Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خاکہ

حسین الحق : جوزف کے زندہ ہے – مشرف عالم ذوقی

by adbimiras اگست 17, 2021
by adbimiras اگست 17, 2021 0 comment

ہمارے کنجِ ابد عافیت میں کچھ بھی نہیں
یہ کارگاہِ عناصر یہ عالمِ ایجاد
یہ دل بھی دیکھ کہ اس خانہ باغِ ہجراں میں
وہی ہے آج بھی جاناں نظامِ بست و کشاد
—- عرفان صدیقی
صاحبان عرفان کا ایک طریقہ کار یہ رہا کہ حقیقت کے بطون سے تمثیلات اور حکایات کی دنیا کو خلق کرتے ہیں ، تصوف کی وادیوں میں گم ہو جاتے ہیں ..فرید الدین عطّار کی کتاب "منطق الطّیر کا حوالہ دوں تو ایسے لوگ محبوب کا مشاہدہ کرتے ہیں .ہمیشہ باطنی عالم کی سیر میں رہتے ہیں ..اور اس منزل تک پہچتے ہیں کہ خدا خود اپنی شانخت سے حاصل ہوتا ہے ..جلال الدّین رومی کو شمس تبریز مل گئے .عاشقانہ مکالمے ہوئے اور دنیا تبدیل ہو گیی . ہمارے افسانہ نگار نے وادئ تصوف سے عشق کی سیر کی اور لذت افسانہ کو اظہار کا وسیلہ بنا دیا .
١٩٨٠ کا زمانہ .اٹھارہ برس کی عمر .غوطہ زن دریائے خاموشی میں ہے موجِ ہوا. اس زمانہ میں کچھ نام ایسے تھے ، جن میں ایک مخصوص کشش محسوس کیا کرتا تھا . کچھ کہانیاں محض عنوان سے مجھے متاثر کر دیتی تھیں . یہ جدیدیت کے عروج کا زمانہ تھا . انتظار حسین مجھے پسند تھے تو عینی آپا بھی پسند تھیں . اور گیا والے حسین الحق سے جو قلبی لگاو کل محسوس کرتا تھا ، وہی آج بھی ہے .
حسین بھایی پر لکھتے ہوئے مجھے فرینز کفکا کی یاد آ رہی ہے . کفکا کے ناول مقدمہ کا اثر مجھ پر آج بھی اتنا ہی ہے جتنا ٣٥ برس قبل تھا . جوزف کے اپنی معصومیت سے اعتماد کھو دیتا ہے اور اس کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کے بارے میں مسلسل سوچتا رہتا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں شموئل احمد : ادبی کائنات سے ستارے چننے والا – مشرف عالم ذوقی )

یہ بے بسی حسین کے یہاں بھی ہے . ٹھیک کفکا کی طرح .جوزف کے سوچتا ہے :
"وہ جج کہاں ہے جس کو اس نے کبھی نہیں دیکھا۔ ہائی کورٹ کہاں ہے جہاں وہ کبھی نہیں پہنچا؟” آخر ایک سال بعد ، اپنی 31 ویں سالگرہ کے موقع پر ، جوزف کے اپنی قسمت کو موت کے حوالہ کر دیتا ہے .اس کی آنکھیں سپر پاوروں کو دیکھ سکتی تھیں ۔ فیصلہ کن لمحے کا مشاہدہ کر سکتی تھیں . اس کو ایسا لگتا تھا کہ اس کی شرم اسے زندہ رکھے گی۔ اس تخلیق کی مختلف طریقوں سے تشریح کی گئی ہے مذہبی ، وجودی ، نفسیاتی ہر طریقے سے .۔ کیا کوئی اعلی قانون ہے؟ کیا غیر منصفانہ طور پر آپ اپنی زندگی گزار سکتے ہیں؟.آج کی اکیسویں صدی میں ، مستقل نگرانی کے سائے تلے رہنا بھی ایک حقیقی خطرہ ہے ، بعض کے نزدیک یہ ایک وجودی بحران کی طرح ہے۔ کافکا کی زبان حیرت انگیز طور پر قارئین کو خوف اور نامعلوم اجنبیوں کے خلاف مایوسی کا احساس دلاتی ہے۔ یہ سسٹم ہے جس کی چیخ اسی شدت سے حسین کی مختلف کہانیوں میں بھی سنایی دیتی ہے . ١٩٨٠ کا دور تھا جب وہ جدیدیت کی لگام تھامے تھے . اور اب بھی وہ جوزف کے انکی مختلف کہانیوں میں جھانکتا ہوا نظر آتا ہے .
کالج کا زمانہ تھا . ابا چیختے ، مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے . اور میری طرف دیکھ کر کہا ، شنکر ، میری آنکھیں واپس کر .بڑا سنکٹ کا سمئے ہے .یہ حسین کی کہانی کا ایک ٹکرا تھا اور یہ حسین بھائی کے عروج کا دور بھی تھا .
حضرت رابعہؒ مکہ پہنچیں تو یاد خدا میں ڈوب گییں اور نور خدا کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی کہ ایک غیبی آواز آئی: اے رابعہ! کیا تو چاہتی ہے کہ تمام عالم تہہ و بالا ہو اور سب کا خون تیرے نامہ اعمال میں لکھا جائے . کیا تم نے جلتے ہوئے طور کی کہانی نہیں سنی ؟
حسین نے جلتے ہوئے طور کو تو نہیں دیکھا ، مگر سلگتے جلتے ہوئے ہندوستان کو دیکھا ہے اور بار بار دیکھا ہے . اور اس لئے کبھی وہ تصوف کی وادیوں کی سیر کرتے ہیں تو کبھی اماوس کے خواب تک پہنچ جاتے ہیں . حسین نہیں بدلے . حسین ہر دور میں حسین رہے . یہ نام بھی ان کی مختلف کہانیوں کا حصّہ رہا ہے .خاص کر ، جب آپ فرات کا مطالعہ کرتے ہیں .
ان کی مشہور کہانی ہے ، نیو کی اینٹ۔ شیو پوجن گیا سے نکلتا ہے اور کاشی چلاجاتا ہے۔ اور چاہے گا تو کاشی سے متھرا چلا جائے گا۔ لیکن سلامت اللہ کیا کرے، جس کو شیو پوجن نے نیو کی اینٹ سونپ دی ہے۔‘ وہ شیوپوجن سے ملتا ہے . شیو پوجن کہتا ہے کہ سی آئی ڈی والے گھوم رہے ہیں— مہربانی ہوگی اگر اس اینٹ کو وہ اپنی تحویل میں لے لے۔ سلامت اللہ جاننا چاہتا ہے کہ یہ اینٹ کہاں کی ہے؟ شیوپوجن جواب دیتا ہے— نیوکی اینٹ— ایک مقدس اینٹ۔ یہ اینٹ سلامت اللہ کے گھر میں ہے اورسی آئی ڈی والوں کے خوف سے شیوپوجن کچھ دنوں کے لیے اپنے گھر سے غائب ہوگیا ہے— مگر سلامت اللہ کے لیے ہزاروں جلتے اور سلگتے سوال چھوڑ گیا ہے. (یہ بھی پڑھیں شہسوارِ رخشِ خامہ (مشرف عالم ذوقی کا خاکہ) – پروفیسر غضنفر )

بابری مسجد پر لکھی گئی ہزاروں تحریروں میں یہ کہانی مختلف اس لیے بھی ہے کہ حسین الحق کہیں بھی ہندستان میں پیدا ہونے اور مسلمان ہونے کی وجہ سے خود کو مجبور یا مظلوم محسوس نہیں کرتے۔ وہ حالات کا سامنا کرتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ شیو پوجن جیسے لوگ تو اس ملک میں مٹھی بھر بھی نہیں ہیں۔ اکثریت تو ان لوگوں کی ہے جو گودھرہ یا بابری مسجد جیسے حادثے پر آگے بڑھ کر اپنا احتجاج درج کرانے سے پیچھے نہیں ہٹتے— حسین نے سو برسوں کے ہندستان کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ سمجھا ہے۔ اس لیے وہ چھ دسمبر کے بعد پیدا ہوئے خوفناک ماحول کے باوجود سلامت اللہ جیسے کردار کو کمزور نہیں کرتے بلکہ نیوکی اینٹ سونپے جانے پر جو مسکراہٹ سلامت اللہ کے چہرے پر نمودار ہوتی ہے، وہ اپنی فتح کی کہانی خاموشی سے بیان کردتی ہے کہ میاں یہ نیو کی اینٹ تو ہمیشہ سے ہماری تھی— ہم تو ہزاروں برسوں، صدیوں سے اس اینٹ کا تحفظ کرتے آئے ہیں، اس لیے آج بھی کریں گے۔
خوشی ہوتی ہے جب قمر احسن ”گو لہڑ کے پھول“ لکھتے ہیں۔ حسین الحق ”گونگا بولنا چاہتا ہے“ تک پہنچتے ہیں۔ گولہڑ کا پھول بند معاشرے میں گھٹ رہی ایک مظلوم لڑکی کی داستان کوفنکاری کے ساتھ سامنے لاتا ہے حسین الحق کے افسانے کا گونگا استحصال کی علامت بن جاتا ہے . ہم ظلم وستم کی داستانوں سے اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ اب معاشرے میں گونگے نے بولنا بھی سیکھا ہے اورجنگ لڑنا بھی.سویی کی نوک پر رکا لمحہ حسین الحق کا افسانوی مجمع ہے .ناستلجیا سے گزرتے، سوئی کی نوک پر رکے یہ لمحات بیش قیمت ہیں . یہ کہانیاں اپنے آپ سے گزر کر زمان ومکان کا احاطہ کرنے میں کامیاب ہیں۔ حسین اپنی اکثر کہانیوں میں تاریخ کو گواہ بناتے ہیں . علامتوں استعاروں کا خوبصورتی سے استعمال کرتے ہیں . زبان و بیان پر قدرت حاصل ہے .ان کی کہانیاں وقت کا استعارہ بن کر اس دھند میں اتر گئی ہیں، جہاں انسان کو کچھ بھی سنائی نہیں دیتا……
”لہو کا اک سلسلہ
طویل سلسلہ
یہ کچھ لہو جو بچ گیا ہے میرے ہاتھ میں ……
میں سوچتا ہوں، اس کا کیا کروں
خود اپنے رخ پہ پھیر لوں۔“
…… گم شدہ استعارے
حسین کی ان کہانیوں کی سب سے بڑی خوبی وہ Poetic Ironyہے،جو مدہوش بھی کرتی ہے، اور نشتر بھی لگاتی ہے…… ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں نشہ بھی پیدا کرتی ہے، پھر دوسرے ہی لمحے اجڑے دیار، کا مرثیہ بیان کرتی ہوئی ہمارے ہونٹوں کو ایک بھیانک چپ دے جاتی ہے۔
حسین الحق ان لکھاڑیوں میں شامل ہیں، جہاں بیان کی ارفع سطح سے علامتیں چھن چھن کر قاری کے ذہن ودماغ کو اپنے قابو میں لے لیتی ہیں۔ یہ حسین کی کہانیوں کا طلسم ہے کہ وہ موجود سے لا محدود زمانے کے سفر کو اپنے تجربات اور اظہار وبیان کے سلیقہ سے سہل پسند بنادیتی ہیں . (یہ بھی پڑھیں ایک شہنشاہ کی موت – مشرف عالم ذوقی )

ادب کا کام مداخلت کرنا بھی ہے۔ اس ملک کے کروڑوں شیوپوجن ہیں جو سرجھکائے ہاتھوں میں نیو کی اینٹ لیے اس عقدہ کو ہم سے زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ اس سے زیادہ بے انصافی نہیں ہوسکتی۔اور انصاف نہ ملنے کے باوجود ایسے کروڑوں سلامت اللہ ہیں جواب بھی نیو کی اینٹ کی حفاظت کرتے ہوئے، انصاف کی موہوم سی امید میں شیوپوجنوں، کے لیے حب الوطنی، مثالی ایکتا اور بے غرض ایثار کی علامت بن جاتے ہیں۔ اس پرآشوب موسم میں، درد مندی کے ساتھ عقل ووجدان کی روشنی میں حسین الحق قاری کو ایک ایسی دنیا میں لے گئے ہیں جہاں کم از کم تاریکی کا گھنا کہرا نہیں ہے۔ نیو کی اینٹ کے بعد بھی حسین الحق کے قلم سے بے شمار خوبصورت کہانیاں چھن چھن کر نکلی ہیں .شوکت حیات کی ’گنبد کے کبوتر‘ بابری مسجد جیسے بھیانک المیہ پر مبنی کہانی ہے___ تو حسین الحق کی ’استعارہ‘  گجرات پُرامیدوں کے نئے دروازے کھولتی ہوئے محسوس ہوتی ہے۔
روسی شاعر ’رسول حمزہ توف‘ نے اپنی کتاب ’داغستان‘ میں لکھا ہے۔
”یہ مت کہنا کہ مجھے موضوع چاہئے۔
یہ کہنا،
یہ کہنا کہ مجھے آنکھیں چاہئے۔“ حسین الحق (سدھیشور بابو حاضر ہوجائیں کی مثال کافی ہے )کی کہانیاں ملک کے عروج و زوال کی کہانیاں بھی ہیں .
حسین بھایی کا ایک ناول ہے اماوس کے خواب . ناول کیی حصّوں میں تقسیم ہے….سیاست اور معاشرے کے سیل بلا خیز سے گزرتے ہوئے، ظلمت شب کی خبر لیتے ہوئے، مستقبل پر کمند ڈالنا آسان نہیں تھا.
حسین کے ناولوں میں فرات کو اہم مقام حاصل ہے. مگر یہ ناول کئی معاملوں میں مجھے فرات سے آگے نظر آتا ہے.ہندوستان کے، غلامی کے منظر نامہ سے شروع ہونے والااماوس کا خواب سیاہ رات کی صورت عالمی نقشے پر پھیل گیا ہے..پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے خوفناک اثرات سے ایک دنیا کی سیاست متاثر ہوئی..ہندوستان آزاد تو ہوا لیکن تب تک دونوں ملکوں میں تھذیبی و مذہبی تصادم کی جڑیں اپنا کردار ادا کرنے لگی تھیں. مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان نفرتیں اس حد تک بڑھ گئیں کہ سقوط بنگلہ دیش کا سانحہ سامنے آیا.اس کی زد میں بہت حد تک ہندوستان کا معاشرہ بھی آیا.حسین نے اپنے اس ناول میں اس موضوع کو بھی ہدف بنایا ہے. ہندوستان میں آزادی کی صبح لہو لہو خواب لے کر آیی تھی..جیسے جیسے وقت گزرا صبح نو کی بشارت کا خواب اماوس کی خوفناک شب میں تبدیل ہوتا گیا.. ہم طبقاتی تقسیم سے گزرے.گروہوں میں، پھر ذات پات، پھر اونچ نیچ میں تقسیم ہوئے..پھر یہ تقسیم اپنی انتہا کو پہنچ گئی– معاشرے میں تباہی و بربادی اور اخلاقی پستی کا دور شروع ہوا..اسکے پس پردہ عالمی سیاست بھی تھی.. ہماری محرومیاں اور کمیاں انسانیت سوز واقعات کو جنم دے رہی تھیں.ناول میں مکمل صورت حال کو سمجھنے کے لئے بلیغ اشارے ملتے ہیں — آزادیِ فکر، آزادیِ اظہار، اور انسانی اقدار کی بحالی اور پاسداری کے جذبے نے حسین کے لہجے کو روشن فکر اور مضبوطی دی ہے.۔انصاف و عمل کے تقاضے پورے ہوتے تو تقسیم کے بعد دونوں ممالک اس طرح لہولہان، مسائل کی آغوش میں نہ ہوتے..۔اماوس کا خواب تقسیم کے بطون سے جنما ایک ایسا خواب ہے، جہاں بدبو دار گوشت کے لوتھڑوں میں سمایے معاشرے کی چیخ نہ صرف ہم سن سکتے ہیں بلکہ برصغیر میں ہونے والی سیاست اور سیاست سے پیدا ہونے والی ہر تبدیلی کو واضح طور پر محسوس بھی کر سکتے ہیں..( یہ بھی پڑھیں قطار میں ایک چہرہ  – مشرف عالم ذوقی )

ایک طرف تصوف کا دامن دوسری جانب جدید علوم سے آشنائی، لیکن ایک ادیب اورناول نگار کی سطح پر حسین سماجی حقیقت نگاری کو علامتیں بناکر زندگی کے ایسے عکاس بن جاتے ہیں کہ ان کی رواں دواں نثر کو پڑھتے ہوئے قاری کو لطف آتا ہے..مارکیز نے کیا عمدہ بات کہی ہے .میں یہ سوچنے کی جسارت کرتاہوں کہ ہبیت ناک حقیقتوں کے اظہار میں مشکل کیوں پیش آتی ہے۔ ایک ایسی حقیقت جو کاغذی نہیں، ہمارے اندربستی ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ایسے پابند اظہار یا ذریعے کی تلاش کا رہا ہے جو ہماری زندگیوں کی حقیقت کو قابل یقین بنانے میں ہماری مدد کرسکے۔“
ہبیت ناک حقیقتوں کے اظہار کے لئے ان حالات میں جوزف کے کا زندہ رہنا مشکل ہے . مگر حسین کی کہانیوں میں تمام مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود جوزف کے زندہ ہے .

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

حسین الحقمشرف عالم ذوقی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اُردو میں افسانہ نگاری۔ایک اجمالی جائزہ – بلال احمد بٹ
اگلی پوسٹ
یومِ عاشورہ کے فضائل وبرکات ! – محمد اشفاق عالم نوری فیضی

یہ بھی پڑھیں

اسحاق وردگ:کھیلن کو مانگے چاند – پروفیسر خالد...

دسمبر 12, 2023

کلکتے کا جو ذکر کیا – پروفیسر غضنفر

اگست 9, 2023

اجتماعیت میں انفرادیت: دبیر احمد – نسیم اشک

مئی 26, 2023

زندگی کے طوفان میں پرواز کناں: ڈاکٹر محمد...

اپریل 1, 2023

اخلاق،محبت اور جنون کی تثلیث : ڈاکٹر تسلیم...

فروری 16, 2023

خاقانیٔ جامعہ پروفیسر خالد محمود – پروفیسر ابن...

نومبر 15, 2022

خاتون مشرق: پروفیسر شمیم نکہت – پروفیسر ابن...

اگست 1, 2022

ماہراقبالیات پروفیسر عبدالحق – پروفیسر ابن کنول  

جولائی 21, 2022

مولانا ابو االبقا ندوی – ڈاکٹر عمیر منظر

جولائی 11, 2022

سدا بہار پروفیسر اختر الواسع – پروفیسرابن کنول  

اپریل 25, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں