Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

لے سانس بھی آہستہ : تخلیقی بیانیہ کا نقطۂ اشتعال – شمیم  قاسمی

by adbimiras اپریل 20, 2022
by adbimiras اپریل 20, 2022 0 comment

—’’ادب اور آرٹ کی اکتا دینے والی یکسانیت کے  دشت بے اماںمیں تمنا کا دوسرا قدم اٹھانے کی آرزو یا تازہ کاری کی تلاش تخلیق کا سب سے بڑا رمز ہے۔‘‘

پروفیسر گوپی چند نارنگ  —-

 

گلوبل دانش یعنی زوالِ دانش کے اس عہد میں اپنی ادبی فتوحات تخلیقی کمالات و تحرکات سے چونکانے والے صاحبِ طرز فکشن رائیٹرمشرف عالم ذوقی کا ادبی قدوقامت کسی ناقد کے انچ ٹیپ کا محتاج نہیں رہا۔ان کی سدا بہار فکشن شخصیت دور ہی سے نمایاں نظر آتی ہے۔

گلوبلائزیشن کلچر کی فتنہ انگیزیوں ،نٹ سرچنگ،ہاٹ چیٹنگ یا پھر کسی مخصوص سیچیویشن/فیملی میں رونما ہونے والے غیر معمولی شرمناک،یوں کہیے کہ ایمان دھرم کو سنکٹ میں ڈالنے والے لرزہ خیز واقعات وسانحات سے متاثر ہوکر لکھا گیا پیش نظر ناول ’’لے سانس بھی آہستہ‘‘۔ سچ پوچھیے تو ہمارے عہد کا ایک دھماکہ خیز ناول ہے جسے ذوقی کے تخلیقی وجدان کی سائکی سے بھی موسوم کیا جا سکتا ہے۔بہر حال معاصر اردو ناول کی دنیا کا یہ ایک دھماکہ خیز تخلیقی بیانیہ ہے۔دھماکہ خیز سے یہ قطعی مراد نہ لیں کہ متذکرہ ناول کے مطالعہ سے سستی جنسی لذت یا قوت باہ میں اضافہ ہوگا۔ہاں ! یہ معجون ِ معتدل بھی نہیں کہ آپ کے دل ودماغ کو راحت بخشے۔موضوعاتی اعتبار سے یہ اتناکڑوا،کسیلاسچ ہے کہ آپ شاید اسے زہر ہلاہل کا پیالہ تصور کریں ۔۔۔۔۔اب زہر ہلاہل کا پیالہ کون پیئے؟۔۔۔۔۔ہم میں سے کون سقراط ہے؟۔۔؟۔آیئے!کچھ دیر دم لے لیں۔۔۔۔۔پھر چلتے ہیں اس ناول کے خالق کی انگلیاں پکڑتے ہوئے کچھ دور تک۔۔۔۔۔تو چلیئے سیر کرتے ہیں ایک تحیر خیز ،بت شکن دنیا کی ،جہاں علم و آگہی تو غائب ہے لیکن جہاں  information and speculation   کی ایک عالمی منڈی اپنی تمام تر فحاشیت یعنی حرامزدگی اور عریانیت کے ساتھ ہمارا استقبال کر رہی ہے۔

روزمرہ کی روایتی زندگی کے تانے بانے بنتا،جمالیاتی لطافت کی دھیمی دھیمی آنچ پر اپنے خدوخال واضح کرتا زیر مطالعہ ناول کے دو اہم کردار عبدالرحمٰن ابن وسیع الرحمٰن کارداؔر اور نورؔ محمد ابن نظر محمدکے گھرانے کی داستان ِخوںچکاںکوآئینہ دکھاتا ہے ۔۔۔۔ناول کے سبھی کرداروں کی اپنی مخصوص نفسیات ہے ان کی ذاتی زندگی کے نشیب و فراز ہیں  ۔۔۔۔ یہاں کوئی بے حد کائیاں ہے تو کوئی نہایت اُجبک۔۔۔۔۔بہرحال غلام تہذیب سے ایک نئی تہذیب میں داخل ہونے والے یہ دو اہم متحرک کردار یعنی عبدالرحمٰن کارداراور نورمحمد کے کرداروں کو اس ناول کے خالق نے بھرپور جیا ہے۔ناول کے آخری باب میں زیر ناف کی جبلتوں اور بعض مقامات پر secret pleasures   کو ذوقی نے بڑے مؤثر ڈھنگ سے طشت از بام کیا ہے۔یہی وہ آخری باب ہے جسے اس ناول کا  turning point  کہا گیا ہے۔آپ اسے ’’جلیبیا موڑ‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ہمارے اطراف میں تو ’’جلیبیا موڑ‘‘ کو لوگ باگ خوب سمجھتے ہیں۔بہر حال تخلیق کائنات کے رمز کو سمجھنے اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے ٹھہر ٹھہر کر بڑے محتاط انداز میں آگے بڑھنا ہو گا تبھی آپ جان سکیں گے کہ تخلیق کائنات کا اصل رمز کیا ہے؟  عورت یعنی حوّا اور حوّا کی بیٹی کون ؟۔۔۔۔۔ ہابیل نے اپنے سگے بھائی قابیل کا قتل کیوں کیا؟ ۔۔۔۔۔ان دونوں سے اقلیما ؔ کا کیا رشتہ تھا ؟۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔سب سے پہلے مقدس رشتوں کو پامال کس نے کیا تھا؟۔۔۔۔۔روئے زمین پر جو پہلا قتل ہوا تھا اس کی بنیادی وجہ کیا تھی؟۔۔۔۔۔گویم مشکل وگر نہ گویم مشکل۔۔۔۔۔فطرت کی تراش خراش کس نے کی؟۔۔۔۔۔پتھروں پر سبزے کس نے اُگائے؟اس کی جڑوں میں پانی/رسد کس نے پہنچائے؟۔۔۔۔۔مختلف سوالات کے گھیرے میں اس ناول کا خالق ہی نہیں قاری بھی ہے۔ناول کے پہلے زینہ(حصۂ اول) سے تیسرے زینہ(حصٔہ سوم) تک اترتے اترتے یعنی ’’جلیبیا موڑ‘‘ تک پہنچتے پہنچتے بڑے فطری انداز میں اس کے خالق نے قارئین کو لا جواب کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔سچ ہے کہ ذوقی نے فطرت اور ثقافت کے رشتوں کو ہم آہنگ کرتے ہوئے سرشت آدم کے ان تاریک گوشوں کو بڑی تخلیقی ہنر مندی سے فوکس کیا ہے جہاں سے انسانی اقدار کی شکست و ریخت اور حیوانی قوتوں کو رسد پہنچتی رہی ہے۔اب ہمیں ثقافت کی انگلی تھامے صداقت کی تلاش میں بہت دور تک جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔۔۔۔۔شاید۔!

میری انگلیوں کے درمیان ناول کے چند اوراق پھڑپھڑ ا رہے ہیں ۔طوالت کے خیال سے محض چند سطریں/اقتباس قلم بند کر رہا ہوں جو میرے خیال سے ناول کی  main theme  اورناول نگار کے ’’نصب العین‘‘ کو سمجھنے میں کافی سود مند ثابت ہوں گی:

٭   وقت بدل رہا تھا! یا تہذیبیں بدل رہی تھیں ۔۔۔۔۔یا تہذیبوں کا تصادم جاری تھا۔

آزادی کے بعد ایک نئے انقلاب کی تیاری تھی۔۔۔۔۔یہ بدلتی ہوئی دو دنیائیں تھیں۔ایک دنیا حویلی کی تھی اور ایک دنیا حویلی کے باہر کی ۔۔۔۔۔اور مجھے یقین تھا ترقی کے راستے حویلی سے باہر ہوکر ہی جاتے ہیں ۔۔۔۔۔میں ابھی سے ان راستوں کے لیے خود کو تیار کررہا تھا۔۔۔۔۔لیکن ایک بڑی تبدیلی گھر کی سطح پر تھی۔اور وہ تھی نادرہؔ۔۔۔۔۔اور نادرہ میں آنے والی نئی تبدیلیاں۔   (صفحہ ۲۸۳)

٭  پروفیسر نیلے نے اشارہ کیا ۔سڑک کے دونوں جانب شیشم کے درخت دیکھ رہے ہیں؟ ۔۔۔۔۔یہ شیرشاہ سوری نے لگوائے تھے۔وہ ان درختوں اور پہاڑوں کی عظمت کا قائل تھا۔کہ اگر کبھی کسی مسافر کو چھاؤں کی ضرورت محسوس ہو تو وہ یہاں سانس لینے کے لیے سُستا سکے(لے سانس بھی آہستہ کہ ۔۔۔۔۔)لیکن اب پہاڑ ہی ختم ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔یہاں کچھ ایسے درخت بھی ہیں کہ جن کی جڑیں اپنی خوراک پانی سے خود ہی جنم لیتے ہوئے حاصل کر لیتی ہیں۔ہے نا دل چسپ اور عجیب و غریب۔۔۔۔۔؟ہم سب قدرت کی کٹھ پتلیاں ہیں ۔تم کچھ اور سوچ رہے تھے۔قدرت کوئی اور فیصلہ لے رہی تھی۔

میں نے آہستہ سے کہا ۔آپ سچ کہتے ہیں اور یہ بات ہم انسان نہیں سمجھ پاتے کہ اصل فیصلہ تو قدرت کے اختیار میں ہے۔   (صفحہ ۲۸۳)

٭  گلوبل دنیا اور گلوبل وارمنگ کے اس دور میں الگ الگ اخلاقیات کے عفریت ہمیں حصار میں لیے کھڑے ہیں۔۔۔۔۔بنیادی مسائل نہ تو معاشی ہیں اورنہ ہی آبادی کا بڑھنا بلکہ اصل مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔اخلاقیات کا گُم ہو جانا۔۔۔۔۔ثقافتی خود کُشی۔۔۔۔۔  (صفحہ ۳۱)

یہ تو ماننا پڑے گا کہ انسانی زندگی کی دائمی محرومی ،اس کی سائیکی اور جنسی جبلتوں کی فضا آفرینی میں مشرف عالم ذوقی کا قلم ایک تحیر آمیز ،ناقابل یقین یعنی فنتاسی سے بھری پُری دنیا تخلیق کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔کہنا چاہیے کہ ذوقی کو انسانی نفسیات کو اندر سے باہر نکال کر کاغذی اجسام عطا کرنے کا مصورانہ ہنر معلوم ہے۔اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ذوقی نے قارئین کے ذوق و شوق اور ان کے ذہنی مطالبات کا ہمیشہ خیال رکھا ہے۔سچ پوچھیے تو وہ اپنے تربیت یافتہ قارئین کی جمالیاتی حِس کو بیدار کرنا خوب جانتے ہیں۔

مجھے اس کا اعتراف ہے کہ زیر مطالعہ ناول نے مجھے بار بار ڈسٹرب کیا ہے۔یہ تو اچھا ہوا کہ دوران مطالعہ میں نے غُرفۂ ذہن کھلا رکھا ورنہ  ۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ زیر مطالعہ ناول اردو فکشن کی منڈی میں اپنے  market value  کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔اب اس مقام پر میں متذکرہ ناول کے حوالے سے اپنی زیر قلم تحریرپر فُل اسٹاپ لگا بھی دوں تو اس کے خالق کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔لیکن مجھے توبس اتنا ہی کہنا ہے کہ بہ حیثیت ایک قاری کے اس ناول نے مجھے اتنا ڈسٹرب کیا ہے ،ذہن ودل کو جھنجھوڑا ہے کہ میں قلم کاغذ سنبھال کر ہمت جٹاتے،ذہنی ورزش سے گزرتے ہوئے آپ کے روبرو ہوں ۔کیا لکھوں۔۔۔۔۔؟کیا چھپاؤں۔۔۔۔۔؟ سمجھ میں نہیں آتا۔بقول ذوقی ’’یہاں سب کچھ ہالی وُڈ کی فنتاسی کی دنیا سے کہیں زیادہ بھیانک ہے۔‘‘

یہ کائنات ہر آن آمادۂ تبدل ہے۔!

مطالعۂ سائنس و ادب ہر زمانے میں ایک اَن دیکھی دنیا کی تسخیر کے لیے تجسس پیدا کرتا رہتا ہے۔یوں بھی تسخیر کائنات کا جذبہ ہر بشر کے سینے میں موجزن ہے جو عین فطری ہے۔ہر چند کہ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید۔۔۔۔۔کہتے ہیں کہ مغربی فلسفہ اور سائنس کی دنیا نیچر کے خلاف رہی ہے جس کا نتیجہ گلوبل وارمنگ کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔تمام کرہ ٔارض پر کلچرل جنگ جاری ہے۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ آج ہم ایک بُت شکن عہد میں جی رہے ہیں۔ہر آدمی پروفیشنل ہو گیا ہے۔کمہار چاک پر مٹی رکھ کر اب وہی چیز بناتاہے جس کا مارکیٹ value  ہے۔یہاں تک کہ اس کنزیومر سوسائٹی میں سگے رشتے ناطوں کی پہچان بھی دھندلا گئی ہے۔ممتا بھری چاشنی لیے لفظ ماں اب ’’موم‘‘اور لفظ باپ ’’ڈیڈ‘‘ میں تبدیل ہو گیا ہے۔بڑے چھوٹوں کے درمیان شفقت اور احترام کا رشتہ تو جیسے مفقود ہی ہو گیا ہے۔ واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ’’ہائے۔ہیلو‘‘کے اس ماڈرن یُگ میں خلوت اور جلوت میں کوئی واضح فرق نہیں رہ گیا ہے۔اب تو وظیفۂ جسم میں بھی سماجی رشتوں اور ضابطۂ حیات کی قید سے آزادی ہے۔یعنی ہر خاص وعام کے ذہن میں یہ سلوگن گونج رہا ہے کہ زندگی اپنی ہے تو پھر جیسے چاہو جیو اور لوٹ لو’’بھرت پور‘‘اور یہ بھول جاؤ کہ روئے زمین پر تمہیں کسی خاص مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے۔ابراکس کا یہ نقطۂ نظر بڑا معنی خیز ہے کہ جائز اور ناجائز سب ایک ہیں اور ہر شخص کو اپنے حساب سے جھوٹ،سچ،غلط،جائز اور ناجائز کی تعریف کرنی پڑتی ہے۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ نیکی اور بدی ،گناہ اور ثواب،جائز اور ناجائز یہ سارے تصورات سماج اور مذہب کی کوکھ سے جنمے ہیں جنہیں ہم نے ہی قانونی حیثیت دے رکھی ہے ؟

ہمارا  intelectual dwarfism  ہماری روزمرہ کی زندگی کے متضاد افعال واعمال سے نمایاں طور پر عیاںہے۔کہتے ہیں کہ ہماری سائنس نے تو خدا کے وجود کا ’’ایک ذرّہ‘‘  God partical   (نعوذ باللہ)تک رسائی حاصل کر لی ہے۔زندگی کے ہر محاذ پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے لیے خدا کے منکر ہوئے ہیں اورہم نے نسل آدم کا بے دریغ خون بہایا ہے۔مذہب اور سماجی ضابطوں کو چیلنج کیا ہے اور شاید یہی بنیادی وجہ ہے کہ مقدس رشتوں کے درمیان بھی جائز اور ناجائز کی ہمیں کوئی تمیز نہیں رہی۔اب تو ہر تخریبی کارروائی میں کوئی ایک تعمیری پہلو ڈھونڈ نکالنا بچوں کے کھیل تماشے جیسا ہو گیا ہے۔ہم کسی اور دنیا یا ایک ایسی جادو نگری کے باشندے ہو گئے ہیں جہاں سب کچھ دکھائی دیتے ہوئے بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔مغربی تہذیب کی چکاچوند نے ہمیں ایک انجانی اور نئی لذتوں سے بھری زندگی جینے کے وہ طریقے بتائے ہیں کہ ہماری مشرقی زندگی بھی لباسِ کہن اتار کر برہنہ مگرمدُھر سُروں کے سائے میں جھوم اٹھی ہے۔کہنا چاہیے کہ ترقی کے نام پر ہماری زندہ روایات و وراثت کو روندتے ہوئے مغرب سے اٹھنے والے ہیجان زدہ ثقافت کے بگولوں نے بہت حد تک ہماری مشرقی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ترقیٔ آزادی اور خوش حالی کے نام پر معاشرتی اُتھل پُتھل ،روحانی انتشار اور مختلف زاویئے سے تہذیبی تصادم کے نتیجہ میں ہمارا شجرۂ حسب نسب کسی گم شدہ خزانے کی تلاش جیسا ہو گیا ہے جسے آپ چوں چوں کا مربہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

بہر حال ! دراصل میں یہ کہنے جا رہا تھا کہ مغرب ومشرق کے تہذیبی ٹکراؤ کے نتیجہ میں ہماری نسلی شناخت کی گمشدگی اور ذریت کے گڈ مڈ ہوتے ہوئے سلسلوں کا غم انگیز تخلیقی اظہاریہ ہے ’’لے سانس بھی آہستہ‘‘ ۔۔۔۔۔جو بظاہرایک ناول ہے لیکن ہندوستان جنت نشان کی تقسیم آزادی کے ۶۵ سالہ سیاسی وسماجی احوال و کوائف کے نشیب و فراز کا ایک معتبر دستاویز بھی ہے۔اس میں عمومیت بھی ہے اور آفاقیت بھی۔

تحریک خلافت سے سوراج اور تقسیم ہند سے پیسنٹھ(۶۵) سالہ جشن آزادی کے بتدریج بگل بجنے اور پھر ’’شائن انڈیا‘‘لفظ کے سیاسی اچھال تک ہر لمحہ ہر گھڑی اس ناول کا خالق جیسے بچشم خود موجود ہے۔اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ذوقیؔ کے یہاں جدید حسیت کے ساتھ  political sensibility بھی زبردست پائی جاتی ہے۔چنانچہ اس ناول میں منقسم ہندوستان کی تیرہ بختیوں اور بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کئی تاریخی واقعات کو اپنے طور پر تخلیقی بیانیہ کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔لیکن بعض مقامات پر of facts statement  سے اپنا دامن نہیں بچا سکے ہیں ۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس ناول میں وہ  meta politician  کے طور پر بھی ابھرے ہیں ۔ایک تخلیق کار کو تمام قسم کی سماجی ،ثقافتی ،تاریخی اور سیاسی سرگرمیوں اور نشیب فراز سے باخبر رہنا ہی چاہیے۔چند اقتباسات بطور نمونہ :

’’آزاد بھارت میں آج بھی بہت سارے ہندو اور بہت سارے مسلمان گاندھی کو اس دو قومی نظریہ یا تقسیم کے ذمہ دار مانتے ہیں۔مگر سچ کیا ہے یہ تم بھی جانتے ہوکاردارؔ ۔۔۔۔۔ایک زمانے میں کانگریس بھی بٹوارے کے خلاف تھی ۔۔۔۔۔اسی درمیان ۱۹۴۶ئ میں جناح کی مسلم لیگ نے قومی انتخابات میں ۹۰ فی صد سیٹوں پر قبضہ جما لیااور توتقسیم کا راستہ کھل گیا  ۔۔۔۔۔لیکن گاندھی جی تب بھی ہار نہیں مانے۔انہوں نے وزیر اعظم کے طور پر جناح کے نام کو آگے بڑھایا لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن مزید کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھے۔اِدھر تقسیم کے پروانے پر دستخط ہوا ،اُدھر گاندھی جی مرن برت پر چلے گئے۔ہندوستان آج بھی تقسیم کے نتائج بھگت رہا ہے۔‘‘

(صفحہ:  ۶۸)

’’میں آسمان پر پھیلتے دھوئیں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔’مارو ،کاٹو پکڑو ‘۔۔۔۔۔کے شور سے دل و دماغ میں طوفان مچ رہے تھے۔۔۔۔۔۔یہ کس صدی میں آگئے ہم؟۔۔۔۔۔میری سوچ کا زاویہ تنگ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔کیا ملک ایک ہی موسم ایک ہی تہذیب میں گم ہو گیا ہے؟۔۔۔۔۔دنگوں کا موسم یا دنگوں کی تہذیب۔۔۔۔۔؟‘‘

(صفحہ:  ۱۴۰ )

’’آزادی تو دنگوں کا سوغات لے کر آئی ہے،تقسیم نے دلوں میں زہر بودیا ہے۔یہی بلند شہر تھا اور یہاں کے لوگ۔ان کی محبت کی مثالیں دی جاتی تھیں اور اب  ؟۔۔۔۔۔بات بات پر چھرے اور چاقو نکل جاتے ہیں۔۔۔۔۔‘‘

صفحہ:  ۱۳۲ )

بلا شبہہ تقسیم ملک انسانی تاریخ کا ایک بڑا المیہ ہے۔ناول لکھنا اورتاریخ لکھنا فنی سطح پر میرے خیال سے دونوں الگ الگ ہیں ۔لیکن کبھی کبھی کسی تخلیقی بیانیہ میں تاریخ اور عہد رفتہ کے نقوش ہمیں مزید غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ہمارے ماؤف اذہان کو جھنجھوڑتے ہیں ۔۔۔۔۔محبتوں کی مثالیں پیش کرنے والا یہ بلند شہر دراصل ذوقی کے لاشعور میں کہیں نہ کہیں بسا اس کا اپنا شہر ،اپنا علاقہ اور مقامی کلچر ہے جو دور سے جلوہ دکھا رہا ہے۔۔۔۔۔۔جی ہاں! آرہ۔شہسرام یعنی شیر شاہ سوری کا شاہ آباد ۔۔۔۔۔ایک شہر آرزو۔۔۔۔۔جو اب دو اضلاع میں بٹ گیا ہے(موجودہ بھوجپور اور روہتاس)۔زیر مطالعہ ناول میں ذوقی کا یہ شہر آہستہ سے سانسیں لیتا ہوا صاف محسوس ہو رہا ہے۔اس تاریخی شہر کی تہذیب و ثقافت ،بطور خاص طبقۂ اشرافیہ کی ثروت مندی سے بھرپور یعنی بے فکری کی زندگی جینے کی محض ایک جھلک۔۔۔۔۔:

’’محلے کی حویلی اور کوٹھیوں کے دروازے گھوم گھوم کر پھیری لگانے والی عورتوں کے لیے کھلے رہتے ۔یہ پھیری لگانے والیاں ایسے خاندانوں کے لیے جانا پہچانا نام بن گئی تھیں۔۔۔۔۔ابا نان خطائی کے شوقین تھے اور کباب کے بھی۔بھلا گھر میں کباب لگانے کی کتنی الجھنیں تھیں ۔جمیلہ کے آتے ہی آٹھ دس کباب تو اسی وقت چٹ ہو جاتے ۔مگر ہر بار جمیلہ کو کوسا جاتا۔۔۔۔۔’ارے یہ کوئی کباب ہے ؟۔سیخ لو اور منھ میں ڈال دو۔۔۔۔۔ٹھگتی ہو تم‘۔۔۔۔۔اماں کی بات پر جمیلہ ناک بھوں چڑھاتی۔۔۔۔۔اب دس پیسے کی کتنی بڑی سیخ آئے گی؟۔۔۔۔۔تم بھی کمال کرتی ہو باجی۔۔۔۔۔ذرا گوشت کے دام تو دیکھو۔۔۔۔۔؟‘‘                                                (صفحہ :  ۱۹۲ )

عظمت رفتہ کی علامت بوسیدہ ہوتی حویلی اور کوٹھیوں کے ایک ذرا اور قرب آئیے۔۔۔۔۔۔یہاں سفیان ماموں کا خاندانی پن ڈبّا بھی ملے گا۔’’بابو کی بات‘‘ سے تکیہ کلام جاری رکھنے والے پیٹ کے ہلکے ملازم علی بخش بھی ہیںاور مریم بوا بھی۔پھل پھول والی بسمتیاؔ ہو کہ بولنؔ بوا ،یاپھر وہ حجامنیں جو ’’خبری‘‘ کا کام کیا کرتی تھیں ۔انہی چہروں کے درمیان کباب اور نان خطائی والی جمیلہ کا بھی ایک ترو تازہ چہرہ ہے۔آرہ کا چودھرانہ محلہ ہو کہ ملکی محلہ ،یا پھر سہسرام کا مدار دروازہ ہو کہ جانی بازار ،ان سب محلّوں علاقوں میں آج بھی اس جنریشن کے چند لوگ باگ اپنا پشتینی پیشہ کسی قدر سنبھالے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔اب یہ الگ بات ہے کہ نئی تہذیب ،نئے معاشرے میں انہیں روزی روٹی کے دیگر ذرایع بھی ہاتھ لگے ہیں۔بہر حال یہ قصہ ہے شہر شیرشاہی کا جو اب ایک مقام عبرت بھی ہے۔

’’رات گئے تاش کی محفل بھی جمتی۔اس محفل میں بھی محلہ کے بزرگ شامل ہوتے۔چائے کا دور چلتا رہتا۔۔۔۔۔لیکن اس بات کا شدت سے احساس سب کو ہو رہا تھا کہ لے دے کر اب حویلیاں رہ گئی ہیں۔آزادی کے بعد کے محنت کش اب بڑے ہونے لگے ہیں ۔حویلی والوں کی چمک ماند پڑنے لگی ہے۔اب ان کے بچے بڑھ رہے ہیں اور ان بچوں کے سامنے مستقبل کی آگ روشن تھی۔باپ دادا کی جاگیریں اور اور ان جاگیروں پر آسان زندگی گزارنے کے دن گزر چکے تھے۔۔۔۔۔۔‘‘

(صفحہ :  ۷۷ )

کہتے ہیں کہ داستان کے بطن سے ہی ناول انگڑائیاں لیتا ہوا ہماری ذہنی اور روحانی خوراک بنا ہے  ۔۔۔۔۔  انسان اور قدرت کے کرشمہ پر غوروخوض کرتے ہوئے ذوقی نے اس ناول میں ایک سازگار ماحول مرتب کیا ہے۔ان کے یہاں بلا شبہہ ایک زبردست (sharp) قسم کی photographic memory   پائی جاتی ہے ۔طبقۂ اشرافیہ کے عروج وزوال کی داستان رقم کرتا پیش نظر ناول میں زوال پذیر تہذیب کا ایک اہم نسوانی کردار  (ناول کے دیگر کرداروں کے علاوہ) نادرہ ؔہے(نگار کی ماں)جو بیک وقت  cultural materialism کا نمائندہ کردار رحمٰن کاردار کی ماموں زاد بہن ،محبوبہ اور ذہنی طور پر خیروشر کے بھنور میں ہاتھ پاؤں مارتے نور محمد کی منکوحہ بھی ہے۔کاردار کی ماں کا نسوانی کردار بھی کافی بولڈ اور کم اہمیت کا حامل نہیںجو اپنے اطراف کے ماحول اور معاشرتی نظام حیات مین ایک نئی کروٹ ایک نئی تبدیلی کی آہٹ کومحسوس کرتے ہوئے ’’بلند حویلی‘‘کی دہلیز پھلانگ کر قانونی چارہ جوئی کے لیے سیدھے تھانیدار کے پاس جاتا ہے اور پھر ؟۔۔۔۔۔ کاردار کی جدی بلند حویلی ہو کہ نور محمد کی جناتی بسیرا والی کوٹھی، یہاں بھی ایک ذرا انتظار حسین کے ناول تذکرہ والی ’’چراغ حویلی‘‘ کی طرح تہذیبی وسماجی اُتھل پُتھل سے پیدا شدہ عصری زندگی کے مسائل سے جوجھتے لوگ باگ نظر آئیں گے۔کیا کچھ دیر کو ایسا گمان نہیں گزرتا کہ بلند حویلی چراغ حویلی تو نہیں ؟؟اورکاردار بستی کے ذاکر جیسا تو نہیں اور اس کی ماں ’’بوجان‘‘یا پھر خدیجہ مستور کے آنگن کی عالیہ جیسی تو نہیں ۔۔۔۔۔ ؟ ۔۔۔۔۔ عکس درعکس ۔۔۔۔۔ پاکھنڈی مولوی محفوظ کا سفلی عمل ہو کہ گمشدہ اخلاقیات/خزانے کی تلاش۔بعض مقامات پر حیرت خیز،ناقابل یقین واقعاتی عناصر نے کرداروں میں جان ڈال دی ہے۔تہذیبی ورثے کی پاسداری کے تصور نے ذوقی کو بعض جگہ نہایت جذباتی بلکہ nostalgic   بنا دیا ہے۔چند مختصر اقتباس دیکھیں  :-

’’۔۔۔۔۔میں وسیع احمد کاردار ولد سمیع احمد کاردار خاندان کا بد نصیب وارث ۔۔۔۔۔آزاد ہندوستان میں بدنصیب حویلی کی میت اٹھاتے اٹھاتے تھک گیا کہ خود  اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھودنے لگا ۔اگر اپنی زندگی میں اپنی قبر کھودنا ناجائز ہے تو پھر۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔؟‘‘

(صفحہ  :   ۲۰۶  )

’’موت جیسے سناٹے کے درمیان ابا خاموش سے انیٹک مسہری پر لیٹے ہوئے خود بھی کوئی پرانی یادگار معلوم ہو رہے تھے۔۔۔۔۔

سفیان ماموں کا پن ڈبا دوبارہ کھلا۔۔۔۔۔’’مولانا آزاد کی بات یاد آتی ہے ۔۔۔۔۔ان کی ایک ایک تقریر مجھے حفظ ہے۔مولانا نے کہا تھا ۔۔۔۔۔مت کرو تقسیم۔اگر آسمان سے کوئی فرشتہ اترے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر اعلان کرے کہ ہندوستان آزاد ہے تب بھی میں اسے اس وقت تک قبول نہیں کروں گاجب تک اس ملک کے ہندو اور مسلمان متحد نہ ہو جائیں۔۔۔۔۔اگر ہندو مسلمان نہیں ملتے تو یہ ساری انسانیت کا نقصان ہے۔۔۔۔۔بانٹ دیا دو بھائیوں کو۔۔۔۔۔اور آج اس آزادی کا حشر دیکھ لو۔باہر آگ لگی ہے اوریہاں دیمک لگی حویلی پر ناز کرنے والا اس کا وارث بیمار لیٹا ہے۔۔۔۔۔ہزاروں برسوں کی تہذیب ایک دن میں نہیں بھولی جاتی بھیّا۔

(صفحہ  :  ۲۱۸-۲۱۷ )

’’۔۔۔۔۔سفیان ماموں کا گلا بھر آیا تھا۔۔۔۔۔

یہ بدلے ہوئے زمانے کا دستور ہے ۔یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔۔۔۔۔بڑی سے بڑی حکومتیں ختم ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔قدرت اپنا کھیل دکھاتی ہے ۔۔۔۔۔کبھی کسی نے سوچا بھی تھا کہ مغلیاں شاہی خاندان کو بھی زوال آجائے گااوراس خاندان کے ایک وارث بہادر شاہ ظفر کو نصیب کے سو آنسو بہانے پڑیں گے۔۔۔۔۔لیکن یہی تقدیر میں لکھا ہے وسیع بھائی اور ایک دن اس آگ میں سب کو جلنا ہے۔‘‘

(صفحہ :  ۲۰۰)

تخلیقی تخئیل کی عمدہ اور عصری حقائق کی زندہ مثالوں سے ناول بھرا پڑا ہے ۔۔۔۔۔ طوالت کے خیال سے آگے بڑھ رہا ہوں۔

بہر حال انسانی افعال واعمال کی ناگزیریت اور جبریت کے ساتھ پیش نظر ناول مین بھی مختلف زاویۂ نظر لیے زمانی،تہذیبی اور سماجی پس منظر سے کئی چہرے جھانکتے نظر آتے ہیں ۔کہا جا سکتا ہے کہ ذوقی کو کردار نگاری ،بطور خاص باطنی حقیقت نگاری پر فن کارانہ دسترس حاصل ہے۔

ہمیں یہ تسلیم کرکے آگے بڑھنا ہوگا کہ وقت کی جبریت اور اعلیٰ اقدار کی شکست وریخت نے مذہب اور اخلاقیات کی مستحکم دیواروں میں شگاف پیدا کردیا ہے۔آزادیٔ اظہار کے نام پر ہم نے جو thought crimes  کیے ہیں وہ یقیناً سماجی جرائم سے بھی زیادہ بھیانک اور انفجاری ہیں ۔کیا کچھ دیر کے لیے یہ آپ بھول سکتے ہیں کہ گناہ ثواب کا تعلق مذہب سے ہے؟ نہیںنا !  ۔۔۔۔۔اتنا تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بے شرمی بے حیائی اور رشتوں کی پامالی کے اس دور اور ایک بے حس و اپاہج معاشرہ میں یعنی کنڈوم کلچر میں حیاتِ نو کی بنیادی ضرورتوں کی کسی بھی طرح حصولیابی کے لیے ہماری تجارتی یا دفتری مصروفیات نے سچ پوچھیئے تو ہمیں روبوٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔سب اپنی اپنی سہولتوں کے لیے حسب ضرورت الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔اسی الٹ پھیر کا تخلیقی اظہاریہ ہے ’’لے سانس بھی آہستہ‘‘۔ہمارے سروں پر اب نیلی چھتری کہاں رہی؟پاک دامن وادیٔ سرسبز کا سلسلہ جیسے ختم سا ہو کر رہ گیا ہے۔اب ہم دیکھتے بھی وہی ہیں۔۔۔۔۔سنتے بھی وہی ہیں جو مغربی ذرائع و ابلاغ پیش کرتے ہیں۔اب ایسے ماحول میں ثقافت کی خود کشی یقینی ہے ۔اور فطرت ہے کہ تمام کرہ ٔارض پر اپنی نت نئی حشر سامانیوں کے صد رنگ جلوے دکھانے کے لیے آزاد ہے۔۔۔۔۔بس آپ دیکھتے جائیے۔۔۔۔۔۔غور سے دیکھیے کہ یہاں سب کچھ ہالی وُڈ کی فنتاسی کی دنیا سے کہیں زیادہ بھیانک ہے بقول تخلیق کار ’’یہاں سب کچھ بے حد سنگین ہے اور موت دبے پاؤں ہماراپیچھا کر رہی ہے ۔جنگ ہر بار ایک اپاہج معاشرہ کو جنم دیتی ہے ۔دھماکہ ہونے والا ہے لیکن یہ نئی تہذیب کا دھماکہ ہے۔‘‘

’’پیٹ کے نیچے کی ساری تاریخ اور جغرافیہ آزاد ہے دوست۔کہاں ہے تمہارا Ethics  ،نیتی شاستر اور اخلاقیات کے واہیات صفحے ،تمہارے کمرشیل ٹی وٰ ی شوز سیکس کی آزادی کا پیغام لے کر آرہے ہیں۔کب روکوگے اپنی تہذیب کو تم ۔۔۔۔۔یہ تہذیب بلاسٹ کر چکی ہے۔‘‘۔۔۔۔۔’’تہذیب کے یہ صفحے ہم یا تم نہیں لکھتے ۔۔۔۔۔یہ پہاڑ لکھتے ہیں ۔یہ وادیاں لکھتی ہیں۔۔۔۔۔نیچر لکھتا ہے۔چلو ایک بار پھر نیچر میں گم ہو جائیں۔۔۔۔۔؟‘‘                                        (صفحہ۴۴۰)

اس سے پہلے کہ پاک دامن وادیٔ سرسبز وقت کی ’’اندھیری باؤلی‘‘میں روپوش ہو جائے پیش نظر ناول کے جلیبیا موڑ پر ایک ذرا محتاط ہو کر ۔۔۔۔۔دم لیکر۔۔۔۔۔پھونک پھونک کر اگلا قدم اٹھاناہے۔یہاں حد نظر مٹیالے کھارے پانیوں والی کائی ،اُبکائی پیدا کرنے والی آب وہوااور۔۔۔۔۔پھسلن ہی پھسلن ہے۔یہ چوتھا زینہ ہے جسے ہوش مند ناول کے خالق نے ’’جبلت‘‘ کا نام دیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسان کی سرشت میں اس کی آزادی کو دخل ہے۔۔۔۔۔یہاں ہر سانس ایک نئی عبارت لکھ رہی ہے۔۔۔۔۔ہر سانس ایک نئی دنیا بن رہی ہے اور ایسے میں   ؎

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق  کی  اس  کارگہہِ  شیشہ گری  کا

ہشیار!  یہ ہے ذہنی طور پر معذورنگارؔ بنت نادرہ اور جینی؟(ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍمَّکِیۡنٍ)  ۔۔۔۔۔سب سے پہلے نگار سے ملتے ہیں جسے اس کے خالق نے محض ایک جنسی معروض sex object   کے طور پر خلق کیا ہے ۔اسے آپ نادرہ کے بطن سے پیدا ہونے والی دوسری نادرہ یا اس کا ہمزاد کہہ سکتے ہیں۔ذوقی نے نگار کے کردار میں حیاتیاتی رشتوں biological relation   کی پکار اور اضطراب ِ بدنی اور ایک قسم کے creative indulgance   کو کچھ یوں فوکس کیا ہے کہ عکس در عکس منظر در منظر انسانی زندگی میں اس کی فطری درندگی کی کئی صدیاں کچھ یوں لوٹ آئی ہیں کہ یہاں ہر ایک منظر پس منظر برہنہ ہے یعنی سراپا اندرو بار برہنہ ہے۔۔۔۔۔۔یسے میں وان گاگ کی مجسم تصویر بنا کارداراور بلائے ناگہانی کا شکار معصوم نوؔر محمد کا چہرہ کچھ دیر کے لیے نگاہوں سے اوجھل ہو چکا ہے۔اب صرف نگاہوں کا مرکز ومحور ہے نگارؔ بنت ِ نادرہ اور جینی۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔کیا نگار ایک نفسیاتی کیس ہے؟ ۔۔۔۔ٹھہریئے ! نگار کے خالق ذوقی کے بقول : ’’میری بات مان کر نور محمد نے ڈاکٹر سے علاج جاری رکھا تھا ۔اس علاج کا فائدہ یہ ہوا کہ دَوروں میں کمی آگئی تھی۔مگر وہ ایک دماغی مریضہ تھی اور سب سے عجیب بات یہ کہ ذہنی معذور ہوتے ہوئے بھی اس کا قد سرو کی طرح لمبا ہوتا جا رہا تھا۔وہ چہرے مہرے سے نادرہ کی طرح ہی خوب صورت لگتی تھی۔اگر آپ اسے کہیں بیٹھے ہوئے دیکھ لیں تو یقین کرنا مشکل ہوتا تھا کہ یہ خوب صورت پیاری سی بچی دماغی طور پر معذور بھی ہوسکتی ہے۔مگر اس حقیقت سے آنکھیں چرانا نا ممکن تھا۔‘‘آخر نگار کو کیسا دورہ پرتا تھا ،کس طرح کی ذہنی بیماری میں مبتلا تھی؟چلیے سامنے کھڑے ڈاکٹر ابھیتوش سے پوچھتے ہیں۔

’’۔۔۔۔۔۔۔کچھ ایسے بھی بچے پیدا ہوتے ہیں جو پیدا ہوتے ہی آدھے ادھورے ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔مینٹل بہیویریل پرابلم ان کے بڑے ہونے کے ساتھ زیادہ تکلیف دہ  ہوتے ہیں۔اور اسی لیے ہم انہیں  disorder کہتے ہیں۔مینٹل ڈس آرڈر ۔۔۔۔۔۔ہم اس  disorder کوidentify  کرنے یاrequire treatment کی کوشش کرتے ہیں ۔‘‘ ڈاکٹر نے مزید واضح کرتے ہوئے کہا :

Mental health disorders is children and adolescents are caused by biology.Examples of biological factors are gentics……..

  ذہنی طور پر مفلوج (بقول ڈاکٹر) bihavioural disorders   کی شکار نگار کی ’’طلب‘‘ کے اشتعالی لمحوں میں اس کے سگے باپ کے درمیان unwillingness  کے باوجود ایک میکانیکی عمل کے زیر اثر حدود شرعیہ سے باہر جو جسمانی رشتہ قائم ہوا ،کیا اسے مشرقی ماحول میں قابل قبول کہا جا سکتا ہے؟۔۔۔۔۔لے سانس بھی آہستہ کہ۔۔۔۔۔۔۔مجھے اعتراف ہے کہ تخلیقی بیانیہ کے دیرپا اثرات ہمارے ذہن ودل پر براہ راست پڑتے ہیں۔۔۔۔۔میرے جیسے قاری کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ایک جنسی جرعہ کے نقطۂ اشتعال کے بلاسٹ ہوتی ہوئی ساعتوں میں ذوقی نے فطرت و ثقافت کے حوالے سے آزادیٔ اظہارکے نام پردھوکے کی ٹٹی لگا کر بطریق احسن اپنا شکار کیا ہے۔ہر چند کہ ذوقی نے اول تا چہارم باب تک یعنی قدم قدم پر فلسفیانہ تخلیقی عوامل سے کام لیا ہے لیکن کیا ایک پیچیدہ مسئلہ کو محض قیل و قال سے سلجھایا جا سکتا ہے؟ایک مضبوط عقائد کی دیوار کا انہدام ۔۔۔۔۔کیا یوں ہی۔۔۔۔۔؟

سچ پوچھیے تو پیش نظر ناول کا چوتھا زینہ اترتے اترتے ذوقی نے اپنے قارئین کو بڑے جادوئی انداز میں خوانِ نعمت میں تیز وترش مرچ مسالے اور نمک ڈال کر ایک ایسا جنسی تڑکا لگایا ہے کہ زبان ہی بد ذائقہ ہو گئی ہے۔اب ایسے میں اوندھے منہ ’’اندھیری باؤلی‘‘میں گرنا ہی گرنا ہے۔اب یہ خوانِ نعمت نہ تو veg   رہا اور نہ  non veg ۔ناول کے آخری باب یعنی ’’جبلت‘‘ کو قلم بند کرتے ہوئے ذوقی نے ہر زاویہ سے سوچا ہوگا۔اس مقام پر یقینا   thinks hundred times  پر عمل کیا ہوگا ۔جبھی تو مختلف مغربی ممالک کے ویب سائٹس کے حوالے دیئے،ہاٹ چیٹنگ کی دنیا دکھلائی ۔۔۔۔۔بس اسی آخری باب کو مکمل کرنے کے لیے آپ کو بہت کچھ دکھایا ،گھمایا پھرایا۔۔۔۔۔اور آپ مبہوت ہوکر دیکھتے چلے گئے۔۔۔۔۔گھومتے چلے گئے۔۔۔۔۔اور یہاں آکر۔۔۔۔۔؟ جیسے کہہ رہے ہوں   ؎

کوئی رسول نہیں اس کے اور میرے بیچ

مری کتاب  کے  اوراق  منتشر کردو

محض ایک جنسی جرعہ نے ناول کی پوری فضا (virgin valley)   کو تھرّا دیا ہے۔کیا اس جنسی رشتہ کا کفارہ واجب الادا ہے؟۔۔۔۔۔نئی تہذیب یا کرشمۂ قدرت کے نام پر ایک مضبوط عقائدی دیوار کا انہدام کیا یوں ہی ہے۔۔۔ چلیے یہ مان لیتے ہیں کہ تہذیب کی بنیاد مذہب نہیں اور یہ بھی کہ ادب و شعر تہذیب کا ترجمان ہی نہیں ،مختلف حوالوں،کتابوںسے اس کی بازیافت بھی ہے۔۔۔۔۔۔یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ مغرب کی ذہن سازی کے پس پردہ ایک نئی تہذیب کا وائرس ہمارے سماج ،ہماری روزمرہ کی زندگی میں لاشعوری طور پر پھیلتا جا رہا ہے۔اب دیکھیے live in relation   کو ہمارے یہاں بھی قانونی تائید حاصل ہو گئی ہے۔چنئی کی خوشبو نام کی ایک لڑکی نے دور درشن پر اور پرنٹ میڈیا کے ذمہ داروں کے سامنے اپنا یہ ریمارکس درج کرایا تھا کہ کوئی بھی مرد یہ توقع نہ کرے کہ اس کی شادی شدہ دلہن کنواری ہے!۔۔۔۔۔ذرا آگے بڑھیے تو دیکھیے نوئڈا سکٹر ۵۰ کے مکیش کو۔مکیش اور شویتا کا کیس ہمارے سامنے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

لیو اِن ریلیشن یہاں تک کہ ہم جنس پرستی کو بھی ہماری عدالت عظمیٰ غیر اخلاقی نہیں مانتی۔سر عام سڑکوں،پارکوں میں بوس و کنار،چُمّا چاٹی اور دیگر غیر اخلاقی حرکات وسکنات کویعنی اس قسم کے قبیح اور جبری عمل کوعدالت نے خلاف قانون نہیں ٹھہرایا۔

خبردار۔ہشیار کہ برقی میڈیا کا مکڑجال اب ہمارے بیڈ روم تک پہنچ چکا ہے۔اس کے لیے اب گوگل کی دنیا سرچ کرنے یا بہت دور اور دیر تک بھٹکنے کی ضرورت نہیں۔ذوقی کے فکشن کی سچائی کو مزید استحکام بخشنے کے لیے لازم ہے کہ دل پر جبر کرکے اپنے آس پاس کی دنیا میں بھی باپ بیٹی کے مقدس رشتوں کو تارتار ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔جی ہاں!ایک جیتی جاگتی دنیا میں۔۔۔۔۔دیکھیے۔۔۔۔۔!

روزنامہ سہارا ،پٹنہ۔مؤرخہ۷۔اکتوبر ۲۰۱۲

’’ ضلع دربھنگہ کے برول تھانہ حلقہ کے پٹنیا نارائن پور کی ایک ماںشبھ کلا دیوی نے مدر انڈیا فلم کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے بیرول پولیس کے پاس پہنچ کر اپنے شیطانی صفت بیٹے کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے کے لیے بضد رہی۔ اس کے ساتھ اس کی نابالغ پوتی سنیتا بھی تھی جس نے اپنے والد سریش مالی پر عصمت لوٹنے اور جبراً بیوی بنانے کا الزام عائد کرکے سنسنی پھیلا دی۔۔۔۔۔ماں کے مرنے کے بعد جب بھی میرا باپ مجھے تنہا پاتا میری عصمت تار تار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اور۔۔۔۔۔الخ۔۔۔۔۔۔

ایس ڈی پی او دلنواز احمد نے متاثرہ لڑکی کے بیان پر ظالم باپ کے انسانیت کو شرمندہ کر دینے والے سلوک کے لیے ایف آئی آر درج کرکے اسے جیل بھیج دیا۔۔۔۔۔‘‘

دربھنگہ ضلع کی حواس باختہ ،مقدس رشتوں اور اخلاقی قدروں کو پامال کرتی ہوئی یہ نیوز کیا آپ نے نہیں پڑھی تھی۔۔۔۔۔۔؟پرنٹ میڈیا ہو کہ الیکٹرونک  یا ہمارے آس پاس کی جیتی جاگتی دنیا ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر جگہ زنا کاری اور شر انگیزی کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔اباحیت زدگی کو لاشعوری طور پر فروغ دینے میں کہیں ہم نے اہم رول تو ادا نہیں کیا۔۔۔۔؟ ہماری فکشن کی دنیا بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔۔۔۔۔چنانچہ ’’لے سانس بھی آہستہ‘‘کا فکری مرکزومحور بھی یہی دنیا ہے۔یہ ذہن نشیں رہے کہ زمانی،تہذیبی اور مذہبی پابندیوں سے بالکل آزاد ہوتی ہے تخلیق کی دنیا۔سماج اور مذہب نے جن رشتوں کے تقدس کے لیے ایک ’’لکشمن ریکھا‘‘ کھینچ دی ہے کیا اسے پھلانگنا ہمیں قابل قبول ہے۔۔۔۔۔؟کیا ہمارے ہم وطنوں نے لکشمن ریکھا پار کرنے کے لیے سیتا پر ایک سوالیہ نشان لگایا تھا۔۔۔۔؟۔۔۔۔؛بہر حال آپ دل ہی دل میں بُدبُداتے ،کبھی سماج اور کبھی خود پر لعنت بھیجتے ہوئے دھیمی گَتی سے آگے بڑھتے جائیے ۔۔۔۔۔سب کچھ آنکھیں میچ میچ کر دیکھیے،خود کو ٹٹولیے۔۔۔۔۔اور تب ناول کی تھیم یعنی ذوقی کے بنیادی موقف پر ایک سوالیہ نشان لگائیے۔۔۔۔کہ آپ بہرحال آزاد ہیں۔

کہتے ہیں کہ مغربی زندگی کی چکا چوندھ میں ہم اپنی وراثت اور مشرقی طرز حیات کو بھول بیٹھے ہیں۔ہمیں بھی اب اچھے برے کی تمیز نہیں رہی۔ہمارے ہاتھ میں ٹارچ ہے اور ہم اوبڑ کھابڑ راستوں سے گزر رہے ہوتے ہیں کسی نابینا کی طرح۔۔۔۔۔۔اپنے نفس کا تزکیہ اب ہم نہیں کرتے جب کہ ہمارے پاس آسمانی صحیفہ موجود ہے اور اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ’’ہم نے انسان پر اس کا فسق وفجور اور تقویٰ الہام کردیا ہے پس کامیاب ہو گیا وہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہو گیا وہ جس نے اس کو دفن کردیا۔‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔ہر زمانے میں انسان کواصول پسند یا آدرش وادی ہونے کے لیے بہر حال آخرت کا تصور کرنا ہوگا اور زندگی کے آخری پراؤ میں جینیؔ کے کیس کو لے کر نور محمد نے بھی ایسا ہی کیا۔ممکن ہے کہ کارداربھی اسی نہج پر سوچتا رہا ہو۔ناول نگار نے ایک جگہ اس کا اعتراف بھی کیا ہے کہ ۔’’عریانیت سے خود کو باہر نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے ۔۔۔۔۔مذہب یا ہجرت۔‘‘لیکن یہ سند رہے کہ کاردار کی جوانی نادرہؔ کی قربت میں اندھی دیوانی نہیں ہوئی ۔ایک بے حد luxary life   یعنی وہ اپنے نصب العین اور روشن مستقبل کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا۔نادرہ کو لے کر نور محمد کی طرح اس میں وہ دیوانگی نہیں رہی کہ وہ مادیت پرست سماج اور والدین سے بغاوت پر آمادہ ہو۔۔۔۔۔۔کہیں نہ کہیں لا شعوری طور پر وہ ایک opportunist   ہی رہا۔بلند حویلی سے کہکشاں منزل تک کا سفر یون ہی طے نہیں کیا اس نے۔بہر حال مجھے محض اتنا ہی کہنارہ گیا ہے کہ کارداؔر ایک زمانہ شناس کردار ہے۔۔۔۔۔صارفی کلچر کا نمائندہ چہرہ۔!۔۔۔۔۔ٹھیٹھ بھاشا میں کہیے تو ’’ابن الوقت‘‘۔۔۔۔۔

غیر اسلامی معاشرہ میں بطور خاص  Hindu mythology  یا دیو مالائی ماحول میں ’’فطرت‘‘ کی حیثیت آبائی باپ کی ہے۔’’سارے دن کا تھکا پُرش‘‘ میں ایک جگہ صلاح الدین پرویز نے لکھا ہے کہ ’’قدیم ہندوستانی فکر کی رو سے بنیادی عنصر شکتی یعنی عورت یعنی حُسن ہے جو تخلیق کائنات کا رمز ہے۔اصل رشتہ ایک ہی ہے خلق کرنے کے پروسس کاجس کا دوسرا رخ اپنانا اور قبولنا ہے۔یہی رشتہ پُرش اور پراکرت کا ہے۔۔۔۔۔۔گناہ آلود جنس کو تقدس کا درجہ صرف ہندوستانی روایت میں داخل ہے اور تقدس بھی ایسا کہ جو خدا یعنی آبائی باپ کا ہے۔‘‘

کہتے ہیں کہ شاہراہ ِ حیات سے منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے تلووں کو لہو لہان کرنا پڑتا ہے کہ اس کے بغیر تکمیل ِآرزو ممکن نہیں۔زیرِناف کی جبلتوں کے تخلیقی اظہاریہ میں پیشِ نظر ناول کے خالق کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کٹھن مرحلہ درپیش رہا ہو گا جسے آپ ’’دھرم سنکٹ‘‘بھی کہہ سکتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ذوقی نے بڑی چتُرائی سے اپنے ’’ تخلیقی نصب العین‘‘ کو معنی خیز بنا دیا ہے۔اب یہ الگ بات ہے کہ اردو قارئین کو شارٹ سرکٹ کے کئی جھٹکے لگے ہیں۔بقولِ ذوقی۔۔۔۔۔’’ایک بے حد کھلی کائنات کی آزادی کے لیے ضروری ہے کہ ہم فنون لطیفہ کو بھی آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع دیں۔‘‘ اس جگہ ذوقی کے اس بیانیہ میں ان کا  writing of pain   بھی جھلکتا ہے۔چنانچہ مغربی ذرائع و ابلاغ ،یعنی یو ٹیوب،ذوم، پیکاسو،فیس بُک، پرنٹ اور دیگر الیکٹرونک میڈیا کو  source material  بنا کر مقدس رشتوں کے درمیان جنسی ملاپ یا  incest family  کی بے لگام زندگی کے آوارہ شب وروز کو بیک وقت  A painfull story of secret pleasures بناتے ہوئے اپنی جس تخلیقی بصارت کا مظاہرہ کیا ہے اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔کہتے ہیں کہ کوئی فن کار اپنی بصیرت کسی تخلیق میں متشکل نہیں کرتا بلکہ بصیرت ازخود اپنی تکمیل کر لیتی ہے دورانِ تخلیقی عمل۔۔۔!

ما قبل پیش کیے گئے حقائق و شواہد اور بیان کی روشنی میں رواں صدی کے اس تاریخی آشوب کے دستاویز پر کیا آپ جھاڑو پھیرسکتے ہیں۔۔۔؟میرا تو ایسا ماننا ہے کہ ذوقی اپنے تربیت یافتہ قارئین کو اس متنازع فیہ ناول (Hot novel) کو ازبر کرانے میں خاصے کامیاب دِکھتے ہیں۔۔۔۔۔المختصر اردو فکشن صدی کایہ بڑا سچ ہے کہ زیر مطالعہ ناول’’لے سانس بھی آہستہ‘‘کلچر اور نیچر کے حوالے سے صداقت کی تلاش میں سرگرداں ہے جسے آپ تخلیق کی تہذیبی آزادی کا turning point بھی کہہ سکتے ہیں۔اب یہ کڑواسچ اپنی جگہ کہ   ؎

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا

 

Shamim Qasmi,
Sector-D,Shershah Street,
New Azimabad Colony,
Patna-800006 (Bihar)

 

٭٭٭

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
خواتین قرآن سے اپنے رشتے کو مضبوط کریں: مفتی ثناء الہدی قاسمی
اگلی پوسٹ
علم شخصیت نکھارتا ہے – سیدہ مریم الٰہی

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں