اسٹیشن پر اترنے والوں میں صرف وہ دو ہی تھے اور سارا اسٹیشن سنسان پڑا تھا….. نہ ٹی ٹی آئی، نہ قلی یہاں تک کہ ایک بھکاری بھی نظر نہیں آرہا تھا دونوں سہمے سہمے اسٹیشن سے باہر آئے وہاں کا حال اور بھی برا تھا….ساری دکانیں بند نہ آدم نہ آدم زادہر طرف ہو کا عالم…. دونوں کی نظریں کوئی سواری ڈھونڈ رہی تھیں جس سے وہ اپنے گاؤں پہنچ سکیں دونوں کو گاؤں چھوڑے ہوئے ایک عرصہ بیت چکا تھا اگر لاک ڈاؤن کا عتاب نازل نہ ہوتا تو اب بھی وہ گاؤں نہیں لوٹتے انکے بیوی بچے تو گاؤں میں ہی رہتے تھے گاؤں میں رہ کر انکا پیٹ پالنا دونوں کیلئے محال ہو رہا تھا اور پھر دونوں شہر کیلئے نکل پڑےتھے بال بچوں کی زندگی تو خوشحال ہو گئی پر انہیں پریوار کا سکھ نصیب نہ ہوا… بال بچوں کی خوشی کو ہی انہوں نے اپنا نصب العین بنا لیا تھا وہ اب بھی شہرچھوڑ کر گاؤں جانا نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ گاؤں میں بھوک مفلسی اور بیکاری کے سوا کچھ نہیں….
اب بھی انکی نظریں کسی سواری کو تلاش رہی تھیں وہ چلتے چلتے اسٹیشن سے کافی دور نکل آئے تھے تبھی ایک بنگلے کے باہر ایک کار کھڑی نظر آئی جس پر ریڈ کراس کا نشان لگا ہوا تھا… اچانک ایک کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اس نے اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور لپک کر بنگلے کے گیٹ پر پہنچ گیااس سے پہلے اسکا ساتھی کچھ پوچھتا اس نے گیٹ پر لگے کال بیل کا سوئچ دبا دیا سنناٹے میں کال بیل کی آواز گونج اٹھی پھر دروازہ کھلنے کی آواز آئی ایک شخص ہاتھ میں ٹارچ لیے سامنے آیا
"کیا بات ہے؟….. کون ہو تم لوگ؟”
ایک نے تقریباً دوڑ کر اس شخص کا ہاتھ پکڑ لیا اور گڑگڑاتے ہو کہنے لگا
"ڈاکٹر صاحب میرے بچے کو بچا لیجیے بھگوان آپ کا بھلا کرے گا میرا بچہ بہت بیمار ہے بخار میں تپ رہا ہے جلدی چلیے ڈاکٹر صاحب”
"کہاں ہے تمہارا بچہ” ڈاکٹر نےادھر ادھر نظریں دوڑائیں”
"وہ تو گھر پر ہے ڈاکٹر صاحب…. آپ میرے گھر چلیے…. دیر ہوگئی تو میرا بچہ……” وہ بلک بلک کر رونے لگا
"اچھا اچھا روؤ نہیں میں چلتا ہوں لیکن میں گھر پر وزٹ کرنے کا دوگنی رقم لیتا ہوں….
” جی جانتا ہوں ڈاکٹر صاحب میں اپنے بچے کی جان بچانے کیلئے آپ کو دوگنی رقم دونگا بس آپ جلدی سے چلیے حضور….. اس نے ڈبڈبائ آنکھوں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا…. اس کا ساتھی جسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ دوسرے ساتھی نے اس اشارے سے چپ رہنے کو کہا
"گاڑی لاۓ ہو نا؟” اس نے روتے ہوئے شخص کو اٹھایا
"نہیں ڈاکٹر صاحب گاؤں میں بھلا گاڑی کہاں”
” کیا……. گاڑی نہیں لاۓ… تو میں کیسے جاؤنگا…. گاؤں تو یہاں سے دور ہے”؟
"آپ اپنی گاڑی لے لیجیے ڈاکٹر صاحب” وہ گڑگڑایا
"کیا…. ؟اپنی گاڑی؟… نہیں نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے "…. وہ گھرکے اندر جانے لگا
"گاڑی کا کرایہ الگ سے دونگا ڈاکٹر صاحب ” اس نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی
” دیکھو گاڑی کا خرچ الگ سے پانچ سو دینا ہوگا ” اس نے تنبیہ کی اور اپنا ڈاکٹری بیگ لینے گھر کے اندر چلا گیا… ڈاکٹر کی کار گاؤں کے کچے راستے پر اچھل اچھل کر آگے بڑھ رہی تھی سامنے کچھ کچے مکانات کی روشنی نے باور کروایا کہ اسکا گاؤں آ چکا ہے (یہ بھی پڑھیں ” کہانی ، تصور حقیقت، علامتی افسانہ ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )
"بس بس ڈاکٹر صاحب اسی گھر کے پاس روک دیجئے "… کار کے رکتےہی دونوں نیچے اترے اور جیب سے پانچ سو روپے نکال کر ڈاکٹر کی طرف بڑھا دیا
” یہ لیجیے ڈاکٹر صاحب آپکی گاڑی کا کرایہ…. ہمیں گاؤں آنے کیلئے کوئی گاڑی نہیں مل رہی تھی اور ہمیں گاؤں آنا تھا تو ہمیں یہ ترکیب سوجھی کیوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہو جاۓآپ جیسے ڈاکٹر اپنی فیس کیلئے کچھ بھی کرنے کیلئے تیار ہو جائیں گے…. دراصل یہاں کوئی بچہ بیمار نہیں ہے… ہم دونوں کو اس مہاماری میں گاؤں پہچانے کا بہت بہت شکریہ "اس نے پانچ سو کا نوٹ ڈاکٹر کو تھمایا اور آگے بڑھ گیا ڈاکٹر نے فوراً وہ روپے اپنے جیب میں رکھے اور گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ دی… اسے یہ بھی احساس نہیں ہوا کہ ابھی ابھی ایک ڈاکٹر کی موت ہوئی ہے اور اسکی جگہ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے لے لی ہے
قمر جاوید… رانیگنج
موبائل نمبر. 8617474497

