صبح کے ۶ بج رہے تھے ۔ آفتاب طلوع ہو چکا تھا ۔ اور اس کی کرنیں دروازے کے اندر تک دستک دے رہی تھیں۔بے فکر انسیہ بیڈ پر میٹھی نیند کے مزے لوٹ رہی تھی ۔کھڑکی سے ٓاتی ٹھندی ہوا کے جھونکے اسے مزید دیر تک سونے پر مجبور کر رہے تھے ۔ انسیہ نے آنکھیں بھی نہ کھولی تھیں کہ امّی کی ہلکی ہلکی آواز اس کے کانوں میں پڑ نے لگی تو وہ خواب غفلت سے بے دار ہوئی اور سوچنے لگی ’ـــ’کاش ایک گھنٹہ اور مل جائے سونے کو‘‘ ۔لیکن گھڑی کی سوئیاں کب کس کے لئے رکتی ہیں ہر دم آگے کی جانب بڑھتی رہتی ہیں کاش انہیں روکنا اس وقت انسیہ کے بس میں ہوتا مگر۔۔۔۔۔۔۔یہ سوچتے ہوئے انسیہ نے جیسے ہی کروٹ بدلی اسے یاد آیا آج یونیورسٹی بھی جانا ہے اور وہ ایک جھٹکے میں اٹھ کھڑی ہوئی آنکھوں کو ملتے ہوئے کھڑکی کے پردوں کو ہٹایا تو دیکھا دھو پ کھلی ہوئی ہے اور سڑک پر لوگ فکر معاش میں اپنی اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے تھے ۔اس نے منھ دھویا اور ناشتے کی میز پر بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی ۔ اپنی امّی کو دیکھ کر اسے یہ خیال آیا کہ ’’امّی کو میری کتنی فکر ہے صبح سے اٹھ کر سارا کام کرتی ہیں اور میرے لئے صبح کا ناشتہ بناتی ہیں ہمیشہ با پردگی کے ساتھ آگے بڑہنے کی تلقین کرتی ہیں ۔ایک بیٹی کی تربیت میں ماں کا کردار ہی سب سے اہم ہوتا ہے ‘‘ وہ یہ سب سوچتی رہی حتٰی کہ اس کے سامنے رکھی ہوئی چائے ٹھنڈی ہو گئی ۔اچانک ماں کی نظر انسیہ پر پڑی اور ینہوںنے پوچھا ’’بیٹا کیا سوچ رہی ہو جلد ی ناشتہ کر و تمہیں یونیورسٹی کے لئے بھی نکلنا ہے‘‘ امّی کے کہنے پر وہ اپنی سوچ سے باہر آئی اور جلدی جلدی ناشتہ کرنے لگی ناشتہ سے فارغ ہو کر تیار ہونے کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔اس کے گھر سے بس اسٹینڈ کچھ ہی دور تھا ۔وہ روز ہی پیدل بس اسٹینڈ تک آتی تھی اور آج بھی پیدل ہی آرہی تھی کہ اچانک اس کو ایک عجیب و غریب سی مہک آئی ۔ اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو اس کو اپنے پیچھے ایک لڑکی آتی نظر آئی ۔ جو اپنے موبائل میں اس قدر منہمک تھی کہ اس کو گرد و پیش کا گویا کچھ ہوش ہی نہ تھا ۔ انسیہ سیدھا چلنے لگی اور بس اسٹینڈ پر آکر کھڑی ہو گئی ۔ وہ لڑکی بھی انسیہ کے برابر میں کھڑی ہو گئی اور جو بھی رکشہ والا وہاں سے گزرتا اس کو ہاتھ سے روکتی لیکن رکشہ پورے بھرے ہونے کی وجہ سے وہ اس میں بیٹھ نہ پاتی ۔ انسیہ اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک اس نے بھی انسیہ کی طرف دیکھا ۔انسیہ نے اپنی نظریں اس سے ہٹا لیں۔وہ انسیہ کو اوپر سے نیچے تک دیکھتی ہوئی بے ساختہ بول اٹھی ’’کیا آپ کہیں جاب کرتی ہیں‘‘۔انسیہ نے اس کی طرف دیکھا مگر کوئی جواب نہیں دیا بلکہ غیر ارادی طور پر کبھی اس لڑکی کو دیکھتی اور کبھی اپنی گھڑی میں bus کے آنے کا وقت۔ انسیہ نے سوچا ’’ آخر اِس لڑکی نے مجھ سے ایسا سوال کیا ہی کیوں؟ کیا میں پردے میں اِس کو ملازمہ نظر آرہی ہوں‘‘۔
وہ اجنبی لڑکی جس کے کانوں میں earphone لگے ہوئے تھے ، لباس ایسا کہ ہر شے اس کی دیوانی ہو جائے ۔ جسم کے بہت سے اعضائ اس کے پہناوے سے عیاں ہو رہے تھے۔ کھلے بال، چہرا میک اپ سے ڈھکا ہوا ، کھڑے ہونے کا انداز ایسا کہ ہر چیز سے غرور ٹپک رہا تھا۔ انسیہ سوچ ہی میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اس لڑکی نے پھر انسیہ کی طرف دیکھا اور وہی سوال کیا ’’کیا آپ کہیں جاب کرتی ہیں‘‘؟
انسیہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’میری بہن میں ملازمہ نہیں ہوں۔میں طالبہ ہوں اور بس کے آنے کا انتظار کر رہی ہوں‘‘۔ (یہ بھی پڑھیں انمول – ڈاکٹر شہناز رحمن )
’’یہ گرمی اور یہ کالا چوغا ،اس کو دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ آپ طالبہ ہو بلکہ ایسا لگتا ہے اپنے گھر والوں سے چھپ کر یہ کالا چوغا ڈال کر ملازمت کے لئے نکلی ہوں‘‘ اس لڑکی نے بڑی بے باکی سے جب یہ باتیں انسیہ سے کہیں تو انسیہ کو بہت غصّہ آیا لیکن وہ خاموش رہی اور سوچنے لگی ’’ امّی جان کہتی ہیں کہ نہ صرف جب کوئی مہذب انسان بات کررہا ہو تو خاموشی سے اُس کی بات سنو بلکہ جب کوئی جاہل اور احمق بحث کر رہا ہو تو وہاں بھی زبان کو لگام دینا ہی بہتر ہے‘‘۔ غصّے کا گھونٹ پیتے ہوئے انسیہ نے اُس لڑکی سے سوال کیا ــ’’بہن آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ ’’منّت‘‘ اس لڑکی نے بڑی ناگواری سے جواب دیا
’’ کیا آپ بھی طالبہ ہیں؟ ‘‘ انسیہ نے پوچھا۔۔
منّت بڑے ہی مغرورانہ انداز میں بولی ’’ نہیں میں ایک international company میں امپلائی ہوں‘‘۔
انسیہ نے اُس سے تھوڑی دوری بنا لی اور اس کے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہو گئے۔ وہ سوچنے لگی ’’ یہ خود ایک ملازمہ ہے اور مجھے اتنے بُرے انداز میں ملازمہ کہہ رہی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی انسان جو اچھّی سوچ رکھتا ہو اِس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارے معاشرے میں ایک عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہے اور انسانی دنیا میں جو بھی غیر اخلاقی برائیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ عورت کی بے جا آزادی اور اس کی فیشن پرستی کی وجہ سے ہیں۔ عورت کی سب سے قیمتی اور انمول دولت اس کی عزّت ہے۔ جب ایک لڑکی ہی ایک لڑکی کو جو کہ دنیا سے اپنے جسم کو چھپا کر اور آج کے اِس پر آشوب معاشرے میں سلیقے سے پردے کے ساتھ کچھ بننا چاہتی ہے معاشرے میں کچھ اصلاح کرنا چاہتی ہے وہ ملازمہ دکھائی دیتی ہے جب کہ فیشن کے نام پر اپنے جسم کی نمائش کرنے والی یہ آزاد خیال لڑکی خود ہی ایک ملازمہ ہے۔‘‘
انسیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور نقاب کے اندر ہی وہ اپنے آنسوئوں کو صاف کرتے ہوئے اُس لڑکی کو دیکھنے لگی جس نے اپنا نام منّت بتایا تھا ۔ وہ ابھی بھی وہیں کھڑی ہوئی تھی کہ ایک لڑکا وہاں آیا اور منّت سے بولا ’’ آپی آپ یہاں کیا کر رہی ہیں مجھ کو بولتیں میں آپ کو چھوڑ آتا ۔
’’نہیں ذکی میں نے سوچا تمہیں بھی اسکول جانا ہے خود ہی چلی جاتی ہوں‘‘ منّت نے جواب دیا۔
ذکی بولا’’آج jogging کرکے بہت تھک چکا ہوں اسکول جانے کا تو بالکل من نہیں چلو میں آپ کو auto rickshaw میں بٹھا دیتا ہوں‘‘
تبھی وہاں ایک اوٹو رکشا آکر رکا اور منّت اور ذکی دونوں آگے بڑے تو دیکھا ایک عورت جو کہ بہت موٹی تھی منھ کو ڈھکے ہوئے منّت کے ساتھ ساتھ رکشا میں بیٹھنے کے لئے آگے بڑھی ہی تھی کہ اس عورت کا ہاتھ منّت کے بالوں میں جا الجھا ۔ منّت نے بہت ہی ناگواری اور بے باکی سے اس عورت کا ہاتھ جھٹک دیا۔ اور یہ دیکھ کر ذکی بھی اپنے غصے کو نہ روک پایا اور بولا ’’ اندھی ہے کیا دکھتا نہیں‘‘
یہ سن کر اس عورت نے جواب دیا ’’ بیٹے میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا غلطی ہو گئی چل معاف کر دے اور بیٹھ جا ‘‘
’’ تجھ جیسی جاہل عورتوں کو جو یہ کالا چوغا پہن کر نکل جاتی ہیں کبھی معاف نہ کروں ۔ تجھے دکھتا نہیں یہ میری بہن ہے اتنی قابل کہ دوسرے ممالک کا سفر کرتی ہے تیرے جیسے جاہلوں والے کپڑے نہیں پہنتی توُ جاہل اور ایک قسم کی گنوار عورت چل ہٹ اِس میں ہم نہیں بیٹھتے۔‘‘
ذکی اپنی بہن کی تعریفوں کے پُل باندھتا اور بہت ہی نازیبا الفاظ بولتا ہوا منّت کا ہاتھ پکڑ کر دوسری طرف جا کر کھڑا ہو گیا۔ (یہ بھی پڑھیں اشجار ببولوں کے – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی )
اِنسیہ اِس واقعے کو دیکھنے میں اتنی مشغول تھی کہ اس کی بس کب آگٗی اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔ وہ جلدی سے بس میں بیٹھی اور مُڑ کر ذکی اور منّت کو دیکھتی رہی ۔او ر ان کی باتوں اور ذہنیت کو دیکھ کر آج انسیہ کے ذہن میں بہت سے خیالات آنے لگے ’’ کون ہیں اِن دونوں کے والدین ؟ انہوں نے کس طرح اپنے بچوں کی تربیت کی ہے ؟ کہ ان کو ایک لڑکی اور ایک عورت جو کہ با پردہ یا منھ ڈھک کر باہر نکلتی ہے ایک جاہل اور گنوار یا ملازمہ نظر آتی ہے کیا اس ذہنیت میں قصور ان دونوں کا ہے یا اِن کے والدین کا ؟کہ ان کے دِل و دماغ میں یہ پیو ست کر دیا ہے کہ فیشن پرست اور آزاد خیال لوگ ہی پڑھے لکھے اور مہذب ہوتے ہیں۔ ایسے ہی نہ جانے کتنے سوالوں کو اپنے ذہن میں لئے اِنسیہ یونیورسٹی کی راہ پر چل دی۔
سیدہ مریم
ریسرچ اسکالر
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
Congrats