدین شیروانی ہے جسے شروع میں تویوں محسوس ہوتاہے کہ وہ جس ڈپارٹمنٹ سے منسلک ہے اُس میں سرتاپاعیاری ،مکاری اوردھوکے بازی عام ہے اورہرشخص ایک دوسرے کے پٹّے سے بندھاہواہے ۔ اگر اوپر والا آفیسرپٹّہ کستاہے تواس کااثردوسرے کارکنان پربھی پڑتاہے اورپوری ٹیم متحرک ہوجاتی ہے ۔ شیروانی کوان تمام اصولوں سے ابتدامیں چڑتھی لیکن رفتہ رفتہ وہ اس کاعادی ہوجاتاہے اوریہی وجہ ہے کہ وہ اونچے مقام پرفائز ہے ۔ناول’’گرداب‘‘کی بات کریں تو یہ ناول ساجی کی داستان عشق پر محیط ہے۔ساجی ایک خوش حال زندگی گزار رہی ہے لیکن سپنوں کے راجکمار کے کرایہ دار کی صورت میں آنے سے اس کی زندگی تہس نہس ہوجاتی ہے۔وہ نئی زندگی کی چاہ میں کرائے دار سے شادی رچاتی ہے،گھر بار چھوڑتی ہے اور بالآخر موت کو خوشی خوشی گلے لگا لیتی ہے۔وہ کمار کو دیکھ کر ایسی ایسی حرکتیں کرنے لگتی ہے جسے دیکھ کر ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ساجی نے اپنی حالت خود ہی ایسی بنائی ہے۔وہ صرف مسٹر کمار سے ملنے کی حیلے تلاش کرتی ہے۔اس کردار کے ذریعہ شموئل احمد نے نفسیاتی حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے کہ جن عورتوں کی شادیاں پسند کی نہیں ہوتی ہیں،اُن میں مَن کے بھیتر ایک خوابوں کا شہزادہ بسا ہوتا ہے اور زندگی کے کسی موڑ پر اُن کے آجانے سے عورتوں کا نفس صدق و کذب کے مابین پستا رہتا ہے۔

ناول کے اجزائے ترکیبی کی بات کریں توشموئل احمدنے ناولوں کے اجزائے ترکیبی کاخاص خیال رکھاہے خواہ وہ منظرنگاری ہو، واقعہ نگاری یاجزئیات نگاری۔ منظرنگاری کی بات کریں توشموئل احمدنے ’’ندی ‘‘کے لیے ایل ٹی سی گھاٹ کے منظرکواپنے اندازمیں بیان کیا ہے جہاں پرندے چہچہارہے ہیں ،کھجورکی ڈالیاں ہوامیں زور زور سے جھوم رہی ہیں ،مچھوارے جال پھینک رہے ہیں اورناؤ مسافروں کولے کر گھاٹ سے کھل رہی ہے ۔ اس منظرکوبیان کرکے ناول نگارنے ندی کے استعاراتی مفہوم کو وسیع تناظرمیں بیان کرنے کی سعی کی ہے اورمکمل طورپرکامیاب بھی ہوئے ہیں ۔منظرنگاری کے ماسوا جزئیات نگاری کی بات کریں تو انھوں نے ناول کے مروّجہ اصول کی پاسداری کرتے ہوئے کام یابی سے برتاہے ۔باپ بیٹی جب، اس کی دعوت قبول کرتے ہوئے جب گھرجاتے ہیں تو لڑکی ہرایک حصہ کوبہ غور دیکھتی ہے جیسے اس کو یقین ہوکہ وہ آئندہ اسی گھرمیں رہنے والی ہے ۔ملاحظہ ہوں جزئیات نگاری کے چند جملے:

’’وہ گھوم گھوم کرفلیٹ دکھانے لگا۔ ڈرائنگ روم اِل کی شکل کاتھاجس کے کنارے کاحصہ ڈائننگ اسپیس کاکام کررہاتھا، دوبیڈ روم ایک راہ داری سے جڑے تھے ۔ بیڈروم کادروازہ بالکنی میں بھی کھلتاتھا۔بیڈروم صاف ستھراتھا۔ پلنگ پرہلکے آسمانی رنگ کی خوب صورت پرنٹ والی چادربچھی ہوئی تھی ۔ ایک طرف شیلف پرکتابیں سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں۔نیچے کے خانے میں چارپانچ جوڑے جوتے ترتیب واررکھے ہوئے تھے جس پرپالش چمک رہی تھی ‘‘۔

مجموعی طورپریہ بات صاف طورپرکہی جاسکتی ہے کہ شموئل احمدنے افسانوں کے علاوہ ناول نگاری میں فنی ہنرمندی کاثبوت پیش کیاہے اورموضوعات کی سطح پرایسے موضوعات کاانتخاب کیاہے جس پردوسروں کی نظرنہیں جاتی یااگرجاتی بھی ہے تووہ اس کے بیان سے قاصرہے کیوں کہ شموئل احمدنے اس کرب کوبہ ذات خودجھیلاہے اوریہی وجہ ہے کہ انھوں نے ذاتی کرب کو لافانی شاہکار بنادیا ہے ۔

٭٭٭

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasnovelshamoil ahmadادبی میراثشموئل احمدناول
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
محسوسات کا شاعر: زبیر الحسن غافل – خان محمد رضوان
اگلی پوسٹ
مانجھی-نئی دیومالا گڑھنے کی کوشش – ڈاکٹر صفدر امام قادری

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں