وطن کو پھر رجھایا جارہا ھے
” نیا منشور لکھا جا رہا ھے "
سدن کو پھر سجایا جارہا ھے
” نیا منشور لکھا جا رہا ھے "
نئی طرزِ حکومت کے لئے اب
” نیا منشور لکھا جا رہا ھے "
نئے مہرے، نئی چلنے کو چالیں
” نیا منشور لکھا جا رہا ھے "
بنانے کو نئی سرکار اپنی
"نیا منشور لکھا جا رہا ھے "
رہو سب شاد مل جل کر وطن میں
” نیا منشور لکھا جا رہا ھے "
غریبوں کو بھُلا کر پھر سرے سے
” نیا منشور لکھا جا رہا ھے "
رہو بیدار شاہد ؔ سربسر تم
” نیا منشور لکھا جا رہا ھے "
فکر : علی شاہد ؔ دلکش
8820239345
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

