معاشرے میں تہذیبی و ثقافتی اقدار کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ تہذیب کا تعلق خارجی رسم ورواج سے ہوتا ہے جب کہ ثقافت انسان کی باطنی فکر سے رشتہ ہموار کرتی ہے۔ مذہب اور تہذب کا مادہ گرچہ ایک ہے مگر اوّل الذکر عقیدے سے اور موخر الذکر انسانی کردار اور معاشرتی اقدار سے متعلق رول ادا کرتی ہے۔ حالاں کہ تہذیب میں موزونیت پیدا کرنے کا کام عقیدہ بھی کرتا ہے۔ جب ہم کسی آدمی کو مہذّب کہتے ہیں تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس آدمی کے اخلاق واطوار، عقائد و رحجانات، لباس اور خورو نوش یہاں تک کہ اس کے طرز گفتگومیں ایک طرح کی موزونیت اور توازن ہوگا۔
علامہ اقبال ؔ کی شاعری میں قومی اور وطنی جذبات کے تحت در آنے والے تہذیبی عناصر دھیرے دھیرے کم ہوتے گئے اور اسلامی و ملّی تہذیب وثقافت کے عناصر غالب آ گئے۔ ان کی نظر میں سب سے مہذب انسان ’’مرد مومن‘‘ہو سکتا ہے۔
علّامہ اقبالؔ کی شاعری کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک سفرانگلستان سے پہلے یعنی ۱۹۰۵تک اور دوسرا دور انگلستان سے واپسی کے بعد سے لے کر اواخر عمر تک۔ مولانا عبدالسّلام ندوی نے ا ن کی شاعری کوچار ادوار پر مشتمل بتایا ہے۔ پہلا دور ۱۹۰۰ پرہی ختم ہو جاتا ہے جو بالکل ابتدائی دور ہے۔ مولاناغلام رسول مہر نے اس دورکی صراحت میں ابتدائی ایسے شعر بھی پیش کر دیے ہیںجو’’بانگ درا ‘‘میں شامل نہیں ہیں۔
دوسرا دور ۱۹۰۰ء سے ۱۹۰۵ء تک یعنی ’ہمالہ ‘سے ’نیا شوالہ‘ تک ختم ہو جاتا ہے۔ اسی دور میں ہندوستانی بچوں کاگیت، ترانہ ہندی، ایک پہاڑ اور گلہری، گائے وغیرہ نظمیں کہی گئیں، جنھیں پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے بہت متاثر ہیں۔ اس زمانے میں نیچرل شاعری اور منظر کشی پر زور تھا۔ نظم ہمالہ پوری کی پوری خوبصورت منظر نگاری کی مثال پیش کرتی ہے۔ صرف ایک بند دیکھیے:
لیلئی شب کھولتی ہے آکے جب زلف رسا
دامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکّر کا سماں چھایاہوا
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کہسار پر
خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار کا
الفاظ وتراکیب کے در د بست پر قدرت کے سبب منظرکشی میں اقبال دوسرے شعرا سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ’’ابر کہسار‘‘مین بادل کی زبانی جس احساس کی ترجمانی کی ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ صرف ایک بند پیش کیا جاتا ہے:
چشمہ کوہ کو دی شورش قلزم میں نے
اور پرندوں کو کیا محو ترنّم میں نے
سر پہ سبزہ کے کھڑے ہو کے کہا قُم میں نے
غنچئہ گل کو دیا ذوق تبسّم میں نے
فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے
جھونپڑے دامن کہسار میں دہقانوں کے
اقبال Depictionکی خوبی سے واقف ہی نہیں اس پرقادر ہیں۔ ’’ماہ نو‘‘کا یہ بند دیکھیے:
ٹوت کر خورشید کی کشتی ہوئی غرقاب نیل
ایک ٹکڑا تیرتا پھرتا ہے روئے آب نیل
طشت گردوںمیںٹپکتا ہے شفق کاخون ناب
نشتر قدرت نے کیا کھولی ہے فصد آفتاب
چرغ نے بالی چرالی ہے عروس شام کی
نیل کے پانی میں یا مچھلی ہے سیم خام کی
علامہ اقبال ؔکی حبّ الوطنی کے لیے اگر صرف ایک مصرعہ پیش کر دیا جائے ؎
’’سارے جہاں سے اچھاہندوستاں ہمارا‘‘تب بھی ان کی حبّ الوطنی کے جذبات سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ سچ تویہ ہے کہ ہندوستان کا کوئی قومی ترانہ نہیں تھا۔ اقبالؔ نے خوبصورت ترانئہ ہندی پیش کیا۔ یہاں کے باغوں اور ندیوں کی تعریف کی پھر ا س کی نشان دہی بھی کی کہ یونان، مصر اور روم کی تہذیبی شناخت مٹ جانے کے بعد بھی ہماری اپنی شناخت اور اپنا نام و نشان باقی ہے۔ اس ترانے میں جذبے کی سچائی اور سرشاری موجود ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ’’قومی ترانہ ‘‘ کے طور پر اقبال کے ’’ ترانۂ ہندی‘‘ کی جگہ بنکم چندچٹرجی کے ’’وندے ماترم‘‘ کو ترجیحی طور پریہ عزّت بخشی گئی۔ اقبال اس وقت تک امتیاز دیروحرم کے قائل بھی نہیں تھے۔ جب سورج کی کرن یا ضیائے الٰہی مسجد و مندر کا امتیاز نہیں کرتی تو ہمیں یہ حق کہاں پہنچتاہے:
کعبے میں بت کدے میں ہے یکساں تری ضیا
میں امتیاز دیر و حرم میں پھنسا ہوا
اقبالؔوطن کے خواہاں بھی ہیں:
دیارونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویا
لکھا کلکِ ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میں
(بانگ درا، تصویر درد)
اقبال ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے قائل تھے اور وہ مذہب کی بنیاد پر ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی کی تفریق کو مٹادیناچاہتے تھے۔ نظم ’’نیا شوالہ ‘‘کے یہ دو شعر دیکھیے:
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاک وطن کا مجھ کو ہرذرّہ دیوتا ہے
اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا
جنگ وجدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے
یہاں ایک طرح سے دیکھا جائے تو ہندو اور مسلمان دونوں فرقوں کے مذہبی ٹھیکے داروں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ مگر یہاں اقبال جذباتیت سے مغلوب ہو گئے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں شمیم حنفی: نقشِ تہذیبِ معانی – پروفیسرکوثر مظہری )
البتّہ جس محبت اور پریت کی بات کہی گئی ہے وہ تمام فرقہ والوں کو تہذیب اور تمدن کے اعتبار سے ایک جگہ لا کھڑا کرنے کی ترغیب دیتی ہے :
ہر صبح اٹھ کے گا ئیںمنتر وہ میٹھے میٹھے
سارے پجاریوں کو مے پیت کی پلا دیں
شکتی بھی شانتی بھی، بھکتوں کے گیت میںہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
اس طرح ملک کی تعریف تاریخی پس منظر میں پیش کی گئی ہے۔ ’’ہندوستانی بچوں کاقومی گیت‘‘ کا ایک بند دیکھیے:
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
اگر تاریخی و تہذیبی پس منظر اور تلمیحات کی روشنی میں دیکھنا چاہیں تو اسی نظم کا ایک بند اور ملاحظہ کیجیے:
یونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھا
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا
مٹّی کو جس کی حق نے زرکا اثر دیا تھا
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
علّامہ اقبال کے مطالعے اور مشاہدے میں پھر یہ بات آنے لگی کہ صرف وطنیت کے گیت سے انسانیت کا بھلا نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے دیکھا کہ اخوّت اور محبت کی جگہ بغض، نفرت اور تعصب کی فضا ہے۔ ان کے سامنے قرآن کی یہ آیت تھی :
یا اَیھا الناّسْ اِناّ خلقنٰٓکم مِنْ ذکروّ اْنْثٰی وجعلنْٰکم شعوباوّ قبائل لتعارفوا
(پارہ۲۶۔ آیت۱۳)
’’اے لوگو! (سنو) ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک ہی عورت سے پیدا کیا ہے۔ اور ہم نے تم سب لوگوں کو مختلف قومیں اور قبائل اس لئے بنا یا ہے کہ تم ایک دوسرے کو پہچان لیا کرو۔ ‘‘
اقبالؔ نے اسلام کی روح کو سامنے رکھا۔ رنگ اور نسل کی تفریق، قوم اور وطن کی تفریق کو بنی نوع انسان کے لیے مہلک تصور کیا۔ جدید مغربی تہذیب وثفافت میں روحانیت کے فقدان کو اقبال نے سمجھ لیا۔ ان کی نظر میں صحت مند سیاست کے لیے بھی مذہب اور اَخلاق لازمی عوامل ہیں۔ اسی کے تحت انھوں نے مغرب کی سیاست کو ایک دیوبے زنجیر سے تشبیہ دی ہے :
ہوئی ہے ترک کلیسا سے حاکمی آزاد
فرنگیوں کی سیاست ہے دیوبے زنجیر
معاشرے میں جو اخلاقی گراوٹ اور تہذیبی انحطاط کا دور شروع ہوا ہے وہ تہذیب فرنگی اور قلب وروح کے پاکیزہ نہ ہونے کے سبب ہے۔ اس ضمن میں علامہ اقبال کا فلسفہ دیکھیے:
فساد قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف
رہے نہ روح میںپاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیر پاک، خیال بلند و ذوق لطیف
(مغربی تہذیب: ضرب کلیم)
اس بات کی یہاں وضاحت ضروری ہے کہ اقبال کی شناخت اِسی بنیاد پر ہے کہ انھوں نے اسلامی تہذیب و تاریخ اور مذہبی افکار کو اپنی شاعری کا حصّہ بنایا ہے۔ اَخلاقی پہلو ہو یا سماجی اور سیاسی، رسم و رواج کا معاملہ ہو یا جمالیاتی اقدار کا، اجتماعی زندگی کا مظاہرہ ہو یا انفرادی کردار سازی کا، علاّمہ اقبال کی نظرہمیشہ اسلامی افکار و نظریات سے رجوع کرتی ہے۔ قوموں کی پہچان تہذیب و تمدّن سے ہی ہوتی ہے۔ تہذیبی اقدار میں تبدّل زاویہ فکر میں تبدّل کا باعث ہوتا ہے۔ اقبال کو سیاست سے کد کبھی نہیں رہی البتہ اْس سیاست (مغرب کی سیاست) کو انھوں نے قوم اور معاشرے کے لیے مہلک اور باعث فساد تصوّر کیا ہے جس کی بنیاد مادیت اور بے ضمیری پر ہے۔ ۲۱؍مارچ ۱۹۳۲ کو لاہور میں مسلم کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا۔ ان کا نظریۂ وطنیت و قومیت یہاں صاف طور پر سامنے آگیا ہے:
سیاست کی جڑ انسان کی روحانی زندگی میں واقع ہوئی ہے۔ میرا عقیدہ ہے کہ اسلام ذاتی رائے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک سوسائٹی ہے یا پھر CIVIC CHURCH۔ آج کل ہندوستان کے اندر سیاسی تصورات جو شکل اختیار کر رہے ہیں وہ آگے چل کر اسلام کی ابتدائی ساخت اور فطرت پر اثر انداز ہوں گے۔ میں یورپ کی وطنیت کا مخالف ہوں، اس لیے نہیں کہ اْسے اگرہند میں نشو و نما پانے کا موقع ملے تو مسلمانوں کو مادی فوائد کم ہوںگے۔ میری مخالفت تو اس بنا پر ہے کہ میں اس کے اندر ملحدانہ مادیت پرستی کے بیج دیکھتا ہوں، جو میرے نزدیک انسانیت کے لیے ایک عظیم ترین خطرہ ہے۔ حبّ الوطنی بالکل طبعی صفت ہے اور انسان کی اخلاقی زندگی میں اس کے لیے پوری جگہ ہے۔ لیکن اصل اہمیت اس کے ایمان، اس کی تہذیب اور اس کی روایت کو حاصل ہے اور میری نظر میں یہی اقدار اس قابل ہیںکہ انسان ان کے لیے زندہ رہے،اور ان ہی کے لیے مرے، نہ زمین کے اس ٹکڑے کے لیے جس سے اس کی روح کو عارضی ربط پیدا ہو گیا ہے۔‘‘ ۱؎
لہٰذا اخلاقی و تہذیبی اقدار کی اہمیت پر اقبال نے زور دیا ہے۔ محض زمین کا ایک ٹکڑا اہم نہیں جس سے عارضی طور پر کسی کو ربط پیدا ہو گیا ہے۔ حبّ الوطنی میں بھی نری حبّ الوطنی اہم نہیں۔ اقبال کو حبّ الوطنی کے نغمے گنگنانا ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔ ’’ضرب کلیم‘‘ اواخر عمر کی شاعری پر مشتمل ہے۔ اس میں اگر ’’ شعاع امید‘‘ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ انھیں آخرِ عمرتک ہندوستان کی دھرتی سے اوراس کی خاک سے اُنس تھا۔ مگر وہ جذبے سے مغلوب نظر نہیں آتے۔ نظم سترہ اشعار پر مشتمل ہے، یہاں یہ ٹکڑا دیکھیے جس میں شعاع خورشید کہتی ہے:(یہ بھی پڑھیں شمیم حنفی: نقشِ تہذیبِ معانی – پروفیسرکوثر مظہری )
چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضا کو
جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردان گراں خواب
خاور کی امیدوں کی یہی خاک ہے مرکز
اقبال کے اشکوں سے یہی خاک ہے سیراب
چشم مہ وپرویںہے اسی خاک سے روشن
یہ خاک کہ ہے جس کا خزف رینرہ درناب
بت خانے کے دروازہ پر سوتا ہے برہمن
تقدیر کو روتا ہے مسلماں تہِ محراب
ایک طرح سے ہندو اور مسلم دونوں کے لیے بیداری کی تلقین ہے۔ وطن اور قوم سے ان کی اْنسیت تو رہی مگر انھوںنے یہ محسوس کیا کہ مذہب اسلام ہی ایک لائحہ عمل پیش کرتا ہے جس پر گامزن ہوکر انسان پراگندہ خیالی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس زاویۂ فکر کی روشنی میں اقبالؔ نے اپنے خطبات میں یہ سوال اٹھایا:
’’تہذیب وتمدّن کی وہ کیا دنیا تھی جس کا ظہور رسول کریمؐ کی دعوت سے ہوا۔ میں چاہتا ہوں آپ اپنی نگاہیں ان تصورات پر رکھیں جو اسلامی تہذیب و ثقافت میں کارفرما ہے۔‘‘ ۲؎
اقبال کی نظم ’’روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے‘‘ میں انسانی زندگی کے مقصد اور کائنات میں غور و فکر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ایک بند دیکھیے:
ہیں تیرے تصرّف میں یہ بادل یہ گھٹائیں
یہ گنبد افلاک یہ خاموش فضائیں
یہ کوہ یہ صَحرایہ سمندر یہ ہوائیں
تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں
آئینہ ایاّم میں آج اپنی ادا دیکھ
اقبال یہ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی فکر کو ان تصورات پر مرکوز رکھے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کی اساس ہیں۔ وہ تہذیبی ارتقا کے لیے ’’فقرغیور‘‘ کی اہمیت پر زور دیتے ہیں:
روح اسلام کی ہے نور خودی نارخودی
زندگانی کے لیے نارخودی نور و حضور
لفظ اسلام سے یورپ کو اگر کَد ہے تو خیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے’’فقر غیور‘‘
(ضرب کلیم سے)
علاّمہ اقبال کو یہ معلوم تھا کہ اگر قومِ مسلم تہذیبِ فرنگی کی پیروی میں لگ گئی تو پھر ایک صالح اور مثالی معاشرے کی تعمیر نہ ہوسکے گی۔ ایسی صورت میں نسل انسانی کی بقا، فلاح و بہبود اور ترقی کی راہیں محفوظ و مامون نہیں رہ سکیں گی۔ اقبالؔ کے معاشرے میں جو بھی لوگ ہوں گے وہ عاشقان زندہ دل یاقلندران حق آگاہ، اور یہی وہ لوگ ہوں گے جن کی بدولت اسلامی ثقافت اور تہذیب باقی رہے گی۔ جہاں متعصّبانہ وطنی جذبہ اور نسلی و طبقاتی امتیاز ہوگا وہاں تہذیب و ثقافت کے عناصر روشن نہیں ہو سکیں گے۔ قرآن کریم کے مطابق اختلاف لیل و نہار کو اللہ کی (ہر لحظہ جس کی ایک نئی شان ہے) ایک آیت(نشانی) تصور کرنا چاہیے۔ ابن خلدون اسلامی تہذیب و تمدّن کی روح کو بخوبی سمجھ گیا تھا، یہی سبب ہے کہ قرآن کی روح جو سراپا یونانیت کے منافی تھی، حکمت یونان پر غالب آگئی۔ یونانیوں کے نزدیک ’زمانہ‘ کی کوئی حقیقت نہیں جیسا کہ زینوؔ اور افلاطونؔ کا خیال تھا، یا یہ ایک دائرے میں گردش کرتا تھا، جیسے ہندوؤں کا ’سنسار چکر‘۔ (یہ بھی پڑھیں غزل – علامہ اقبال )
اقبال تہذیب مغرب کومسلم معاشرے کے لیے سم قاتل سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ فرنگی تہذیب نے مسلم نوجوانوں کو ہوس ناکی اور خود فریبی و خود فروشی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اقبالؔ نے لندن سے جب اپنے بیٹے کو منظوم خط لکھا تو اسی مشرقی تہذیب کی روح کو سمجھنے اور تہذیب فرنگ سے احتراز کی تلقین کی تھی:
اٹھانہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
(جاوید کے نام: بال جبریل)
بال جبریل میں ہی ایک نظم ہے ’’ایک نوجوان کے نام‘‘، جس میں تہذیب فرنگ، شکوہ خسروی اور استغنا، فقر سلطانی اور شاہین کے ذریعہ معاشرے کا مثالی فرد بننے کا پیغام دیا گیاہے۔ ایک طرح سے فرنگی طرز زندگی کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے:
ترے صونے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہومجھ کو رْلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
امارت کیا، شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل؟
نہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی
نہ ڈھونڈاس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلّی میں
کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی
سفر یورپ سے واپسی (۱۹۰۸) کے بعد ظاہر ہے کہ علاّمہ اقبال کی فکر میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوگئی تھی۔ ’’بلاد اسلامیہ‘‘ ۱۹۰۸ء کے بعد کی نظم ہے جوبانگ درا میں شامل ہے، بلکہ۱۹۰۸ء کے بعد والے حصہ میں یہ پہلی نظم ہے۔ ملّت بیضا کی تہذیب کا نقشہ دیکھیے:
ہے زمینِ قرطبہ بھی دیدۂ مسلم کا نور
ظلمت مغرب میں جوروشن تھی مثل شمع طور
بجھ کے بزم مِلّتِ بیضا پریشاں کر گئی
اور دیا تہذیبِ حاضر کا فروزاں کر گئی
قبر اس تہذیب کی یہ سرزمینِ پاک ہے
جس سے تاکِ گلشن یورپ کی رگ نمناک ہے
یہاں شہر یژب کا تاریخی پس منظر بھی پیش کیا گیا ہے۔ یہاں ایک اور نظم ’تہذیب حاضر‘‘ کا حوالہ ضروری ہے جو فیضی کے اس شعر پر تضمین ہے
تواے پروانہ! این گرمی ز شمع محفلے داری
چومن درآتشِ خود سوز اگر سوزدلے داری
نظم ’تہذیب حاضر‘ کا یہ حصّہ ملاحظہ کیجیے:
حرارت ہے بلا کی بادہْ تہذیب حاضر میں
بھڑک اٹھا بھبوکا بن کے مسلم کا تن خاکی
نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبیعت نے
یہ رعنائی، یہ بیداری، یہ آزادی، یہ بیباکی
حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لزتیں کیا کیا
رقابت، خود فروشی، ناشکیبائی، ہوس ناکی
علامہ کے نزدیک تہذیب انسانی میں استقرائی عمل اور مساوات کا بہت عمل دخل ہے۔ مساوات بھی زندگی کی اعلا قدروں میں شامل ہے۔ ’’رموز بے خوری‘‘ میں اس پر تفصیلی بحث ملتی ہے۔ ظہور اسلام سے پہلے بادشاہ، کلیسا یا پروہت نے جو انسانیت کا استجصال کیا وہ عبرتناک ہے۔ اسلام نے تمام امتیازات ختم کر کے مساوات اور ہمہ گیر اخوّت کا درس دیا:
قوتِ او ہر کہن پیکر شکست
نوع انساں راحصارِ تازہ بست
کلّْ مومن اخوۃ اندر دلش
حرّیت سرمایۂْ آب و گِلش
تا شکیبِ امتیازات آمدہ
درنہادِاْد مساوات آمدہ
اقبال نے غلامی کرنے والوں کو ’’کتّے‘‘ سے تشبیہ د ی ہے۔ انھوں نے حرّیت یعنی آزادی کو اہم قرار دیا ہے۔ غلامی سے دل مردہ ہو جاتا ہے اور پھر روح ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ غلامی سے ایک ’’ مرد حق‘‘ بھی ’’زناّر بند‘‘ ہو جاتا ہے۔ زبوؔر عجم میں’’بند گی نامہ‘‘ کا یہ ایک شعر ؎
ازغلامی مرد حق زناّر بند
ازغلامی گوہرش ناارجمند
اقبال کی نظر میں غلام ایک ’’ممولہ‘‘ ہے اور آزاد شخص ’’شہباز‘‘ اور ’’شاہین‘‘ کی طرح ہے:
بہتر ہے کہ بیچارے ممولوں کی نظر سے
پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقامات
محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا
ہے بندۂ ْ آزاد خوداک زندہ کرامات
محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی
موسیقی و صورت گری و علم نباتات
موسیقی اور صورت گری کی بات نکل آئی تو تہذیب جدید سے متعلق علامہ اقبال کا نظریہ دیکھتے چلیں۔ فرنگی تہذیب میں رقص و موسیقی کو شان امتیاز تصور کیا جاتا ہے۔ نیم برہنہ ہوکر غیرمردوں کے ساتھ کمر لچکا کر میموں کا رقص کرنا فخر و انبساط کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اقبالؔ اپنی قوم کو بدن کے رقص سے اعراض کرنے اور روح کے رقص کی تلقین کرتے ہیں:
چھوڑ یورپ کے لیے رقص بدن کے خم و پیچ
روح کے رقص میں ہے ضرب کلیم للّٰہی
صِلہ اْس رقص کا ہے تشنگئی کام ودہن
صِلہ اس رقص کا درویشی و شاہنشاہی!
(رقص: ضرب کلیم)
علاّمہ کو یہی غم لاحق ہے کہ تہذیب فرنگ کی تقلید ہندی بھی کر رہے ہیں اور عجمی بھی۔ گویا ہماری تہذیب و ثقافت کی مشرقیت مفقود ہو چکی ہے۔ نظم ’’مصّور‘‘ میں کہتے ہیں:
کس درجہ یہاں عام ہوئی مرگ تخیل
ہندی بھی فرنگی کا مقلّد، عجمی بھی
مجھ کو تو یہی غم ہے کہ اس دور کے بہزادؔ
کھو بیٹھے ہیں مشرق کا سرور ازلی بھی
(مصوّر: ضرب کلیم)
معاشرے اور ماحول سے تہذیب و ثقافت متاثر ہوتی ہے۔ پہلے صحت مند معاشرے کی تعمیر ضروری ہے اور صحت مند معاشرے کے لیے صحت مند افراد (معنوی اور ذہنی اعتبار سے) کی ضرورت ہے۔ اقبال ’’جاوید نامہ‘‘ نظم میں صرف جاوید ؔ سے نہیں، بلکہ پوری قوم کے جوانوں سے مخاطب ہیں:
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کرگئی شاہیں بچے کو صحبتِ زاغ
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
شاعر مشرق علامہ اقبال نے ماضی کی قدروں اور تہذیبی و ثقافتی نشانیوں کو اپنی فکر کا حصہ بنایا تھا :
یادِعہدِرفتہ میری خاک کو اکسیر ہے
میرا ماضی میرے استقبال کی تفسیر ہے
عہد رفتہ اور ماضی کی عظمت اور جلال و جمال کو اقبال اپنی سرشت کا حصہ تصوّر کرتے تھے۔ ثقافت (جس پس منظر میں اقبال بات کرتے ہیں) کا معیار جلال و جمال کی قوت پر ہے۔ ذوق و شوق اور فعل و قول میں توازن ہونا ہی تہذیب ہے۔ توازن کو سمجھنے کے لیے اقبال کی نظم جلال و جمال سے دو شعر :
مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائی
کہ سر بہ سجدہ ہیں قوۃ کے سامنے افلاک
نہ ہو جلال تو حسن و جمال بے تاثیر
نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک
جلال و جمال کے فلسفے کو سمجھنے کے لیے پرفیسر حمید احمد خان کی زبانی بیان کیا گیا واقعہ بھی دل چسپ اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے:
’’اندلس کی بعض عمارتوں میں بھی اسلامی فن تعمیر کی اس خاص کیفیت کی جھلک نظر آتی ہے (جسے علاّمہ اقبالؔ نے ’’مسجد قوت الاسلا م میں’’سنگینی‘‘ کہا ہے) لیکن جوں جوں زندگی کے قویٰ شل ہوتے گئے، تعمیرات کے اسلامی انداز میں ضعف آتا گیا۔ وہاں کی تین عمارتوں میں مجھے ایک خاص فرق نظر آیا ’’قصر زہرا‘‘ دیووں کا کارنامہ معلوم ہوتا ہے،’’مسجد قرطبہ‘‘ مہذّب‘‘دیووں کا، مگر’’الحمرا‘‘مہذّب انسان کا۔ ‘ ‘ ۳؎
تاج محل سے متعلق اقبال کا ایک مکالمہ یوں ہے:
’’مسجد قوت الاسلام والی کیفیت اس میں نظر نہیں آتی۔ بعد کی عمارتوں کی طرح اس میں بھی قوت کے عنصر کو ضعف آگیا ہے اور دراصل یہی قوت کا عنصر ہے جوحسن کے لیے توازن قائم کرتا ہے۔ ‘‘ ۴؎
مسجد کی تعمیر و تخریب اور پس منظرکو سامنے رکھ کر اقبال نے نظمیں کہی ہیں :
مری نگاہ کمال ہنر کو کیا دیکھے
کہ حق سے یہ حرم مغربی ہے بیگانہ
حرم نہیں ہے، فرنگی کرشمہ بازوں نے
تنِ حرم میں چھپادی ہے روح بتخانہ
(پیرس کی مسجد: ضرب کلیم)
ہے مے سینئہ بے نور میں اب کیا باقی
لا الہ مردہ و افسردہ و بے ذوق نمود
اب کہاں میرے نفس میں وہ حرارت وہ گداز
بے تب و تاب دروں میری صلوٰۃ اور درود
(ضرب کلیم:مسجد قوت الاسلام)
مسلم تہذیب و ثقافت کو ہسپانیہ (اسپین)میں عروج حاصل رہا تھا۔ مگر جب راہ تنزّل پرگامزن ہوئی تو عبرت ناک نقشہ سامنے آیا۔ اقبال کی نظم ’مسجد قرطبہ‘ اسی تہذیبی و ثقافتی عظمت وجلالت کی علامت ہے۔ اقبال کی نظر میں اس مسجد کی تعمیر بذات خود ایک معجزہ کے مثل ہے جو پاکیزہ اور سچے عشق کا نتیجہ ہے۔ مسلم حکمرانوں، شہسواروں اور معماروں کی عظمت اور صلاحیت نیز پر شکوہ طرز زندگی اور نظام حکومت کا ذکر پرْخلوص جذبے کے ساتھ اس نظم میں کیا گیا ہے۔ یہ نظم مسلم قوم اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اقبال نے اس مسجد کی تعمیر میں جلال و جمال، عشق صادق اورخون جگر کی آمیزش کو اہم قرار دیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل وجمیل تو بھی جلیل و جمیل
عشق اور خون جگر کی اہمیت ملاحظہ کیجیے:
عشق دل جبریل، عشق دل مصطفٰے
عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام
اے حرم قرطبہ ! عشق سے تیرا وجود
عشق سراپادوام جس میں نہیں رفت و بود
رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمود
(مسجد قرطبہ :بال جبریل)
عشق کی بدولت اس مسجد کا اور اس سر زمین کا مرتبہ حرم شریف کے برابر ہو گیا ہے :
کعبۂ ارباب فن سطوتِ دینِ مبیں
تجھ سے حرم مرتبت اْندلسیوں کی زمیں
سرزمینِ اندلس پر اسلامی پرچم کا لہرایا جانااپنے آپ میں ایک بڑا تاریخی کار نامہ ہے۔ مسلم حکومت کا حسن اخلاق، حسن تعمیر اور مختلف علوم و فنون میں دوسری قوموں کو فیض یاب کرنا، یہ بھی کسی معجزہ سے کم نہ تھا۔ اقبالؔکف افسوس ملتے ہیں اور آہ سرد بھرتے ہیں کہ ایک مدت سے یہ مسجد خستہ حال وبے اذاں ہے، نہ معلوم وہ عشق بلا خیز کا قافلہ کون سی وادی میں گم ہو گیا ہے۔
خون جگر کو اقبال فنون لطیفہ کی تمام شاخوں کے لیے اہم خیال کرتے ہیں۔ فن تعمیر ہو یا فن رنگ سازی، فن بت گری ہو یا فن شاعری، اگر خون جگر کی آمیزش اس فن میں ہے تو وہ فن عظیم ہے ؎
نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
’’مسجدقرطبہ‘‘کے علاوہ انھوں نے ’’ہسپانیہ‘‘کے عنوان سے جو نظم کہی وہ بھی اپنے شاندار ماضی کی باز گشت اور مسلم حکومت کے نقوش کی ترجمانی کرتی ہے۔ یہاں اس نظم سے تین اشعار پیش کیے جاتے ہیں :
ہسپانیہ تو خون مسلمان کا امیں ہے
مانند حرم پاک ہے تو میری نظر میں
پوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشاں ہے
خاموش اذانیں ہیں تری باد سحر میں
روشن تھیں ستاروں کی طرح ان کی سنانیں
خیمے تھے کبھی جن کے ترے کوہ وکمر میں
( ہسپانیہ:بال جبریل)
اقبال یہ سمجھتے تھے کہ اسلامی تہذیب وثقافت کے تحفظ کے لیے ملّت اسلامیہ کا تحفظ لازمی ہے۔ کیوں کہ جب ملّت کی ترکیب بگڑ جائے گی یعنی اجزائے ملّت منتشر ہو جائیں گے تو ہماری حیثیت بھی صفر ہو جائے گی۔ دیگر اقوام مغرب کی طرح ہمارے اندر بھی نام و نسب اور ملکی سطح پر تفریق پائی جاتی ہے۔ ملّت اسلامیہ کی جمیعت کا انحصار مذہب کی بقا پر ہے :
اپنی ملّت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ
ان کی جمیعت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملّت بھی گئی
اقبال کے نزدیک احترام آدم ہی تہذیب کی روح ہے۔ اگر انسان میں یہ صفت پیدا ہو جائے تو اس کا مقام گردوں سے بھی فزوں تر اور بلند ہے :
بر تراز گردوں مقام آدمؑ است
اصل تہذیب احترام آدم است
وہ جو اجزا یا اشیا یا اسباب تفنن جن سے اخلاق و کردار متاثر ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں، اقبال کی نظر میں مخرب اخلاق کے زمرے میں آتے ہیں۔ تھیئٹر اور سنیما بھی تفریح اور تفنن طبع کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اقبالؔ نے سنیما کو صنعت آزری کہا ہے ساتھ ہی آزری کو شیوہ کافری سے تشبیہ دی ہے اور اسے تہذیب حاضر کی سوداگری بھی کہا ہے:
وہی بت فروشی وہی بت گری ہے
سنیماہے یا صنعتِ آزری ہے؟
وہ صنعت نہ تھی شیوئہ کا فری تھا
یہ صنعت نہیں شیوئہ ساحری ہے
وہ مذہب ہے اقوام عہد کہن کا
یہ تہذیب حاضر کی سوداگری ہے
وہ دنیا کی مٹّی، یہ دوزخ کی مٹّی
وہ بتخانہ خاکی، یہ خاکستری ہے
مغربی تہذیب اور نقش فرنگ کے ذیل میں آنے والی تمام چیزیں اور تمام عمل علامہ اقبالؔکی نظر میں مخرب اخلاق و اطوار ہیں۔ فرنگیوں کا مقصد حیات تفریق ملل ہے جب کہ مذہب اسلام کا مقصد فقط ملّت آدم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اقوام مغرب کے جال میں آکر ملت اسلامیہ اپنی تہذیبی شناخت کھو بیٹھی ہے۔ اقبال بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
غمیں نہ ہو کہ پراگندہ ہے شعور تیرا
فرنگیوں کا یہ افسوں ہے، قم باذن اللہ
(قم باذن اللہ)
زندہ کر سکتی ہے ایران وعرب کو کیونکر
یہ فرنگی مدنیت کہ جو ہے خود لب گور
(اقوام مشرق)
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
(دین و تعلیم)
(ضرب کلیم)
نظام معاشرہ کی ایک اہم اکائی’’عورت‘‘ہے۔ تہذیب مغرب میں عورت بازار کی زینت بنا دی گئی جس کے سبب ایک طرح کا فساد اس روئے زمیں پر ہمیشہ برپا ر ہاہے :
فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور
کہ مرد سادہ ہے بیچارہ زن شناس نہیں
(مرد فرنگ : ضرب کلیم)
عورت کی نسوانیت کا تحفظ مرد پر لازم ہے۔ مگر شیطان کے پْجاریوں نے عورت کو محض جنسی تلذّد کا آلۂ کار تصوّر کیا جو در اصل تہذیب انسانی اوراخلاقی معیار کے منافی ہے۔ اقبال کہتے ہیں:
کوئی پوچھے حکیم یورپ سے
ہند ویوناں ہیں جس کہ حلقہ بگوش
کیا یہی ہے معاشرت کا کمال
مرد بیکار و زن تہی آغوش
(ایک سوال: ضرب کلیم)
اقبال کے نزدیک پوری مغربی تہذیب اور دانش فرنگ مشرقی تہذیب اور معاشرے کے لیے زہر کے متراوف ہے۔ اقبال تسلیم کرتے ہیں کہ :
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
(عورت: ضرب کلیم)
مگر عورت کی آزادی اور ایسی تعلیم جس سے نسوانیت مجروح ہوتی ہو، اقبال کی نظر میں لائق اعتنا نہیں :
نے پردہ نہ تعلیم، نئی ہو کر پرانی
نسوانیت زن کا نگہباں ہے فقط مرد
(عورت کی حفاظت: ضربِ کلیم)
رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے
روشن ہے نگہ آئینۂ دل ہے مکدّر
(خلوت: ضربِ کلیم)
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت
(عورت اور تعلیم: ضرب کلیم)
اقبال کی چشم بصیرت کے لیے مدینہ و نجف کی خا ک مثل سرمہ ہے۔ یورپ کی جلوہ سامانیاں اور وہاں کے میخانے اوربتکدے علاّمہ اقبال کو مسحور ومخمور نہ کر سکے، کیوں کہ اقبال کا شعور چوکنّا تھا اور ان کی فکر اْسوئہ حسنہ سے ہم آمیز تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ مغربی تہذیب اور یہ عارضی چمک دمک کھوکھلی اور نمائشی ہے :
وہ آنکھ کہ ہے سرمئہ افرنگ سے روشن
پْر کا روسخن ساز ہے نمناک نہیں ہے
(غزل۔۱۰، بال جبریل)
میخانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں
لاتے ہیں سرور اوّل دیتے ہیں شراب آخر
(غزل۔۲۹، بال جبریل)
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوئہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
(غزل۔۱۶، بال جبریل)
مشینی تہذیب و حکومت اور مختلف علوم وفنون اور ایجادات کے باوجود فرنگی مدنیت میں عریانیت اور افلاس، بیکاری اور جھوٹے مساوات کا جھوٹا دعوا دیکھنے کو ملتا ہے۔ اقبال بہ زبان لینن اسرار کھولتے ہیں :
یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات
یہ علم یہ حکمت یہ تدبّر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
بیکاری و عریانی و میخواری و افلاس
کیا کم ہے فرنگی مدنیت کے فتوحات
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات
(لینن خدا کے حضور میں :بال جبریل)
بال جبریل سے بہت پہلے کی ایک نظم ’’مارچ۱۹۰۷‘‘کے عنوان سے ہے جو ’’بانگ درا‘‘ میں شامل ہے۔ اقبال اس وقت یورپ میں تھے اور وہاںکی کھوکھلی اور کمزور تہذیب کا بغور مشاہدہ کر رہے تھے۔ ملّی احساس میں استحکام پیدا ہو چلا تھا۔ نظم کا یہ حصہ دیکھیے:
دیار مغرب کے رہنے والو!خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرکم عیار ہوگا
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کْشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، نا پائیدار ہوگا
علامہ اقبالؔ کی فکر نے یوں کروٹ بدلی کہ گویا سب کچھ بدل گیا اور یورپ کی ننگی تہذیب کو دیکھ کر انھیں احساس ہو گیا کہ یہ مذہب اسلام کا غارت گر ہے اس لیے انھوں نے نظم ’’وطنیت‘‘ میں مذہب اسلام کو وطن (دیس)قرار دیا اور توحید کو اس کے استحکام واستقرار کا ذریعہ بتایا۔ اقبالؔ کا یہ نظریہ بھی سامنے آیا کہ ’’ترک وطن ‘‘ــ’’سنتمحبوبؐالٰہی‘‘ہے۔سیاست میں وطن کا جوتصوّر ہے وہ ارشاد نبوی سےجداگانہ ہے۔سیاسی طور پر وطنیت سے پوری دنیا میں رقابت ہے، ساتھ ہی اس کاسب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے قومیت اسلام اور مسلم تہذیب کی جڑکھوکھلی ہوتی ہے۔ اس نظم سے ایک بند پیش کیا جاتا ہے:
یہ بْت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے
غارت گر کا نہیں شانۂ دین نبوی ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفویؐ ہے
نظّارہ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفویؐ خاک میں اس بت کو ملا دے
(وطنیت :بانگ درا)
پروفیسراحتشام حسین لکھتے ہیں :
’’انھوں نے پہلی دفعہ یوروپین سیاست کی بازی گری دیکھی۔ وہاں کی تمدنی زندگی کی گہرائی اور کھوکھلے پن کا مشاہدہ کیا، فرنگیوں کے اصول زندگی کی ظاہری و باطنی کیفیات پر نگاہ ڈالی، مختلف قوموں کی وہ آویزش دیکھی جو ایک دوسرے پر قابو پانے کے لیے ان کے درمیان جاری تھی۔ وطنیت اور نسل پرستی کا وہ بڑھتا ہوا طوفان نگاہوں کے سامنے آیا جو دوسروں پر عرصہ زندگی تنگ کر دینا چاہتا تھا۔ ‘‘ ۵؎
پروفیسر احتشام حسین نے اقبال کے اندر آئی تبدیلی کے اسباب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اقبال صالح تہذیب و معاشرے کے لیے مذہبی افکار اور معیاری اخلاق کے عناصر کو ضروری سمجھتے تھے۔ یورپ کی تہذیب نے جو فکری اور جنسی انتشار کا ماحول پیدا کیا ہے، یورپ جو مشینوں کو اپنا سہارا سمجھتا ہے اقبال کی نظر میں ابلیس ہے۔ یہ دنیا ایسی ہے جہاں روح اور بدن میں معرکہ در پیش ہے:
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
تہذیب مغرب کے درندوں سے لوہا لینے کے لیے اتحاد عالم اسلامی کی ضرورت ہے۔ لادینی اور مادیّت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا یہی راستہ ہے۔ اقبال اسی لیے جمال الدّین افغانی (۱۸۹۷ء۔ ۱۸۳۸ء)کے نظریہ اتحاد عالم اسلامی کے حامی تھے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھاکہ حب ّالوطنی کے جذبے کو کچل کر حبّ دین تھوپ دیا جائے۔ اس اتحاد کو اقوام مغرب نے Pan Islamismسے موسوم کیا اور اسے مشنری بھی کہا گیا۔ اس کی تصریح وتعبیر ’’ سب کچھ اسلام ‘‘یا ’’اسلام ہی اسلام‘‘ جیسے لفظ سے کی گئی۔ مغربی میڈیا نے عوام کو یہ کہہ کر ورغلایا کہ مسلمان پوری دنیا پر اسلام کو مسلّط کر دینا چاہتے ہیں۔ اقبالؔ نے اخباروں میں کئی بیان جاری کیے:
’’پین اسلا مزم کا لفظ فرانسیسی صحافت کی ایجاد ہے اور یہ لفظ ایسی مفروضہ سازش کے لیے استعمال کیا گیا تھا جو اس کے وضع کرنے والوں کے خیال کے مطابق اسلامی ممالک غیر اسلامی اقوام خاص کر یورپ کے خلاف کر رہے تھے …وہ اپنے آپ کو ایک علاحدہ معاشرتی جماعت کی حیثیت سے قائم رکھنا چاہتے ہیں…‘‘ ۶؎
علّامہ اقبال نے ایسی قومیت کے خلاف آواز بلند کی جس کی بنیاد مذہبی قدروں، اخلاقی ضوابط اور ثقافتی روایات کے تحفظ کے احساس کے بدلے ایسے جذبوں کی تسکین پر رکھی گئی ہو جو کسی خطّۂ زمین میں رہنے کے سبب وہاں کے باشندوں میں عارضی طور پر پیدا ہو جاتے ہیں۔ مولانا حسین احمد مدنی کے تصوّر وطن کو اقبال نے اسی لیے رد کر دیاتھا:
عجب ہنوز نہ داند رموز دیں ورنہ
ز دیوبند حسین احمد این چہ بوالعجبی ست
سرود برسر منبر کہ ملّت از وطن است
چہ بے خبر ز مقام محمدؐ عربی ست
ملّت جو خود ایک نظام حیات رکھتی ہے، وطنیت سے کسب روح کر کے غذا نہیں حاصل کر سکتی۔ ایسی قومیں جن کی تہذیبی و ثقافتی زندگی غیر صالح اور جن کی بنیاد حقائق کے بدلے شرور و خبائث پر تھی، وہ آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہو گئیں۔ اس کا ذکر قرآن مقدس کی سورہ الحج اور سورہ الرعدمیں ہوا ہے۔ وہ ملّی تہذیب و ثقافت کو عظیم اور مستحکم کرنے کے لیے افراد معاشرہ کی ذہن سازی ضروری سمجھتے تھے۔ حرکت و عمل، پاکبازی، ضبط نفس، ہمہ گیراخوّت و محبت، جرأت پرواز کا تصوّر ملّت کی تہذیبی و ثقافتی اساس کے لیے لازمی خیال کرتے تھے۔ مدرسوں، مکتبوں سے قوم و ملّت اور اس کی تہذیبی بنیاد کو جو نقصان ہوا اس کا ذکر یوں کرتے ہیں:
یہ بتان عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں
نہ ادائے کا فرانہ نہ تراش آذرانہ
شکایت ہے مجھے یارب خداوندان مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک
نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
علامہ اقبال معاشرے اور جس تہذیبی فضا کی بات کرتے ہیں وہ تبھی ممکن ہے جب افراد معاشرہ میں مومن کی شان پیدا ہو جائے۔ اور اس صفت کی تعمیر خود ی اور صفت استغنا سے ممکن ہے۔ تہذیب حاضر سے نوجوانوں کو وہ اس لیے دور ہی رکھنا چاہتے تھے۔ ’’ایک نوجوان کے نام‘‘کا یہ حصہ دیکھیے:
نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلّی میں
کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
استغنا کو معراج مسلمانی کہا گیا۔ استغنا سے خودی مستحکم ہوتی ہے جس کی بدولت قوت ارادی اور حرکت و عمل کی تثویق ہوتی ہے اور اسلامی تہذیب و ثقافت بھی پروان چڑھتی ہے۔ لہٰذا ہم یہ دیکھتے ہیں اقبالؔکی فکر جامد نہیں بلکہ مدور سفر پر جاری ہے۔ ان کی فکر رسمی حسن و عشق سے چل کر وطنیت، قومیت، شعور ملی، فلسفہ عقل و عشق، فلسفۂ حرکت و عمل اور فلسفۂ خودی تک پہنچتی ہے۔ خودی کا حصول معراج انسانیت ہے اور یہی معراج انسانیت اسلامی تہذیب و ثقافت کو فروغ دیتی ہے۔ اقبالؔ مغربی طرزحیات اور تہذیبی چمک دمک کو معاشرے بالخصوص مسلم معاشرے کے لئے مہلک تصور کرتے تھے۔ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اقبال کی نظموں میں جو تہذیبی و ثقافتی تلازمے اور عناصر ملتے ہیں ان پر اسلامی اور مسلم افکار و نظریات کی چھاپ ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

