انسان اور احساس لازم و ملزوم ہیں۔انسان کو احساس سے اور احساس کو انسان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
اشرف المخلوقات ہونے کا یہی انعام ہے اور شاید یہی انسان ہونے کی سزا بھی۔ایک ایسی سزا جس کے ڈانڈے عہدِحاضر کے انسان سے لے کر آدم و حواّ سے جا ملتے ہیں۔اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ احساس کا مادہ چرند و پرند اور نباتات میں بھی پایا جاتا ہے۔ انسان کے علاوہ دیگر جانداروں کے احساس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔مگر چند احساس انسان اور دیگر جانداروں میں یکساں پائے جاتے ہیں۔پھول کو چھوتے ہیں تو وہ مر جھا جاتا ہے۔مگر جب اسی پھول کے پودے کو پیار سے پانی دیتے ہیں اور محبت کی آنچ سے سینچتے ہیں ، خلوص سے اسے تراشتے ہیں تو وہ خوشی خوشی پنپنا شروع کر دیتا ہے۔اسی طرح حیوانات ہو ں یا پرندے ان کو پیار کرنے سے وہ اپنے ہوجاتے ہیں اور ان کو بے وجہ ستانے سے یا ان کی قدر نہیں کرنے سے برباد ہو جاتے ہیں اور کئی صورتوں میں انسان کے دشمن بھی ثابت ہوتے ہیں، یا پھر ان سے خفا کو کر ان سے دور ہو جاتے ہیں۔بالکل ایسے ہی دنیا کا کوئی بھی فن ہو ، وہ ایک طرح کا احساس ہی تو ہوتا ہے، جس کے بغیر کوئی شعر ، کوئی کہانی ،افسانہ، یا ناول نہیں لکھا جا سکتا۔اور نہ ہی کوئی مصوّر تصویر بنا سکتا ہے، سنگتراش مجسمہ تراش سکتا ۔یہ احساس ہی ہے جو فنکار کے فن میںفکر بن کر نمودار ہوتا ہے۔ایسی فکر جو آدمی کو انسان بنا سکے، ایسی فکر جو انسان کے باطنی احساسات کو خوب صورتی عطا کرسکے۔انسان کو انسان سے اخلاقی سطح پر اس کے حقوق کو پامال کرنے سے بچا سکے۔ایسی فکر جو انسان میں سماجی شعور پیدہ کر سکے، تاکہ انسان تمام جانداروں سے ہمدردی کا رشتہ قائم کر پائے۔انسان کے دکھ درد ،اور تکلیفوں کو دور کرنے کی اپنی سی سعی کر سکے۔ایک فنکار کے یہی وہ افکار ہوتے ہیں جو وہ اپنے فن کے ذریعہ دنیا کو دینا چاہتا ہے۔اور خواہش کرتا ہے کہ دنیا خوب صورت ہو اور انسان تمام جانداروں سے محبت اور خلوص سے پیش آئے۔ ( یہ بھی پڑھیں ’میں تمثال ہوں ‘ کا ایک نفسیاتی جائزہ – شبانہ یوسف )
ہمارے عہد کے فکشن نگاروں میں عبداللہ حسین بھی ایسے ہی فکشن نگاروں میں تھے جن کے اندر احساس و فکر کی وہ تمام اوصاف بد درجہ اتم موجود تھیں۔وہ اپنی کہانیوں اور ناولوں کے ذریعہ دنیا کا کڑوا کسیلا اور بد نما چہرہ دکھا کر یہ کہنا چاہتے تھے کہ انسان کو خود غرضی ، لالچ ، حوس اور بے حیائی سے دور رہنا چاہئے، تب ہی ہم ایک اچھیّ سماج کی بنیاد رکھ سکتے ہیں ، آنے والی نسلوں کو اداسیوں سے نجات دلا سکتے ہیں۔جس سے دنیا امن و چین کا گہوارہ بن سکے۔ ۔ عبدللہ حسین ۱۴ ،اگست۱۹۳۱ء کو را ول پنڈی میں پیدا ہو ئے۔ان کا اصل نا م محمد خان ہے لیکن وہ ادبی دنیا میں عبدللہ حسین کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انھونے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی ، اس کے بعد اسکول میں داخل ہوگئے۔بی۔ایس۔ سی کی ڈگری گجرات کے ایک کالج سے حاصل کی ۔پھر گھر کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ ۱۹۵۶ء میں عبدللہ حسین نے پہلی نو کری ڈالمیا سیمنٹ فیکٹری میں اپرنٹس کیمسٹ کے طور پر کی ۔یہ داؤد خیل کے دوردراز کے علاقے میں تھی۱۹۵۹ء میں انھیں کولمبو پلان فیلوشپ ملی اور وہ کیمیکل انجینئرنگ میں ڈپلوما حاصل کرنے کے لئے کنیڈا چلے گئے۔اس کے بعد برمنگھم میں ایک ادارے کے coal board میں کیمسٹ کے طور پر ملازمت اختیار کرلی۔ ۱۹۶۹ء میں یہاں سے مستفعی ہوئے اور لندن کے ایک ادارے نارتھ تامس بورڈ میں شامل ہو ئے۔لیکن یہاں سے بھی ۱۹۷۵ء میں ملازمت چھوڑ دی ا ور ۱۹۷۶ء میں پاکستان لوٹے۔
یوں تو عبدللہ حسین کی ادبی زندگی کا آغاز بچپن سے ہو گیا تھا۔ان کی پہلی کہانی ’سورج کی کرنیں‘ ہے،جو انھونے اس وقت تحریر کی تھی جب وہ میٹرک کے طالب علم تھے۔ اس کے بعد انھونے بی۔ایس۔سی کے زمانے میں بھی تین کہانیاں لکھی اور ’’نقوش‘‘ کے مدیر کو ارسال کیں، جو شائع نہیں ہو سکیں۔
عبدللہ حسین کی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز ۱۹۶۳ء سے ہوا، جب ان کا شہرۂ آفاق ناول ’’اداس نسلیں‘‘ منظرعام پر آیا اور آپ آسمان ادب پر ایک درخشاں ستارے کی طرح جگمگانے لگے۔ ’’اداس نسلیں‘‘ کے علاوہ ان کے تین ناول ’’باگھ‘‘ (۱۹۸۲ء)، ’’قید‘‘ (۱۹۸۹ء)اور ’’نادار لوگ‘‘ (۱۹۹۶ء) اور تین ناولٹ ’’واپسی کا سفر‘‘ (۱۹۸۴ء)،نشیب(۱۹۸۴ء)اور ’’رات‘‘ (۱۹۹۴ء) کو شائع ہو چکے ہیں۔عبداللہ حسین کے دو افسانوی مجموعے بھی منظرِعام پر آ چکے ہیں ۔ پہلا مجموعہ ’’سات رنگ‘‘ ۱۹۸۱ میں شائع ہوا اور داسرا مجموعہ ’’فریب‘‘ ۲۰۱۲ء میں شائع ہوا۔عبدللہ حسین کا تیسرا ناول ’’ قید‘‘ ہے جو ۱۹۸۹ء کو شائع ہوا ۔ اس ناول میں ایک سچے واقعہ کا بیان ملتا ہے۔ پاکستان کے کسی گاؤں میں نمازیوں نے کسی نوزائید ناجائز بچے کو سنگسار کرکے مار ڈالا۔اسی واقعہ کو بنیاد بناکر مصنف نے ناول کا تانا بانا بنا ہے۔ا ور اس کے سہارے پاکستانی معاشرے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس کہانی کا پہلا حصہّ پنجاب کے ایک گاؤں ’ رکھوال ‘ کے کرامت علی شاہ کی زندگی پر مشتمل ہے۔دوسرا حصہ ّ اسی گاؤں کی ایک نوجوان لڑکی رضیہ میر کی کہانی ہے۔کرامت علی ’رکھوال‘ کا رہنے والا ہے ۔اس نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد محکمہ جیل میں نوکری حاصل کرلی تھی۔مگر کچھ عرصہ بعد ہی وہ گاؤں واپس آجاتا ہے اورپیری مریدی کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔گاؤں والوں کی بد اعتقادی کی وجہ سے وہ جلد ہی علاقے میں مقبول ہو جاتا ہے۔اور گا ؤں والوں کی معصومیت کا فائدہ اٹھاکر کرامت علی سے حضرت کرامت علی شاہ بن جاتا ہے۔وہ اپنے بیٹے سلامت علی کو لاہور کے کالج میں تعلیم دلاتا ہے۔کرامت علی جھاڑپھونک کے کاروبارسے دولت،زیورات اور جائداد جمع کرتاجاتا ہے۔اسی درمیان اس کے دل میں سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔اس مقصد کے لئے وہ اپنے بیٹے کو آگے لاتا ہے اور سیاسی بساط بچھا دیتا ہے۔ناول میں یہ وہ عہد دکھایا گیا ہے جب پاکستان میں فوج کا اقتدار تھااور جمہوری نظام حکومت کو پس پشت ڈال دیا گیا تھا۔فوجی افسران عوام کو اسلام اور توحید کے نام پر متحد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اس زمانے میں پاکستان کے فوجی جرنلوں نے نمازیں پڑھنی شروع کردی تھیں۔عوام پیروں،فقیروں اور شعبدہ بازوں کے جھوٹے خوابوں میں بری طرح پھنسی ہوئی تھی۔ حضرت کرامت علی شاہ جیسے سینکڑوں ’پہنچے ہوئے فقیر ‘ ان کو اپنے مکڑ جال میں پھانسے ہوئے تھے اور عوام کیڑے مکوڑوں کی زندگی جینے پر مجبور تھی۔( یہ بھی پڑھیں نذیر احمد کا ناول ایامیٰ اور نو آبادیاتی جدیدیت – پروفیسر ناصر عباس نیرّ )
اس کہانی کا دوسرا حصہ اس علاقہ کی ایک نوجوان عورت رضیہ میر کی داستانِ انتقام پر مبنی ہے، جو اپنے محبوب کی ناجائز اولاد کو گاؤں کی سیڑھیوں پر رکھ آتی ہے۔ جس کا امام مولوی احمد شاہ شرعی احکامات پر عمل کر تے ہو ئے اس بچہ کو نمازیوں سے سنگسار کر اکر قتل کرادیتاہے۔ یہ ناول پاکستان میں جاگیرداری اور فو جی آمریت کے شانہ بہ شانہ فروغ پانے وا لے پیری ومریدی کے کا روبار کی تفصیلات پیش کرتاہے۔ ’’قید‘‘ ایک مختصر ناول ہے۔اس کی کہانی بہت تیزی سے ڈرامائی انداز میں بدلتی جاتی ہے۔دراصل اس ناول کی کہانی چند انسانوں کی اقتدار کی حوس کے ساتھ ساتھ معصوم انسانوںکی ناکامیوں ۔محرومیوںاور تشنہ کامیوں کی کہانی ہے۔عبدللہ حسین نے اس ناول میں سیاست،فوج اور اعلیٰ افسران کی ملی بگھت کو دکھایا اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کیسے اقتدار میں رہنے والے لوگ عوام کا استحصال کرتے ہیں۔
عبداللہ حسین کا ناول ’ قید‘ بھی ایسی ہی ایک تہذیب کا مرثیہ معلوم ہوتا ہے ۔یہاں پیری مرید ی کے روحانی پہلونہیں بلکہ پیری مریدی کے نا م پرچل رہے کارو بار کو پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح بے علم لوگ مذہب اور اندھے عقائد کی بناپر کسی عام شخص کوپیر مروشد،روحانیت اور سلسلہ جیسے ناموں سے جوڑ کردولت کا کاروبار کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔اور وہ غیر روحانی لوگ جو بے علم ہوتے ہوئے خود کو عالم فاضل دکھا کر اندھے عقائد میں’ قید‘ عوام کو بے وقوف بناکر اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔ جس سے ا ن کے مذہبی اعتقادات کو بھی نقصان پہنچتاہے۔ مگر یہاں ذہن کو جھنجوڑنے والا سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ اس کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ یہ بے علم اور اندھے عقائد میں گرفتار عوام جو ایک عام شخص کو پیر بناتی ہے ۔ یاپھر پیری ،مر یدی کا سلسلہ اور روحانیت کے نام سے منسلک وہ پیر۔ اس ناول میں انسانی خواہشات میں قید ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جوایک حادثے کی بنا پر نفسیاتی مریض ہو جاتا ہے او ر شاید سکون کی تلاش میں مسجد کا رخ کر تا ہے۔ مگر یہاں سے شروع ہوتی ہے پیرکا روپ دھار لینے عوام کو مہلک قسم کے جہل میں مبتلا کر کے ان کا راستہ بگاڑنے کی نے کی داستان ۔ عبداللہ حسین کے ناول ’قید‘ باب سوم میں بعنوان’’ سلسلہ کرامت یہ کی کہانی ‘‘ کو کہانی میں اس طرح پیش کیاہے :
’’کرامت علی کے ساتھ قصہ نہ جانے کیا ہوا تھا کہ وہ شخص جس نے دین کی طرف کبھی سر سری دھیان بھی نہ دیاتھا ، گائوں لوٹتے ہی پکا د ین دار ہو گیا۔ پنچ وقتی نماز، وظیفہ، تہجّد، داڑھی بڑھا لی، شرعی لباس ٹخنوں سے پرتہمد،پاؤں میں لکڑی کی کھڑاویں،مسجد میں کل وقتی قیام ، مسئلے مسائل،غرضیکہ دین کرامت علی کا اوڑھنا نا بچھونا بن گیا ۔ چوہدری برکت علی کا دین سے بس اتنا ہی واسطہ تھاکہ وقت پہ نماز ادا کر دی،روزے رکھ لئے اور تہجّد پڑھ لی ۔ ان کے لئے گویا بیٹے کی جون ہی بدل گئی ۔ مگر کیا کر سکتے تھے،اللہ کے نام کے خلاف آواز بھی نہ اٹھائی جا سکتی تھی۔نیز یہ کہ کرامت علی اب بچہ نہ تھا، خود ایک عدد بچے کا باپ تھا ۔ اگر خود کفالت سے دستبردار ہو گیا تھا تو یہ اس کی اپنی دیکھ بھال کی بات تھی ۔ چوہدری برکت علی صبر وشکر کر کے چپ ہو رہے اور گرتے پڑتے اپنے اور بیٹے کے گھر کا رزق فراہم کرتے رہے۔‘‘ (قید،عبداللہ حسین،سنگِ پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۸،ص:۴۳)
اور یہ اقتباس بھی دیکھیں:
’’اپنے گائوں سے باہر ’سائیں‘کرامت علی کی شہرت پہلے پہل فقیروں کے لنگر سے نکلی۔ اس کا قصّہ یوں ہوا کہ فیض یا فتگان کے ہجوم کے ساتھ ساتھ مسجد میں کھانے کا شکرانہ لے کر آنے والوں ک تعداد بھی بڑھ گئی ۔گاؤں کے فقیر شکم پُری کے لئے آنے لگے ۔ پھر دوسرے غریب لوگوں کے بچے پنے اپنے کٹورے تھامے کھانے کا حصّہ حا صل کرنے کو آنا شروع ہوئے ۔ ہوتے ہوتے کھانے کی مقدار اس حد کو پہنچی کہ گاؤں کے حاجت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے بعد کھانافالتو بچ رہتا، جو کرامت علی آوارہ کتوں ، بلّیوں او ر ادھر ُادھر کے مویشیوںکو ڈال دیتا ۔ تب گاؤں کی حدود کے باہر اس بات کی خبر پھیلی کہ رکھوال کے سائیں کرامت علی کی مسجد میں لنگر چلا ہے۔ چنانچہ آس پاس کے دیہات سے فقیر فقراء لنگر سے پیٹ بھرنے کو آنے لگے۔ بھوک مٹانے کے لئے آنے والوں کے ساتھ ساتھ ان دیہات کے با حیثیت لوگوں میں بھی خبر عام ہو گئی کہ رکھوال کے سائیں کرامت علی اسمِ بامُسمّے کرامت ہیں۔نتیجے کے طور پر وہاں سے آنے والوں کا سفر بھی جاری ہوا۔ اس طرح باہر کے علاقے میں شہرت پھیل جانے سے کرامت علی کی اپنے موضع میں بھی عزت دوبالاہو گئی۔ چنانچہ گاؤں کے تھوڑابہت پڑھے لکھے اور مخّیر زمیندار لوگ،جو کرامت علی کو گھر کا لونڈا سمجھ کر خاطر میں نہ لاتے تھے، اب معتقد ہونا شروع ہو گئے۔‘‘ (قید، ص: 46/47)
ایک بات جو اکثرمیرے ذہن میں گونجتی ہے کہ کیا روحانیت کے لئے مذہب لازمی ہے ؟کیاروحانی قوت پانے کے لئے کسی نہ کسی مذہب کا سہارہ لینا ہی ہوگا ۔ آپ محمد صلیؐ جو غارِ حرا میں جاکر اللہ کے حضور سجدہ بسبجود ہوتے ہوتے تھے اور جبرائیل علیہ اسلام سے علم حاصل کرتے تھے ۔ یاہندو دھرم کی مانیتہ کے مطابق پہاڑوں جنگلوں( جہاں ایک دم یکسانیت اور تنہائی ہو)’’اوم اوم ‘‘ کی گردان کر نے سے بھگوان کے ساکشات درشن ہو جاتے ہیں۔ یاپھر مہاتما بدھ کو پیپل کے درخت کے نیچے نروان پراپت ہو ا تھا ۔ (یہ بھی پڑھیں "اللہ میاں کا کارخانہ "سماج اور قدرت کا آئینہ خانہ – ڈاکٹر محمد کامران شہزاد )
میرے نزدیک روحانیت کسی بھی ایک مذہب کی میراث نہیں۔ صرف یہ ایک ذریعہ ہے۔ مگر یہ اتنا آسا ن کام نہیں اس کے لئے اپنے نفس کو پوری طرحاپنے قابو میں رکھنا ہوتا ہے نفس کے بہت سے پہلو ہیں ہر ایک پہلو پر قدرت رکھنا نہایت ضروری ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ’ قید ‘میں جس روحانیت کا تصور ملتا ہے اور کرامت علی کے جو متصفانہ خیالات دکھائے گئے ہیں وہ محض ڈھونگ ہیں ۔ ایک خالص کارو بار ہے، ایک ایسا کاروبار جو آگے چل کر سیاست کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے عبدللہ احسین نے اس ڈھونگ کا نقشہ کچھ یوں پیش کیا ہے :
’’ زمینی پھلاو کے ساتھ ساتھ انسانی سلسلے کا پھیلاؤ بھی ناگریز تھا ۔چنانچہ سب سے اول نام کے ساتھ پیر کااضافہ ہوا اور گیٹ پر بورڈپر لمبی سی عبارت تحریر ہوئی ۔ اس کے بعد پہلا کام جو ہوا اس سے پیر کرامت علی شاہ کی بیعت کا سلسلہ جاری ہوا ۔ اس کا عمومی انداز تو ایسا قائم ہے کہ کوئی بزرگ پہلے جاکر اپنا ایک مرشدپکڑتا ہے ، پھر کچھ عرصے بعد وہ مرشد اسے اپنے امتحان سے گزارنے کے بعد اپنی بیعت کا سلسلہ قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔مگر پیر کرامت علی شاہ کا مزاج ان چند برسوں میں بدل چکا تھا ۔ اب اس کا انداز ایساتھا کہ اس نے ان لوازمات کو خاطر میں لانا گوارا نہ کیا ۔ چنانچہ جب پہلی بار رحمت علی اور اس کے بھائیوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ کسی مرشد سے اپنی بیعت کے اجراء کی اجازت حاصل کر لینی چاہیئے ۔ تو پیر کرامت علی شاہ نے یہ کہہ کر کہا ’’ مرید بھی یہاں مرشد بھی یہاں اللہ کی راہوں میں کوئی رکاوٹ نہیں۔‘‘ بلا تامّل اپنا الماس کی انگوٹھی والا ہاتھ آگے بڑھادیا۔ چوہان برادارن نے جب یہ جلال دیکھاتو بلا حُجت سر جھکا کر ہاتھ چوما اور بیعت کر لی ۔ اس کے بعد چوہان برادری کے سب افراد نے باری باری بیعت کی ۔ یہاں سے
پیر کرامت علی شاہ کی صحیح طریقیت کا آغاز ہوا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اب خلقِ خد ا اپنی عرضیں اور منتّیں لے کر ہی نہ آتے بلکہ بے حاجت بھی ، محض آخرت میں اپنی بخشش کی خاطر پیر کا ہاتھ تھامنے کی غرض سے آنے لگے ۔ بیعت کے ساتھ ہی پیر کرامت علی کے اپنے ارادی عمل کی ابتدا ہوئی ۔ اب تک پیر کرامت علی کے سارے سلسلے کے قیام میں جو
کچھ ہوا اس کے بارے میں کہا جا سکتا تھا کہ اس میں پیر کرامت علی شاہ کے اپنے ہاتھ کا قطعی دخل نہ تھا ۔ جو رو پذیر ہو اوہ قدرت کی جانب سے ، اتفاق کی رو سے سے ، خلقِ خدا کے ہاتھوں ، یا حالات کی بُنت و ریخت کے تحت عمل میں آیا ۔ اب بیعت کے ساتھ پہلی بار پیر کرامت علی شاہ نے اپنے سلسلے کو بڑھانے کی خاطر ایک قدم اُٹھایا۔ اس نے گیٹ کے بورڈ کو اُتروایا، اس کی عبارت مٹوائی اور اس کی جگہ پر نئی عبارت تحریر کروائی : ’’ڈیرہ پیر کرامت علی شاہ ، سلسلہ کرامتیہ، موضع کچا کھوہ۔ ضلع لاہور۔‘‘ (قید، ص52/53)
سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخرت اور روحانیت کیا ہے ؟ روحانیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو تمام مادّی خواہشات سے پاک کر دیتا ہے ۔ تاکہ انسان کا دل و دماغ ہر طرح کے لالچ ، بغض، ہوس اور ناجائز خواہشات سے پاک ہو جائے ۔ وہ صرف محبت کرے فطرت کی ہر ایک شے سے محبت، انسانوں کے ساتھ تمام حیوانات ، نباتات وغیرہ کے ساتھ ساتھ غیر جاندار چیزوں، جنگل، ندی ، نالوں ، پہاڑوں، سورج ،چاند، تارے سب سے محبت کرے اور اس محبت میں اس کا کسی بھی طرح کا لالچ شامل نہ ہو ۔ اس کا مقصد صرف اورصرف خالقِ کائنا ت سے محبت ہو اور وہ بھی ایسی محبت ، جس مین صلہ کی پرواہ اور ستائش کی تمنّا نہ ہو۔ حضرت رابعہ بصری کی طرح یہ محبت نہ ہی جنت کی خواہش میں ہو اور نہ ہی جہنّم کے خو ف میں۔ اس کا مقصد خدا کی مخلوق کو محبت دینا ہو اور محبت لینا اس کا مقصد نہ ہو۔ روحانیت کے تعلق سے سعادت حسن منٹو اپنے خیالات قلم بند کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’روحانیت یقیناً کوئی چیز ہے ۔ آج سائنس کے زمانے ، ایٹم بم تیار کیا جا سکتا ہے اور جراثیم پھیلائے جا سکتے ہیں، یہ چیز بعض حضرات کے لئے مضمل ہو سکتی ہے ۔ لیکن وہ لوگ جو نماز اور روزے ، آرتی اور کیرتن میں طہارت حاصل کرتے ہیں ہم انہیں پاگل نہیں کہہ سکتے ۔ یقیناًوہ روحانیت مسلم چیز ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بد کرداروں ،قاتلوں، سفاکوں کی تجارت کا راستہ صرف روحانی تعلیم ہے۔ فسطائی پر نہیں ۔ ترقی پسند اصول پر ان کو سمجھاجائے کہ خدا انسان کو افضل ترین مقام بخشتا ہے۔ اس کو نبیوں کا قائم مقام بنایا ہے ۔انسان کا جومرتبہ ہے اگر ان کو ذہن نشیں ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنی نفرتوں سے آگاہ ہو جائیں گے اور روحانی عمل سے شفایاب ہوں گے۔‘‘
( سعادت حسن منٹوماہنامہ آجکل نئی دہلی فروری 2015‘کور پیج 2‘ آجکل کی فائل سے ‘ مذہب اور سائنس ‘دیویندر اسّر)
مگر عبدللہ حسین کے نا ول ’قید ‘ میں اس روحانیت کو پیری ، مریدی کا چوغا پہنا کر ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے اوریہ کارو بار ایک نسل کے بعد دوسری نسل کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ جب ایک پیر مر جاتا ہے تو کوئی دوسرا اس کا جانشین روایتی اصولوں کے سہارے گدّی نشین ہو کر ایک علیٰ روحانی شخصیت بن جاتا ہے اور سیاسی لوگوں اور جرائم پیشہ افراد کی مدد سے اپنے لئے تحفّظ کا سامان پیدا کرتا ہے۔ اس ناول میں ایک تقدس ّ کی قید بھی دکھائی گئی ہے۔خاص طور پر عورت کی پاکدامنی کے متعلق مسجد کی حرمت کے بہت سخت احکامات دکھائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ اس ناول میں ایک طرح کی ذہنی قید کا تصورّ بھی پیش کرنا چاہا ہے ناول نگار نے۔ناول ’قید ‘ میںعبداللہ حسین کے مشاہدے اور مطالعے دونوں قوتیں زبردست طریقے سے کا م کرتی محسوس ہوتی ہیں ، وہ اس طرح کے جب رضیہ سلطان انتہائی ناقابلِ یقین انداز میں سے تین افراد کو قتل کرتی ہے تو قارئین تھوڑی دیر کے لئے سکتے میںضرور آ جاتے ہیں ۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ ناول میں عبداللہ حسین نے محبت کے درد وغم کی قید بھی دکھائی ہے ۔ اس قید کو دکھانے کے لئے مصنف نے مائی سروری کا کردار خلق کیا جو اپنے زمانے کی بے حد حسین عورت تھی مگر عشق کی قید میں آ کر وہ اپنا سب کچھ لٹا بیٹھی۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عبداللہ حسین نے پاکستانی سماج کی الگ الگ کئی طرح کی ’ قید ‘ کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔جیسے ناول میں قید کا ایک روپ یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ سلامت علی جب گدیّ نشین ہو جاتا ہے تو اسے ایک عجیب سی تنہائی اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ناول کے کردار کہیں کہیں خود کو اپنے ہی ضمیر کی قید میں محسوس کرتے نظر آتے ہیں۔الغرض عبدا للہ حسین نے اپنے اس مختصر سے ناول میں بہت سے طرح کے احساسات کو قید کرنے کی کوشش کی ہو اور وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نظر آتے ہیں۔بہرحال یہ احساس ہی تو ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں ۔ لیکن برے یا غلط احساسات انسان کو انسانیت سے دور بھی لے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر فیضی
ٓ
I -10 FF, MuradiRoad,
BatlaHouse,Jamia Nagar,
Okhla. new delhi110025
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
موضوع سے ہٹ کر بات چیت کی گی ھے
اصل موضوع سن یا اس ناولٹ کا المیہ تھا اس سے اجتناب برتا گیا ہے