عورت کے مکمل انسانی وجود کی نفی کی وجہ سے بغاوت کی ایک لہر پیدا ہوگئی ہے اورمرد اساس نظام کے خلاف احتجاج کی آواز بلندہورہی ہے۔ عہد عتیق میں دیوتاؤں کی حیثیت ثانوی اور دیویوں کی حیثیت اولین تھی۔ ماہرین آثار قدیمہ نے بھی جو مجسمے دریافت کیے ہیںان میں قدیم ترین مجسمہ عورت کا ہی ہے۔ بابل میں عتشاردیوی، سمریہ میں انانا، مصر میں Isis، روم میں Cebele کی پرستش کا رواج تھا۔ موجودہ دو ر کی تحریک نسواں کو اس روایت سے جوڑکر دیکھاجائے تو یہ گمشدہ یا سلب کردہ حقوق کی بازیابی کی ایک جنگ ہے۔
عورت ایک خود مختار، زندہ، توانا وجود ہے نہ کہ جنسی معروض۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین غیرمنطقی صنفی امتیاز کے خلاف آواز بلند کررہی ہیں۔ عورت کا دائرۂ کار صرف گھر تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا عمل دخل ہے۔ بعض معاشرتی تحدیدات کی وجہ سے خواتین اب تک خاموش رہیں مگر موجودہ عہد میں اس خاموشی کو زبان مل گئی ہے یہ سلسلہ رشیدۃ النسا کے ناول ’اصلاح النسا‘ سے شروع ہوا۔ بچوں کی تعلیم، تعلیم نسواں، امورخانہ داری اور معاشرے کے رسم و رواج کو پیش نظررکھتے ہوئے نادرجہاں کاناول ’افسانہ نادر جہاں یا فسانۂ طاہرہ‘ منظرعام پر آیا۔ ان ناولوں سے متاثر ہوکر تحریک نسواں کو فروغ تو حاصل ہوا لیکن خواتین کی تخلیقات کو منظرعام پر لانے اورخواتین کو تخلیق کی طرف راغب کرنے میں محمدی بیگم نے اہم رول ادا کیا۔ محمدی بیگم نے ۱۸۹۸ میں لاہور سے ہفتہ وار اخبار ’تہذیب نسواں‘ خواتین کے لیے جاری کیا۔ اس اخبار نے عورتوں میں لکھنے کی صلاحیت پید اکی۔ بقول قر ۃ العین حیدر: (یہ بھی پڑھیں تانیثیت کے بنیادی مقدمات – پروفیسر ابو الکلام قاسمی )
’’یکم جولائی ۱۸۹۸ ایک اہم تا ہے۔اس روز لاہور سے شمس العلما مولوی سیدممتاز علی نے زنانہ ہفتہ وار اخبار’تہذیب نسواں‘ جاری کیا۔ ان کی بیوی محمدی بیگم (والدہ سید امتیاز علی تاج) نے اخبار کی ادارت سنبھالی۔ بہت جلد ’تہذیب نسواں‘ سارے ہندوستان کے متوسط طبقے کے اردو داں مسلم گھرانوں میں پہنچنے لگا۔ اس کی وجہ سے معمولی تعلیم یافتہ پردہ نشین خواتین میں تصنیف و تالیف کا شوق پیدا ہوا اور دیکھتے دیکھتے انھوں نے بڑی خود اعتمادی کے ساتھ ناول لکھنا شروع کردیے جو تکنیک اورموضوع کے لحاظ سے آج ستربرس بعد لکھے جانے والے بیشتر ناولوں سے کسی طرح کم نہیں۔‘‘ (کارجہاںدرا ز ہے)
یہ وہ دور تھا جب عورتوں کا لکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ایسے تاریک دورمیں کسی عورت کا اس سمت قدم اٹھانا ایک انقلابی کام تھا۔ ’تہذیب نسواں‘ میں محمدی بیگم نے عورتوں کے مسائل سے متعلق خودبھی مضامین لکھے اورمرد ادیبوں کو بھی اس موضوع کی طرف راغب کیا۔ انھیں قدم قدم پر دشواری کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ ایک بڑی تعداد ان کی مخالفت کررہی تھی اور کوشش کی جارہی تھی کہ کسی طرح سے اخبار بند ہوجائے۔ یہاں تک کہ خطوط کے ذ ریعے ایڈیٹر کو گالیاں بھی دی گئیں۔ اس پر اپنے ردعمل کا اظہارمحمدی بیگم نے اپنی ایک نظم میں اس طرح کیا ہے:
فرقۂ اخبار جو ہے مدعی وردِ قوم
ورد جس کا رات دن ہے ہائے قوم اور وائے قوم
جو کہ دردِ قوم میں ہیں رات دن زاری کناں
حب وطنی سے بنے جاتے ہیں محبوب جہاں
حامی تعلیم نسواں اور جہاں بھر کے لئیق
قوم غم سے اشک جاری اور خلقت پر شفیق
کیا انھوں نے واسطے تہذیب نسواں کے کیا
ان کا دل تہذیب کے حق میں تو پتھر ہوگیا
دل دکھایا جی جلایا کانٹے بوئے راہ میں
یہ صلے اہل وطن سے ہیں ملے بہنو ہمیں
(تہذیب نسواں)
مخالفتوں کے باوجود محمدی بیگم کے قدم نہیں ڈگمگائے اور استقلال کے ساتھ اپنے مشن میں دن رات لگی رہیں۔ انھی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ایک بڑی تعداد خواتین کی ابھرکر سامنے آئی جیسا کہ ’تہذیب نسواں‘ کی اس عبارت سے ظاہر ہے:
’’تہذیب نسواں جاری ہونے سے پہلے مولانا نذیراحمدصاحب کی کتابوں کے سوا لڑکیوں کے لیے مردوں کی تصنیف سے بھی بہت کم کتابیں تھیں مگر ’تہذیب نسواں‘ نے مردوں اور عورتوں دونوں میں کتب تعلیم نسواں کا اس قدر شوق پیدا کردیا کہ اس مضمون پر اچھی اچھی کتابوں کی معقول تعداد تیار ہوگئی ہے اور ہوتی جاتی ہے۔ مسز سجاد حیدر کے ’اخترالنسا‘ و ’آہ مظلوماں‘ اور بہن م۔ظ۔ کے ’روشنک بیگ‘ بے نظیر قصے ہیں اور اچھے لکھے پڑھے مردوں سے بھی ایسی عمدہ کتابوں کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ سلطان بیگم صاحبہ کی ’رسوم دہلی‘ اورمسز صفدر علی کی ’عورتوں کی انشا‘ ح۔ب۔ صاحبہ کی ’شہیدی بیگم‘ اور عباسی بیگم صاحبہ کی ’نامکمل زہرابیگم‘ اوربرج کماری صاحبہ کی ’ذرۂ عظیم‘ بھی قابل تعریف کتابیں ہیں فاطمہ صغریٰ کی ’خورشیدبیگم‘ و’ہمدرد نسواں‘ کو بھی لڑکیاں بہت خوشی سے پڑھتی ہیں۔ یہ تمام امور ظاہر کررہے ہیں کہ ’تہذیب نسواں‘ میں مضامین لکھنے سے لڑکیاں کیسی عمدہ انشا پرداز اورمصنف بنتی جاتی ہیں۔‘‘
ایسے وقت میں جب مسلمان عورتوں کی تعلیم کے نام سے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوں، خواتین کی ایک بڑی تعداد کا لکھنے لکھانے کی جانب توجہ دینا کسی معجزے سے کم نہیں۔ محمدی بیگم نے عورتوں کی اصلاح کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ایک طرف تو وہ خواتین کو ’تہذیب نسواں‘کے ذریعے بیدار کررہی تھیں۔ دوسری جانب اپنی تحریروں کے ذریعے سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں اور فرسودہ رسموں کو بے نقاب کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ انھوں نے خواتین کی زبوں حالی، جہالت اورپسماندگی کو آئینہ دکھایا۔ انھوں نے ۱۹۰۵ میں ماہوار رسالہ ’مشیرنسواں‘ بھی نکالا۔ محمدی بیگم نے مختلف کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ’رفیق عروس‘ ۱۹۰۰ میں، ’انمول موتی‘ ۱۹۰۲ میں،’امتیاز پچیس‘ ۱۹۰۴ میں، ’حیات اشرف‘ ۱۹۰۴ میں، ’سچے موتی‘ ۱۹۰۵ میں،’آداب ملاقات‘ ۱۹۰۵ میں، ’تاج گیت‘ ۱۹۰۵ میں ’سگھڑ بیٹی‘ ۱۹۰۵ میں نعمت خانہ‘ ۱۹۰۶ میں، ’دلپسند کہانیاں‘ ۱۹۰۶ میں، ’تاج پھول‘ ۱۹۰۶ میں، ’پان کی گلوری‘ ۱۹۰۷ میں، ’چوہے بلی نامہ‘ ۱۹۰۸ میں،’خواب راحت‘ ۱۹۱۲ میں، ’چندن ہار‘ ۱۹۱۵ میں، ’علی بابا چالیس چور‘۱۹۱۵ میں اور’تین بہنوں کی کہانی‘ ۱۹۱۵ میں شائع ہوئیں اورمقبول بھی ہوئیں۔ ان سب کتابوں میں خواتین کے لیے نصیحت آموز مضامین ہوتے تھے مثلاً ’رفیق عروس‘ میں نئی دلہن کو خانہ داری سکھانے اور سسرال کو خوش رکھنے کے لیے ضروری آداب بتائے گئے ہیں۔ ’چندن ہار‘ میں قرض لینے والی خواتین کے لیے ہدایتوں کو دلچسپ قصے کے پیرائے میں پیش کیا ہے۔’تاج پھول‘ بھی بچوں کے لیے ہے،جس میں آسان زبان اور دلچسپ انداز میں نصیحت آموز باتیں کہی گئی ہیں۔محمدی بیگم کے بیٹے اورمشہور ڈراما نگار امتیاز علی تاج لکھتے ہیں:
’’یہ سب کتابیں بے حد مقبول ہوئیں اور اس وقت کوئی ایسا تعلیم یافتہ گھرانا نہ ہوگا جس میں ایک ایک نسخہ ان تصنیفات کا موجود نہ ہو اور بہت کم ایسی تعلیم یافتہ لڑکیاں ہوں گی جن کی نظر سے یہ کتابیں نہ گزری ہوں۔ مرحومہ کو جب کبھی سوسائٹی میں کوئی بات اصلاح طلب معلوم ہوتی تھی، وہ گھر آکر فوراً اسے نوٹ کرلیتی تھیں۔ اس کی خرابیاں دلآویز قصے کے پیرائے میں بیان کرتی تھیں اور نصیحت کی کڑوی گولی کو افسانے کی شکر میں لپیٹ کرمریضوں کو دیتی تھیں۔‘‘ (تہذیب نسواں) (یہ بھی پڑھیں کشور ناہید کی تحریروں میں تا نیثی رحجان- عبد العزیز ملک )
معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو اپنی تخلیق کاموضوع بنانے کے لیے ایک حساس طبیعت کی ضرورت ہوتی ہے جو محمدی بیگم کو خدا نے ودیعت کی تھی۔ ان کے تین ناول منظرعام پر آئے۔ ’صفیہ بیگم‘ ۱۹۰۳ میں، ’شریف بیٹی‘ ۱۹۰۵ میں اور ’آج کل‘ ۱۹۱۲ میں شائع ہوئے ۔’شریف بیٹی‘ میں کہیں نہ کہیں وہ نذیراحمد سے ضرور متاثر نظر آتی ہیں کیوں کہ اس میں مراۃ العروس کی مانند دو کرداروں انوری اوراختری کو پیش کیا گیا ہے جس میں ایک اچھائیوں اورنیکیوں کی نمائندہ ہے اور دوسری برائیوں کی۔ ناول ’آج کل‘ میں محمدی بیگم نے ایک ایسی خاتون فہمیدہ کو مرکزی کردار بنایا ہے جو فطرتاً لاپروا ہے ہر کام کو دوسرے دن پر ٹال دیتی ہے۔ کسی بھی کام کو فوراً کرنے میں قباحت محسوس کرتی ہے۔ اس کاہلی کا بہت برا انجام اسے دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے گھر میں ایک بوسیدہ دیوار ہے اور وہ اسے اپنی کاہلی کی وجہ سے ٹھیک نہیں کرا پاتی۔ آخر کار دیوار گرجاتی ہے اور اس کا بچہ اس میں دب کر مرجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا شوہر غصے میں آکر اس کو گھر سے نکال دیتا ہے۔ فہمیدہ اس غم میں بیمار ہوجاتی ہے اورآخر کار اس کی موت ہوجاتی ہے۔ یہ ایک معاشرتی اصلاحی ناول ہے جس کا پیغام یہ ہے کہ کاہلی اور سستی کا انجام خطرناک ہوتا ہے۔ یہ بات وہ مضمون میں بھی لکھ سکتی تھیں مگر انھوں نے اس کے لیے ناول کا سہارا لیا کہ ناول انسانی ذہن کو زیادہ متاثر کرنے کی قوت رکھتا ہے۔
’صفیہ بیگم‘ بھی ایک اصلاحی ناول ہے۔ ا س کا پلاٹ ’شریف بیٹی‘ اور ’آج کل‘ سے قدرے مختلف ہے۔اس میں بچپن کی منگنی کے برے نتائج کو پیش کیا گیا ہے۔ اس کا اہم کردار صفیہ ہے جو تعلیم یافتہ لڑکی ہے۔ اس کی شادی اس کے تایا کے بیٹے صفدر سے اس وقت طے کردی جاتی ہے جب وہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔ صفدر بڑا ہوکر غلط صحبتوں میں پڑجاتا ہے۔ صفیہ ایک تعلیم یافتہ اورسلیقہ مند لڑکی ہے۔ اس کے لیے اونچے خاندانوں سے بھی رشتے آتے ہیں لیکن اس کے والدین صفدر کی وجہ سے انکار کردیتے ہیں اور جب صفدر خود اس رشتے سے انکار کردیتا ہے تو صفیہ کی شادی ایک تعلیم یافتہ لڑکے سے طے کردی جاتی ہے اورجب شادی ہونے والی ہے اورپورا گھر مہمانوں سے بھر جاتا ہے، تو صفد ر کے لالچی والدین زیادہ جہیز کا لالچ دے کر صفدر کو شادی کے لیے تیار کرلیتے ہیں اور زبردستی صفدر سے صفیہ کا نکاح کردیا جاتا ہے۔ صفیہ یہ صدمہ برداشت نہیں کرپاتی اورزہرکھاکر اپنی جان دے دیتی ہے۔ مصنفہ نے صفیہ کی کیفیت کو اس طرح بیان کیا ہے:
’’نکاح میں صرف دو گھنٹے باقی تھے اور یہ بدحواس بیٹھی تھی کہ اب میں کیا کروں گی؟ آخر اس نے فیصلہ کیا کہ جب مجھ سے میری رضامندی پوچھی گئی تو میں نہ ہاں کروں گی اورنہ نا کروں گی۔ جو چاہیں سو کریں۔ جب میرے ماں باپ کو غیرت نہیں تو مجھے کیا ہے۔‘‘ (صفیہ بیگم)
آخرکار صفیہ کا نکاح بغیر اس کی مرضی جانے کردیا جاتا ہے تو وہ خودکشی کرنے پرمجبور ہوجاتی ہے۔ مصنفہ نے اس واقعہ کو بڑے دردناک انداز میں پیش کیا ہے:
’’چپکے ہی چپکے راتوں رات گڈے اورگڑیا کی طرح نیم جان کا عقد نکاح جان ہار صفدر حسین کے ساتھ پڑھادیا گیا۔ صفیہ نے جب یہ سنا کہ نکاح ہوچکا ہے اور اس سے کسی نے پوچھا تک بھی نہیں۔تو اس پر جو کچھ گزرا وہ گزرا ،قلم سے وہ لکھا نہیں جاسکتا، زبان سے وہ ادا نہیں ہوسکتا اورکانوں سے وہ سنا نہیں جاسکتا۔ وہ آدمی سے بت بن گئی سانس اب تک چلتی تھی مگر اس میں جان نہ تھی۔ آنکھیں تھیں مگر اسے کچھ نہ سجھائی دیتا تھا۔ اس کا یہ حال تھا کہ چند ظالم بیبیاں آئیں اور صفیہ کی ناک میں سہاگ کی نشانی نتھ پہناگئیں‘‘ (صفیہ بیگم)
پورا ناول نو ابواب پر مشتمل ہے۔ ہر باب کا آغاز ایک شعر سے ہوتا ہے۔ اس ناول میں قدیم و جدید دو متضاد ذہنی لہروں کا امتزاج بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک طرف صفیہ کی ماں قدامت پرست ہیں وہ پڑھائی کو اچھا نہیں سمجھتیں۔ وہیں صفیہ کے والد تعلیم کے حامی ہیں اور صفیہ کو علم حاصل کراتے ہیں۔مصنفہ نے دونوں متضاد کرداروں کی گفتگو کو بڑے دلچسپ پیرائے میں پیش کیا ہے:
’’میاں: (ہنس کر) مجھے خطرہ ہے کہ لڑکی کہیں تمہاری ہی نظروں کی نذر نہ ہوجائے۔وہ جو اچھا کام کرتی ہے، تمہیں وہی برا لگتا ہے۔ تمہاری طرح جاہل ان پڑھ رہتی تو تم خوش ہوتیں۔ (یہ بھی پڑھیں اردو ناولوں میں تانیثی حسیت – صالحہ صدیقی )
بیوی: نگوڑے جاہلوں کو خدا تھوڑا ہی پوچھتا ہے؟ تمہارے ہاتھ رزق ہوتا تو تم جاہلوں کو بے آب و دانے ہی کے مار ڈالتے۔شکر ہے تمہاری بیٹی نے پڑھ کر چار دیدے کرلیے۔ درگور ایسا علم۔ جھاڑو پھیروں ایسی لیاقت پر۔ نہ بیٹیوں والا ڈھنگ ہے نہ تمیز۔ سینے پرونے کی رہی اور نہ کھانے کی۔ کررہی ہے تو کیا بت بنارہی ہے۔ پھوڑے پھنسی چیرے لہو پیپ میں ہاتھ لبیڑے بیٹھی ہے یا کتا ب لیے کسی پر ٹنگی ہے۔ یہ اچھے ڈھنگ سکھائے ہیں! خدا ہی ہے جو کسی گھر میں ان ڈھنگوں کی سمائی ہو۔‘‘ (صفیہ بیگم)
محمدی بیگم کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ انھوں نے سو سال قبل ناول کے ذریعے ایک ایسی لڑکی کا کردار پیش کیا جو تعلیم یافتہ ہے، ڈاکٹری بھی جانتی ہے۔پینٹنگ میں بھی ماہر ہے اور اس کے مضامین بھی اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ایک ایسا کرداربھی پیش کیا جو شادی کے لیے لڑکی کی مرضی کو ترجیح دیتا ہے۔اسلام میں شادی کے لیے لڑکی کی مرضی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ محمدی بیگم اس خیال کو ناول میں ناصرنام کے کردار کے ذریعے بڑے سلیقے سے پیش کرتی ہیں:
’’اصغر حسین: ایسے معاملوں میں لڑکیوں کے بولنے کا کیا کام؟ کیا وہ ہم سے زیادہ سمجھدار ہے؟
ناصر: سمجھ دار تو نہیں۔ لیکن پھر بھی گزر تو اسی کوکرنا ہے۔
اصغر حسین: نہیں صاحب یہ بے شرم بیہودگی مجھ سے ممکن نہیں کہ میں بیٹی کے عقد میں بیٹی سے ہی رائے لوں۔ اس سے بڑھ کر کوئی نامعقول حرکت ہوسکتی ہے؟
ناصر: آپ کی مرضی نہیں تو نہ کیجئے۔مگر اللہ ایسے نامناسب الفاظ زبان سے نہ نکالیے۔ جناب رسول خدا کا فرمودہ ہے کہ ازواج مطہرات کا اسی طریق پر عمل درآمد رہا ہے۔خدا کے غضب سے ڈرو۔ پیغمبر کی سنت کو نامعقول حرکت نہ کہو۔‘‘ (صفیہ بیگم)
مصنفہ نے بڑی سلیقہ مندی سے بچپن کی منگنی کے مضرات کو بیان کیا ہے۔کردار نگاری میں چابکدستی ہے۔ زبان میں تخلیقیت اور طنزومزاح کی چاشنی ہے۔روز مرہ کے الفاظ اور محاوروں کا بڑے سلیقے سے استعمال کیا ہے۔اشعار کے استعمال سے یہ حسن دوبالا ہوگیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں خواتین ناول نگاروں کے یہاں مزاحمتی عناصر – ڈاکٹرنشاں زیدی )
محمدی بیگم کی تصانیف نے اس دور کی خواتین کو بہت متاثر کیا اور خواتین کے ایک بڑے حلقے نے نہ صرف ان سے ذہنی، فکری تاثر قبول کیا بلکہ تخلیق کے باب میں انھیں مشعل راہ سمجھ کر ان کی پیروی کی۔ محمدی بیگم کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے ادب میں صنفی تعصب کا خاتمہ کیا اور عورتوں کے حجاب میں رہتے ہوئے بھی ان کے لیے احساس و اظہار کی آزادی کی راہیں ہموار کیں۔ان کے بعد یہ قافلہ آگے بڑھتا رہا اور اب موجودہ صدی میں خواتین ادبی منظرنامے پر اتنی مستحکم اور مضبوط ہوگئی ہیں کہ باضابطہ تانیثی ادب کے حوالے سے ڈسکورس کا آغا ز ہوگیا ہے۔
ڈاکٹر نشاں زیدی
9873297860
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

