جب رات بہت بیت گئی ،تب وہ آہستہ آہستہ زینے چڑھتے ہوئے چھت پر چلا آیا ۔اس نے لفٹ کا استعمال نہیں کیا ۔ادھر بندلفٹ میں اس کا دم گھٹنے لگا تھا ۔وہ کھُلی ہوا میں سانس لیناچاہتا تھا ۔فلک بوس عمارت کی چھت کشادہ تھی اور جگمگا رہی تھی ۔اس نے چاروں طرف دیکھا ،پھر نیچے جھانک کر دیکھا ۔ہر طرف بیشمار رنگ برنگی روشنیاںاور اجنبی سی ست رنگی پرچھائیاں تھرک رہی تھیں۔پرچھائیوں کے رنگ اسے پسند نہیں تھے ۔پرچھائیوں میں رنگ نہیں ہونے چاہئے۔پرچھائیاں بد رنگ ہوں،بد شکل ہوں،تبھی اچھا رہتا ہے ۔رنگین پرچھائیوں میں رسوائیاں پوشیدہ ہوتی ہیں،جو اکثرجان لیوہ ثابت ہو جاتی ہیں۔ ہر طرف رقص کر تی شمعوں کی رفتار بکھری بکھری تھی ۔کبھی کم تو کبھی زیادہ اور کہیں کم تو کہیں زیادہ ۔رات سرد تھی ،سیاہ تھی اور اداس تھی ۔لپکتی ہوئی شور مچاتی شمشیریں رات کے دامن کو زخمی کر رہی تھیں۔اس نے نظر اُٹھا کر آسمان کو دیکھا ،نہ چاند نہ تارے بس ایک رات بے گانی سی ۔اسے بیحد کوفت محسوس ہوئی ،دور دور تک کہیں کچھ بھی نہیں تھا۔اس نے ددنوں ہاتھ ہوا میں پھیلا دیئے اور خلا میں تیر گیا ۔اب وہ تیزی سے نیچے گر رہا تھا ۔ ۲۵منزلہ عمارت سے۲۵ سالہ ٹیکی ۲۵ سیکنڈمیں سوسائٹی کی پارکنگ سے بیک ہوتی ہوئی ایک کالی چمچماتی لغزی کار کے بونٹ پر جا گرا ۔’’دھڑام‘‘،پھر اُچھل کر دھم سے سڑک پر جا گرا ،خونم خون،وہ بیدم ہو گیا۔کار میں سوار ۷۵ سالہ دل کی مریضہ خاتون کے قلب کی دھڑکنیں اس حادثے سے خوفزدہ ہو گئیں اور بیوفائی کر گئیں۔موت کے اس مختصر تماشے نے ایک ہلچل سی مچا دی ۔
پوش لغزری اپارٹمینٹ بار ہوی منزل پر تھا ۔فلیٹ کے سجے دھجے،بھینی بھینی خوشبو سے مہکتے ڈرائینگ روم کو مدھم مدھم روشنی اور پلیئر پر ہلکے ہلکے بجتی مغربی دھنے مد ہوش کر رہی تھیں۔وہ ددنوںشراب پی رہے تھے ۔وہ جوان تھی اور بے حد خوبصورت بھی تھی ۔وہ گلابی رنگ کا ڈھیلا ڈھالا جھینا جھینا سا گائون پہنے ہوئے تھی۔لیکن اس کے گورے جسم کے جن اُتار چڑائو سے اور جن گدازرعنائیوں سے وہ گاؤن آشنا ہو رہا تھا،ان سے اس حسینہ کے بدن کی جاذبیت کا خوب خوب اندازہ ہو رہا تھا ۔اس کا چہرہ بیحد دلکش تھا،آنکھیں گہری نیلی نیلی تھیںجن کی کشش اورنشے میںشراب نے مزید اضافہ کر دیا تھا۔ وہ سوفے پر نیم برہنہ دراز تھی اور قیامت ڈھا رہی تھی ۔وہ اپنے سامنے بیٹھے نوجوان کو بیحد دل چسپ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔نوجوان حسینہ کے حسن سے بے نیازکسی گہری سوچ میںڈوبا ہوا تھا ۔سانولی رنگت،دبلا پتلا درمیانی قد ،تیکھے نین نقش،گھونگرالے بال اور مفکر آنکھوں والے اس نوجوان کے چہرے پرسلیقے سے تراشی ہوئی داڑی مچھیں ایک خاص تاثرپیدا کر رہی تھیں۔ حسینہ نے اپنے کٹے ہوئے بالوں کو ،جو اس کے چہرے پر آرہے تھے ،گردن جھٹک کر پیچھے گھُما دیا ۔اس کی گردن لمبی اور صراحی دار تھی اورگاؤن اس کے گورے گورے سینے کے اُبھاروں پر کھُلا ہوا تھا ۔حسینہ نے نوجوان کو بیحد دل فریب لہجے میں دعوت دی،
’’آؤسیکس کریں‘‘۔
نوجوان نے مسکرا کر اسے دیکھا اور کہا، (یہ بھی پڑھیں بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ – راجیو پرکاش ساحرؔ )
’’میرا تمہیں چونکانے کا ارادہ بلکل نہیں ہے،لیکن ابھی ابھی شیشوں کے اس پار میں نے ایک لہراتی ہوئی دھندلی دھندلی سی کسی انسانی سائے کی جھلک نیچے گرتی ہوئی دیکھی ہے ‘‘۔
حسینہ منہ بچکاتے ہوئے انمنی سی بولی
’’تمہارا نشہ تمہارے تصور کے ساتھ کھیل رہا ہے ۔تمہاری نظریں دھوکہ کھا رہی ہیں۔یہ سب چھوڑو،تم تو صرف میرے جلتے ہوئے بدن کے حسن شباب کے مزے لوٹو‘‘۔
نوجوان نے جواب دیا،
’’ہو سکتا ہے یہ میری نظروں کا دھوکہ ہو مگر نظروں کے دھوکے اکثرحقیقت بھی تو ثابت ہو جاتے ہیں‘‘۔
حسینہ بولی،
’’چلو مان لو اگر تمہارا دھوکہ حقیقت ہے بھی تو کیا ہوا؟ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے ۔ہو سکتاہے کی کسی مرد یا عورت نے بلڈینگ کی چھت سے کود کر خود کشی کو انجام دیا ہو اور تم کو اس آخری چھلانگ کی جھلک دکھلائی دے گئی ہو ‘‘۔
نوجوان نے سنجیدہ لہجے میں کہا
’’یعنی ایک موت ‘‘۔
حسینہ جوآرام سے صوفے پر پسری ہوئی تھی ،اطمینان سے بولی،
’’تو اس میں نیا کیا ہے ؟روز زندگی مرتی ہے اور روز موت زندہ ہوتی ہے ‘‘۔
نوجوان نے کچھ سوچتے ہوئے پھر دہرایا،
’’ یعنی ایک موت‘‘۔
حسینہ چہک کے بولی،
’’ایک موت،صرف ایک موت؟موت کبھی تنہانہیں ہوتی ۔ہر موت کے ساتھ کئی موت وابستہ ہوتی ہیں۔بہرحال جو بھی ہوا ہوگا،اس کی معلومات صبح ہو ہی جائے گی ۔ابھی تو ’’آئو سیکس کریں‘‘۔
نوجوان نے اس خوبصورت مشورے پر کوئی توجہ نہیں دی اور بولا،
’’ میں تمہیں ہرگزالجھن میں نہیں ڈالنا چاہتالیکن یہ حقیقت ہے کی خورشیدکے علاوہ ددسرے تمام تاروں کے ارد گرد بھی اب تک ۳۴۰۶سیارے دریافت کئے جا چکے ہیں۔ان میں سے۱۲۸۴ کا اعلان پچھلے سال ہو چکا ہے ۔یہ سیارے اچانک کہیں سے پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ان کے بارے میں اٹکلیں کافی وقت سے لگائی جا رہی تھیں۔لیکن پہلا اکسپونینٹ۱۹۸۸ میں ہی کھوجا جا سکا تھا ۔ہاں ادھر ان کے کھوجے جانے کی رفتاربہت بڑھ گئی ہے ‘‘۔
حسینہ نے چونک کر نوجوان کو دیکھا،پھر جھلا کر بولی ،
’’اب اس بکواس کا کیا مطلب ہے ‘‘۔
نوجوان حسینہ کو دیکھتے ہوئے بولا،
’’مطلب!ہاں مطلب،در اصل مطلب ایک بیحد مزیدار کئی پرتوں والامعا ملہ ہے ۔سیکس،موت،اور ستارے،سیارے۔ان کا آپس میں کیا رشتہ ہے اور اس رشتہ کا کیا مطلب ہے؟واہ!ایک دم جدید فلسفیانہ سوچ،ایک حیرت انگیز موضوع جس میں تحقیق کے بیشمار امکانات موجودہیں۔بیشک اس نئی فلسفیانہ کھوج کے لئے میں مبارک باد کا مستحق ہوں‘‘۔
حسینہ کھلکھلا کرہنس پری اور اس ہنسی میں اس کے گلابی لبوں کے درمیان موتیوں جیسے دانت چمک اُٹھے ،
’’تم ایک خبطی فلسفی ہو،مگر تمہاری خبط ہے بیحد لزتدار،فلسفے میں بھی اور بستر میں بھی،’’آؤ سیکس کریں‘‘۔
نوجوان تو جیسے اپنے میں ہی مگن تھا
’’جانے من، معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے بلکہ بے حد پیچیدہ ہے ۔جسم مر جاتا ہے مگر روح زندہ رہتی ہے اور ستارا بن جاتی ہے ‘‘۔’’اچھا سنو،اگر تم رات کو چھت پر جاؤتوتمہیں وومیل دور تک بھی کسی بیابانے میں ٹمٹماتی ہوئی روشنی نظر آہی جائے گی ۔لیکن کیا تم اس روشنی پر منڈراتے ہوئے پروانوں کے بارے میں کوئی اندازہ لگا سکتی ہو؟نہیں نہ!کچھ ایسا ہی رشتہ ہے ان ستاروںمیں تبدیل ہوئی روحوںکا کائنات سے ‘‘۔نوجوان رہ رہ کر شراب کی چسکیاں لے رہا تھا،اس نے بولنا جاری رکھا،’’ان ستاروںمیں تبدیل ہوئی روحوں کی قسمیں دیکھ کر تو دماغ خراب ہو جاتا ہے ۔اول تویہ تارے طرح طرح کے ہوتے ہیں۔کچھ بہت چھوٹے ،کچھ درمیانی،لال اور کتھیئی،اور کچھ ہمارے سورج سے بہت زیادہ بڑے۔ان ستاروںاور سیاروں میں دوری ، ِ جسامت اورحرارت کے حوالے سے کیاتوازن ہے؟اُف!یہ ایک نہایت ہی مشکل طلسمی معمہ ہے ‘‘۔
نوجوان خاموش ہو گیا ۔لیکن اپنی اس انوکھی فلسفیانہ فکر کی اُمنگ میں اس کی رگ رگ جوش میں پھڑکنے لگی ۔اس کا چہرہ خود اعتمادی سے چمک اُٹھا۔اس کی سانسوںکا اُتار چڑاؤ تیز ہو گیا ۔اس کی آنکھوں میں شہوت انگیز لال لال ڈورے اُمڑآئے ۔اس نے ایک بھرپورنگاہ حسینہ پر ڈالی اور جذباتی لہجے میں بولا،
’’آؤ سیکس کریں‘‘۔
حسینہ نے نیم باز آنکھوں سے نوجوان کو دیکھااور جمہائی لیتی ہوئی بولی،
’’ آ ہ! ڈیر تمہارے اس فلسفے نے تو مجھے بہت بورکر دیا ،ساری یار،(حسینہ نے بڑی ادہ سے انگڑائی لی )مجھے بہت نیند آرہی ہے ۔پھر کبھی سہی شب با خیر‘‘، اور وہ اٹھلاتی بل کھاتی خواب گاہ کی جانب چل دی ۔
راجیو پرکاش ساحر
20/84رنگ سروڈ،اندرا نگر لکھئنو۔
Mob 9839463095.

