مائل گورکھپوری(1904-1996)دبستان گورکھپور کے ایک اہم شاعر و ادیب تھے۔ خاندانی نام شیخ جگو تھا۔علم ریاضی کے ماہر، شاعری کی تختی سے اسی طرح واقف تھے۔ انھوں نے تقریبا ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی۔ نظم ہو یا غزل، جس طرح سے انھوں نے صاف اور سادہ اندازمیں شاعری کی، کم ہی لوگ ہوتے ہیںجواس طرح سے اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔ مائل گورکھپوری کی شاعری کی فنی خوبیوں کا جائزہ وہی لے سکتا ہے، جو شاعری کے رموز اوقاف سے واقف ہو۔ البتہ یہاں ان کی شاعری کے چند موضوعات کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ تاکہ اندازہ ہو سکے کہ انھوں نے شاعری کے لیے کس طرح کے موضوعات کو منتخب کیا۔ مائل گورکھپوری کی زندگی اشارہ کرتی ہے کہ انھوں نے ترقی پسندتحریک ، جدیدیت اور مابعد جدیدت تینوں کو دیکھا ہے۔ خاص طور سے انھوں نے جب شاعری شروع کی ہوگی ، اور جب ان کی شاعری میں پختگی آنے لگی ہوگی تو ترقی پسند تحریک نے ایک طرح سے ادب کو اپنے حصار میں مقید کر لیا تھا۔ جس نے بھی ان کی مخالفت کی یا جس نے ان کے اصولوں سے رو گردانی کی، اسے ادب میں اس وقت وہ جگہ نہیں ملی، جو ملنی چاہیے تھی۔مائل گورکھپوری بھی اس تحریک کے محدود ذہن و فکر کے شکار ہوئے۔ انھیں ادب میں جو مقام ملنا چاہیے تھا، وہ نھیں مل سکا۔ لیکن دھول کی پرت ہلکی ہوئی تو سورج کی روشنی کے امکان نظر آئے۔ ان کی شاعری کو مطالعہ کا حصہ بنانا اسی روشنی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
مائل گورکھپوری کی ایک نظم ’قبرستان‘ کے عنوان سے ہے۔ اس نظم کے مطالعے سے اندازہ وتا ہے کہ مائل گورکھپوری ایک ایسے فنکار تھے، جنھوں نے زندگی کو بستے اور اجڑتے دیکھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ تقسیم ملک کے وقت ان کی عمر چالیس سال سے زائد کی تھی۔ جو کچھ ہوا اسے زندگی کے آخری لمحے تک یاد کیا ہوگا۔ کیوں کہ جس باب کو ساٹھ سال کے بعد پڑھ کر آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں، دل لرز اٹھتا ہے اور پیر کپکپانے لگتے ہیں، تو جنھوں نے اس منظر کو دیکھا ہوگا، اسے تو زندگی اجڑتی ہوئی دکھی ہوگی۔ اپنوں سے بچھڑتا ہوا دیکھنا موت کے ہی مترادف ہے۔ زندگی کی بے بسی اور مجبوری میں نقل مقانی کو قبرستان سے جس طرح سے تعبیر کیا گیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مائل گورکھپوری کو اپنے فن پر پورا عبور حاصل تھا۔ نظم کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو:
بستی اک سنسان سی دیکھی
جب دیکھی ویران سی دیکھی
چپکے چپکے بستے دیکھی
بس کر پھر نہ اجڑتے دیکھی
مائل گورکھپوری کی ایک نظم’بیوی مرحومہ کی یاد میں‘ہے۔ اس نظم میں انھوں نے زندگی کے ایک ایسے باب کو یاد کیا ہے، جسے پڑھ کر طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ جسے یاد کر کے مغموم چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نظر آتی ہے۔ اس نظم میں انھوں نے اپنی بیوی کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو مختلف انداز میں کیا ہے۔ کہیں تکرار کا ذکر ہے تو کہیں خوشی کا۔ نظم کے دو بند ملاحظہ ہوں:
عجب وہ بھی تھاایک رنگیں زمانہ
نہ یاس والم تھے نہ غم کا فسانہ
تو روٹھے تو وہ میرا فوراً منانا
میں روٹھوں تو اٹھ کر ترا گدگدانا
بہت یاد آتا ہے گذرا زمانہ
بڑا کیف آگیں تھا پچھلا زمانہ
(یہ بھی پڑھیں حامد حسن قادری کی زندگی کے چند روشن پہلو – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض)
ہزاروں مصائب کا بھی جھیل جانا
مگر بھول کر بھی نہ مجھ کو بتانا
مری کامیابی پہ خوشیاں منانا
ہر اک طرح سے میرے دل کو بڑھانا
بہت یاد آتا ہے گذرا زمانہ
عجب کیف آگیں تھا پچھلا زمانہ
مائل گورکھپوری کی مذکورہ بالا نظم کے دونوں بند سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اس نظم کو بڑے درد بھرے انداز میں لکھا ہے۔ انسان کسی کے ساتھ زندگی کا ایک طویل حصہ گزارتا ہے، پھر ناگہانی ایسی آن پڑتی ہے کہ اسی سے جدا ہو جاتا ہے، جدائی کسی بھی صورت میں بہت تکلیف دہ ہوتی ہے، ایسے میں ایسی جدائی جس کے بعد صرف یادوں کے سہارے ہی ملاقات ممکن ہے، حقیقت میں تصور ملاقات ایک عبث کی بات ہے، تو اس تکلیف کا اندازہ وہی کر سکتا ہے، جس نے اس طرح کے غم سے دو چار ہوا ہو۔ ’بیوی مرحومہ کی یاد میں‘مائل گورکھپوری نے جہاں ایک طرف اپنی فنکاری کا ثبوت دیا ہے ، تو وہیں زندگی کے بہت سے نشیب و فراز کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جہاں زندگی بھی ہے اور زندگی نامہ بھی۔ اس طویل نظم میں مائل گورکھپوری نے اس نظم میں اپنی صابرہ بیوی کی خصوصیت کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ کتنے مصائب کو اکیلے جھیل جانے والی، کبھی کوئی حرف شکایت لب پر نہ آئے، لیکن میری کامیابی پر اس طرح خوشیاں منائی جاتی تھیں، جیسے کہ یہ کامیابی مائل کی نہیں ان کی بیوی کی ہے۔ وفاداری اور ایک دوسرے کے لیے فنا ہو جانا اسی کو کہتے ہیں۔
مائل گورکھپوری کی اور دوسری نظموں کے مطالعہ سے اس با ت کا اندازہ ہوتا ہے کہ علم ریاضی کا ماہر ادب کی نبض سے کس طرح واقف ہے۔ شاعری زندگی کا وہ احساس ہے، جسے کم ہی لوگوں کو اپنی بات کو عام لوگوں تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ مائل بنیادی طور پر ریاضی کے استاد تھے، اس علم سے انھیں بہت واقفیت تھی، لیکن ذہنی طور پر ان کا میلان اردو شاعری کی طرف ہی تھا۔ ان کے کلام اس بات کی غماز ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں فراق:ہندوستانی ثقافت کا شعری پیکر – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
مائل گورکھپوری نے نظموں کے علاوہ غزل میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی غزلوں کے مطالعے سے ایک خوش گوار احساس ہوتا ہے۔ ان کی غزلیں محبوب کی زلفوں کی اسیر نہیں ہیں۔ لب و رخسار کے دامن میں لپٹ کر رونے کے بجائے، زندگی کے تجربات کو بیان کیا ہے۔غزل ایک ایسی صنف سخن ہے، جس میں محبوب کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اس کا دامن بہت وسیع ہے۔ ایک زمانہ تھا جب غزل اپنے معنی کے اعتبار سے بہت محدود تھی۔ لیکن بعد کے لوگوں نے اسے محدود سے لا محدود بنا دیا۔ آج اردو کی یہ صنف سخن اسی لیے سب سے زیادہ مقبول ہے۔ مائل گورکھپوری کی غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں، تاکہ اندازہ ہو سکے کہ ان کی غزلوں میں معنوی اعتبار سے کتنی تہہ داری ہے۔ کہیں ماں، کہیں بیوی، کہیں زمانہ تو کہیں اولاد، یہ ان کی غزلوں کی وہ آواز ہے، جسے ہر ذی شعور سننا چاہتا ہے۔
بھرے گھر کا اجڑنا دیکھ کر بھی آہ! جیتا ہوں
عجب بے کیف دنیا ہے مگر پھر بھی تو جیتا ہوں
ہجوم یاس میں ہر دم غمِ جانکاہ سہتا ہوں
سپرد خاک بیوی کو بھی کر کے آہ! جیتا ہوں
مرا جینا عجب جینا ہے لیکن پھر بھی جیتا ہوں
سعیدہ، زاہدہ، مصلو کا غم اور آہ! جیتا ہوں
بہاریں لٹ چکیں میری، خزاں کا دور دورہ ہے
مرا دل مر چکا لیکن ابھی میں آہ! جیتا ہوں
وفور غم سے مر جاتا مگر اے ناصحِ مشفق!
ضعیفہ ماں کی خاطر، واسطے بچوں کے جیتا ہوں
مائل گوررکھپوری کے غزل کے چند اشعار نقل کیے گئے ہیں۔ لیکن ان کی غزلوں کے مطالعے سے عام تاثر یہ قائم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں وفاداری کا جذبہ بدرجۂ اتم موجود ہے۔ وہ اپنی بیوی کے انتقال سے بہت مغموم ہو گئے ۔ انھوں نے اپنی غزلوں میں اس کا جگہ جگہ اظہار بھی کیاہے۔ مائل کی شاعری کے مطالعے سے ایک بات کا اور بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے جب شعور کی آنکھیں کھولیں تواس وقت ہندوستان کی صورت حال سیاسی اعتبار سے بہت تکلیف دہ تھی۔ جیسے جیسے عمر آگے بڑھتی گئی، ان کا مشاہدہ گہرا ہوتا گیا۔ پھر آزادی اور تقسیم ملک نے جس طرح کی تاباہی و بربادی کا نمونہ پیش کیا، آنے والی نسلیں بھی اسے فراموش نہیں کر سکتیں۔ چونکہ یہ سب کچھ ہوتا ہوا انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس لیے بھی ان کی شاعری میں استعارتی طور پر اس باب کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ زندگی انھیں اسی موڑ پر ہر وقت لاکر کھڑا کر دیتی ہے، جہاں سے وہ نکلنا چاہ رہے ہیں۔ کبھی بیوی کی موت کی شکل میں تو کبھی کسی عزیز و رشتہ دار کی وفات کے طور پر۔ زمانہ گردش کرتا ہے، جہاں سے انسان چلتا ہے، کسی نہ کسی شکل میں وہیں واپس آجاتا ہے۔ یہی نظام زندگی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں امریکہ میں اک بدیسی:کلیم عاجز – ڈاکٹرشاہ نواز فیاض)
مائل گورکھپوری کے یہاں خود احتسابی کا معاملہ بالکل واضح طور پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ کسی حادثے سے دو چار ہوئے تو فوراً اس سوچ میں لگ گئے کہ کہیں کسی کا دل تو نہیں دکھایا۔ یہ اسی سے ممکن ہے، جس نے انسانیت کی خاطر اپنی زندگی وقف کر دی ہو، جس نے انسانیت کو پامال نہیں کیا ہو۔ ایسا وہی شخص کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں چند اشعار ملاحظہ ہوں:
مری آنکھ سے اشک جاری رہیں گے
جگر پر کوئی زخم کھایا ہے میں نے
کوئی جا کے پوچھے عزیزوں سے میرے
کبھی دل کسی کا دکھایا ہے میں نے؟
دعائیں مری اب اثر ڈھونڈتی ہیں
کہ شاید کوئی دل دکھایا ہے میں نے
مختصر طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مائل گورکھپوری نے اپنی شاعری میں جس طرح سے گفتگو کی ہے، اور جتنے موضوعات کو انھوں نے اپنی شاعری میں برتا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ ان کے کلام میں فنی خوبیوں کا جو لازمہ ہے، وہ واضح طور پر قارئین کو دعوت دیتا ہے کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ لیکن یہ بد قسمتی ہی کہی جائے گی اتنی خصوصیات کے حامل انسان کی فکر سے لوگوں نے اس طرح سے فائدہ نہیں اٹھایا، جس طرح سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ بہر حال یہ ایک خوشگوار احساس ہے کہ لوگوں نے مائل گورکھپوری کی شاعری کو اپنے مطالعے کا حصہ بنایا۔فنی خوبیوں اور خامیوں کی طرف ا شارہ کیا ۔ جب تک کسی کے کلام کا مطالعہ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک اس کی خوبیاں یا خامیاں پردۂ خفا میں ہی پڑی رہیں گی۔ بے رحم وقت کی دھول اس کا مقدر بن جاتی ہے۔اس لیے قابل مبارکباد ہیں وہ لوگ، جنھوں نے اس جانب توجہ کی اور مائل گورکھپوری کو عام قارئیں کے رو برو پیش کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

