مصورِ مظاہر دنیائے فانی و مفسر کیفیاتِ نفس انسانی موصوف ولی محمد نظیر اکبرآبادی ایک قد آور شخصیت کے مالک ہیں جن کی شاعری سے زندگی اورخارجی دنیا کی صحیح نمائندگی کا آغاز اردو شاعری میں ہوا۔
نظیر کی شاعری کی نشوونما عجیب کشمکش کے دور میں ہوء،یہ وہ زمانہ تھا جب مغلیہ سلطنت کے چراغ کی لو مدھم ہوتی جارہی تھی لاہور سے مرشدآباد تک اور کشمیر سے میسور تک ساری لہولہان آبادی سونتی ہوء شمشیر کے سائے میں زندگی کی رسم ادا کررہی تھی دہلی سقیم تھی اسی میں نظیر کے بچپن نے آنکھ کھولی، شاہی قتلِ عام نے اسے سوچنا سکھایا میر احمد شاہ کے غلغلۂ آمد نے عملی فرار کے راستے ہموار کییاور مہاجرین کے چھوٹے سے قافلے نے آگرہ میں ورود کیا۔
اسی زیر وزبر میں نظیر کی شاعری پروان چڑھی، نظیر کا سب سے بڑا کارہائے نمایاں یہی ہے کہ ایسے پرآشوب ماحول میں زندگی گزارنے کے باوجود انھوں نے رجائیت کے گیت گائے ہیں، خود بھی زندگی کے مزے اُڑائے اور دوسروں کو بھی زندگی کی تمام تر خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دی۔ تیوہاروں،تقریبوں اور میلوں،ٹھیلوں پر جتنی نظمیں نظیر نے لکھی ہیں وہ سب ان کے جذبۂ رجائیت کی ترجمان ہیں، اگرچہ اس دور کے دوسرے شعرا مثلاً میر،غالب اور سودا وغیرہ نے اپنی مفلسی کا رونا رویا اور زمانے کی ناسازگاری کا ماتم بھی کیا ہے،لیکن نظیر کے یہاں رونا دھونا، نوحہ ماتم نظر نہیں آتا۔ انھوں نے حالات کا جواں مردی کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور اپنی شاعری میں زندہ دلی، ہنسی خوشی اور عیش وعشرت کے نغمے الاپے ہیں۔ مخمور اکبرآبادی، اختر اورینوی، مولانا عبدالسلام، نیاز فتح پوری اور مجنوں گورکھپوری نے نظیر کی شاعری کے اس رجاء پہلو کوان کی شاعری کا سب سے بڑااور قابل توجہ پہلو تسلیم کیا ہے۔
نظیر اکبرآبادی اردو شاعری کی منفرد آواز ہیں جن کی شاعری اس قدر عجیب اور حیران کن تھی کہ ان کے زمانہ کے شعری شعور نے ان کو شاعر تسلیم کرنے میں بالعموم بخل سے کام لیا ہے۔ اس وقت اردو شاعری غزل کے گرد گھومتی تھی شعرا اپنی غزل گوء پر فخر کرتے تھے۔ حقیقت نگاری اور فطرت پرستی کی داد دینے والوں کا قحط تھا۔ آسمان سے تارے اتارنے پر فخر کیا جاتا تھا، تشبیہ و استعارہ کی پیچیدگیوں سے مرتبۂ کمال کا اندازہ لگایا جاتا تھا اور زبان کے چٹخارے پر جان دی جاتی تھی۔ شاہی درباروں تک رسائی کے لیے قصیدوں کا سہارا لیتے اور رباعیاں، مثنویاں کہہ کر شعر کے فن میں اپنی استادی ثابت کرتے تھے۔ ایسے میں ایک ایسا شاعر جو بنیادی طور پر نظم کا شاعر تھا ان کے لیے غیر تھا، دوسری طرف نظیر نہ تو مشاعروں میں اپنی کوئی جگہ بنانے کے خواہش مند تھے نہ ان کو نمود شہرت یاجاہ و منصب سے کوئی غرض تھی وہ خالص شاعر تھے جہاں ان کو کوئی چیز یا بات دلچسپ اور قابل توجہ نظر آئے اس کا حسن شعر بن کر ان کی زبان پر جاری ہوگیا۔ ان کے اس فطری قلم کو اکثر نقادوں نے نظر انداز کرتے ہوئے ان کی شاعری میں بازاریت، ابتذال، فنی اغلاط اور عیوب کا ذکر کیا۔ شیفتہ اسی لیے ان کو شعرا کی صف میں جگہ نہیں دینا چاہتے۔ آزاد، حالی اور شبلی نے ان کے شاعرانہ مرتبہ پر کوئی واضح رائے دینے سے گریز کیا ہے۔ سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ نظیر نے اپنے دور کے معیارِ شاعری اور کمالِ فن کے نازک اور لطیف پہلوؤں کو زندگی کے عام تجربات کے سادہ اور پرخلوص بیان پر قربان کر دیا۔
نظیر نے غزلیں بھی لکھیں ہیں لیکن انھوں نے غزل کو حاصل شاعری نہیں سمجھا اور نہ ہی بندھے ٹکے مضامین کی مروجہ رنگ میں تقلید کی بلکہ یہ بات واضح کر دی کہ غزل کی صورت برقرار رکھتے ہوئے بھی اس میں نظم لکھی جاسکتی ہے۔ غزل کی تنگ دامانی کا احساس نظیر کو بھی ہوا ہے۔ انھوں نے غزل کے ساتھ مثلث،مخمس اور خصوصاََ مسدس سے کام لیا ہے۔ نظیر کے کلام کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اُکھڑی اُکھڑی باتیں کرنے سے گھبراتے ہیں انہیں مربوط،مسلسل کلام میں خاص لطف ملتا ہے، یہ نظیر کا خاص کارنامہ ہے۔ بقول کلیم الدین احمد ” اگر غزل گو شعرا نظیر کے تجربوں کی قدروقیمت کو سمجھتے اور نظیر کو میر کارواں بناتے تو آج اردو شاعری اور اردو غزل اپنی پستی سے نکل کر بہت بلند مقام پر ہوتی”۔
نظیر درباری شاعروں کی فضا سے دور رہ کر موضوعات کے انتخاب اور ان کے اظہار میں ایک مخصوص طبقہ کے ذوقِ شعر کو ملحوظ رکھنے کے بجائے انھوں نے عام لوگوں کے فہم اور ذوق پر نگاہ رکھی یہاں تک کہ زندگی اور موت،منازلِ حیات اور مناظرِ قدرت،موسم اور تہوار،امارت اور افلاس،عشق اور مذہب،تفریحات اور مشاغلِ زندگی،خدا شناسی اور صنم آشنائی،ظرافت اور عبرت غرض کہ جس مضمون پر نگاہ ڈالی وہاں زبان،انداز بیان اور تشبیہات و استعارات کے لحاظ سے پڑھنے والوں کی دلچسپیوں کو نظر میں رکھا، دوسری طرف نظیر کی نگاہ میں گہرائی اور فکر میں وزن کی جو کمی نظر آتی ہے اس کی تلافی ان کی وسعتِ نظر،خلوص، حقیقت پسندی، سادگی اور عوامی نقطۂ نظر سے ہوجاتی ہے اور یہی باتیں ان کو اردو کا ایک منفرد شاعر بناتی ہیں۔اردو شاعری کے آسمان پر نظیر اکبرآبادی کی شخصیت درخشندہ ستارہ ہے۔دنیائے تجربات پر نظیر کا تصرف تھا وہ ہر قسم کے تجربے نظم کرتے ہیں ان کی نظموں میں بوالہواسی بھی ہے اور عشق حقیقی کی بلند اور لطیف کیفیتیں بھی،ملاحظہ ہوں:
ہے چاہ فقط اک دلبر کی پھر اور کسی کی چاہ نہیں
اک راہ اسی سے رکھتے ہیں پھر اور کسی سے راہ نہیں
یاں جتنا رنج و تردد ہے ہم اک سے بھی آگاہ نہیں
کچھ مرنے کا سند یہ نہیں کچھ جینے کی پرواہ نہیں
نظیر کی اہمیت یہ ہیکہ وہ مروجہ عشقیہ مضامین کو مروجہ طرز میں نہیں بیان کرتے ہیں ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ذاتی واقعات اور مشاہدات کو اپنے مخصوص رنگ میں منعکس کرتے ہیں، جس طرزِ معاشرت سے وہ آشنا تھے جس افتاد زندگی کے خوگر تھے اسی کی حسین نقّاشی کرتے ہیں اسی لیے نظیر میں کوئی شے بھی مصنوعی،فرضی،حقیقت و صداقت سے دور نہیں ہے، ہر تفصیل واقعیت میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ زمین سے لے کر آسمان تک کی خلقت چرند،پرند، پہاڑ، جنگل سبھی کو دیکھتے ہیں۔ ہنسنا، رونا، شادی،غمی، ترقی، تنزلی، گمان اور یقین، امیری غریبی کوئی بھی چیز حلق? دام نظر سے نہیں چھوٹتی اور ان سب کے بیچ جو راز ان پر سب سے زیادہ عیاں ہوا وہ ہے دنیا کی بے ثباتی۔ نظیر نے اس بے ثباتی کو اپنا موضوع بھی بنایا کہ ” سب ہیں فانی دہر میں ”
غل شور ببولا آگ ہوااور کیچڑ پانی مٹی ہے
ہم دیکھ چکے اس دنیا کو یہ دھوکے کی سی ٹٹی ہے
نظیر بے ثباتی دنیا کے نظارہ سے اس قدر متاثر ہوئے ہیں کہ وہ بار بار تنبیہ کرتے ہیں۔ ہر مرتبہ نئے رنگ سے اس لیئے تکرار سے بدمزگی پیدا نہیں ہوتی ان کی بعض نظمیں اس موضوع پر بے حد موثر ہیں اور اردو شاعری میں ان کی مثال نہیں۔ ”بنجارہ نامہ” اسی قسم کی ایک نایاب اور پراثر نظم ہے
ٹک حرص و حوس کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارا
کیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گوئی پلا سر بھارا
کیا گیہوں چانول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں کیا انگارا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
دنیا کی بے ثباتی کا تصور نظیر کے دماغ میں دو طرح کی لہریں پیدا کرتا ہے ایک طرف وہ دنیائے متاع کی مذمت کرتے ہیں قناعت کی ہر حال میں تلقین کرتے ہیں اور نیک عمل کی طرف بلاتے ہیں دوسری طرف لہر یہ اُٹھتی ہے کہ مہلت عمر کم ہے حسین وجمیل چیز دیرپا نہیں اس لیئے ” دیکھ لے دنیا کو غافل یہ تماشہ پھر کہاں ”
نظیر نے دنیا کو دارالمکافات بھی کہا ہے، ملاحظہ ہوں
کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے
نظیر کے خیالات اور تجربوں کی دنیا ایسی وسیع ہے کہ وہ مختصر سے پیمانہ میں نہیں سما سکتی۔ نظیر ہر قسم کے خیال اورتجربہ کو اپنا خام مواد سمجھتے ہیں اور انھیں فنی کارناموں کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ اس لیے ان نظموں میں بوقلمونی ہے۔ نظیر کی ایک نظم ”آدمی نامہ” ہے جسکا پہلا بند پیش ہے :
دنیا میں بادشاہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ٹکڑے جو مانگتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
نظیر کا موضوع انسان اور انسانی دنیا کے مختلف مناظر ہیں جو چیزیں وہ گردوپیش میں دیکھتے ہیں ان کی جیتی جاگتی تصویریں اتارتے ہیں اور یہ سب چیزیں خاص ہندوستانی فضا میں سانس لیتی ہیں ان میں ذرا بھی اجنبیت کی بو نہیں، مثلاً آدمی کی سب سے بڑی ضرورت روٹی ہے اور یہی وہ بنیادی قدر ہے جس پر ساری قدروں کا انحصار ہے اگر روٹی نہ ہو تو پھر اخلاق،فلسفہ، علوم وفنون،مذہب کچھ نہ ہو زندگی کا نظم و نسق اسی سے وابستہ ہے۔
روٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئے
گلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئے
دو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئے
چودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئے
یہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاں
اسی طرح نظیر اکبرآبادی کی مختلف تیوہاروں، تقریبوں اور میلوں ٹھیلوں پر لکھی گئی نظموں کو دیکھ کر اور شری کرشن،گرونانک،حضرت علی، شیخ چشتی سے یکساں عقیدت اظہار سے ان کے ہمہ گیر اور آفاقی عقائد و افکار کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ یہ موضوعات وعنوانات ان کے تجربات ومشاہدات اور ہمہ گیر عقائد پر مبنی ہیں۔ ان کی نظمیں انسانی جذبات و احساسات سے لبریز ہیں جنہیں پڑھ کر ہمارے دل میں انسانی ہمدردی کا صحیح جذبہ موجزن ہوجاتا ہے۔ بے تعصب اور رواداری نظیر کی شاعری کے جزولاینفک ہیں۔ اسی کڑی میں اختر اورینوی کا خیال ہے کہ” نظیر کے دل کا گداز اور اس کی حقیقت آگاہی اسے رواداری اور محبت سکھاتی ہیاس کی رواداری اتنی وسیع تھی کہ وہ انسانی غلطیوں سے بھی مسکراتا ہوا چشم پوشی کرلیتا تھا ایک حقیقت آگاہ اور واقعیت پسند شخص کبھی بھی متعصب نہیں ہوسکتا ”
نظیر کی شاعری کو نایاب اور ہر باب میں کامیاب بنانے میں لفظوں کا بڑا دخول ہے، نظیر نے جتنے لفظوں کا استعمال کیا ہے اردو کے کسی شاعر نے نہیں کیا یہ بات بھی نظیر کی شاعرانہ عظمت پر دلالت کرتی ہے۔ نظیر کی شاعری میں جو قلندرانہ بانکپن ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے۔ موضوع ہو، زبان ہو یا لہجہ نظیر کا کلام ہر اعتبار سے بے نظیر ہے اس طرح نظیر نہ دہلوی ہیں اور نہ لکھنوی وہ اپنی ذات سے خود ایک دبستان ہیں۔
ناصحہ رئیس
گولڈ میڈلسٹ ایم ـ۔اے اردو ، لکھنؤ یوینورسٹی ، لکھنؤ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

