ہر کوئی معاشرہ اگر دنیا سے الگ تھلگ رہے تو وہ اپنی روایات اور اقدار کو جامد بنا دیتا ہے ۔اگر اس کا رابطہ اور تعلق دنیا کے دوسرے معاشروں سے رہے اور وہ ان کی تہذیبی وثقافتی اقدار سے متاثر ہو تو اس میں ہمیشہ تغیر وتبدل رہتاہے اور اس کی فکری ترقی کی راہیں کشادہ رہتی ہیں ۔نیز متعددمعاشرہ ایک تہذیبی مجموعہ میں اپنے کو پنپاتا ہے۔ہر شاعر ایک معاشرے میں جیتا ہے۔پھر یہی شاعر اپنے معاشرے کے کسی تہذیبی دائرے کا نمائندہ بھی ہوتا ہے ۔بعض اوقات معاشرت کو بھی تہذیب کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔تہذیب اور ثقافت ،تہذیب اور تمدن یہ دونوں مترادفات کے بطور ہماری زندگی کے کلیدی الفاظ ہیں۔۔
ہمارے ملک میں ہندو مسلم سکھ عیسائی ہر فرقوں میں عقیدے کو اہمیت حاصل ہے لہذٰ ااولیت یہاں کے مذہب کو حاصل ہے ۔علامہ اقبالؔؒ مغربی تہذیب کو بہت نزدیک سے دیکھا پڑھا اور سمجھا تھا ۔وہ ہر مذہب کے علوم وفنوں کو تسخیرِ فطرت کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔جدید الہیات اسلامیہ میں بحث کے بعد اخری خطبہ ــ’’کیا مذہب کا امکان ہے‘‘میں لکھتے ہیں:
’’ عصرِ حاضر کا انسان اگر پھر سے وہ اخلاقی زمہ داری اُٹھا سکے گا جو علوم جدید کے نشاونما نے اس پر ڈال رکھی ہے تو صرف مذہب کی بدولت ۔یوں ہی اس کے اندرایمان ویقین کی اس کیفیت کا احیا ہو گا جس کی بدولت وہ اس زندگی میں ایک شخصیت پیدا کرتے ہوئے آگے چل کر بھی اُسے محفوظ وبرم رکھ سکے گا ۔اس لیے کہ مذہب ،یعنی جہاں تک مذہب کے مدارج کا عالیہ کا تعلق ہے، نہ تو محض عقیدہ ہے نہ کلیسانہ رسوم و ظواہر۔‘‘ ۱؎
علامہ اقبال کے خیالات کی روشنی میں اگر بات کی جائے تو آج کی نئی تہذیب کو اپنانے کے لیے اور اس کی تہذیبی و اخلاقی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے اپنے مذہبی افکار کی طرف رجوع کرنا لازمی ہے۔لیکن یہاں ہم ۱۹۸۰ کے بعد اردو نظم کے تہذیبی تناظرپر ایک نظر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔وہ فقت مذہنی اور عقیدے کے تناظر میں ہو گا۔بلکہ ہندوستان کے مختلف مذاہب اور طرز ِبودوباش اور آپسی بھائی چارگی،طرزِگفتگو سے تعمیر ہونے والا تہذیبی تناظر ہو گا۔تہذیب پر ایک تخلیق نگار یوں رقم طراز ہیں: ( یہ بھی پڑھیں غزل۔ احمد فراز )
ــ’’ ہندوستان ذہن کو زمانہ قدیم سے مختلف اور متنوع تحریکوں اور تہذیبوں کا سامنا رہا ہے۔ان میں سے ایک تہذیب تو وہ تھی جو یہاں قبل تاریخی زمانے سے موجود تھی۔ دوسرے وہ تہذیبی نظریات واعتقادات جو باہر سے آنے والے خانہ بدوشوں ،تاجروں اور حملہ آوروں کے ساتھ ہندوستان میں آتے رہے۔جنہوں نے یہاں کی زندگی میں رنگ بھرے۔تیسرے وہ انقلاب آفرین فکری تحریکیں مثلاًبدھ مت ،جین مت،شِو اورنوِشو بھگتی ،صوفی سنت فکر،اسلامی اثرات ،نیز کرشن بھگتی،رام بھگتی،نرِگن بھگتی وغیرہ جو ہندوستان میں وقتاًفوقتاً وقوع پزیر ہوئیں اور ہندوستانی تہذیب کوجنھوں نے نہایت گہرے طورپر متاثر کیا۔وسیع معنوں میں ہماری تہذیب ان سب اثرات کا مرکب ہے۔‘‘ ۲ ؎
بہرحال تہذیبی تناظر کے لیے اپنی وضاحت کا فی ہے۔ اب ہمیں اُردو نظم کے حوالے سے تہذیبی تناظر پر بات چھیڑنی ہے۔ نظم نگاروں کی فہرست میں آزاد،حالی ،شبلی ،سرور جہاں آبادی ،چکبست،اقبال،احسان دانش وغیرہ میں سے فقت اخترالایمان اور ترقی پسند تحریک سے وابستہ شاعروں میں سے سبوں کو چھوڑتے ہوئے اسی دور کے مشہور نظم نگار آنئند نرائن ملا ّاور احمد فراز کی شاعری میں تہذیبی عناصر دیکھیں گے۔اور ان تینوں کی کچھ نظموں پر نظر ڈالیں گے کیوں کہ میں نے اس مقالے میں ہذا نظم نگاروں کو منتخب کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں دیدہ و دل کا شاعر: احمد فراز -ڈاکٹر عبد الرزاق زیادی )
یوں تو اخترالایمان کی نظموں کا حاوی میلان ماضی اور وقت ہے،لیکن کمال فن کاری یہ بھی ہے کہ اُنہوںنے ماضی کے نقوش کو تہذیب کے نشانات کے طور پر پیش کیا ہے۔اخترالایمان اپنی نظموں میں بنیادی موضوع بنا کر پیش کیا ہے، لیکن ان کی نظموں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ اپنی ذات کے حوالے سے دنیا کو دیکھنے ،اور پرکھنے کی کوشش بیشتر نظموںمیں موجود ہے۔ان کی نظموں کا جائزہ لینے پر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا عہد سیاسی وسماجی اعتبار سے ہنگامہ خیز تھا ۔سماجی ،تہذیبی ، معاشی ،اور ثقافتی سطح پر پورا معاشرہ شدید بحران سے دو چار تھا ۔بیشتر ان کے نظموں میں کرب پوری شدت کے ساتھ قلم بند ہوا ہے جس کے بیان میں درد مند دل شاعر ہر لمحہ خون کے آنسو روتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی نظمیں پڑھنے کے دوران زندگی کی بیان کی گئی اذیتوں میں ہم خود بھی شریک ہو جاتے ہیں ۔اخترالایمان نے اپنی نظموں کو ایک فعال کیمرے کی صورت میں نصب کر دیا ہے،نظم پڑھتے ہوئے زمانوں اور تہذیبوں کا ایک مدور سفر سامنے آتا ہے۔اس ضمن میں پروفیسر خلیل الرحمن اعظمی نے لکھا ہے کہ:
’’ پرانی فصیل اس دور کی اہم نظموں میں سے ہے۔ان کے نظموں میں بحرانی دور کا مکمل اشاریہ ہے جس میں اخترالایمان اور ان کے ہم عصر شعرائ نے آنکھ کھولی۔‘‘ ۳ ؎
اخترالایمان کی شاعری قدامت سے جدت ،پابندی سے آزادی اور وسعت سے بے کرانی کی طرف سفر ہے۔ان کی نظموں میں نئی زندگی اور نئے ماحول کی ترجمانی نظر آتی ہے وہ ان موضوعات کی طرف توجہ کرتے ہیں ۔جن کا بیان اُن سے پہلے نہیں ہواہے ۔انسان کی ذہنی اور جذباتی کیفیات ،اس کی داخلی اور خارجی دنیا،انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مختلف معاملات وسائل ان کی نظموں کے نمائندہ موضوعات ہیں۔ان کی نظموں میں اپنے عہد کی سماجی زندگی سے مایوسی کا اظہار نظر آتا ہے ۔بہرِ کیف اخترالایمان نے اپنے خوابوں کی اس دُنیا کو ٹوٹتے پایا تو خدا سے شکوہ کیا:
مگر مجھے کیا دیا یہ تونے
شباب اک زہر میں سمجھاکر
خراب آنکھیں لہو رُلا کر
خدائے عالم ،بلند و برتر
نہ ایک مونس بھی ایسا بخشا
کہ جس کی آغوش میں تڑپ کر
سکون کے ساتھ مر سکوں میں!
اخترالایمان کی نظمیں کوئی خواب نہیں دکھاتیں،کوئی اُمید نہیں چکاتیں ، لیکن سکون عطا کرتی ہیں ۔ان کی شاعری بتاتی ہے کہ اس دنیا میں محبت بھی ہے ،اچھائی بھی اور انسانیت بھی،غرض ان کے نزدیک افراد یا عوام کی سماجی اور تہذیبی زندگی میں جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔وہ ایک ناگزیر تاریخی عمل ہے چوں کہ ان کو وقت کے مسائل نے آمادہ کیا ہے ،کہ وہ روایتی شاعری کا جمود توڑ دیں اور ایک ایسی جدید اور منفرد شاعری کی بنیاد رکھیں ،جو مستقبل کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ اخترالایمان روایت کا گہرا شعور رکھتے تھے اس کے اثر پزیری پر اُنھیں بھر پور اعتماد تھا ۔لیکن روایت کے جس پہلو سے انھوں نے انحراف کیا اور موضوع ،ہیت وطرزِ اظہار کے جن منفرد پہلوؤں سے اردو شاعری کو متعارف کرایاوہ نئی نظموں کے تہذیب کا سبب ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اُردونظم میں نامیاتی وحدت ایک مطالعہ – عمیر یاسر شاہی )
ہندوستان میں رشتوں کی بدحالی و بکھرے معاشرے کا ایک رجحان رہا ہے۔اس کا اظہار غزلوں اور نظموں دونوں مین ہوا ہے۔اس جدید ٹیکنالوجی عہد میں دنیا جس تیز رفتاری سے آگے کی طرف بڑھتی جارہی ہے،ہمیں ایک دوسرے مل بیٹھ کر باتیں کرنے کی فرصت تک نہیں رہی۔اس سے ہماری تہذیبی زندگی کیسے متاثر ہوتی ہے۔ اخترالایمان کی نظم ’’تبدیلی‘‘کا موضوع اسی پر تخلیق کی گئی ہے۔جس میں ہمارے رشتوں کو جو سب انسانی تہذیب کے بہت ہی مستحکم اور واضح نشانات ہیں ،ان سب کو اس نظم میں دیکھ سکتے ہیں:
اس بھرے شہر میں کوئی ایسا نہیں
جو مجھے راہ چلتے کو پہنچان لے
ا ور آواز دے ’’اوبے او سر پھرے‘‘
دونوں اِک دوسرے سے لپٹ کر وہیں
گرد وپیش اور ماحول کو بھول کر
گالیا ں دیں ،نہیں ،ہاتھا پائی کریں
پاس کے پیڑکی چھانوں میںبیٹھ کر
گھنٹوں اک دوسرے کی سنیںاور کہیں
اور اس نیک روحوں کے بازار میں
میری یہ قسمتی بے بہا زندگی
مختصراً اخترا لاایمان کے ایک پیش لفظ کے اس اقتباس پر ان کی لفظوں میں تہذیبی عناصر کی جستجوکو پیش کرتا ہوں۔جو کہ سلسلہ درازہو سکتا ہے۔لکھتے ہیں:
’’ آج کا معاشرہ کیا ہے،اگر اس کا ایک سرسری جائزہ لیںتو معلوم ہو گا کہ عقائد کی شکست
وریخت جتنی پچھلی نصف صدی میں ہوئی ہے،شاید پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی ۔ جس ماحول
میں ہم آج سانس لے رہے ہیں وہ صرف ایک مزاجی ما حول ہے۔ بے قابو،بدحواس بکھرا ہوا ۔‘‘ ۴ ؎
آننئد نرائن ملاّ ہندوستان کے مشترکہ تہذیبی ،سماجی اور لسانی کلچر کی ایک زندہ مثال تھے۔ان کا یہ جملہ کہ ’’میں اپنا مذہب چھوڑ سکتا ہوں لیکن اردو کو نہیں چھوڑسکتا‘‘ان کی شخصیت کی اسی روشن جہت کو سامنے لاتاہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں جن شاعروں نے ارود شعرو ادب میں اپنے لیے ایک ممتاز حیثیت بنائی ہے ان میں پنڈت آنند نرائن ملا کا نام بہت نمایاں ہے آنند نرائن ملا ّکا شمار اردو کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔اگر چہ مختلف اداروں نے ان کو انعامات اوراعزازات سے نوازا ہے مگر پھر بھی ان کے شعری خدمات کا خاطر خوا ہ اعتراف نہ کیا جا سکتا۔
اُردو شاعری کے موضوعات میں جس میں غزل کے موضوعات بھی شامل ہیں ،ایک اہم موضوع انسان دوستی بھی رہا ہے۔یوں تو رسما ہر شاعر نے انسان دوستی پر کچھ نہ کچھ لکھا ہے لیکن بعض شعرائ نے انسان ووستی کے موضوع کو بطور خاص برتا ہے اور ایسے لوگ وہ ہیں،جو غزل کے ساتھ ساتھ نظم کے بھی شاعر رہے ہیں۔
ملاّ صاحب کے مزاج کوخاص لگاؤ یوں ہے کہ اس میں انسان دوستی کی بات کہی جاتی ہے ۔اور انھوں نے بے شمارنظموں میں طرح طرح سے انسان دوستی کے جذبات کا اظہار کیا ہے۔وہ دوسروں کے غم اور درد کا شدید احساس رکھتے ہیں۔وہ انتہائی غیر متعصب اور سیکولر قسم کے انسان تھے اس لیے انسانی رشتوں کی پاس داری ان کے کردار کا ایک اعلیٰ جوہر تھا جو ان کے کلام میں نمایا طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ملاّ صاحب کے بارے میں کمال احمد صدیقی کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں :
’ ’ ملاّ صاحب کے ہاں سارے جہاں کا درد مختلف نظموں میں طرح طرح سے ظاہر ہوا ہے ۔
وہ دوسروں کے دلوں کے درد و کرب کو سمجھتے ہیں اور اسی طرح اپنے ماحول اور دنیا سے اور
اس میں رہنے والوں سے دردِمشترک کا رشتہ قائم رکھتے ہیں ۔جو اُن کو بہت عزیز ہے ۔
ملاّ صاحب کو انسانیت اور انسانیت کی فلاح عزیز ہے ۔ ‘‘ ۵ ؎
آنند نرائن ملّا نے زمین پر بسنے والے ہر انسان کے دُ کھ سکھ کے حا لات،ساتھ ہی ساتھ بچپن،جوانی اور بڑھاپے کی منزل کو بڑی خوب صورتی سے اپنی نظموں میں پیش کیا ہے۔اُنہوںنے بہت سارے ایسے نظمیں لکھیے ہیں جن میں ہندوستانی تہذیب کا عکس نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔وہ نظمیں ہیں۔’’عیار‘‘،’’حسین مالن‘‘،’’دعوت‘‘،مہا تما گا ندھی کا قتل‘‘، ’’آخری سلام‘‘،’’دو شیزہ‘‘،وغیرہ ہیں۔ہمیں ہندوستان کی حقیقی سرِزمین انہی نظموں میں نظر آتی ہے۔جس سے ہندوسانی تہذیب کی روایت وابستہ ہے۔
انسانی تہذیب وتمدن کی رنگا رنگی،قوموں کا عروج و زوال،نظریات کی شکست و ریخت،اور بہتر زندگی کے لیے انسان کی جدوجہد وغیرہ جیسے موضوعات کو ملّا صاحب نے اپنی نظموںمیں خوب سے خوب تر برتتے ہیں۔ان کی ایک نظم’’ارتقا‘‘ہے،جس میں ان کے فکری کاوش کی وسعت دیکھنے کو ملتے ہے۔جو ہر زمانہپر صادق آتی ہے۔کیونکہ ارتقا ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر وقت تیز رفتاری سے دوسری منزل کی طرف رواں ہوتی ہے۔ملّا کی فکری کاوش سے مشابہ اسی میں نظر آتی ہے۔اسی نظم سے ایک شعر ملا حظہ ہو:
ارتقا کی راہ میں رکنا ہی ہے انسان کی موت
ہیں وہی زندہ جو اس رشتے پہ چلتے ہی رہے ؎
مختصراً ملّا صاحب نے ہندوستانی تہذیب کے عناصر کو اپنے نظموں میں بڑھ چڑھ کر پیش کیا ہے جس سے نہ صرف ان کی شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے بلکہ ان کے افکار کی گہرائی کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ان کے خیالات اب بھی تازہ ترین محسوس ہوتے ہیں،اور عصری حالات کی ترجمانی میں بڑے کا ر آمد نظر آتے ہیں۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نظم نگاری کی فہرست میں بحیثیت نظم نگار ان کو بلند مقام حاصل ہے۔ (یہ بھی پڑھیں پنڈت آنند نرائن ملا کی ترجمہ نگاری – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
احمد فرازؔہمارے ادبی کُرے کا ایک ایسا نام ہے جو خود بھی ایک اسطور بن گیا ہے۔ان کی شاعری اردو نظم نگاری میں موضوع،ہئیت کے لحاظ سے ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جو اس سے پہلے نہیں تھی۔شاعری کے متعلق احمد فرازؔ فرماتے ہیں:
’’صرف قیدی پر ندہ ہی جانتا ہے کہ وہ کیوں نغمہ سراہے۔‘‘
احمد فرازؔ کے نزدیک شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ احساسات کا مجموعہ ہے جو شعر کی زبان بن کر احساس پر چھا جاتا ہے۔احمد فرازؔ فرماتے ہیں۔
’’ یہ احساس دلانا بھی مقصود ہے کہ جب خلقِ خدا ظلم اور استحصال کے خلاف نبرد آزما ہو اور لوگ
اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جانیں تک قربان کر رہے ہوں،تو لکھنے والوں پر کیا ذمہ داری
عائد ہوتی ہے اور اس تناظر میں ان کا کیا کردار ہونا چاہیے۔‘‘
اُنھوںنے تہذیبی تناظر میں عوامل کا حصہ بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔وہ کسی بھی غلط عمل کو اور اس کے متعلقات کو نعمت اور راحت کا ذریعہ تصور کرتے ہیں۔سماجی بندھنوں کو بے معنی اور فضول جانتے ہیں۔نیز سماجی بندشوںاور اصولوں کو نظرِ انداز کر دیا ہے۔ان کی نظم’’سچ کا زہر‘‘کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائے:
سچ کازہر ؍ تجھے خبر بھی نہیں
کہ تیری اداس ادھوری ؍ محبتوں کی کہانیاں
جو بڑی کشادہ دلی سے ؍ ہنس ہنس کے سُن رہا تھا
وہ شخص تیری صداقتوں پر فریفتہ ؍ با وفا ثابت قدم۔۔
شاعر،ایب،افق کار اپنی زندگی اور اپنے دور کے مشاہدات،احساسات اور جذبات کا پیکر ہوتا ہے۔ان کے کلام کی خوبی اور خوب صورتی یہ ہے کہ اپنے مشاہدات،احساسات اور جذبات کو جئرات مندانا اور آزادانا طور پر کرتے تھے۔اور یہی مشاہدات ان کی نظم ،غزل اور نثری نظم میںعیاں ہوتی ہے۔فرازؔسماجی انصاف اور مشترکہ تہذیب کو اپنے جذبات کی ترجمانی کچھ اس انداز سے کی ہے:
’’ میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا ؍ میں کیسے صلح کروں قتل کرنے والوں سے ‘‘
احمد فرازؔ کو فقت طویل غزلوں اور نظموں کے باعث ہی عالمی شہرت یافتہ شاعر کا درجہ حاصل نہیں ہے بلکہ وہ اُن نوجوانوں کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔جو اپنے میں شباب ورند مستی کے عکس رکھتے ہیں۔
ہندوپاک کی سیاسی تناظر اور اکیسویں صدی کے سیاق میں احمد فرازؔ کئی نظمیں کہی ہیں۔ان کی شاعری دراصل لوگوں کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو ملانے کا کام کرتی ہے۔اسی تناظر میں ان کی نظم’’سرحدیں‘‘کی عصری معنویت اور بڑھ جاتی ہے۔اس نظم کے ذریعے احمد فرازؔنے سیاسی سرحدوں کو درکنارکرتے ہوئے ایک سرحد کی پیروکاری کی ہے جس میں تمام انسان بلا روک کے ایک دوسرے کے دُکھ دردمیں کام آسکیں۔اُنہوںنے اس نظم میں اپنے جذباتوں کو قاری کے سامنے رکھا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں باقیات اختر الایمان: ایک جائزہ – ڈاکٹر نوشاد منظر )
کس سے ڈرتے ہو کہ سب لوگ تمہاری ہی طرح
ایک سے ہیں وہی آنکھیںوہی چہرے وہی دل
کس پہ شک کرتے ہو جیتے بھی مسافر ہیں یہاں
ایک ہی سب کا قبیلہ وہی پیکر وہی گل ۔۔
فرازؔکی نظموں میں ’’نئی مسافات کا عہد نامہ ‘‘،’’ہم اپنے خون کیوں بیچیں‘‘،’’ حرف کی شہادت‘‘،وغیرہ خصوصی توجہ کی حامل ہیں۔اِن نظموں میں فرازؔ کی انسان دوستی ،جمہوریت پسندی ،اخوت،بھائی چارگی،معاشرے میں ہونے والی تبدیلی کے ساتھ ساتھ انقلابی آرزومندی اور تہذیب کی عکاسی بھی ملتی ہیں۔۔۔
الغرض مختصراً یہ کہنا شاہتا ہوں کہ اخترؔا لایمان ، آنند نرائن ملّا ،اور احمد فرازؔ کی نظموں میں جو تبذیبی عناصر ابھر کر سامنے آئیے ہیں وہ ایک دوسرے کے قریبی بھی ہیں۔یہ تینوں کہیں کہیں پر آپس میں مخالف بھی ہیں۔دراصل ہماری معاشی اور روز مرہّ زندگی کسی نہ کسی تہذیبی دائرے میں گزرتی ہے۔اس ضمن میں پروفیسر عتیق اللہ کے اس موقف پر راقم کا مقالہ ختم ہو گا کہ:
’’ تہذیبی مطالعہ ، روز مرہّ زندگی، تہذیبی اعمال اور کار گزاریوں ، اقتصادیات، سیاسیات، جغرافیہ، تاریخ، نسل، طبقہ، نسب و نژاد،نظریہ و عمل،جنس و صنف،جنسیات اور طاقت وغیرہ پر محیط ہے۔‘‘ ۶؎
حواشی :
۱؎ ۔ کیا مذہب کا امکان ہے۔ علامہ اقبال ص ۶۷
۲؎۔ اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب ۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ ص ۲
۳؎۔ اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک ۔خلیل الراحمن اعظمی ص ۱۱
۴؎۔ اخترالایمان تفہیم و تشخص۔ ڈاکٹر خواجہ نسیم اختر ص ۲۳۲
۵؎ ۔ کلیاتِ آنند نرائن ملّا ۔ خلیق انجم ص ۱۱
۶؎ ْ۔ بیسویں صدی میں خواتین اردو ادب۔ پروفیسر عتیق اللہ ص ۱۶۷
Bilal Ahmad Bhat
Research Scholar.
Department of Urdu & persian
Gujarat University,Ahmedabad.(Gujarat)
Mobile:- 7006412793
Email Adress:- bhatbilala@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

