Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

غلام باغ اور بدلتی ہوئی سماجی صورتحال – سیدہ ہما شیرازی

by adbimiras مئی 25, 2021
by adbimiras مئی 25, 2021 0 comment

روایتی ناول کا آغاز 1869 میں مراۃ العروس سے ہوا اس میں خط مستقیم کی تکنیک استعمال کی گئی ہے یعنی کردار آہستہ آہستہ کہانی میں نمودار ہوتے اور اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے بعد منظرعام سے غائب ہو جاتے ناول بلکل اْس دور کی زندگی کی طرز پر لکھا گیا جیسا کہ اْس دور کے لوگ پلان کے ساتھ زندگی گزارتے تھے روایتی ناول کے کچھ عرصے بعد کہانی لکھنے کی تکنیک بدل گئی اور اب کہانی کار نے خط مستقیم کی بجائے زگ زیگ تکنیک کے تحت ناول لکھنا شروع کر دیاجس میں کہانی کا آغاز اور انجام ویسے ہی ہوتا لیکن درمیان میں کہانی میں مختلف طرح کے اتارچڑھاوَ آتے جو کہ روایتی کہانی سے اس کہانی کو منفرد بناتے۔

ان دونوں تکنیکوں کے بعد جیسے جیسے ادوار میں ترقی ہوئی اسی طرح ادب نے بھی کروٹ لی جس سے کہانی کی بنت اور تکنیک میں بھی تغیر پیدا ہوا اور اب جدید ناول دائروی تکنیک کے مطابق لکھا جانے لگا اس تکنیک کو استعمال کرنے والا ہی بتا سکتا ہے کہ دائرہ کہاں سے شروع اور کہاں پہ ختم ہوا اس تکنیک کو انسانی زندگی کی تکنیک بھی کہا جاتا ہے جیسے کہ آج کے دور میں ہم نہیں بتا سکتے کہ کس چیز کا آغاز کب ہوا اور کب اختتام پذیر ہوئی بالکل اسی طرح جدید طرز پر لکھی گئی کہانی میں بھی اس چیز کو سمجھنا مشکل ہے کہانی کہاں شروع ہوئی اور کہاں اختتام پذیر ہوئی آج اگر جدید ناول کے نقطہ آغاز پر بات کی جائے تو غلام باغ جدید ناول کا نقطہ آغاز ہے جس میں جدید سماج کو بڑے خوب صورت انداز میں پیش کیا گیا ہے. (یہ بھی پڑھیں غلام باغ(روایت سے انحراف کی انوکھی جہت)-سفینہ بیگم )

تسلسل سماجی زندگی کی حقیقت ہے اس حیثیت سے سماجی ناول زندگی کا عکس ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے تسلسل کو پیش کرے اور اس لیے سماجی ناول میں حقیقت نگاری اور اپنے زمانے کے حالات کا گہرا شعور سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ سماج ماضی کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے اور مستقبل کی طرف پیش قدمی کرتا ہے۔ اس لیے یہ سماجی ناول نگار کا فرض ہوتا کہ وہ ماضی کو نظر میں رکھے اور حال کی مطابقت سے مستقبل کی وضاحت کرے۔ یہ نہیں کہ مستقبل کی مثالی بنانے کے لیے حال کی حقیقتوں سے منہ موڑ لے۔

ناول میں سماجی مسائل کی پیش کش بہت اہمیت رکھتی ہے۔ سماجی ناول حقیقی معنوں میں وہ ہیں جن میں سماجی مسائل اس طرح ابھر کر سامنے آئیں کہ کرداروں اور واقعات کے تانے بانے سے ان کی صورت گری ہو۔ کسی سماجی مقصد کو پیش کرنا بھی سماجی ناول کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ لیکن مقصد کی پیش کش ایسی ہو کہ ناول پروپیگنڈا نہ بن جائے حد سے بڑھتی ہوئی مقصدیت ناول کے فن کو مجروح کر دیتی ہے۔ ناول میں تاثر اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب مقصد خودبخود ابھر کر سامنے آ جائے۔

مکالمے کو سماجی ناول میں ایک خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ ناول نگار اپنے کرداروں کی سیرت، شخصیت اور مزاج و ماحول کی مناسبت سے مکالمے پیش کرتا ہے۔ ہر کردار کے مکالمے اس کی ذہنی استعداد، طبیعت کے رجحان اور سماجی حیثیت سے ہم آہنگ ہوتے ہیں بالخصوص حسب مراتب مکالمے ناول میں جان ڈال دیتے ہیں۔ وہی سماجی ناول کامیاب ہوتا ہے جس کے کردار مصنف کے نظریات اور تصورات کی ترجمانی نہ کرتے ہوئے خود اپنی ترجمانی میں کامیاب ثابت ہوں۔ (یہ بھی پڑھیں مرزبوم : یہ توہم کا کارخانہ ہے – ڈاکٹر عبد السمیع )

غلام باغ  کے مصنف مرزا اطہر بیگ 7مارچ 1950 کو شیخوپورہ کے قصبے شرقپور میں پیدا ہوئے تدریس کے پیشے سے منسلک ان کے والد مرزا طاہر بیگ تصوف اور مذہب کے مضمون پر گہری گرفت رکھتے تھے صاحب تصنیف تھے شرقپور سے میٹرک کا مرحلہ طے کرنے کے بعد وہ لاہور چلے آئے جہاں سے بی ایس سی کی سند حاصل کی رائج نصاب میں سائنس کی بنیادی روح نہیں ملی سو آرٹس کی جانب آگئے پنجاب یونیورسٹی سے فلسفے میں ماسٹر کرنے کے بعد 1978 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے منسلک ہوگئے 1990 سے 2010 تک وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں شعبہ فلسفہ کے سربراہ رہے ریٹائرمنٹ کے بعد دو برس اسی ادارے میں گزرے آجکل کُلی توجہ تخلیقی ادب پر مرکوز ہے گھر کی علمی و ادبی ماحول نے کتابوں کی جانب دھکیلا جو جلد ہی اوڑھنا بچھونا بن گئیں مطالعے کی پختہ عادت نے لکھنے کی جوت جگائی ۔

(یہ بھی پڑھیں ”پوکے مان کی دنیا “ (معاصر عہدکے چیلنجز کا اِظہار) – ڈاکٹرمظہر عباس )

آغاز کہانی سے ہوا سو پہلا دن ہوا اولین افسانہ تھا جو حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں پڑھا گیا پھر ڈرامہ نگاری کی جانب متوجہ ہوئے پنجابی ڈرامے بیلہ سے اس سلسلے کا آغاز ہوا ان کے قلم سے نکلے کھیل جن میں حصار ،دلدل، دوسرا آسمان، یہ آزاد لوگ ،گہرے پانی اورپاتال بہت مقبول ہوئے طویل دورانیہ کے ڈراموں میں کیٹ واک ،لفظ آئینہ اور دھند نمایاں ہیں عبداللہ حسین کے افسانے نشیب کو بھی ڈرامے کے قالب میں ڈھال چکے ہیں

2006 میں 800 سے زائد صفحات پر مشتمل اُن کا پہلا ناول غلام باغ منظرعام پر آیا جس نے قارئین اور ناقدین دونوں کو ہی اپنے حصار میں لے لیا اس انوکھے ناول کی اشاعت کو آگ کا دریا  اوراداس نسلیں کے بعد اردو ناول کی تاریخ کا تیسرا بڑا واقعہ قرار دیا گیا موضوعات کے تنوع کے ساتھ  بیگ صاحب کا مزاح کو برتنے کا امتحان بھی زیر بحث آیا ناول کی تین ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں غلام باغ کے بعد ان کے افسانوں کا مجموعہ” بے افسانہ ”منظرعام پر آیا جس میں وہ رائج کلیے توڑتے ہوئے نظر آئے 2011 میں دوسرے ناول صفر سے ایک تک(سائبر اسپیس کے منشی کی سرگزشت) کی اشاعت ہوئی ناقدین کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اثرات کو اردو کا موضوع بنایا گیا کہا جاتا ہے

اُن کا تیسرا ناول ’حسن کی صورت حال، خالی ۔۔۔ جگہیں ۔۔۔ پر کرو‘ ہے مرزا صاحب کا کہنا ہے کہ ہر کہانی کو طوُل دے کر ناول میں بدل ڈالنا ممکن نہیں ہے۔ 2009 میں جب انھوں نے مختصر افسانہ ’اُچٹتے خوف کی داستان‘ لکھا تو محسوس کیا کہ اس کے کئی حصوں میں پھیلاؤ کی گنجائش موجود ہے ۔۔۔ اور جب اس پھیلاؤ کو سپردِ قلم کرنے کا عمل شروع ہوا تو پھر بات سے بات نکلتی چلی گئی اور بالآخر یہ پورا ناول تیار ہو گیا۔

کہا جاتا ھے کے لکھاری کے لئے قاری ہونا شرط ہے اور وہ بھی اس  سے ماورا نہیں۔موریس بلانچو، سارتر میلان کنڈیرا، دوستووسکی،جیمز جوائس کے وہ مداح ہیں جبکہ اردو ادیبوں میں منٹو عبداللہ حسین محمد خالد اختر اور خالدہ حسین نے انہیں متوجہ کیا ترک ادیب،اورخان پامک کو بھی سراہتے ہیں۔

آپ نے اردو ناول میں زبان اور اسلوب کی سطح پر جو تجربات کیے اور جس انفرادیت کے ساتھ کیے ان کی مثال اردو ادب میں خاص طور پر ناول نگاری کے شعبے میں نہیں ملتی۔

مرزا نے وہ لکھا جو آئندہ اردو ادب میں لکھا جائے گا یہ بات تو حقیقی ہے کہ روایتی ناول کا زمانہ بدل چکا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ مرزا کے ناول اردو کی ناول کی روایت میں اگلے مرحلے کا اشاریہ ہے تو غلط نہ ہوگا ان کے ناول آنے والے موسموں کی خبر دے رہے ہیں اور ناول کی روایت میں سنگ میل کی حیثیت حاصل کر چکے ہیں کچھ بعید نہیں کہ مستقبل کے نقاد اردو ادب کی ناول کی تاریخ کو مرزا اطہر بیگ سے پہلے ان سے بعد جیسے مدارج میں تقسیم کرنا پڑے

اگر دیکھا جائے تو جوادب نئے پن کے بغیر ہے وہ ادب نہیں ادب میں کوئی بڑا فلسفہ یا نظریہ نہیں ہوتا نہ کوئی نئی دریافت کی جاتی ہے نہ زندگی کے عقدے حل کیے جاتے ہیں یہ کام سائنس اور دیگر علوم کا کام ہے ادب کا موضوع واقعیت ہے جو کچھ موجود ہے اور جو کچھ وقوع پذیر ہورہا ہے وہ سب ادب کا موضوع ہے اور سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کیسے اس سب کو بیان کیا جائے یہ ہی وہ موقع ہوتا ہے جہاں ادب اپنا کمال دکھاتا ہے اور ان سب باتوں کو کچھ نئے سے نئے انداز میں پیش کرتا ہے جس سے ہیت ہی نہیں معنویت بھی بدل جاتی ہے ۔

کہانی کو پیش کرنے کے انداز سے باقی سبھی کمالات اسی سے جڑے ہوتے ہیں یعنی ناول نگار نے کسی خاص ماحول،واقعہ یا کردار کو کیسے دریافت کیا یا پھر زبان اس کا ہتھیار بنتی ہے وہ زبان کے ذریعے اپنی تخیل کو استعمال کرتے ہوئے کیسے اس دریافت کے عمل سے گزرتا ہے یہی اس کا کمال ہے غلام باغ میں جس طرح بدلتی ہوئی سماجی صورتحال کو پیش کیا گیا اس نے اس بات کو درست ثابت کیا کہ اچھا ادب ہمیشہ اپنے دور میں غیر روایتی ہوتا ہے۔

کسی شے کو تخلیقی تب کہا جا سکتا ہے جب اس میں حقیقت کو ایک نئے انداز سے ایک نئے پہلو سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی گئی ہو جس طرح کہا جاتا ہے کہ ہر دور کا فکشن اپنے ساتھ نئی توقعات لے کر ظاہر ہوتا ہے ہردور اپنی توقعات فکشن نگار کے آگے رکھتا ہے اور اس سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اسے پورا بھی کرے اس اعتبار سے ہر دور کا فکشن پچھلے دور کے فکشن سے قدرتی طور پر مختلف ہوتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں نیلی بار: ایک عہد کا بیانیہ اور تاریخ کا آئینہ- عرشیہ انجم )

غلام باغ اردو ناول میں ایک ایسا اضافہ ہے جو اداس نسلیں کے عروج سے شروع ہوا اور غلام باغ کی ارذل نسلوں تک پہنچا ناول کا انتساب بھی ارذل نسلوں کے نام ہے جن کا بیان ناول کی شروع سے آخر تک ملتا ہے ارذل نسلیں وہ نسلیں جن کی اپنی کوئی اساطیر نہیں ہوتی وہ اس لئے بھی ارذل نسلیں کہلاتی ہیں جو اپنی کہانی خود نہیں سْنا سکتی یہ ناول کلونیل دور میں بنادی گئی نسلوں کو اپنی تاریخ دوبارہ لکھنے کی طرف اکساتا ہے اپنی تاریخی حقیقت کو پہچاننے اور اسے سمجھ کر دوبارہ لکھنے کی یہی کوشش ہم شعوری طور پر اس ناول میں دیکھ سکتے ہیں

اس ناول میں سماجی سطح پر تعلقات کی پیچیدگی غلبے کا فلسفہ ، انسان پر جنسی جذبے کا غلبہ بھینیلے رجسٹر ،لا لکھائی جیسی لایعنی بک بک گنجینہ نشاط اور خصی کلب جیسے گینگ کی گتھیاں سلجھائی گئی ہے ناول میں موجود فلسفے کا تذکرہ اصل میں سماج میں موجود غلبے کا فلسفہ ہے

ارذل نسلیں جو اس ناول کا بنیادی موضوع ہے وہ مانگر یا پونگر جاتی یا پکھی واس یا سونسی کہلائی جانے والی نسلیں نہیں ہیں بلکہ ارذل نسلوں میں ہر وہ نسل شامل ہے جس کوسماج میں زندگی جینے اور اپنا آپ ثابت کرنے کے لئے ہر طرح کی نسلی امتیازات کا سامنا ہو

ان نسلوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساری زندگی حلال کمانے اور عزت دار بننے میں صرف کر دیتی ہیں لیکن آخر کار وہ سماج میں موجود طاقتور لوگوں کے غلبے سے ہار جاتی ہیں کرداروں کے اندر دوسروں کی آزادی سلب کرنے کی تمنا ابھر کر سامنے آتی ہے۔

جیسا کہ ناول میں مانگر جاتی ڈاکیہ خاورحسین کے بیٹے یاور حسین نے خصی کلب جیسے امیروں پر اپنی افادیت ثابت کردی تھی لیکن آخر کار وہ امیر طبقے کے امبرجان کی خباثت کا صدمہ برداشت نہ کرسکا اور زندگی کی بازی ہار گیا اسی طرح ناول کے دو طاقتور کردار کبیر اور زہرہ بھی خصی کلب کا مقابلہ کرتے ہوئے ہار جاتے ہیں

یہ کہانی صرف اس ناول کی نہیں اور نہ ہی انعام گڑھ کے ڈاکیے اور خاور حسین کے بیٹے یاور حسین اور رحیم کاچھر جیسے وڈیرے کی ہے جو کہ ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی لڑائی ہے بلکہ یہ کم تر نسل سے برتر نسلوں کی وہ لڑائی ہے جو اپنی شناخت حاصل کرنے کے لئے روز اول سے کمتر نسلوں کے لوگوں کی طرف سے لڑی جارہی ہے اس مسئلے کو تقویت بین الاقوامی سطح پر کلونیل دور میں ملی۔ کیا افضل نسلوں اور ارذل نسلوں کی اساطیر ایک جیسی ہوسکتی ہے اس پرکافی غیر متوقع طور پر ہمارے مورخ نے کڑک کر کہا ارذل نسلوں کی کوئی اساطیر نہیں ہوتی۔

ناول کا دوسرا باب جس کا عنوان ”ارذل نسلوں کی اساطیر ہے” اس میں ناول نگار نے ایک خاص انداز میں ارذل نسلوں اْن کی اساطیر اور پھر انگریزوں کی تحقیق سب کا بیان بڑی مہارت سے کیا ہے اس باب کا آغاز (قدیم )کتاب ;ارذل نسلوں کی اساطیر ۔ مصنف گلبرٹ والٹن ناشرکیری گرانٹ پبلشرر ویسٹ انڈین لندن اشاعت اول سے کیا ہے۔ اس سے قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے انگریزوں کے خیالات سے براہ راست واقفیت حاصل کر رہا ہے ۔

اس کے بعد خادم حسین مانگر جاتی کا پہلا اور آخری ڈاکیا اس میں ناول نگار نے کچھ تلخ باتوں کا بیان کیا جس کے ذریعے ارذل اور اعلٰی نسلوں کا فرق اور اعلٰی نسلوں کی سوچ کو بیان کیا ہے اس کے بعد خادم حسین کا نسلی گراف کیسے اوپر چلتا ہے ۔

اس میں خادم حسین اس کے بیٹوں کاذکر ملتا جس میں یاور حسین کی کوشش کو دکھایا گیا اور یاور حسین کے ذریعے کہانی آگے بڑھتی ہے اگر دیکھا جائے تو یہ باب بہت سی نئی کہانیوں کو جنم دیتا ہے اور یہاں سے نوآبادیاتی دور میں نسلوں کو جس طرح کم تر اور اعلٰی بنایا گیا اور انگریزوں کے مقامی آبادی کے بارے میں خیالات کا ادرک بڑے اچھے طریقے سے ہوتا ہے۔  (یہ بھی پڑھیں ٹیگور کا ناول ’’سنجوگ‘‘ ایک تجزیاتی مطالعہ – ڈاکٹر سلمان فیصل )

اس ناول کا مرکزی کردار کبیر اپنے ذہنی خلفشار سے نجات حاصل کرنے کے لیے ڈائری لکھنے کی دوران بار بار بطون ذات سے ایک ہی صدا سنتا ہے دوبارہ لکھو اس کی ذات کا یہ اسرار محض ڈائری نویسی تک مدود نہیں بلکہ علامتی سطح پر افتادگانِ خاک کی تمام ارذل نسلوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ اپنی تاریخ کو دوبارہ رقم کرو ۔ ۔ ۔ ۔ مغرب کے نقطہ نگاہ سے نہیں بلکہ اپنے نقطہ نگاہ سے اس ناول کا دوسرا بڑا موضوع دیوانگی ہے یہ اس ناول کے بنیادی موضوعات میں سے ایک ہے موجود سماج کا ہر دوسرا فرد دیوانگی کا شکار ہے دیوانگی موضوع ناول کے پلاٹ کے متعلق بھی ہے ناول کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ زبان کردار کے طور پر سامنے آتی ہے دیکھا جائے تو دیوانگی بڑی حد تک لسانی مسئلہ ہے جب ہمارے لسانی نظام میں کسی سطح پر بگاڑ پیدا ہوتا ہے تب ہی دیوانگی کا اظہار ہوتا ہے ناول کے کردار کئی بار اس سطح پر آ جاتے ہیں جب دوران گفتگو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کلام اْن کے ہاتھوں سے نکلا جارہا ہے مگر بات دیوانگی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ وجود کی انسان کے انسان سے تعلق کی ایک اور سطح تلاش کرنے کی کوشش ہے۔

”آزادی ۔ ۔ ۔ موت ۔ ۔ ۔ زندگی ۔ ۔ ۔ پھول ۔ ۔ ۔ اڈیٹر ۔ ۔ ۔ اور جی ۔ ۔ ۔ میری آزادی ۔ ۔ ۔ میں آزاد نہیں رہا ۔ ۔ ۔ یاور عطائی ۔ ۔ ۔ میں اس شخص کے لئے جوزہرہ کا باپ تھا ۔ ۔ ۔ بہت پریشان رہا ہوں ۔ ۔ ۔ وہ کیا حیرت انگیز شخص تھا ۔ ۔ مانگر جاتی ۔ ۔ مانگر جاتی ۔ ۔ مانگر جاتی کبیر کے کلام میں انتشار کی پہلی جھلک دیکھ کر ناصر ہاف مین اور زہرہ نے ایک دوسرے کی طرف متوحش نظروں سے دیکھا”

اس ناول میں ناقابل اشاعت الفاظ دماغی خلل کا نتیجہ سمجھے جانے والے فقروں کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا گیا جس نے اردو ناول کو بے باکی اوراظہار کی وسعت بخشی ہے ۔ ایسے الفاظ یا فقرے جو ایک ادیب صرف سوچ سکتا ہے لیکن لکھنے کی ہمت نہیں کر سکتا اس ناول میں بہت عمدگی سے برتے گئے ہیں وہ خیالات جو لایعنی سمجھ کر انسان اپنے اندر موجود اخلاقی چھلنی کی وجہ سے بیان نہیں کر پاتا ان لایعنی خیالات تصورات اور نظریات کا اظہار ہم کبیر مہدی سے پورے ناول میں سنتے ہیں کبیر کی بک بک یا لفظوں کی جگالی زبان کو پیچیدہ نہیں منفرد بناتی ہے۔

کبیر کی بے وقت کی جانے والی لفظوں کی تکرار ایسی مضحکہ خیز صورتحال پیدا کر دیتی ہے جو لسانی فلسفے کو سچ ثابت کرتی ہیں بعض جگہ پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناول خود اپنے اندر نئے الفاظ کی لغت لئے ہوئے ہیں ایک جگہ کبیر مہدی بھوگ بلاس استعمال کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ

”اس کے معنی عیش و عشرت، سرور وانبساط ،حظوظ نفسانی ،رنگ رلیاں ،جشن شادمانی، لطف زندگانی، آنند اور مزہ ،زندگی کے مزے ،خواہشات کا پورا ہونا ،راگ رن ،گانا ناچنا، سروتماشا، کھیل کود، لہوولعب اور تعیش”

زبان کے اس استعمال سے ناول میں مزاح پیدا ہوتا ہے جسے ناول نگار نے کومک رئیل ازم کا نام دیا ہے اس ناول میں مزاح کا استعمال سنجیدہ مقاصد کے لیے کیا گیا ہے جیسا کے آج کا فرد سنجیدہ مقاصد کے لیے  مزاح کا استعمال کرتا ہے

لفظی بْنت کو سمجھنے کے لئے ایک جگہ کبیر کی خود کلامی کو دیکھنا بہت اہم ہےکبیر مہدی کی دنیا میں لفظ کہیں بھی دنیا سے جڑے نہیں ہوتے لفظوں کی بھی اپنی ہی ایک دنیا ہے اور اپنے ہی کھیل تماشے ہیں سب نظریہ سب سچ سب جھوٹ سب یقین سب ایمان سب علم سب آرٹ سب فن سب فلسفے بس کھیل تماشے ہیں ناول کی زبان اپنے موضوع کے اعتبار سے موزوں ہے کیونکہ اس ناول میں ایک موضوع نوآبادیاتی باشندوں کا اضطراب انتشار اور پھڑپھڑاہٹ کی کیفیت کا بیان ہے تو اس طرح ناول میں یہ زبان کی لا ےعنیت انوکھی نہیں اس سب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ناول میں زبان کو ایک کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ناول کا ایک موضوع آج کے دور کا فکشن راءٹر بھی ہے اس کو عام لفظوں میں تخلیق کار بھی کہا جاسکتا ہے

کبیر کی کردار کے ذریعے مصنف نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ بدلتی ہوئی سماجی صورتحال  کا تخلیق کار کس سطح پر کھڑا ہے اور ایک طنزیہ صورتحال اس حوالے سے ناول میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

”کبیر نے قہقہ لگایا میں ایک کرائے کا ادیب ہوں بلکہ ادیب شاید زیادہ باعزت لفظ ہے میں ایک کرائے کا لکھنے والا ہو جیسے کرائے کے قاتل ہوتے ہیں ناں جی دنیا کے کسی بھی موضوع پر پائے جانے والے کسی بھی قسم کے نقطہ نظر کو ثابت کرنے کے لیے مدلل طریقے مکمل روانی طبع سے لکھ سکتا ہوں کوئی بھی آجائے معاملہ طے کرلے اور کچھ بھی لکھوالے”

پورے ناول میں کئی جگہ پر ایسے مکالمہ پڑھنے کو ملتے ہیں جس سے آج کے دور میں تخلیق ہونے والی مختلف تحریروں سے پردہ اٹھتا ہے اور ایسے تخلیق کاروں سے بھی جو تخلیقی عمل کو صرف پیسوں کا حصول سمجھتے ہیں ان کے لیے اخلاقیات اپنا نظریہ اور دیگر چیزیں اہمیت کی حامل نہیں ہوتی اس سے ایک نقطہ مادیت پسندی کا بھی ابھرتا ہے کہ آج ہر کام پیسے کی بنیاد پر ہو رہا ہے انسان اپنی اخلاقی قدروں کو کھو چکا ہے ناول میں چند بڑے موضوعات کے ساتھ کئی چھوٹی موضوعات بھی اس کا حصہ ہے جن میں جنسی مسائل نفسیاتی مسائل فلسفیانہ مسائل وغیرہ شامل ہیں جو کہ مجموعی طور پر معاشرے میں موجود مسائل کی عکاسی کر رہے ہیں۔

اس ناول کا عنوان خود اپنے اندر ایک موضوع لیے ہوئے ہے ناول میں غلام باغ علامتی طور پر استعمال کیا گیا غلاموں کا باغ جہاں موجود لوگ ذہنی طور پر غلامی کا شکار ہے اور غلامی ان لوگوں کا ایک بڑا المیہ ہے۔

”اور یہ غلام باغ یہ کیا ہے غلام باغ ہے کیا یہ کیا غلام باغ ہے کیا یہ غلام باغ ہے بکواس باغ کیسے غلام باغ ہو سکتا ہے نباتات کسی کی غلام نہیں ہوتیں حیوان حیوانات میں پالتو ہوتے ہیں غلام نہیں اور غلام پالتو کیسے ہوسکتے ہیں مگر پالتو غلام نہیں یہ منطق کا مسئلہ ہے تمام پالتو غلام یہاں مگر غلام باغ غلام نہیں ہوسکتا ۔ ۔ ۔ ۔ غلام باغ کا معمہ ۔ ۔ غلام باغ کا معمہ نہیں جنم کھنڈر کا معمہ ہے ”

دیکھا جائے تو غلام اور باغ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں غلام اسیر کی معنوں استعمال ہوتا ہے اور باغ زندگی کی علامت ہے اسی طرح کی صورت حال  ناول میں بنتی ہوئی نظر آتی ہے۔ باغ کی زندگی خوشیوں اور آزادی کی علامت ہے اور جب کوئی غلام بنتا ہے تو اس کا حشر بھیانک ہوتا ہے اس بات کو اگر نوآبادیاتی پس منظر میں دیکھا جائے تو انگریز کو یہاں سے گئے ہوئے 70 سال سے زیادہ عرص ہوچکا ہے ۔

لیکن آج بھی ہم ان کی دی ہوئی غلامی کی فضا میں سانس لے رہے ہیں آج تک اس غلامی سے نجات نہ پانے کی وجہ ہماری سوچ سے جس کو انہوں نے بڑی مہارت سے جکڑا ہوا ہے کیونکہ ہمارے پاس اپنا کچھ نہیں جو کچھ تھا اس کو نوآبادکاروں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ہمارے لیے باعث شرمندگی قرار دیے دیا اور ہمارے اندر ایک نئی سوچ پیدا کی جس کے تحت آج بھی ہم زندگی گزار رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم آج آزاد ہوتے ہوئے بھی غلامانہ سوچ رکھتے ہیں جس کو اس ناول میں بڑی عمدگی سے بیان کیا گیا ہے ۔یوں غلام باغ کی علامتی کہانی ہمارے سامنے آتی ہے جس میں یہ کردار اپنی شب و روز گذارتے ہیں وہاں بیٹھ کر بڑی بڑی فلسفیانہ باتیں کرتے ہیں غلام باغ میں موجود خزانہ بھی سماج میں موجود انسانی نفسیات کا بیان ہے یعنی انسان کس قدر تجسس کا شکار ہوتا ناول کی شروع سے آخر تک غلام باغ میں موجود خزانے کی تلاش جاری رہتی ہے جو صرف ایک واہمہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

ضرورت کے تحت سماجی تعلقات کا فلسفہ اس ناول میں مختلف جگہوں پر نظر آتا ہے اس فلسفے کا پہلا مقام گنجینہ نشاط والے یاورحسین اور خصی کلب ممبران کے درمیان نظر آتا ہے یاور حسین اور خصی کلب کے ممبران کے درمیان تعلق اس ضرورت پر مبنی ہے جو طاقت کے سرچشموں کی خشک اندرونی چشموں کو بحالی کے نسخوں کی ہوتی ہے

یاور عطائی ہرطرح کے منجمد چشموں کو رواں کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اس کی یہ خوبی اسے مانگر جاتی سے اٹھا کر ایک امیر کبیر عطائی بناتی ہے اور اس کے نسخے اسے طاقت کے سرچشموں کا پسندیدہ آدمی بناتے ہیں۔ یہ تعلقات یاور عطائی کے مرنے کے بعد ختم ہو جاتے لیکن یاور یا اس کے کسی متبادل کی ضرورت خصی کلب کو پھر بھی باقی رہتی ہے۔

غلام باغ میں سماج میں موجود ہیرو شپ کے روایتی تصور کو توڑا گیا ہے اور کرداروں کو بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق ایک گروپ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے ۔

غلام باغ میں چار کرداروں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے بظاہر یہ کردار نہ تو حقیقی ہیں اور نہ ہی تاریخی اہمیت کے حامل ہے لیکن آج کے دور میں تاریخ کے معنی بدل گئے ہیں تاریخ صرف بڑے لوگوں کی نہیں ہوتی بلکہ عام آدمی کی بھی تاریخ ہوتی ہے اور تاریخ کا تعلق ماضی سے نہیں بلکہ یہ حال اور مستقبل سے جڑی ہوتی ہے تو اس حوالے سے یہ کردار بھی تاریخی کردار ہے ۔

غلام باغ جن بڑے طبقے کے لوگوں کا ذکر ملتا ہے وہ اخلاقی پستی کا شکار ہیں وہ اقتدارجاہ و مرتبہ اور اپنی جنسی خواہش جو انسان کی جبلی خواہشات ہیں اس کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں یہ فرد کی وہ بدلتی ہوئی نفسیات ہے جس کو اس ناول میں پیش کیا گیا ہے  چاہے وہ ناول میں موجود امبر جان کیا کردار ہو یا نجم الثاقب یا پھر نواب ثریا جاہ نادر جنگ ہو یا غیاث پگل یہ سب اپنی اپنی ترجیحات کے لیے انسانی سطح سے نیچے گر جاتے ہیں۔  (یہ بھی پڑھیں ہند اسلامی تہذیب و ثقافت اور فاروقی کا ناول ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ – نورین علی حق )

ناول کے بڑے اور اہم کرداروں میں کبیر مہدی ، زہرہ ، ڈاکٹر ناصر، ہاف مین اور یاور عطائی کے کردار شامل ہیں جبکہ چھوٹے کرداروں میں مدد علی ، عاشق علی ، امدادحسین وغیرہ کے کردار شامل ہیں ۔یا ور حسین کا کردار ارذل نسل سے تعلق رکھتا ہے جو ڈاکیے خادم حسین کا بیٹا ہے وہ سوکڑ نہر کے کنارے پر تپڑیوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح رہتا ہے وہاں سے یہ انعام گڑھ آتا ہے تاکہ عزت سے زندگی بسر کر سکے لیکن یہ بات اس کا خواب ہی رہی یہاں آنے پر بھی وہ نیچ اور ذلیل ذات کی نسبت سے ہی جانا جاتا تھا اس کے بعد اس کردار میں کئی مقامات پر تبدیلی آتی ہے سب سے اہم مقام جب اس کے ہاتھ ڈاک کے ذریعے گنجینہ نشاط نامی نسخہ لگتا ہے اور پھر وہ انعام گڑھ آکر ایک عطائی کا روپ دھار لیتا ہے وہ مخصوص نسخے بناتا ہے جو کہ صرف امیر لوگوں کو بیچتا ہے ان امرا میں بڑے بڑے تاجر ، وڈیرے، وزیر ،بیوروکریٹس، مولوی اور صحافی شامل تھے ان مخصوص نسخوں کی وجہ سے تمام بڑے لوگ اس کے محتاج تھے اور وہ ان سے معاشی اور معاشرتی ہر طرح کا فائدہ اٹھاتا تھا جس کی وجہ سے اس کے دونوں بیٹے ایک کامیاب کاروبار چلا رہے تھے لیکن اس کی گھریلو زندگی میں آسودگی نہ تھی اس کی بیوی بیٹوں کے ساتھ علحیدہ رہتی تھی جبکہ بیٹی زہرہ یاور کے ساتھ رہتی تھی اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس کردار میں بدلاوَ آنے کی بڑی وجہ وہ نسلی فرق تھا جس نے نچلے طبقے کے لوگوں کو بری طرح سے متاثر کر رکھا تھا۔

ناول میں ہاف مین کا کردار ایک جرمن آرکیالوجسٹ ہے جو کہ کبیراور ڈاکٹر ناصر کا مشترکہ دوست ہے وہ پاکستان میں غلام باغ جیسے تاریخی مقامات پر ایک تھیسز لکھنے کے لیے آیا ہے اس طرح غلام باغ ان کی دوستی کا سبب بنتا ہے ایک غیرملکی ہونے اور نواب یار جنگ بہادر سے راہ رسم ہونے کی بنا پر اس کی رسائی حلقہ اقتدار تک ہوتی ہے لیکن کبیر ناصر اور زہرہ کی مشترکہ دوستی سے اْس کا اپنا مقصد کہی پیچھے رہ جاتا ہے اور وہ تاریخی کھوج کو چھوڑ کر نظریاتی بحث میں اْن کے ساتھ مل جاتا ہے لیکن آخر میں یہ کردار غلام باغ کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا ہے

اس کردار کی محبوبہ کے ذریعے ناول میں مقامیوں کے بارے میں انگریزوں کی سوچ دکھائی گئی ہے اس کے لیے یہاں پر سب سے بڑا مسئلہ لسانی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے یہ کردار گفتگو کے دوران بہت سے نظریات کو سمجھ نہیں سکتا ناول میں کئی مقامات پر یہ کردار بولتا ہوا نظر آتا ہے کہ یار انگلش میں بات کرو ۔ ۔ ۔

ڈاکٹر ناصر جس کو اس ناول میں پاگلوں کے ڈاکٹر کے طور پر پیش کیا گیا ہے یہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اس کی رہائش اندرون لاہور میں خستہ حال قدیم عمارت میں ہیں جس میں بارش کے آنے کے بعد پانی کا بھر جانا معمول ہے ناول میں اسے اپنے پیشے کے ساتھ ایماندار دکھایا گیا ہے ناصر کبیر کا بہترین دوست ہے اس طرح کبیر کا نظریہ اور مرتبہ کو بھرپور توجہ سے سنتا ہے زہرہ جب اسے ملتی ہے تو ڈاکٹر اس کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے جس پر کبیر کے ڈاکٹر کو خط لکھتا ہے۔

”بنام ڈاکٹر ناصر احمد مرحوم

یہ عشق کا رذیل ترین مقام ہے جہاں محبوب کی دشنام اور صلواتیں بھی عاشق کے کانوں میں امرت گھولنے لگتی ہیں  یہ وہ مقام ہے جو ہمارے اساتذہ شعراء کو بڑے کشٹ کے بعد نصیب ہوتا تھا اور تم ہو کہ ایک ہی زقند میں وہاں پہنچ گئے تف ہے تم پر اس حالت میں آنا، عزت نفس اور خودداری وغیرہ عاشق کو قطعاً فالتو چیزیں محسوس ہونے لگتی ہیں ”

لیکن اس عشق میں ناکامی اسے مکمل طور پر شکست وریخت کا شکار کر دیتی ہے اور آخر کار وہ غیر اخلاقی حرکت کرتے وارڈ سے پکڑا جاتا ہے اور ایک لمبا عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارتا ہے

اگر دیکھا جائے ناول میں کبیر مہدی کو کبیر مہدی بنانے والا کردار ڈاکٹر ناصر کا ہے کبیر کے کردار کی مضبوطی ڈاکٹر ناصر کے کردار سے وابستہ ہے ناول میں کئی مقامات پر کبیر کو ڈاکٹر ناصر کے کردار سے حسد کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے لیکن یہ حسد اندرونی اظہار تک ہی رہتا ہے ۔

”ناصر آخر یہ کیا بات ہے کہ میں بظاہر استہزایہ انداز میں لیکن شاید اندر سے کہیں واقعتاً تمہیں تمہارے مرتبے سے گرانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں اب اس وقت کہیں یہ تو نہیں ہو رہا کہ میں تمہارے عشق کے اس نئے تجربے سے حاسد ہو رہا ہوں میں کتنا کمینہ ہوں ظاہر ہے مجھے تو علم نہیں ۔ اب تو میرے ذہن میں ایک دم یہ خیال بھی آرہا ہے اگر اسے خیال ہی کہیں گے اور یہ ذہن میں ہی آرہا ہے کہ یہ شخص ڈاکٹر ناصر مردانہ وجاہت میں مجھ سے بڑھ کر نہیں اب یہ ایک زہرہ جمال عورت پر فریفتہ ہوا ہے اگرچہ عورت ابھی تک تو اسے دھتکار رہی ہے( دیکھا میرا لعنتی پن ۔ (اللہ اس کا بھلا کرے)لیکن کہیں ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ عورت جس پر مائل ہوجائے گا اگرچہ میں اس سے زیادہ قبول صورت مردوں اور کیا میرے پاس خام خودلذتی ہی رہے گی”

زہرہ ناول کا مرکزی نسوانی کردار جس کو ایک مضبوط کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے

مرزا اطہر بیگ نے ’غلام باغ ‘‘ میں زہرہ کے کردار کے ذریعے عورت کے کئی روپ دریافت کیے ہیں ۔ ایک بات توملتی ہے کہ عورت اپنے وجود کا اثبات مرد کے غلبے کے بغیر چاہتی ہے اگر یہ کہا جائے کہ زہرہ کے کردار کی صورت میں جدید دور کی عورت کو دکھایا گیا تو غلط نہ ہوگا یہ باغی کردار ہے جو معاشرے کے ہر فرد سے لڑنے کے لیے تیار رہتا ہے اس کے سامنے جنسی امتیازات کوئی معنی نہیں رکھتے اور وہ ناول میں موجود تین مرد کرداروں جن میں دو مقامی اور ایک جرمن شامل ہیں ان کے ساتھ بلاجھجھک ہر موضوع پر بات کرتی ہے وہ اپنے باپ یاور حسین کی وفات کے بعد اْس گھر کی مالکیت کے لیے آخری دم تک لڑتی ہے وہ اپنی شناخت کی کھوج کے لیے انعام گڑھ کا رخ کرتی ہے جس کے دوران مشکل مسائل کا سامنا کرتی ہے۔

ناول میں کبیر اور زہرہ کا تعلق بھی ایک معمہ کے طور پر موجود ہے ایک خاص تعلق جو چار لوگوں میں سے دو کی نفی کرتا ہے ان کی قربت ان کی بیچ کے خلا کو ختم کر دیتی ہے اس تعلق میں مسکراہٹ بھی مخصوص ہو جاتی ہے۔

پھر وہی زہرہ خود سے سوال کرتی ہے کے کیا تعلق میں آزادی سے محروم ہونا پڑتا ہے کیا چار کی غلامی ختم ہونے کے بعد دو کی غلامی شروع ہوگی تعلق میں کچھ نہ کچھ تو اپنے آپ سے محروم ہونا ہوگا اور نہ ہی زبردستی کی یکطرفہ قربت ٹھونسنے بن جاتی ہے لیکن وہ سوچتی ہے کہ یہ اسے کبیر کے لیے ہی کیوں محسوس ہوتا ہے۔

تعلقات کس دنیا میں کبیروں میں دو باقی کردار پہ حاوی نظر آتا ہے ناول میں زہرہ کے کردار کے اندر چیزوں کو کھوجنے کی خصوصیت مختلف مقامات پر دکھائی گئی ہے ۔یاور ہاوَس میں ہونے والی پارٹی کا حال اور اس میں ہونے والے عمل جس کے بارے میں زہرہ متجسس ہے خود دیکھنے کا انتظام کرتی ہے یہاں ناول نگار بڑی خوب صورتی سے جدید عورت کی نفسیات کو سامنے لاتا ہے اور اس حصے کو ناول بڑی عمدگی سے پیش کیا گیا ہے یہ واردات کئی صفات پر پھیلی ہوئی ہے ۔

کبیر اس کو کافی حد تک متاثر کرتا جب اس کی قربت کبیر سے بڑھتی ہے تو بے اختیاری طور پر کبیر کی لکھنے میں بھی مدد کرتی ہے اس وقت زہرہ کے کردار میں مزید مضبوطی کا اندازہ ہوتا ہے جب وہ آگ میں جھلستے اولڈ بک اسٹور میں گھس کر کبیر مہدی کو بچا لیتی ہے اسے اْسے ان سب معاشرتی رویوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے جب وہ تین مردوں اور پھر ایک مرد کے ساتھ گھومتی ہے عام گھریلو نوکرانی سے لے کر پولیس افسر تک ہر فرد اس کے کردار پر انگلی اٹھاتا ہے

ناول میں وہ کبیر مہدی کی سطح کا واحد کردار ہے جو کبیر کو ہر سطح پر خاموش کروا دیتا ہے چاہے وہ نظریہ بازی کا میدان ہو یا لا یعنی باتوں کا اپنے سوالات اور جوابات سے اس کو خاموش کروا دیتی ہے

باب نمبر تیرہ عشق پر ایک ناقابلِ یقین مکالمہ میں زہرہ عشق پر بات کرتے ہوئے کہتی ہے۔

”تم تینوں اپنی اپنی جگہ اپنی اپنی مردانگی سمجھتے ہو کہ میرے لئے کافی ہو مگر ۔ ۔ ۔ ۔ میں ۔ ۔ ۔ اعتراف کرتی ہوں کہ میں سمجھتی ہوں کہ تم میں سے کوئی بھی اکیلا اکیلا میرے لئے کافی نہیںاگر عشق کچھ ہے تو مجھے تم تینوں کے کسی مثالی مشترک وجود سے ہے”

اس اقتباس سے زہرہ کے کردار کی سوچ واضح ہوتی ہے وہ تین مردوں کو ایک مشترکہ وجود کے طور پر دیکھتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عام لڑکیوں کی طرح نہیں سوچتی یہی انفرادیت اس کردار کو مضبوط بناتی ہے۔

”اچانک زہرہ نے اپنے سر کو اپنے مخصوص دو تین اضطرابی جھٹکے دیئے اور ایک عجیب سی گہری بدلی ہوئی آواز میں بولی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب کبیر نے ناصر کو چیلنج کیا تھا کہ آوعشق پر باتیں کریں تو اضطراری طور پر میرے منہ سے یہی فکر نکل گیا تھا آو عشق پر باتیں کریں اور مجھے اس پر خفت محسوس ہوئی تھی کہ میں نے کیا کہہ دیا مگر پھر مجھے اپنی اس بات پر غصہ آیا تھا کہ یہ کیا ہے کیا مجھے اس موضوع پر ایسے بات اس لیے نہیں کرنی چاہیے کہ میں عورتوں ہوں یہ تینوں مرد کیا مجھے اس دباوَ میں رکھیں گے کہ میں ایک عورت ہوں اس لئے مجھے بے باکی سے اس پر بات نہیں کرنی چاہیے مجھے پر اور بھی غصہ آگیا تھا اور پھر میں نے اسی بات کو اپنا لیا تھا آو عشق پر باتیں کریں کچھ بھی ہو کیسی بھی ہو ۔ ۔ ۔ ۔میں تو تیار تھی”۔

ناول میں کئی مقامات ایسے آتے ہیں جب زہرہ عورت کے روایتی تصور کو توڑتی ہوئی نظر آتی ہے یہ کردار جدید عورت کی نفسیات کا نمائندہ کردار بن کر ناول میں نمایاں ہیں ۔ناول کا سب سے مضبوط اور مرکزی کردار کبیر مہدی ہے جو کہ سنیمال کے ایک دیہات سے اٹھ کر بڑے شہر میں شام سندر روڈ پر موجود اولڈ بک سکالر نامی ایک عمارت میں رہتا ہے جو کبیر کی بک بک کے مطابق گھونسلہ ہے۔ اس گھونسلے میں کبیر کے علاوہ پرانی بوسیدہ سلین زدہ کتابیں ہر طرف موجود ہے جن کے درمیان کبیر رہتا ہے کبیر ایک قلمی طوائف ہے جو کہ مختلف قلمی ناموں سے مختلف رسائل میں تحقیقی مضامین لکھتا ہے جن ناموں میں سارنگ ، ابن بشر ، آدم زاد شامل ہیں اسے ہر موضوع پر یکساں گرفت حاصل ہے اسے ناول میں اسے ہر فن مولا کے طور پر پیش کیا گیا اپنی لایعنیت اور بک بک کے باوجود نہ صرف اس ناول کا بلکہ اردو ادب کا ایک طاقت ور ترین کرداروں میں سے ایک کردار ہے جو غیر سنجیدہ ہونے کے باوجود اپنی نظریہ بازی کے پیچھے مکمل مطالعہ رکھتا ہے وہ کہانی کو اس طرح نپے تلے الفاظ میں اور انداز میں چلاتا ہے جیسے وہ ہی فکشن کا خالق ہو بعض جگہ پر تو وہ مصنف سے بھی طاقتور محسوس ہونے لگتا ہے۔اس کے سامنے آنے والا ہر شخص چاہے کتنا ہی طاقتور اور فکری و علمی حوالے سے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو اس کا اسیر ضرور ہو جاتا ہے۔

اس کا نیلا رجسٹر ہو ،لا لکھائی ہو ، ناصر کو لکھے گئے طویل خط ہوں یا بیت الققنس میں لیٹے ہوئے لکھوائی گئی اور کٹوائی گئی تحریریں سب اپنے اپنے اندر ایک الگ جہان آباد کیے ہوئے ہیں اْس کا آخری سانس تک مکالمہ کہانی کو آگے بڑھتا ہے اس مکالمے کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی موجود ہو بلکہ وہ خود سے مکالمہ کرکے بھی کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ وہ ایک سطح پر خالق ہے اور ایک سطح پر نقاد ناول میں موجود یہ فقرہ کس قدر اہم اور گہرا ہے جو اپنے اندر وسعت معنی کا ایک جہان لیے ہوئے ہیں جس کا اطلاق نہ صرف افسانوی بلکہ غیر افسانوی دنیا پر بھی ہوتا ہے۔

میں خدا نہیں ہوں میں شیطان بھی ہوں خدا تخلیق کرتا ہے شیطان تنقید کرتا ہے

اس ناول میں نیلے رجسٹر کو بڑی اہمیت حاصل ہے جس کو کبیر کی ذاتی ڈائری بھی کہا جاسکتا ہے جو کہ اس کے ذاتی احساسات وخیالات پر مشتمل ہے جسے وہ بک بک کہتا ہے کبیر سماج کا ایک ناکام لکھاری ہے یہ احساس جب اس کے لیے عذاب بن جاتا تو ایک سطح پر وہ فیصلہ کرتا ہے کہ جو بھی بکواس میرے ذہن میں آرہی ہے اْسے لکھتا چلا جاؤں چلو بک بک ہی ایک صنف ادب بن جائے گی کبیر کی تحریری بکواس کو مرزا نے قاری کی دلچسپی کے لئے ناول کے واقعات سے جوڑ دیا ہے ۔اس طرح بک بک کے ساتھ ناول کے واقعات نیلے رجسٹر کے ذریعے آگے بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرح قاری کے لیے دلچسپی کا پہلو بھی برقرار رہتا ہے اور کبیر کے مسائل بھی ساتھ چلتے رہتے ہیں ۔

ناول میں کبیر کا کردار کنفیوز کردار ہے وہ آج کے فرد کی طرح باتیں بہت کرتا ہے لیکن عملی سطح پر کچھ نہیں کرتا اْس کی صورت میں ہ میں ایک جدید دور کا فرد نظر آتا ہے جو کسی بھی صورت میں مطمئن نہیں ہو رہا جو عمل سے زیادہ تھیوریز اور تصورات پیش کرتا ہے اور جو پیش کرتا ہے اْس سے بھی مطمئن نظر نہیں آتا۔

کبیر پیسے لے کر رسالوں میں مختلف ناموں سے لکھتا ہے ناول میں ایک جگہ زہرہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے

”سچ اور جھوٹ طاقتور کی عیاشی ہے سچائی، حقیقت، اچھائی، اقدار اس طرح کی دوسری بک بک پر مبنی نظریے مخالف کو زیر کرنے کے ہتھکنڈے ہیں کمزور کو اس کی جگہ پر رکھنے کی داوَپیچ ہیں میں صرف اتنا کرتا ہوں کے آرڈر پر ضرورت مند کی پیمائش کے مطابق لفظوں کے پھندے تیار کرتا ہوں نظریوں کے جال بن دیتا ہوں دلیلوں کے شکنجے کس دیتا ہوں اس لئے کہ میں مکمل طور پر کرائے کا ادیب Sir I am, writer mercenery   میرا قلم مکمل طور پر قابل فروخت ہے عورت کی آزادی پر دس دلائل ہیں تو اس کی مخالفت میں 11 دلائل ہیں جمہوریت کی بحالی پر دس دلائل تو آمریت کی عظمت پر پچاس دلائل”۔

اس اقتباس سے ہمارے سامنے اس کردار کی نفسیات کھل کر سامنے آتی ہے باب 15 سے 19 تک ناول کبیر کے نیلے رجسٹر کے مندرجات پر مشتمل ہے اگر یوں کہا جائے کہ نیلا رجسٹر ایک سحر ہے تو غلط نہ ہوگا جس میں قاری مکمل طور پر کھو جاتا ہے ان ابواب میں مختلف انداز سے چیزوں کا بیان ملتا ہے باب 15 کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے ۔فکشن کے خالق کو خدا بننے کا اختیار کس نے دیا اس کی ہر افسانوی حرکت میں خدا بننے کا دعوی چھپا ہوا ہے اسے ایسا عالم کل اور قادر مطلق بننے کا حق کس نے دیا ۔یہ سب بعد باتیں رجسٹر کا حصہ جس سے ناول میں ایک اور رنگ پیدا ہوتا ہے کبیر کی روزی روٹی اخبار اور اور رسالوں میں لکھے گئے کالم اور تحقیقی مضامین اور تھیسز وغیرہ سے جڑی ہوئی ہے جب کے کرائے کے طور پر وہ اولڈ بک ہاوَس میں آنے والی سیکڑوں کتابوں کو ان کے مضامین کے مطابق الگ الگ رکھتا ہے ۔

کبیر کے موت کا تجربہ اس ناول کے قاری کے لیے ایک اکلوتے انسان کی موت کا تجربہ ہے بلکہ ایسا انسانی المیہ ہے جو استحصالی قوتوں کے سامنے سوال اٹھانے والوں کی شکست و ریخت سے عبارت ہے۔ کبیر کی موت کا تجر بہ مصنف کی کمال فن سے قاری کے رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے اور یوں ناول ختم کرنا آسان ہے کبیر کا ختم کرنا مشکل ہے۔ وہ ایسا انسان ہے جو اپنی زندگی میں ہر یہ اپنی سیماب صفتی کی وجہ سے اپنے اور دوسروں کے لیے جنون آمیز کردار کی صورت میں زندہ رہتا ہے اور اپنی موت کےبعد سوال بیان کر تمام بیان کی فضاؤں میں تحلیل نہیں ہوتا بلکہ ایک مستقل بازگشت بن جاتا ہے ۔

ناول میں دکھائی گئی کبیر کے کردار کی ذہنی کشمکش ،اضطراب اور انتشار صرف ایک ادیب یا لکھاری کا اہم مسئلہ نہیں بلکہ آج کی نوجوان نسل کا اہم مسئلہ ہے خاص کر اْن نوجوان کے لئے جو ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا سوچنے یا کرتے رہنے کے عادی ہوتے ہیں مجموعی طور پر یہ کردار مضبوط متحرک اور کہانی کو دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

غلام باغ ایک ایسی دنیا ہے جس میں داخل ہونے کے لئے جتنی قوت متخیلہ درکار ہے اْس سے کہیں زیادہ احساس محرومی یا کھوکھلا پن اس ناول کو ختم کرنے کے بعد محسوس ہوتا ہے عام طور پر یہ روایت ہے کہ لکھاری اپنا کوئی بڑا تخلیقی کام آخری وقت میں سر انجام دیتا ہے لیکن مرزا صاحب نے اپنا آغاز ہی ایک اعلی تخلیقی فن پارہ لکھ کر کیا ان کا تخلیقی سفر ہنوز جاری ہے۔

اس ناول میں کردار اہم ہو یا غیر اہم اپنی پوری شخصیت کے ساتھ نظر آتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا نے اس ناول میں کردار نگاری کو جو کمال بخشا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے سب سے مشکل امر اس ناول میں ہونے والے واقعات کو کنٹرول میں رکھنا ہے جب کہ اس ناول میں تو ہر لمحے میں کوئی نہ کوئی واقعہ یا سوچ رونما ہورہی ہے۔ اور پھر ان سوچوں یا واقعات کو تحریر میں بیک وقت لانا یہ فن کی معراج ہے جو ہ میں اس ناول میں جابجا نظر آتی ہے اگر منظر نگاری کی بات کی جائے تو سالٹ رینج کی پہاڑیوں سے سنیمال اور انعام گڑھ جیسے قصبوں کے ساتھ ساتھ بڑے شہر کے علاقوں کی منظر نگاری تمام مقامات کو واضح کرکے قاری کو تخیلاتی طور پر اپنے قابو میں کر لیتی ہے۔

ناول میں کئی جگہ پر حیران کن کے کرداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں ننگا سائیں جیسے کردار شامل ہیں ناول میں ننگے سائیں اور اس کے رہن سہن کو جس انداز میں بیان کیا گیا ہے وہ بھی قابل دید ہے ۔ ناقدین نے اس ناول میں فلسفیانہ بیان پر تنقید کی ہے لیکن غلام باغ میں فلسفہ متن سے اکھڑ کر ناول کی سطح پر تیرتا ہوا نظر دکھائی نہیں دیتا بلکہ متن میں جذب ہو کر کہانی کی بہتی دھار کا اٹوٹ حصہ بن جاتا ہے غلام بار میں بیان فلسفہ بیانیے کا ایک نامیاتی جز ہے ۔

اس ناول کا آغاز بھی کیفے غلام باغ کے منظر سے ہوتا ہے آخر بھی غلام باغ پر ہوتا ہے اس طرح کہانی ہ میں غلام باغ کے اردگرد گھومتی نظر آتی ہے یہی وہ دائروی تکنیک ہے جس کا مضمون کے شروع میں ذکر کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس ناول میں سماج کی بدلتی ہوئی صورتحال کو جدید اسلوب کے ساتھ جس طرح مرزا اطہر نے بیان کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ناول میں سماجی رویوں کو کرداروں کے ذریعے باریک بینی سے پیش کیا گیا کہانی میں سب اپنی سماجی ضرورتوں کے تحت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں چاہے وہ خصی کلب کے ممبران کی صورت میں ہو یا غلام باغ کی صورت میں ناول میں قاری ایک متوازی سماج کی پیشکش دیکھتا ہے سماجی مسائل کا بیان بھی بڑی منفرد انداز میں کیا گیا ہے ۔

خصی کلب کا مسئلہ کہانی میں موجود دیگر کرداروں کے مسائل سے یکسر مختلف ہے یہی وجہ ہے کہ ایک سماج میں موجود لوگوں کے مسائل کو تخلیق کار نے مختلف طرح سے پیش کیا ہے لیکن اس کہانی کا ایک کردار جو موت کے بعد بھی کہانی کی فضا میں زندہ رہتا ہے اس کی موت خود ایک سماجی عمل اور سوچ کا بھرپور اظہار بن کر سامنے آتی ہے طاقتور اور کمزور کے درمیان ہمیشہ طاقتور کی جیت کو کبیر مہدی کی موت سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ نکتہ سمجھانے میں مصنف پوری طرح کامیاب نظرآتا ہے کہ سماج میں غلبہ صرف طاقتور افراد کے پاس ہوتا ہے کمزور چاہے جتنا بڑا دانشور کیوں نہ ہو وہ سماجی سطح پر ہمیشہ بے بس نظر آتا ہے ۔

غلام باغ میں بدلتی ہوئی سماجی صورتحال جدید سماج کی عکاسی بن کر قاری کے سامنے آتی ہے اس میں بیان کیے گئے موضوعات، اسلوب اور زبان و بیان سب اسی سماجی تغیر کی مرہون منت ہے ناول میں موجود انتشار اور عدم برداشت کی کیفیت موجودہ سماج کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے مختصر یہ کہا جائے کہ بہترین ادب سماجی زندگی کے تمام رنگوں اور مسائل کو اپنا حصہ بناتا ہے تو غلط نہ ہو گا یہی وجہ ہے کہ غلام باغ میں سماجی بدلاؤ کے،مسائل اور متوازی سماج کو بھی کمال مہارت کے ساتھ کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

 

سیدہ ہما شیرازی

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

سیدہ ہما شیرازیغلام باغمرزا اطہر بیگ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
خود شناسی – نسیم اشک
اگلی پوسٹ
فیض کی شاعری : کچھ اشارے – عابد سہیل

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں