کیڑے مکوڑے، حشرات الارض! تم پیدا ہی کیوں ہوئے تھے؟ یہ تو معلوم نہیں کہ یہ کب پیدا ہوئے یہ کوئی آدم زاد تو ہیں نہیں جو ان کی تاریخ رقم ہو. حضرت انسان تو تمام خرافات کے باوجود آدم کی اولاد ٹھہرے. خالقِ کائنات نے آدم کو بنایا اور پھر چند برسوں میں دیکھتے ہی دیکھتے یہ کرہ ارض پر پھیلتے چلے گئے. حشرات الارض کی طرح. یہ تو معلوم ہے کہ یہ سب آدم کی اولاد ہیں. مگر ان کیڑوں کا پتہ نہیں ان کا بابا آدم کون تھا. ان کے اقسام کا معاملہ تو یہ ہے کہ آج تک وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کل کتنے ہیں. تو ان کا آدم تو معلوم نہیں ہو سکتا. البتہ کوئی نہ کوئی ہو گا ضرور.
مقدر بھی ان کے دیکھیے، کوئ باغات کے پھولوں کی پنکھڑیوں کے نرم گداز بستر پر ان کی دلفریب خوشبو اور جادوئی احساس کے حالے میں عمر بسر کر دیتا ہے تو کوئی ہرے ہرے برگ و بار میں ہری چادر لپیٹ کر اپنے ہرے جسم کو ہریالی سے پر نہایت ہی پر کشش دنیا میں گم رکھتا ہے. تو دوسری طرف کچھ ایسے بھی ہیں جو زمین کے اندر انسانی ہڈیوں کی تلاش میں دن رات لگے ہیں کہ کوئی مرے تو ان کی خوراک بنے. ادھر گورکن آیا اور ادھر ان کی پارٹی شروع.
ٓآپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کے اپنے میکدے ہیں اور کچھ کی اپنی مسجدیں بھی. مئے کدے اور سجدہ گاہیں. واہ، کیا بات ہے، سننے میں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں. اور ہیں بھی. ہندووں کی سجدہ گاہیں مندر، مسلمانوں کی سجدہ گاہیں مسجد، سکھوں کے گرو دوارے اور عیسائیوں کے گرجے ہوتے ہیں. لیکن مئے کدہ تو سب کا ایک ہی ہوتا ہے. کبھی مسلمانوں کا مئے کدہ یا سکھوں کا مئے کدہ یا اہل ہنود کا مئے کدہ ایسا کبھی سنا نہیں. (یہ بھی پڑھیں راجندر یادو :نئی کہانی کا روحِ رواں -ڈاکٹر انوار الحق )
سجدہ گاہ سے یاد آیا، یہ ایک مسجد کی کہانی ہے ایک ویران مسجد کی جو آبادی سے دور ہے اور اب یہاں کوئ آتا جاتا نہیں. دو چار غریب لوگ جب مصیبتوں سے گھر جاتے ہیں تو انہیں خدا یاد آجاتا ہے اور مسجد کا رخ کر لیتے ہیں. دو چار دن بعد جیسے ہی حالات تھوڑے بہتر ہوتے ہیں ویرانی یہاں ڈیرا ڈال دیتی ہے. ویرانی کو بھی تو سجدے کرنے ہوتے ہیں. ویرانی مخلوق ہے اسی خالقِ کائنات کی جب معتوب ہوتی ہے تو سجدہ ریز ہو جاتی ہے. اور کبھی کبھی اعتکاف میں بیٹھ جاتی ہے. ہر طرف ہو کا عالم اور ویرانی سے پر اس مسجد میں کچھ اور بھی مخلوقات جلوہ فگن رہتے. حشرات الارض. کیڑے مکوڑے.
کچھ کی بستی تو اس طرف گول کر کے رکھی چٹائیوں میں ہے اور ادھر صحن میں اونچی اونچی گھاس میں کچھ دوسرے ذرا دبنگ قسم کے کیڑے رہتے ہیں.
مختلف رنگ و نسل کے کیڑے ہیں. لگتا ہی نہیں کہ مسجد میں مقیم ہیں. سجدہ گاہوں میں تو مختلف مسلک کے مسلمان ایک جگہ نظر نہیں آتے. ان کا معاملہ جدا ہے. یہ مسلمان تھوڑے ہی ہیں. یہ تو کیڑے مکوڑے ہیں. یہ تو مختلف رنگ و نسل کے ہونے کے باوجود مسجد میں گھر کر سکتے ہیں.
ایسا نہیں ہے کہ ان کیڑوں میں خوبیاں ہی خوبیاں ہیں. ان کے یہاں بھی ایک گروہ ظالموں کا ہے. سب نارنگی رنگ کے ہیں. نسلی تعصب کوٹ کوٹ کر بھرا ہے ان میں.
یہ ایسا گروہ ہے جو اس مسجد کی بائیں طرف پیشاب خانے کے قریب رہتے ہیں. سنا ہے بڑے غلیظ ہوتے ہیں انہیں پیشاب کی بدبو بہت پسند ہے. اکثر بغلوں میں کنکڑیا دبائے مسجد کے چاروں طرف گھومتے رہتے ہیں. نمازی تو یہاں شاذ و نادر ہی آتے ہیں. لیکن یہاں کی چٹائیوں میں رہنے والے ہرے، نیلے، کالے اور بھدے کیڑے اکثر ان کا نشانہ ہوتے ہیں. وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ یہ کیڑے اس طرف جا نہیں پاتے جدھر ان کو کچھ کھانے پینے کی اشیا ملنے کا امکان ہوتا ہے. یہ اکثر دانے دانے کو ترس جاتے ہیں. کبھی کوئی نارنگی رنگ کے کیڑو کی ٹکڑیاں ادھر سے گزرتی ہیں تو اپنے ساتھ لائے ہوے کچھ دانے بکھیر جاتی ہیں. اس سے ان کیڑوں کی پیٹ کی آگ بجھتی ہے. یہ کیڑے کیا اور ان کا پیٹ کیا. اور ان کی بھوک ہی بھلا کتنی اور اس کی آگ کی حیثیت ہی کیا. کیڑوں کی زندگی کی اہمیت ہوتی ہی کیا ہے. اگر انسانی پاوں یا آلات کی زد میں آکر کچلنے سے بچ بھی گئے تو بھی کسی نالی میں مر کر دم توڑ جانا ان کا مقدر ہے. خش و خاشاک میں یا مسجد کی گندی کائی زدہ برسوں سے استعمال نا کی گئ ان آدھی کالی اور آدھی ہری چٹائی کی مختلف پرتوں میں ان کیڑوں کی زندگی کی آپ کی نظروں میں بھلے ہی کوئ اہمیت نا ہو لیکن ان کے لیے تو ان کو بھی وہی ایک زندگی ملی ہے جو آپ کو ملی ہے. زندگی تو زندگی ہوتی ہے، کسی برہمن کی ہو، کسی دلت کی یا کسی بے چارے مسلمان کی یا ان کیڑوں کی. (یہ بھی پڑھیں جمیل مظہری کی نظم’ مہجوری‘ کا تجزیہ – ڈاکٹر انوار الحق )
ہاں البتہ موت میں تھوڑا فرق ہوتا ہے. نارنگی کیڑوں کی ٹولیاں اپنے بغلوں میں چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دبانے پھرتی ہیں. ان کو نہ جانے کب سے یہ سکھا پڑھا کر رکھا گیا ہے کہ ان کیڑوں سے نفرت کرنا ہے جن کا رنگ مختلف ہے. ہرے رنگ کے کیڑوں کو دیکھتے ہی یہ کیڑے نارنگی سے لال ہو جاتے ہیں اورمارے غصے کے اپنی بغلیں پھڑپھڑا نے لگتے ہیں. اور چھوٹی چھوٹی کنکڑیوں سے ان پر حملہ آور ہو جاتے.
ایک کنکڑی لگتی اور کوئ نحیف سا کیڑا اس کی زد میں آ جاتا اور چت ہو جاتا. جب اس میں کوئ حرکت نہ ہوتی تو اس کے سارے ساتھی بھاگ کر چٹائی کی سلوٹوں میں کہیں دبک کر رہ جاتے اور ان کیڑوں کو اس حادثے کی آنکھوں دیکھی سناتے. سنانے کا انداز ایسا ہوتا کہ باقی سارے کیڑے جو جائے وقوع پر نہیں تھے دہشت زدہ ہو کر خوف میں مبتلا ہو جاتے.
ان پر اتنا خوف طاری ہو جاتا کہ کسی بھی نارنگی رنگ کے کیڑے پر ان کی نظر پر جاتی تو وہ پسینے میں سرابور ہو جاتے. حالانکہ اسی چٹائ کے دوسرے کونے پر اوپر کی جانب کچھ نارنگی رنگ کے کیڑے بھی ہوا کرتے تھے جن کا رہنا سہنا اٹھنا بیٹھنا تو کالے، ہرے اور نیلے کیڑوں کے ساتھ ہوتا تھا لیکن دل سے وہ کبھی ان کے ساتھ نہیں ہوتے. ان میں سے کوئ اس کنکڑ والے گروہ کا شکار ہو جاتا تو ان کی باچھیں کھل جاتیں. بظاہر تو وہ ان کے پاس آتے اور اظہار افسوس کرتے لیکن اندر اندر بہت خوش ہوتے.
ایک دن ان کیڑوں کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا. ایک نمازی کا ایمان جوش میں آیا اور اس نے اس چٹائ کو اٹھا کر مسجد کے باہر پھینک دیا. چونکہ چٹائ بہت پرانی تھی اور زمین پر ہونے کی وجہ سے اس کا ایک کونہ گیلا بھی ہو گیا تھا. لہٰذا جب اس کو پھینکا گیا تو اس کا وہ حصہ ٹوٹ گیا جس میں زیادہ تر کیڑے نارنگی رنگ کے تھے. (ڈاکٹر انوار الحق کا افسانہ پھٹی ہوئی کتاب-ڈاکٹر انوار الحق )
یہ ایک بڑا حادثہ تھا. یہ حادثے کیوں ہوتے ہیں آج تک کوئ سمجھ نہیں پایا. کچھ اصفیا لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ اگر اس طرح کے حادثے نا ہوں تو کسی کو بھی اپنے خدا ہونے کا احساس ہونے لگے. یہ حادثات صرف انسانوں کا مقدر نہیں بلکہ ہر مخلوق پر قہر خداوندی کا نزول ہوتا ہے. اور جب ہوتا ہے تو کچھ تو نیک راستے پر گامزن ہو جاتے ہیں اور اپنے ایمان کا محاسبہ کرنے لگتے ہیں اور نیک کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں. وہیں دوسری جانب کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خالقِ کائنات کو ظالم و جابر سمجھنے لگتے ہیں اس پر سے ان کا ایمان گھٹ جاتا ہے.
ان کیڑوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا. نارنگی رنگ کے کچھ کیڑوں نے اس حادثے میں ان کی جان بچانے والے دوسرے کیڑوں سے ممنونیت کا اظہار کیا اور ہر دکھ سکھ میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عہد کیا.
یہ کوئ معمولی حادثہ نہیں تھا. اس حادثے میں ہزاروں کیڑے مارے گئے. چٹائ کا ایک حصہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے سیکڑوں نارنگی رنگ کے کیڑوں کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی. کچٹائی کے باہر پیڑوں کی جڑوں میں بسنے والے ہم نسل اور ہم رنگ کیڑوں نے ان کی کوئ مدد نہیں کی تو ان چٹائ کے باشندے کچھ کیڑوں کو تو بڑی حیرت ہوئ اور متنفر ہونے لگے لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو اپنا سب کچھ لٹ جانے کے باوجود ان کیڑوں کا گن گان کرتے نہیں تھکتے.
نارنگی رنگ کا ایک کیڑا جو بے گھر ہو گیا تھا وہ ہانپتے کانپتے کسی طرح پیڑ کی جڑ کے پاس پہنچا. اسے دیکھتے ہی پانچ چھ کیڑے اس کی طرف لپکے. وہ تو اچھا ہوا کہ کہ اس کا رنگ نارنگی تھا ور نا اگر یہ کسی اور رنگ کا کیڑا ہوتا تو اب تک تو چت پڑا ہوتا. پھر بھی ان پانچوں نے ان کو ایسے دبوچ لیا جیسے یہ کوئ قتل کا ملزم اور اور جیل سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہو. جب اس نے گڑگڑا کر یہ کہا کہ میں بھی تمہاری نسل سے ہی ہوں. ہماری طرف ایک بڑی مصیبت آئ ہے، ایک بڑا حادثہ ہوا ہے. ہم مصیبت میں ہیں اور تم سے مدد چاہتے ہیں
"تمہیں جو بھی کہنا ہے ہمارے پردھان جی سے کہنا. وہی تمہارا فیصلہ کرینگے”
"حضور غیر نارنگی، یعنی کالوں اور ہروں کے ملک سے کوئ نارنگی کیڑا آیا ہے آپ کی مدد چاہتا ہے.”
دونوں طرف صفیں لگائے نارنگی کیڑے ادب میں سر جھکائے کھڑے تھے. وہ ایک بوڑھا اور کافی بڑے قد کا کیڑا تھا ان سب کا سردار. اس کی خدمت کو مامور چند ہرے اور کالے اور نیلے کیڑے اس کے حکم کی تعمیل کے لیے وہاں ہر وقت موجود رہتے.
” یہ تو ہماری رنگ اور نسل کا ہے.”
اس بڑے قد کے کیڑے نے بہت ہی رعبدار آواز میں کہا. "اگر تم اس گندی چٹائی میں رہنے کا ارادہ ترک کر دو اور ہمارے ساتھ آ جاؤ اور ہمیں اس چٹائی والے کیڑوں کے بارے میں معلومات فراہم کر دو، اور اپنے دوستوں، رشتے داروں اور بچوں کی پروا نہ کرو اور ان کالے، ہرے اور نیلے کیڑوں کو غلام بنانے میں ہماری مدد کرو تو ہم تمہیں یہاں رہنے دے سکتے ہیں. یہاں کھانے کو ہر قسم کی تازہ پتیاں ہیں، پھل ہیں. اور سونے کو بہت ہی آرام دہ نرم نرم گھاس کی بنی ہوئ جگہ ہے جہاں تمیں کوئ خطرہ نہیں.
لیکن اگر تم نے ہماری بات نہیں مانی اور ہمارا حکم ماننے سے انکار کیا تو. تمہیں کنکڑ مار مار کر یہاں سے تمہیں اس موڑ کر رکھی ہوئ چٹائی تک پہنچایا جائے گا. ہو سکتا ہے وہا پہنچنے سے پہلے ہی تم دم توڑ دو. ” صف میں کھڑے سارے کیڑوں نے کٹ کٹ کی آواز نکال کر سردار کی رائے کی تصدیق کی. یہ کیڑا حیرت زدہ کھڑا رہا. یہ کیسے ہو سکتا ہے. یہ تو ہماری نسل کا ہے. یہ اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے. ہمارے یہاں چٹائ میں تو کوئ بھی مدد کے لیے آتا تھا تو ہم پوری جان سے دل سے اس کی مدد کیا کرتے تھے. ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ ہماری مدد کرنے کے بجائے ہمیں دھمکی دے رہے ہیں. ہم نے تو ان کی بھی مدد کئ دفعہ اپنے چٹائ والوں کے خلاف جا کر بھی کی تھی. آج ہمارا برا وقت آیا ہے تو یہ ہم سے سودا کرنے لگے؟ کیسی انسانوں والی حرکت ہے. ہم کیڑوں میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا. یہ انسانوں والی خصلتیں اب ہم کیڑوں میں بھی آ گئیں. اب ہم کیڑوں کا زوال آ گیا ہے.
ایک تیز آواز کے ساتھ بہت ساری چیخیں اٹھیں
"دھمم” یہ چٹائی کی آواز تھی. اس چٹائی کو جو کئ نسلوں سے ان کیڑوں کی آماج گاہ تھا اٹھا کر بڑی بے رحمی سے ایک ٹھیلے پر پھینک دیا گیا. بہت سے کیڑے زمین پر گرے، کچھ ٹھیلے پر ہی بھاگتے پھرے، بہت ساروں کی تو ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور ہل بھی نہیں پائے.
ایک کیڑا تو مارے غصے کے ٹھیلے والے کی گردن پر پہنچ گی اور زبردست ڈنک مار کر وہاں سے کود گیا مگر اس کا کوئ فائدہ نہیں ہوا. کسی کو بھی جنگ وہیں کرنی چاہیے جہاں جیتنے کا نہیں تو کم از کم مقابلہ کرنے کی تو حیثیت ہو وہ نہ یہ تو خود کشی کے مترادف ہوگا.
ٹھیلا چل پڑا. پورے راستے. کیڑے زمین پر گرتے رہے. خاندان کے خاندان بکھر گئے. باپ دادا کی یادوں کو کے ساتھ چٹائ میں لپٹے مرتے دم تک چٹائ میں رہنے کی تمنا، لیکن مشیعت کو کچھ اور ہی منظور تھا.
سب پریشان حال، کیا نارنگی، کیا ہرے، کیا کالے اور کیا نیلے. کوئ اپنے بچے کو ڈھونڈھ رہا تھا تو کوئی اپنے انڈے کو سینے سے چمٹائے امن کا جویا تھا. (یہ بھی پڑھیں’لے سانس بھی آہستہ۔۔۔‘ ایک تجزیہ- ڈاکٹر انوار الحق )
پیڑ کے پاس سے یہ خوفناک منظر دیکھ کر وہ اہلِ چٹائ نارنگی کیڑا نامراد لوٹ رہا تھا. اتنے میں ایک کنکڑی اس کے سر پر آ لگی. پیڑ کی طرف سے قہقہے کی آواز اس کا کانوں میں پڑنے وال آخری آواز تھی. اور آنکھوں کے سامنے اپنی اجڑتی ہوئی دنیا.
آہ کیا ہی شان سے ہم سجدہ گاہ میں تھے.
کتنی محبتوں سے ہماری دو تین نسلوں نے یہاں زندگی گزاری. یہاں نہ نفرت پائدار ہے اور نا محبت لا زوال. زندگی تو زندگی ہوتی ہے کیڑے کی ہو یا انسان کی. کبھی جب سکون ہوتا ہے تو کسی کو یہ گمان بھی نہیں ہوتا ہے کہ یہ وقت ایک دن گزر جانے والا ہے. اور جب مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹتا ہے تو یاس کے کبھی نہ ختم ہونے والے بادل ایسے چھا جاتے ہیں کہ بس.
خبر یہ آئ کے چٹای کو گنگا کنارے پھینک دیا جائے گا. مسجد سے گنگا تک پہنچنے کا یہ سفر کس قدر تکلیف دینے والا رہیگا. کتنی جانیں جائینگی، کیسی کیسی مصیبتیں ابھی اور آنے والی ہیں. کون جانتا ہے. خدا نے آخر یہ سب کیوں کیا؟ کیا ہم کیڑوں کو سکون سے جینے کا حق نہیں؟ کیا پیڑ کی جڑ پر رہنے والے کیڑے ہم سے بہتر ہیں؟
زمین کے اندر رینگنے والے کیڑوں کو بھی کوئ خوشی نہیں تھی. بھلا گنگا کے کنارے ان کی خوراک کہاں ملنے والی تھی. انسان کی لاشیں یا کتوں کی لاشیں تو وہاں ہونگی نہیں اگر زندہ سلامت گنگا کے کنارے لگ بھی گئے تو کوی مری ہوئ چڑیا شاید کبھی کبھار مل جایا کرے. اور اگر بارش ہو گئ تو؟ یہ کوئ مسجد تو ہے نہیں جہاں چھت ہو.
کاش ہم اس مسجد کے لیے شکر گزار ہوتے جس میں کوئ آتا جاتا نہ تھا. ویرانی ہماری ہم نوا تھی. اب تو مسجد میں پانی ڈال کر فرش کی دھلائ ہو رہی تھی اللہ کے بندوں میں خوشی تھی لیکن ہماری دنیا اجڑ چکی تھی.
جب ہماری چٹائ. گنگا گھاٹ پر پھینکی گئ تو ہم حیران تھے. ہمیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا. سیکڑوں کی تعداد میں انسانی لاشیں. ہماری کئنسلیں ان قبروں کے اندر برسوں زمین دوز رہ کر ان لاشوں کو نوچ نوچ کر مزے سے کھائنگی. اور اگر کسی وجہ سے ہمیں گنگا کے اندر پھینک دیا گیا تو کوئ بات نہیں اندر بھی تیرتی لاشیں ہمارا خوراک ہونگی. ان کیڑے مکوڑوں کی زندگی بھی انسانوں سے کم نہیں ہے. انہیں بھی ہجرت کرنی پڑتی ہے، ان کو بھی نقل مکانی سے گذرنا پڑتا ہے. یہاں بھی مصیبتیں بغیر بتاے کبھی بھی آ دھمکتی ہیں. یہاں بھی گروہبندی ہے. یہاں بھی رنگ بھید اور نسلی تعصب ہے. (یہ بھی پڑھیں ٹیگور کی کہانیوں میں موہوم حقیقت نگاری کے اولین نقوش- ڈاکٹر انوار الحق )
ادھر مسجد میں ایمان والوں نے جوش میں آ کر جوصفائی کی تھی اس پر دھیرے دھیرے ویرانی حاوی ہونے لگی تھی. پھر انچا ہے گھاس اپجنے لگے تھے. نئی نسل کے کیڑوں نے مسجد پر پھر سے قبضہ جما لیا تھا. ادھر گنگا میں بہتی لاشیں بھی ٹھکانے لگ چکی تھیں. گنگا میں بھی نئ نسل کےجل کیڑے نئ لاشوں کا انتظار کرنے کے لیےپیدا ہو چکے تھے.

