خا نقاہ کی مجلس بر خواست ہونے کے تھوڑی دیر بعد حبیب پور گاؤں کی فضا میں دھیرے دھیرے آگ سلگنے لگی ! گاؤں میں سات ناریل ، آٹھ پلاس اورچھ زیتون کے پیڑ…….!پلاس کی بغل میں مو لیسری اور اِس کے پاس ہی پنگھٹ !پنگھٹ پر ایک بڑا سا پتھر،پتھر کے سینے میں ہزاروں منجمد داستانیں۔ !!اِن میں سے ایک داستان بی بی جی کی جن کی اکلو تی بیٹی مہرن النسا نے باپ کی بے وقت مو ت کے بعد رشتے کے چر خے پر عمر کے کچے دھاگے کو کا تتے کا تتے عا جز آکر ایک دن خودکشی کر لی ۔
بٹوارہ سے پہلے ہولی کے مو سم میں اُس گاؤں کے نو عمر لڑکے بالے اپنے مسلمان بھائیوں کے گھر جا تے ، اُن کو گُلال لگا تے ، اُن کی معصوم بچیوں کو رنگوں سے شرابور کر تے اور جب اُن پر پردہ واجب ہو جا تا تو یہ لڑکے اِن مسلم کنواری بہنوں کے دوپٹے کو ادب کے ساتھ اندر سے منگا تے ، پردے کے پیچھے سے کورے ململ کا دوپٹہ با ہر بھیجا جا تا اور گا ؤں کے نو عمر بالے اِس دوپٹے پر پچکاری سے گلابی رنگ کے پھوہار کو ڈال کر گھر کے اندر بھیجوا دیتے لیکن نہ جانے کیسی آندھی آ ئی کہ گنبد کے سارے کبو تر ہی اُڑ گئے…..!!
اِس بدلے مو سم میں جب تناور پیپل کی شا خوں پر بسیرا کر نے والے تمام پرندے ہجرت کر گئے تو گاؤں کی پگڈیوں پر کتے لوٹنے لگے۔ ایک اُداس صبح کو دروازے پر اُگے صنو بر کی پتلی ٹہنیوں پر کبو تروں کے سردار نے بلبل سے کہا۔
’’چلو ہم سب بھی یہا ں سے ہجرت کر جائیں۔‘‘
ٍٍ بُلبل نے تیور بدل کر کہا۔
’’کیسی ہجرت ۔!! ساراجیون کیا مہاجر بن کر رہنا ہے ۔؟‘‘
یہ سُن کر بی جی نے بھی اپنا فیصلہ ترک کر دیا۔ شام ڈوبنے کے کگار پر پہنچی اور اُفق کی سر خی گہرانے لگی ۔ طیور اپنے اپنے گھونسلے میں واپس آگئے۔ بی بی جی نے آسمان کو غور سے دیکھا۔ اُن کو یاد آئی وہ ڈراؤنی رات جب حویلی کے سا منے جھیل کا گلابی کنول نیلا ہو گیا۔ اُنہوں نے سوچا۔
’’اگر بھری برسات کی اندھیری رات میں بجلی نہیں کڑ کتی تو اژدہے نے اُس کے پورے وجود کو نگل لیا ہو تا اوراُ س دم مجھے سورہ یو نس بھی یاد نہیں تھی………!‘‘
ویران حویلی میں ہر دن بی بی جی یادِ ما ضی کی شمع روشن کر کے اُس کے اُجالوں میں پہروں سو چتی رہتی ۔ ایسے میں کبھی کبھی سا ری رات کٹ جا تی ۔ جب طیور کی چہچہا ہٹ ایک نئی صبح کی نوید دیتی اُس وقت بی بی جی یادوں کی قندیل کو بجھا تی لیکن رات کا خمار آنکھوں کے دریچوں سے با ہر جھانکتا رہتا ۔ بی بی جی کی حالت دیپ چند سے دیکھی نہیں گئی ۔ ایک چلچلا تی دو پہر کو املتاس کی چھائوں میں دیپ چند نے کہا ۔
’’بی بی جی۔ !تم بھی یہاں سے ہجرت کر جا ئو ۔ زما نے کا کوئی ٹھیک نہیں ہے ۔ یہاں تو اپنے بدل جا تے ہیں ۔ غیر تو غیر ہو تا ہے۔ ! ‘‘
بی بی جی نے اُداس لہجے میں کہا ۔
’’جاگیر کی نیلا می کے بعد میرے پاس بچا ہی کیا ہے دیپ چند جس کے لیے میں ہجرت کروں…….؟رہی بات سانسوں کا سلسلہ منقطع نہ ہو تویہ دل کی با ت ہے اِسے دل پہ چھوڑ یئے…….!!‘‘
بی بی جی کو اب بھی یاد ہے وہ زما نہ جب گا ئوں کے مسلمانوں نے اپنی راہ بدلی۔ اُس وقت خانقاہ کی چھت پر پرورش پانے والے کبوتر وں کا غول بھی فضا بدلنے سے تین دن قبل پر واز کر گیا ۔ خا لی ڈربوں کے کھلے پٹ ، اُس کے اندر بکھرے خشک دانے ، منہ کے بل گرے پانی کے پیالے ایک عجیب داستان سنا تے …….!!!جب بر سوں بیت گئے اور یہاں لو ٹ کر کو ئی نہیں آیا تو گا ئوں میں آہستہ آہستہ بند کمروں کے تا لے ٹوٹنے لگے ۔ اِس پُر سوزما حول میں حویلی کی چو کھٹ پر جب بی بی جی کھڑی ہو تی اُس وقت اُن کی نگا ہوں میں وہ منظر رقص کر نے لگتا جب ہتھیاروں سے لیس ایک بھیڑنمو دار ہو ئی اور رفتہ رفتہ خانقاہ کی طرف بڑھنے لگی۔ دیپ چند نے صورت ِحال کو بھانپ لیا ۔ کھڑکی کے پٹ کو بند کر کے بر آمدے میں آیا اور ہا تھ جو ڑ کر بھیڑ سے کہا ۔
’’ایسا پاپ مت کرو میرے بھا ئی کہ ہم سب جیتے جی مر جا ئیں ……..!!‘‘
اوربھیڑ کا ئی کی طرح چھٹ گئی۔ دیپ چند نے جھا ڑو اُٹھایا ۔ مہینوں کے گردو غبار سے خانقاہ کو صاف کیا ۔ کنو یں سے پانی نکال کر فرش کی دُھلا ئی کی ۔ کبو تروں کے ٹو ٹے ہو ئے پنکھ سے خانقاہ کے درو دیوار پر عرق گلاب کا چھڑ کائو کیا اور من ہی من بُدبُدا تا رہا۔
’’مسلمان بھائی جا تے وقت پیتل کا گلاب پاش، اگردانی اور گلدان تک اپنے ساتھ لیتے گئے ……!!‘‘
اِس پُر آشوب دور میں دیپ چند کے لیے خانقاہ کی نگہبانی کو چہَ کو فہ میں سبز ہلالی پر چم لہرانے کے مترادف تھا۔ اُس کے اپنے بیگا نے سبھوں نے منہ مو ڑ لیا لیکن خانقاہ کے روشن دان میں چراغ جلتا رہا…….!!جب حالات بدلے تو ہجرت کے پرندوں کی واپسی حبیب پور گاؤں کی طرف ہو ئی ۔ کچھ دن گذرنے کے بعد جب اُن کی جڑ مٹی پکڑ لی تو زندگی کی شا خوں پر ہر یا لی لوٹ آئی اور رفتہ رفتہ خانقاہ آباد ہو نے لگی ۔ ایک دن خانقاہ کی مجلس میں یہ سوال اُٹھا کہ خانقاہ کا نگہبان دیپ چند کیسے ہو سکتا ہے ……..؟جب چہ میگوئیاں بڑھنے لگیں اور اِس کی با ز گشت سے گا ئوں کے در ودیوار ہلنے لگے تو دیپ چند نے حویلی کا کواڑ کھٹکھٹا یا اور دست بستہ بی بی جی سے کہا ۔ (یہ بھی پڑھیں جنازہ گھر – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی )
’’بی بی جی ہر روز اِس گا ئوں میں مہوا کے نیچے پھولوں کی خوشبو، بچوں کی مسکان چڑیوں کی چہچہا ہٹ ، کہکشاں کی پُر نور راتیں اور رات کے دامن میں بر ستی چاندنی ہم سے ایک اپیل کر تی ہیں ۔ میں نہیں چا ہتاہوں کہ اِس اپیل کو ٹھکراؤں۔‘‘
بی بی جی نے کہا ۔
’’دیپ چند تم کہنا کیا چا ہتے ہو…….؟‘‘
’’یہی کہ اب ہما رے مسلمان بھا ئی گاؤں میں واپس آگئے ہیں ۔ اِس لیے خانقاہ کی نگہبانی اُن کو سونپ دی جا ئے۔ !‘‘
دیپ چندکی با تیں سن کر بی بی جی کچھ دیر خا موش رہی۔ اِس خاموشی کے دوران آواز کی ایک باز گشت سما عت سے ٹکرائی ۔
’’دیکھولالہ امر ناتھ تم بی بی جی کے ۱۰۰بیگھ زمین پر قا بض ہو گئے ہو اور بی بی جی نے کچھ بھی نہیں کہا ۔ صرف اِس لیے کہ بی بی جی کے دن ساز گار نہیں ہیں ورنہ تم جیسے لوگ اسی گا ئوں میں اُن کی جو تیاں سر پر اُٹھا ئے پھر تے تھے۔ خبردار تم نے بی بی جی کی عصمت کی زمین پر ایک انچ بھی قدم آگے بڑھا نے کی جرات کی تو مجھ سے بُرا کو ئی نہیں ہو گا ……..!!‘‘اتنے میں بجلی کڑ کی اور لا لہ امر نا تھ حویلی کے عقبی دروازے سے سر جھکا کر واپس چلا گیا ۔ ذہن کے پر دے سے جب اژدہا چلا گیا تو حواس کو قا بو میں کر تے ہو ئے بی بی جی نے کہا۔ دیپ چند حویلی کی نیلامی کے بعد مہرالنسا کے والد پر جب دل کا جان لیوا دورہ پڑا اُس رات مجھے احساس ہوا کہ اہل میت کے لیے وہ رات کتنی بھا ری ہو تی ہے جب چراغ جلا نے کے لیے گھر میں تیل نہ ہو۔ تم تو گواہ ہو کہ اُن کی بے وقت مو ت کے بعد میری جن انگلیوں میں کبھی ہیرے کے انگشتان تھے اُن سے کھلیانوں میں دا نے چن کر اپنے پیٹ کی آگ بجھا ئی۔ جن ہا تھوں نے زکوٰۃ بانٹے وہ خیرات لینے کے لیے اُٹھنے لگے ۔جن جسموں نے مشِک عنبر اور عرق گلاب سے غسل کیئے وہ کھلیانوں میں بو سیدہ پسینے سے شرابور ہو گئے ۔ وقت کے اِن ستم ظریف لمحوں نے اِس حویلی کے آن بان اور شان کو را ئی کے دا نے کی طرح بکھیر کر رکھ دیئے اور ما لکن نو کرا نی بن گئی لیکن کسمپرسی کے اِن دنوں میں میں نے ہمیشہ رابعہ بصری کی متا ع حیات ایک ٹو ٹا بر تن ، ایک پھٹی دری اور سر ہا نے کے لیے ایک اینٹ کی یاد کو زندہ رکھا۔ تقسیم سے اُٹھے بگولوں کے گھنگھور سا ئے میں پنپتے جا ں گسل لمحے میری زندگی کے شب و روز میں شام غریباں بن گئے لیکن بی بی جی نے زندگی کے ستم ظریف لمحوں کے سا منے حو صلے کا سپر نہیں رکھا اور اپنے پر کھوں کی مٹی سے جڑ نہیں اُکھڑ نے دی ۔ صرف اِس ا ُمید پر کہ رات کی تا ریکی سے ہی صبح نو کی نو ید آتی ہے۔ !ہجرت کے یہ پرندے آئے ہیں ، ٹھیک ہے ۔ ہم اُن کا استقبال کر تے ہیں لیکن اِن کا کیا ٹھکا نا ، آج ہیں کل پھر کہیں ہجرت کر جا ئیں گے….. !!میں اُس سیا ہ رات کی داستان کوکیسے بھول جا ئوں دیپ چند جب را ت کی تا ریکی میں پنگھٹ کے پتھر پر نول کشور نے تم سے کہا تھا۔
’’دیپ چند خانقاہ کے در وا زے پر اللہ رکھا لکھا ہوا ہے ۔ چلو اِس کو کھینچ تان کر ’’اوم‘‘ بنا دیاجا ئے اب یہاں کو ن آنے والا ہے …….! ‘‘
اور تم نے نرم لہجے میں کہا تھا نول کشور یہ پاپ ہم سے نہیں ہو گا ۔۔!!میں نے اسی رات کو یہ فیصلہ کیا تھا کہ میرے اسلاف کی اما نت کا نگہبان تم سے بہتر اور کو ئی دوسرا نہیں ہو گا دیپ چند ……..!! کو ئی دوسرا نہیں ہو گا …….!! لیکن بی بی جی میں ایک ہندو ہو ں ……..!! یہ سن کر بی بی جی حویلی کے اندر گئی ۔ایک بو سیدہ گٹھری سے سفید ململ کا دوپٹہ نکا لا اور حویلی کے تا ریک آنگن میں لہرا کر دیپ چند کے قدموں میں ڈال دیا ، جس کے دا من میں منجمد گلا بی پھوہار کے قطرے ستا روں کی طرح جھلملا اُٹھے اور دیپ چند خا موش ہو گیا ………!
دوسرے دن بی بی جی کا فیصلہ خا نقاہ کی مجلس میں سنا یا گیا ۔ مجلس میں شا مل لو گوں نے یہی کہا کہ ارے یہ بڑھیا تو دیوانی ہو گئی ہے ۔ اِس کا فیصلہ ما ننے کے لیے ہم مجبور نہیں ہیں اور مجلس بر خا ست ہوگئی۔!!!
٭٭٭
روزنامہ اخبارمشرق‘گلدستہ ایوارڈ یافتہ ‘ ۲۰۱۱
ہولڈنگ نمبر1-A،بی ایل نمبر 23،
کیلا بگان ،جگتدل ،
نارتھ 24 پرگنہ(مغربی بنگال)،پن کوڈ: ۷۴۳۱۲۵
ای میل:mail.com ahashmi3012@g

