Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

اُردونظم میں نامیاتی وحدت ایک مطالعہ – عمیر یاسر شاہی

by adbimiras جولائی 29, 2021
by adbimiras جولائی 29, 2021 0 comment

ادب  عربی زبان کا لفظ ہے اورمختلف النوع مفہوم کاحامل ہے۔قدیم عربی میں اس سے مراددعوتِ طعام تھی۔عرب معاشرے میں مہمان نوازی کوحسنِ اخلاق کی علامت سمجھا جاتاتھا۔لہذاادب کا لفظ تہذیب واخلاق کے معنوں میں استعمال ہونے لگا،بعد میں ایک اورمفہوم بھی شامل ہواجسے ہم مجموعی لحاظ سے شائستگی کہہ سکتے ہیں۔عربوں کے نزدیک مہمان نوازی لازمہ شرافت سمجھی جاتی ہے،چنانچہ شائستگی،سلیقہ اور حسنِ سلوک بھی ادب کے معنوں میں داخل ہوئے۔قبل از اسلام خوش بیانی کواعلیٰ ادب کہا جاتا تھا ،گھلاوٹ،گداز،نرمی اور شائستگی بھی ادب کا لازمہ ٹھہریں۔اسلام کی پہلی صدی میں ادب میں تعلیم کامفہوم بھی شامل کرلیاگیا،کیوں کہ تعلیم کی طرح ادب کا مقصد بھی انسان میں شائستگی وسلیقہ پیداکرنا تھا۔لہذاادب کالفظ اُن تحریروں کے لیے استعمال ہونے لگا جوانسان کے اندر عمدہ اخلاق پیدا کرسکتی تھیں ۔

مغرب میں ادب کے لیےلٹریچرکالفظ استعمال ہوتا ہے ۔یہ لفظ لاطینی لفظ لٹریراسے بنا ہے ۔اس کے معنی حرف کے ہیں ۔کیوں کہ ادب لفظوں سے ترتیب پاتا ہے اور لفظ حروف سے مل کر اپنا وجود قائم کرتے ہیں ،اس لیے لٹریچر کالفظ ادب کے لیے استعمال ہونے لگالیکن لفظ لٹریچر اپنے معنی کے حساب سے بہت وسیع اور متنوع الجہات لفظ ہے۔ادب کے حوالے سے ڈاکٹرسید عبداللہ اپنی کتاب "اشاراتِ تنقید” میں رقم طرازہیں ۔

"ادب وہ فن لطیف ہے جس کے ذریعے ادیب جذبات وافکار کو اپنے خاص نفسیاتی وشخصی خصائص کے مطابق نہ صرف ظاہر کرتا ہے بلکہ الفاظ کے واسطے سے زندگی کے داخلی اور خارجی حقائق کی روشنی میں ان کی ترجمانی و تنقید بھی کرتا ہے اور اپنے تخیل اور قوتِ مخترعہ سے کام لے کر اظہار وبیان کے ایسے موئثر پیرائے اختیار کرتا ہے ۔جن سے سامع وقاری کا جذبہ وتخیل بھی تقریباََ اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح ادیب کا اپنا تخیل اور جذبہ متاثر ہوا۔”(1)

اُردو زبان میں ان خصوصیات کی حامل تحریریں اُردوادب کہلائیں گی اور باقی ہر زبان کی تحریریں اس زبان کا ادب کہلائیں گی۔ادب کواگرمنقسم کیا جائے تواس کی دواقسام سامنے آتی ہیں ۔جن میں منثورادب اور منظوم ادب شامل ہیں ۔

منثورادب خیالات وجذبات کے اظہار کاسیدھاسادھا،بے تکلف اور قدرتی ذریعہ نثرہے۔نثرکے لفظی معنی بکھیرنے کے ہیں ۔یہ تحریری اور تقریری زبان کی عام اور سادہ شکل ہے جس میں قواعد کی پابندی توکی جاتی ہے مگر وزن وبحور کاالتزام نہیں ہوتا۔نثراورنظم کا ایک عام اور سادہ فرق یہ ہے کہ بہترین الفاظ کااستعمال نثرہے جب کہ بہترین الفاظ کا بہترین استعمال شاعری ہے۔نثری اصناف میں داستان،ناول،ڈرامہ،افسانہ،مکتوب نگاری ،انشائیہ اور سفرنامہ شامل ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں  ذوق شکنی کی اساس کا تجزیاتی مطالعہ – عمیر یاسر شاہین )

منظوم ادب خیالات وجذبات کادوسرااندازِ تکلم ہے۔اظہارکے اس اندازکا بنیادی جزوشعرہے۔شروع سے ہی نظم شاعری کے معنوں میں مستعمل ہے ۔جس کے مطابق ہرکلامِ منظوم نظم ہےلیکن نظم کے ایک محدودمعنی بھی ہیں جس کے مطابق نظم ایک صنفِ سخن ہے۔منظوم اصناف میں مثنوی،قصیدہ،غزل،مرثیہ،رباعی اورنظم شامل ہیں ۔

وسیع معنوں میں پورے منظوم ادب کونظم کہا جاتاہے جس میں تمام شعری اصناف شامل ہیں بلکہ وسیع معنی میں توہرکلامِ موزوں یعنی شعرکونظم کہاجاتاہے۔مگر محدودمعنی میں دیکھا جائے تو نظم منظوم ادب کی ایک صنف کے طورپربھی سامنے آتی ہےلیکن منظوم ادب کو منقسم کرنے سے اس کی دواقسام سامنے آتی ہیں جن میں غزل اور نظم شامل ہیں ۔ اب نظم میں تو غزل کے علاوہ تمام اصنافِ شعر سماجاتی ہیں جن میں مثنوی سے لے کر نثری نظم تک تمام اصناف شعر شامل ہیں  ۔نظم کو جب مزید تقسیم کیاجائے تواس میں کلاسیکی نظم جس میں مثنوی،قصیدہ اور مرثیہ قابل ذکراصناف ہیں اور جدید نظم جس میں پابندنظم،نظمِ معریٰ اورآزادنظم قابل ذکرہیں کیوں کہ اکثرناقدین نثری نظم کومنظوم ادب میں شامل کرنے سے گریزاں نظرآتے ہیں اور وہ اس کو سرے سے نظم ماننے سے ہی انکاری ہیں ۔

ہماراموضوع اُردونظم میں نامیاتی وحدت کاتصور ہےاس لیے یہ تخصیص ضروری ہے ۔کیوں کہ وسیع ترمفہوم میں نظم سے مراد پوری شاعری ہے ۔لیکن شاعری کے باب میں غزل کے علاوہ تمام اصناف شعرکونظم شمار کیا جاتا ہے۔جس سے مثنوی،قصیدہ،مرثیہ ،رباعی اورقطعات بھی نظم کے زمرے میں آتےہیں ۔مگران سب اصناف کی اپنی الگ ایک پہچان اور شناخت ہےاس لیے وہ نظم میں شمارنہیں کی جائیں گی ۔نظم میں وہی چیزیں زیر بحث رہیں گی جن کوبطورصنف نظم کہاجاتاہے ۔اس میں نظم کی تینوں اقسام پابندنظم،نظمِ معریٰ اور آزادنظم شامل ہیں۔

نظم کی تخصیص کے بعد نامیاتی وحدت کی طرف آتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے اور نامیاتی وحدت کاادب سے کیا رشتہ ہے؟نامیہ ایک زندہ اور ثابت وجود کوکہاجاتاہے۔اسی سے نامیاتی کاوجود نکلتاہے جیسے اقبال سے اقبالیاتی ادب یعنی اقبال پرلکھاجانے والا ادب،غالب سے غالبیات یاغالبیاتی ادب یعنی غالب پرلکھاجانے والا ادب لیا جاتاہے۔اسی طرح نامیاتی سے مرادنامیہ سے متعلق معلومات وعلم کوکہا جائے گا۔نامیہ کی خوبی یہ ہے کہ اس کے تمام اجزاء اپنی منفردحیثیت اور پہچان بھی رکھتے ہیں اور جب وہ کسی ساخت سے ملتے ہیں توساخت کے ساتھ مل کر ایک اکائی میں ڈھلتے نظرآتے ہیں جس سے وہ اجزاء پوراایک نظام بناتے ہیں ۔یعنی ایک زندہ جسم بناتے ہیں  اوراس کااثراجزاء سے زیادہ ہوتاہے۔

وحدت  کے لغوی معنی ایک ہونا کے ہیں ۔ایک ہونا،ایک لگنا،بہت سی اکائیوں کاایک کل میں مل کرایک نظرآنا اوروحدت ویکتانیت بھی مرادلیا جاتاہے۔نامیاتی وحدت سے مراد یہ ہے کہ نامیہ کے اجزاء کاایک لڑی میں جڑکرایک ہونا،ایک ہوجانا،ایک لگنا اورایک نظرآناکے ہیں ۔وحدت سے تمام جزوکل میں ڈھل کرایک اکائی بناتے نظرآئیں گے اس کونامیاتی وحدت کہاجائے گا کہ تمام اجزاء کل میں ڈھل کرکل نظرآرہے ہیں ۔ ( منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث کااجمالی جائزہ (حصہ اول) – عمیریاسرشاہین )

انسانی جسم مختلف اجزاء یعنی آنکھ،سر،کان،ناک،ہاتھ،پاؤں ،بازو،ٹانگ،انگلی اوراسی طرح بہت سے اجزاء سے مل کرایک انسانی وجود قائم کرتاہے۔ان اجزاء کی اپنی منفردپہچان اور شناخت ہے مگرجب یہ سارے اجزاء ملتے ہیں توایک خوب صورت انسانی جسم وجود میں آتاہےجس کی طاقت منفرداجزاء کی نسبت کئی درجے زیادہ ہے،مگران اجزاء میں سے ایک جزوبھی کم ہوتوجسم میں ایک کمی سی محسوس ہوگی جس سے ایک مضبوط جسم کی نسبت ایک خلا نظرآئے گااورایک مکمل جسم کی نسبت کمزورنظرآئے گا۔ان ظاہری اجزاء کے ساتھ ساتھ کچھ داخلی اجزابھی ہوتے ہیں جن میں قوتِ بصارت،قوت گویائی،قوت سماعت  اورحواسِ خمسہ وغیرہ جن سے جسم خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ طاقت وربنتاہے۔لہذاداخلی اجزاء یاخارجی اجزاء میں سے اگرایک اجزاء بھی نہ ہوتوخرابی پیداہوگی ۔اگرکوئی خارجی جزوکم ہوگاتوجسم کی خوب صورتی پر حرف آئے گااوراگر کوئی داخلی جزوکم یا کمزور ہوگا توطاقت اور کام کرنے کی قوت کمزور ہوگی۔

اسی طرح شاعری کے فکری وفنی اجزاکاایک دوسرے سے مربوط ہونا شعری متن کے لیے خوب صورتی کا باعث بنتاہے۔فکرکے ساتھ فنی لوازمات کا ربط وتسلسل فن پارے کے لیےاہمیت کاحامل ہے کیوں کہ اگرفکرکے ساتھ فنی لوازمات وشعریات میل نہ کھاتے ہوں تووہ فن پارہ ایک اچھااوراعلی فن پارہ شمارنہیں ہوتا،فکرکوفنی لوازمات خوب صورت ،دل نشیں اور دلربا بناتے ہیں ۔فنی لوازمات میں ہئیت،بحر،قافیہ وردیف،تشبیہ واستعارات،تلمیحات،الفاظ کاچناؤ اورانتخاب،روزمرہ اور محاورات کااستعمال خیال سے مربوط اور منسلک ہونا لازم ہے تاکہ کوئی چیزمبہم ،اضافی،غیرضروری اورفضول نظرنہ آئے اور نہ کہیں کوئی کمی یاخرابی نظرآئے تب  ایک فن پارہ اعلیٰ فن پارہ شمارہوگا اوراس کاآفاقی اورعالمگیر کہا جاسکے گا وگرنہ سطحی اور عامیانہ فن پارہ شمارہوگا۔

نامیاتی وحدت کا تصوریا نامیاتی وحدت نئی تنقید کی اصطلاح ہے ۔مگراتنی نئی بھی نہیں کہ اسے آج کی پیداوارکہہ دیاجائے ۔ہاں اتناضرور کہا جاسکتاہے کہ اُردوادب میں یہ نوواردکی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے لیے ماضی میں کئی طرح کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس لیے یہ اصطلاح نئی لگتی ہے کیوں کہ ہوبہویہ الفاظ نہیں ملتے ۔اُردوتنقید میں یہ اصطلاح مغربی تنقیدسے آئی ہے۔مغرب میں سب سے پہلے ارسظوکے ہاں اس کے نشانات نظرآتے ہیں ۔ارسظونے اپنی کتاب بوطیقامیں ڈرامے کے حوالے سے وحدت کاذکرکیا ہے کہ اس کے اجزاء آپس میں باہم مربوط ہونے چاہیے تاکہ ایک وحدت نظر آئے،ارسطونے ٹریجیڈی کے چھ حصے قائم کیے جو اس کی صفت کاتعین کرتے ہیں جن میں پلاٹ،کردار،زبان وبیان،خیال،تماشا اور گیت ہیں ۔ارسطونے کہاکہ ان اجزاء میں وحدت نظرآنی چاہیے اوران اجزاء میں سے ہرجزوکواس سلیقے سے مرتب کیا جائے کہ اس میں کچھ بھی کمی نہ رہے اور نہ کچھ اضافی یا فضول لگے کہ جس کونکال دینے سے بھی ڈرامے پر کوئی اثر نہ پڑے تویہ کمزوری اور خرابی ہوگی اور اس ڈرامے کوکامیاب نہیں کہا جائے گا۔

ارسطو،افلاطون کے شاگردتھے مگراس نے افلاطون کے تصورِ نقالی کورد کیا ،افلاطون نے کہا تھاکہ شاعری نقل درنقل ہے مگرارسطواس حق میں نہیں بلکہ وہ شاعری کے لیے چندچیزیں لازم قراردے کراس نقل کوصحیح تسلیم کرتے ہیں ۔ارسطوکا کہنا ہے کہ شاعری میں اضافی چیززہر قاتل ہے اور ترتیب وربط شعر کے لیے لازم ہے اس حوالے سے وہ اپنی کتاب” پوئٹک”میں لکھتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث کااجمالی جائزہ (حصہ دوم) – عمیریاسرشاہین )

"پس جس طرح تقلیدی فنون میں ایک نقل،ایک ہی چیز کی ہوتی ہے۔اسی طرح اس صورت میں بھی چونکہ روئداد ایک ہی عمل کی نقل ہے اس لیے اُسےایک ایسے عمل کی نقل ہونا چاہیے جوواحد اورمکمل ہو۔اس کے اجزاء اس طرح باہم مربوط ہوں کہ اگر اُن میں سے ایک کی بھی ترتیب بدل دی جائے یا اُسے خارج کردیا جائےتوپورا(عمل)تباہ ہوجائے،یا بالکل بدل جائے،کیوں کہ وہ چیزجو رکھی بھی جاسکتی ہو،اور نکالی بھی جاسکتی ہو،اور اُس سے کوئی فرق محسوس نہ ہو،تو حقیقی معنوں میں جزونہیں کہلا سکتی۔”(2)

اسی طرح اتحاد اورپلاٹ میں وحدت کے حوالے سے ارسطوکا نقطہ نظرملاحظہ کیجیے ،ڈاکٹرجمیل جالبی اپنی کتاب "ارسطو سے ایلیٹ تک”میں ارسطو کی کتاب بوطیقاکی تلخیص کرتے ہوئےلکھتے ہیں۔

"پلاٹ کوایک مکمل وحدت کامظہرہوناچاہیے۔اس کے مختلف واقعات کی ترتیب ایسی ہونی چاہیے کہ اگران میں سے کسی ایک کو ذراہٹا کر دوسری جگہ رکھ دیا جائے یاخارج کردیا جائےتووحدت کااثر بری طرح خراب ہوجائے۔کیوں کہ اگرکسی چیز کی موجودگی یا عدم موجودگی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا ہے تواس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس مکمل چیز کا اصلی اور ضروری حصہ نہیں ہے۔”(3)

ارسطوکانقطہ نظریہ ہے کہ تمام اجزاء ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور مربوط ہوں تاکہ ان میں وحدت قائم ہوسکے اگرکوئی جزوبھی اضافی ہوگا تویہ فن پارے کی خرابی شمارہوگی۔اسی طرح ایک اور مغربی نقاد کالرج اپنی کتاب "بایوگرافیالٹریریا” میں "نظم اورشاعری”کے عنوان کے تحت نظم کے اجزاء میں ربط واتحاد کونظم کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں ۔ڈاکٹرجمیل جالبی اپنی کتاب”ارسطو سے ایلیٹ تک” میں کالرج کے نظریات کاترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

"اگرایک حقیقی نظم کی تعریف درکار ہے تومیراجواب یہ ہوگا کہ وہ نظم لازمی طور پر ایسی ہوجس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو باہمی طور پر آگے بڑھا رہاہواورایک حصہ دوسرے حصے کی وضاحت کررہا ہو،اور سارے حصے اپنے تناسب کے اعتبار سے ہم آہنگ ہوں اور عروضی نظام کے مقصداورمعلوم اثرات کوآگے بڑھا رہے ہوں ۔”(4)

کالرج نے نظم کے حوالے سے جو پیمانےمرتب کیے یہی دراصل نامیاتی وحدت ہے ،کہ نظم کا ایک ایک جزودوسرے جزوکے ساتھ جڑاہوا اور مربوط ہوں تاکہ نظم کے تمام اجزاء مل کر ایک وحدت قائم کرتے دکھائی دیں جس سے نظم کی معنویت وحیثیت میں طاقت اور شدت پیدا ہوجائے ،مگریہ اسی وقت ممکن ہوگا جب اجزاء میں ربط موجودہوگا۔ارسطواور کالرج کے علاوہ میتھیوآرنلڈکے ہاں بھی اس طرح کے نظریات ملتے ہیں ۔آرنلڈ ہئیت اور مواد کے توازن پرزوردیتے ہیں اس حوالے سے ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی کتاب "ارسطو سے ایلیٹ تک” میں آرنلڈ کے نظریات کا ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

"آرنلڈ ہئیت اور مواد کے درمیان توازن پر زور دیتا ہے ۔عظیم فن پارہ اسی وقت تخلیق کیا جا سکتا ہے جب مواد اور ہئیت ایک اکائی بن گئے ہوں ۔”(5)

ارسطو،کالرج اور آرنلڈ کے علاوہ ورڈورتھ کے ہاں بھی یہ اشارات ملتے ہیں ۔ورڈورتھ شاعری کوعلوم کی خوشبو سے تعبیر کرتے ہیں ۔جذبات کاایسااظہار جس میں موزونیت پائی جائے اسے مصرعہ اور مصرعوں کا وہ مجموعہ جس میں معنوی وفکری ربط ہو ورڈورتھ کے نزدیک شاعری کہلاتا ہے۔یہی فکری ومعنوی ربط نامیاتی وحدت کی طرف لے جاتا ہے۔

نئی تنقیدزیادہ ترمغرب سے مستعارہے اس لیے اس کے ابتدائی نقوش بھی اہلِ مغرب کے ہاں ملتے ہیں ۔مغربی تنقیدمیں یہ اصطلاح عام ہے اور ایسے کلام کووہ کمزوراورکم درجے کا کلام تصورکرتے ہیں جس کے اجزا میں ربط وتسلسل نہ ہو۔مشرق میں بھی اس حوالے سے تنقیدی نظریات ملتے ہیں۔سب سے پہلے جن ناقدین کے ہاں اس طرح کے نمونے ملتے ہیں اُن میں الطاف حسین حالی اورشبلی نعمانی کے نام سرِ فہرست ہیں ۔شبلی نعمانی اپنی کتاب "شعرالعجم حصہ چہارم”میں شعرمیں  ترتیب اور تناسب کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔

"اگرچہ محاکات اور تخئیل دونوں  شعر کے عنصرہیں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاعری دراصل تخئیل کا نام ہے ،محاکات میں جو جان آتی ہے تخئیل ہی سے آتی ہے ورنہ خالی محاکات نقالی سے زیادہ نہیں ،قوتِ محاکات کا یہ کام ہے کہ جو کچھ دیکھے یا سُنے اُس کوالفاظ کے ذریعہ سے بعینہ اداکردے،لیکن ان چیزوں میں  ایک خاص ترتیب پیدا کرنا تناسب اور توافق کو کام میں لانا ،اُن پر آب و رنگ چڑھانا قوتِ تخئیل کا کام ہے،قوتِ تخئیل مختلف صورتوں میں عمل کرتی ہے۔”(6)

حالی اور شبلی نعمانی کے علاوہ ڈاکٹر وزیرآغا،شمس الرحمن فاروقی،ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور ڈاکٹرناصر عباس نیئر کے ہاں بھی یہ اشارے ملتے ہیں ۔ڈاکٹروزیر آغا آزادنظم میں وحدت اور نامیاتی آہنگ کے حوالے سے اپنی کتاب "معنی اور تناظر "میں لکھتے ہیں ۔

"اسی طرح آزاد نظم کے سٹرکچر کوآہنگ کی پرزور دھمک اور تکرار بھی مرغوب نہیں ،اُس کی بجائے وہ نامیاتی آہنگ کو بروئے کارلاتا ہے۔ طبلے کی پُرزور تھاپ اور تکرار اور سارنگی کی نامختتم اُبھرتی ڈوبتی ہوئی لَے میں جو فرق ہے،وہی پابند شاعری کے آہنگ اور آزاد نظم کے آہنگ میں ہے ۔مؤخرالذکر آہنگ ایک طرح کی داخلی میلوڈی کی صورت ،شعری مواد میں رچ بس جاتا ہے۔مُراد یہ کہ آزادنظم میں احساس اور احساس سے پھوٹنے والے تصورات اوراُن تصورات کوصورت پذیر کرنے والے الفاظ،سب مل جل کر ایک نامیاتی آہنگ کووجود میں لاتے ہیں ،یعنی ایک ایسا آہنگ جس میں الفاظ کا جزرومداحساس کے جزرومدپر پوری طرح منطبق ہوجاتا ہے۔”(7)

شاعری میں ربط وتسلسل اوروحدت کے مغربی ومشرقی نظریات وتصورات پربحث کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعری کے لیے اور خصوصاََجدید شاعری یعنی نظم کے لیے کن چیزوں کو لازم قرار دیا گیاہے۔یہی ربط وتسلسل اور مصرعوں میں ترتیب وتوازن اور فکروفن اور خیال ومعنی میں ربط نامیاتی وحدت کہلاتاہے۔اب  اُردونظم میں نامیاتی وحدت کے حوالے سے اطلاقی تنقید کاآغازکرتے ہیں ۔اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اُردونظم میں کس حدتک اور کن شعرا کے کلام میں نامیاتی وحدت کا تصور ملتاہے ۔اُردونظم گو شعرا نے کس حد تک اپنی نظموں میں ربط وتسلسل کو نبھایا ہے۔

ادب میں نامیاتی وحدت سے مرادفکروفن کاحسین امتزاج ہے۔کوئی بھی ادبی فن پارہ مختلف فکری وفنی اجزاکے ملاپ سے وجود میں آتا ہے ان مختلف فکری و فنی اجزا میں ربط قائم ہونااور کسی جزوکا اضافی یا غیر ضروری نہ لگنا نامیاتی وحدت کہلائے گا۔ ذریعے کوموضوع سے ہم آہنگ ہوناچاہیے،یعنی  فکر اور صنف میں وحدت،فکروہئیت میں ربط و وحدت،فکراور لفظوں کے انتخاب میں وحدت ،فکراوربحرمیں ربط،صنف کی شعریات کے عین مطابق اور فکروفن میں مکمل امتزاج اور ربط ہی نامیاتی وحدت کو جنم دیتا ہے۔نئی تنقید کا یہ نامیاتی وحدت کا ہتھیارصرف ناول ،افسانہ اورنظم کے لیے کارگرثابت ہوگا،باقی اصنافِ ادب پراس کا اطلاق بے معنی اورفضول ثابت ہوگا۔ (یہ بھی پڑھیں مُستنصرحسین تارڑکے ناول "بہاؤ” کافکری وفنی مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین  )

نظم کے معنی  ایک لڑی میں پروناکے ہیں ،جس سے تمام موتی الگ الگ موتی کی بجائے وحدت میں ڈھل کرایک ہار نظر آئیں ۔تسلسل پر مبنی اشعار کاایسامجموعہ جس میں مرکزی خیال موجودہو نظم کہلاتا ہے۔نظم ربط وتسلسل کے ایسے مجموعے کانام ہے جس کے تمام اشعارایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں ۔نظم کاایک خاص عنوان یاموضوع ہوتاہے جس کے تحت پوری نظم کہی جاتی ہے ۔موضوع سے لے کر آخرتک نظم میں ایک وحدت ہوتی ہے جس کے گردپوری نظم گھومتی نظرآتی ہے اور اسی کا نام نامیاتی وحدت ہے۔ مگربہت سے شعراکے ہاں نظم میں غیرضروری چیزیں درآتی ہیں جن سے یہ تاثرٹوٹتا دکھائی دیتا ہے ۔نظم میں وحدت قائم رکھنے کے لیے چندچیزوں کاخیال رکھنا ضروری ہوتا ہے وگرنہ وحدت کاتاثرٹوٹ جاتا ہے۔ نظم کے فکری اور فنی اجزا کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے تمام اجزاکوایک وحدت اور اکائی میں پرودینابڑے فن کاراوربڑے شعراکاخاصہ ہے ۔

اُردوشاعری کا دامن اگرچہ نظم سے خالی نہ تھا اوردکن کے دور میں بھی نظموں کابڑاذخیرہ جمع ہوگیا تھا مگر یہ نظمیں اپنے موضوع اور مزاج کے اعتبار سے غزل ہی کی ایک شکل تھیں ۔اُردومیں بطورصنف نظم کاآغازنظیراکبرآبادی سے ہوتاہے۔نظیراکبرآبادی کادورقصیدے اورغزل کادورتھااورشعرادرباروں سے وابستہ ہوکراپنے ہنرکے جوہر دکھلارہے تھے،مگرنظیر نے عصری روش سے ہٹ کرغزل اور قصیدے سے منہ پھیرکرنظم کواپنامیدان ٹھہرایااوراسی میں اپنے ہنرکے جوہر دکھلائے جس وجہ سے اُن کواپنے عہد میں پذیرائی نصیب نہ ہوئی اورکئی لوگوں نے تواُن کوشاعر ماننے سے بھی انکار کردیا مگرجب نظم کادورشروع ہوا تونظیراکبرآبادی کوصرف شاعر ہی تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ اُن کواُردو نظم کا پہلا باقاعدہ نظم گوشاعر بھی مانا گیا۔نظیراکبرآبادی طبقہ عوام سے تعلق رکھتے تھے لہذاانھیں کی زندگی اُن کے پیشِ نظر تھی۔انھوں نے عوامی مسائل کواپنی شاعری کا موضوع ٹھہرایا۔نظیراکبرآبادی کے موضوعات اوراُن کی زبان عوامی تھی اورعصری شعری روش سے ہٹ کرتھی جس وجہ سے اُن پرطرح طرح کے اعتراضات ہوئے۔مگرانھوں نے اسی روش کو اپناشعاربنیایااوراسی میں طبع آزمائی کرتے رہے۔ نظیراکبرآبادی کی شاعری کے حوالے سے ڈاکٹرسلیم اختراپنی کتاب”اُردوادب کی مختصرترین تاریخ”میں رقم طراز ہیں ۔

"نظیرکی افسردگی خارجی حالات کے برعکس ایسی نفسی کیفیت معلوم ہوتی ہے جسے کیموفلاج کر نے کے لیے اس نے گلی کوچوں کی دنیااور میلے ٹھیلوں کی بھیڑ میں خودکو گم کرنا چاہاہو مگر جومسلسل تخلیقی محرک کے طور پر برقرار بھی رہی ۔جبھی تواس کے اشعار کی ندی”آہ” اور "واہ”کے کناروں کے درمیان رواں دواں نظر آتی ہے ۔”(8)

انھوں نے فکروفن کو مربوط کیااور اُن کی نظموں کے عنوانات سے لے کرآخر تک ایک ربط نظرآتاہے مگراس میں بہت سی غیرضروری چیزیں شامل ہوجاتی ہیں  اوردوسرایہ کہ یہ پابندنظمیں ہیں جن میں قافیہ ،ردیف اور بحر،وزن اور ارکان کی پابندی کے پیشِ نظر وہ وحدت یا ربط نہیں ملتا جس کو نامیاتی وحدت کا نام دیاجائےکیوں کہ قافیہ ،ردیف کی پابندی سے بعض دفعہ خیال دب جاتا ہے اور جو بات کرنا مقصود ہوقوافی اور ردیف اس کی اجازت نہیں دیتے،جس وجہ سے غیر مانوس لفاظی سے کام لے کر قوافی وریف تو مکمل ہو جاتے ہیں مگر خیال غارت جاتا ہے ،جس وجہ سے نامیاتی وحدت کی توکمی نظرآتی ہےمگرایک وحدت اورربط ضرورملتاہے۔جس نے بعد میں آنے والوں کے لیے راستہ ہموار کیا اور بعد میں آنے والوں نے اس روش پرچل کرنظم کو بامِ عروج پرپہنچا دیا۔اگرنظیراکبرآبادی اس کی بنیاد نہ رکھتے تو بعد میں آنے والوں کے لیے زیادہ مشکلات سامنے آسکتی تھیں ۔

نظیراکبرآبادی کے بعد مولانا محمدحسین آزاد،مولاناالطاف حسین حالی اور اکبرالہ آبادی نے اُردوشاعری کو پرانی ڈگرسے ہٹانے کے لیے کوشش کی اوراُردوشاعری میں دنیاجہاں کے موجوعات کونظم کے سانچے میں ڈھال کراُردوشاعری کادامن وسیع کردیا۔ان نظم گوشعرانے پرانے خیالات کوفضول اورغیرضروری جان کراُن کی جگہ نئے موجوعات کوشعر کے قالب میں ڈھالا۔محمدحسین آزاد اور الطاف حسین حالی نے "انجمنِ پنجاب” کے مشاعروں میں نئی شاعری کی داغ بیل ڈالی اور مقررموضوعات وعنوانات پرنظم کہنے کی روایت ڈالی ۔جس سے اُردونظم میں ایک ربط وتسلسل قائم ہوااورایک ہی موضوع پرطبع آزمائی کی جانے لگی۔غزل میں جو منتشرخیالی تھی اس کو نظم میں مربوط کیا گیااورایک متن یافن پارے میں ربط وترتیب کا خیال رکھنے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔جس سے فکروفن کے امتزاج کابول بالا ہونے لگا اور شعراکو منتشرخیالی کی جگہ ایک خاص موضوع کے تحت طبع آزمائی کرنے کا موقع نصیب ہوا۔یہ روش مشرقی روش سے ہٹ کرمغربی روش تھی کیوں کہ اہلِ مغرب غزل کو منتشرخیالی کامرکزومنبع سمجھتے تھے اور اُن کاخیال تھا کہ شعری فن پارے میں وحدت کا ہونا لازم ہے جس کی مثالیں اوپر مغربی ناقدین کے ضمن میں پیش کی جاچکی ہیں ،آزاد اور حالی نے اسی مغربی روش کو مشرقی شعری روایت میں داخل کیا اورشاعری میں ربط وتسلسل پرزوردیتے ہوئے نئی شعری کائنات کی بنیاد رکھی۔مولانامحمدحسین آزادنے نئی شاعری کی بات تو کی مگر اُنھوں نے شاعری میں پرانی روش کوقائم رکھا بلکہ اُن کی نثرمیں بھی کلاسیکی رنگ نظرآتا ہے جس کی مثال آزاد کی کتاب "آبِ حیات”میں نظرآتی ہے۔جس میں آزاد نے خیالی اورمبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے ،مقفع ومسجع اسلوب اپنایاہے۔اسی طرح ان کی شاعری میں بھی یہی انداز ملتا ہے ،وہ جدید ہونے کے باوجود بھی کلاسیکی نظرآتے ہیں ۔ان کی شاعری کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹرساجد امجد اپنی کتاب "اُردوشاعری پربرصغیر کے تہذیبی اثرات”میں لکھتے ہیں ۔

"شاعری کا نیا آہنگ قائم کرنے کی کوششوں میں آزادکو حالی پراولیت حاصل ہے۔انھوں نے حالی سے پہلے 1867ءمیں ایسے خیالات کا اظہار کیا تھا جسے نئی شاعری کی طرف ایک قدم کہہ سکتے ہیں ،لیکن یہ بھی درست ہے کہ خودآزاد کی شاعری ان اصولوں پرپوری نہیں اترتی وہ جدید ہوتے ہوئے بھی قدیم کی طرف جھکتے ہیں ۔”(9)

آزادکی نظموں میں بھی ربط وتسلسل کاالتزام نظرآتاہےمگرکلاسیکی لفاظی  اور کلاسیکی روایت سے جڑت کی وجہ سے بعض اوقات ربط وتسلسل میں کہیں کہیں انتشار نظر آتا ہے مگرباوجوداس کے یہ نظم کے ابتدائی ایام تھے اس لیے ابھی نظم پختگی کی منازل کی طرف سفر کررہی تھی اورایک نیاشعری افق بن رہاتھاجس نے بعدمیں نظم گوشعراکے لیے زمین ہموارکردی۔

آزادکے ساتھ ساتھ حالی نے بھی اُردونظم میں نت نئے تجربات کیے اوراُردونظم میں ایک وحدت اور ربط قائم کیا جس سے نظم کے تمام اجزاایک وحدت میں ڈھل کرایک اکائی نظرآتے ہیں ۔اس کی مثالیں اُن کی انجمن پنجاب کے مشاعروں میں پڑھی جانے والی نظموں میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔اُن کی نظم "مدوجزراسلام” یا”مسدسِ حالی” طوالت کے سبب کہیں کہیں وحدت کے تصورکو کھودیتی ہے کیوں کہ اس کے ایک ایک بند میں تووحدت ملتی ہے مگرپوری نظم میں اس کاالتزام نہیں ملتا اوراس کی وجہ بے جاتفاصیل اور طوالت ہے۔اس کے علاوہ اُن کی چھوٹی نظموں میں وحدتِ تاثر،ربط اور تسلسل نظرآتاہے جسے نامیاتی وحدت کے ابتدائی خدوخال کہاجاسکتاہے۔حالی نے کلاسیکی شاعری پراعتراضات کرتے ہوئے اس کے نقائص کواجاگرکیاہے اور نئی شاعری جس کووہ نیچرل یاحقیقی شاعری کہا ہے اس کے اوصاف کا ذکراپنی تنقیدی کتاب "مقدمہ شعر وشاعری "جسے اُردوتنقید کی پہلی کتاب کہاجاتاہے میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔حالی نے اُردوشاعری  کونیاافق بخشااور پھرخوداپنی شاعری میں اس کو پیش کیا ۔ان کے ہاں نئے اوراچھوتے موضوعات اور قدیم موضوعات نئے انداز سے نظر آتے ہیں ۔انھوں نے فکری اورفنی دونوں حوالوں سے اُردو شاعری کو نیارخ اور نیازاویہ عطا کیا۔اُن کے اسی اندازکے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر ساجد امجداپنی کتاب”اُردوشاعری پر برصغیر کے تہذیبی اثرات” میں رقم طراز ہیں ۔

"حالی کے موضوعات شاعری کے بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں جن پراصلاحی رنگ بہت گہرا ہے ۔حبِ وطن کے جذبات،مناظرِ فطرت،اخلاقیات وسماجیات،ماضی کی روایات کااحساس،مسلمانوں کی پستی اور اُس کا علاج، معاشرت اصلاحات،عورتوں کی معاشرتی حیثیت،سیاسی شعوراورعشق کا نیا تصوروہ خیالات  ہیں جوانھوں نے اپنی مختلف نظموں میں دہرائے ہیں ۔ان میں سب نئے موضوعات نہیں لیکن بیشتر وہ ہیں جواس سے پہلے یا تو نظر نہیں آتے یاان کی شکل کچھ اور تھی۔”(10)

حالی کے ہاں اصلاحی اور مقصدیت پن زیادہ ہے جس وجہ سے اُن کے ہاں بے جا تفاصیل ملتی ہیں جن کواگرنظموں میں سے نکال بھی دیاجائے تونظم مکمل رہتی ہے جس وجہ سے نامیاتی وحدت کی کمی نظرآتی ہے،لیکن اس سب کے باوجود حالی نے اپنی نظم کوجدیدنظم کے قریب لانے میں بھرپورکردارادا کیا۔آزاد اور حالی مغرب کے نمائندہ تھے اس لیے انھوں نے پوری کوشش سے اُردونظم کومغربی نظم کے قریب لانے کی کوشش کی ۔مغربی شاعری اور خصوصاََنظم میں وحدت کاہونا لازم ہے اس لیے آزاد اور حالی نے بھی اسی اندازمیں نظمیں کہہ کرمشرقی شاعری کونئے اندازِ سخن سے آشناکیا۔ (یہ بھی پڑھیں جدید اردو نظم میں ماحولیاتی عناصر – سمیہ محمدی )

آزاد اور حالی کے ساتھ جدید اُردونظم میں اکبرالہ آبادی کانام بھی اپنی ایک منفردپہچان کاحامل ہے۔آزاداورحالی نے مغرب کی تقلید کی مگراکبرنے مغرب کے خلاف آوازاٹھائی اور اس کے لیے انھوں نے نظم کاسہارا لیا۔اکبرنے نظم میں وسیع موضوعات کوجگہ دی اور اپنی نظموں میں ایک تسلسل اور ربط قائم کرنے میں اہم کردارادا کیا۔اکبر کی نظمیں فکروفن کے حوالے مربوط نظرآتی ہیں ۔اس حوالے سے پروفیسرڈاکٹرناصر عباس نئیراپنے ایک مضمون بعنوان "اکبرالہٰ آبادی،نفسیاتی استعماریت،توپ اورپروفیسر کی طاقت” میں لکھتے ہیں۔

"اس کے اجزانہ صرف ایک دوسرے سے مربوط ہیں ، بلکہ یہ مسلسل نمو کرتے ،آگے سے آگے بڑھتے،نئی وسعتیں اورنئی گہرائیاں تسخیر کرتے ہیں ۔”(11)

اکبرکی نظم کے تمام اجزاایک دوسرے سے مربوط اورجڑے ہوئے نظرآتے ہیں اورایک وحدت میں ڈھل کرایک اکائی بناتے نظرآتے ہیں ۔اکبرکااندازخطابیہ اورطنزیہ ہے جس وجہ سے اکثرربط میں کمزوری پیداہوتی ہے اگراُن میں یہ نہ ہوتااوروہ قطعات کی طرف متوجہ نہ ہوتے توجدیداُردونظم میں اُن کا مقام ومرتبہ مزید بلندہوتا۔

اکبرکے بعدنظم کوجس شاعر نے برتا اورنظم میں طبع آزمائی کرکے نظم کوبامِ عروج پرپہنچایا وہ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال ہیں ۔اقبال کی نظموں کااگر مطالعہ کیا جائے تواُن میں فکروفن اپنے عروج پرنظرآتاہے ۔اقبال نے نظم کے لیے جوعنوان رکھا پھرفکری وفنی حوالے سے اس پرپورازورلگاکراس کاحق اداکیا ۔اُن کی نظموں کے عنوانات اور صنف میں گہراربط پایاجاتا ہےاورعنوانات وصنف کے حسین امتزاج کی وجہ سے اُن کی نظم ایک وحدت میں ڈھلتی دکھائی دیتی ہے۔عنوان اورصنف کے علاوہ لفظوں کے انتخاب،موقع کے مطابق صنائع بدائع کااستعمال،واقعات کی منطقی ترتیب  اوراختصاروجامعیت کے ساتھ تمام اجزاایک وحدت میں ڈھل کراکائی بناتے نظرآتےہیں ۔اقبال کی نظموں کے اجزااپنی الگ شناخت رکھنے کے ساتھ ساتھ نظم میں ایک دوسرے سے متصل ہوکر نظم میں ایک وحدت اوراکائی لگتے ہیں ۔اُن کی نظموں کے اشعارکواگرنظم سے الگ کرکے دیکھا جائے توبھی وہ اپنی معنویت رکھتے ہیں اور نظم میں دوسرے اشعارسے مل کرایک اکائی میں ڈھل جاتے ہیں ۔اُن کی نظموں میں سے کسی ایک شعر،لفظ یاایک حرف کوبھی نظم سے جداکیاجائے تونظم ادھوری سی محسوس ہوتی ہے،یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی چیز کی کمی سی ہے جوکہ ایک اعلی فن پارے کی خوبی ہے۔اُن کے کلام میں انتشارکی کیفیت بہت کم نظرآتی ہے ۔بلکہ بالکل نہ ہونے کے برابرہے۔اقبال نے نظم کومنتشرخیالی سے بچاکروحدت میں پرودیاہے ۔اقبال نے جس موضوع پربھی قلم اٹھایاہے اس کی تمام جہات کوبیان کیاہے مگرکوئی اضافی چیزنظم میں نہیں آنے دی بلکہ اختصاروجامعیت کے ساتھ صنائع وبدائع کے استعمالات سے تمام جہات کو بیان بھی کردیا ہے لیکن غیرضروری چیزوں سے بھی دامن بچاکرگزرجاتے ہیں ۔اقبال کی نظم کے تمام اجزاایک دوسرے کی مددکرتے دکھائی دیتے ہیں جس سے نظم اپنے اختتام کوپہنچتی نظرآتی ہے۔بعض اجزاایک دوسرے کی وضاحت کے لیے آئے ہیں توبعض اجزادوسرے اجزاکے معاون ومددگارکے طورپرنظرآتے ہیں ۔اقبال نے بحر،اوزان وارکان،صنائع وبدائع،لفظوں کے انتخاب،قوافی وردیف ،اجزاکی ترتیب وارتقا،موضوعات وواقعات میں منطقی ربط،اصوات اورنحوی ٹکڑوں میں ہم ربطگی ووحدت کو خوب برتا اور نبھایاہے۔اقبال کی نظموں میں وحدت تاثر،وحدت زمان ومکاں ،ربط وتسلسل  اوراجزامیں ربط وترتیب ایک نامیاتی وحدت  کا نظام بناتے نظرآتے ہیں ۔اقبال کے ہاں نامیاتی وحدت کے حوالے سےڈاکٹراسلم انصاری اپنی  کتاب”اقبال عہدآفرین” میں لکھتے ہیں ۔

"اقبال نے نظم کو خطِ مستقیم کامسافر ہونے کی بجائےنغماتی تحرک اور آہنگ کے خم وپیچ سے آشناکیا۔ اورنظم کوایک بیج کی طرح نقطہ آغاز سے بڑھنااورپھلنا اور پھولنا سکھایا،اُردونظم پہلی باراقبال ہی کے ہا ں نامیاتی وحدت کے طورپر رونما ہوئی جس میں تعمیراتی وحدت کاحسن بھی موجود ہے۔”(13)

اس حوالے سے اُن کی نظمیں عقل ودل،خضرِ راہ،طلوعِ اسلام ،صقلیہ،خطاب بہ جوانانِ اسلام ،مسجدِ قرطبہ ،ذوق وشوق، جبریل وابلیس اورساقی نامہ قابلِ ذکر ہیں ۔اقبال کی نظم "ساقی نامہ”سے چنداشعارملاحظہ ہوں ۔

زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے
ہُوا اس طرح فاش رازِ فرنگ
کہ حیرت میں ہے شیشہ بازِ فرنگ
پرانی سیاست گری خوار ہے
زمیں میروسلطاں سے بیزار ہے
گیا دورِ سرمایہ داری گیا
تماشا دکھا کر مداری گیا(12)
ان چند اشعار پر نظر ڈالیں تواندازہ ہوتاہے کہ کس سلیقے سے اقبال نےمناسب اور خوب صورت لفظوں کا انتخاب کرکے اپنے خیال کووسیع وبامعنی بنادیاہے۔کوئی ایک لفظ بھی اضافی یاغیرمانوس نہیں لگتا،انھوں نے جیساخیال لیا ہے اس کے مطابق الفاظ کاانتخاب کیا ہے ۔نظم مثنوی ہئیت میں خیال بنتی چلی جاتی ہے ،اقبال نے ایسے خیال کے لیے مثنوی کی ہئیت کااستعمال کرکے اپنے خیال کویکجا کرلیاہے کیوں کہ ایسا خیال ایسی ہی ہئیت میں سما سکتا تھا۔اگرپوری نظم کا مطالعہ کیا جائے توایک ایک لفظ،ایک ایک حرف ،ایک ایک جزوایک دوسرے سے منسلک اور جڑا ہوا نظرآتاہے اوراُن کوایک دوسرے سے جداکرنا انتہائی مشکل ہی نہیں ناممکن نظرآتاہے ،اگراُن کوایک دوسرے سے الگ کیاجائے تونظم کے اندرایک خلا اور کمی محسوس ہوگی۔اقبال کی نظموں کی بنت اور جڑت بڑی شان دار اور مضبوط ہےجس سے اُن کی نظموں کے اجزاجزو سے کل میں ڈھل کراکائی اور وحدت بناتے نظرآتے ہیں ۔

اقبال کے علاوہ اسمعیل میرٹھی اورعبدالحلیم شررنے نظمِ معریٰ میں طبع آزمائی کی اورنظم کومزیدوسعت بخشی مگر جومقام ومرتبہ اقبال کوحاصل ہے وہاں تک پہنچنا مشکل ہے۔اقبال کے بعداُردونظم میں جوش ملیح آبادی نے بھی اپنے ہنرکے جوہر دکھلائے مگراُردونظم جس بات کاتقاضاکرتی ہے جوش سے وہ بات نہ بن سکی۔جوش ،جوشِ انقلاب اورعشق کے زورمیں بہہ گئے اوران کی نظموں میں خیال ناپیدنظرآنے لگا۔اُن کے ہاں جوش اور خطابت زیادہ ہے اورخیال وشعریت ناپیدجس وجہ سے اُن کی نظم میں ربط وتسلسل کے مسائل ملتے ہیں اور نظم وحدت میں ڈھلتی نظر نہیں آتی۔

اس کے بعد آزاد نظم کادور شروع ہوتاہے ۔قافیہ وردیف سے آزادلیکن پابند وزن وبحرپر مبنی شاعری  کوآزادنظم کہاجاتاہے ۔انگریزی میں اسے فری ورس کہتے ہیں ۔اس نظم میں قافیے اور ردیف کی پابندی نہیں ہوتی اس لیے اسے آزاد نظم کہا جاتاہے۔ بحروں کے استعمال میں بھی آزادی ہوتی ہے ۔آزادنظم میں صرف ارکان کی پابندی لازمی ہے ،مگرشاعر ایک مصرعے میں جتنے چاہے ارکان استعمال کرسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نظم میں ایک مصرع بڑا اوردوسراچھوٹا ہوتا ہے مگراُن میں رکن ایک ہی موجود ہوتا ہے ،یہ الگ بات ہے کہ وہی رکن بڑے مصرعے میں دس بار آیا ہو اورچھوٹے مصرعے میں صرف ایک بار یادوباراستعمال ہوا ہو۔یعنی ارکانِ بحر کی تقسیم بھی مختلف مصرعوں میں مختلف ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس میں سارازورخیال پرمرکوزہوتاہے ،باقی اصنافِ شعرمیں کئی طرح کی پابندیوں کی وجہ سے خیال دب جاتاہے اورجوبات کرنامقصودہووہ شعری پابندیوں میں قیدہوکراپنی اصلی حالت کھوبیٹھتی ہے۔آزادنظم کے اجزا ایک دوسرے سے مربوط ہوکرایک وحدت بناتے ہیں اور وہ وحدت ایک اکائی میں ڈھل کرنامیاتی وحدت کاروپ اوڑھ لیتی ہے۔نامیاتی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ تمام اجزاکے ربط سے ایک بامعنی وجود بنتانظرآنا چاہیے تب اسے نامیاتی وحدت کا نام دیا جاسکے گا۔نامیاتی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ اجزاکی اپنی شناخت بھی ہواور وہ کل میں ڈھلتے ہوئے ایک مکمل اکائی بنتے بھی نظرآئیں ۔اس کے لیے ذریعے کوموضوع سے ہم آہنگ ہوناضروری ہے اورپھر ترتیبوں کا منطقی اور ترجیحی ہونا بھی ضروری ہے۔ جس کی مثالیں پابندنظم میں نہیں ملتیں۔اگرمل بھی جائیں توان میں مکمل پن نظرنہیں آتا،اس طرح کی مثالیں نظیراکبرآبادی،اکبرالہٰ آبادی اوراقبال کے ہاں ملتی ہیں۔کلاسیکی نظم اورجدیدنظم میں یہی فرق ہے اورآزادنظم کی تویہی شناخت ہے۔اس حوالے سے ڈاکٹررشیدامجداپنی کتاب”میراجی ؛تجزیاتی مطالعہ”میں لکھتے ہیں ۔

"پرانی نظم اپنی انھیں ہئیتوں یعنی مسدس،مخمس،مثنوی اور قطعہ وغیرہ کی وجہ ہی سے جانی جاتی تھی جب کہ جدیدنظم ہئیت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی فنی وحدت اوراختصارکی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔”(14)

نظیراکبرآبادی اوراکبرالہٰ آبادی کے ہاں ایک بندمیں تووحدت ملتی ہے مگرپوری نظم میں ایسانظرنہیں آتامگراقبال نے اس کاپوراپوراخیال رکھاہے اوراُن کی پابندنظموں میں بھی اس کی خوب صورت مثالیں ملتی ہیں ۔اقبال کے ہاں نظموں میں وحدت تاثرسے آگے نامیاتی وحدت کاتصورملتاہے جس کواوپر بیان کیا جاچکاہے۔مگرحقیقی معنوں میں نامیاتی وحدت کاتصورآزادنظم میں موجودہوتاہے اوراس تنقیدی ہتھیارکوآزادنظم کے لیے استعمال میں لایاجاسکتاہے،کیوں کہ آزادنظم میں شعری پابندیاں نہ ہونے کے برابرہوتی ہیں اس لیے یہاں ربط ہی اہم چیزہے جس کواستعمال میں لاتے ہوئے نظم کومکمل کیا جاتاہے۔مگرشرط یہ ہے کہ اس میں ادبیت وشعریت بھی ہو۔بہت سے شعراایسے ہیں جن کے ہاں نہ نظم میں ربط وتسلسل ملتاہے ،نہ واقعات میں کوئی منطقی ترتیب اور ربط اور نہ ہی اُن نظموں میں شعریت موجودہوتی ہے اس لیے وہ سوائے وقت کے ضیاع کے اور کچھ نہیں ۔آزادنظم میں شعری پابندیوں کے نہ ہونے سے خیال کواچھے اندازسے پیش کرنے کاموقع ہاتھ آتاہے جس میں شاعر مختلف صوتی ونحوی ٹکڑوں کے ذریعے نظم میں ایک ربط قائم کرتاہے جونظم کے عنوان سے لے کرنظم کے اختتام تک قائم رہتاہے،بعض اوقات وہ ایک ایک مصرعے یالفظ کوبارباردہراکراوربعض دفعہ اپنی طرف سے ضمنی قافیہ وردیف کے لتزام سے وہ نظم میں ایک ربط پیداکرتاہے ۔اوریہی ربط وتسلسل وحدتِ تاثرسے گزرتا ہوانامیاتی وحدت میں بدل جاتا ہے ۔لیکن وحدت سے نامیاتی وحدت تک کاسفر معمولی شعراکاکام نہیں اعلیٰ درجے کے شعراکاکام ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ آزادنظم گوشعرامیں سے کن شعراکے ہاں اس کے نمونے ملتے ہیں ۔

اس کی ابتدا انیسویں صدی میں فرانس سے ہوئی ۔اُردو میں سب سے پہلی آزادنظم بیسویں صدی کے آغازمیں محمد اسماعیل میرٹھی نے کہی۔اس کے بعدعبدالحلیم شرراورتصدق حسین خالد نے بھی اس صنف میں طبع آزمائی کی ۔چوں کہ یہ ابتدائی تجربات تھے اس لیے ان میں وہ پختگی اورکمالِ فن نظرنہیں آتاجوآزادنظم کاخاصہ تصورکیا جاتاہے،لیکن باوجود اس کے ان کی اہمیت سے انکارممکن نہیں کیوں کہ انھوں نے بعدمیں آنے والوں کے لیے ایک راستہ اورماحول پیداکیاجس پرچل کرمیراجی،راشد،مجیدامجد،فیض ،منیرنیازی،احمدندیم قاسمی اوردوسرے آزادنظم گوشعرانے اپنے ہنرکے جوہر دکھلائے اورآزادنظم کوبامِ عروج پرلے گئے۔اب ہم ان آزادنظم گوشعراکے ہاں نامیاتی وحدت پربحث کرتے ہیں کہ ان آزادنظم گوشعرانے کس طرح اپنی نظموں میں ربط وتسلسل سے کام لیتے ہوئے وحدتِ تاثراور پھرنامیاتی وحدت پیداکی ہے۔اوراس کے لیے انھوں نے کیا کچھ کیااوراُن کی کن نطموں کوہم اس زمرے میں رکھ سکتے ہیں ۔

آزادنظم گوشعرامیں میراجی ایک اہم نام ہے ۔میراجی نے آزادنظم میں نئے ہئیتی تجربات سے کام لے کرآزادنظم کے دامن کومزید وسیع کردیا۔میراجی نظم کی معنویت وصورت حال سے پوری طرح آگاہ تھے لہذاانھوں نے صرف معنوی سطح پرہی نہیں بلکہ ہئیتی اورفنی سطح پربھی بغاوت وانحراف سے کام لیتے ہوئے نئے تجربات کیے۔میراجی کی نظمیں داخلی و خارجی کیفیات واحساسات کے آہنگ وربط کے ساتھ ساتھ فکری وفنی حوالے سے بھی اجزاایک دوسرے سے مربوط نظرآتے ہیں ۔ان کی نظموں میں تمام اجزاایک وحدت میں ڈھلتے نظرآتے ہیں جس سے اُن کی نظمیں خوب صورت اوربامعنی نظرآتی ہیں ۔میراجی کی نظم نگاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹررشیدامجداپنی کتاب”میراجی؛تجزیاتی مطالعہ” میں رقم طراز ہیں ۔

"میراجی کی نظموں کا منظرنامہ اتنا پھیلا ہوا اورمتنوع ہے کہ اس میں داخلیت پسندی کاگزرہی نہیں ہوسکتا۔ہاں یہ ضرورہے کہ انھوں نے اس خارجی منظرنامے اوروسیع کینوس کواپنی ذات کے حوالے سے دیکھااوربیان کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔میراجی کے یہاں داخل اور خارج کاجوتوازن ملتا ہے وہ اُردوکے بہت کم شاعروں کے ہاں نظرآتاہے۔”(15)

میراجی نے استعاراتی اورعلامتی اندازاپناتے ہوئے نظم میں ربط وتسلسل پیداکیاہے ،شاعری چوں کہ علامتی واستعاراتی زبان ہے اوراس میں ایک ایک لفظ میں معنی کاایک جہاں آباد ہوتاہے ،اسی لیے کم الفاظ میں زیادہ بات کی جاسکتی ہے لہذایہی اندازمیراجی کے ہاں ملتاہے ۔ان کی نظمیں خودنفسی،جب سب دنیاسوجاتی ہے،بیوپاری،شام کوراستے پر،جنگ کاانجام ،سمندرکا بلاوا،نارسائی اورالجھن کی کہانی قابلِ ذکرہیں۔میراجی کی نظموں میں فکروفن میں مکمل وحدت کاتاثرملتاہے اورتمام اجزاکی جڑت اور بنت انتہائی جامعیت واختصارکاشاہکارلگتی ہے۔

آزادنظم میں ایک اوراہم نام ن۔م۔راشدکاہے۔راشدنے آزادنظم میں صرف ہئیتی وفنی انحراف ہی نہیں برتا بلکہ انھوں نے موضوعات کی سطح پر بھی ایک منحرف اور باغیانہ رویہ اپنایاہے ۔ان کے موضوعات میں سختی اورکھردراپن نمایاں ہے ،انھوں نے سخت موضوعات کے ساتھ ساتھ سخت اور کھردرے الفاظ بھی اپنی نظم میں برتے ہیں ۔مگران سخت وکھردرے موضوعات والفاظ کوانھوں نے اس اندازسے پیش کیاہے کہ وہ غیرمانوس اوراجنبی محسوس ہونے کی بجائے نظم کی خوب صورتی کو چار چاند لگاتے نظرآتے ہیں جس سے اُن کی نظم مضبوط اورخوب صورت نظرآتی ہے۔راشدکی نظموں کے اجزاایک دوسرے سے اس قدرمربوط ہیں کہ کسی ایک جزوکو بھی الگ کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔اُن کی نظم "رقص "سے چندسطورپیشِ خدمت ہیں ۔

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے
زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
ڈرسے لرزاں ہوں کہیں ایسا نہ ہو
رقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگی
ڈھونڈلے مجھ کو ،نشاں پالے مرا
اور جُرم عیش کرتے دیکھ لے!
اے مری ہم رقص مُجھ کوتھام لے(16)
اس نظم میں لفظ رقص پوری نظم کوایسے جوڑے ہوئے ہے کہ ایک وحدت سی نظرآتی ہے ۔اسی طرح اے مری ہم رقص مُجھ کوتھام لےکی باربارتکرارسے بھی نظم کی بنت میں ربط اوروحدت پیداکی گئی ہے جس سے پوری نظم مربوط لگتی ہے۔تمام اجزااپنی الگ شناخت کے ساتھ ساتھ کل میں ڈھل کرایک اکائی بنتے نظرآتے ہیں جونامیاتی وحدت پیداکرتے ہیں ۔نظم کے تمام اجزابامعنی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پورانظام وضع کرتے دکھائی دیتے ہیں ،جس سے نظم کے اجزاانسانی جسم کے اجزاکی طرح مل کرایک خوب صورت جسم بناتے ہیں اسی طرح راشدکی نظمیں مختلف اجزاکے ملاپ سے ایک مکمل نظم دکھائی دیتی ہیں ۔ان کے تمام اجزااپنی مخصوص جگہ پرنظرآتے ہیں جواُن کی خوب صورتی میں اضافہ کرتے ہوئے نظم کومربوط کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ بھی راشد کی مختلف نظموں میں ربط وتسلسل اوروحدت کاخاص خیال رکھا گیا ہے جونامیاتی وحدت میں ڈھلتی نظرآتی ہیں ۔اراشدکی اُن نظموں میں رخصت،انتقام،زنجیر،سباویراں،کون سی الجھن کوسلجھاتے ہیں ہم،تیل کے سوداگر،وزیرےچنیں اورحسن کوزہ گرقابلِ ذکرہیں ۔

آزادنظم میں ایک اہم نام مجیدامجدکا بھی ہے ۔راشداورمیراجی کے ساتھ مجید امجدنے بھی اس صنف میں طبع آزمائی کر کے اپنالوہا منوایا۔مجیدامجدحالی یااقبال کی طرح ماضی کی داستانوں سے حقائق تلاش نہیں کرتےاورنہ ہی ان کے ہاں قوم کا نوحہ ملتاہے بلکہ مجیدامجدحال کی بات کرتے ہیں اورحال میں بھی لمحہ موجوداُن کے لیے اہمیت کاحامل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اُن کے ہاں عمومی رویے اور مسائل ملتے ہیں جن کوطبقہ عوام کے مسائل کہا جاتاہے مجیدامجدکے ہاں وہ موضوعات ملتے ہیں جن کومجیدامجد نے نظم میں سمویاہے ۔مجیدامجدکی نظموں میں ربط،توازن اوروحدت تاثراپنے بامِ عروج پرنظرآتی ہے اوراُن کی نظموں سے پہلا تاثر ہی وحدتِ تاثرکانکلتاہے۔اس حوالے سے ڈاکٹروزیرآغااپنی کتاب "مجید امجد کی داستانِ محبت” میں لکھتے ہیں ۔

"اُردونظم میں مجیدامجد کی شاعری اس توازن کی ایک نہایت خوب صورت مثال ہے۔اُس کی نظموں کے مطالعے سے پہلا تاثرہی یہ مرتب ہوتا ہے کہ شاعر کے باطن ِ کی دنیا ،خارج کے مظاہر سے منسلک ہے۔مگریہ ہم آہنگی عافیت کوشی یا فرار کے مماثل نہیں ،یہ اُس شدید جذبے کی پیداوارہے جوجُزوکو کُل سے مربوط کرتا ہے اور جس کے دباؤ کے تحت شاعر اپنی انا کی دیواروں کو عبور کرکے ،وسیع ترزندگی سے ہم کنار ہوجاتا ہے اوراُس ربطِ باہم کو دریافت کرلیتا ہے جوکائنات میں جاری وساری ہے ۔یہ دریافت اور پھیلاؤ اور کشادگی کا احساس شاعر کی شخصیت ،مطمع نظر کی وسعت اور ایک مخصوص جذباتی ردِعمل ان سب کے مجموعی تاثر سے پیدا ہوتا ہے ۔اسی لیے شاعری کی دنیا میں یہ وہ مقام ہے جس تک رسائی اتفاقات کے زُمرے میں آتی ہے۔”(17)

مجیدامجدکی نظموں میں وحدتِ تاثراوراجزاکی بنت اور جڑت فطری اور حقیقی نظرآتی ہے۔ایسے محسوس ہوتا ہے کہ خودبخوداجزائے نظم ایک دوسرے سے منسلک اور مربوط ہیں جن کوایک دوسرے سے جداکرنا مشکل ہے ۔یہی بنت نامیاتی وحدت کہلاتی ہے جومجید امجدکاخاصہ اور انفرادیت ہے ۔مجیدامجد کی ساری نظموں میں اس کاتاثرملتا ہے یہاں اُن کی ایک نظم "آٹو گراف”پیشِ خدمت ہے۔

کھلاڑیوں کے خودنوشت دستخط کے واسطے
کتابچے لیے ہوئے
کھڑی ہیں منتظر۔۔۔۔۔حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر، حسین لڑکیاں!
مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اُٹھے
اُبل پڑے اُلجھتے بازوؤں ،چٹختی پسلیوں کے پرہراس قافلے
گرے، بڑھے، مڑے بھنور ہجوم کے
کھڑی ہیں یہ بھی ،راستے پہ،اک طرف
بیاضِ آرزو بہ کف
نظرنظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں
لرز رہا ہے دم بہ دم
کمانِ ابرواں کا خم(18)
پوری نظم طوالت کی وجہ سے نقل نہیں کی گئی۔اس کے تین پہلے حصے درج کیے ہیں باقی تین حصے بھی ان سے منسلک اور مربوط ہیں ۔پوری نظم فکروفن کے حوالے سے مربوط اور وحدتِ تاثرلیے ہوئے ہے۔اسی طرح مجیدامجدکی پوری شاعری میں وحدت اورربط موجود ہے جوایک اچھے فن کاراورتخلیق کار کامنہ بولتا ثبوت ہے۔اُن کی نظم میں وحدت کے اس تاثرکے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر سید عامرسہیل صاحب اپنی کتاب”مجیدامجد نقشِ گرِ ناتمام” میں لکھتے ہیں ۔

"کچھ یہی صورتِ حال مجیدامجد کی نظم نگاری کا خاصہ بھی ہے۔اُن کی نظم اور اس کے موضوعات ایک دھارے میں بہتے چلے جاتے ہیں ۔موضوعات کیتہہ درتہہ سطحیں ہیں جو بظاہراوورلیپ  ہوتی محسوس ہوتی ہیں مگر درحقیقت ان کے یہاں موضوعات تنہا حیثیت رکھنے کی بجائے داخلی سطح پر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔عہد،سماج ،روایت اور ذات کے متعلقات میں باہمی ہم رشتگیوں کا گہرا تعلق ہے۔جو مختلف کوڈز اور نشانات کے ذریعے اپنی انفرادی حیثیت بھی رکھتے ہیں ۔یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مجید امجد کی نظم کو سمجھنے اوراس کا تجزیاتی مطالعہ کرنے کے لیے موضوعات کے چھوٹے چھوٹے دائروں سے بڑے بڑے دائرے تک پہنچنا ہوگا اوران نشانات کاادراک کرنا ہوگا جوتخلیقی محرکات کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں ۔”(19)

مجیدامجدکے ہاں گہراربط موجودہے جومختلف اندازسے نظم کوایک دائرے میں جوڑتاہے ،جس کے لیے داخلی وخارجی حالات ووقعات اورفکری وفنی اجزاآپس میں اس طرح مربوط ہیں کہ وہ ایک اکائی لگتے ہیں ۔مجیدامجد کے علاوہ ڈاکٹر وزیر آغا، احمدندیم قاسمی،حبیب جالب اورفیض احمدفیض کے ہاں بھی اس کے نمونے نظرآتے ہیں ۔عصری شعرامیں ڈاکٹراسلم انصاری اورافتخارعارف کے ہاں بھی نامیاتی وحدت کامطالعہ کیا جاسکتاہے۔ان مخصوص شعراکے علاوہ آزادنظم کے دوسرے شعراکے ہاں بھی نامیاتی وحدت کے نمونے تلاش کیے جاسکتے ہیں ۔یہ موضوع ایک مقالے کاتقاضا کرتاہے تاکہ اُردونطم میں نامیاتی وحدت کے تصورکوتفصیل سے دیکھا جاسکے ۔یہاں صرف چیدہ چیدہ اشارات کیے گئے ہیں اوراُن اہم شعراپرسرسری تبصرہ کیا گیاہے جن کے ہاں اس کے نمونے ملتے ہیں ۔

 

حوالہ جات:

1)۔سیدعبداللہ،ڈاکٹر؛اشاراتِ تنقید،(لاہور:سنگِ میل پبلی کیشنز،2011ء)،ص236۔

2)۔عزیزاحمد؛مترجم،بوطیقا”فن شاعری”،(کراچی:انجمن ترقی اُردو،طباعتِ اول ،1941ء)،ص55۔

3)۔جمیل جالبی،ڈاکٹر؛ارسطوسے ایلیٹ تک،(اسلام آباد:نیشنل بک فاؤنڈیشن،طبع نہم،2012ء)،ص108۔

4)۔جمیل جالبی،ڈاکٹر؛ارسطوسے ایلیٹ تک،(اسلام آباد:نیشنل بک فاؤنڈیشن،طبع نہم،2012ء)،ص311۔

5)۔جمیل جالبی،ڈاکٹر؛ارسطوسے ایلیٹ تک،(اسلام آباد:نیشنل بک فاؤنڈیشن،طبع نہم،2012ء)،ص337۔

6)۔شبلی نعمانی،مولانا؛شعرالعجم ،(اعظم گڑھ: معارف پریس،طبع سوم)،ص23۔

7)۔وزیرآغا،ڈاکٹر؛معنی اور تناظر،(لاہور:مجلسِ ترقی ادب،طبع اول،جون 2016ء)،ص256۔

8)۔سلیم اختر،ڈاکٹر؛اُردوادب کی مختصرترین تاریخ،(لاہور:سنگِ میل پبلی کیشنز،بتیسواں ایڈیشن،2017ء)،ص181۔

9)۔ڈاکٹرساجدامجد،پروفیسر؛اُردوشاعری پر برصغیر کے تہذیبی اثرات،(لاہور:الوقارپبلی کیشنز،2015ء)،ص 431۔

10)۔ ڈاکٹرساجدامجد،پروفیسر؛اُردوشاعری پر برصغیر کے تہذیبی اثرات،(لاہور:الوقارپبلی کیشنز،2015ء)،ص 432۔

11)۔ناصرعباس نیر،پروفیسر؛اکبرالہٰ آبادی،نفسیاتی استعماریت،توپ اور پروفیسر کی طاقت،ادبی میراث،2جولائی 2021ء۔

12)۔اقبال؛کلیاتِ اقبال،(لاہور:اقبال اکادمی،طبع دہم،2013ء)،ص451۔

13)۔اسلم انصاری،ڈاکٹر؛اقبال عہدآفرین،(ملتان:مکتبہ کاروان ِ ادب،1987ء)،ص55۔

14)۔رشیدامجد،ڈاکٹر؛میراجی؛تجزیاتی مطالعہ،(راولپنڈی:صریرپبلی کیشنز،2019ء)،ص119۔

15)۔ رشیدامجد،ڈاکٹر؛میراجی؛تجزیاتی مطالعہ،(راولپنڈی:صریرپبلی کیشنز،2019ء)،ص158۔

16)۔ن۔م۔راشد؛کلیاتِ راشد،(لاہور:ماورا پبلشرز)،ص100۔

17)۔وزیرآغا،ڈاکٹر؛مجیدامجدکی داستانِ محبت،(لاہور:جمہوری پبلیکشنز،2011ء)،ص19۔

18)۔محمدزکریا،خواجہ؛مدون،کلیاتِ مجیدامجدؔ،(لاہور:الحمد پبلی کیشنز،2014ء)،ص153۔

19)۔سید عامرسہیل،ڈاکٹر؛مجیدامجدنقش گرِ ناتمام،(لاہور:رائٹرزکوآپریٹوسوسائٹی،طبع اول،2008ء)،ص143۔

                                                                                                 کتابیات:۔

1)۔شمس الرحمن فاروقی؛تعبیرکی شرح،کراچی:اکادمی بازیافت،اشاعتِ اول،اپریل 2004ء۔

2)۔علی محمدخاں،ڈاکٹر؛اصنافِ نظم ونثر،لاہور:الفیصل ناشران وتاجران کتب،نومبر2016ء۔

3)۔تبسم کاشمیری،ڈاکٹر؛لا۔راشد،اسلام آباد:پورب اکادمی،طبع اول،نومبر2016ء۔

4)۔شاہدنواز،محمدنعیم؛مرتبین،مقدمہ شعروشاعری(الطاف حسین حالی)،سرگودھا:شعبہ اُردویونی ورسٹی آف سرگودھا،2016ء۔

5)۔سمیرااعجاز،ڈاکٹر؛منیرنیازی۔شخص اور شاعر،فیصل آباد:مثال پبلشرز،2014ء۔

6)۔فتح محمدملک؛احمدندیم قاسمی (شاعر اورافسانہ نگار)،لاہور:سنگِ میل پبلی کیشنز،2007ء۔

7)۔سیدعامرسہیل،ڈاکٹر؛مرتب،مجیدامجدشناسی بحوالہ مجلہ اوراق،فیصل آباد:مثال پبلشرز،2015ء۔

 

 

عمیریاسرشاہی

پی۔ایچ۔ڈی (اسکالر)

شعبہ اُردویونی ورسٹی آف سرگودھا

umairyasirshaheen@gmail.com

03037090395

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

راشدعمیر یاسر شاہینمجید امجد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
لیکچر (نصراللہ صاحب) – محمد آصف
اگلی پوسٹ
خان محبوب طرزی شخصیت اور سوانح –  ڈاکٹر عمیر منظر

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں