اگرلفظو ں میں قوت گویائی ہوتی یا الفاظ ہم انسانوں کی طرح مجسم ہوتے ،تو اردو داں اور اردو خواں طبقہ کا حشر کیا ہوتا؟ میں دیوان غالب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا سکتا ہوں کہ میرے ہم سایہ غفور چاچا کی طرح اسّی فیصد اہل اردو کے ماتھے پر رفو کے نشانات ہوتے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ میرے پورے علاقے میں غفور چاچا کی اردو ضرب المثل ہے۔ ان کے دہن مبارک میں چبائے ہوئے پان کے آثار قدیمہ،بیڑی کااٹھتا ہوا دھؤاں ، لعاب دہن کی بارش نما پھہار اور سامنے سے جھڑے ہوئے چاردانتوں کی جگہ سے آنے والی تعفن آمیز ہواؤں کے ساتھ مل کر جب اردو باہر نکلتی ہے تو شیریں سے شیریں لفظ بھی گالی کا درجہ حاصل کرلیتاہے۔ گاڑھی اردو بولنے کے گمان میں وہ ’س ۔ص۔ اور ث‘۔ کو شین ، ج اور ذ کو ’ز‘ اور ک کو بلا تکلف ق بولا کرتے ہیں، جیسے خیریت دریافت کرنی ہوتو وہ کہیں گے ”اور شنائیں شاحب کیشے ہیں؟“۔برسوں پرانی بات ہے ،غفور چاچا نے ایک دن گاڑھی اردو بولنے کے شوق میں میرے گاؤں کے جلیل القدر درزی، جلیل خاں سہروردی کو ذلیل خاں‘ کہہ کر مخاطب کردیا ،جلیل خان کو یہ ذلت برداشت نہیں ہوئی۔پھر کیا تھا انہوں نے اپنی دھار دار قینچی غفور چچا کے سر پردے ماری۔سر پھٹ گیا۔ زخم شدید تھا ، سرجن نے کئی ٹانکے لگائے ، گزر تے وقت کے ساتھ زخم مندمل ہوگیا مگررفو کا نشان آج بھی ان کے ماتھے پر گاڑھی اردو کی سند بن کر چمک رہا ہے۔
سو چنے کی بات ہے کہ جلیل خان سہروردی نے اپنے نام کے بگڑے ہوئے تلفظ کا موقعِ واردات پر ہی بدلہ لے لیا کیوں کہ ان کے پاس دو عدد ہاتھ اور ایک عد دعقل دانی تھی مگر اردو کے ان بے شمار مہاجر الفاظ کا کیا جو سینکڑوں سال پہلے عرب اور ایران کے راستے ہندوستان ہجرت کر آئے تھے ؟زیادہ تر لوگ آج بھی ان کو ان کے صحیح ناموں سے نہیں پکار تے ۔
اردو کی عزت پہ ہاتھ ڈالنے والوں میں سرفہرست یہ خام خیال شاعر لوگ ہیں جن کوکسی نہ کسی نے یہ یقین دلادیا ہے کہ وہ بھی شاعر ہیں۔ اب دیکھئے نا ایک صاحب یوں ہی بحر بے بحر اشعار موزون کرلیا کرتے تھے، اور اندھوں میں کانا راجا کے بمصداق اپنے دوستوں میں بحیثیت شاعر بہت مقبول تھے۔انہیں جب خبر ہوئی کہ میں بھی اردو کا طالب علم ہوں اور تھوڑی بہت شاعری کی سمجھ مجھے بھی ہے تو وہ اپنی ایک غزل لے کر میرے پاس حاضرہوئے ، کہنے لگے” یہ میری اب تک کی سب سے مکبول گجل ہے اس لیے میں نے آپ کو مہروم رکھنا مناسب نہیں سمجھا“۔ ان کی بے سر پیر کی گلابی غزل سن کر جب میرا ہاضمہ بگڑنے لگا تو میں نے جان چھڑا نے کے لیے ان کو اصول غزل کی ایک بنیادی معلومات والی کتاب دے دی۔کچھ دن بعد ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا” اور بتائیں شاعر صاحب؟کتاب پڑھ لی؟ (یہ بھی پڑھیں منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ : سکھ تشخص کا اشاریہ – خالد محمود سامٹیہ )
وہ بولے” بھئی بڑی لاجواب کتاب ہے پوری پڑھ ڈالی ،نہایت مفید ہے، اب میں گجل کے بارے میں بہت کچھ جاننے لگا ہوں“
”تو پھر بتائیں غزل کے پہلے شعر کو کیا کہتے ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
بڑے رعاب سے بولے:
” گجل کے پہلے شعر کو مُطّلَع کہتے ہیں اور آخری شعر جس میں ہم شاعر لوگ تُخلَص استعمال کرتے ہیں اس کو مُقطَع کہاجا تا ہے“۔
ان کی زبانی مطلع، مقطع اور تخلص کی نیلامی دیکھ کر میں نے غزل کے دوسرے عناصر کے بارے میں سوال کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ کاش ہندوستان میں بھی کوئی حجاج بن یوسف پیدا ہوا ہوتا جو عجمیان اردو کے لیے اعراب لگوانے کا تجدیدی کارنامہ انجام دیتا۔
اگر میں اپنے دل کی بات کہوں تو اب اردو کی ہر کتاب ،ہر عبارت ،ہر تحریر میں اعراب کا التزام ہونا ہی چاہیے۔ آخر ہندی زبان میں ماترا ؤں کاالتزام ہے کہ نہیں؟ پھر اردو کے خدمت گاروں نے آج تک اردو کو اعراب سے جو اس کے لیے لباس کے مانند ہے کیوں محروم رکھا ؟
گزشتہ دنوں کی بات ہے میں ٹرین سے دہلی آرہا تھا، وقت گزاری کے لیے غالب کا دیوان‘ جو میرے ساتھ تھا نکال کر پڑھنے لگا ، سامنے والی سیٹ پر ایک جینٹل مین تشریف فرماتھے ، میرے ہاتھوں میں دیوان غالب دیکھ کر بول اٹھے ”غالب صاحب میرے بھی فیوریٹ پوئیٹ ہیں، میں ان کا بہت بڑا فین ہوں، مگر ان کا ایک شعر آج تک سمجھ میں نہیں آیا، میں بڑا پریشان ہوں، اگر آپ یہ سمجھا دیں تو بڑی مہربانی ہوگی“۔
میں نے کہا ضرور۔ پھر انھوں نے غالب کے ایک مشہور روزگار شعر کی تلاوت کچھ اس انداز سے کی۔
لکھتے رہے ِجنوں کی حکایاتِ خونَچکاں ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
پھر بولے ” بھائی جان! میں نے نیٹ پر بہت سرچ کیا، کئی لائبریری بھی وزٹ کیے مگر وہ جِنوں والی حکایت کہیں نہیں ملی جو غالب جی لکھتے رہے تھے، اوریہ ورڈ’خونَچ±کاں‘ بھی مجھے کسی ڈکشنری میں نہیں مل رہاہے۔
اس مرتبہ بے اعراب اردو کی بے بسی پر کم اور ان صاحب کی معصومیت پر زیادہ ترس آیا، پھر میں نے جب انہیں بتایا کہ یہ جنوں کی حکایت نہیں بلکہ ”جُنوں کی حکایات خوں چکاں“ ہے۔ جنوں یعنی madness، حکایات یعنی stories اور خوں چکاں یعنی bloodstained ہے۔ جس کا مفہوم bloodstained stories of madness ہے تو انھوں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور نہات اطمینان سے بولے ” ارے بھائی میں تو ایک سادہ سا انجینیئر ہوں، تھوڑی بہت اردو پڑھی ہے“۔ (یہ بھی پڑھیں آخری پہر کی دستک :شمیم حنفی -ثاقب فریدی )
اور پھر انھوں نے بھی اردو کی بے اعرابی کا گلہ کیا۔ آج بھی جب کوئی اردو خواں معروف ترقی پسند نقاد آل احمد سرور کو آل احمدسروَر پڑھتا ہے تو جی کر تا ہے اس کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردوں۔
حد تو اس وقت ہوگئی جب میں نے اپنے ایک فاضل دوست جو گزشتہ نصف درجن برسوں سے یوجی سی نیٹ کے امتحان کی تیاری کررہے ہیں پوچھا کہ ’طاؤس چمن کی مینا‘ کس کا افسانہ ہے ؟ تو نہایت پر اعتماد ہوکر بولے” نِیر مسعودکا“۔معروف افسانہ نگار نَیّر مسعود مرحوم اب اس دنیا میں نہیں رہے، ورنہ یہ واقعہ سناکر اردو کی بے اعرابی کے مسئلہ پر ان کی ذاتی رائی ضرور لیتا۔
اب دیکھیے نا کل ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے’’بھئی وسیم! یہ مروجہ[م رُووجَ ہ] اور مَسُودَ دہ [م سُ ودَہ] کے کیامعنی ہیں؟
میں نے کہا ” دیکھیے بھائی مجھے اردولغات کا زیادہ گہرا علم نہیں۔۔۔۔ ہاں انھیں لفظوں سے ملتے جلتے الفاظ مُرَوّ جَہ اور مُسَوّدہ کے معانی ہیں۔ ٓآپ کے ’مروجہ اور مسودہ‘ شاید ایسے پرندوں کے نام ہوں گے جو برازیل کے جنگلات میں کہیں بستے ہوں “۔
میرے ایک قریبی رشتے دار حکومت بہار کے تحت ایک ہائی اسکول میں اردو ٹیچرہیں، وہ اپنے حلقے میں نہایت قابل استاد تسلیم کیے جاتے ہیں، کہا جاتاہے وہ واحد وجمع، موصوف صفت، مضاف ومضاف الیہ ، تذکیر وتانیث اور اضداد وغیرہ کے ماہر استاد ہیں اردو کے معاملے میں ان کا نام پٹنہ تک لیا جاتاہے، مشہور ہے، کہ ایک بار اچھی تعلیمی کوشش میں صدرجمہوریہ انعام کے لیے بھی نامزد ہوچکے ہیں، قریبی رشتے دار ہونے کے باوجود آج تک انھوں نے صرف کسی نہ کسی کی موت کی خبر ہی دینے کے لیے فون کیاہے ۔ پچھلے ہفتے ان کا فون آیا، میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں ، میں گھبرایا ”پھر کوئی رشتے دار راہیٔ عدم تو نہیں ہوگئے؟“ مگر اس بار انھوں نے صرف دو لفظوں کے معانی دریافت کرنے کے لیے فون کیا تھا۔ جو وہ مجھ سے پہلے بھی کئی اردو خور۔۔۔۔ معاف کیجیے گا۔۔۔ اردو خواں سے پوچھ چکے تھے۔
وہ لفظ تھے ” مَتُوقَع اور مَتنوع“ پہلے پہل میرے بھی کان کھڑے ہوگئے پھر تلاش بسیار اور کشف ومراقبے کے بعد مجھ پر انکشاف ہوا کہ وہ نامی گرامی معلم صاحب متوقع اور منوّع کو مَتُوقَع اور مَتنوُع پڑھ رہے ہیں، ٹھیک انگریزی کے اس طالب علم کی طرح جو (nature)نیچر اور(future) فیوچر کو نٹورے اور فٹورے پڑھنے کے جرم میں اسکول سے باہر نکا لا گیاتھا۔میں نے بھی اسکول میں نالج کو ’کنالج‘ اور نائف بمعنی چھری کو ’کنائف‘ پڑھا تھا لیکن میرے ماسٹر جی نے مجھے اسکول سے نہیں نکالا تھا کیوں کہ وہ خودبھی ان لفظوں کے تلفظ کی ادائیگی اسی طرح کرتے تھے۔
میرا دل اردو کی بے اعرابی کو لے کر کبھی کبھی زار وقطار روتاہے، لیکن کیا کروں؟ کیا اردو کو بے اعرابی کے نرغے سے باہر نکالنے کے لیے انجمن پنچاب کی طرح کوئی اصلاحی تحریک نہیں چلائی جاسکتی؟ آخر یہ بے چاری اردو کب تک بے اعراب رہے گی؟ ملا رموزی سے ملا وسیم احمدعلیمی تک ہر شخص اردوکو بے اعراب ہی لکھتا آرہا ہے، یہ سلسلہ اور تاکجا؟ افسوس تو یہ ہے کہ حالی اور آزاد جیسے مصلحان اردو بھی اس سنگین نکتے کی جانب توجہ نہ دے سکے۔
مشہور ہے کہ مدرسے میں ایک طالب علم درجہ ٔ خامسہ میں داخل ہوا اور حدیث کی ایک مستند کتاب لے کر شیخ الحدیث کی خدمت میں حاضر ہوا۔ شیخ صاحب نے دریافت کیا” بیٹے کون سی کتاب لائے ہو؟“
طالب علم نے دبے دبے فخریہ لہجے میں عرض کیا” حضرت مِشکُوة(مِ ش ک وت) شریف لایا ہوں“ شیخ صاحب جو ہمیشہ خوف خدا میں مستغرق رہتے تھے اور گزشتہ دس سالوں سے ان کے ہونٹوں پر ہنسی کی ایک جوں تک نہ رینگی تھی، وہ بھی کھلکھلا اٹھے اور بڑے پیار سے فرمایا چلوبیٹا! پھر زکوة(زکُوت) کے بیان سے شروع کرتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں لغت نگاری کے چند مسائل اور مہذب اللغات – ڈاکٹر محضر رضا )
بے اعراب اردو کی مظلومیت کی داستان آخر میں کہاں تک بیان کروں، بہار کے رہنے والے ایک طالب نے تو تاریخ ہی رقم کردی، بی اے کی داستان والی کلاس میں پروفیسر صاحب سے پوچھنے لگا” سر! یہ میرا من دہلوی کی مشہور داستان میں تہذیب دہلی کی ہے، ایک درویش یمن کاہے، ایک فارس کا ،ایک عجم کا اور ایک چین کا ، کتاب لکھی گئی فورٹ ولیم کالج کولکاتہ میں ،پھر اس کانام ”باغ وبِہار“ رکھنے کی وجہ کیاہے؟
اردو کی بے اعرابی کایہ نکتہ جب سے میرے ذہن کوسوجھا ہے ،میں من ہی من میں یہ سوچ سوچ کر خوش ہوجاتا ہوں کہ چلو کیاہوا اگر میں کوئی بڑا محقق نہیں بن پایا، کم سے کم اردو میں اصلاح کا ایک پہلو تو تلاش کیا، میں اس خوش فہمی میں تقریبا دو سال تک مبتلا رہا۔قسم ہے دیوانِ غالب کی جس دن سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ انگریزی کا لفظ ’سائیکالاجی p (Psychology)سے اور لفظ ’سنامی‘(tsunami) tسے شروع ہوتا ہے میرا پورا نظریہ ہی بدل گیا۔ابے!جس زبان میں محبوب کی زلف کالی گھٹا، ہونٹ گلاب کی پنکھڑی، کمر رگِ گل، گردن صراحی، عارض ورخسار شمس وقمر اور قد یار کا عالم فتنۂ محشر کا استعارہ ٹھہرے اس زبان میں اعراب جیسی خارجی چیز پر دماغی قوت صرف کرنا کسی ذہنی مرض کا عندیہ نہیں تو اور کیاہے؟
٭٭٭
وسیم احمد علیمی
wasimahmadalimi@gamil.com
7835961294


1 comment
عمدہ تحریر ❤️❤️❤️❤️