ہمیشہ سے افتراق اور انتشار کسی بھی قوم ،ملک اور سماج کے زوال کی وجہ رہاہے۔یہی وجہ ہے کے اخلاقی اقدار اور امن و یکجہتی کوفروغ دیناہر سماج، ملک اور مذاہب میں اہمیت رکھتا ہے۔ تمام مذاہب نے اسے اہمیت دی ہے اور اسے اختیار کر سماج کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کرتے ر ہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام سماج اور ممالک نے اخلاقی اقدار، امن و یکجہتی کو اپنے پیش نظر،ہر چیز پر مقدم رکھا ہے۔
اخلاقی قدروں میں دن بدن گراوٹ آرہی ہے ہماری نئی پیڑھی اپنی پہچان کھو تی جا رہی ہیں ،ایسے ناسازگار حالات میں مذہبی کتابوں کا مطالعہ ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ تاکہ پوری دنیا میں پھیل رہی نفرت کی آگ کو بجھانے کی کوشش کامیاب ہوسکے۔اور اس کام کے لیے مذہبی کتابوں کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ اپنی تاریخ و تہذیب سے استفادہ بھی کریں، تاکہ پورے سماج میں امن و یکجہتی کی شمع روشن ہو، جو کہ تمام سماج اور انسانیت کی بقا کے لئے سودمند ہے۔
سناتن مذہب جو کہ ایک قدیم مذہب ہے۔اس میں واسودھیو کٹمکم کا اہم عقیدہ اور نظریہ پیش کیا گیاہے۔ جو مہااپنیشد کے ساتھ ساتھ کئی اور کتابوں میں لکھاہوا ہے:
ایم نیجح :پرو ویتی گننا لگھو چیتسم
اودار چریتانام تو واسودھیو کٹمکم
مذکورہ اشلوک سب سے پہلے مہا اپنیشد میں آیاتھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ، یہ میرا ہے ،یا اس کا ہے؛ ایسی سوچ چھوٹی ذہنیت اورکدورت رکھنے والے لوگوں کی ہوتی ہے۔ اس کے خلاف جن کی سوچ ہوتی ہے ان کا نظریہ ہے کہ تمام دنیا کی زمینوں پر رہنے والے لوگ ایک ہی خاندان کے ہیں ۔ اس بات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دنیا کے تمام مقامات پر رہنے والے لوگ خواہ ان کا تعلق کسی مذہب اور علاقے سے ہو ایک دوسرے کے بھائی ہیں اس لئے ایک دوسرے میں اخوت اور محبت ہو۔ (یہ بھی پڑھیں انتظار حسین کے افسانوں میں ہجرت کے مسائل – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )
اسی طرح ایک اورواقعہ مشہور ہے کہ بادشاہ پریکچھت جو پانڈو کے وارث تھے جب بادشا ہت ان کے ہاتھ میں آئی تو دواپر یگ(زمانہ) جا رہا تھا۔ اور کلیگ نے زمین پر قدم رکھ دیا تھا ایک دن پریکچھیت شکار کی تلاش میں جنگل میں گئے تو ان کی ملاقات کلیگ سے ہوئی انہوں نے کہاکے تمہیںاس زمین پر آنے نہیں دونگاکیوں کہ جب تم آئو گے تب اس زمین پربرائی پھیل جائے گی۔یہ سن کلیگ نے کہا اے بادشاہ ،قدرت کا نظام اٹل ہے وقت کی رفتار کو کوئی نہیں روک سکتا، یہ کسی بھی تیر کمان کے روکے سے نہیں رک سکتا۔ستیہ یگ کے بعدتریتا یگ، تریتاکے بعد دواپریگ، دواپر کے بعد کلیگ کا آنا بالکل لازمی ہے ۔ پریکچھت نے کہا کے میں اپنے جیتے جی تمہیں اس زمین پر آنے نہیں دوں گا ۔ کلیگ نے جواب دیا۔ اے راجا تمہارا عہد بھی رہ جائے اور کال کی رفتار بھی نہ رکے، اس لئے آپ کی زندگی تک میں اپنے آپ کو محدود رکھنا چاہوں گا۔ آپ اتنے دنوں تک مجھے کوئی ایسی جگہ دیں جہاں میں رہ سکوں تب راجا نے اسے کہا کے چونکہ تم باطل کے مددگار ہو اس لئے ایسی جگہ جہاں جوا کھیلا جاتا ہے،شراب پی جاتی ہے، فساد ہوتا ہو اور زنا ہوتا ہے ۔ ایسے مقامات پر رہ سکتے ہو، اس کے علاوہ ایک اور مقام ہے جہاں تم رہ سکتے ہو وہ ہے سونا۔ یہ سنتے ہی کلیگ ،راجا پریکچھت کے تاج میں سما گیا کیوں کہ راجا پریکچھت کا تاج سونے کا بنا ہوا تھا۔اور اس کے دماغ میں برائی بھرنے لگا ۔جب یہ جنگل میں شکار کی تلاش میں بہت دور نکل گئے تو انہیں پیاس لگی سامنے جنگل میں انہیں ایک مہاتما کی کٹیا نظر آئی۔ مہاتما دھیان لگا ئے بیٹھے تھے۔ راجا نے وہاں پہنچ کر اس مہاتما سے پانی مانگا، مگر مہاتما دھیان لگائے بیٹھے تھے، انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔ چونکہ راجا کے تاج میں کلیگ بیٹھا تھا، اس نے انہیں بہکا دیا۔ راجا نے غصے میں آکر مہاتما کی گردن میں مرا ہوا سانپ ڈال دیا اور اہاں سے چلا گیا۔اس واقعہ کی خبر مہاتما کے بیٹے کو ہوئی تو اس نے راجا پریکچھت کو شراپ(بددعا) دیا کہ آج سے ساتویں دن سانپ کے کاٹنے سے اس کی موت ہو جائے گی اس طرح سے کلیگ نے اس دنیا میں اپنے پیر جمائے۔ مہارشی وید ویاس کے قول کے مطابق کلیگ کے آنے سے ایسا ہوگا کہ لوگ اپنے چھوٹے سے فائدے کے لئے دوسر وں کونقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کریں گے۔اور انسان اتنا گر جائے گا کہ دوسروں کے د کھ میں اپنا سکھ تلاش کرے گا۔اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے دوسروں کا قتل کرے گا اور اسے کوئی ندامت بھی نہیں ہوگی۔یہی نہیں دوسروں کے خون میں سنی ہوئی روٹی وہ خود بھی کھائے گا اور اپنے بچوں کو بھی کھلائے گا۔ (یہ بھی پڑھیں ‘‘آخری سردار’’ :ایک علامتی اور استعاراتی افسانہ : ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )
اسی طرح ہابیل اور قابیل کی کہانی اسلام مذہب اور عیسائی مذہب میں کافی اہم ہے۔ کس طرح سے حسد و عناد میں آکر قابیل نے ہابیل کو مار دیا اور دنیا میں اسی وقت سے نفرت اور عناد پھیل گیا۔ اس سلسلے میں یہ بھی عقیدہ ہے کہ اس کے بعد جو بھی فساد یا اس طرح کا واقعہ پیش آئے گا اس کا سارا گناہ ہابیل کے سر جائے گا کیوں کہ اس کی بنیاد اسی سے پڑی ہے۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو ہماری زندگی کی جو بنیاد ہے اس میں نفر ت، عناد، فساد، افتراق اور انتشار کو صحیح تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شروعاتی دور سے اس کا پیغام ہماری کہانیوں کا ایک اہم حصہ رہیں ہیں۔
ہماری داستانیں ہماری تہذیب کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اور یہ ہمارے ملک اور سماج سے پوری طرح جڑی ہوئی ہیں چونکہ امن اور یکجہتی ہمارے سماج اور مذاہب کا ایک اہم جزو رہا ہے۔ اس لئے داستانوں میں اس کی کارفرمائی ناگزیر ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری داستانوں میں جگہ جگہ امن اور اتحاد کا پیغام موجود نظر آتا ہے۔اردو کی تمام داستانوں میں کسی نہ کسی صورت میں امن اور اتحاد کا پیغام اخلاقیات کے طور پہ پیش کیا گیا ہے مگر اس مضمون میں یہ گنجائش نہیں ہے کہ تمام داستانوں کا محاسبہ اس حوالے سے کیا جائے ۔ اس لئے میں نے اپنے مقالے کے لیے صرف سب رس کو پیش نظر رکھا ہے۔
اردو میں داستانوں کی تاریخ تو بہت پرانی ہے مگر باضابطہ طورپر اردو کی پہلی داستان ملاوجہی کی ’سب رس‘ کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ سب رس ملاوجہی کی طبع زاد داستان نہیں ، بلکہ یہ فارسی کی مثنوی ’دستور عشاق ‘ اور نثری قصہ ’حسن و دل‘ سے ماخوذ ہے۔اس کے مصنف محمد یحییٰ بن سبیک فتاحی نیشاپوری ہیں۔ یہ داستان ملاوجہی نے عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش پر لکھی تھی۔ یہ ایک تمثیلی داستان ہے اس کے بارے میں ناقدین کا موقف ہے کہ یہ داستانوی انداز میں تصوف کی کتاب ہے۔ اس سلسلے میں نصیر الدین ہاشمی کا یہ قول اہمیت کا حامل ہے :
’’یہ تصوف کی ایک بہترین کتاب ہے جس کو فرضی قصہ کے طور پر لکھا ہے مگر جا بجا مختلف عنوانات مثلاً ذکر لاالہ، معراج، عشق، مذمت طبع ،اطاعت مادر ،قدر صبر و شکر پر کافی بحث کی گئی ہے ۔ انسانی جذبات کی حقیقت اور کشمکش کو جس خوبی سے فسانہ کی صورت میں پیش کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ عقل و دل، عشق، حسن و وفا، مہر، غمزہ ، ناز، نظر، خیال، عاقبت ، ہمت ، دیدار وغیرہ نام دیے ہیں۔ بہرحال یہ کتاب نہ صرف تصوف کے لحاظ سے قابل تعریف ہے بلکہ ادبی حیثیت سے بھی نایاب ہے۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں نفسیاتی فکرو فلسفہ کا نمائندہ افسانہ”انوکھی مسکراہٹ“ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )
مذکورہ بالا اقتباس کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سب رس ایک ایسی نثری داستان ہے جس میں تمثیل کے ذریعے مذہب کے رموز و نکات کو بیان کیا گیاہے۔ چونکہ مذہب کا ایک اہم پیغام امن و اتحاد بھی ہے ، اور اخلاقی درس بھی۔ جس کا ذکر اوپر کے سطور میں پیش کیا گیا ہے، سب رس میں بھی اس کی کار فرمائی دیکھی جا سکتی ہے۔ بادشاہ ، عقل اپنے سپہ سالار مہر سے جن لفظوں میں خطاب کرتا ہے اس میں بیشتر الفاظ کا پس منظر ایک درسی پیغام رکھتا ہے۔داستان کا ایک اقتباس دیکھئے:
’’کہ جفا مشقت۔درد، محنت،غم وعلم،زاری بے نوائی بدنامی رسوائی فراق و اشتیاق، خوںخواری،دشواری، فغاں آہ و نالہ، مبتلائی، حسرت،سوزس تپش شیدائی،استغنائی،بیداری،بیقراری،بے تابی،اضطراب،بلارنج،عتاب، آزار عذاب…وزیر سے بڑے بڑے سب حاضر کھڑے۔‘‘
ایک اقتباس اور ملاحظہ کریں:
’’ تیرے پاس صبر وشکیب،طاقت وقرار،آرام و راحت،نشاط،آسودگی، فراغت آشائش،خوش دلی، خوش خوری، عیش و عشرت، ہجت، شادمانی،بے غمی،بہت خوب وزیراں۔‘‘
سب رس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ شہر سیستان کے بادشاہ کا بیٹا جس کا نام دل ہے جب وہ بادشاہ بنتا ہے تو آب حیات کے بارے میں سنتا ہے ۔ اس کی خوبی کو جان کر وہ اسے پانے کی خواہش کرتا ہے۔ آب حیات کو پانے کے لئے بادشاہ دل اپنے ایک جاسوس ’ نظر ‘ کو آب حیات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجتا ہے۔ ’نظر ‘آب حیات کی تلاش میں ’دیدار‘ نام کے شہر میں پہنچتا ہے ۔ جس کے بادشاہ کا نام عشق ہوتا ہے۔ جس کی ایک بہت ہی حسین و جمیل بیٹی ’حسن ‘ہوتی
ہے۔ شہر دیدار میں ایک باغ بھی ہے جس کا نام’ رخسار‘ ہے۔ اس کے اندر دہن نام کا چشمہ ہے۔ اسی چشمہ میں آب حیات ہوتا ہے ۔ اس باغ میں شہزادی حسن ہر روز آتی اور آب حیات پیتی۔یہاں آکر جب ’نظر ‘کی ملاقات شہزادی سے ہوتی ہے تو شہزادی حسن کو ایک ایساہیرا دکھاتی ہے جس میں ایک تصویر نظر آتی ہے نظر اس تصویر کو دیکھ کر پہچان جاتا ہے اور شہزادی کو بتاتا ہے کہ تصویر شہر سیستان کے بادشاہ دل کی ہے ۔ شہزادی حسن دل پر عاشق ہوجاتی ہے اور اپنے غلام جس کا نام خیال ہے اس کو دل کے پاس اپنا پیغام دے کر بھیجتی ہے دل بھی حسن کے عشق میں گرفتار ہوجاتا ہے جب اس کی خبر دل کے باپ عقل کو ہوتی ہے تو لشکر کے ساتھ شہر دیدرا کے باہر پہنچتا ہے ۔ عقل اور عشق کی فوجیں آمنے سامنے ہوتی ہیں کئی دنوںتک جنگ ہوتی ہے جنگ میں عقل کی لشکر کوشکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دل زخمی ہوجاتا ہے ۔بادشاہ شکست کھا کر بھاگ جا تا ہے۔ جنگ کے بعد عشق کو محبت کے آگے جھکنا پڑتا ہے اور وہ عقل کو پیغام دے کر بلاتا ہے۔ سارے شکوے گلے دور ہوتے ہیں اور حسن دل کی شادی ہوجاتی ہے۔ آخر میں دل آب حیات کے چشمہ پر آتا ہے جہاں اسے حضرت خضر سے ملاقات ہوتی ہے ان سے ملاقات کے بعددل کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ داستان میں محبت کا ہونا پھر اس کی کامیابی میں دشواری کا پیش ہونا ۔جنگ کا ہونا ،آپس میں میل ملاپ ہونا۔ سارے شکوے گلے دور ہونا، سچی محبت کی جیت یہ ظاہر کرتا ہے کہ داستان گو کا اس داستان کے ذریعہ ایک پیغام یہ بھی ہے کہ تمام چیزوں کا حل جنگ نہیں بلکہ امن، محبت اور یک جہتی میں ہے۔ (یہ بھی پڑھیں سر سید کانظریۂ تعلیم اور میری تربیت -ڈاکٹرزاہد ندیم احسن )
ملاوجہی نے یہا ںتمام قصے کوتمثیلی پیرائے میں بیان کیا ہے ۔ اس میںانھوں نے جن کرداروں کو پیش کیا ہے وہ انسانی نہیں ہیں بلکہ انسانی کیفیات جو غیر مجسم ہوتی ہیں انھیں کردار کا روپ دے کر پیش کیا ہے۔ کرداروں کے نام عقل ، عشق، حسن، نظر، قامت، ہمت، رقیب، وہم، توبہ ، ناز، غمزہ، عشوہ، زلف، لٹ اور وفا وغیرہ ہیں۔ جو کہ انسانی کیفیات اور حرکات و سکنات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جو انسان کو کسی کام کو کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ نظر کا کام ہے کسی کو دیکھنا، عشق کا کام ہے کسی پر فدا ہونا،عقل کا کام ہے کسی چیز پر غور و خوض کرنا،ہمت ،دل وغیرہ یہ تمام کردار ایسے ہیں جو انسان کو کسی بھی جانب لے کرجا سکتے ہیں، برائی کی طرف، فساد کی طرف یا
پھر اچھائیوں کی طرف ۔ قصے کا اہم موضوع تو عشق ہے اور داستان پڑھنے پریہی اندازہ بھی ہوتا ہے مگر اسی کے زیر سایہ اور بہت سی اخلاقی درس اس داستان میں موجود ہیں۔ قصے میں شہر و قلعوں کے نام جو ملاوجہی نے دیے ہیں وہ بھی عجیب و غریب ہیں جیسے تن کا قلعہ ، ہجران نام کا قلعہ، ہدایت نامی قلعہ اور چاہ دہن جس میں دل کو قید کیا جاتا ہے۔ شہروں کے نام شہر سیستان، شہر سبک سار، شہردیدار، شہر عافیت جیسے نام ہیں جو کہ داستان میں ایک ایسی فضا قائم کرتے ہیں جن سے سماجی اور اخلاقی اشارے ملتے ہیں۔یہی نہیںنصیحت اور تلقین بھی جگہ جگہ پر کی گئی ہے جسے پیش کرنے کے لئے محاورے کا استعمال کیا گیا ہے ۔ مثلاً’’اپے بھلا تو آپ بھلا‘‘،’’برے ہوے سو عزت گنوائے گا‘‘، ’’خوارہوے گا شرشار ہوے گا‘‘،’’پیاسے کو پانی پلانا بہوت بڑا ثواب‘‘، ’’پڑے کو اٹھا کر کھڑا کرنا بہوت بڑا دھرم‘‘،’’جس ہاتھ میں سخاوت نہیں سو پات ہے نہ دوہات ہے‘‘، ’’جس دل میں ہمت نہیں سو گل ہے نہ دودل ہے‘‘،’’جیسے جھاڑیاںلاویں گے ویسے پھلپاویں گے‘‘، ’’تو نیکی کر نیکی کرجاتاں بھی نیکی تیرے انگنے آئے گی۔‘‘
مذکورہ بالا محاورے کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملا وجہی نے یہ داستان لوگوں کی اصلاح اور اور ان کی اخلاقی قدروں کو بلند کرنے اور امن و یکجہتی کی جوت جگانے کی خاطر ہی لکھے تھے جس کو پیش کرنے کے لئے انہوں نے غیر مجسم چیز کو مجسم بنا کر کردار کی صورت دی ہے اور اس کے ذریعہ سے تمام اخلاقی چیزوں کو پیش کیا ہے جو ایک اچھے سماج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سب رس کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انسان کا اصل شیوہ انسانی اخوت ہمدری رواداری اور یکجہتی ہے ۔ہر انسان ابتدا سے ہی ایک پرسکون زندگی کا متمنی رہا ہے۔ جس کے لئے یہ ابتدا سے ہی کوشش کرتا رہا ہے۔ چونکہ اسے سماج ،ملک اور قوم میں عام کرنا ضروری تھا اور ہماری کہانیاں اور داستانیں اس کام کو کرنے کا ایک بہترین ذریعہ رہی ہیں اس لئے ہماری کہانیوں اور داستانوں میں تمام اخلاقی قدرویں موجود رہی ہیں اورامن اور یکجہتی کا پیغام بھی نمایاںطور پرنظر آتا ہے ۔
’’جس کا دل صاف اچھے گا،جس میں کچھ انصاف اچھے گا،مصحف کی وو ھمنا بھوت مانے گا،خوب ھمنا پہچانے گا،جس کا دل روشن ہے وہ نور کا گلشن ہے،جو کوئی نور
ہوا وہ خدا کے حضور ہوا۔‘‘
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو محض داستان ہی نہیں تمام اصناف سخن میں امن و اتحٓد اور یکجہتی پر زور دیا گیا ہے۔ میں نے سب رس کے حوالے سے چند معروضات پیش کی ہیں، ورنہ اس موضوع پر باضابطہ کتاب لکھی جاسکتی ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

