تاریخ اچھی طرح جانتی ہے یہ وہ شہر ہے جسے اجڑ کر بسنے کا فن خوب آتا ہے۔ اس شہر نے تیمور لنگ، نادر شاہ، مرہٹے اور انگریزوں کی غارت گری دیکھی ہے۔ کس طرح انگریزوں نے 1857میں بے قصور انسانوں کی لاشیں گلی،کوچوں اور سڑکوں پر بچھا دی تھیں کہ سڑکیں انسانی خون سے سرخ ہو گئی تھیں۔اس وقت مجھے بالکل احساس نہیں تھاکہ میں اس شہر کو ویران ہوتے ہوۓ اور ریپر میں لپٹی ہوئے لاشوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں گی،جو آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر دم توڑ چکی تھیں۔
کسی مؤرخ نے بتایا تھا کہ 1665ء میں جب شہر لندن طاعون کی وبا میں مبتلا تھااور لوگ فوت ہو رہے تھے اس وقت رات کی تاریکی میں ایک گاڑی بأن نمودار ہوتا تھا اور آواز لگاتا ” اپنے گھروں کے مردے باہر نکالو ” اس کچرا گاڑی میں مردوں کو ٹھونس کر ان کے رشتہ دار اپنے پیاروں کو آخری سفر کے لیے رخصت کرتے تھے۔
فصیل بند شہر شاہجہاں آباد سے پرانی دہلی پھر پرانی دہلی سے نئی دہلی میں بدل گیاہے۔ میر تقی میر کے اس شعر کے مطابق ع: رہتے جہاں تھے لوگ طلب روز گار کے، کے مصداق یہ شہر ایسے لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو روزگار کی تلاش میں یہاں آۓ ہیں اور جن سے اس شہر کی رونق تھی۔شاید تاریخ ایک بار پھر خود کو دہراتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی گلی کوچے طاعون زدہ لندن شہر کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ایک گاڑی بان لاشوں کو لاد کرڈمپ کرنے لے جاتا تھا اور عزیز و اقارب حسرت بھری نگاہوں سے صرف دیکھتے رہ جاتے تھے۔فرق صرف یہ ہے کہ تیمار دار ہی اپنے عزیزوں کی لاشوں کو اپنے کاندھوں پر، سائیکل پر،اور گاڑیوں پر لاد کر کسی شمشان، کسی قبرستان،اور کسی دریا میں بہادے رہے ہیں۔
اس شہر کا وہ کون سا رہائشی علاقہ ہے جہاں سے صبح شام کسی نہ کسی فلیٹ سےرونے دھونے کی آوازیں نہ آتی ہوں۔ ابھی ایک آواز خاموش ہوتی نہیں کہ دوسری بلڈنگ کے فلیٹوں سے ماتم کناں آوازیں فضا میں ارتعاش پیدا کرنے لگتی ہیں۔ کنکریٹ کے جنگل سے نکلتی ہوئی انسانی آہ بکا سے زندہ انسانوں کا کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔حالات یہ ہیں کہ لوگ مزاج پرسی، عیادت اور تعزیت کے فریضہ سے بھی دور کر دیے گئے ہیں۔ کوئی کسی کے غم میں شریک نہیں ہو سکتا۔خوف کا ایسا ماحول ہے کہ ہر خاندان صبح ہوتے ہی پہلے اپنے اہل خانہ کو جھنجھوڑ کر دیکھتا ہے اور یقین کرنےکی کوشش کرتا ہےکہ وہ سب سانس لے رہے ہیں یا نہیں۔جب سےاس شہر پر کورونا حملہ آور ہوا ہے لوگ زندگی کی کشتی کواس وبا کےخو فناک بھنور سے نکالنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں میری آواز سنو ! – پرویز اشرفی)
پچھلے دنوں ماں بخار میں مبتلا ہو گئی،کورونا ٹیسٹ کرایا گیا رپورٹ منفی آئی لیکن رات کے آٹھ بجے انھیں سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے لگی۔جانچ سے معلوم ہوا کہ آکسیجن لیول بہت نیچے آچکاتھا۔وقت برباد کیے بغیر انھیں اسپتال لے جایا گیا۔ وہاں نہ ڈاکٹر، نہ کوئی مددگار،خود ہی اسٹریچر تلاش کر کے مریض کو لٹایااور ایمرجنسی وارڈ تلاش کرنے لگا۔جو ڈاکٹر موجود تھے وہ نزدیک آکر معاینہ کرنے کو تیار نہیں۔اسپتال میں بستر اور آکسیجن سلینڈر کی مارا ماری تھی۔مریضوں کا ہجوم مدد کے لیے چیخ پکار کر رہا تھا۔میں ایک صحافی جو قومی میڈیا میں کام کر چکا تھالا تعداد تعلقات کے باوجود کوئی مدد نہیں مل رہی تھی۔ اس نے ماں کودوبارہ کار میں لٹایا اور کئی اسپتالوں کے چکر کاٹنے کے بعدایک اسپتال پہنچا لیکن اسپتال والوں نےگیٹ تک نہیں کھو لا۔ ماں اس کی گود میں سانس لینے کے لیے ہانپ رہی تھی۔وہ بار بار اس کے سینے کو اپنے ہاتھ سے رگڑ کر سانس لینے میں مدد دینے کی کوشش کر رہا تھالیکن بے سود۔اس درمیان وہ مسلسل فون پر اپنے تمام رابطوں کو استعمال کرتے ہوئے مدد مانگ رہا تھا۔ وہ کئی وزیروں، عوامی نمائندوں سے گزارش کر رہا تھالیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی۔کئ گھنٹوں کی کوششوں کے نتیجے میں ایک ڈاکٹر ایک لاکھ معاوضہ کی قیمت پر اس کی ماں کا معائنہ کرنے پر راضی ہو گیا مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ شاید اس کی ماں کو اپنے بیٹے کی بھاگ دوڑ،کسمپرسی،بے بسی اور لاچاری دیکھی نہ گئی اور کب ماں نے دم توڑ دیا بیٹے کو پتہ ہی نہ چلا۔
ڈاکٹر نے نبض پر ہاتھ رکھا اور ایک مختصر سا جملہ ادا کر کے اپنے فرض سے بری ہو گیا ” اب کسی آکسیجن کی ضرورت نہیں۔ She is no more ” ( یہ بھی پڑھیں بے ضمیر – پرویز اشرفی )
میں حکمراں طبقے کی بےحسی اور بےمروتی کا شکار ہو کراس کی ماں کے جسم کے پنجرےسے آزاد ہو کر اپنے مالک حقیقی کی طرف روانہ ہو گئی۔جاتے ہوۓ گلی کوچوں میں سڑتی لاشوں، شمشان میں جلتی چتاؤں، قبرستان میں دفن ہوتے مردوں اور دریا میں بہتی انسانی لاشوں کو دیکھ رہی ہوں۔ !!
پرویز اشرفی
بٹلہ ہاؤس،جامعہ نگر، نئی دہلی

